Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏إِذَا سَجَى‏}‏ اسْتَوَى ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ أَظْلَمَ وَسَكَنَ ‏.‏ ‏{‏عَائِلاً‏}‏ ذُو عِيَالٍ

مجاہد نے کہا اِذَا سَجَی جب برابر ہو جائے۔ اروں نے کہا جب اندھیری ہو جائے یا تھم جائے۔ عَائِلًا بچے والا، محتاج

 

Chapter No: 1

باب قَوْلِهِ:‏{‏ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى‏}‏

The Statement of Allah, "Your Lord has neither forsaken you nor hates you." (V.93:3)

باب : اللہ کے اس قول مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی کی تفسیر

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَيْطَانُكَ قَدْ تَرَكَكَ، لَمْ أَرَهُ قَرِبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏وَالضُّحَى * وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى * مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى‏}‏

Narrated By Jundub bin Sufyan : Once Allah's Apostle became sick and could not offer his night prayer (Tahajjud) for two or three nights. Then a lady (the wife of Abu Lahab) came and said, "O Muhammad! I think that your Satan has forsaken you, for I have not seen him with you for two or three nights!" On that Allah revealed: 'By the fore-noon, and by the night when it darkens, your Lord (O Muhammad) has neither forsaken you, nor hated you.' (93.1-3)

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے، کہا ہم سے اسود بن قیس نے، کہا میں نے جندب بن سفیان سے سنا، انہوں نے کہا رسول اللہﷺ کا مزاج گرامی ناساز ہوا تھا۔ آپؐ دو تین راتوں تک (تہجد کے لئے) نہیں اٹھے۔ ایک عورت آئی (عوراء بنت حرب ،ابو سفیان کی بہن، حمالۃ الحطب ابو لہب کی جورو) کہنے لگی اے محمدﷺ! میں سمجھتی ہوں تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا۔ وہ دو تین راتوں سے تیرے پاس نہیں آیا۔ اس وقت اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری وَ الضُّحٰی وَ اللّیل اِذَا سَجَی۔

Chapter No: 2

باب قَوْلِهِ: ‏{‏مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى‏}‏

The Statement of Allah, "Your Lord has neither forsaken you nor hates you." (V.93:3)

باب : اللہ کے اس قول مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی کی تفسیر

تُقْرَأُ بِالتَّشْدِيدِ وَالتَّخْفِيفِ بِمَعْنًى وَاحِدٍ مَا تَرَكَكَ رَبُّكَ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا تَرَكَكَ وَمَا أَبْغَضَكَ‏.‏

تشدید دال سے پڑھا ہے (مشہور قراءت یہی ہے) بعضوں نے تخفیف دال سے بھی پڑھا ہے یعنی وَدَعَکَ دونوں کا معنی ایک ہے یعنی اللہ نے تجھ کو چھوڑ نہیں دیا۔ ابن عباسؓ نے کہا اللہ نے تجھ کو چھوڑ نہیں دیا، تیرا دشمن نہیں بنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا الْبَجَلِيَّ، قَالَتِ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أُرَى صَاحِبَكَ إِلاَّ أَبْطَأَكَ‏.‏ فَنَزَلَتْ ‏{‏مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى‏}‏

Narrated By Jundub Al-Bajali : A lady said, "O Allah's Apostle! I see that your friend has delayed. (in conveying Qur'an) to you." So there was revealed: 'Your Lord (O Muhammad) has neither forsaken you, not hated you.' (93.1-3)

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے اسود بن قیس سے، کہا میں نے جندب یحلی سے سنا، وہ کہتے تھے ایک عورت (ام المؤمنین خدیجہؓ) کہنے لگیں یا رسول اللہﷺ! میں سمجھتی ہوں آپؐ کے دوست جبریلؑ نے آپؐ کے پاس آنے میں دیر لگائی (یا آپؐ کو قرآن یاد کرنے میں سست سمجھا جب تو جلدی جلدی قرآن نہیں لاتے) اس وقت یہ آیت اتری مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ الخ۔