Sayings of the Messenger

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ‏}‏ يُجَرُّ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ، وَهْوَ قَوْلُهُ تَعَالَى ‏{‏أَفَمَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ خَيْرٌ أَمْ مَنْ يَأْتِي آمِنًا‏}‏‏.‏ ‏{‏ذِي عِوَجٍ‏}‏ لَبْسٍ‏.‏ ‏{‏وَرَجُلاً سَلَمًا لِرَجُلٍ‏}‏ مَثَلٌ لآلِهَتِهِمِ الْبَاطِلِ، وَالإِلَهِ الْحَقِّ‏.‏ ‏{‏وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ‏}‏ بِالأَوْثَانِ خَوَّلْنَا أَعْطَيْنَا‏.‏ ‏{‏وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ‏}‏ الْقُرْآنُ‏.‏ ‏{‏وَصَدَّقَ بِهِ‏}‏ الْمُؤْمِنُ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ هَذَا الَّذِي أَعْطَيْتَنِي عَمِلْتُ بِمَا فِيهِ ‏{‏مُتَشَاكِسُونَ‏}‏ الشَّكِسُ الْعَسِرُ لاَ يَرْضَى بِالإِنْصَافِ وَرَجُلاً سِلْمًا وَيُقَالُ سَالِمًا صَالِحًا‏.‏ ‏{‏اشْمَأَزَّتْ‏}‏ نَفَرَتْ ‏{‏بِمَفَازَتِهِمْ‏}‏ مِنَ الْفَوْزِ‏.‏ ‏{‏حَافِّينَ‏}‏ أَطَافُوا بِهِ مُطِيفِينَ بِحِفَافَيْهِ بِجَوَانِبِهِ ‏{‏مُتَشَابِهًا‏}‏ لَيْسَ مِنَ الاِشْتِبَاهِ وَلَكِنْ يُشْبِهُ بَعْضُهُ بَعْضًا فِي التَّصْدِيقِ‏.‏

مجاہد نے کہا اَفَمَن یَّتَّقِی بِوَجھِہ سے یہ مراد ہے کہ وہ منہ کے بل دوزخ میں گھسیٹا جائے گا۔ جیسے اس آیت میں فرمایا اَفَمَن یُلقٰی فِی النَّارِ خَیرٌ اَمَّن یَّاتِی اٰمِنًا یَومَ القِیَامَۃ۔ ذی عِوَجٍ شبہے والا۔ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُل یہ ایک مثال ہے معبودان باطل اور خدائے برحق کی۔ وَ یُخَوِّفُونَکَ بِالَّذِینَ مِن دُونِہِ سے بت مراد ہیں (یعنی اپنے ٹھاکروں سے تجھ کو ڈراتے ہیں) ۔ خَوَّلنَا ہم نے دیا۔ وَ الَّذِی جَاءَ بِالصِّدقِ سے قرآن اور صَدَّقَ بِہ سے مسلمان مراد ہیں جو قیامت کے دن (پروردگار کے سامنے) آ کر عرض کرے گا یہی قرآن ہے جو تو نے (دنیا میں) مجھ کو عنایت فرمایا تھا، میں نے اس پر عمل کیا۔ مُتشاکسون شکس سے نکلا ہے۔ شکس کہتے ہیں تکراری (بدمزاج آدمی کو) جو انصاف کی بات کو پسند نہ کرے۔ اور سلم، سالم (اور سلم بکسر سین) اچھے پورے آدمی کو۔ اِشمأزت نفرت کرتے ہیں، چڑتے ہیں۔ بِمَفَازَتِھِم فوز سے نکلا ہے یعنی کامیابی۔ حَافِّین گردا گرد اس کے چاروں طرف۔ متشابھا اشتباہ سے نہیں نکلا بلکہ تشابہ سے یعنی اس کی ایک آیت دوسری آیت کی تصدیق اور تائید کرتی ہے۔

 

Chapter No: 1

باب قَوْلِهِ ‏{‏يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ}‏الآية

The Statement of Allah, "O My slaves who have transgressed against themselves (by committing evil deeds and sins). Despair not of the Mercy of Allah ..." (V.39:53)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ اسرَفُوا عَلٰی اَنفُسِھِم لَا تَقنَطُوا مِن رَحمَۃَ اللہِ کی تفسیر

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ يَعْلَى إِنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ كَانُوا قَدْ قَتَلُوا وَأَكْثَرُوا وَزَنَوْا وَأَكْثَرُوا، فَأَتَوْا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَيْهِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً‏.‏ فَنَزَلَ ‏{‏وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ‏}‏ وَنَزَلَ ‏{‏قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ‏}‏

Narrated By Ibn Abbas : Some pagans who committed murders in great number and committed illegal sexual intercourse excessively, came to Muhammad and said, "O Muhammad! Whatever you say and invite people to, is good: but we wish if you could inform us whether we can make an expiration for our (past evil) deeds." So the Divine Verses came: 'Those who invoke not with Allah any other god, not kill such life as Allah has forbidden except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse.' (25.68) And there was also revealed: 'Say: O My slaves who have transgressed against their souls! Despair not of the Mercy of Allah.' (39.53)

مجھ سے ابراہیم بن موسٰی نےبیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے، ان کو ابن جریج نے خبر دی کہ یعلٰی بن مسلم نے کہا مجھ کو سعید بن جبیر نے، ابن عباسؓ سے خبر دی کہ کچھ مشرکوں نے بہت خون کئے تھے، زنا بھی بہت کئے تھے وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے آپؐ جو فرماتے ہیں، جس دین کی طرف بلاتے ہیں وہ اچھا ہے۔ اگر ہم کو یہ معلوم ہو جائے کہ جو گناہ ہم کر چکے ہیں وہ اسلام لانے سے معاف ہو جائیں گے۔ اس وقت (سورہ فرقان کی) یہ آیت نازل ہوئی وَ الَّذِینَ لَا یَدعُونَ مَعَ اللہَ اِلٰھًا اٰخَرَ وَ لَا یَقتُلُونَ النَّفس الّتی حَرَّمَ اللہ اِلَّا بِالحَقِّ وَ لَا یَزنُون۔ اور سورہ زمر کی یہ آیت نازل ہوئی قُل یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ اسرَفُوا عَلٰی اَنفُسِھِم لَا تَقنَطُوا مِن رَحمَۃَ اللہِ۔

Chapter No: 2

باب قَوْلِهِ: ‏{‏وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ‏}‏

The Statement of Allah, "They made not a just estimate of Allah such as is due to Him ..." (V.39:67)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ مَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدرِہِ کی تفسیر

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الأَحْبَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ، إِنَّا نَجِدُ أَنَّ اللَّهَ يَجْعَلُ السَّمَوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ وَالأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الْخَلاَئِقِ عَلَى إِصْبَعٍ، فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ‏.‏ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَصْدِيقًا لِقَوْلِ الْحَبْرِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ‏}‏

Narrated By 'Abdullah : A (Jewish) Rabbi came to Allah's Apostle and he said, "O Muhammad! We learn that Allah will put all the heavens on one finger, and the earths on one finger, and the trees on one finger, and the water and the dust on one finger, and all the other created beings on one finger. Then He will say, 'I am the King.' Thereupon the Prophet smiled so that his pre-molar teeth became visible, and that was the confirmation of the Rabbi. Then Allah's Apostle recited: 'No just estimate have they made of Allah such as due to Him.' (39.67)

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے منصور بن معتمر سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے، انہوں نے کہا یہودیوں کا ایک عالم (نام نا معلوم) رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے محمدﷺ! ہم (اپنی کتابوں میں لکھا) پاتے ہیں کہ اللہ تعالٰی (قیامت کے دن) آسمان کو ایک انگلی پر اور زمین کو ایک انگلی پر اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور ساری مخلوقات کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا۔ پھر رمائے گا میں بادشاہ ہوں۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ اتنا ہنسے کہ آپؐ کی کچلیاں کھل گئیں۔ آپؐ نے اس عالم کی تصدیق کی پھر یہ آیت پڑھی وَ مَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدرِہَ الخ

Chapter No: 3

باب قَوْلِهِ: ‏{‏وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ‏}‏

The Statement of Allah, "... And on the Day of Resurrection, the whole of the earth will be grasped by His Hand and the heavens will be rolled up in His Right Hand ..." (V.39:67)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ الاَرضُ جَمِیعًا قَبضَتُہُ یَومَ القِیَامَۃِ وَ السَّمٰوَتُ مَطوِیَّاتٌ بِیَمِنِہِ کی تفسیر

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يَقْبِضُ اللَّهُ الأَرْضَ، وَيَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الأَرْضِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : I heard Allah's Apostle saying, "Allah will hold the whole earth, and roll all the heavens up in His Right Hand, and then He will say, 'I am the King; where are the kings of the earth?'"

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد بن مسافر نے، انہوں نے ابن شھاب سے، انہوں نے ابو سلمہ سے کہ ابو ہریرہؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے اللہ تعالٰی زمین کو ایک مٹھی میں لے گا اور آسمان کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا۔ پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں اب دوسری دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں۔

Chapter No: 4

باب قَوْلِهِ:‏{‏وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلاَّ مَنْ شَاءَ اللَّهُ‏}‏الآية

The Statement of Allah, "And the Trumpet will be blown, and all who are in the heavens and all who are on earth will swoon away, except him whom Allah wills ..." (V.39:68)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ نُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَن فِی الاَرضِ اِلَّا مَن شَآءَ اللہُ کی تفسیر

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ بَعْدَ النَّفْخَةِ الآخِرَةِ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى مُتَعَلِّقٌ بِالْعَرْشِ فَلاَ أَدْرِي أَكَذَلِكَ كَانَ أَمْ بَعْدَ النَّفْخَةِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "I will be the first to raise my head after the second blowing of the trumpet and will see Moses hanging the Throne, and I will not know whether he had been in that state all the time or after the blowing of the trumpet."

مجھ سے حسن (بن شجاع بلخی) نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن خلیل نے، کہا ہم کو عبدالرحیم بن سلیمان نے خبر دی، انہوں نے زکریا بن ابی زائدہ سے، انہوں نے عامر شعبی سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے نبی ﷺ سے آپؐ نے فرمایا آخری (یعنی دوسرے) صور کے بعد سب سے پہلے میں سر اٹھاؤں گا (ہوش میں آؤں گا) تو کیا دیکھونگا کہ موسٰیؑ عرش تھامے لٹک رہے ہیں۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ پہلے صور پر بے ہوش ہی نہ ہونگے یا دوسرے صور پر مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائینگے۔


حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا قَالَ أَبَيْتُ‏.‏ قَالَ أَرْبَعُونَ سَنَةً قَالَ أَبَيْتُ‏.‏ قَالَ أَرْبَعُونَ شَهْرًا‏.‏ قَالَ أَبَيْتُ، وَيَبْلَى كُلُّ شَىْءٍ مِنَ الإِنْسَانِ إِلاَّ عَجْبَ ذَنَبِهِ، فِيهِ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Between the two blowing of the trumpet there will be forty." The people said, "O Abu Huraira! Forty days?" I refused to reply. They said, "Forty years?" I refused to reply and added: Everything of the human body will decay except the coccyx bone (of the tail) and from that bone Allah will reconstruct the whole body.

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا میں نے ابو صالح سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے ابو ہریرہؓ سے سنا، انہوں نے نبی ﷺ سے، آپؐ نے فرمایا دونوں صوروں میں چالیس کا فاصلہ ہو گا۔ لوگوں نے کہا اے ابو ہریرہؓ! چالیس دن کا۔ ابو ہریرہؓ نے کہا میں نہیں کہہ سکتا۔ انہوں نے کہا چالیس مہینے کا۔ ابو ہریرہؓ نے کہا میں نہیں کہہ سکتا۔ اور رسو ل اللہﷺ نے فرمایا آدمی کا سارا بدن گھل جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کا سرا رائی کے دانے برابر۔ اسی سے (قیامت کے دن) آدمی کا ڈھانچہ کھڑا کیا جائے گا۔