Sayings of the Messenger

 

12

Chapter No: 1

باب مَا جَاءَ فِي الْعِتْقِ وَفَضْلِهِ

What is said regarding the manumission and its superiority.

باب : بردہ آزاد کر نے کاثواب ،

وَقَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏فَكُّ رَقَبَةٍ * أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ * يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ‏}‏

And the Statement of Allah, "(It is) freeing a neck (slave). Or giving food in a day of hunger to an orphan near of kin" (V.90:13-15)

اور اللہ تعالٰی نے (سورت بلد میں) فرمایا گردن چھڑانا (آزاد کر دینا) یا بھوک کے دن ناتے والے یتیم کو کھانا کھلانا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ابْنُ مَرْجَانَةَ، صَاحِبُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا اسْتَنْقَذَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏ قَالَ سَعِيدٌ ابْنُ مَرْجَانَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ فَعَمَدَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ إِلَى عَبْدٍ لَهُ قَدْ أَعْطَاهُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَشَرَةَ آلاَفِ دِرْهَمٍ ـ أَوْ أَلْفَ دِينَارٍ ـ فَأَعْتَقَهُ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Whoever frees a Muslim slave, Allah will save all the parts of his body from the (Hell) Fire as he has freed the body-parts of the slave." Said bin Marjana said that he narrated that Hadith to 'Ali bin Al-Husain and he freed his slave for whom 'Abdullah bin Ja'far had offered him ten thousand Dirhams or one-thousand Dinars.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جس شخص نے بھی کسی مسلمان (غلام) کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس غلام کے جسم کے ہر عضو کی آزادی کے بدلے اس شخص کے جسم کے بھی ایک ایک عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا۔سعید بن مرجانہ نے بیان کیا کہ پھر میں حضرت علی بن حسین (زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ) کے ہاں گیا (اور ان سے حدیث بیان کی) وہ اپنے ایک غلام کی طرف متوجہ ہوئے ۔جس کی عبد اللہ بن جعفر دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار قیمت دے رہے تھے اور آپ نے اسے آزاد کردیا۔

Chapter No: 2

باب أَىُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ

What is the best kind of manumission?

باب : کیسا بردہ آزاد کرنا افضل ہے ۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ، قَالَ ‏"‏ إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَأَىُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ أَغْلاَهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Dhar : I asked the Prophet, "What is the best deed?" He replied, "To believe in Allah and to fight for His Cause." I then asked, "What is the best kind of manumission (of slaves)?" He replied, "The manumission of the most expensive slave and the most beloved by his master." I said, "If I cannot afford to do that?" He said, "Help the weak or do good for a person who cannot work for himself." I said, "If I cannot do that?" He said, "Refrain from harming others for this will be regarded as a charitable deed for your own good."

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہﷺسے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا ، اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے پوچھا اور کس طرح کا غلام آزاد کرنا افضل ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور مالک کی نظر میں جو بہت زیادہ پسند ہو ۔ میں نے عرض کیا کہ اگر مجھ سے یہ نہ ہوسکا؟ آپﷺنے فرمایا: پھر کسی مسلمان کاریگر کی مدد کر یا کسی بے ہنر کی۔انہوں نے کہا: اگر میں یہ بھی نہ کرسکا؟ اس پر آپﷺنے فرمایا: پھر لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کردے کہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کروگے۔ نوٹ: بعض روایتوں میں لفظ " صانعا" کی جگہ " ضائعا " منقول ہے تو ا س کے معنی ٰ یہ ہوں گے جو کوئی تباہ حال ہو یعنی فقر و فاقہ میں مبتلا ہوکر ہلاک و برباد ہور ہا ہو۔

Chapter No: 3

باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْعَتَاقَةِ فِي الْكُسُوفِ وَالآيَاتِ

It is recommended to free slaves at the time of eclipses or on the appearance of some other signs of Allah.

باب : سورج گہن اور دوسری نشانیوں کے وقت بردہ آزاد کرنا مستحب ہے ۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ‏.‏ تَابَعَهُ عَلِيٌّ عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ عَنْ هِشَامٍ‏.‏

Narrated By Asma' bint Abu Bakr : The Prophet ordered us to free slaves at the time of solar eclipses.

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔ موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو علی بن مدینی نے بھی عبدالعزیز در اور دی سے روایت کیا انہوں نے ہشام سے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَثَّامٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ كُنَّا نُؤْمَرُ عِنْدَ الْخُسُوفِ بِالْعَتَاقَةِ‏.‏

Narrated By Asma' bint Abu Bakr : We were ordered to free slaves at the time of lunar eclipses.

حضرت اسماء بنت ابی بکررضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : ہمیں سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔

Chapter No: 4

باب إِذَا أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَ اثْنَيْنِ أَوْ أَمَةً بَيْنَ الشُّرَكَاءِ

If one manumits a male slave owned by two persons or a female slave owned by a number of partners.

باب : اگر مشترک غلام یا لونڈی کو آزاد کر دے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا قُوِّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ يُعْتَقُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "Whoever manumits a slave owned by two masters, should manumit him completely (not partially) if he is rich after having its price evaluated."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: دو شریکوں کے درمیان مشترک غلام کو اگر کسی ایک شریک نے آزاد کیا ، تو اگر آزاد کرنے والا مالدار ہے تو باقی حصوں کی قیمت کا اندازہ کیا جائے گا ۔ پھر پورے غلام کو آزاد کردیا جائے گا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ، وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle said, "Whoever frees his share of a common slave and he has sufficient money to free him completely, should let its price be estimated by a just man and give his partners the price of their shares and manumit the slave; otherwise (i.e. if he has not sufficient money) he manumits the slave partially."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں اپنے حصے کو آزاد کردیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے کہ غلام کی پوری قیمت ادا ہوسکے تو اس کی قیمت انصاف کے ساتھ لگائی جائے گی اور باقی شریکوں کو ان کے حصے کی قیمت دے کر غلام کو اسی کی طرف سے آزاد کردیا جائے گا۔ ورنہ غلام کا جو حصہ آزاد ہوچکا ہو وہ ہوچکا۔ باقی حصوں کی آزادی کےلیے غلام کو خودکوشش کرکے قیمت ادا کرنی ہوگی۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَأُعْتِقَ مِنْهُ مَا أَعْتَقَ ‏"‏‏.‏ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، اخْتَصَرَهُ‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle said, "Whoever manumits his share of a slave, then it is essential for him to get that slave manumitted' completely as long as he has the money to do so. If he has not sufficient money to pay the price of the other shares (after the price of the slave is evaluated justly), the manumitted manumits the slave partially in proportion to his share. Narrated By 'Ubaidullah : As above (briefly).

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام کے اپنے حصے کو آزاد کردیا اور اس کے پاس غلام کی پوری قیمت ادا کرنے کےلیے مال بھی ہے تو پورا غلام اسے آزاد کرانا لازم ہے ۔ لیکن اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے پورے غلام کی صحیح قیمت ادا کی جاسکے۔ توپھر غلام کا جو حصہ آزاد ہوگیا وہی آزاد ہوا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ أَوْ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ بِقِيمَةِ الْعَدْلِ، فَهْوَ عَتِيقٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَافِعٌ وَإِلاَّ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ‏.‏ قَالَ أَيُّوبُ لاَ أَدْرِي أَشَىْءٌ قَالَهُ نَافِعٌ، أَوْ شَىْءٌ فِي الْحَدِيثِ‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "He who manumits his share of a slave and has money sufficient to free the remaining portion of that slave's price (justly estimated) then he should manumit him (by giving the rest of his price to the other co-owners)." Nafi' added, "Otherwise the slave is partially free." Aiyub is not sure whether the last statement was said by Nafi' or it was a part of the Hadith.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺنے فرمایا: جس نے کسی غلام کا اپنا حصہ آزاد کردیا۔ یا (آپﷺنے ) یہ الفاظ فرمائے شرکا لہ فی عبد ( راوی کو شک ہوا) اور اس کے پاس اتنا مال بھی تھا جس سے پورے غلام کی مناسب قیمت ادا کی جاسکتی تھی تو وہ غلام پوری طرح آزاد سمجھا جائے گا۔نافع نے بیان کیا ورنہ اس کا جو حصہ آزاد ہوگیا بس وہ آزاد ہوگیا۔ راوی ایوب نے کہا: مجھے معلوم نہیں یہ (آخری ٹکڑا) خود نافع نے اپنی طرف سے کہا تھا یا یہ بھی حدیث میں شامل ہے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِقْدَامٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي فِي الْعَبْدِ أَوِ الأَمَةِ يَكُونُ بَيْنَ شُرَكَاءَ، فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ مِنْهُ، يَقُولُ قَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلِّهِ، إِذَا كَانَ لِلَّذِي أَعْتَقَ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ، يُقَوَّمُ مِنْ مَالِهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ، وَيُدْفَعُ إِلَى الشُّرَكَاءِ أَنْصِبَاؤُهُمْ، وَيُخَلَّى سَبِيلُ الْمُعْتَقِ‏.‏ يُخْبِرُ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَرَوَاهُ اللَّيْثُ وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَابْنُ إِسْحَاقَ وَجُوَيْرِيَةُ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُخْتَصَرًا‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : That he used to give his verdict regarding the male or female slaves owned by more than one master, one of whom may manumit his share of the slave. Ibn 'Umar used to say in such a case, "The manumitted should manumit the slave completely if he has sufficient money to pay the rest of the price of that slave (which is to be justly estimated) and the other share-holders are to take the price of their shares and the slave is freed (released from slavery)." Ibn 'Umar narrated this verdict from the Prophet.

نافع نے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ غلام یا باندی کے بارے میں یہ فتویٰ دیا کرتے تھے کہ اگر وہ کئی شریکوں کے درمیان مشترک ہو اور ایک شریک اپنا حصہ آزاد کردے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اس شخص پر پورے غلام کے آزاد کرانے کی ذمہ داری ہوگی لیکن یہ اس صورت میں جب شخص مذکور کے پاس اتنا مال ہو جس سے پورے غلام کی قیمت ادا کی جاسکے ۔ غلام کی مناسب قیمت لگاکر دوسرے شریکوں کو ان کے حصوں کے مطابق ادائیگی کردی جائے گی ، اور غلام کو آزاد کردیا جائے گا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ فتویٰ نبیﷺسے نقل کرتے تھے۔

Chapter No: 5

باب إِذَا أَعْتَقَ نَصِيبًا فِي عَبْدٍ، وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، عَلَى نَحْوِ الْكِتَابَةِ‏

Whoever manumits his portion of a common slave and does not possess enough money to manumit him completely, then that slave should be helped to work without hardship to earn what will enable him to get complete freedom according to the writing.

باب : اگر کسی شخص نے ساجھے کے بردے میں اپنا حصہ آزاد کر دیا اور وہ نادار ہے تو دوسرے سا جھی والوں کے لیے اس سے محنت کرائیں جیسے مکاتب سے کراتے ہیں اس پر سختی نہیں کرنےکے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏{‏مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ عَبْدٍ ‏}‏

Narrated By Abu Huraira : That the Prophet said, "Whoever frees his portion of a (common) slave."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا :نبیﷺ نے فرمایا : جس نے کسی غلام کا ایک حصہ آزاد کیا۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا أَوْ شَقِيصًا فِي مَمْلُوكٍ، فَخَلاَصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، وَإِلاَّ قُوِّمَ عَلَيْهِ، فَاسْتُسْعِيَ بِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ حَجَّاجُ بْنُ حَجَّاجٍ وَأَبَانُ وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ عَنْ قَتَادَةَ‏.‏ اخْتَصَرَهُ شُعْبَةُ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Whoever frees his portion of a common slave should free the slave completely by paying the rest of his price from his money if he has enough money; otherwise the price of the slave is to be estimated and the slave is to be helped to work without hardship till he pays the rest of his price."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جس نے کسی شریک کے غلام کا اپنا حصہ آزاد کیا تو اس کی پوری آزادی اسی کے ذمہ ہے ۔ بشرطیکہ اس کے پاس مال ہو ۔ورنہ غلام کی قیمت لگائی جائے گی اور کوشش کےلیے کہا جائے گا: لیکن اس پر کوئی سختی نہ کی جائے گی ۔

Chapter No: 6

باب الْخَطَإِ وَالنِّسْيَانِ فِي الْعَتَاقَةِ وَالطَّلاَقِ وَنَحْوِهِ،وَلاَ عَتَاقَةَ إِلاَّ لِوَجْهِ اللَّهِ‏،

What is said about manumission and divorce by mistake or by forgetfulness. Manumission of slaves should be for Allah's sake only.

باب : اگر بھول چوک کر کسی کی زبان سے عتاق (آزادی) یا طلاق یا کوئی اور ایسی ہی چیز نکل جائے اور آزادی صرف خدا کی رضا مندی کے لیے کی جاتی ہے ،

وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ‏"‏ وَلاَ نِيَّةَ لِلنَّاسِي وَالْمُخْطِئِ‏

The Prophet (s.a.w) said, "Everybody will get the reward according to what he has intended." Doing things by forgetfulness or by mistake is not regarded as intentional action.

اور نبیﷺ نے فرمایا ہو آدمی کو وہی ملے گا جیسی نیت کرے اور بھو لنے چوکنے والے کو نیت نہیں ہو تی۔

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ بِهِ صُدُورُهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَكَلَّمْ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Allah has accepted my invocation to forgive what whispers in the hearts of my followers, unless they put it to action or utter it."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک وہ انہیں عمل یا زبان پر نہ لائیں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَلاِمْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Umar bin Al-Khattab : The Prophet said, "The (reward of) deeds depend on intentions, and every person will get the reward according to what he intends. So, whoever migrated for Allah and His Apostle, then his migration will be for Allah and His Apostle, and whoever migrated for worldly benefits or for marrying a woman, then his migration will be for what he migrated for."

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: عملوں کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر آدمی کو اس کی نیت کے مطابق ملتا ہے ، پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺکےلیے ہو، وہ اللہ اور اس کے رسول کےلیے سمجھی جائے گی اور جس کی ہجرت دنیا کےلیے ہوگی یا کسی عورت سے شادی کرنے کےلیے تو یہ ہجرت صرف اسی کےلیے ہوگی جس کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔

Chapter No: 7

باب إِذَا قَالَ رَجُلٌ لِعَبْدِهِ هُوَ لِلَّهِ وَنَوَى الْعِتْقَ، وَالإِشْهَادُ فِي الْعِتْقِ

If somebody says to his slave that he is for Allah and by that he intends to manumit him. And the witness for manumission.

باب : جب کوئی شخص اپنے غلام کے لیے یوں کہے وہ اللہ کا ہے اور آزاد کر نے کی نیت ہو تو آزاد ہو جائیگا اور آزادی میں گواہ کرنیکا بیان ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ لَمَّا أَقْبَلَ يُرِيدُ الإِسْلاَمَ وَمَعَهُ غُلاَمُهُ، ضَلَّ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ، فَأَقْبَلَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ جَالِسٌ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَذَا غُلاَمُكَ قَدْ أَتَاكَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَمَا إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُ حُرٌّ‏.‏ قَالَ فَهُوَ حِينَ يَقُولُ يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ

Narrated By Qais : When Abu Huraira accompanied by his slave set out intending to embrace Islam they lost each other on the way. The slave then came while Abu Huraira was sitting with the Prophet. The Prophet said, "O Abu Huraira! Your slave has come back." Abu Huraira said, "Indeed, I would like you to witness that I have manumitted him." That happened at the time when Abu Huraira recited (the following poetic verse): 'What a long tedious tiresome night! Nevertheless, it has delivered us From the land of Kufr (disbelief).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ اسلام قبول کرنے کے ارادے سے (مدینہ کے لیے) نکلے تو ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا ۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ۔پھر جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (مدینہ پہنچنے کےبعد)آپﷺکی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان کا غلام بھی اچانک آگیا ۔آپﷺنے فرمایا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! یہ لو تمہارا غلام بھی آگیا ہے۔حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپﷺکو گواہ بناتا ہوں کہ یہ غلام اب آزاد ہے ۔ راوی نے کہا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ پہنچ کر یہ شعر کہے تھے : ہے پیاری گو کٹھن ہے اور لمبی میری رات پر دلائی اس نے دارالکفر سے مجھ کو نجات


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ قَالَ وَأَبَقَ مِنِّي غُلاَمٌ لِي فِي الطَّرِيقِ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَايَعْتُهُ، فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلاَمُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَذَا غُلاَمُكَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ‏.‏ فَأَعْتَقْتُهُ‏.‏ لَمْ يَقُلْ أَبُو كُرَيْبٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ حُرٌّ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : On my way to the Prophet I was reciting: 'What a long tedious tiresome night! Nevertheless, it has saved us From the land of Kufr (disbelief).' I had a slave who ran away from me on the way. When I went to the Prophet and gave the pledge of allegiance for embracing Islam, the slave showed up while I was still with the Prophet who remarked, "O Abu Huraira! Here is your slave!" I said, "I manumit him for Allah's Sake," and so I freed him.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آتے ہوئے راستے میں یہ شعر کہا تھا : ہے پیاری گوکٹھن ہے اور لمبی میری رات پر دلائی اس نے دار الکفر سے مجھ کو نجات انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں میرا غلام مجھ سے بچھڑ گیا تھا ۔ پھر جب میں نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو اسلام پر قائم رہنے کےلیے میں نے آپﷺسے بیعت کرلی ۔ میں ابھی آپ ﷺکے پاس بیٹھا ہی ہوا تھا کہ وہ غلام دکھائی دیا ۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! یہ دیکھ تمہارا غلام بھی آگیا ۔ میں نے کہا: وہ اللہ کےلیے آزاد ہے ۔ پھر میں نے اسے آزاد کردیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو کریب نے ابو اسامہ سے یہ لفظ نہیں روایت کیا کہ وہ آزاد ہے۔


حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ وَمَعَهُ غُلاَمُهُ وَهْوَ يَطْلُبُ الإِسْلاَمَ، فَأَضَلَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ بِهَذَا، وَقَالَ أَمَا إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُ لِلَّهِ‏.‏

Narrated By Qais : When Abu Huraira accompanied by his slave came intending to embrace Islam, they lost each other on the way. (When the slave showed up) Abu Huraira said (to the Prophet), "I make you witness that the slave is free for Allah's Cause."

قیس نے بیان کیا جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آرہے تھے تو ان کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا ،آپ اسلام کے ارادے سے آرہے تھے ۔ اچانک راستے میں وہ غلام بھٹک گیا(پھر یہی حدیث بیان کی) اس میں یوں ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ میں آپﷺکو گواہ بناتا ہوں کہ وہ اللہ کےلیے ہے۔

Chapter No: 8

باب أُمِّ الْوَلَدِ ،

Umm Al-Walad (a slave woman who begets a child for her master).

باب : ام ولد کا بیان ،

قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّهَا ‏"‏‏

Narrated Abu Hurairah (r.a), the Prophet (s.a.w) said, "One of the portents of the approaching of the Hour is that the slave woman will beget her own master."

ابوہریرہؓ نے نبیﷺ سے روایت کی ہے قیامت کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ لونڈی اپنے مالک کو جنے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنَّ عُتْبَةَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ يَقْبِضَ إِلَيْهِ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، قَالَ عُتْبَةُ إِنَّهُ ابْنِي‏.‏ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْفَتْحِ أَخَذَ سَعْدٌ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ‏.‏ فَأَقْبَلَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَقْبَلَ مَعَهُ بِعَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ‏.‏ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنُ أَخِي عَهِدَ إِلَىَّ أَنَّهُ ابْنُهُ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَخِي ابْنُ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ‏.‏ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ابْنِ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَإِذَا هُوَ أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ‏"‏‏.‏ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِيهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ ‏"‏‏.‏ مِمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ‏.‏ وَكَانَتْ سَوْدَةُ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By 'Aisha : Utba bin Abi Waqqas authorized his brother Sad bin Abi Waqqas to take the son of the slave-girl of Zam'a into his custody, telling him that the boy was his own (illegal) son. When Allah's Apostle went (to Mecca) at the time of the Conquest, Sad took the son of the slave-girl of Zam'a to Allah's Apostle and also brought 'Abu bin Zam'a with him and said, "O Allah's Apostle! This is the son of my brother 'Utba who authorized me to take him into my custody." 'Abu bin Zam'a said, "O Allah's Apostle! He is my brother, the son of Zam'a' slave-girl and he was born on his bed." Allah's Apostle looked at the son of the slave-girl of Zam'a and noticed much resemblance (to 'Utba). Allah's Apostle said, "It is for you, O 'Abu bin Zam'a as he was born on the bed of your father." Allah's Apostle then told Sauda bint Zam'a to observe veil in the presence of the boy as he noticed the boy's resemblance to 'Utba and Sauda was the wife of the Prophet.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی کہ زمعہ کی باندی کے بچے کو اپنے قبضہ میں لے لیں۔ اس نے کہا تھا کہ وہ لڑکا میرا ہے ۔ پھر جب فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہﷺ(مکہ) تشریف لائے تو سعد رضی اللہ عنہ نے زمعہ کی باندی کے لڑکے کو لے لیا اور رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے ، عبد بن زمعہ بھی ساتھ تھے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے ۔ انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ انہیں کا لڑکا ہے۔لیکن عبد بن زمعہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! یہ میرا بھائی ہے ۔ جو زمعہ (میرے والد) کی باندی کا لڑکا ہے انہیں کے فراش پر پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہﷺنے زمعہ کی باندی کے لڑکے کو دیکھا تو واقعی وہ عتبہ کی صورت پر تھا لیکن آپﷺنے فرمایا: اے عبد بن زمعہ ! یہ تو تمہاری پرورش میں رہے گا کیونکہ بچہ تمہارے والد ہی کے فراش میں پیدا ہوا ہے ۔ آپﷺنے ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ "اے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا! اس سے پردہ کیا کرو"یہ ہدایت آپﷺنے اس لیے کی تھی کہ بچے میں عتبہ کی مشابہت دیکھ لی تھی۔ اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا آپﷺکی زوجہ محترمہ تھیں۔

Chapter No: 9

باب بَيْعِ الْمُدَبَّرِ

The selling of a Mudabbar (a slave who is declared by his master to be freed after his master's death).

باب : مدبر کی بیع کا بیان

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَّا عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِهِ فَبَاعَهُ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ مَاتَ الْغُلاَمُ عَامَ أَوَّلَ‏.‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : A man amongst us declared that his slave would be freed after his death. The Prophet called for that slave and sold him. The slave died the same year.

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کی آزادی کےلیے کہا تھا ۔ پھر نبیﷺنے اس غلام کو بلایا اور اسے بیچ دیا۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر وہ غلام اپنی آزادی کے پہلے ہی سال مرگیا تھا۔

Chapter No: 10

باب بَيْعِ الْوَلاَءِ وَهِبَتِهِ

The selling and conferring on others of the Wala of a manumitted slave.

باب: ولاء (غلام لونڈی کا ترکہ ) بیچنا یا ہبہ کرنا ۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْوَلاَءِ، وَعَنْ هِبَتِهِ‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle forbade the selling or donating the Wala' of a freed slave.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے ولاء کے بیچنے اور ا س کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا تھا۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاَءَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ ‏"‏‏.‏ فَأَعْتَقْتُهَا، فَدَعَاهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا فَقَالَتْ لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا ثَبَتُّ عِنْدَهُ‏.‏ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا‏.‏

Narrated By 'Aisha : I bought Buraira but her masters put the condition that her Wala' would be for them. I told the Prophet about it. He said (to me), "Manumit her as her Wala' will be for the one who pays the price." So, I manumitted her. The Prophet called Buraira and gave her the option of either staying with her husband or leaving him. She said, "Even if he gave me so much money, I would not stay with him," and so she preferred her freedom to her husband.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو میں نے خریدا تو ان کے مالکوں نے ولاء کی شرط لگائی (کہ آزادی کے بعد وہ انہیں کے حق میں قائم رہے گی) میں نے رسول اللہﷺسے اس کا ذکر کیا توآپﷺنے فرمایا: تم انہیں آزاد کردو، ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو قیمت دے کر کسی غلام کو آزاد کردے۔ پھر میں نے انہیں آزاد کردیا۔ پھر نبیﷺنے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان کے شوہر کے سلسلے میں انہیں اختیار دیا ۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر وہ مجھے فلاں فلاں چیز بھی دیں تب بھی میں اس کے پاس نہیں رہوں گی۔ چنانچہ وہ اپنے شوہر سے جدا ہوگئیں۔

12