Sayings of the Messenger

 

123Last ›

Chapter No: 1

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ‏{‏وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ ‏}‏

The Statement of Allah, "... And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell ..." (V.4:93)

باب :

اور اللہ تعالیٰ نے (سورت مائدہ میں )فرمایا جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مار ڈالے اس کا بدلہ دوزخ ہے۔اخیر آیت تک۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا، وَهْوَ خَلَقَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ، أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ‏"‏‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا ‏{‏وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ‏}‏ الآيَةَ‏

Narrated By 'Abdullah : A man said, "O Allah's Apostle! Which sin is the greatest in Allah's Sight?" The Prophet said, "To set up a rival unto Allah though He Alone created you." The man said, "What is next?" The Prophet said, "To kill your son lest he should share your food with you." The man said, "What is next?" The Prophet said, "To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbour." So Allah revealed in confirmation of this narration: "And those who invoke not with Allah, any other god. Nor kill, such life as Allah has forbidden except for just cause nor commit illegal sexual intercourse. And whoever does this shall receive the punishment." (25.68)

ہم سے قتیبہ ابن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے جریر بن عبد الحمید نے انہوں اعمش سے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے عمرو بن شرحبیل سے انہوں نے کہا عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا ایک شخص(خود عبداللہ بن مسعودؓ ) نے عرض کیا یا رسول اللہ،اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کونسا ہے آپ نے فرمایا اللہ کے برابر والا کسی اور کو بنانا حالاں کہ اللہ ہی نے تجھ کو پیدا کیا اس نے پوچھا پھر کونسا گناہ؟ آپ نے فرمایا اپنی اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا کہ اس کو کھلانا پلانا پڑے گا۔پوچھا پھر کونسا گناہ فرمایا اپنے پڑوسی کی جورو سے حرام کاری کرنا پھر اللہ تعالی نے قرآن میں اس کی تصدیق اتاری (سورت فرقان میں) فرمایا اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسرے کو خدا نہیں پکارتے اور جس جان کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے اس کو ناحق نہیں مارتے نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کام کرے گا وہ عذاب میں گرفتار ہو گا۔


حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَنْ يَزَالَ الْمُؤْمِنُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ، مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle said, "A faithful believer remains at liberty regarding his religion unless he kills somebody unlawfully."

ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا کہا ہم سے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا دین برابر کشادہ رہتا ہے (اس کو ہر وقت مغفرت کی امید رہتی ہے) جب تک ناحق خون نہ کرے۔


حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ إِنَّ مِنْ وَرْطَاتِ الأُمُورِ الَّتِي لاَ مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ فِيهَا، سَفْكَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : One of the evil deeds with bad consequence from which there is no escape for the one who is involved in it is to kill someone unlawfully.

مجھ سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا کہا ہم سے اسحاق بن سعید نے کہا میں نے اپنے والد سے سنا وہ عبداللہ بن عمرؓ سے نقل کرتے تھے انہوں نے کہا ہلاکت کا بھنور جس میں گرے بعد پھر نکلنے کی امید نہیں ہے وہ خون ناحق کرنا ہے جس کو اللہ نے حرام کیا۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah : The Prophet said, "The first cases to be decided among the people (on the Day of Resurrection) will be those of blood-shed."

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابو وائل سے انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن پہلے آپس کے خون خرابے کا فیصلہ کیا جائے گا۔


حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ حَلِيفَ بَنِي زُهْرَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَ، شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَقِيتُ كَافِرًا فَاقْتَتَلْنَا، فَضَرَبَ يَدِي بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا، ثُمَّ لاَذَ بِشَجَرَةٍ وَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ‏.‏ آقْتُلُهُ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقْتُلْهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ طَرَحَ إِحْدَى يَدَىَّ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ مَا قَطَعَهَا، آقْتُلُهُ قَالَ ‏"‏ لاَ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ ‏"‏‏

Narrated By Al-Miqdad bin 'Amr Al-Kindi : An ally of Bani Zuhra who took part in the battle of Badr with the Prophet, that he said, "O Allah's Apostle! If I meet an unbeliever and we have a fight, and he strikes my hand with the sword and cuts it off, and then takes refuge from me under a tree, and says, 'I have surrendered to Allah (i.e. embraced Islam),' may I kill him after he has said so?" Allah's Apostle said, "Do not kill him." Al-Miqdad said, "But O Allah's Apostle! He had chopped off one of my hands and he said that after he had cut it off. May I kill him?" The Prophet said. "Do not kill him for if you kill him, he would be in the position in which you had been before you kill him, and you would be in the position in which he was before he said the sentence."

ہم سے عبدان نے بیان کیا کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ سے عطاء بن یزید نے بیان کیا ان سے عبیداللہ بن عدی بن خیار نے ان سے مقداد بن عمرو کندی نے جو بنی زہرہ کے حلیف تھے وہ بدر کی جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے انہوں نے کہا یا رسول اللہ اگر میں ایک کافر سے مقابلہ کروں اس سے لڑائی شروع ہو وہ تلوار سے میرا ہاتھ اڑا دے پھر ایک درخت کی آڑ لے کر کہنے لگے میں اللہ کا تابعدار بن گیا (مسلمان ہو گیا ) کیا ایسا کہنے پر بھی میں اس کو قتل کر سکتا ہوں آپ نے فرمایا نہیں اس کو قتل نہ کر۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (یہ تو بڑی مشکل ہے) اس نے میرا ایک ہاتھ اُڑا دیا (مجھ کو لنجہ کر دیا ) اب ایسا کرنےکے بعد (اپنے بچانے کیلئے) کہتا ہے میں خدا کے لیے مسلمان ہو گیا۔ کیا میں اس کو قتل کر سکتا ہوں۔ آپ نے فرمایا نہیں اس کو قتل نہ کر اگر تو اس کو (اسلام لانے کے بعد )قتل کرے گا تو وہ تو ایسا ہو جائے گا جیسا تو اس کے قتل کرنے سے پہلے تھا (یعنی مظلوم معصوم الدم)اور تو ایسا ہو جائے جیسا وہ تھا اسلام لانے سے پہلے ( یعنی مباح الدم )


وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِلْمِقْدَادِ ‏"‏ إِذَا كَانَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يُخْفِي إِيمَانَهُ مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ، فَقَتَلْتَهُ، فَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ ‏"‏‏.

The Prophet also said to Al-Miqdad, "If a faithful believer conceals his faith (Islam) from the disbelievers, and then when he declares his Islam, you kill him, (you will be sinful). Remember that you were also concealing your faith (Islam) at Mecca before."

اور حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے روایت کیا انہوں نے ابن عباسؓ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد بن اسودؓ سے فرمایا جب کافروں کے ساتھ ایک مومن آدمی ہو جو (ڈر کے مارے ) اپنا ایمان ان سے چھپاتا ہو (تقیہ کرتا ہو ) پھر وہ ایمان ظاہر کر دے اور تو اس کو مار ڈالے ( یہ کیونکر درست ہو گا ) خود تو بھی مکہ میں پہلے اپنا ایمان چھپاتا تھا۔

Chapter No: 2

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَمَنْ أَحْيَاهَا‏}‏

The Statement of Allah, "And if anyone saved a life ..." (V.5:32)

باب: اللہ تعالٰی کا (سورت مائدہ میں) یوں فرمانا جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچا لی۔

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ حَرَّمَ قَتْلَهَا إِلاَّ بِحَقٍّ حَيِيَ النَّاسُ مِنْهُ جَمِيعًا‏

Ibn Abbas said, "Anyone who regards killing as prohibited except for a just cause (then it would be as if) he saved the life of all of mankind."

ابن عباسؓ نے کہا مَن اَحیَاھا کا معنے یہ ہے جس نے ناحق خون کرنا حرام رکھا گویا سب لوگوں کی جان بچا لی۔

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ إِلاَّ كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا ‏"

Narrated By 'Abdullah : The Prophet said, "No human being is killed unjustly, but a part of responsibility for the crime is laid on the first son of Adam who invented the tradition of killing (murdering) on the earth. (It is said that he was Qabil).

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے انہوں نے مسروق سے انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا جب (دنیا میں ) کہیں کوئی (ناحق ) خون ہوتا ہے تو آدم کے پہلے بیٹے قابیل پر اس کے گناہ کا ایک حصہ ڈالا جاتا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : The Prophet said, "After me (i.e. after my death), do not become disbelievers, by striking (cutting) the necks of one another.

ہم سے ابو الولید نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا مجھ کو واقد بن عبد اللہ نے خبر دی انہوں نے اپنے والد (محمد بن زید بن عبد اللہ بن عمرؓ ) سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہیں ایسا نہ کرنا میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر بن جاؤ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ‏"‏ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Abu Zur'a bin 'Amr bin Jarir : The Prophet said during Hajjat-al-Wada', "Let the people be quiet and listen to me. After me, do not become disbelievers, by striking (cutting) the necks of one another."

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر ) نے کہا ہم سے شعبہ بن حجا ج نے انہوں نے علی بن مدرک سے کہا میں نے ابو ذرعہ سے سنا جو عمرو بن جریر کے بیٹے تھے انہوں نے اپنے دادا جریر بن عبد اللہ بجلی سے انہوں نے کہا حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ذرا لوگوں کو تو خاموش کر (جب جریر نے ان کو خاموش کیا تو ) آپ نے فرمایا، دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا اس حدیث کو ابو بکرہؓ اور ابن عباسؓ صحابیوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ( ان کی روایتیں کتاب الحج میں گزر چکی ہیں )۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ‏"‏‏.‏ شَكَّ شُعْبَةُ‏.‏ وَقَالَ مُعَاذٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ ‏"‏ الْكَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ وَقَتْلُ النَّفْسِ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : The Prophet said, "Al-Kaba'ir (the biggest sins) are: To join others (as partners) in worship with Allah, to be undutiful to one's parents," or said, "to take a false oath." (The sub-narrator, Shu'ba is not sure) Mu'adh said: Shu'ba said, "Al-kaba'ir (the biggest sins) are: (1) Joining others as partners in worship with Allah, (2) to take a false oath (3) and to be undutiful to one's parents," or said, "to murder (someone unlawfully).

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن جعفر نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے انہوں نے فراس بن یحیٰی سے انہوں نے عامر بن شعبی سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرو سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا بڑے بڑے گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شرک کرنا ،ماں باپ کو ستانا یا عمدًا جھوٹی قسم کھانا یہ شعبہ کا شک ہے اور معاذ بن معاذ عنبری نے کہا (اس کو اسمٰعیلی نے وصل کیا ) ہم سے شعبہ نے بیان کیا اس روایت میں یوں ہے کہ بڑے گناہ یہ ہیں اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اور عمدًا جھوٹی قسم کھانا اور ماں باپ کو ستانا یا یوں کہا خون کرنا۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْكَبَائِرُ ‏"‏‏.‏ وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَوْلُ الزُّورِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ وَشَهَادَةُ الزُّورِ ‏"‏‏

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "The biggest of Al-Kaba'ir (the great sins) are (1) to join others as partners in worship with Allah, (2) to murder a human being, (3) to be undutiful to one's parents (4) and to make a false statement," or said, "to give a false witness."

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا کہا ہم کو عبد الصمد بن وارث نے خبر دی کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے عبید اللہ بن ابی بکر نے بیان کیا انہوں نے انس سے سنا انہوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سند اور امام بخاری نے کہا مجھ سے عمرو بن مرزوق نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عبید اللہ بن ابی بکر سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا بڑے سے بڑے گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شریک کرنا ، خون کرنا ، ماں باپ کو ستانا ،جھوٹ بولنا یا یوں فرمایا جھوٹی گواہی دینا۔


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ـ رضى الله عنهما ـ يُحَدِّثُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ ـ قَالَ ـ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ ـ قَالَ ـ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَجُلاً مِنْهُمْ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ـ قَالَ ـ فَكَفَّ عَنْهُ الأَنْصَارِيُّ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَالَ لِي ‏"‏ يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ أَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَىَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ‏

Narrated By Usama bin Zaid bin Haritha : Allah's Apostle sent us (to fight) against Al-Huraqa (one of the sub-tribes) of Juhaina. We reached those people in the morning and defeated them. A man from the Ansar and I chased one of their men and when we attacked him, he said, "None has the right to be worshipped but Allah." The Ansari refrained from killing him but I stabbed him with my spear till I killed him. When we reached (Medina), this news reached the Prophet. He said to me, "O Usama! You killed him after he had said, 'None has the right to be worshipped but Allah?"' I said, "O Allah's Apostle! He said so in order to save himself." The Prophet said, "You killed him after he had said, 'None has the right to be worshipped but Allah." The Prophet kept on repeating that statement till I wished I had not been a Muslim before that day.

ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا کہا ہم سے ہشیم نے کہا ہم کو حصین بن عبدالرحمان نے کہا ہم سے ابو ظبیان ( حصین بن جندب ) نےبیان کیا کہا میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حرقہ قبیلے کی طرف بھیجا جو جہینہ قبیلے کی ایک شاخ ہے (یہ واقعہ ۸ یا ۷ ہجری کا ہے )اسامہ کہتے ہیں ہم نے صبح سویرے ان پر حملہ کیا اور ان کو شکست دی اور ہوا یہ کہ میں اور ایک انصاری آدمی (نام نا معلوم ) دونوں نے ان میں کے ایک کافر (مرواس بن عمرو) پر حملہ کیا جب ہم نے اس کو گھیر لیا (وہ سمجھا کہ اب بچ نہیں سکتا ) تو لا الہٰ الا اللہ کہنے لگا انصاری تو علیحدہ ہو گیا لیکن میں نے اس کو برچھے سے مارکر مار ڈالا جب ہم مدینہ پہنچے تو یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی آپ نے مجھ سے پوچھا ،اسامہ کیا تو نے اس کو لا الہٰ الا اللہ کہنے کے بعد مار ڈالا میں نے کہا یا رسول اللہ! اس نے اپنی جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا تھا (دل سے ایمان نہیں لایا تھا ) آپ نے فرمایا تو نے اس کو لا الہٰ الا اللہ کہنے کا بعد مار ڈالا برابر یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا (اسی دن مسلمان ہوا ہوتا کہ اگلے گناہ میرے اوپر نہ رہتے)۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ إِنِّي مِنَ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ نَسْرِقَ وَلاَ نَزْنِيَ، وَلاَ نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ، وَلاَ نَنْتَهِبَ، وَلاَ نَعْصِيَ، بِالْجَنَّةِ إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ‏

Narrated By 'Ubada bin As-Samat : I was among those Naqibs (selected leaders) who gave the Pledge of allegiance to Allah's Apostle. We gave the oath of allegiance, that we would not join partners in worship besides Allah, would not steal, would not commit illegal sexual intercourse, would not kill a life which Allah has forbidden, would not commit robbery, would not disobey (Allah and His Apostle), and if we fulfilled this pledge we would have Paradise, but if we committed any one of these (sins), then our case will be decided by Allah.

ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کیا ہم سے لیث بن سعد نے کہا ہم سے یزید بن ابی حبیب نے انہوں نے ابو الخیر ( مرثد بن عبد اللہ ) سے انہوں نے عبد الرحمان بن عیلہ صنابحی سے انہوں نے عبادہ بن صامتؓ سے انہوں نے کہا میں ان نقیبوں میں تھا جنہوں نے ( لیلۃ العقبہ منی میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ہم نے ان باتوں پر آپ سے بیعت کی تھی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے چوری نہیں کریں گے زنا نہیں کریں گے جس جان کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے اس کو نہیں ماریں گے نہ لوٹ مچائیں گے نہ اللہ کی نافرمانی کریں گے اس کے بدل ہم کو بہشت ملے گی ، اگر ان گناہوں میں کوئی گناہ ہم سے ہو جائے تو اس کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے (چاہے عذاب کرے چاہے معاف کر دے )۔


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ أَبُو مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.

Narrated By 'Abdullah : The Prophet said, "Whoever carries arms against us, is not from us."

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ نے انہوں نے نافع سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا جو شخص ہم (مسلمان ) پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے (یعنی مسلمان نہیں ہے) اس حدیث کو ابو موسی اشعریؓ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ ذَهَبْتُ لأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ‏.‏ قَالَ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ ‏"‏‏.

Narrated By Al-Ahnaf bin Qais : I went to help that man (i.e., 'Ali), and on the way I met Abu Bakra who asked me, "Where are you going?" I replied, "I am going to help that man." He said, "Go back, for I heard Allah's Apostle saying, 'If two Muslims meet each other with their swords then (both) the killer and the killed one are in the (Hell) Fire.' I said, 'O Allah's Apostle! It is alright for the killer, but what about the killed one?' He said, 'The killed one was eager to kill his opponent."

ہم سے عبد الرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا کہا ہم نے حماد بن زید نے کہا ہم سے ایوب سختیانی اور یونس نے ان دونوں نے امام حسن بصری سے انہوں نے احنف بن قیس سے انہوں نے کہا میں (گھر سے ) نکلا اس نیت سے کہ ان صاحب (یعنی حضرت علیؓ ) کی مدد کروں (جنگ جمل میں ) رستے میں مجھ کو ابو بکرہ (صحابی ) ملے اور پوچھا کہو کیا قصد ہے میں نے کہا حضرت علیؓ کی مدد کو جاتا ہوں انہوں نے کہا نہیں اپنے گھر لوٹ جا کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں (ایک دوسرے کو مارنے لگیں ) تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہوں گے ۔میں نے عرض کیا ،یا رسول اللہ قاتل تو خیر دوزخی ہو گا مگر مقتول کا کیا قصور ہے ؟ ( وہ کیوں دوزخی ہونے لگا )آپ نے فرمایا آخر وہ بھی اپنے ساتھی کو مارنے کی فکر میں تھا۔

Chapter No: 3

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى }‏

The Statement of Allah, "O you who believe! Al-Qisas (the Law of Equality in punishment) is prescribed for you in case of murder: the free for the free, the slave for the slave, and the female for the female. But if the killer is forgiven by the brother (or the relatives, etc.) of the killed against blood-money, then adhering to it with fairness and payment of the blood-money to the heir should be made in fairness. This is an alleviation and a mercy from your Lord. So after this whoever transgresses the limits (i.e. kills the killer after taking the blood-money), he shall have a painful torment." (V.2:178)

باب: اللہ تعالٰی کا (سورت بقرہ میں) فرمانا مسلمانوں جو لوگ تم میں قتل کیے جائیں ان کا قصاص لینا تم پر فرض کیا گیا ہے ۔

آزاد آزاد کے بدل مارا جائے، غلام ، غلام کے بدل عورت عورت کے بدل پھر جس قاتل کو اس کے بھائی کی(یعنے مقتول کے وارث) کی طرف سے قصاص کا کوئی حصّہ معاف کردیا جائے تو معاف کرنے والا دستور کے موافق قاتل سے دیّت مانگے اور قاتل کو چاہیے کہ اچھی طرح سے دیّت ادا کرے یہ معافی اور دیّت کی تجویز تمھارے مالک کی طرف سے تم پر ایک آسانی اور مہربانی ہے اب اس کے بعد بھی جو کوئی زیادتی کرے تو اس کو تکلیف کا عذاب ہوگا۔

 

Chapter No: 4

باب سُؤَالِ الْقَاتِلِ حَتَّى يُقِرَّ وَالإِقْرَارِ فِي الْحُدُودِ

To question the killer till he confesses. And confession in cases where Divinely prescribed punishments are imperative.

باب :حاکم کا قاتل سے پوچھنا (دریافت کرنا) یہاں تک کہ وہ اقرار کرے اور حدوں میں اقرار کرنا۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ يَهُودِيًّا، رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلاَنٌ أَوْ فُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَقَرَّ بِهِ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ‏.‏

Narrated By Anas bin Malik : A Jew crushed the head of a girl between two stones, and the girl was asked, "Who has done that to you, so-and-so or so and so?" (Some names were mentioned for her) till the name of that Jew was mentioned (whereupon she agreed). The Jew was brought to the Prophet and the Prophet kept on questioning him till he confessed, whereupon his head was crushed with stones.

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے ہمام بن یحیٰی نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے ایسا ہوا ایک یہودی (نام نا معلوم ) نے ایک چھوکری کا سرد و پتھروں میں کچل ڈالا لوگوں نےاس چھوکری سے پوچھا تجھ کو فلاں شخص نے مارا یا فلاں شخص نے مارا (اس نے کچھ جواب نہ دیا ) یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا آخر وہ یہودی (گرفتار ہو کر )نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا آپ اس سے پوچھتے رہے یہاں تک کہ اس نے خون کا اقبال کیا آخر اس کا سر بھی پتھر سے کچلا گیا۔

Chapter No: 5

باب إِذَا قَتَلَ بِحَجَرٍ أَوْ بِعَصًا

If someone kills (somebody) with a stone or with a stick

باب: اگر کسی نے پتھر یا لکڑی سے خون کیا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ بِالْمَدِينَةِ ـ قَالَ ـ فَرَمَاهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ ـ قَالَ ـ فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏‏.‏ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَأَعَادَ عَلَيْهَا قَالَ ‏"‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏‏.‏ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَقَالَ لَهَا فِي الثَّالِثَةِ ‏"‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏‏.‏ فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَتَلَهُ بَيْنَ الْحَجَرَيْنِ‏

Narrated By Anas bin Malik : A girl wearing ornaments, went out at Medina. Somebody struck her with a stone. She was brought to the Prophet while she was still alive. Allah's Apostle asked her, "Did such-and-such a person strike you?" She raised her head, denying that. He asked her a second time, saying, "Did so-and-so strike you?" She raised her head, denying that. He said for the third time, "Did so-and-so strike you?" She lowered her head, agreeing. Allah's Apostle then sent for the killer and killed him between two stones.

ہم سے محمد (بن عبد اللہ بن نمیر یا محمد بن سلام ) نے بیان کیا کہا ہم کو عبد اللہ بن ادریس نے خبر دی انہوں نے شعبہ سے انہوں نے ہشام ابن زید بن انس سے انہوں نے اپنے دادا انس بن مالک سے انہوں نے کہا ( انصار کی ) ایک لڑکی مدینہ میں (گھر سے ) نکلی وہ چاندی کا زیور پہنے ہوئے تھی ایک یہودی (کمبخت نام نا معلوم ) نے کیا کیا پتھر سے اس کو مارا آخر وہ لڑکی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی اس میں کچھ جان باقی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تجھ کو فلاں شخص نے مارا ،اس نے سر اٹھا کر اشارہ کیا نہیں آپ نے پھر پوچھا کیا فلاں شخص نے تجھ کو مارا اس نے پھر سر اٹھا کر اشارہ کیا نہیں پھر آپ نے اس سے پوچھا کیا فلاں( یہودی) نے تجھ کو مارا جب اس نے سر جھکا کر اشارہ کیا ہاں ۔آپ نے اس یہودی کو بلوا بھیجا تب آپ نے دو پتھروں سے کچل کر اس کو قتل کرایا۔

Chapter No: 6

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ}‏

The Statement of Allah, "(And We ordained therein for them) 'Life for life, eye for eye, nose for nose, ear for ear, tooth for tooth and wounds equal for equal.' But if anyone remits the retaliation by way of charity, it shall be for him an expiation. And whosoever does not judge by that which Allah has revealed, such are Az-Zalimun." (V.5:45)

باب: اللہ تعالٰی کا (سورت مائدہ میں) یہ فرمانا ہم نے یہودیوں کے لیے تورات شریف میں یہ حکم دیا تھا کہ جان کے بدل جان لی جائے اور آنکھ کے بدل آنکھ ،ناک کے بدل ناک،کان کے بدل کان،دانت کے بدل دانت اسی طرح زخموں میں برابر کا بدلہ لیا جائے ،پھر جو کوئی بدلہ معاف کر دے تو یہ معافی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوگی اور جو حاکم اللہ تعالیٰ کے اتارے ہوئے حکم کے موافق فیصلہ نہ کریں وہ ظالم ہیں۔

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلاَّ بِإِحْدَى ثَلاَثٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالْمَارِقُ مِنَ الدِّينِ التَّارِكُ الْجَمَاعَةَ ‏"

Narrated By 'Abdullah : Allah's Apostle said, "The blood of a Muslim who confesses that none has the right to be worshipped but Allah and that I am His Apostle, cannot be shed except in three cases: In Qisas for murder, a married person who commits illegal sexual intercourse and the one who reverts from Islam (apostate) and leaves the Muslims."

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا ہم سے والد نے کہا ہم سے اعمش نے انہوں نے عبد اللہ بن مرہ سے انہوں نے مسروق بن اجدع سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان آدمی اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا خدا نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں تو اس کا خون کرنا بغیر تین صورتوں کے درست نہیں ایک یہ کہ کسی کو ناحق قتل کرے اس کے قصاص میں ،دوسرے یہ کہ محصن ہو کر زنا کرے ،تیسرے یہ کہ اسلام سے پھر جائے مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے۔

Chapter No: 7

باب مَنْ أَقَادَ بِالْحَجَرِ

Whoever punished (a killer) with a stone (in retaliation)

باب: پتھر سے قصاص لینے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ يَهُودِيًّا، قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ ‏"‏ أَقَتَلَكِ فُلاَنٌ ‏"‏‏.‏ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لاَ، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ، فَقَتَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِحَجَرَيْنِ‏

Narrated By Anas : A Jew killed a girl so that he may steal her ornaments. He struck her with a stone, and she was brought to the Prophet while she was still alive. The Prophet asked her, "Did such-and-such person strike you?" She gestured with her head, expressing denial. He asked her for the second time, and she again gestured with her head, expressing denial. When he asked her for the third time, she beckoned, "Yes." So the Prophet killed him (the Jew) with two stones.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن جعفر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ہشام بن زید سے انہوں نے انسؓ سے ایسا ہوا ایک یہودی نے ایک ( انصاری ) چھوکری کو چاندی کا زیور لینے کے لیے پتھر سے مار ڈالا (ادھ موا کر دیا ) اس چھوکری کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اس میں ذری جان باقی تھی آپ نے اس سے پوچھا کیا تجھ کو فلاں شخص نے مارا اس نے سر سے اشارہ کیا نہیں پھر پوچھا کیا فلاں شخص نے تجھ کو مارا اس نے سر سے اشارہ کیا نہیں پھر تیسری بار پوچھا کیا فلاں شخص نے تجھ کو مارا تب اس نے سر سے اشارہ کیا ہاں آخر آپ نے اس یہودی کو بھی دو پتھروں میں کچل کر قتل کرایا ( کیونکہ اس نے اقرار کیا )

Chapter No: 8

باب مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ

The relative of the killed person has the right to choose one of two compensations (either to have the killer killed or to accept blood-money).

باب: جس شخص کا کوئی عزیز مارا جائے تو اس کو اختیار ہے دو باتوں میں جو بہتر سمجھے وہ اختیار کرے۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ خُزَاعَةَ، قَتَلُوا رَجُلاً‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ قَتَلَتْ خُزَاعَةُ رَجُلاً مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلاَ وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، أَلاَ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلاَ وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لاَ يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلاَ يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلاَّ مُنْشِدٌ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا يُودَى وَإِمَّا يُقَادُ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ، فَإِنَّمَا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏"‏‏.‏ وَتَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ شَيْبَانَ فِي الْفِيلِ، قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْقَتْلَ‏.‏ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : In the year of the Conquest of Mecca, the tribe of Khuza'a killed a man from the tribe of Bam Laith in revenge for a killed person belonging to them in the Pre-Islamic Period of Ignorance. So Allah's Apostle got up saying, "Allah held back the (army having) elephants from Mecca, but He let His Apostle and the believers overpower the infidels (of Mecca). Beware! (Mecca is a sanctuary)! Verily! Fighting in Mecca was not permitted for anybody before me, nor will it be permitted for anybody after me; It was permitted for me only for a while (an hour or so) of that day. No doubt! It is at this moment a sanctuary; its thorny shrubs should not be uprooted; its trees should not be cut down; and its Luqata (fallen things) should not be picked up except by the one who would look for its owner. And if somebody is killed, his closest relative has the right to choose one of two things, i.e., either the Blood money or retaliation by having the killer killed." Then a man from Yemen, called Abu Shah, stood up and said, "Write that) for me, O Allah's Apostle!" Allah's Apostle said (to his companions), "Write that for Abu Shah." Then another man from Quraish got up, saying, "O Allah's Apostle! Except Al-Idhkhir (a special kind of grass) as we use it in our houses and for graves." Allah's Apostle said, "Except Al-idhkkir."

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا کہا ہم سے شیبان نحوی نے انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ خزاعہ قبیلہ والوں نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا اور عبد اللہ بن رجاء نے کہا ہم سے حرب بن شداد نے بیان کیا انہوں نے یحیٰی بن ابی کثیر سے کہا ہم سے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے بیان کیا کہا ہم سے ابو ہریرہؓ نے انہوں نے کہا جس سال مکہ فتح ہوا خزاعہ والوں نے بنی لیث کے ایک شخص ( ابن اثوع )کو قتل کر ڈالا کیونکہ جاہلیت کے زمانہ میں بنی لیث نے خزاعہ کے ایک شخص (احمر نامی )کو قتل کر ڈالا تھا یہ حال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ سنانے کو ) کھڑے ہوئے فرمایا اللہ تعالی نے مکہ سے ( ابرہہ بادشاہ یمن کے ) ہاتھی کو روک دیا اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں کو مکہ پر غالب کر دیا ( انہوں نے مکہ فتح کر لیا ) دیکھو مکہ کے شہر میں مجھ سے پہلے کسی کے لیے لڑنا بھڑنا درست نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے درست ہو گا اور میرے لیے بھی جو درست ہوا تو دن کو صرف ایک ساعت کے لیے اب اس وقت سے اس کی حرمت پھر قائم ہو گئی وہاں کا کانٹا نہ اکھیڑا جائے وہاں کا درخت نہ تراشا جائے وہاں کی پڑی ہوئی چیز نہ اٹھائی جائے اور یہ دیکھو جس کا کوئی عزیز مارا جائے تو اس کو اختیار ہے دو باتوں میں جو بھلی لگے وہ کرے یا تو دیت لے یا قصاص کرے یہ وعظ سن کرابو شاہ جو یمن کا رہنے والا تھا کہنے لگا یا رسول اللہ یہ وعظ مجھ کو لکھوا دیجیئے آپ نے لوگوں سے فرمایا اچھا ابو شاہ کو یہ وعظ لکھ دو اس کے بعد قریش کے ایک شخص ( حضرت عباسؓ ) کھڑے ہوئے ، کہنے لگے یا رسول اللہ مکہ کے درختوں میں سے اذخر گھاس توڑنے کی اجازت دیجیئے ہم لوگ اس گھانس کو اپنے گھروں اور قبروں میں بچھاتے ہیں (وہ خوش بو دار ہوتی ہے ) آپ نے فرمایا اچھا اذخر توڑنے کی اجازت ہے حرب بن شداد کے ساتھ اس حدیث کو عبید اللہ بن موسیٰ نے بھی شیبان سے روایت کیا اس میں بھی ہاتھی کا ذکر ہے بعضے لوگوں نے ابو نعیم سے فیل کے بدل قتل کا لفظ روایت کیا ہے اور عبید اللہ بن موسیٰ نے اپنی روایت میں ( جس کو امام مسلم نے نکالا )واما یقاد کے بدل یوں کہا ( اما ان یعطی الدیۃ ) واما ان یقا داہل القتیل ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قِصَاصٌ، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ فَقَالَ اللَّهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ ‏{‏كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى‏}‏ إِلَى هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ‏}‏‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ، قَالَ ‏{‏فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ‏}‏ أَنْ يَطْلُبَ بِمَعْرُوفٍ وَيُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : For the children of Israel the punishment for crime was Al-Qisas only (i.e., the law of equality in punishment) and the payment of Blood money was not permitted as an alternate. But Allah said to this nation (Muslims): 'O you who believe! Qisas is prescribed for you in case of murder... (up to)... end of the Verse. (2.178) Ibn 'Abbas added: Remission (forgiveness) in this Verse, means to accept the Blood-money in an intentional murder. Ibn 'Abbas added: The Verse: 'Then the relatives should demand Blood-money in a reasonable manner.' (2.178) means that the demand should be reasonable and it is to be compensated with handsome gratitude.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے مجاہد بن جبر سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا بنی اسرائیل میں قصاص کا رواج تھا دیت کا قاعدہ نہ تھا اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے ( سورت بقرہ کی ) یہ آیت اتاری کُتِبَ عَلَیکُمُ القِصَاصُ فیِ القَتلیٰ اخیر آیت فَمَن عُفِیَ لَہ مِن٘ اَخِیہِ شَیءٌ تک ابن عباس نے کہا فَمَن عُفِیَ لَہ سے یہی مراد ہے کہ مقتول کے وارث قتل عمد میں دیت پر راضی ہو جائیں اور اتباع بالمعروف سے مراد ہے کہ مقتول کے وارث دستور کے موافق قاتل سے دیت کا تقاضا کریں وَاَدَآءٌ اِلَیہِ بِاِحسَان سے یہ مراد ہے کہ قاتل اچھی طرح خوش معاملگی سے دیت ادا کرے۔

Chapter No: 9

باب مَنْ طَلَبَ دَمَ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ

Whoever seeks to shed somebody's blood without any right.

باب: جو شخص ناحق خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلاَثَةٌ مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ، وَمُبْتَغٍ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ ‏"‏‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, "The most hated persons to Allah are three: (1) A person who deviates from the right conduct, i.e., an evil doer, in the Haram (sanctuaries of Mecca and Medina); (2) a person who seeks that the traditions of the Pre-Islamic Period of Ignorance, should remain in Islam (3) and a person who seeks to shed somebody's blood without any right."

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے عبد اللہ بن ابی حسین سے کہا ہم سے نافع بن جبیر نے بیان کیا انہوں نے ابن عباسؓ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سب سے زیادہ ان تین آدمیوں کا دشمن ہے ایک تو اس کا جو حرم میں بے اعتدالی کرے (مثلاً خون خرابہ شکار وغیرہ ) دوسرے وہ جو مسلمان ہو کر جاہلیت کی رسموں پر چلنا چاہے تیسرے وہ جو کسی آدمی کا ناحق خون کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگے ۔

Chapter No: 10

باب الْعَفْوِ فِي الْخَطَإِ بَعْدَ الْمَوْتِ

Excusing somebody who killed another by mistake.

باب: قتلِ خطا میں مقتول کے مر جانے کے بعد اس کے وارث کا معاف کرنا۔

حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ‏.‏ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ صَرَخَ إِبْلِيسُ يَوْمَ أُحُدٍ فِي النَّاسِ يَا عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ‏.‏ فَرَجَعَتْ أُولاَهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ حَتَّى قَتَلُوا الْيَمَانَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَبِي أَبِي‏.‏ فَقَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ‏.‏ قَالَ وَقَدْ كَانَ انْهَزَمَ مِنْهُمْ قَوْمٌ حَتَّى لَحِقُوا بِالطَّائِفِ‏.

Narrated By 'Aisha : The pagans were defeated on the day (of the battle) of Uhud. Satan shouted among the people on the day of Uhud, "O Allah's worshippers! Beware of what is behind you!" So the front file of the army attacked the back files (mistaking them for the enemy) till they killed Al-Yaman. Hudhaifa (bin Al-Yaman) shouted, "My father!" My father! But they killed him. Hudhaifa said, "May Allah forgive you." (The narrator added: Some of the defeated pagans fled till they reached Taif.)

ہم سے فروہ بن ابی المغر ا نے بیان کیا کہا ہم سے علی بن مسہر نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا احد کی جنگ میں پہلے پہل مشرکوں کو شکست ہوئی ۔دوسری سند امام بخاری نے کہا اور مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیاکہا ہم سے ابو مروان یحییٰ بن زکریا نے انہوں نے ہشام سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا اُحد کے دن ایسا ہوا (کمبخت )ابلیس چلا کر کہنے لگا اللہ کے بندو (مسلمانو ) اپنے پیچھے والوں سے بچو ،( حالاں کہ پیچھے والے بھی مسلمان ہی تھے ) یہ سنتے ہی آگے والے پیچھے والوں پر پلٹ پڑے ( لگی تلور چلنے ) یہاں تک کے مسلمان حذیفہ کے والد یمان کو بھی مارنے لگے حذیفہ پکارتے ہی رہے ( ارے یارو کیا غضب کرتے ہو )یہ تو میرا باپ ہے میرا باپ اس بیچارے کو جان سے مار ڈالا اس وقت حذیفہ کہنے لگے ( بھائیو ) اللہ تمھاری خطا بخشے ان کافروں میں سے کچھ لوگ تو ایسے شکست کھا کر بھاگے کہ طائف میں جا کر دم لیا ۔

123Last ›