Sayings of the Messenger

 

123Last ›

في المظالم والغصْبِ

Concerning oppressions and acquiring unlawful through violence.

باب: مظالم اور غبن کے بیان میں

قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الأبْصَارُ() مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ رَافعي رُءُوسِهِمْ المُقْنِعِ وَالْمُقْمِحُ وَاحِدٌ وَقَالَ مُجَاهدٌ: (مُهْطِعِينَ )مُديمى النظر. وَقَالَ غيره: مُسْرِعِينَ.(لا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ )يعنى جُوفاً لا عُقُولَ لَهُمْ ( وَأَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ نُجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِنْ زَوَالٍ () وَسَكَنْتُمْ فِي مَسَاكِنِ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الأمْثَالَ () وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ () فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ.الاية (ابراهيم: ٤٢-٤٧)

And the Statement of Allah, "... Consider not that Allah is unaware of that which the Zalimun wrong-doers do, but He gives them respite upto a Day when the eyes will stare in horror. (They will be) hastening forward with necks outstretched, their heads raised up, their gaze returning not towards them and their hearts empty (from thinking because of extreme fear). And warn mankind of the day when the torment will come unto them then the wrong-doers will say: 'Our Lord! Respite us for a little while, we will answer your call and follow the messengers!' (It will be said): 'Had you not sworn aforetime that you would not leave (the world for the Hereafter). And you dwelt in dwellings of men who wronged themselves, and it was clear to you how we had we dealt with them. And we put forth parables for you.' Indeed, they planned their plot, and their plot was with Allah, though their plot was not such as to remove the mountains from their places. So think not that Allah will fail to keep his promise to His Messengers. Certainly Allah is All-Mighty, All-Able of retribution." (V.14:42-47)

اور اللہ تعالٰی نے سورت ابراہیم میں فرمایا اور ظالموں کے اعمال سے اللہ تعالٰی کو غافل نہ سمجھنا اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جس دن ان کی آنکھیں پتھرا جائیں گی سر اوپر کو اٹھا کر بھاگے جا رہے ہونگےمقنع اور مقمح کے معنے ایک ہیں اور مجاہد نے کہا مہطعین کا معنی برابر نظر ڈالنے والے اور بعضوں نے کہا مہطعین کا معنی جلدی بھاگنے والے ان کی نگاہ ان کے خود کی طرف نہ لوٹے گی اور دلوں کے چھکے چھوٹ جائیں گے یعنے عقل سے خالی ہو جائیں گے اور اے پیغمبر ان لوگوں کو اس دن سے ڈراجب عذاب اترے گا اس وقت نافرمان لوگ کہیں گے پروردگار ہم کو تھوڑی مہلت اور دے تو اب کی بار ہم تیرا حکم سن لیں گے اور پیغمبروں کی تابعداری کریں گے کیا تم نے پہلے یہ قسم نہیں کھائی تھی کہ ہم کو کبھی زوال نہیں ہونے کا اور تم نافرمانوں کے گھروں میں جا بسے اور تم کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا اور ہم نے تم سے (اگلے بہت) قصّے بیان کر دیے تھے اور یہ کافر بڑے بڑے مکر کر رہے ہیں اور اللہ کے پاس ان کا مکر لکھا ہوا ہے (اسکے سامنے کچھ نہیں چلنے کی) گو ان کے مکر سے پہاڑ سرک جائیں گے تو اے پیغمبر یہ مت سمجھ کہ اللہ اپنا وعدہ خلاف کرے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے کیا ہے بیشک اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا۔

 

Chapter No: 1

باب قِصَاصِ الْمَظَالِمِ

Retaliation (on the Day of Judgement) in cases of oppressions.

باب :ظلم کا بدلہ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيَتَقَاصُّونَ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى إِذَا نُقُّوا وَهُذِّبُوا أُذِنَ لَهُمْ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ لأَحَدُهُمْ بِمَسْكَنِهِ فِي الْجَنَّةِ أَدَلُّ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ‏.‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle said, "When the believers pass safely over (the bridge across) Hell, they will be stopped at a bridge in between Hell and Paradise where they will retaliate upon each other for the injustices done among them in the world, and when they get purified of all their sins, they will be admitted into Paradise. By Him in Whose Hands the life of Muhammad is everybody will recognize his dwelling in Paradise better than he recognizes his dwelling in this world."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب مومنوں کو دوزخ سے نجات مل جائے گی تو انہیں ایک پل پر جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگا روک لیا جائے گا، اور وہیں ان کے مظالم کا بدلہ دے دیا جائے گا ، جو وہ دنیا میں باہم کرتے تھے ۔پھر جب پاک صاف ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت دی جائے گی۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد ﷺکی جان ہے ان میں سے ہر آدمی اپنے جنت کے گھر کو اپنے دنیا کے گھر سے بھی زیادہ بہتر طور پر پہچانے گا۔

Chapter No: 2

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ‏{‏أَلاَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ‏}‏

The Statement of Allah, "... No doubt! The curse of Allah is on the oppressors and the wrong-doers (V.11:18)

باب : اللہ تعالٰی کا (سورت ھود میں) یہ فرمانا سن لو ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي، مَعَ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ آخِذٌ بِيَدِهِ إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ، فَقَالَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّجْوَى فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، وَيَسْتُرُهُ فَيَقُولُ أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا فَيَقُولُ نَعَمْ أَىْ رَبِّ‏.‏ حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ هَلَكَ قَالَ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ‏.‏ فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيَقُولُ الأَشْهَادُ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، أَلاَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Safwan bin Muhriz Almazini : While I was walking with Ibn 'Umar holding his hand, a man came in front of us and asked, "What have you heard from Allah's Apostle about An-Najwa?" Ibn 'Umar said, "I heard Allah's Apostle saying, 'Allah will bring a believer near Him and shelter him with His Screen and ask him: Did you commit such-and-such sins? He will say: Yes, my Lord. Allah will keep on asking him till he will confess all his sins and will think that he is ruined. Allah will say: 'I did screen your sins in the world and I forgive them for you today', and then he will be given the book of his good deeds. Regarding infidels and hypocrites (their evil acts will be exposed publicly) and the witnesses will say: These are the people who lied against their Lord. Behold! The Curse of Allah is upon the wrongdoers." (11.18)

حضرت صفوان بن محرز مازنی سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہاتھ دئیے جارہا تھا کہ اچانک ایک شخص سامنے آیا اور پوچھا : آپ نے رسول اللہﷺسے(قیامت میں اللہ اور بندے کے درمیان ہونے والی) سرگوشی کے بارے میں کیا سنا ہے؟حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپﷺفرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے نزدیک بلالے گا اور اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپالے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا تجھے فلاں گناہ یاد ہے ؟ کیا فلاں گناہ تجھ کو یا د ہے ؟ وہ مومن کہے گا ہاں ، اے میرے رب ۔آخر جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرلے گا اور اسے یقین آجائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالا ، اور آج بھی میں تیری مغفرت کرتا ہوں ۔ چنانچہ اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی ۔ لیکن کافر اور منافق کے متعلق ان پر گواہ (ملائکہ ، انبیاء ، اور تمام جن و انس ) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا۔ خبردار ہوجاؤ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہوگی۔

Chapter No: 3

باب لاَ يَظْلِمُ الْمُسْلِمُ الْمُسْلِمَ وَلاَ يُسْلِمُهُ

A Muslim should not oppress another Muslim, nor should he hand him over to an oppressor.

باب : مسلمان مسلمان پر ظلم نہ کرے نہ کسی ظالم کو اس پر ظلم کرنے دے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin Umar : Allah's Apostle said, "A Muslim is a brother of another Muslim, so he should not oppress him, nor should he hand him over to an oppressor. Whoever fulfilled the needs of his brother, Allah will fulfil his needs; whoever brought his (Muslim) brother out of a discomfort, Allah will bring him out of the discomforts of the Day of Resurrection, and whoever screened a Muslim, Allah will screen him on the Day of Resurrection."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، پس اس پر ظلم نہ کرے اور نہ ظلم ہونے دے۔ جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے ، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔

Chapter No: 4

باب أَعِنْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا

Help your brother whether he is an oppressor or he is an oppressed one.

باب : ہر حال میں مسلمان بھائی کی مدد کرنا ظالم ہو یا مظلوم۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle said, "Help your brother, whether he is an oppressor or he is an oppressed one."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا، فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ ‏"‏ تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Anas : Allah's Apostle said, "Help your brother, whether he is an oppressor or he is an oppressed one. People asked, "O Allah's Apostle! It is all right to help him if he is oppressed, but how should we help him if he is an oppressor?" The Prophet said, "By preventing him from oppressing others."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ!ہم مظلوم کی تو مدد کرسکتےہیں ، لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپﷺنے فرمایا: ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑلو ۔(یہی اس کی مدد ہے)

Chapter No: 5

باب نَصْرِ الْمَظْلُومِ

To help the oppressed.

باب : مظلوم کی مدد کرنا واجب ہے۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدٍ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ‏.‏ فَذَكَرَ عِيَادَةَ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعَ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتَ الْعَاطِسِ، وَرَدَّ السَّلاَمِ، وَنَصْرَ الْمَظْلُومِ، وَإِجَابَةَ الدَّاعِي، وَإِبْرَارَ الْمُقْسِمِ‏.‏

Narrated By Al-Bara' bin 'Azib : "The Prophet orders us to do seven things and prohibited us from doing seven other things." Then Al-Bara' mentioned the following: 1. To pay a visit to the sick (inquiring about his health). 2. To follow funeral processions. 3. To say to a sneezer, "May Allah be merciful to you" (if he says, "Praise be to Allah!"). 4. To return greetings. 5. To help the oppressed. 6. To accept invitations. 7. To help others to fulfill their oaths.

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: نبیﷺنے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات ہی چیزوں سے منع فرمایا تھا۔(جن چیزوں کا حکم دیا تھا ان میں) انہوں نے مریض کی عیادت ، جنازے کے پیچھے چلنے ، چھینکنے والے کا جواب دینے ، سلام کا جواب دینے ،مظلوم کی مدد کرنے ، دعوت کرنے والے (کی دعوت) قبول کرنے ، اور قسم پوری کرنے کا ذکر کیا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ‏"‏‏.‏ وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ‏.‏

Narrated By Abu Musa : The Prophet said, "A believer to another believer is like a building whose different parts enforce each other." The Prophet then clasped his hands with the fingers interlaced (while saying that).

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: کہ نبی ﷺنے فرمایا: مومن دوسرے مومن کے ساتھ ایک عمات کے حکم میں ہے کہ ایک کو دوسرے سے قوت پہنچتی ہے ، اور آپﷺنے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے اندر کیا۔

Chapter No: 6

باب الاِنْتِصَارِ مِنَ الظَّالِمِ

To retaliate upon an oppressor.

باب : ظالم سے بدلہ لینا

لِقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏لاَ يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا‏}‏‏.‏ ‏{‏وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْىُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ‏}‏‏.‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يُسْتَذَلُّوا، فَإِذَا قَدَرُوا عَفَوْا‏

As is referred to in the Statement of Allah, "Allah does not like that the evil should be uttered in public except by him who has been wronged. And Allah is Ever All-Hearer, All-Knower." (V.4:148) "And those who, when an oppressive wrong is done to them, take revenge." (V.42:39) Ibrahim said, "They disliked to be humiliated, and when they were powerful, they would forgive."

کیونکہ اللہ تعالٰی نے (سورت نساء میں) فرمایا اللہ کھلم کھلا کہنا پسند نہیں کرتا مگر مظلوم ایسا کر سکتا اور اللہ سنتا جانتا ہے اور (سورت شوریٰ میں) فرمایا اور وہ لوگ کہ جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو واجبی بدلہ لیتے ہیں۔ ابراہیم نخعی نے کہا صحابہ ذلیل بننے کو برا جانتے تھے جب دشمن پر قدرت حاصل کر لیتے ہیں تو معاف کر دیتے تھے۔

 

Chapter No: 7

باب عَفْوِ الْمَظْلُومِ

Forgiveness granted by the oppressed person.

باب : ظالم کو معاف کر دینا

لِقَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏إِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا‏}‏ ‏{‏وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّالِمِينَ * وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ * إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ * وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الأُمُورِ‏}‏ ‏{‏وَتَرَى الظَّالِمِينَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ يَقُولُونَ هَلْ إِلَى مَرَدٍّ مِنْ سَبِيلٍ ‏}‏

As is referred to by the Statement of Allah, "Whether you disclose a good deed, or conceal it, or pardon an evil ... Verily, Allah is Ever Oft-Pardoning, All-Powerful." (V.4:149) "The recompense for an evil is an evil like thereof, but whoever forgives and makes reconciliation, his reward is with Allah. Verily, He likes not the oppressors and wrong-doers. And indeed whosoever takes revenge after he has suffered wrong, for such there is no way (of blame) against them. The way (of blame) is only against those who oppress men and wrongly rebel in the earth without justification. For such there will be a painful torment. And verily, whosoever show patience and forgives, that would truly be from the things recommended by Allah. And whomsoever Allah sends astray, for him there is no helper or guardian after Him (Allah). And you will see the wrong-doers and oppressors when they behold the torment, they will say: 'Is there any way of return (to the world)'." (V.42:40-44)

اللہ تعالٰی نے (سورت نساء میں) فرمایا اگر تم کھلم کھلا نیکی کرو یا چھپا کر یا برائی کو معاف کر دو تو اللہ بھی معاف کرنے والا قدرت والا ہے اور (سور حم عسق میں) فرمایا برائی کا بدلہ برائی ہے اسی جتنی پھر کوئی معاف کر دے اور بھلائی کرے اس کو اللہ ثواب دے گا بیشک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا اور جو کوئی اپنے پر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے تو اس پر کچھ گناہ نہیں گناہ ان پر ہے جو لوگوں پر زیادتی کرتے ہیں ملک میں ناحق ظلم توڑتے ہیں ایسے لوگوں کو دکھ کا عذاب ہو گا اور جو کوئی صبر کرے اور بخش دے تو یہ بڑا کام ہےاور اے پیغمبر تو ظالموں کو دیکھے گا جب وہ عذاب دیکھ لیں گے تو کہیں گے اب کوئی دنیا میں پھر جانے کی بھی صورت ہے۔

 

Chapter No: 8

باب الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

Oppression will be a darkness on the Day of Ressurrection.

باب : ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "Oppression will be a darkness on the Day of Resurrection."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا :ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔

Chapter No: 9

باب الاِتِّقَاءِ وَالْحَذَرِ مِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ

One should save oneself from the curse of the oppressed.

باب : مظلوم کی بددعا سے بچے رہنا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ ‏"‏ اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet sent Mu'adh to Yemen and said, "Be afraid, from the curse of the oppressed as there is no screen between his invocation and Allah."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو جب (عامل بناکر) یمن بھیجا ، تو آپﷺنے انہیں ہدایت فرمائی کہ مظلوم کی بد دعا سے ڈرتے رہنا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔

Chapter No: 10

باب مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ عِنْدَ الرَّجُلِ فَحَلَّلَهَا لَهُ، هَلْ يُبَيِّنُ مَظْلَمَتَهُ

If the oppressed one forgives the oppressor, is it necessary to describe his oppression?

باب : اگر کسی شخص نے دوسرے پر ظلم کیا ہو اور اس سے معاف کرالے تو کیا اس ظلم کو بھی بیان کرنا ضرور ہے۔

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لأَحَدٍ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَىْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ إِنَّمَا سُمِّيَ الْمَقْبُرِيَّ لأَنَّهُ كَانَ نَزَلَ نَاحِيَةَ الْمَقَابِرِ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ هُوَ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ، وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، وَاسْمُ أَبِي سَعِيدٍ كَيْسَانُ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Whoever has oppressed another person concerning his reputation or anything else, he should beg him to forgive him before the Day of Resurrection when there will be no money (to compensate for wrong deeds), but if he has good deeds, those good deeds will be taken from him according to his oppression which he has done, and if he has no good deeds, the sins of the oppressed person will be loaded on him."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر کسی آدمی کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ (سے ظلم کیا ہو) تو اسے آج ہی ، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرالے جس دن نہ دینار ہوں گے ، اور نہ درہم ، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا۔ اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہوگا تو اس کے ساتھی (مظلوم ) کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ امام بخاری رحمہ اللہ عنہ نے کہا: اسمٰعیل بن ابی اویس نے کہا: سعید راوی کو مقبری اس لیے کہتے ہیں کہ وہ مقبرہ کے پاس رہا کرتا تھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ عنہ نے کہا : سعید مقبری بنو لیث کا غلام تھا اور وہ سعید بن ابی سعید ہے۔اور ابو سعید کا نام کیسان تھا۔

123Last ›