Sayings of the Messenger

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَبْصِرْ بِهِمْ وَأَسْمِعْ اللَّهُ يَقُولُهُ، وَهُمُ الْيَوْمَ لاَ يَسْمَعُونَ وَلاَ يُبْصِرُونَ ‏{‏فِي ضَلاَلٍ مُبِينٍ‏}‏ يَعْنِي قَوْلَهُ ‏{‏أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ‏}‏، الْكُفَّارُ يَوْمَئِذٍ أَسْمَعُ شَىْءٍ وَأَبْصَرُهُ، ‏{‏لأَرْجُمَنَّكَ‏}‏ لأَشْتِمَنَّكَ ‏{‏وَرِئْيًا‏}‏ مَنْظَرًا‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ‏{‏تَؤُزُّهُمْ أَزًّا‏}‏ تُزْعِجُهُمْ إِلَى الْمَعَاصِي إِزْعَاجًا‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏إِدًّا‏}‏ عِوَجًا‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏وِرْدًا‏}‏ عِطَاشًا ‏{‏أَثَاثًا‏}‏ مَالاً ‏{‏إِدًّا‏}‏ قَوْلاً عَظِيمًا ‏{‏رِكْزًا‏}‏ صَوْتًا ‏{‏غَيًّا‏}‏ خُسْرَانًا ‏{‏بُكِيًّا‏}‏ جَمَاعَةُ بَاكٍ ‏{‏صُلِيًّا‏}‏ صَلِيَ يَصْلَى ‏{‏نَدِيًّا‏}‏ وَالنَّادِي مَجْلِسًا‏.‏

ابن عباسؓ نے کہا یہ اللہ فرماتا ہے کہ آج کے دن (یعنی دنیا میں) نہ کافر سنتے ہیں نہ یکھتے ہیں بلکہ کھلی گمراہی میں ہیں مطلب یہ ہے کہ اسمع بھم و ابصر قیامت کے دن کافر خوب سنتے اور خوب دیکھتے ہوںگے(مگر ان کا اس وقت کا سننا اور دیکھنا کچھ فائدہ نہ دیگا )لا رجمنّک میں تجھ پر گالیوں کا پتھراؤ اور کروں گا ۔ریباً منظر (دکھاوا)اور ابو وائل شقیق بن سلمہ نے کہا مریم جانتی تھی کہ جو پرہیزگار ہوتا ہے وہ صاحب عقل ہوتا ہے اسی لئے کہنے لگے کہ میں تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتی ہوں ۔اگر تو پرہیزگار ہے اور سفیان بن عیینہ نے کہا تَؤُزُھُمۡ ازّاً کا معنی یہ ہے کہ شیطان کافروں کو گناہ کی طرف گھسیٹتے ہیں مجاہد نے کہا اِدّاً کا معنیٰ کج اور ٹیڑھی (غلط) بات (یا کج اور ٹیڑھی باتیں) ابن عباسؓ نے کہا وِرۡداً پیاسے اور اثاثاً مال و اسباب ادّاً بڑی بات ہے رِکۡزاً (ہلکی پست) آواز۔ غیّاً نقصان ٹوٹا۔بُکیّاً باکی،کی جمع ہے۔یعنی رونے والے(اصل میں بکویا تھا) صَلِیّاً مصدر ہے صلی یصلی (باب سَمِعَ یَسۡمَعُ) سے یعنی جلنا ندیٰ اور نادیٰ دونوں کے معنی مجلس۔

 

Chapter No: 1

باب قَوْلِهِ عَزَّوَجَلَّ ‏{‏وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ‏}‏ ‏

The Statement of Allah, "And warn them (O Muhammad (s.a.w)) of the Day of grief and regrets ..." (V.19:39)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول وَ اَنذِر ھُم یَومَ الحَسرَۃِ کی تفسیر

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُؤْتَى بِالْمَوْتِ كَهَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ فَيَقُولُ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا فَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ، ثُمَّ يُنَادِي يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ، فَيَقُولُ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا فَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ، وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ، فَيُذْبَحُ ثُمَّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، خُلُودٌ فَلاَ مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ، خُلُودٌ فَلاَ مَوْتَ ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ‏}‏ وَهَؤُلاَءِ فِي غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا ‏{‏وَهُمْ لاَ يُؤْمِنُونَ‏}‏‏"‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle said, "On the Day of Resurrection Death will be brought forward in the shape of a black and white ram. Then a call maker will call, 'O people of Paradise!' Thereupon they will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' By then all of them will have seen it. Then it will be announced again, 'O people of Hell !' They will stretch their necks and look carefully. The caller will say, 'Do you know this?' They will say, 'Yes, this is Death.' And by then all of them will have seen it. Then it (that ram) will be slaughtered and the caller will say, 'O people of Paradise! Eternity for you and no death O people of Hell! Eternity for you and no death."' Then the Prophet, recited: 'And warn them of the Day of distress when the case has been decided, while (now) they are in a state of carelessness (i.e. the people of the world) and they do not believe.' (19.39)

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا ہم سے ابو صالح نے، انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے، انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) موت کو ایک چت کبلے مینڈھے کی شکل میں لیکر آئیں گے۔ پھر ایک پکارنے والا (فرشتہ) پکارے گا بہشت والو! وہ گردن اٹھائیں گے اور ادھر نظر ڈالیں گے وہ فرشتہ کہے گا تم اس مینڈھے کو پہچانتے ہو وہ کہیں گے ہاں یہ موت ہے۔ ہم اس کا ذائقہ چکھ چکے ہیں۔ پھر وہ پکارے گا دوزخ والو! وہ بھی گردن اٹھا کر ادھر دیکھنے لگیں گے (خوش ہونے لگیں گے شاید دوزخ سے نکالنے کا حکم دیا جاتا ہے) تو فرشتہ کہے گا اس مینڈھے کو پہچانتے ہو۔ وہ کہیں گے ہاں یہ موت ہے ہم سب اس کو دیکھ چکے ہیں۔ اس وقت وہ مینڈھا ذبح کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ فرشتہ کہے گا بہشتیو! تم کو ہمیشہ بہشت میں رہنا ہے اور دوزخیو! تم کو ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے۔ اب کوئی مرنے والا نہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی وَ اَنذِر ھُم الخ یعنی دینا کے لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ایمان نہیں لاتے۔

Chapter No: 2

باب قَوْلِهِ ‏{‏وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلاَّ بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ ‏}‏

The Statement of Allah, "And we (angels) descend not except by the Command of your Lord. To Him belongs what is before us and what is behind us and what is between those two ..." (V.19:64)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمرِ رَبِّکَ لَہُ مَا بَینَ اَیدِیَنَا کی تفسیر

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِجِبْرِيلَ ‏"‏ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا فَنَزَلَتْ ‏{‏وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلاَّ بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا‏}‏‏"‏

Narrated By Ibn Abbas : The Prophet said to Gabriel, "What prevents you from visiting us more often than you visit us now?" So there was revealed: 'And we (angels) descend not but by the command of your Lord. To Him belongs what is before us and what is behind us...' (19.64)

ہم سے ابو نعیم (فضل بن دکین نے بیان کیا) کہا ہم سے عمر بن ذر نے، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے سعید بن جبیرؓ سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا نبی ﷺ نے جبرائیلؑ سے فرمایا تم ہمارے پاس جیسے آیا کرتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آیا کرتے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمرِ رَبِّکَ لَہُ مَا بَینَ اَیدِیَنَا وَ مَا خَلفَنَا۔

Chapter No: 3

باب قَوْلِهِ ‏{‏أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا‏}‏

The Statement of Allah, "Have you seen him who disbelieved in Our Ayat and said 'I shall certainly be given wealth and children?'" (V.19:77)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول اَ فَرَاَیتَ الَّذِی کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوتَیَنَّ الخ کی تفسیر

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ سَمِعْتُ خَبَّابًا، قَالَ جِئْتُ الْعَاصِيَ بْنَ وَائِلٍ السَّهْمِيَّ أَتَقَاضَاهُ حَقًّا لِي عِنْدَهُ، فَقَالَ لاَ أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ فَقُلْتُ لاَ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ‏.‏ قَالَ وَإِنِّي لَمَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ إِنَّ لِي هُنَاكَ مَالاً وَوَلَدًا فَأَقْضِيكَهُ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا‏}‏ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَحَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ‏.‏

Narrated By Khabbab : I came to Al-'Asi bin Wail As-Sahmi and demanded something which he owed me. He said, "I will not give you (your money) till you disbelieve in Muhammad." I said, "No, I shall not disbelieve in Muhammad till you die and then be resurrected." He said, "Will I die and then be resurrected?" I said, 'Yes'. He said', "Then I will have wealth and children there, and I will pay you (there)." So this Verse was revealed: 'Have you then seen him who disbelieved in Our Signs and (yet) says: I shall certainly be given wealth and children? (19.77)

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابو الضحٰی (مسلم بن صبیح) سے، انہوں نے مسروق بن اجدع سے، انہوں نے کہا میں نے خباب بن ارتؓ سے سنا، وہ کہتے تھے میں نے عاص بن وائل سہمی کے پاس جا کر اپنے قرض کا تقاضا کیا جو میرا اس پر نکلتا تھا۔ وہ کہنے لگا میں تیرا قرض اس وقت دونگا جب تو محمدﷺ سے پھر جائے (کفر اختیار کرے)۔ میں نے کہا میں تو تیرے مرنے اور پھر جینے تک بھی کفر اختیار نہیں کرونگا۔ وہ کہنے لگا کیا میں مرنے کے بعد پھر جیوں گا۔ میں نے کہا بیشک۔ اس نے کہا پھر تو میں وہاں (یعنی آخرت میں) مال اور اولاد پیدا کرونگا اور تیرا قرضہ ادا کر دونگا۔ اس وقت یہ آیت اتری اَ فَرَاَیتَ الَّذِی الخ اس حدیث کو سفیان ثوری، شعبہ حفص، ابو معاویہ اور وکیع نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے۔

Chapter No: 4

باب قَوْلِهِ ‏{‏أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا‏}‏ قَالَ مَوْثِقًا

"Has he known the Unseen, or has he taken a convenant from the Most Gracious (Allah)?" (V.19:78)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول اَ طَّلَعَ الغَیبَ ام اتَّحَذَ عِندَ الرَّحمٰنِ عَھدًا کی تفسیر۔

عَھدًا کا معنی مضبوط اقرار

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ كُنْتُ قَيْنًا بِمَكَّةَ، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِي بْنِ وَائِلِ السَّهْمِيِّ سَيْفًا، فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ فَقَالَ لاَ أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ‏.‏ قُلْتُ لاَ أَكْفُرُ بِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ، ثُمَّ يُحْيِيَكَ‏.‏ قَالَ إِذَا أَمَاتَنِي اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَنِي، وَلِي مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا * أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا‏}‏‏.‏ قَالَ مَوْثِقًا‏.‏ لَمْ يَقُلِ الأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ سَيْفًا وَلاَ مَوْثِقًا‏.‏

Narrated By Khabbab : I was a blacksmith in Mecca Once I made a sword for Al-'Asi bin Wail As-Sahmi. When I went to demand its price, he said, "I will not give it to you till you disbelieve in Muhammad." I said, "I shall not disbelieve in Muhammad till Allah make you die and then bring you to life again." He said, "If Allah should make me die and then resurrect me and I would have wealth and children." So Allah revealed: 'Have you seen him who disbelieved in Our Signs, and (yet) says I shall certainly be given wealth and children? Has he known the unseen or has he taken a covenant from (Allah) the Beneficent?' (19.77-78)

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابو الضحٰی سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے خباب بن ارتؓ سے، انہوں نے کہا میں مکہ میں (ہجرت سے پہلے) لوہاری کا پیشہ کیا کرت تھا۔ میں نے عاصم بن وائل سہمی کے لئے ایک تلوار بنائی۔ اس کی مزدوری کے تقاضے کے لئے عاص کے پاس گیا۔ وہ کہنے لگا میں تجھ کو نہیں دونگا جب تک تو محمدﷺ سے پھر جائے ۔میں نے کہا تو مر کر جی اٹھے تب بھی میں محمدﷺ سے پھرنے والا نہیں۔ کہنے لگا اچھا تو خیر جب مرنے کے بعد اللہ مجھ کو جلائے گا تو آخر مال و اولاد بھی مجھ کو دے گا۔ اس وقت اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اَ فَرَاَیتَ الَّذِی کَفَرَ الخ عھدا کا معنی مضبوط اقرار۔ عبداللہ اشجعی نے بھی اس حدیث کو سفیان ثوری سے روایت کیا ہے لیکن تلوار بنانے کا ذکر نہیں ہے نہ ہی عھدا کی تفسیر مذکور ہے۔

Chapter No: 5

باب ‏{‏كَلاَّ سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا‏}‏

"Nay, We shall record what he says and We shall increase his torment (in the Hell)." (V.19:79)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول کَلَّا سَنَکتُبُ مَا یَقُولُ وَ نَمُدُّلَہُ مِنَ العَذَابِ مَدًّاکی تفسیر

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ لِي دَيْنٌ عَلَى الْعَاصِي بْنِ وَائِلٍ قَالَ فَأَتَاهُ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ لاَ أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ ثُمَّ تُبْعَثَ‏.‏ قَالَ فَذَرْنِي حَتَّى أَمُوتَ ثُمَّ أُبْعَثَ، فَسَوْفَ أُوتَى مَالاً وَوَلَدًا، فَأَقْضِيكَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا‏}‏

Narrated By Masruq : Khabbab said, "During the Pre-Islamic period, I was a blacksmith and Al-Asi bin Wail owed me a debt." So Khabbab went to him to demand the debt. He said, "I will not give you (your due) till you disbelieve in Muhammad." Khabbab said, "By Allah, I shall not disbelieve in Muhammad till Allah makes you die and then resurrects you." Al-Asi said, "So leave me till I die and then be resurrected, for I will be given wealth and children whereupon I will pay you your debt." So this Verse was revealed: 'Have you seen him who disbelieved in Our Signs and, (yet) says: I shall certainly be given wealth and children.' (19.77)

ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے سلیمان اعمش سے، انہوں نے ابو الضحٰی سے سنا، وہ مسروق سے روایت کرتے تھے، وہ خباب بن ارتؓ سے، انہوں نے کہا میں جاہلیت کے زمانے میں لوہاری کا پیشہ کیا کرتا تھا۔ عاص بن وائل پر میرا کچھ قرضہ نکلتا تھا میں اس کے تقاضے کو گیا۔ تو کیا کہنے لگا میں نہیں دونگا جب تک تو محمدﷺ سے پھر نہ جائے۔ میں نے کہا خدا کی قسم! تو مر کر دوبارہ جیئے تب بھی میں محمدﷺ سے پھرنے والا نہیں۔ کہنے لگا پھر کیا ہے ، ابھی ٹھہر جا مر کر جیوں گا تو مال و دولت، اولاد ملے گی تو میں تیرا قرضہ ادا کر دونگا۔ تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اَ فَرَاَیتَ الَّذِی کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا ۔

Chapter No: 6

باب قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا‏}‏

"And We shall inherit from him (at his death) all that he talks of (his wealth and children), and he shall come to Us alone." (V.19:80)

باب : اللہ تعالٰی کے اس قول وَ نَرِثُہُ مَا یَقُولُ وَ یَأتِینَا فَردًاکی تفسیر۔ ابن عباسؓ نے کہا وتخرُّ الجبالُ ھَدًّا میں ھَدًّا کے معنی گر جانا

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏الْجِبَالُ هَدًّا‏}‏ هَدْمًا‏.

حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ كُنْتُ رَجُلاً قَيْنًا، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِي بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ لِي لاَ أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَنْ أَكْفُرَ بِهِ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ‏.‏ قَالَ وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ فَسَوْفَ أَقْضِيكَ إِذَا رَجَعْتُ إِلَى مَالٍ وَوَلَدٍ‏.‏ قَالَ فَنَزَلَتْ ‏{‏أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالاً وَوَلَدًا * أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا * كَلاَّ سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا * وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا‏}‏‏.‏

Narrated By Khabbab : I was a blacksmith and Al-Asi Bin Wail owed me a debt, so I went to him to demand it. He said to me. "I will not pay you your debt till you disbelieve in Muhammad." I said, "I will not disbelieve in Muhammad till you die and then be resurrected." He said, "Will I be resurrected after my death? If so, I shall pay you (there) if I should find wealth and children." So there was revealed: 'Have you seen him who disbelieved in Our Signs, and yet says: I shall certainly be given wealth and children? Has he, known to the unseen or has he taken a covenant from (Allah) the Beneficent? Nay ! We shall record what he says, and we shall add and add to his punishment. And We shall inherit from him all that he talks of, and he shall appear before Us alone.' (19.77-80)

ہم سے یحیی بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابو الضحٰی سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے خبابؓ سے، انہوں نے کہا (جاہلیت کے زمانے میں) میں لوہاری کا پیشہ کیا کرتا تھا۔ عاص بن وائل پر میرا کچھ قرض تھا۔ میں تقاضا کرنے کے لئے اس کے پاس گیا۔ وہ کہنے لگا میں تو تیرا قرضہ کبھی ادا نہیں کرونگا جب تک تو محمدﷺ سے نہ پھر جائے۔ میں نے جواب دیا میں تو محمدﷺ سے اس وقت تک نہیں پھرونگا جب تک تو مرے اور مر کر جیئے۔ اس نے کہا کیا میں مرنے کے بعد پھر جیوں گا پھر (کاہے کی جلدی کرتا ہے) جب جیوں گا اور مال، دولت، اولاد حاصل کرونگا تو تیرا قرضہ ادا کر دونگا۔خباب نے کہا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اَ فَرَاَیتَ الَّذِی کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا آخر تک۔