Sayings of the Messenger

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

‏{‏رُوحُ الْقُدُسِ‏}‏ جِبْرِيلُ ‏{‏نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الأَمِينُ‏}‏ ‏{‏فِي ضَيْقٍ‏}‏ يُقَالُ أَمْرٌ ضَيْقٌ وَضَيِّقٌ، مِثْلُ هَيْنٍ وَهَيِّنٍ وَلَيْنٍ وَلَيِّنٍ، وَمَيْتٍ وَمَيِّتٍ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏فِي تَقَلُّبِهِمْ‏}‏ اخْتِلاَفِهِمْ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ تَمِيدُ تَكَفَّأُ ‏{‏مُفْرَطُونَ‏}‏ مَنْسِيُّونَ وَقَالَ غَيْرُهُ ‏{‏فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ‏}‏ هَذَا مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ وَذَلِكَ أَنَّ الاِسْتِعَاذَةَ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَمَعْنَاهَا الاِعْتِصَامُ بِاللَّهِ ‏{‏قَصْدُ السَّبِيلِ‏}‏ الْبَيَانُ الدِّفْءُ مَا اسْتَدْفَأْتَ ‏{‏تُرِيحُونَ‏}‏ بِالْعَشِيِّ وَتَسْرَحُونَ بِالْغَدَاةِ ‏{‏بِشِقِّ‏}‏ يَعْنِي الْمَشَقَّةَ‏.‏ ‏{‏عَلَى تَخَوُّفٍ‏}‏ تَنَقُّصٍ ‏{‏الأَنْعَامِ لَعِبْرَةً‏}‏ وَهْىَ تُؤَنَّثُ وَتُذَكَّرُ، كَذَلِكَ النَّعَمُ لِلأَنْعَامِ جَمَاعَةُ النَّعَمِ ‏{‏سَرَابِيلَ‏}‏ قُمُصٌ ‏{‏تَقِيكُمُ الْحَرَّ‏}‏ وَأَمَّا ‏{‏سَرَابِيلَ تَقِيكُمْ بَأْسَكُمْ‏}‏ فَإِنَّهَا الدُّرُوعُ‏.‏ ‏{‏دَخَلاً بَيْنَكُمْ‏}‏ كُلُّ شَىْءٍ لَمْ يَصِحَّ فَهْوَ دَخَلٌ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏حَفَدَةً‏}‏ مَنْ وَلَدَ الرَّجُلُ‏.‏ السَّكَرُ مَا حُرِّمَ مِنْ ثَمَرَتِهَا، وَالرِّزْقُ الْحَسَنُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ صَدَقَةَ ‏{‏أَنْكَاثًا‏}‏ هِيَ خَرْقَاءُ، كَانَتْ إِذَا أَبْرَمَتْ غَزْلَهَا نَقَضَتْهُ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ الأُمَّةُ مُعَلِّمُ الْخَيْرِ‏.‏ ‏{‏وَالْقَانِتُ الْمُطِيعُ‏}‏‏.‏

نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الاَمِین میں روح الامین سے روح القدس یعنی جبرائیلؑ مراد ہیں۔ فَی ضَیقٍ عرب کے لوگ کہتے ہیں اَمرٌ ضَیقٍ اور ضیّق جیسے ھین اوقر ھیِّن، لَینٌ اور لَیِّنٌ مَیت اوت مَیِّتٌ ۔ ابن عباسؓ نے کہا فِی تَقَلُّبِھِم کا معنی ان کے اختلاف میں۔ اور مجاہد نے کہا تَمِیدَ جھک جائے، الٹ جائے۔ مُفرَطُون کا معنی بھلائے گئے۔ دوسرے لوگوں نے کہا فَاِذَا اقَرَأتَ القُرآنَ فَاستَعِذ بِا اللہِ اس آیت میں عبارت آگے پیچھے ہو گئی ہے۔ کیونکہ اعوذ باللہ قرآن سے پہلے پڑھنا چاہیے۔ استعاذے کا معی اللہ سے پناہ مانگنا۔ اور ابن عباسؓ نے کہا تُسِمُون کا معنی چراتے ہو۔ شَاکِلَتِہِ اپنے اپنے طریق پر، قَصدُ السَّبِیل سچے راستے کا بیان کرنا، اَلدَّفُّ ہر وہ چیز جس سے گرمی حاصل کی جائے (سردی دفع ہو)۔ تُرِیحُون شام کو لاتے ہو۔ تَسرَحُونَ صبح کو چرانے لے جاتے ہو۔ بِشِقٍّ تکلیف اٹھا کر، محنت اور مشقت سے۔ علی تَخَوُّف نقصان کر کے۔ وَ اِنَّ لَکُم فِی الاَنعَامِ لَعِبرۃً میں انعال نَعَِم کی جمع ہے۔ مذکر، مؤنث (نر اور مادہ) دونوں کو انعام اور نعم کہتے ہیں۔ اَکنَانًا جمع کن کی ہے جیسے احمال حمل کی اس کے معنی غار۔ سَرَابِیلَ تَقِیکُمُ الحَرَّ میں سَرَابِیلَ سے کرتے اور سَرَابِیلَ تَقِیکُم بَأسَکُم میں سَرَابِیلَ سے زرہیں مراد ہیں۔ دَخَلًا بَینَکُم جو ناجائز بات ہو اس کو دخل کہتے ہیں (جیسے دخل یعنی خیانت) ابن عباسؓ نے کہا حَفَدَۃً آدمی کی اولاد۔ اَلسَّکَرُ نشے کی شروب جو حرام ہے۔ رِزقًا حَسَنًا جس کو اللہ تعالٰی نے حلال کیا۔ اور سفیان بن عیینہ نے صدقہ ابو الہذیل سے نقل کیا۔ اِنکَاثًا ٹکڑے ٹکڑے۔ یہ ایک عورت کا ذکر ہے۔ اس کانام خرقاء تھا (جو مکہ میں رہتیء تھی) وہ کیا کرتی (دن بھر) سوت کاتتی پبر توڑ توڑ کر پھینک دیتی۔ ابن مسعودؓ نے کہا اُمَّۃٌ کا مطلب لوگوں کو اچھی باتیں سکھانے والا۔ اور قانت کا معنی مطیع، فرمانبردار۔

 

Chapter No: 1

باب قَوْلِهِ ‏{‏وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ‏}‏

The Statement of Allah, "... And of you there are some who are sent back to senility ..." (V.16:70)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ مِنکُم مَن یُّرَدُّ اِلٰی اَرذَلِ العُمُرِ ۔ کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَعْوَرُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو ‏"‏ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْكَسَلِ، وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ‏"‏‏

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle used to invoke thus: "O Allah! I seek refuge with You from miserliness, laziness; from old geriatric age the punishment in the grave; from the affliction of Ad-Dajjal; and from the afflictions of life and death.

ہم سے موسٰی بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ھارون بن موسٰی ابو عبداللہ اعور نے، انہوں نے شعیب بن خباب سے، انہوں نے انس بن مالکؓ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ یوں دعا کرتے تھے یا اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخیلی اور سستی سے، اور ارذل العمر (شدید بڑھاپا) اور قبر کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے، اور زندگی اور موت کے فتنے سے۔