Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

‏{‏عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ‏}‏ يُرِيدُ فِيهَا الرِّضَا ‏{‏الْقَاضِيَةَ‏}‏ الْمَوْتَةَ الأُولَى الَّتِي مُتُّهَا ثُمَّ أُحْيَا بَعْدَهَا ‏{‏مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ‏}‏ أَحَدٌ يَكُونُ لِلْجَمْعِ وَلِلْوَاحِدِ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏الْوَتِينَ‏}‏ نِيَاطُ الْقَلْبِ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏طَغَى‏}‏ كَثُرَ، وَيُقَالُ ‏{‏بِالطَّاغِيَةِ‏}‏ بِطُغْيَانِهِمْ، وَيُقَالُ طَغَتْ عَلَى الْخَزَّانِ‏.‏ كَمَا طَغَى الْمَاءُ عَلَى قَوْمِ نُوحٍ‏.‏

عِیشَۃٍ رَّاضِیَۃ راضیہ مرضیہ کے معنی میں ہے یعنی پسندیدہ عیش۔ القاضیۃ پہلی موت یعنی کاش پہلی موت جو آئی تھی اس کے بعد میں مرا ہی رہتا پھر زندہ نہ ہوتا۔ مِن اَحَدٍ عَنہُ عَاجِزِینَ اَحَدٍ کا اطلاق مفرد اور جمع دونوں پر آتا ہے۔ ابن عباسؓ نے کہا وتین جان کی رگ (جس کے کٹنے سے آدمی مر جاتا ہے) ابن عباسؓ نے کہا طغی الماءُ یعنی پانی بہت چڑھ گیا۔ بِاطَّاغِیَہ اپنی شرارت کی وجہ سے۔ بعضوں نے کہا طاغیہ سے آندھی مراد ہے۔ اس نے اتنا زور کیا کہ فرشتوں کے زور سے باہر ہو گئی جیسے پانی نے نوحؑ کی قوم پر زور کیا تھا۔