Sayings of the Messenger

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏هَادٍ‏}‏ دَاعٍ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ صَدِيدٌ قَيْحٌ وَدَمٌ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ‏{‏اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ‏}‏ أَيَادِيَ اللَّهِ عِنْدَكُمْ وَأَيَّامَهُ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ‏}‏ رَغِبْتُمْ إِلَيْهِ فِيهِ ‏{‏يَبْغُونَهَا عِوَجًا‏}‏ يَلْتَمِسُونَ لَهَا عِوَجًا ‏{‏وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ‏}‏ أَعْلَمَكُمْ آذَنَكُمْ ‏{‏رَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ‏}‏ هَذَا مَثَلٌ كَفُّوا عَمَّا أُمِرُوا بِهِ ‏{‏مَقَامِي‏}‏ حَيْثُ يُقِيمُهُ اللَّهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏{‏مِنْ وَرَائِهِ‏}‏ قُدَّامِهِ‏.‏ ‏{‏لَكُمْ تَبَعًا‏}‏ وَاحِدُهَا تَابِعٌ مِثْلُ غَيَبٍ وَغَائِبٍ ‏{‏بِمُصْرِخِكُمْ‏}‏ اسْتَصْرَخَنِي اسْتَغَاثَنِي يَسْتَصْرِخُهُ مِنَ الصُّرَاخِ ‏{‏وَلاَ خِلاَلَ‏}‏ مَصْدَرُ خَالَلْتُهُ خِلاَلاً، وَيَجُوزُ أَيْضًا جَمْعُ خُلَّةٍ وَخِلاَلٍ ‏{‏اجْتُثَّتْ‏}‏ اسْتُؤْصِلَتْ‏.‏

ابن عباسؓ نے کہا ہاد کا معنیٰ بلانے والا اور مجاہد نے کہا کہ صَدِیۡد کا معنیٰ پیپ اور لہو اور سفیان بن عیینہؒ نے کہا اُذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللہِ عَلَیۡکُمۡ کا معنیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں تمھارے پاس ہیں ان کو یاد کرو اور جو جو اگلے واقعات اس کی قدرت کے ہوئے ہیں اور مجاہد نے کہا مِنۡ کُلِّ مَا سَأَلۡتُمُوہُ کا معنیٰ یہ ہے کہ جن جن چیزوں کی تم نے رغبت کی یَبۡغُونَہَا عِوَجاً اس میں کجی پیدا کرنے کی تلاش کرتے رہتے ہیں وَاِذۡ تَأذّنَ رَبُّکُمۡ جب تمہارے مالک نے تم کو خبردار کیا۔جتلا دیا۔رَدّوا اَیَدِیۡہمۡ فی اَفۡواہہمۡ یہ عرب کی زبان میں ایک مثل ہےاس کا مظلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہوا تھا اس سے باز رہےاس کو بجا نہ لائے مَقَامِیۡ وہ جگہ جہاں اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سامنے کھڑا کریگا مِنۡ وَرَائِہِ سامنے سے لَکُمۡ تَبۡعاً تبع تابع کی جمع ہے جیسے غیب غائب کی بِمُصۡرِخِکُمۡ عرب لوگ کہتے ہیں اِسۡتَصۡخَرَنِیۡ یعنی اس نے میری فریاد سنی یَسۡتَصۡرِخُہُ اسکی فریاد سنتا ہے دونوں صراخ سے نکلے ہیں (صراخ کا معنےٰ فریاد) وَلَا خِلالَ،خَا لَلۡتُہُ خِلا لاً کا مصدر ہے اور خُلَّۃ کی جمع بھی ہو سکتا ہے (یعنی اس دن دوستی نہ ہوگی نہ دوستیاں ہونگی ) اُتۡتُّتۡ جڑ سے اکاڑ لیا گیا۔

 

Chapter No: 1

باب قَوْلِهِ ‏{‏كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ}‏الآية

His (Allah) Statement, "... As a goodly tree, whose root is firmly fixed ..." (V.14:24)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصلُھَا ثَابِتٌ وَ فَرعُھَا ۔ کی تفسیر

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ تُشْبِهُ أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لاَ يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا وَلاَ وَلاَ وَلاَ، تُؤْتِي أُكْلَهَا كُلَّ حِينٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لاَ يَتَكَلَّمَانِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَلَمَّا لَمْ يَقُولُوا شَيْئًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا قُمْنَا قُلْتُ لِعُمَرَ يَا أَبَتَاهُ وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكَلَّمَ قَالَ لَمْ أَرَكُمْ تَكَلَّمُونَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا‏.‏ قَالَ عُمَرُ لأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : While we were with Allah's Apostle he said, "Tell me of a tree which resembles a Muslim man. Its leaves do not fall and it does not, and does not, and does not, and it gives its fruits every now and then." It came to my mind that such a tree must be the date palm, but seeing Abu Bakr and 'Umar saying nothing, I disliked to speak. So when they did not say anything, Allah's Apostle said, "It is the date-palm tree." When we got up (from that place), I said to 'Umar, "O my father! By Allah, it came to my mind that it must be the date palm tree." 'Umar said, "What prevented you from speaking" I replied, "I did not see you speaking, so I disliked to speak or say anything." Umar then said, "If you had said it, it would have been dearer to me than so-and-so."

مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے ابو اسامہ سے، انہوں نے عبیداللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ اتنے میں آپؐ نے (حاضرین سے) فرمایا مجھ کو بتلاؤ وہ کونسا درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے۔ مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے ۔ اور یہ بھی نہیں ہوتا، یہ بھی نہیں ہوتا، یہ بھی نہیں ہوتا۔ ہر وقت میوے دیئے جاتا ہے۔ عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں نے دیکھا کہ ابو بکرؓ اور عمرؓ بیٹے ہیں۔ انہوں نے جواب نہیں دیا تو مجھ کو (ان بزرگوں کے سامنے) بات کرنا برا معلوم ہوا۔ جب لوگوں نے کچھ جواب نہ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ جب ہم اس مجلس سے کھڑے ہوئے تو میں نے عمرؓ اپنے والد سے عرض کیا باوا خدا کی قسم میرے دل میں آیا تھا کہ میں کہہ دوں وہ کھجور کا درخت ہے۔ انہوں نے کہا پھر تم نے کہہ کیوں نہ دیا۔ میں نے کہا آپؐ لوگوں نے کوئی بات نہیں کی میں نے (آگے بڑھ کر) بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔ انہوں نے کہا واہ اگر تو اس وقت کہہ دیتا تو مجھ کو اتنے اتنے مال ملنے سے (لال لال اونٹ ملنے سے بھی) زیادہ خوشی ہوتی۔

Chapter No: 2

باب ‏{‏يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ‏}‏

"Allah will keep firm those who believe with, the word with stands firm ..." (V.14:27)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِینَ اٰمَنُوا بِالقَولِ الثَّابِتِ ۔ کی تفسیر

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ ‏{‏يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ‏}‏‏"‏

Narrated By Al-Bara bin Azib : Allah's Apostle said, "When a Muslim is questioned in his grave, he will testify that none has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is Allah's Apostle, and that is what is meant by Allah's Statement: "Allah will keep firm those who believe with a Word that stands firm in this world and in the Hereafter." (14.27)

ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا مجھ کو علقمہ بن مرثد نے خبر دی، کہا میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، انہوں نے براء بن عازبؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ کہے گا اشھد ان لا الہ الا اللہ و ان محمد رسول اللہ اسی طرح سے اس آیت میں "مظبوط کرتا ہے اللہ تعالٰی ایمان والوں کو مضبوط بات سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور بچا دیتا ہے اللہ بے انصافوں کو اور کرتا ہے جو چاہے" سے یہی مراد ہے۔

Chapter No: 3

باب ‏{‏أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا‏}‏

"Have you not seen those who have changed the favour of Allah into disbelief?" (V.14:28)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول اَلَم تَرَ اِلَی الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعمَۃَ اللہِ کُفرًا ۔ کی تفسیر۔

‏{‏أَلَمْ تَرَ‏}‏ أَلَمْ تَعْلَمْ كَقَوْلِهِ ‏{‏أَلَمْ تَرَ كَيْفَ‏}‏‏.‏ ‏{‏أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا‏}‏ الْبَوَارُ الْهَلاَكُ، بَارَ يَبُورُ بَوْرًا ‏{‏قَوْمًا بُورًا‏}‏ هَالِكِينَ‏.‏

اَلَم تَرَ یعنی کیا تو نے نہیں جانا جیسے اَلَم تَرَ کَیفَ فَعَلَ رَبُّکَ ، یا اَلَم تَرَ اِلَی الَّذِینَ خَرَجُوا۔ البَوَار کا معنی ہلاکت بَارَ، یَبُورُ، بَورًا سے نکلا ہے قَومًا بُورا ہلاک ہونے والی قوم

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏{‏أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا‏}‏ قَالَ هُمْ كُفَّارُ أَهْلِ مَكَّةَ‏.

Narrated By Ata : When Ibn 'Abbas heard: "Have you not seen those who have changed the favour of Allah into disbelief?" (14.28) he said, "Those were the disbelieving pagans of Mecca."

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے سنا وہ کہتے تھے اَلَم تَرَ اِلَی الَّذِینَ بَدَّلُوا نِعمَۃَ اللہِ کُفرًا سے مکہ کے کافر مراد ہیں۔