Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Funerals (23)    كتاب الجنائز

12345Last ›

Chapter No: 21

باب كَيْفَ يُكَفَّنُ الْمُحْرِمُ

How to shroud a Muhrim (one assuming the Ihram for Hajj or ‘Umra).

باب:محرم کو کفن کیونکر دیا جائے۔

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّ رَجُلاً، وَقَصَهُ بَعِيرُهُ، وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلاَ تُمِسُّوهُ طِيبًا، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا ‏"‏‏

Narrated By Ibn Abbas : A man was killed by his camel while we were with the Prophet and he was a Muhrim. So the Prophet said, "Wash him with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth and neither perfume him nor cover his head, for Allah will resurrect him on the Day of Resurrection and he will be saying 'Labbaik'."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺکے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ ڈالی۔ تو نبیﷺنے فرمایا: انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے دو اور دو کپڑوں کا کفن دو او رخوشبو نہ لگاؤ نہ ان کے سر کو ڈھانپو ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس حالت میں اٹھائے گا کہ وہ لبیک پکارتا ہوگا۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، وَأَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ كَانَ رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَةَ فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ـ قَالَ أَيُّوبُ فَوَقَصَتْهُ، وَقَالَ عَمْرٌو فَأَقْصَعَتْهُ ـ فَمَاتَ فَقَالَ ‏"‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلاَ تُحَنِّطُوهُ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ـ قَالَ أَيُّوبُ يُلَبِّي، وَقَالَ عَمْرٌو ـ مُلَبِّيًا ‏"‏‏

Narrated By Ibn Abbas : A man fell from his Mount and died while he was with the Prophet at 'Arafat. The Prophet said, "Wash him with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth and neither perfume him nor cover his head, for he will be resurrected on the Day of Resurrection saying, 'Labbaik'."

حضرت ابن عبّاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک شخص نبیﷺ کے ساتھ عرفات میں کھڑا ہوا تھا ۔اتنے میں اپنی اونٹنی سے گر پڑا۔ایّوب نے کہا: اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی اور عمرو نے یوں کہا ،اونٹنی نے اسے گرتے ہی مار ڈالا، اور اس کا انتقال ہوگیا۔ آپﷺ نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے نہلاؤ اور دو کپڑوں میں کفن دو اور خوشبو مت لگاؤ اور نہ اس کا منہ چھپاؤ کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھے گا ۔ یہ عمرو نے کہا ایّوب نے یوں کہا لبیک کہہ رہا ہوگا۔

Chapter No: 22

باب الْكَفَنِ فِي الْقَمِيصِ الَّذِي يُكَفُّ أَوْ لاَ يُكَفُّ

To shroud one in a shirt, stitched or unstitched.

باب: قمیص میں کفن دینا اس کا حاشیہ سلا ہو یا بے سلا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ عَبْدَ، اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ لَمَّا تُوُفِّيَ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَمِيصَهُ فَقَالَ ‏"‏ آذِنِّي أُصَلِّي عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏ فَآذَنَهُ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَذَبَهُ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ أَلَيْسَ اللَّهُ نَهَاكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ ‏"‏ أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ قَالَ ‏{‏اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ‏}‏ ‏"‏‏.‏ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ ‏{‏وَلاَ تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا‏}‏

Narrated By Ibn 'Umar : When 'Abdullah bin Ubai (the chief of hypocrites) died, his son came to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! Please give me your shirt to shroud him in it, offer his funeral prayer and ask for Allah's forgiveness for him." So Allah's Apostle (p.b.u.h) gave his shirt to him and said, "Inform me (When the funeral is ready) so that I may offer the funeral prayer." So, he informed him and when the Prophet intended to offer the funeral prayer, 'Umar took hold of his hand and said, "Has Allah not forbidden you to offer the funeral prayer for the hypocrites? The Prophet said, "I have been given the choice for Allah says: '(It does not avail) Whether you (O Muhammad) ask forgiveness for them (hypocrites), or do not ask for forgiveness for them. Even though you ask for their forgiveness seventy times, Allah will not forgive them. (9.80)" So the Prophet offered the funeral prayer and on that the revelation came: "And never (O Muhammad) pray (funeral prayer) for any of them (i.e. hypocrites) that dies." (9. 84)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن ابی (مشہور منافق) جب مرگیا تو اس کا بیٹا (عبداللہ جو پکّا مسلمان تھا) نبیﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا اپنی قمیص عنایت فرمایئے اور اس پر نماز پڑھئے ،اس کے لیے دعا کیجیے۔ آپﷺ نے اپنی قمیص اس کو دے دی اور فرمایا (جنازہ تیار ہو تو ) مجھے خبر دینا ۔ عبد اللہ نے خبردی ۔آپﷺ نے نماز پڑھنے کا قصد کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کو کھینچا اور عرض کیا ، کیا اللہ نے آپﷺ کو منافقوں پر نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا ؟آپﷺ نے فرمایا: مجھ کو یہ اختیار دیا گیا ہے۔ جیساکہ ارشاد باری ہے کہ ان کےلیے استغفار کر یا نہ کر اگر ستّر مرتبہ بھی استغفار کرے تب بھی اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز نہیں معاف کرے گا۔ چنانچہ نبیﷺنے نماز پڑھائی، اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ کسی بھی منافق کی موت پر اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھانا۔


حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ بَعْدَ مَا دُفِنَ فَأَخْرَجَهُ، فَنَفَثَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ

Narrated By Jabir : The Prophet came to (the grave of) 'Abdullah bin Ubai after his body was buried. The body was brought out and then the Prophet put his saliva over the body and clothed it in his shirt.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ عبد اللہ بن ابی منافق کی قبر پر اس وقت آئے جب وہ دفن ہوچکا تھا۔آپﷺ نے اس کی لاش نکلوائی اور اپنا لعاب اس پر ڈالا اور اپنا کرتہ اس کو پہنایا۔

Chapter No: 23

باب الْكَفَنِ بِغَيْرِ قَمِيصٍ

To shroud (a dead) body without using a shirt.

باب: بغیر قمیص کے کفن دینا۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كُفِّنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابِ سَحُولَ كُرْسُفٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet was shrouded in three pieces of cloth which were made of Suhul (a type of cotton), and neither a shirt nor a turban were used.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نےکہا: نبیﷺکوتین سوتی دھلے ہوئے کپڑوں کا کفن دیا گیا تھا،آپﷺکے کفن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle was shrouded in three pieces of cloth and neither a shirt nor a turban were used.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے کہ رسول اللہﷺ کوتین کپڑوں میں کفن دیا گیا، ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ۔

Chapter No: 24

باب الْكَفَنِ بلاَ عِمَامَةٌ

Using no turbine in shrouding.

باب: کفن میں عمامہ نہ ہونا۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُفِّنَ فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سَحُولِيَّةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle was shrouded in three pieces of cloth which were made of white Suhul and neither a shirt nor a turban were used.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ تین دھلے ہوئے سفید کپڑوں میں کفن دیے گئے، نہ ان میں قمیص تھی، اور نہ عمامہ۔

Chapter No: 25

باب الْكَفَنِ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ

To shroud one with (the price of) all of one's property.

باب: کفن کی تیاری میّت کے سارے مال میں سے کرنی چاہئیے۔

وَبِهِ قَالَ عَطَاءٌ وَالزُّهْرِيُّ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَقَتَادَةُ‏.‏ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْحَنُوطُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ‏.‏ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ يُبْدَأُ بِالْكَفَنِ ثُمَّ بِالدَّيْنِ ثُمَّ بِالْوَصِيَّةِ‏.‏ وَقَالَ سُفْيَانُ أَجْرُ الْقَبْرِ وَالْغَسْلِ هُوَ مِنَ الْكَفَنِ‏

And this is said by Ata, Az-Zuhri, Amr bin Dinar and Qatada. Amr bin Dinar added, "Also Hanut is to be taken from his property." And Ibrahim said, "Start with the shroud first then pay his debts, then follow his will." And Sufyan said, "The payment for the grave and for washing the body is also included in the shroud expenses."

اور عطاء اور زہری اور عمرو بن دینار اور قتادہ کا یہی قول ہے۔ اور عمرو بن دینار نے کہا ہے کہ خوشبو کا خرچ بھی سارے مال میں سے کیا جائے اور ابراہیم نخعی نے کہا پہلے مال میں سے کفن کی تیاری کریں ، پھر قرض ادا کریں پھر وصیّت پوری کریں اور سفیان ثوری نے کہا قبر اور غسّال کی اجرت بھی کفن میں داخل ہے ۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ يَوْمًا بِطَعَامِهِ فَقَالَ قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ ـ وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي ـ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلاَّ بُرْدَةٌ، وَقُتِلَ حَمْزَةُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ خَيْرٌ مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلاَّ بُرْدَةٌ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا طَيِّبَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي

Narrated By Sad from his father : Once the meal of 'Abdur-Rahman bin 'Auf was brought in front of him, and he said, "Mustab bin 'Umar was martyred and he was better than I, and he had nothing except his Burd (a black square narrow dress) to be shrouded in. Hamza or another person was martyred and he was also better than I and he had nothing to be shrouded in except his Burd. No doubt, I fear that the rewards of my deeds might have been given early in this world." Then he started weeping.

ابراہیم بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک دن کھانا رکھا گیا۔ انہوں نےکہا:حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر تھے وہ (جنگ اُحد میں) شہید ہوئے ان کے کفن کےلیے صرف ایک چادر ملی۔ حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ یا اور کوئی دوسرا شخص شہید ہوئے جو مجھ سے بہتر تھے ان کے کفن کےلیے صرف ایک چادر ملی۔ میں ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے چین اور سکون کے سامان ہم کو جلدی سے دنیا ہی میں دے دیے گئے ہوں۔ پھر رونا شروع کر دیا۔

Chapter No: 26

باب إِذَا لَمْ يُوجَدْ إِلاَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ

If there is nothing except one piece of cloth (for shrouding).

باب: اگر میّت کے پاس ایک ہی کپڑا نکلے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ، إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلاَهُ، وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلاَهُ بَدَا رَأْسُهُ ـ وَأُرَاهُ قَالَ ـ وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ ـ أَوْ قَالَ أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا ـ وَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ‏

Narrated By Ibrahim : Once a meal was brought to 'Abdur-Rahman bin 'Auf and he was fasting. He said, "Mustab bin 'Umar was martyred and he was better than I and was shrouded in his Burd and when his head was covered with it, his legs became bare, and when his legs were covered his head got uncovered. Hamza was martyred and was better than I. Now the worldly wealth have been bestowed upon us (or said a similar thing). No doubt, I fear that the rewards of my deeds might have been given earlier in this world." Then he started weeping and left his food.

ابراہیم بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عبد الرحمٰن بن عوفﷺ کے سامنے کھانا لایا گیا اس حال میں کہ وہ روزہ سے تھے، کہنے لگے: ہائے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، وہ مجھ سے بہتر تھے، ان کو صرف ایک چادر کا کفن ملا، ان کا سر ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے، پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا اور میں سمجھتا ہوں یہ بھی کہا کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، وہ مجھ سے بہتر تھے۔ پھر ان کے بعد تو ہم کو دنیا کی خوب کشائش ہوئی یا یوں کہا ہم کو دنیا بہت ملی ہم ڈرتے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ دنیا ہی میں مل گیا ہو۔پھر رونے لگے اور کھانا بھی چھوڑ دیا۔

Chapter No: 27

باب إِذَا لَمْ يَجِدْ كَفَنًا إِلاَّ مَا يُوَارِي رَأْسَهُ أَوْ قَدَمَيْهِ غَطَّى رَأْسَهُ

If sufficient cloth for the shroud is not available but only that much which covers the head or the feet, than the head is to be covered.

باب: اگر کفن کا کپڑا چھوٹا ہو کہ سر اور پاؤں دونوں نہ ڈھک سکیں تو سر چھپا دیں (پاؤں پر گھاس وغیرہ ڈال دیں)

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنَا خَبَّابٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَلْتَمِسُ وَجْهَ اللَّهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا‏.‏ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ نَجِدْ مَا نُكَفِّنُهُ إِلاَّ بُرْدَةً إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ، وَأَنْ نَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإِذْخِرِ‏

Narrated By Khabbab : We emigrated with the Prophet (p.b.u.h) in Allah's cause, and so our reward was then surely incumbent on Allah. Some of us died and they did not take anything from their rewards in this world, and amongst them was Mustab bin 'Umar; and the others were those who got their rewards. Mustab bin 'Umar was martyred on the day of the Battle of Uhud and we could get nothing except his Burd to shroud him in. And when we covered his head his feet became bare and vice versa. So the Prophet ordered us to cover his head only and to put idhkhir (a kind of shrub) over his feet.

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے نبیﷺ کے ساتھ صرف اللہ کےلیے ہجرت کی۔ اب ہمیں اللہ تعالیٰ سے اجر ملنا ہی تھا ۔ ہمارے بعض ساتھی تو انتقال کرگئے اور انہوں نے (اس دنیا میں) اپنے کئے کا کوئی پھل نہیں کھایا۔ان میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے اور ہمارے بعض ساتھیوں کا میوہ پک گیا ہے اور وہ چن چن کر کھاتا ہے ۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کی لڑائی میں شہید ہوئے ہم کو ان کے کفن میں ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز نہ ملی اور وہ بھی ایسی کہ اگر اس سے سر چھپاتے ہیں تو پاؤں کھل جاتا ہے اور اگر پاؤں ڈھکتے ہیں تو سر کھل جاتا ہے ۔ آخر یہ دیکھ کر نبی ﷺنے ارشاد فرمایا: کہ سر کو چھپا دیں اور پاؤں پر سبز گھاس اذخر نامی ڈال دیں۔

Chapter No: 28

باب مَنِ اسْتَعَدَّ الْكَفَنَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُنْكَرْ عَلَيْهِ

(If) somebody prepared his shroud (before his death) (in the lifetime of the Prophet (s.a.w) and the Prophet(s.a.w) did not object to that).

باب: نبی ﷺ کے زمانے میں اپنا کفن تیار کرنا اور اس پر اعتراض نہ ہونا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا حَاشِيَتُهَا ـ أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ قَالُوا الشَّمْلَةُ‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَتْ نَسَجْتُهَا بِيَدِي، فَجِئْتُ لأَكْسُوَكَهَا‏.‏ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ، فَحَسَّنَهَا فُلاَنٌ فَقَالَ اكْسُنِيهَا، مَا أَحْسَنَهَا‏.‏ قَالَ الْقَوْمُ مَا أَحْسَنْتَ، لَبِسَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ لاَ يَرُدُّ‏.‏ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ لأَلْبَسَهَا إِنَّمَا سَأَلْتُهُ لِتَكُونَ كَفَنِي‏.‏ قَالَ سَهْلٌ فَكَانَتْ كَفَنَهُ‏

Narrated By Sahl : A woman brought a woven Burda (sheet) having edging (border) to the Prophet, Then Sahl asked them whether they knew what is Burda, they said that Burda is a cloak and Sahl confirmed their reply. Then the woman said, "I have woven it with my own hands and I have brought it so that you may wear it." The Prophet accepted it, and at that time he was in need of it. So he came out wearing it as his waist-sheet. A man praised it and said, "Will you give it to me? How nice it is!" The other people said, "You have not done the right thing as the Prophet is in need of it and you have asked for it when you know that he never turns down anybody's request." The man replied, "By Allah, I have not asked for it to wear it but to make it my shroud." Later it was his shroud.

حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبیﷺکے پاس آئی، اور ایک بنی ہوئی حاشیہ دار چادر آپﷺ کےلیے تحفہ لائی۔ تم جانتے ہو چادر کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: شملہ ۔سہیل نے کہا: ہاں شملہ ۔خیروہ کہنے لگی یہ میں نےاپنے ہاتھ سےبُنی ہے ۔میں اس لیے لائی ہوں کہ آپﷺ اس کو پہنیں۔نبیﷺ کو چادر کی اس وقت ضرورت تھی آپﷺ نے لے لی۔ پھر اسے بطور ازار باندھ کر باہر تشریف لائے، تو ایک شخص (عبد الرحمٰن بن عوف)کہنے لگے ، کیا عمدہ چادر ہے ، یہ مجھ کو عنایت کیجئے۔لوگوں نے عبد الرحمٰن سے کہا تم نے اچھا نہیں کیا ۔ تم جانتے ہو کہ نبیﷺ کو چادر کی ضرورت تھی ، آپﷺ نے اس کو پہن لیا ،تم نے پھر کیسے مانگی۔تم یہ بھی جانتے ہو کہ آپﷺ کسی کا سوال ردّ نہیں کرتے۔ عبدالرحمٰن نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے پہننے کیلئے نہیں مانگی بلکہ میں اسکو کفن بناؤں گا ۔سہل نے کہا ، پھر وہ چادر ان کا کفن بنی۔

Chapter No: 29

باب اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ

(Is it permissible for) women to accompany the funeral procession?

باب: عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا کیسا ہے۔

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا‏

Narrated By Um 'Atiyya : We were forbidden to accompany funeral processions but not strictly.

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہمیں (عورتوں کو) جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا مگر تاکید سے منع نہیں ہوا ۔

Chapter No: 30

باب إِحْدَادِ الْمَرْأَةِ عَلَى غَيْرِ زَوْجِهَا

The mourning of the woman for a dead person other than her husband.

باب: عورت کا اپنے خاوند کے سوا اورکسی پر سوگ کرنا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ تُوُفِّيَ ابْنٌ لأُمِّ عَطِيَّةَ ـ رضى الله عنها ـ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّالِثُ دَعَتْ بِصُفْرَةٍ، فَتَمَسَّحَتْ بِهِ وَقَالَتْ نُهِينَا أَنْ نُحِدَّ أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثٍ إِلاَّ بِزَوْجٍ‏

Narrated By Muhammad bin Sirin : One of the sons of Um 'Atiyya died, and when it was the third day she asked for a yellow perfume and put it over her body, and said, "We were forbidden to mourn for more than three days except for our husbands."

حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے انہوں نے کہا: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا ایک بیٹا مرگیا ۔ انھوں نے تیسرے دن زرد خوشبو منگوا کر اپنے بدن پر لگائی اور کہنے لگیں ہمیں خاوند کے سوا اور کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا گیا۔


حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَتْ لَمَّا جَاءَ نَعْىُ أَبِي سُفْيَانَ مِنَ الشَّأْمِ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ ـ رضى الله عنها ـ بِصُفْرَةٍ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ، فَمَسَحَتْ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ إِنِّي كُنْتُ عَنْ هَذَا لَغَنِيَّةً، لَوْلاَ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏‏

Narrated By Zainab bint Abi Salama : When the news of the death of Abu Sufyan reached from Sham, Um Habiba on the third day, asked for a yellow perfume and scented her cheeks and forearms and said, "No doubt, I would not have been in need of this, had I not heard the Prophet saying: "It is not legal for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days for any dead person except her husband, for whom she should mourn for four months and ten days."

حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب شام سے ابو سفیان کے مرنے کی خبر آئی تو ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے تیسرے دن زرد خوشبو منگائی اور اپنے گالوں اور بازوؤں پر لگایا اور فرمانے لگیں: مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی ، اگر میں نے نبیﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے جو عورت اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے ، اس کو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہیں کرنا چاہیے ۔البتہ خاوند پر چار مہینے دس دن سوگ کرے ۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏‏

Narrated By Zainab bint Abi Salama : I went to Um Habiba, the wife of Prophet, who said, "I heard the Prophets saying, 'It is not legal for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for any dead person for more than three days except for her husband, (for whom she should mourn) for four months and ten days'.

حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نبیﷺکی زوجہ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی،انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے جو عورت اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے مگر خاوند پر چار مہینے دس دن سوگ کرے ۔


ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ ثُمَّ قَالَتْ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"

" Later I went to Zainab bint Jahsh when her brother died; she asked for some scent, and after using it she said, "I am not in need of scent but I heard Allah's Apostle saying, 'It is not legal for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days for any dead person except her husband, (for whom she should mourn) for four months and ten days.'"

پھر میں ام المو منین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جب ان کے بھائی وفات پاگئے تھے ۔انہوں نے خوشبو منگائی اور لگاکر فرمانے لگیں مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی، مگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے ،جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے ، اس کےلیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ،مگر خاوند پر چار مہینے دس دن سوگ کرے ۔

12345Last ›