Sayings of the Messenger

 

123

Chapter No: 1

باب اسْتِئْجَارِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ

To hire a pious man.

باب: اچھے نیک شخص کو مزدوری پر رکھنا ،

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الأَمِينُ‏}‏ وَالْخَازِنِ الأَمِينِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَعْمِلْ مَنْ أَرَادَهُ‏

The Statement of Allah, "... Verily, the best for you to hire is the strong, the trustworthy." (V.28:26) The honest treasurer, and the person who does not employ the one who is an earnest pursuit of a job (position).

(اور اللہ نے سورت قصص میں فرمایا) اچھا مزدور جو تو رکھے وہ ہے جو زور دار امانت دار ہو اور امانت دار خزانچی کا ثواب اور اس کابیان کہ جو شخص حکومت کی درخواست کرے اس کو حکومت نہ دی جائے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْخَازِنُ الأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Musa Al-Ashari : The Prophet said, "The honest treasurer who gives willingly what he is ordered to give, is one of the two charitable persons, (the second being the owner)."

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺنے فرمایا: امانت دار خزانچی جو اس کو حکم دیا جائے ، اس کے مطابق دل کی فراخی کے ساتھ (صدقہ ادا کردے) وہ بھی ایک صدقہ کرنے والوں ہی میں سے ہے۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعِي رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، فَقُلْتُ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَنْ أَوْ لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Musa : I went to the Prophet with two men from Ash-ari tribe. I said (to the Prophet), "I do not know that they want employment." The Prophet said, "No, we do not appoint for our jobs anybody who demands it earnestly."

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ، میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو شخص بھی تھے ۔ میں نے کہا:مجھے نہیں معلوم کہ یہ دونوں صاحبان حاکم بننے کے طلب گار ہیں ۔ اس پر آپﷺنے فرمایا: جو شخص حاکم بننے کا خود خواہش مند ہو ، اسے ہم ہرگز حاکم نہیں بنائیں گے ۔ (یہاں راوی کو شک ہے کہ آپﷺنے لفط لن یا لفط لا استعمال فرمایا)

Chapter No: 2

باب رَعْىِ الْغَنَمِ عَلَى قَرَارِيطَ

To shepherd sheep for Qirat.

باب: کئی قیراط تنخواہ پر بکریاں چرانا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلاَّ رَعَى الْغَنَمَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَصْحَابُهُ وَأَنْتَ فَقَالَ ‏"‏ نَعَمْ كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لأَهْلِ مَكَّةَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Allah did not send any prophet but shepherded sheep." His companions asked him, "Did you do the same?" The Prophet replied, "Yes, I used to shepherd the sheep of the people of Mecca for some Qirats."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ نے عرض کیا اور آپ نے بھی چرائیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، میں چند قیراط تنخواہ پر مکہ والوں کی بکریاں چراتا تھا۔

Chapter No: 3

باب اسْتِئْجَارِ الْمُشْرِكِينَ عِنْدَ الضَّرُورَةِ أَوْ إِذَا لَمْ يُوجَدْ أَهْلُ الإِسْلاَمِ‏

The employment of Pagans if necessary or if no Muslim is available for that purpose.

باب: اگر مسلمان مزدور نہ ملے توضرورت کے وقت مشرک سے خدمت لینا،

وَعَامَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَهُودَ خَيْبَرَ‏

And The Prophet (s.a.w) employed the Jews of Khaibar (for irrigating the land).

اور نبیﷺ نے خیبر کے یہودیوں کو کھیتی باڑی کے کام پر رکھا (ان سے بٹائی کا معاملہ کیا)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَاسْتَأْجَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلاً مِنْ بَنِي الدِّيلِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ هَادِيًا خِرِّيتًا ـ الْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ ـ قَدْ غَمَسَ يَمِينَ حِلْفٍ فِي آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، وَهْوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَأَمِنَاهُ فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا، وَوَعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، فَأَتَاهُمَا بِرَاحِلَتَيْهِمَا، صَبِيحَةَ لَيَالٍ ثَلاَثٍ، فَارْتَحَلاَ، وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، وَالدَّلِيلُ الدِّيلِيُّ فَأَخَذَ بِهِمْ أَسْفَلَ مَكَّةَ وَهْوَ طَرِيقُ السَّاحِلِ‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet and Abu Bakr employed a (pagan) man from the tribe of Bani Ad-Dail and the tribe of Bani 'Abu bin 'Adi as a guide. He was an expert guide and he broke the oath contract which he had to abide by with the tribe of Al-'Asi bin Wail and he was on the religion of Quraish pagans. The Prophet and Abu Bakr had confidence in him and gave him their riding camels and told him to bring them to the Cave of Thaur after three days. So, he brought them their two riding camels after three days and both of them (The Prophet and Abu Bakr) set out accompanied by 'Amir bin Fuhaira and the Dili guide who guided them below Mecca along the road leading to the sea-shore.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺاور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے (ہجرت کے وقت) بنو دیل کے ایک مرد کو نوکر رکھا جو بنو عبد بن عدی کے خاندان سے تھا۔ وہ بطور ماہر راہبر مزدوری پر رکھا تھا ۔ (حدیث میں لفظ خریت کے معنیٰ راستہ بتلانے کا ماہر ۔ اس نے اپنا ہاتھ پانی وغیرہ میں ڈبو کر عاص بن وائل کے خاندان سے عہد کیا تھا ۔ وہ کفار قریش ہی کے دین پر تھا۔ لیکن آپﷺاور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس پر بھروسہ تھا۔ اس لیے اپنی سواریاں انہوں نے اسے دے دیں۔ غار ثور پر تین رات کے بعد اس سے ملنے کی تاکید کی تھی۔وہ شخص تین راتوں کے گذرتے ہی صبح کو دونوں حضرات کی سواریاں لے کر وہاں حاضر ہوگیا ۔ اس کے بعد یہ حضرات وہاں سے عامر بن فہیرہ اور اس دیلی راہبر کو ساتھ لے کر چلے ۔ یہ شخص ساحل کے کنارے سے آپ کو لے کر چلا تھا۔

Chapter No: 4

باب إِذَا اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا لِيَعْمَلَ لَهُ بَعْدَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ أَوْ بَعْدَ شَهْرٍ أَوْ بَعْدَ سَنَةٍ جَازَ، وَهُمَا عَلَى شَرْطِهِمَا الَّذِي اشْتَرَطَاهُ إِذَا جَاءَ الأَجَلُ‏

It is legal if somebody hires someone to work for him after three days, or after one month or after a year. When that period elapses they should carry out their contract.

باب: کوئی شخص کسی مزدور کو اس غرض سے رکھے کہ تین دن یا ایک مہینے یا ایک سال کے بعد یہ کام کرے تو درست ہے اور جب وہ وقت آئے جو ٹھہرا تھا تو دونوں اپنی شرط پر قائم رہیں گے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلاً مِنْ بَنِي الدِّيلِ، هَادِيًا خِرِّيتًا وَهْوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا، وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلاَثِ لَيَالٍ بِرَاحِلَتَيْهِمَا صُبْحَ ثَلاَثٍ‏

Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) Allah's Apostle and Abu Bakr hired a man from the tribe of Bani-Ad-Dil as an expert guide who was a pagan (follower of the religion of the pagans of Quraish). The Prophet and Abu Bakr gave him their two riding camels and took a promise from him to bring their riding camels in the morning of the third day to the Cave of Thaur.

نبیﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺاور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بنی دیل کےایک ماہر راہبر سے مزدوری طے کرلی تھی۔ وہ شخص کفار قریش کے دین پر تھا، ان دونوں حضرات نے اپنی دونوں اونٹنیاں اس کے حوالہ کردی تھیں اور کہہ دیا تھا کہ وہ تین راتوں کے بعد صبح سویرے ہی سواریوں کے ساتھ غار ثور پر آجائے۔

Chapter No: 5

باب الأَجِيرِ فِي الْغَزْوِ

Employing labourers for services in battles.

باب: جہاد میں مزدور لے جانا۔

حَدَّثَنِى يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ، فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ ‏"‏ أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا ـ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ ـ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ‏"

Narrated By Ya'la bin Umaya : I fought in Jaish-al-Usra (Ghazwa of Tabuk) along with the Prophet and in my opinion that was the best of my deeds. Then I had an employee, who quarrel led with someone and one of the them bit and cut the other's finger and caused his own tooth to fall out. He then went to the Prophet (with a complaint) but the Prophet cancelled the suit and said to the complainant, "Did you expect him to let his finger in your mouth so that you might snap and cut it (as does a stallion camel)?"

حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺکے ساتھ جیش عسرہ (غزوۂ تبوک ) میں گیا تھا یہ میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل اعتماد نیک عمل تھا۔ میرے ساتھ ایک مزدور بھی تھا۔ وہ ایک شخص سے جھگڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے مقابل والے کی انگلی چبا ڈالی۔ دوسرے نے جو اپنا ہاتھ زور سے کھینچا تو اس کے آگے کے دانت بھی ساتھ ہی کھینچے چلے آئے اور گرگئے۔ اس پر وہ شخص اپنا مقدمہ لے کر نبیﷺکی خدمت میں پہنچا ۔ آپﷺنے اس کے دانت (ٹوٹنے کا) کوئی قصاص نہیں دلوایا۔ بلکہ فرمایا: کیا وہ اپنی انگلی تمہارے منہ میں چبانے کےلیے چھوڑ دیتا ۔ راوی نے کہا: میں خیال کرتا ہوں کہ آپﷺنے یوں بھی فرمایا: جس طرح اونٹ چبالیا کرتا ہے۔


قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ جَدِّهِ، بِمِثْلِ هَذِهِ الصِّفَةِ أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَهْدَرَهَا أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه‏

Narrated Ibn Juraij from Abdullah bin Abu Mulaika from his grandfather a similar story: A man bit the hand of another man and caused his own tooth to fall out, but Abu Bakr judged that he had no right for compensation (for the broken tooth).

ابن جریج نے کہا : مجھ سے عبد اللہ بن ابی ملیکہ نے اپنے دادا (زہیر بن عبد اللہ) سے یہی قصہ نقل کیا کہ ایک شخص نے دوسرے کا ہاتھ کاٹا اس نے دانت نکال لیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دانت کا بدلہ کچھ نہ دلایا۔

Chapter No: 6

باب مَنِ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَبَيَّنَ لَهُ الأَجَلَ وَلَمْ يُبَيِّنِ الْعَمَلَ

If somebody employs someone and tells him the period for which he is employed, is it permissible for him not to tell him the nature of the work?

باب: ایک شخص کو ایک میعاد کے لیے نوکر رکھنا اور کام نہ بیان کرنا

لِقَوْلِهِ ‏{‏إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَىَّ هَاتَيْنِ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ‏}‏ يَأْجُرُ فُلاَنًا يُعْطِيهِ أَجْرًا، وَمِنْهُ فِي التَّعْزِيَةِ أَجَرَكَ اللَّهُ‏

(It is permissible, if he takes into consideration Allah's statement). He said, "I intend to wed one of theses two daughters of mine to you ... Allah is a surety over what we say ..." (V.28:27,28)

(جیسے سورت قصص میں) اللہ نے فرمایا میں چاہتا ہوں ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تجھ سے کر دوں اخیر آیت واللہ علی ما نقول وکیل تک عرب لوگ کہتے ہیں یاجر فلانا یعنی فلانے کو مزدوری دیتا ہے اور تعزیت میں کہتے ہیں آجرک اللہ یعنی اللہ تجھ کو اس کا بدل دے۔

 

Chapter No: 7

باب إِذَا اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا عَلَى أَنْ يُقِيمَ حَائِطًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ جَازَ

It is permissible for one to employ someone to repair a well which is about to collapse.

باب: اگر کوئی شخص کسی کو اس کام پر مقرر کرے کہ ایک گرتی دیوار سیدھی کر دے تو درست ہے۔

حَدَّثَنِى إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، وَغَيْرُهُمَا قَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ حَدَّثَنِي أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَانْطَلَقَا فَوَجَدَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ ‏"‏‏.‏ قَالَ سَعِيدٌ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَاسْتَقَامَ، قَالَ يَعْلَى حَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدًا قَالَ‏.‏ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ فَاسْتَقَامَ ‏{‏قَالَ‏}‏ ‏"‏لَوْ شِئْتَ لاَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ‏"‏‏.‏ قَالَ سَعِيدٌ أَجْرًا نَأْكُلُهُ‏

Narrated By Ubai bin Ka'b : Allah's Apostle said, "Both of them (Moses and Al-Khadir) proceeded on till they reached a wall which was about to fall." Sa'd said, "(Al-Khadir pointed) with his hands (towards the wall) and then raised his hands and the wall became straightened up." Ya'la said, "I think Said said, 'He (Khadir) passed his hand over it and it was straightened up." (Moses said to him), "if you had wanted, you could have taken wages for it." Said said, "Wages with which to buy food."

سعید بن جبیر سے مروی ہے انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: (حضرت خضر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام) دونوں چلے انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی سعید نے کہا: خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سےاس طرح اشارہ کیا اور ہاتھ اٹھایا وہ دیوار سیدھی ہوگئی۔ یعلی نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ سعید نے یہ کہا: خضر علیہ السلام نے اپنا ہاتھ اس دیوار پر پھیر دیا تھا اور وہ سیدھی ہو گئی تب موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے: تم چاہتے تو اس کام کی مزدوری لیتے۔ سعید نے کہا: یعنی اجرت، جسے ہم کھاسکتے (کیونکہ بستی والوں نے ان کو کھانا نہیں کھلایا تھا)

Chapter No: 8

باب الإِجَارَةِ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ

Employment up to midday.

باب: آدھے دن کے لیے مزدور لگانا۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أُجَرَاءَ فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ غُدْوَةَ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ النَّصَارَى ثُمَّ، قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنَ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ عَلَى قِيرَاطَيْنِ فَأَنْتُمْ هُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالُوا مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلاً، وَأَقَلَّ عَطَاءً قَالَ هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ قَالُوا لاَ‏.‏ قَالَ فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ ‏"‏‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet said, "Your example and the example of the people of the two Scriptures (i.e. Jews and Christians) is like the example of a man who employed some labourers and asked them, 'Who will work for me from morning till midday for one Qirat?' The Jews accepted and carried out the work. He then asked, Who will work for me from midday up to the 'Asr prayer for one Qirat?' The Christians accepted and fulfilled the work. He then said, 'Who will work for me from the 'Asr till sunset for two Qirats?' You, Muslims have accepted the offer. The Jews and the Christians got angry and said, 'Why should we work more and get lesser wages?' (Allah) said, 'Have I with-held part of your right?' They replied in the negative. He said, 'It is My Blessing, I bestow upon whomever I wish.'

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی آدمی نے کئی مزدور کام پر لگائے اور کہا: میرا کام ایک قیراط پر صبح سے دوپہر تک کون کرے گا؟ اس پر یہودیوں نے اس کا کام کیا ۔ پھر اس نے کہا: آدھے دن سے عصر تک ایک قیراط پر میرا کام کون کرے گا ؟ چنانچہ یہ کام پھر نصاریٰ نے کیا ، پھر اس شخص نے کہا: عصر کے وقت سے سورج ڈوبنے تک میرا کام دو قیراط پر کون کرے گا ؟ اور تم (امت محمدیہ) ہی وہ لوگ ہو (جن کو یہ درجہ حاصل ہوا) اس پر یہود و نصاریٰ نے برا مانا، اور وہ کہنے لگے کہ کام تو ہم زیادہ کریں اور مزدوری ہمیں کم ملے ۔ پھر اس شخص نے کہا: اچھا یہ بتاؤ کیا تمہارا حق تمہیں پورا نہیں ملا؟سب نے کہا : ہمیں تو ہمارا حق پورا مل گیا ۔ اس شخص نے کہا: پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں زیادہ دوں۔

Chapter No: 9

باب الإِجَارَةِ إِلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ

Employment up to Asr.

باب: عصر کی نماز تک مزدور لگانا۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَالْيَهُودُ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالاً فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ عَمِلَتِ النَّصَارَى عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ أَنْتُمُ الَّذِينَ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلاً وَأَقَلُّ عَطَاءً، قَالَ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا قَالُوا لاَ‏.‏ فَقَالَ فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar bin Al-Khattab : Allah's Apostle said, "Your example and the example of Jews and Christians is like the example of a man who employed some labourers to whom he said, 'Who will work for me up to midday for one Qirat each?' The Jews carried out the work for one Qirat each; and then the Christians carried out the work up to the 'Asr prayer for one Qirat each; and now you Muslims are working from the 'Asr prayer up to sunset for two Qirats each. The Jews and Christians got angry and said, 'We work more and are paid less.' The employer (Allah) asked them, 'Have I usurped some of your right?' They replied in the negative. He said, 'That is My Blessing, I bestow upon whomever I wish.' "

حضرت عبد اللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ ایک آدمی نے چند مزدور کام پر لگائے اور کہا: ایک ایک قیراط پر آدھے دن تک میری مزدوری کون کرے گا ؟ پس یہود نے ایک قیراط پر یہ مزدوری کی ۔ پھر نصاریٰ نے بھی ایک ایک قیراط پر کام کیا ۔ پھر تم لوگوں نے عصر سے مغرب تک دو دو قیراط پر کام کیا ۔ اس پر یہود و نصاریٰ غصہ ہوگئے کہ ہم نے کام تو زیادہ کیا اور مزدوری ہم کو کم ملی ۔ اس پر اس شخص نے کہا: کیا میں نے تمہارا حق ذرہ برابر بھی مارا ہے ؟ تو انہوں نے کہا: کہ نہیں ۔ پھر اس شخص نے کہا: یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں زیادہ دیتا ہوں۔

Chapter No: 10

باب إِثْمِ مَنْ مَنَعَ أَجْرَ الأَجِيرِ

The sin of him who withholds the wages of the employee.

باب: جو شخص مزدور کی مزدوری نہ دے اس پر کتنا گناہ ہو گا۔

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ثَلاَثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Allah said, 'I will be an opponent to three types of people on the Day of Resurrection: 1. One who makes a covenant in My Name, but proves treacherous. 2. One who sells a free person and eats his price. 3. One who employs a labourer and takes full work from him but does not pay him for his labour.'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن کا قیامت میں میں خود مدّعی بنوں گا ۔ ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام پہ عہد کیا ، اور پھر وعدہ خلافی کی ۔ دوسرا وہ جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ تیسرا وہ شخص جس نے کسی مزدور سے پوری محنت لی، لیکن اس کی مزدوری نہ دی۔

123