Sayings of the Messenger

 

123Last ›

Chapter No: 1

باب وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ

Fasting is obligatory in Ramadan.

باب۔ رمضان کے روزے رکھنا فرض ہیں

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ‏}‏‏

And the Statement of Allah, "O you who believe! Fasting is prescribed for you as it was prescribed for those before you so that you may become God conscious." [V.2:183]

اور اللہ تعالٰی نے (سورت بقرہ میں)فرمایا مسلمانو ں تم پر اگلے لوگوں کی طرح روزہ فرض ہوا اس لیے کہ تم گناہوں سے بچو۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَائِرَ الرَّأْسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏"‏ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَخْبِرْنِي مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الصِّيَامِ فَقَالَ ‏"‏ شَهْرَ رَمَضَانَ، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ مِنَ الزَّكَاةِ فَقَالَ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَرَائِعَ الإِسْلاَمِ‏.‏ قَالَ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لاَ أَتَطَوَّعُ شَيْئًا، وَلاَ أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ شَيْئًا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Talha bin 'Ubaid-Ullah : A bedouin with unkempt hair came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! Inform me what Allah has made compulsory for me as regards the prayers." He replied: "You have to offer perfectly the five compulsory prayers in a day and night (24 hours), unless you want to pray Nawafil." The bedouin further asked, "Inform me what Allah has made compulsory for me as regards fasting." He replied, "You have to fast during the whole month of Ramadan, unless you want to fast more as Nawafil." The bedouin further asked, "Tell me how much Zakat Allah has enjoined on me." Thus, Allah's Apostle informed him about all the rules (i.e. fundamentals) of Islam. The bedouin then said, "By Him Who has honoured you, I will neither perform any Nawafil nor will I decrease what Allah has enjoined on me. Allah's Apostle said, "If he is saying the truth, he will succeed (or he will be granted Paradise)."

حضرت طلحہ بن عبید اللہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی پریشان سر رسول اللہ ﷺکے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ بتلائیے اللہ نے ہم پر کون سی نمازیں فرض کی ہیں آپﷺ نےفرمایا: پانچ نمازیں البتہ اگر تو نفل زیادہ پڑھے تو اور بات ہے پھر اس نے پوچھا بتلایئے اللہ نے مجھ پر روزے کون سے فرض کیے ہیں،آپﷺ نے فرمایا: رمضان کے البتہ اگرنفل زیادہ رکھے تو اور بات ہے پھر اس نے پوچھا اللہ نے مجھ پر فرض زکوٰۃ کون سی کی ہے غرض آپﷺ نے اس کو شرع اسلام کی باتیں بتلادیں تب وہ کہنے لگا قسم اس کی جس نے آپﷺ کو عزت دی، اللہ نے جو فرض کیا ہے میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر یہ سچا ہے تو مراد کو پہنچا یا سچا ہے تو جنت میں جائے گا۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَاشُورَاءَ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ‏.‏ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِكَ‏.‏ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ يَصُومُهُ، إِلاَّ أَنْ يُوَافِقَ صَوْمَهُ‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet observed the fast on the 10th of Muharram ('Ashura), and ordered (Muslims) to fast on that day, but when the fasting of the month of Ramadan was prescribed, the fasting of the 'Ashura was abandoned. 'Abdullah did not use to fast on that day unless it coincided with his routine fasting by chance.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے عاشورے کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اسکا حکم دیا، جب رمضان فرض ہوا تو عاشورے کا روزہ چھوڑ دیا گیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عاشورے کے دن روزہ نہیں رکھتے تھے مگر جب انکے (نفلی)روزے کے دن آجاتا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ قُرَيْشًا، كَانَتْ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصِيَامِهِ حَتَّى فُرِضَ رَمَضَانُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : (The tribe of) Quraish used to fast on the day of Ashura' in the Pre-Islamic period, and then Allah's Apostle ordered (Muslims) to fast on it till the fasting in the month of Ramadan was prescribed; whereupon the Prophet said, "He who wants to fast (on 'Ashura) may fast, and he who does not want to fast may not fast."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش جاہلیت کے زمانے میں عاشورے کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر رسول اللہﷺ نے بھی اس دن کے روزے کا حکم دیا، یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہوئے، اور( اس وقت) آپﷺ نے فرمایا: جس کا جی چاہے وہ عاشورے کا روزہ رکھےجس کا جی چاہے نہ رکھے۔

Chapter No: 2

باب فَضْلِ الصَّوْمِ

The superiority of As-Saum (the fasting).

باب: روزے کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ‏.‏ مَرَّتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، الصِّيَامُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Fasting is a shield (or a screen or a shelter). So, the person observing fasting should avoid sexual relation with his wife and should not behave foolishly and impudently, and if somebody fights with him or abuses him, he should tell him twice, 'I am fasting." The Prophet added, "By Him in Whose Hands my soul is, the smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. (Allah says about the fasting person), 'He has left his food, drink and desires for My sake. The fast is for Me. So I will reward (the fasting person) for it and the reward of good deeds is multiplied ten times."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا روزہ (جہنم سے) ڈھال ہے، روزے میں فحش باتیں نہ کرے، نہ جہالت کی باتیں، اگر کوئی آدمی اس سے لڑے یا گالی دے تو دو مرتبہ یہ کہہ دے میں روزہ دار ہوں۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بہتر ہے اللہ فرماتا ہے: روزہ دار میرے لیے اپنا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور اپنی خواہش ترک کردیتا ہے، روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ایک نیکی کے بدلے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔

Chapter No: 3

باب الصَّوْمُ كَفَّارَةٌ

Fasting is expiation for sins.

باب: روزہ گناہوں کا اتارہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا جَامِعٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ مَنْ يَحْفَظُ حَدِيثًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ قَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَيْسَ أَسْأَلُ عَنْ ذِهِ، إِنَّمَا أَسْأَلُ عَنِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ‏.‏ قَالَ وَإِنَّ دُونَ ذَلِكَ بَابًا مُغْلَقًا‏.‏ قَالَ فَيُفْتَحُ أَوْ يُكْسَرُ قَالَ يُكْسَرُ‏.‏ قَالَ ذَاكَ أَجْدَرُ أَنْ لاَ يُغْلَقَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ‏.‏ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ‏.‏

Narrated By Abu Wail from Hudhaifa : Umar asked the people, "Who remembers the narration of the Prophet about the affliction?" Hudhaifa said, "I heard the Prophet saying, 'The affliction of a person in his property, family and neighbours is expiated by his prayers, fasting, and giving in charity." 'Umar said, "I do not ask about that, but I ask about those afflictions which will spread like the waves of the sea." Hudhaifa replied, "There is a closed gate in front of those afflictions." 'Umar asked, "Will that gate be opened or broken?" He replied, "It will be broken." 'Umar said, "Then the gate will not be closed again till the Day of Resurrection." We said to Masruq, "Would you ask Hudhaifa whether 'Umar knew what that gate symbolized?" He asked him and he replied "He ('Umar) knew it as one knows that there will be night before tomorrow, morning.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبیﷺسے فتنہ کے بارے میں حدیثیں کس کو زیادہ یاد ہیں؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپﷺکو کہتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کی آزمائش اس کے بال بچوں اور اس کے مال اور پڑوسی میں ہوتی ہے۔ نماز روزہ اور صدقہ اس کے لیے کفارہ ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا ہوں میں تو اس کے بارے میں پوچھ رہا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح امڈ آئے گا۔ کہا کہ اس کے آگے ایک دروازہ بند ہے ، پوچھا : کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا ؟ کہا: توڑا جائے گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو قیامت تک کبھی بند نہ ہوپائے گا۔ہم لوگوں نے مسروق سے کہا کہ ان سے پوچھو آیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے ؟ مسروق نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : ہاں جس طرح انہیں کل دن کے بعد رات آنے کا یقین ہے۔

Chapter No: 4

باب الرَّيَّانُ لِلصَّائِمِينَ

Ar-Raiyan (one of the gates of Paradise) is for the people observing Saum (fast).

باب: بہشت کا دروازہ ریان روزہ داروں کے لیے ہے۔

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لاَ يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ، لاَ يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ ‏"‏‏.

Narrated By Sahl : The Prophet said, "There is a gate in Paradise called Ar-Raiyan, and those who observe fasts will enter through it on the Day of Resurrection and none except them will enter through it. It will be said, 'Where are those who used to observe fasts?' They will get up, and none except them will enter through it. After their entry the gate will be closed and nobody will enter through it."

حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریّان کہتے ہیں روزہ دار جنت میں اس دروازہ سے جائیں گے روزہ داروں کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں جائے گا، اعلان کیا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں وہ اٹھ کھڑے ہوں گے ان کے سوا اس میں سے کوئی نہیں جائے گا جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو دروازہ بند ہوجائے گا کوئی اور اس میں سے نہیں جاسکے گا۔


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ‏.‏ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ باب الصَّلاَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ باب الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ باب الرَّيَّانِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ باب الصَّدَقَةِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ـ رضى الله عنه ـ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ‏.‏ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Whoever gives two kinds (of things or property) in charity for Allah's Cause, will be called from the gates of Paradise and will be addressed, 'O slaves of Allah! Here is prosperity.' So, whoever was amongst the people who used to offer their prayers, will be called from the gate of the prayer; and whoever was amongst the people who used to participate in Jihad, will be called from the gate of Jihad; and whoever was amongst those who used to observe fasts, will be called from the gate of Ar-Raiyan; whoever was amongst those who used to give in charity, will be called from the gate of charity." Abu Bakr said, "Let my parents be sacrificed for you, O Allah's Apostle! No distress or need will befall him who will be called from those gates. Will there be any one who will be called from all these gates?" The Prophet replied, "Yes, and I hope you will be one of them."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں جو ڑا (دو چیزیں) خرچ کرے گا اسکو (فرشتے) جنت کے دروازوں سے پکاریں گے اے اللہ کے بند ے! یہ دروازہ اچھا ہے۔ پھر جو کوئی نمازی ہوگا وہ نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو کوئی مجاہد ہوگا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو کوئی روزہ دار ہوگا وہ ریان کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو صدقہ(زکاۃ) دینے والا ہوگا وہ صدقہ(زکاۃ) کےدروازے سے بلایا جائے گا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسو ل اللہﷺ! اگر کوئی ان دروازوں میں سے کسی ایک دروا زے سے بھی بلایا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن کوئی ایسا بھی ہوگا جو ان سب دروازوں سے بلایا جائے آپﷺ نے فرمایا: ہاں ایسے لوگ بھی ہوں گے، اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں لوگوں میں سے ہوں گے۔

Chapter No: 5

باب هَلْ يُقَالُ رَمَضَانُ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ وَمَنْ رَأَى كُلَّهُ وَاسِعًا

Should it be said "Ramadan" or 'the month of Ramadan?' And whoever thinks that both are permissible.

باب: رمضان یا ماہ رمضان کیا کہیں اور اس کی دلیل جو دونوں طرح کہنا درست جانتا ہے ،

وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ لاَ تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ ‏"‏‏

And the Prophet (s.a.w) said, "Whoever observes Fast in Ramadan." And also said, "Do not observe Fasting before Ramadan."

اور نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور فرمایا رمضان سے آگے روزے نہ رکھو۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔


حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ، مَوْلَى التَّيْمِيِّينَ أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ ‏"

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "When the month of Ramadan starts, the gates of the heaven are opened and the gates of Hell are closed and the devils are chained."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھےرسول اللہﷺ نےفرمایا: جب ماہ رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازےکھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کئے جاتے ہیں، اور شیطانوں کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ وَيُونُسُ لِهِلاَلِ رَمَضَانَ‏

Narrated By Ibn Umar : I heard Allah's Apostle saying, "When you see the crescent (of the month of Ramadan), start fasting, and when you see the crescent (of the month of Shawwal), stop fasting; and if the sky is overcast (and you can't see It) then regard the crescent (month) of Ramadan (as of 30 days)".

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے جب تم رمضان کا چاند دیکھو تو روزہ رکھو جب شوال کا چاند دیکھو تو افطار کرو (روزہ بند کرو) اور اگر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرلو یحییٰ کے سوا اور لوگوں نے لیث سے یوں روایت کی مجھ سے عقیل اور یونس نے بیان کیا رمضان کے چاند کے تیس دن پورے کرو۔

Chapter No: 6

باب مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَنِيَّةً

Whoever observed fast in Ramadan out of sincere faith, hoping for a reward from Allah and with honest intention (i.e., only for Allah's sake).

باب: جو رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے نیت کر کے اس کا ثواب،

وَقَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ ‏"‏‏

And Aisha (r.a) narrated from the Prophet (s.a.w), "The people will be resurrected according to their intentions."

اور حضرت عائشہؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی لوگ اپنی نیتوں کے موافق اٹھائے جائیں گے۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Whoever established prayers on the night of Qadr out of sincere faith and hoping for a reward from Allah, then all his previous sins will be forgiven; and whoever fasts in the month of Ramadan out of sincere faith, and hoping for a reward from Allah, then all his previous sins will be forgiven."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص شب قدر کو ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے گا اس کے اگلے گناہ سب معاف ہوجائیں گے، اور جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھے گا اس کے اگلے گناہ سب معاف ہوجائیں گے۔

Chapter No: 7

باب أَجْوَدُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَكُونُ فِي رَمَضَانَ

The Prophet (s.a.w) used to be most generous in the month of Ramadan.

باب: نبیﷺ رمضان میں سب دنوں سے زیادہ سخاوت کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ، يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet was the most generous amongst the people, and he used to be more so in the month of Ramadan when Gabriel visited him, and Gabriel used to meet him on every night of Ramadan till the end of the month. The Prophet used to recite the Holy Qur'an to Gabriel, and when Gabriel met him, he used to be more generous than a fast wind (which causes rain and welfare).

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبیﷺ خیر کے معاملے میں سب سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان میں جب جبرئیل علیہ السلام آپﷺ سے ملتے رہتے تو آپﷺ باقی دنوں کی نسبت زیادہ سخاوت کر تے، حضرت جبرئیل علیہ السلام رمضان میں ہر رات آپﷺ سے ملا کرتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا۔ وہ آپﷺسے قرآن کا دور کیا کرتے۔ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپﷺ سے ملتے تو آپﷺ چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہوجایا کرتے تھے۔

Chapter No: 8

باب مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فِي الصَّوْمِ

Whoever does not give up lying speech (i.e., telling lies) and acting on those observing Saum (Fasts).

باب : جو شخص روزے میں جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا نہ چھوڑے

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Whoever does not give up forged speech and evil actions, Allah is not in need of his leaving his food and drink (i.e. Allah will not accept his fasting.)"

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جو شخص (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑے۔

Chapter No: 9

باب هَلْ يَقُولُ إِنِّي صَائِمٌ إِذَا شُتِمَ

Should one say, 'I am observing fast' on being abused.

باب: کوئی اس کو گالی دے تو یہ کہہ سکتا ہے میں روزہ دار ہوں۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَالَ اللَّهُ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلاَّ الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ‏.‏ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ، أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ‏.‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Allah said, 'All the deeds of Adam's sons (people) are for them, except fasting which is for Me, and I will give the reward for it.' Fasting is a shield or protection from the fire and from committing sins. If one of you is fasting, he should avoid sexual relation with his wife and quarrelling, and if somebody should fight or quarrel with him, he should say, 'I am fasting.' By Him in Whose Hands my soul is' The unpleasant smell coming out from the mouth of a fasting person is better in the sight of Allah than the smell of musk. There are two pleasures for the fasting person, one at the time of breaking his fast, and the other at the time when he will meet his Lord; then he will be pleased because of his fasting."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہےآدمی کا ہر نیک عمل خود اسی کےلیے ہے مگر روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اسکا بدلہ دوں گا اور روزہ گناہوں کی ڈھال ہے اور جب تم میں کوئی روزہ رکھے تو فحش باتیں نہ کرے نہ شور مچائے، اگر کوئی اس کو گالی دے یا اس سے لڑے تو وہ یہ کہہ دے میں روزہ دار ہوں۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ روزہ دار کےلیے دو خوشیاں ہیں ایک تو روزہ کھولتے وقت خوش ہوتا ہے، دوسرا جب اپنے رب سے ملے گا تو روزے کا ثواب دیکھ کر خوش ہو گا۔

Chapter No: 10

باب الصَّوْمِ لِمَنْ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُزُوبَةَ

As Saum (is recommended) for those who fear committing illegal sexual acts, i.e., those who are unmarried.

باب: جو مجرد ہو ا اور زنا سے ڈرے تو روزے رکھے۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ ‏"‏‏

Narrated By 'Alqama : While I was walking with 'Abdullah he said, "We were in the company of the Prophet and he said, 'He who can afford to marry should marry, because it will help him refrain from looking at other women, and save his private parts from looking at other women, and save his private parts from committing illegal sexual relation; and he who cannot afford to marry is advised to fast, as fasting will diminish his sexual power."

علقمہ سے روایت ہے کہ انہوں نےکہا: ایک مرتبہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جارہا تھا انہوں نے کہا: ہم آپﷺ کے ساتھ تھے آپﷺنے فرمایا: جو شخص شادی کرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرلے، نکاح آدمی کی نگاہ نیچی رکھتا ہے شرمگاہ کو بد فعلی سے محفوظ رکھتا ہے اور جس کو یہ طاقت نہ ہو وہ روزہ رکھے کیونکہ وہ اس کی شہوت کو ختم کردیتاہے۔

123Last ›