Sayings of the Messenger

 

وَ قَولِ اللهِ تَعَالى: فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ. الاية (البقرة:١٩٦) وَ قَالَ عَطَاءٌ : الاحْصَارُ مِنْ كُلِّ شَيءٍ بِحَسبِهِ قَالَ اَبُو عَبْدِ اللهِ : حَصُورًا (ال عمران: ٣٩): لا يأتي النِّسَاء

And the Statement of Allah, "… But if you are prevented (from completing them), sacrifice an animal such as you can afford, and do not shave your heads the until the sacrificed animal reaches the place of sacrifice …" (V.2:196)

اور اللہ تعالیٰ نے (سورت بقرہ میں ) فرمایا پھر اگر تم روکے جاؤ تو قربانی ہو سکے وہ بھیجو اور اپنا سر اس وقت تک نہ منڈاؤ حرام نہ کھولو جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ لگے اور عطاء بن ابی رباح نے کہا جو چیز روکے اس کا یہی حکم ہے امام بخاری نے کہا حصوراً کے معنی ہیں کہ عورتوں کی طرف اس کا خیال نہ ہوگا۔

 

Chapter No: 1

باب إِذَا أُحْصِرَ الْمُعْتَمِرُ

If one, intending to perform Umrah is prevented from performing it.

باب: عمرہ کرنے والا اگر روکا جائے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ قَالَ إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ‏

Narrated By Nafi : When Abdullah bin Umar set out for Mecca intending to perform Umra, at the time of afflictions, he said, "If I should be prevented from reaching the Kaba, then I would do the same as Allah's Apostle did, so I assume the Ihram for Umra as Allah's Apostle assumed the Ihram for Umra in the year of Hudaibiya."

نافع سے روایت ہے انہوں نے کہا: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب فتنہ کے وقت (حجاج کے زمانے میں) مکہ کو عمرہ کرنےکے لئے چلے تو کہنے لگے: اگر میں کعبہ میں جانے سے روکا گیا تو ویسا ہی کروں گا جیسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ہم لوگوں نے کیا تھا تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا اس خیال سے کہ رسول اللہﷺ نے بھی جس سال حدیبیہ میں روکے گئے عمرے کا احرام باندھا تھا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ لَيَالِيَ نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالاَ لاَ يَضُرُّكَ أَنْ لاَ تَحُجَّ الْعَامَ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ‏.‏ فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْعُمْرَةَ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ‏.‏ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي ‏"‏‏.‏ فَلَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى حَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَهْدَى، وَكَانَ يَقُولُ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ طَوَافًا وَاحِدًا يَوْمَ يَدْخُلُ مَكَّةَ‏

Narrated By Nafi : That Ubaidullah bin 'Abdullah and Salim bin 'Abdullah informed him that they told Ibn 'Umar when Ibn Az-Zubair was attacked by the army, saying "There is no harm for you if you did not perform Hajj this year. We are afraid that you may be prevented from reaching the Kaba." Ibn 'Umar said "We set out with Allah's Apostle and the non-believers of Quraish prevented us from reaching the Ka'ba, and so the Prophet slaughtered his Hadi and got his head shaved." Ibn 'Umar added, "I make you witnesses that I have made 'Umra obligatory for me. And, Allah willing, I will go and then if the way to Ka'ba is clear, I will perform the Tawaf, but if I am prevented from going to the Ka'ba then I will do the same as the Prophet did while I was in his company." Ibn 'Umar then assumed Ihram for Umra from Dhul-Hulaifa and proceeded for a while and said, "The conditions of 'Umra and Hajj are similar and I make you witnesses that I have made 'Umra and Hajj obligatory for myself." So, he did not finish the Ihram till the day of Nahr (slaughtering) came, and he slaughtered his Hadi. He used to say, "I will not finish the Ihram till I perform the Tawaf, one Tawaf on the day of entering Mecca (i.e. of Safa and Marwa for both 'Umra and Hajj)."

عبید اللہ بن عبد اللہ اور سالم بن عبد اللہ نے بیان کیا ان دونوں نے اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس زمانے میں گفتگو کی جب حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر حجاج کا لشکر آیا کہ اگر آپ اس سال حج نہ کریں تو کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ ہم ڈرتے ہیں کہیں آپ کو کعبہ سے روک نہ دیا جائے۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ (مدینہ سے ) مکہ کی طرف روانہ ہوئے قریش کے کافروں نے آپﷺ کو بیت اللہ میں جانے سے روکا آخر آپﷺ نے اپنی قربانی کا نحر کیا اور سر منڈایا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو گواہ بناتا ہوں میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کرلیا اگر اللہ کو منظور ہے تو میں جاتا ہوں پھر اگر کسی نے کعبہ سے مجھے نہ روکا تب تو میں طواف کرلوں گا ورنہ اگر روکا گیا تو جیسے نبیﷺنے کیا میں آپﷺ کے ساتھ تھا ویسا ہی میں بھی کروں گا، آخر انہوں نے ذو الحلیفہ سے عمرے کا احرام باندھا تھوڑی دیر چلے پھر کہنے لگے حج اور عمرہ دونوں یکساں ہیں تم گواہ رہنا میں نے عمرے کے ساتھ حج کو بھی اپنے اوپر واجب کرلیا پھر ان کا احرام دسویں تاریخ ہی کھلا وہ قربانی لے گئے تھے وہ کہتے تھے (پورا) احرام اسوقت کھلتا ہے جب مکہ میں جاکر ایک طواف (یعنی) طواف الزیارۃ کرے۔


حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَهُ لَوْ أَقَمْتَ‏بِهَذَا‏

Narrated By Nafi : Some of the sons of 'Abdullah told him (i.e. 'Abdullah) if he had stayed (and not performed Hajj that year).

نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹوں نے ان سے کہا: اس سال تم ٹھہرجاؤ (تو اچھا ہے)


حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلاَّمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَحَلَقَ رَأْسَهُ وَجَامَعَ نِسَاءَهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلاً‏

Narrated By Ibn 'Abbas : Allah's Apostle was prevented from performing ('Umra) Therefore, he shaved his head and had sexual relations with his wives and slaughtered his Hadi and performed Umra in the following year.

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہﷺ (حدیبیہ کے سال مکہ میں جانے سے) روکے گئے آپﷺ نے (حدیبیہ میں) اپنا سر منڈایا اور اپنی عورتوں سے صحبت کی اورقربانی کو نحر کیا پھر آئندہ سال (دوسرا) عمرہ کیا۔

Chapter No: 2

باب الإِحْصَارِ فِي الْحَجِّ

One who is prevented from performing the Hajj.

باب: حج سے روکے جانے کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ، حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلاً، فَيُهْدِي أَوْ يَصُومُ، إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا‏.‏ وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَهُ‏

Narrated By Salim : (Abdullah) bin 'Umar used to say, "Is not (the following of) the tradition of Allah's Apostle sufficient for you? If anyone of you is prevented from performing Hajj, he should perform the Tawaf of the Ka'ba and between As-Safa and Al-Marwa and then finish the Ihram and everything will become legal for him which was illegal for him (during the state of Ihram) and he can perform Hajj in a following year and he should slaughter a Hadi or fast in case he cannot afford the Hadi."

سالم نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے اگر تم میں کوئی حج سے روکا جائے تو کیا اس کو رسول اللہﷺ کی سنت کافی نہیں ہے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کریں پھر ہر چیز سے حلال ہوجائے، پھر دوسرے سال حج کرے اور قربانی دے اگرقربانی کی طاقت نہ ہو تو روزے رکھے۔

Chapter No: 3

باب النَّحْرِ قَبْلَ الْحَلْقِ فِي الْحَصْرِ

The slaughtering before shaving the head (in case) one is prevented from performing (Hajj or Umrah).

باب: جب آدمی روکا جائے تو پہلے قربانی دے پھر سر منڈائے۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ‏

Narrated By Al-Miswar : Allah's Apostle slaughtered (the Hadi) before he had his head shaved and then he ordered his Companions to do the same.

حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے سرمنڈانے سے قبل نحر کیا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا۔


حَدَّثَنَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ، شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ، قَالَ وَحَدَّثَ نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، وَسَالِمًا، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُعْتَمِرِينَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُدْنَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ‏

Narrated By Nafi : That Abdullah and Salim said to 'Abdullah bin 'Umar, "(You should not go for Hajj this year)." 'Abdullah bin 'Umar replied, "We set out with the Prophet (to Mecca for performing 'Umra) and e infidels of Quraish prevented us from reaching the Ka'ba. Allah's Apostle slaughtered his Budn (camels for sacrifice) and got his head shaved."

حضرت عبد اللہ اور سالم دونوں نے اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بات کی ( کہ اس سال حج پر مت جاؤ) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نبیﷺکے ساتھ عمرہ کی نیت سے نکلے قریش کے کافروں نے ہمیں بیت اللہ میں جانے سے روک دیا آخر رسول اللہﷺ نے اپنے اونٹوں کو نحر کر ڈالا اور سر منڈایا۔

Chapter No: 4

باب مَنْ قَالَ لَيْسَ عَلَى الْمُحْصَرِ بَدَلٌ ،

Whoever said that the Muhsar is not supposed to perform Umrah or Hajj in lieu of the prevented one

باب: اس شخص کی دلیل جو کہتا ہے روکے گئے شخص پر قضا لازم نہیں۔

وَقَالَ رَوْحٌ عَنْ شِبْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ إِنَّمَا الْبَدَلُ عَلَى مَنْ نَقَضَ حَجَّهُ بِالتَّلَذُّذِ، فَأَمَّا مَنْ حَبَسَهُ عُذْرٌ، أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ فَإِنَّهُ يَحِلُّ وَلاَ يَرْجِعُ، وَإِنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ وَهُوَ مُحْصَرٌ نَحَرَهُ، إِنْ كَانَ لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَبْعَثَ بِهِ، وَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَبْعَثَ بِهِ لَمْ يَحِلَّ، حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ‏.‏ وَقَالَ مَالِكٌ وَغَيْرُهُ يَنْحَرُ هَدْيَهُ، وَيَحْلِقُ فِي أَىِّ مَوْضِعٍ كَانَ، وَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ، لأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ نَحَرُوا وَحَلَقُوا وَحَلُّوا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ، قَبْلَ الطَّوَافِ، وَقَبْلَ أَنْ يَصِلَ الْهَدْىُ إِلَى الْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يُذْكَرْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ أَحَدًا أَنْ يَقْضُوا شَيْئًا، وَلاَ يَعُودُوا لَهُ، وَالْحُدَيْبِيَةُ خَارِجٌ مِنَ الْحَرَمِ‏

Ibn Abbas said, "The performing of Hajj is only obligatory in lieu of that Hajj which is abandoned because of personal pleasure (having sexual intercourse with his wife) and not for that which is abandoned because some genuine excuse or similar thing, then he should finish his Ihram and there is no need for him to make up for it. And if he has an animal for sacrifice with him and is prevented from performing Hajj, and he is unable to send it to its place of slaughtering, then he should slaughter it. But if he can send it, then he should not finish his Ihram till the animal has reached its place." Malik and others said, "He should slaughter the animal and have his head shaved wherever he is and does not have to make up for it, because the Prophet (s.a.w) and his Companions slaughtered the sacrifice and had their heads shaved in Hudaibiya and finished their Ihram before performing the Tawaf and before tha sacrifice reached Kabah. It is not mentioned that the Prophet (s.a.w) ordered anybody to make up for any of the missed ceremonies or to repeat anything. And Hudaibiya is outside the boundaries of the sanctuary of Makkah."

اور روح ابن عبادہ نے شبل بن عباد سے انہوں نے عبداللہ بن ابی نجیح سے انہوں نے مجاہد سے انہوں نے ابن عباسؓ سے روایت کی انہوں نے کہا قضا اس پر لازم ہے جو عورت سے صحبت کر کے اپنا حج توڑے لیکن جس کو کوئی عذر ہو جائے دشمن روکے یا اور کچھ (بیماری)تو احرام کھول ڈالے اور قضا نہ کرے اور اگر اس کے ساتھ قربانی ہو اور اس کو حرم میں نہ بھیج سکے تو وہیں نحر کر دیں اور اگر حرم بھیج سکتا ہے تو قربانی وہاں نہ پہنچ لے اس کا احرام نہیں کھل سکتا اور امام مالکؒ وغیرہ نے کہاجب وہ رک جائے تو جہاں کہیں چاہے وہیں قربانی نحر کر دیں اور سر منڈا ڈالیں اور اس پر قضا لازم نہیں کیونکہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب نے حدیبیہ میں نحر کیا اور وہیں سر منڈایا اس سے پہلے کہ وہ طواف کریں اور قربانی بیت اللہ پہنچے پھر کسی روایت میں اس کا ذکر نہیں کہ نبی ﷺ نے ان میں کسی کو قضا کا حکم دیا ہو یا دہرانے کا اور حدیبیہ حرم کی حد سے باہر تھی۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، مِنْ أَجْلِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ نَظَرَ فِي أَمْرِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ‏.‏ فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، وَرَأَى أَنَّ ذَلِكَ مُجْزِيًا عَنْهُ، وَأَهْدَى‏

Narrated By Nafi : When Abdullah bin 'Umar set out for Mecca with the intentions performing 'Umra in the period of afflictions, he said, "If I should be prevented from reaching the Ka'ba, then I would do the same as we did while in the company of Allah's Apostle." So, he assumed the Ihram for 'Umra since the Prophet had assumed the Ihram for 'Umra in the year of Al-Hudaibiya. Then 'Abdullah bin 'Umar thought about it and said, "The conditions for both Hajj and 'Umra are similar." He then turned towards his companions and said, "The conditions of both Hajj and 'Umra are similar and I make you witnesses that I have made the performance of Hajj obligatory for myself along with 'Umra." He then performed one Tawaf (between As-Safa and Al-Marwa) for both of them (i.e. Hajj and ('Umra) and considered that to be sufficient for him and offered a Hadi.

نافع سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فتنہ کے وقت ( حجاج کے زمانے میں) عمرہ کی نیت سے مکہ روانگی پر کہا تھا: اگر کہیں میں بیت اللہ جانے سے روکا گیا تو ہم ایسا ہی کریں گے جیسے ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ کیا تھا۔ پہلے انہوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا اس خیال سے کہ نبیﷺ نے بھی حدیبیہ کے سال صرف عمرے کا احرام باندھا تھا۔ پھر انہوں نے سوچا اور کہنے لگے عمرہ اور حج دونوں یکساں ہیں اور اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر کہا عمرہ اور حج دونوں یکساں ہیں تم گواہ رہنا میں نے عمرے کے ساتھ حج کو بھی اپنے اوپر واجب کرلیا پھر دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا اور اس کو کافی سمجھا اور قربانی بھی ساتھ لے گئے تھے۔

Chapter No: 5

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى

The Statement of Allah, "… And whoever of you is ill or has an ailment in his scalp, (necessitating shaving), he must pay a fidya (ransom), of either observing, sawm (fasts) (three days), or giving, sadaqa (charity-feeding six poor persons), or offer sacrifice (one sheep) …" (V.2:196)

باب: اللہ تعالیٰ نے (سورت بقرہ میں) فرمایا :جو کوئی تم میں سے بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو وہ فدیہ دے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی دے روزے تین دن تک رکھنا چاہییں۔

‏{‏فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ‏}وَهُوَ مُخَيَّرٌ، فَأَمَّا الصَّوْمُ فَثَلاَثَةُ أَيَّامٍ‏

He has the option. As for fasting, it should be for three days.

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ لَعَلَّكَ آذَاكَ هَوَامُّكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdur-Rahman bin Abu Layla : Ka'b bin 'Ujra said that Allah's Apostle said to him (Ka'b), "Perhaps your lice have troubled you?" Ka'b replied, "Yes! O Allah's Apostle." Allah's Apostle said, "Have your head shaved and then either fast three days or feed six poor persons or slaughter one sheep as a sacrifice."

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے کعب سے فرمایا: شاید جوؤں نے تجھ کو تکلیف دے رکھی ہے انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہﷺ! آپﷺ نے فرمایا: اپنے سر کو منڈا دے اور تین دن روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک بکری کی قربانی کردے۔

Chapter No: 6

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏أَوْ صَدَقَةٍ‏}‏

The Statement of Allah, "… Or giving sadaqa ..." (V.2:196)

باب: اس آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے صدقے کا حکم دیا :

وَهْىَ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ

Here sadaqa is in the form of feeding six poor persons.

اس سے مراد چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ، قَالَ حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ وَقَفَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَرَأْسِي يَتَهَافَتُ قَمْلاً فَقَالَ ‏"‏ يُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاحْلِقْ رَأْسَكَ ـ أَوْ قَالَ ـ احْلِقْ ‏"‏‏.‏ قَالَ فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ‏}‏ إِلَى آخِرِهَا‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوِ انْسُكْ مِمَّا تَيَسَّرَ ‏"‏‏

Narrated By Ka'b bin 'Ujra : Allah's Apostle stood beside me at Al-Hudaibiya and the lice were falling from my head in great number. He asked me, "Have your lice troubled you?" I replied in the affirmative. He ordered me to get my head shaved. Ka'b added, "This Holy Verse: 'And if any of you is ill, or has ailment in his scalp (2.196), etc. was revealed regarding me. "The Prophet then ordered me either to fast three days, or to feed six poor persons with one Faraq (three Sas) (of dates), or to slaughter a sheep, etc (sacrifice) whatever was available.

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ حدیبیہ میں میرے پاس ٹھہرے میرے سر سے ٹپ ٹپ جوئیں گر رہی تھیں آپﷺ نے فرمایا جوؤں نے تجھ کو تکلیف دے رکھی ہے میں نے کہا: جی ہاں،آپﷺنے فرمایا: بال منڈا لو۔ کعب نے کہا: میرے بارے میں ہی یہ آیت اتری (فمن کان منکم مریضاً او بہ اذی من راسہ آخر تک پھر نبی ﷺنے فرمایا: تین روزے رکھو یا ایک فرق(تین صاع) اناج چھ فقیروں کو بانٹ دو یا جو میسر ہو قربانی کرو۔

Chapter No: 7

باب الإِطْعَامُ فِي الْفِدْيَةِ نِصْفُ صَاعٍ

The fidya (compensation for a missed or wrongly practised religious ceremony) in the form of feeding (six persons) each with one-half a Sa' (of food).

باب: فدیہ میں ہر فقیر آدھا صاع دے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبِهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ جَلَسْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْفِدْيَةِ، فَقَالَ نَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً، وَهْىَ لَكُمْ عَامَّةً، حُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي فَقَالَ ‏"‏ مَا كُنْتُ أُرَى الْوَجَعَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى أَوْ مَا كُنْتُ أُرَى الْجَهْدَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى، تَجِدُ شَاةً ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ لاَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفَ صَاعٍ ‏"

Narrated By 'Abdullah bin Ma'qal : I sat with Ka'b bin 'Ujra and asked him about the Fidya. He replied, "This revelation was revealed concerning my case especially, but it is also for you in general. I was carried to Allah's Apostle and the lice were falling in great number on my face. The Prophet said, "I have never thought that your ailment (or struggle) has reached to such an extent as I see. Can you afford a sheep?" I replied in the negative. He then said, "Fast for three days, or feed six poor persons each with half a Sa of food." (1 Sa = 3 Kilograms approx.)

حضرت عبد اللہ بن معقل سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں کعب بن عجرہ کے پاس بیٹھا میں نے ان سے فدیہ کے حوالے سے پوچھا تھا، تو انہوں نے کہا: یہ آیت خاص میرے بارے میں نازل ہوئی مگر اس کا حکم تم سب کےلیے عام ہے۔ ہوا یہ ہے کہ مجھے رسول اللہﷺ کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور جوؤں کا یہ حال تھا کہ میرے منہ پر گررہی تھیں آپﷺ نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ تجھے ایسی بیماری ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں یا تیری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں۔ ایک بکری کی طاقت رکھتے ہو، میں نے عرض کیا: جی نہیں، آپﷺ نے فرمایا: تو پھر تین دن کے روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ، ہر مسکین کےلیے نصف صاع۔

Chapter No: 8

باب النُّسُكُ شَاةٌ

The Nusuk (offering) is one sheep.

باب: نسک سے مراد (قرآن میں) بکری ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَآهُ وَأَنَّهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ ‏"‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَلَمْ يَتَبَيَّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوْ يُهْدِيَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ‏

Narrated By Abdur-Rahman bin Abu Layla : (Reporting the speech of Ka'b bin Umra) Allah's Apostle saw him (i.e. Ka'b) while the lice were falling on his face. He asked (him), "Have your lice troubled you?" He replied in the affirmative. So, he ordered him to get his head shaved while he was at Al-Hudaibiya. At that time they were not permitted to finish their Ihram, and were still hoping to enter Mecca. So, Allah revealed the verses of Al-Fidya. Allah's Apostle ordered him to feed six poor persons with one Faraq of food or to slaughter one sheep (as a sacrifice) or to fast for three days.

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ جوئیں ان کے منہ پر گر رہی تھیں تو آپﷺنے فرمایا:"کیا ان جؤوں کی وجہ سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔آپﷺنے ان کو سر منڈانے کا حکم دیا ، اس وقت آپﷺ حدیبیہ کے مقام میں تھے، لوگوں کو ابھی یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ حدیبیہ میں رہ جائیں گے ان کو مکہ جانے کی امید تھی تب اللہ تعالیٰ نے فدیہ کی آیت اتاری رسول اللہ ﷺ نے کعب کو یہ حکم دیا کہ ایک (فرق )( تین صاع) کھانا چھ فقیروں کو دیدے، یا ایک بکری کو قربانی کرے یا تین دن روزے رکھے۔


وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَآهُ، وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ‏.‏ مِثْلَهُ‏

Narrated Ka'b bin Ujra(R.A.): Allah's Messenger(s.a.w.) saw him while the lice were falling on his face.

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کو دیکھا اس حال میں کہ ان کے منہ پر جوئیں گر رہی تھیں پھر یہی حدیث بیان کی۔

Chapter No: 9

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى

The Statement of Allah, "... Then he should not have sexual relations (with his wife) ..." (V.2:197)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورت بقرہ میں یہ) فرمانا

‏{‏فَلاَ رَفَثَ‏}‏

حج میں شہوت کی باتیں نہیں کرنا چاہیئے ۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Whoever performs Hajj to this House (Ka'ba) and does not approach his wife for sexual relations nor commits sins (while performing Hajj), he will come out as sinless as a newly-born child. (Just delivered by his mother)."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے بیت اللہ کا حج کیا ، پھر شہوت کی بات منہ نہ نکالی اور نہ کوئی گناہ کا کام کیا تو ایسے پاک صاف ہوکر لوٹے گا جیسا اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔

Chapter No: 10

باب قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

The Statement of Allah, "... nor commit sin nor dispute unjustly during Hajj ..." (V.2:197)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ بقرہ میں) فرمانا

‏{‏وَلاَ فُسُوقَ وَلاَ جِدَالَ فِي الْحَجِّ‏}‏

حج میں گناہ اور جھگڑا نہ کرنا چاہیئے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Whoever performs Hajj to this Ka'ba and does not approach his wife for sexual relations nor commit sins (while performing Hajj), he will come out as sinless as a new-born child, (just delivered by his mother)."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جو شخص اس گھر (خانہ کعبہ) کا حج کرے اور شہوت کی فحش باتیں نہ کرے اور نہ گناہ کرے وہ ایسے پاک ہوکر لوٹے گا جیسے پیدائش کے دن تھا۔