Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

يُقَالُ الْمَطْلَعُ هُوَ الطُّلُوعُ، وَالْمَطْلِعُ الْمَوْضِعُ الَّذِي يُطْلَعُ مِنْهُ‏.‏ ‏{‏أَنْزَلْنَاهُ‏}‏ الْهَاءُ كِنَايَةٌ عَنِ الْقُرْآنِ أَنْزَلْنَاهُ مَخْرَجَ الْجَمِيعِ وَالْمُنْزِلُ هُوَ اللَّهُ وَالْعَرَبُ تُوَكِّدُ فِعْلَ الْوَاحِدِ فَتَجْعَلُهُ بِلَفْظِ الْجَمِيعِ، لِيَكُونَ أَثْبَتَ وَأَوْكَدَ‏

اَلمَطلَعُ بہ فتح لام مصدر ہے۔طلوع کے معنوں میں۔ اور مطلِع بکسر لام (جیسے کسائی نے پڑھا ہے) وہ مقام جہاں سے سورج نکلے۔ اِنَّا اَنزَلنٰہُ میں " ھا " یعنی ضمیر قرآن کی طرف پھتی ہے (گو قرآن کا ذکر اوپر نہیں کیا مگر اس کی شان بڑھانے کے لئے اضمار قبل الذکر کیا)۔ اَنزَلنٰہُ صیغہ جمع متکلم کا ہے حالانکہ اتارنے والا ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالٰی۔ مگر عربی زبان میں واحد کو تاکید اور اثبات کے لئے بہ صیغہ جمع لاتے ہیں۔ دوسرے تعظیما جمع کا صیغہ فرمایا جیسے بادشاہ لوگ اپنے فرمانون میں ما بدولت و اقبال لکھا کرتے ہیں۔