Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

‏قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏لِبَدًا‏}‏ أَعْوَانًا‏.‏

ابن عباسؓ نے کہا لِبَدًا (یا لُبَدًا) مددگار۔

 

Chapter No: 1

باب

Chapter

باب :

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ فَقَالُوا مَا لَكُمْ فَقَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ‏.‏ قَالَ مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلاَّ مَا حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الأَمْرُ الَّذِي حَدَثَ‏.‏ فَانْطَلَقُوا فَضَرَبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا يَنْظُرُونَ مَا هَذَا الأَمْرُ الَّذِي حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِنَخْلَةَ، وَهْوَ عَامِدٌ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَهْوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاَةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ تَسَمَّعُوا لَهُ فَقَالُوا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ‏.‏ فَهُنَالِكَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ، وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا‏.‏ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏قُلْ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ‏}‏ وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : Allah's Apostle went out along with a group of his companions towards 'Ukaz Market. At that time something intervened between the devils and the news of the Heaven, and flames were sent down upon them, so the devils returned. Their fellow-devils said, "What is wrong with you? " They said, "Something has intervened between us and the news of the Heaven, and fires (flames) have been shot at us." Their fellow-devils said, "Nothing has intervened between you and the news of the Heaven, but an important event has happened. Therefore, travel all over the world, east and west, and try to find out what has happened." And so they set out and travelled all over the world, east and west, looking for that thing which intervened between them and the news of the Heaven. Those of the devils who had set out towards Tihama, went to Allah's Apostle at Nakhla (a place between Mecca and Taif) while he was on his way to Ukaz Market. (They met him) while he was offering the Fajr prayer with his companions. When they heard the Holy Qur'an being recited (by Allah's Apostle), they listened to it and said (to each other). This is the thing which has intervened between you and the news of the Heavens." Then they returned to their people and said, "O our people! We have really heard a wonderful recital (Qur'an). It gives guidance to the right, and we have believed therein. We shall not join in worship, anybody with our Lord." (See 72.1-2) Then Allah revealed to His Prophet (Surat al-Jinn): 'Say: It has been revealed to me that a group (3 to 9) of Jinns listened (to the Qur'an).' (72.1) The statement of the Jinns was revealed to him.

ہم سے موسٰی بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، انہوں نے ابو البشر سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ اپنے چند اصحاب کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف روانہ ہوئے۔ ان دنوں شیطانوں کو آسمانوں کی خبر ملنا بالکل موقوف ہو گئی تھی۔ جب وہ آسمان کی طرف جاتے تو ان پر انگار کے شعلے ان پر برستے۔ یہ حال دیکھ کر شیطان زمین پر لوٹ آئے۔ کہنے لگے یہ ہوا کیا کہ آسمان کی خبر بالکل ہم پر بند ہو گئی۔ وہاں جاتے ہیں تو ہم پر آگ برستی ہے۔ تو بڑا شیطان ابلیس یہ سن کر کہنے لگا یہ جو آسمان کی خبر تم پر بند کر دی گئی ہے اس کا سبب کچھ ضرور ہے۔ کوئی نئی بات ہوئی ہے۔ تم ایسا کرو پورب اور پچھم ساری زمین کا دورہ کرو۔ دیکھو تو کوئی نئی بات کیا ہوئی ہے۔ شیطان روانہ ہوئے۔ پورب اور پچھم سب طرف کی ٹوہ لینے لگے۔ یہ کیا وجہ ہے جو آسمان کی خبر ہم پر روک دی گئی ہے۔ ان شیطانوں میں بعضے تہامہ (ملک حجاز) کی طرف بھی آئے۔ (وہ نصیبین کے جن تھے) اور رسول اللہﷺ تک پہنچے۔ آپؐ اس وقت نخلہ میں تھے۔عکاظ کے بازار جانے کا قصد رکھتے تھے۔ آپؐ اپنے اصحاب کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب ان جنوں نے قرآن شریف سنا تو ادھر کان لگا دیا۔ اور (آپس میں کہنے لگے ) ہو نہ ہواسی کلام کی وجہ سے ہم پر آسمان کی خبر بند کر دی گئی ہو۔ خیر وہاں سے لوٹ کر اپنی قوم کے پاس پہنچے اور ان سے کہنے لگے یٰقَومَنَا اِنَّا سَمِعنَا قُراٰنًا عَجَبًا یَھدِی اِلَی الرُّشدِ فَاٰمَنَّابِہِ وَلَن نُّشرِکَ بِرَبِّنَٓا اَحَدًا اور اللہ تعالٰی نے اپنے نبیﷺ پر یہ سورت اتاری قُل اُوحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ استَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الجِنِّ۔ (ابن عباسؓ نے کہا) جنوں کی یہ بات آپؐ کو وحی کے ذریعے سے معلوم ہوئی