Sayings of the Messenger

 

‏‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏بِطَغْوَاهَا‏}‏ بِمَعَاصِيهَا ‏.‏ ‏{‏وَلاَ يَخَافُ عُقْبَاهَا‏}‏ عُقْبَى أَحَدٍ

اور مجاہد نے کہا ضُحٰی سے روشنی مراد ہے۔ اِذا تلاھَا اس کے پیچھے نکلا۔ طحاھا پھیلایا، بچھایا۔ دَسَّاھَا گمراہ کر دیا۔ فالھمھا یعنی نیکی اور بدی دونوں کا راستہ اس کو بتلا دیا۔ اور مجاہد نے کہا بِطغوھا اپنے گناہوں کی وجہ سے۔ وَ لَا یُخَافُ عُقبٰھَا اللہ تعالٰی کو کسی کا ڈر نہیں کہ کوئی اس سے بدلہ لے سکے گا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ‏{‏إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا‏}‏ انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ، مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ، مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ ‏"‏‏.‏ وَذَكَرَ النِّسَاءَ فَقَالَ ‏"‏ يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ يَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، فَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ وَقَالَ ‏"‏ لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ عَمِّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abdullah bin Zama : That he heard the Prophet delivering a sermon, and he mentioned the shecamel and the one who hamstrung it. Allah's Apostle recited: 'When, the most wicked man among them went forth (to hamstrung the she-camel).' (91.12.) Then he said, "A tough man whose equal was rare and who enjoyed the protection of his people, like Abi Zama went forth to (hamstrung) it." The Prophet then mentioned about the women (in his sermon). "It is not wise for anyone of you to lash his wife like a slave, for he might sleep with her the same evening." Then he advised them not to laugh when somebody breaks wind and said, "Why should anybody laugh at what he himself does?"

ہم سے موسٰی بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے، انہوں نے اپنے والد سے، ان کو عبداللہ بن زمعہ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہﷺ سے خطبہ پڑھتے ہیں سنا۔ آپؐ نے صالحؑ کی اونٹنی اور اس شخص کا ذکر کیا جس نے اونٹنی کو زخمی کیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب ان میں بدبخت اس کام کے لئے اٹھ کھڑا ہوا یعنی ان میں کا ایک زور آور شریر مضبوط شخص جو اپنی قوم میں ابو زمعہ کی طرح تھا اٹھ کھڑا ہوا (اس کا نام قدار تھا) اور آپؐ نے عورتوں کا بھی ذکر کیا اور فرمایا تم میں کوئی کوئی اپنی عورت کو غلام لونڈی کی طرح مارتا ہے۔ پھر اسی دن شام کو اس کو اپنے پاس لٹاتا ہے۔ پھر رسول اللہﷺ نے لوگوں کو یہ نصیحت کی کہ گوز لگانے پر (پادنے پر) ہنسو نہیں۔کیا تم اس کام پر ہنستے ہو۔ جو تم خود کرتے ہو (ہر آدمی گوز لگاتا ہے)۔ اور ابو معاویہ نے یوں کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیرؓ) سے، انہوں نے عبداللہ بن زمعہؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے (اس حدیث میں) یوں فرمایا ابو زمعہ کی طرح جو زبیر بن عوام کا چچا تھا۔