Sayings of the Messenger

 

12

Chapter No: 1

باب حَرَمِ الْمَدِينَةِ

Haram (sanctuary) of Medina.

باب : مدینہ کے حرم کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَحْوَلُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ، مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا، لاَ يُقْطَعُ شَجَرُهَا، وَلاَ يُحْدَثُ فِيهَا حَدَثٌ، مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ‏"

Narrated By Anas : The Prophet said, "Medina is a sanctuary from that place to that. Its trees should not be cut and no heresy should be innovated nor any sin should be committed in it, and whoever innovates in it an heresy or commits sins (bad deeds), then he will incur the curse of Allah, the angels, and all the people." (See Hadith No. 409, Vol 9).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: مدینہ حرم ہے فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک (یعنی جبل عیر سے ثور تک) اس حدود میں نہ درخت کاٹا جائے ، اور نہ کوئی بدعت کی جائے ، جس نے بھی یہاں کوئی بدعت نکالی تو اس پر اللہ اور فرشتے اور تمام لوگوں کی طرف سے لعنت ہو۔


حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ ‏"‏ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ‏.‏ فَأَمَرَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَنُبِشَتْ، ثُمَّ بِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ‏

Narrated By Anas : The Prophet came to Medina and ordered a mosque to be built and said, "O Bani Najjar! Suggest to me the price (of your land)." They said, "We do not want its price except from Allah" (i.e. they wished for a reward from Allah for giving up their land freely). So, the Prophet ordered the graves of the pagans to be dug out and the land to be levelled, and the date-palm trees to be cut down. The cut date-palms were fixed in the direction of the Qibla of the mosque.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ مدینہ تشریف لائے اور مسجد بنانے کا حکم دیا تو بنو نجار سے فرمایا: تم اپنے باغ کا مجھ سے قیمت لے لو انہوں نے کہا ہم اس کی قیمت اللہ سے لیں گے، پھر آپﷺنے مشرکوں کی قبروں کے حوالے سے حکم دیا، انہیں اکھاڑ دیا گیا، ویرانہ کے متعلق حکم دیا اس کو برابر کردیا گیا۔کھجور کے درختوں کے متعلق حکم دیا گیا اور وہ کاٹ دئیے گئے،اور وہ درخت قبلے کی طرف بچھادئے گئے۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ حُرِّمَ مَا بَيْنَ لاَبَتَىِ الْمَدِينَةِ عَلَى لِسَانِي ‏"‏‏.‏ قَالَ وَأَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَنِي حَارِثَةَ فَقَالَ ‏"‏ أَرَاكُمْ يَا بَنِي حَارِثَةَ قَدْ خَرَجْتُمْ مِنَ الْحَرَمِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ ‏"‏ بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "I have made Medina a sanctuary between its two (Harrat) mountains." The Prophet went to the tribe of Bani Haritha and said (to them), "I see that you have gone out of the sanctuary," but looking around, he added, "No, you are inside the sanctuary."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبیﷺ نے فرمایا: مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں میں جو زمین ہےوہ میری زبان پر حرم ٹھہرائی گئی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپﷺ بنو حارثہ کے پاس آئے اور فرمایا: میں سمجھتا ہوں بنو حارثہ تم حرم کے باہر ہو گئے پھر دیکھا تو فرمایا: نہیں تم حرم کے اندر ہو۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ مَا عِنْدَنَا شَىْءٌ إِلاَّ كِتَابُ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ، مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا، مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ، وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ ‏"‏‏

Narrated By 'Ali : We have nothing except the Book of Allah and this written paper from the Prophet (where-in is written:) Medina is a sanctuary from the 'Air Mountain to such and such a place, and whoever innovates in it an heresy or commits a sin, or gives shelter to such an innovator in it will incur the curse of Allah, the angels, and all the people, none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted. And the asylum (of protection) granted by any Muslim is to be secured (respected) by all the other Muslims; and whoever betrays a Muslim in this respect incurs the curse of Allah, the angels, and all the people, and none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted, and whoever (freed slave) befriends (take as masters) other than his manumitters without their permission incurs the curse of Allah, the angels, and all the people, and none of his compulsory or optional good deeds of worship will be accepted.

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے پاس تو صرف اللہ کی کتاب ہے اور یہ صحیفہ ہے جو نبی ﷺکی طرف سے ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، اس صحیفہ میں یہ لکھا ہے مدینہ عائر پہاڑ سے لیکر یہاں تک حرم ہے، جس نے اس حد میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو، نہ اس کا نفل قبول ہوگا نہ فرض، اور آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ مسلمانوں میں سے کسی کا بھی عہد کافی ہے جو کوئی مسلمان کا عہد توڑے اس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت، نہ اس کا نفل قبول ہوگا نہ فرض۔جو کوئی اپنے مالک کو چھوڑ کر اس کی اجازت کے بغیر دوسرے کو مالک بنائے اس پر اللہ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو، نہ اس کا نفل قبول ہوگا نہ فرض۔

Chapter No: 2

باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَأَنَّهَا تَنْفِي النَّاسَ

Superiority of Medina. And that it expells (evil) persons.

باب : مدینہ کی فضیلت اور مدینہ کا برے آدمی کو نکال دینا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ، سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ ‏"‏ أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى يَقُولُونَ يَثْرِبُ‏.‏ وَهْىَ الْمَدِينَةُ، تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "I was ordered to migrate to a town which will swallow (conquer) other towns and is called Yathrib and that is Medina, and it turns out (bad) persons as a furnace removes the impurities of iron.

سعید بن یسار سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتےتھےرسول اللہﷺ نےفرمایا: مجھے اس بستی میں جانے کاحکم ہوا جو دوسری بستیوں کو کھا لے گی (ان کی سردار بنے گی) منافقین اس کو یثرب کہتے ہیں اس کا نام مدینہ ہے برے لوگوں کو اس طرح نکال باہر کرے گی جیسے بھٹی لوہے کا میل نکال دیتی ہے۔

Chapter No: 3

باب الْمَدِينَةُ طَابَةُ

Medina is also called Taba.

باب : مدینہ کا ایک نام طابہ ہے

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ تَبُوكَ حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ طَابَةُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Humaid : We came with the Prophet from Tabuk, and when we reached near Medina, the Prophet said, "This is Tabah."

حضرت ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ ہم نبیﷺ کے ساتھ جنگ تبوک سے واپس آئے جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپﷺ نے فرمایا: یہ طابہ آگیا۔

Chapter No: 4

باب لاَبَتَىِ الْمَدِينَةِ

The two mountains of Medina.

باب : مدینہ کے دونوں پتھریلے میدان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ تَرْتَعُ مَا ذَعَرْتُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا حَرَامٌ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : If I saw deers grazing in Medina, I would not chase them, for Allah's Apostle said, "(Medina) is a sanctuary between its two mountains."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے تھے اگر مدینہ میں ہرن چرتے دیکھوں تو انہیں نہ چھیڑوں رسول اللہﷺ نے فرمایا: مدینہ کی زمین پتھریلے میدانوں کے بیچ میں حرم ہے (وہاں کا شکار جائز نہیں)

Chapter No: 5

باب مَنْ رَغِبَ عَنِ الْمَدِينَةِ

(What about) the one who avoids (and runs away) from living in Medina?

باب : جو شخص مدینہ سے نفرت کرے

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، لاَ يَغْشَاهَا إِلاَّ الْعَوَافِ ـ يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ ـ وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ، يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا، فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا، حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : I heard Allah's Apostle saying, "The people will leave Medina in spite of the best state it will have, and none except the wild birds and the beasts of prey will live in it, and the last persons who will die will be two shepherds from the tribe of Muzaina, who will be driving their sheep towards Medina, but will find nobody in it, and when they reach the valley of Thaniyat-al-Wada', they will fall down on their faces dead."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے لوگ مدینہ کو اچھی حال میں چھوڑ جائیں گے (پھر ایسا اجاڑ ہوجائے گا کہ) وہاں وحشی جانور درند اور چرند بسنے لگیں گے اور آخر میں مزینہ کے دو چرواہے مدینہ آئیں گے تاکہ اپنی بکریاں ہانک لے جائیں، لیکن وہاں انہیں صرف وحشی جانور نظر آئیں گے، جب ثنیۃ الوداع پر پہنچیں گے تو اوندھے منہ گر پڑیں گے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ تُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَتُفْتَحُ الشَّأْمُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَتُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يُبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ‏.‏ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Zuhair : I heard Allah's Apostle saying, "Yemen will be conquered and some people will migrate (from Medina) and will urge their families, and those who will obey them to migrate (to Yemen) although Medina will be better for them; if they but knew. Sham will also be conquered and some people will migrate (from Medina) and will urge their families and those who will obey them, to migrate (to Sham) although Medina will be better for them; if they but knew. 'Iraq will be conquered and some people will migrate (from Medina) and will urge their families and those who will obey them to migrate (to 'Iraq) although Medina will be better for them; if they but knew."

حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے: یمن فتح ہوگا پھر وہاں سے کچھ لوگ سواری کے جانور ہانکتے ہوئے لائیں گے، اور اپنے گھر والوں کو اور جو ان کی اطاعت کریں گے ان کو لادکر مدینہ سے(واپس یمن کو) لے جائیں گے حالانکہ اگر وہ جانتے ہوتے تو مدینہ ہی ان کےلیے بہتر تھا۔پھر شام فتح ہوگا، پھر وہاں سے کچھ لوگ سواری کے جانور ہانکتے ہوئے لائیں گے، اور اپنے گھر والوں کو اور جو ان کی اطاعت کریں گے ان کو لادکر مدینہ سے (واپس شام کو ) لے جائیں گے حالانکہ اگر وہ جانتے تو مدینہ ہی ان کےلیے بہتر تھا۔پھر عراق فتح ہوگا، پھر وہاں سے کچھ لوگ سواری کے جانور ہانکتے ہوئے لائیں گے، اور اپنے گھر والوں کو اور جو ان کی اطاعت کریں گے ان کو لادکر مدینہ سے(واپس عراق کو) لے جائیں گے حالانکہ اگر وہ جانتے تو مدینہ ہی ان کےلیے بہتر تھا۔

Chapter No: 6

باب الإِيمَانُ يَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ

Iman (Faith) returns and goes back to Medina.

باب: ایمان مدینہ کی طرف سمٹ کر آئے گا۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ الإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا ‏"

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Verily, Belief returns and goes back to Medina as a snake returns and goes back to its hole (when in danger)."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺنے فرمایا: (قیامت کے قریب) ایمان مدینہ میں سمٹ کر اس طرح آجائے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں سما جاتا ہے۔

Chapter No: 7

باب إِثْمِ مَنْ كَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ

Sin of that person who betrays and harms the people of Medina.

باب : جو شخص مدینہ والوں کو ستانا چاہے اس پر کیسا وبال پڑے گا

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ، عَنْ جُعَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ سَعْدًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ لاَ يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلاَّ انْمَاعَ كَمَا يَنْمَاعُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ ‏"‏‏

Narrated By Sad : I heard the Prophet saying, "None plots against the people of Medina but that he will be dissolved (destroyed) like the salt is dissolved in water."

حضرت عائشہ (سعد کی بیٹی) انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے میں نے نبیﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے: مدینہ والوں سے جو کوئی فریب کرے گا اس طرح گل جائے گا جیسے نمک پانی میں گل جاتا ہے۔

Chapter No: 8

باب آطَامِ الْمَدِينَةِ

The high buildings of Medina.

باب : مدینہ کے محلوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، سَمِعْتُ أُسَامَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى إِنِّي لأَرَى مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلاَلَ بُيُوتِكُمْ كَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ مَعْمَرٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.

Narrated By Usama : Once the Prophet stood at the top of a (looked out from upon one) castle amongst the castles (or the high buildings) of Medina and said, "Do you see what I see? (No doubt) I see the spots where afflictions will take place among your houses (and these afflictions will be) as numerous as the spots where rain-drops fall."

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ مدینہ کے ایک محل (اونچے مکان) پر چڑھے پھر (صحابہ سے) فرمایا تم وہ دیکھتے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں تمہارے گھروں میں فتنے کے مقام اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے بارش گرنے کے مقام۔

Chapter No: 9

باب لاَ يَدْخُلُ الدَّجَّالُ الْمَدِينَةَ

Ad-Dajjal will not be able to enter Medina.

باب : دجال مدینہ میں نہیں جانے کا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، عَلَى كُلِّ باب مَلَكَانِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Bakra : The Prophet said, "The terror caused by Al-Masih Ad-Dajjal will not enter Medina and at that time Medina will have seven gates and there will be two angels at each gate guarding them."

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: مدینہ میں مسیح دجال کا خوف داخل نہیں ہوگا، اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ ‏"‏ عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلاَئِكَةٌ، لاَ يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلاَ الدَّجَّالُ ‏"

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "There are angels guarding the entrances (or roads) of Medina, neither plague nor Ad-Dajjal will be able to enter it."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مدینہ کے دروازوں پر فرشتے ہوں گے نہ اس میں طاعون جاسکے گا نہ دجال۔


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلاَّ سَيَطَؤُهُ الدَّجَّالُ، إِلاَّ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ، لَيْسَ لَهُ مِنْ نِقَابِهَا نَقْبٌ إِلاَّ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ صَافِّينَ، يَحْرُسُونَهَا، ثُمَّ تَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلاَثَ رَجَفَاتٍ، فَيُخْرِجُ اللَّهُ كُلَّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ ‏"‏‏

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "There will be no town which Ad-Dajjal will not enter except Mecca and Medina, and there will be no entrance (road) (of both Mecca and Medina) but the angels will be standing in rows guarding it against him, and then Medina will shake with its inhabitants thrice (i.e. three earth-quakes will take place) and Allah will expel all the non-believers and the hypocrites from it."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: دنیا میں کوئی شہر ایسا نہیں جس کو دجال نہ روندے گا، ضرور روندے گا مگر مکہ اور مدینہ ان دونوں شہروں میں آنے جانے کے جتنے راستے ہیں ان پر فرشتے صف باندھے پہرہ دے رہے ہوں گے پھر مدینہ اپنے لوگوں پر تین بار لرزے گا اور اللہ ہر منافق اور کافر کو اس میں سے نکال دے گا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا طَوِيلاً عَنِ الدَّجَّالِ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا بِهِ أَنْ قَالَ ‏"‏ يَأْتِي الدَّجَّالُ ـ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ ـ بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ، هُوَ خَيْرُ النَّاسِ ـ أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ ـ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ، الَّذِي حَدَّثَنَا عَنْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثَهُ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ، هَلْ تَشُكُّونَ فِي الأَمْرِ فَيَقُولُونَ لاَ‏.‏ فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ حِينَ يُحْيِيهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْيَوْمَ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَقْتُلُهُ فَلاَ يُسَلَّطُ عَلَيْهِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle told us a long narrative about Ad-Dajjal, and among the many things he mentioned, was his saying, "Ad-Dajjal will come and it will be forbidden for him to pass through the entrances of Medina. He will land in some of the salty barren areas (outside) Medina; on that day the best man or one of the best men will come up to him and say, 'I testify that you are the same Dajjal whose description was given to us by Allah's Apostle.' Ad-Dajjal will say to the people, 'If I kill this man and bring him back to life again, will you doubt my claim?' They will say, 'No.' Then Ad-Dajjal will kill that man and bring him back to life. That man will say, 'Now I know your reality better than before.' Ad-Dajjal will say, 'I want to kill him but I cannot.'"

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ہمیں دجال کے حوالے سے ایک لمبی حدیث بیان فرمائی اس حدیث میں یہ بھی تھا دجال مدینہ کی ایک کھاری شور زمین تک پہنچے گا اس پر مدینہ کا داخلہ حرام ہوگا، پھر (مدینہ سے) ایک شخص جو اس وقت (سب) لوگوں میں نیک ہوگا یا نیک لوگوں میں سے ہوگا دجال کے پاس جائے گا اور کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم وہی دجال ہو جس کے متعلق رسول اللہﷺ نے ہمیں بتایا تھا۔ دجال اپنے لوگوں سے کہے گا اگر میں اس شخص کو مار ڈالوں پھر جلا دوں تب تو تم کو میری معاملے میں شک نہیں رہنے گا وہ کہیں گے:نہیں، دجال اس کو مار ڈالے گا پھر جلادے گا وہ شخص زندہ ہوکر کہے گا: اللہ کی قسم! اب تو مجھے پورا معلوم ہوگیا کہ تو ہی دجال ہے دجال پھر اس کو مار ڈالنا چاہے گا لیکن مار نہ سکے گا۔

Chapter No: 10

باب الْمَدِينَةُ تَنْفِي الْخَبَثَ

Medina expels all evil and bad persons

باب : مدینہ برے آدمی کو نکال دیتا ہے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَبَايَعَهُ عَلَى الإِسْلاَمِ، فَجَاءَ مِنَ الْغَدِ مَحْمُومًا، فَقَالَ أَقِلْنِي، فَأَبَى ثَلاَثَ مِرَارٍ، فَقَالَ ‏"‏ الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ، تَنْفِي خَبَثَهَا، وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا ‏"‏‏

Narrated By Jabir : A bedouin came to the Prophet and gave a pledge of allegiance for embracing Islam. The next day he came with fever and said (to the Prophet), "Please cancel my pledge (of embracing Islam and of emigrating to Medina)." The Prophet refused (that request) three times and said, "Medina is like a furnace, it expels out the impurities (bad persons) and selects the good ones and makes them perfect."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک دیہاتی نبیﷺکے پاس آیا اور اسلام پر بیعت کی، دوسرے دن آیا تو بخار چڑھا ہوا تھا،اور کہنے لگا: میری بیعت توڑ دیجیئے، تین بار اس نے یہی کہا آپﷺ نے انکار کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: مدینہ کی مثال بھٹی کی سی ہے،میل کچیل کو دور کرکے خالص جوہر کو نکھار دیتی ہے۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَتْ فِرْقَةٌ نَقْتُلُهُمْ‏.‏ وَقَالَتْ فِرْقَةٌ لاَ نَقْتُلُهُمْ‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينِ فِئَتَيْنِ‏}‏ وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهَا تَنْفِي الرِّجَالَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ‏"

Narrated By Zaid bin Thabit : When the Prophet went out for (the battle of) Uhud, some of his companions (hypocrites) returned (home). A party of the believers remarked that they would kill those (hypocrites) who had returned, but another party said that they would not kill them. So, this Divine Inspiration was revealed: "Then what is the matter with you that you are divided into two parties concerning the hypocrites." (4.88) The Prophet said, "Medina expels the bad persons from it, as fire expels the impurities of iron."

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے جب نبیﷺ جنگ احد میں نکلے تو آپﷺ کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ (منافق)واپس چلے گئے، بعض نے کہا: ہم ان کو قتل کریں گے بعض نے کہا: قتل نہیں کریں گے۔اس وقت (سورۂ نساء کی) یہ آیت نازل ہوئی: تم کو کیا ہوگیا منافقوں کے بارے میں تمہارے دو فرقے ہوگئے ہیں اور نبیﷺ نے فرمایا: مدینہ برے آدمیوں کو نکال دیتا ہے جیسے آگ لوہے کی میل کچیل کو نکال دیتا ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، سَمِعْتُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَىْ مَا جَعَلْتَ بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ يُونُسَ‏.

Narrated By Anas : The Prophet said, "O Allah! Bestow on Medina twice the blessings You bestowed on Mecca."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: اے اللہ! مکہ میں جو تو نے برکت رکھی ہے مدینہ میں اسے دوگنی کردے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَنَظَرَ إِلَى جُدُرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ، حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا‏

Narrated By Anas : Whenever the Prophet returned from a journey and observed the walls of Medina, he would make his Mount go fast, and if he was on an animal (i.e. a horse), he would make it gallop because of his love for Medina.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ جب سفر سے واپس تشریف لاتے اور مدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اس کی محبت سے اپنی اونٹنی تیز چلاتے اگر کسی اور جانور پر بھی ہوتے تو اس کو بھی ایڑ لگاتے (حرکت دیتے)۔

12