Sayings of the Messenger

 

123Last ›

Chapter No: 1

باب خَلْقِ آدَمَ وَذُرِّيَّتِهِ

The creation of Adam and his offspring.

باب :آدم اور ان کی پیدائش کے بیان میں؛

صَلْصَالٌ طِينٌ خُلِطَ بِرَمْلٍ فَصَلْصَلَ كَمَا يُصَلْصِلُ الْفَخَّارُ‏.‏ وَيُقَالُ مُنْتِنٌ‏.‏ يُرِيدُونَ بِهِ صَلَّ، كَمَا يُقَالُ صَرَّ الْبَابُ وَصَرْصَرَ عِنْدَ الإِغْلاَقِ مِثْلُ كَبْكَبْتُهُ يَعْنِي كَبَبْتُهُ‏.‏ ‏{‏فَمَرَّتْ بِهِ‏}‏ اسْتَمَرَّ بِهَا الْحَمْلُ فَأَتَمَّتْهُ‏.‏ ‏{‏أَنْ لاَ تَسْجُدَ‏}‏ أَنْ تَسْجُدَ‏.وَ‏قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةً‏}‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ‏}‏ إِلاَّ عَلَيْهَا حَافِظٌ ‏{‏فِي كَبَدٍ‏}‏ فِي شِدَّةِ خَلْقٍ‏.‏ وَرِيَاشًا الْمَالُ‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ الرِّيَاشُ وَالرِّيشُ وَاحِدٌ، وَهْوَ مَا ظَهَرَ مِنَ اللِّبَاسِ‏.‏ ‏{‏مَا تُمْنُونَ‏}‏ النُّطْفَةُ فِي أَرْحَامِ النِّسَاءِ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏إِنَّهُ عَلَى رَجْعِهِ لَقَادِرٌ‏}‏ النُّطْفَةُ فِي الإِحْلِيلِ‏.‏ كُلُّ شَىْءٍ خَلَقَهُ فَهْوَ شَفْعٌ، السَّمَاءُ شَفْعٌ، وَالْوِتْرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ‏.‏ ‏{‏فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ‏}‏ فِي أَحْسَنِ خَلْقٍ ‏{‏أَسْفَلَ سَافِلِينَ‏}‏ إِلاَّ مَنْ آمَنَ ‏{‏خُسْرٍ‏}‏ ضَلاَلٌ، ثُمَّ اسْتَثْنَى إِلاَّ مَنْ آمَنَ ‏{‏لاَزِبٍ‏}‏ لاَزِمٌ‏.‏ ‏{‏نُنْشِئَكُمْ‏}‏ فِي أَىِّ خَلْقٍ نَشَاءُ‏.‏ ‏{‏نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ‏}‏ نُعَظِّمُكَ‏.‏ وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ ‏{‏فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ‏}‏ فَهْوَ قَوْلُهُ ‏{‏رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا‏}‏، ‏{‏فَأَزَلَّهُمَا‏}‏ فَاسْتَزَلَّهُمَا‏.‏ وَ‏{‏يَتَسَنَّهْ‏}‏ يَتَغَيَّرْ، آسِنٌ مُتَغَيِّرٌ، وَالْمَسْنُونُ الْمُتَغَيِّرُ ‏{‏حَمَإٍ‏}‏ جَمْعُ حَمْأَةٍ وَهْوَ الطِّينُ الْمُتَغَيِّرُ‏.‏ ‏{‏يَخْصِفَانِ‏}‏ أَخْذُ الْخِصَافِ ‏{‏مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ‏}‏ يُؤَلِّفَانِ الْوَرَقَ وَيَخْصِفَانِ بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ ‏{‏سَوْآتُهُمَا‏}‏ كِنَايَةٌ عَنْ فَرْجِهِمَا ‏{‏وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ‏}‏ هَا هُنَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الْحِينُ عِنْدَ الْعَرَبِ مِنْ سَاعَةٍ إِلَى مَا لاَ يُحْصَى عَدَدُهُ‏.‏ ‏{‏قَبِيلُهُ‏}‏ جِيلُهُ الَّذِي هُوَ مِنْهُمْ‏.

(سورت رحمٰن وغیرہ میں جو ) صلصال کا لفظ ہے اس کا معنےٰ گارا جس میں ریتی ملی ہو وہ ٹھیکریکی طرح آواز دیتی ہو کھنکھناتی ہو ۔ بعضوں نے کہا صلصال کا معنی بد بودار اصل میں صَلَّ سے نکلا ہے ( فا کلمہ مکرر کر دیا ) جیسے صر ، صرصر سے عرب لوگ کہتے ہیں صرا لباب یا صرصر الباب جب بند کرنے کے وقت دروازے میں سے آواز نکلے جیسے کبکنتہ کَبّ سے نکلا ہے (سورت اعراف ) میں فمرت بہ کا معنی چلتی پھرتی رہی حمل کی مدت کی پوری کی (سورت اعراف میں ) ان لا تسجد کا معنے ان تسجد یعنی تجھ کو سجدہ کرنے سے کس بات نے روکا ( لا کا لفظ زائد ہے ) اللہ تعالٰی کا (سورت بقرہ میں ) فر مانا ( اے پیغمبر )وہ وقت یاد کر جب تیرے مالک نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک قوم جا نشین بنا نے والا ہوں (ایک کے بعد دوسرے ان کے قائم مقا م ہوں گے ابن عباس نے کہا (سورت طارق میں ) جو لما علیہا حافظ ہے یہاں لمّا الّا کےمعنے میں ہے ( یعنی کوئی جان نہیں مگر اللہ کی طرف سے اس پر ایک نگہبا ن مقر ر ہے) (سورت بلد مین جو ) فی کبد ہے کبد کا معنی سختی (سورت اعراف میں) جو ریاشا کا لفظ ہے ریاش اس کی جمع ہے یعنی مال یہ ابن عباس کی تفسیر ہے ۔دوسروں نے کہا ریش اور ریاش کا ایک ہی معنے ہے یعنی ظاہری لباس (سورت واقعہ میں) جو تمنون ہے اس کا معنی نطفہ جو عورتوں کے رحم میں ڈالتے ہو (سورت طارق میں ہے) انہ علی رجعہ لقادر مجاد نے اس کے معنی یہ کہے ہیں وہ خدا منی کو پھر ذکر مین لوٹا سکتا ہے (سورت سجدہ میں) کل شیءٍ خلقہ یعنی ہر چیز کا اللہ نے جو ڑ بنا یا آسمان زمین کا جوڑ ہے (جن آدمی کا ، سورج چاند کا ) اور طاق اللہ کی ذات ہے جس کا کوئی جوڑ نہیں (سورت تین میں )فی احسن تقویم یعنی اچھی صورت اچھی خلقت میں٘ اسفل سافلین الا من آمَنَ یعنی پھر آدمی کو ہم نے پست سے پست کر دیا(دوزخی بنا دیا )مگر جو ایمان لایا (سورت عصر میں) فی خسر کا لفظ یعنی گمراہی میں۔پھر ایمان والوں کو مستثنٰی کیا (فرما یا الا الذین اٰمنو ) سورت و الصافات میں لاذب کا معنی لازم یعنی چمٹی ،لیسدار (سورت واقعہ میں)ننشئکم فیما لا تعلمون یعنی جو نسی صو رت میں ہم چا ہیں تم کو بنا دیں (سورت بقرہ میں ) نسبح بحمدک یعنی ہم تیری بڑائی بیان کر تے ہیں۔ ابو العا لیہ نے کہا ۔۔۔۔۔ اسی سورت میں جو فتلقی آدم من ربہ کلمات وہ کلمے یہ ہیں ربنا ظلمنا انفسنا (اسی سورت میں) فازلھما یعنی ان کو ڈگا دیا پھسلا دیا اسی سورت میں ہے لم یتسنہ یعنی بگڑا تک نہیں اسی سے ہے (سورت محمد میں) آسن یعنی بگڑا ہوا (بد بو دار پا نی ) اسی سے ہے (سورت حجر میں) مسنون یعنی بدلی ہو ئی بد بو دار (اسی سورت میں ) حما کا لفظ ہے جو حماۃ کی جمع ہے یعنی بد بو دار کیچڑ (سورت اعراف میں ) یخصفا ن یعنی دونو ں نے بہشت کے پتوں کو جوڑنا شروع کیا ایک پر ایک ر کھ کر (اپنا ستر چھپا نے کو)سوآتھماسے مراد شرمگاہ ہے ۔ متاع الیٰ حین حین سے مراد قیامت ہے ۔ عرب لوگ ایک گھڑی سے لے کر بے انتہامدت تک کو حین کہتے ہیں ۔ قبیلہ سے مراد شیطان کا گروہ جس میں سے وہ خود ہے ۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا، ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ، فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَكَ، تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ‏.‏ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ‏.‏ فَقَالُوا السَّلاَمُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ‏.‏ فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ‏.‏ فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، فَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الآنَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Allah created Adam, making him 60 cubits tall. When He created him, He said to him, "Go and greet that group of angels, and listen to their reply, for it will be your greeting (salutation) and the greeting (salutations of your offspring." So, Adam said (to the angels), As-Salamu Alaikum (i.e. Peace be upon you). The angels said, "As-salamu Alaika wa Rahmatu-l-lahi" (i.e. Peace and Allah's Mercy be upon you). Thus the angels added to Adam's salutation the expression, 'Wa Rahmatu-l-lahi,' Any person who will enter Paradise will resemble Adam (in appearance and figure). People have been decreasing in stature since Adam's creation.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ا ن کو ساٹھ ہاتھ(تقریبا نوے فٹ) لمبا بنایا ۔ پھر فرمایا: کہ جاؤ اور ان ملائکہ کو سلام کرو، دیکھنا کن لفظوں میں وہ تمہارے سلام کا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا طریقہ سلام ہوگا۔حضرت آدم علیہ السلام (گئے ) اور کہا : السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا ، السلام علیک ورحمۃ اللہ ۔ انہوں نے ورحمۃ اللہ کا جملہ بڑھا دیا، پس جو کوئی بھی جنت میں داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام کی شکل اور قامت پر داخل ہوگا، حضرت آدم علیہ السلام کے بعد انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، لاَ يَبُولُونَ وَلاَ يَتَغَوَّطُونَ وَلاَ يَتْفِلُونَ وَلاَ يَمْتَخِطُونَ، أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَمَجَامِرُهُمُ الأَلُوَّةُ الأَنْجُوجُ عُودُ الطِّيبِ، وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعِينُ، عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ، سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "The first group of people who will enter Paradise, will be glittering like the full moon and those who will follow them, will glitter like the most brilliant star in the sky. They will not urinate, relieve nature, spit, or have any nasal secretions. Their combs will be of gold, and their sweat will smell like musk. The aloes-wood will be used in their centers. Their wives will be houris. All of them will look alike and will resemble their father Adam (in statute), sixty cubits tall."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ان کی صورتیں ایسی روشن ہوں گی جیسے چودھویں کا چاند روشن ہوتا ہے ، پھر جو لوگ اس کے بعد داخل ہوں گے وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح چمکتے ہوں گے ۔نہ تو ان لوگوں کو پیشاب کی ضرورت ہوگی ، نہ پاخانہ کی ، نہ وہ تھوکیں گے نہ ناک سے آلائش نکالیں گے۔ ان کے کنگھے سونے کے ہوں گے اور ان کا پسینہ مشک کی طرح ہوگا۔ ان کی انگیٹھیوں میں خوشبودار عود جلتا ہوگا، یہ نہایت پاکیزہ خوشبودار عود ہوگا ۔ ان کی بیویاں بڑی آنکھیں والی حوریں ہوں گی۔ سب کی صورتیں ایک ہوں گی یعنی اپنے والد آدم علیہ السلام کے قد و قامت پر ساٹھ ہاتھ اونچے ہوں گے۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ الْغُسْلُ إِذَا احْتَلَمَتْ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ ‏"‏‏.‏ فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَبِمَا يُشْبِهُ الْوَلَدُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Salama : Um Salama said, "Um Salaim said, 'O Allah's Apostle! Allah does not refrain from saying the truth! Is it obligatory for a woman to take a bath after she gets nocturnal discharge?' He said, 'Yes, if she notices the water (i.e. discharge).' Um Salama smiled and said, 'Does a woman get discharge?' Allah's Apostle said. 'Then why does a child resemble (its mother)?"

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا ، تو کیا اگر عورت کو احتلام ہو تو اس پر بھی غسل ہوگا ؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں بشرطیکہ وہ تری دیکھ لے ، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اس بات پر ہنسی آگئی اور فرمانے لگیں ، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے آپﷺنےفرمایا: (اگر ایسا نہیں ہے ) تو پھر بچے میں (ماں کی ) مشابہت کہاں سے آتی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَلَغَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلاَمٍ مَقْدَمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلاَثٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ نَبِيٌّ، ‏{‏قَالَ مَا‏}‏ أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمِنْ أَىِّ شَىْءٍ يَنْزِعُ الْوَلَدُ إِلَى أَبِيهِ وَمِنْ أَىِّ شَىْءٍ يَنْزِعُ إِلَى أَخْوَالِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خَبَّرَنِي بِهِنَّ آنِفًا جِبْرِيلُ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ‏.‏ وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ‏.‏ وَأَمَّا الشَّبَهُ فِي الْوَلَدِ فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَشِيَ الْمَرْأَةَ فَسَبَقَهَا مَاؤُهُ كَانَ الشَّبَهُ لَهُ، وَإِذَا سَبَقَ مَاؤُهَا كَانَ الشَّبَهُ لَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ‏.‏ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهُتٌ، إِنْ عَلِمُوا بِإِسْلاَمِي قَبْلَ أَنْ تَسْأَلَهُمْ بَهَتُونِي عِنْدَكَ، فَجَاءَتِ الْيَهُودُ وَدَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ الْبَيْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَىُّ رَجُلٍ فِيكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ ‏"‏‏.‏ قَالُوا أَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا وَأَخْبَرُنَا وَابْنُ أَخْيَرِنَا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ‏.‏ فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ‏.‏ فَقَالُوا شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا‏.‏ وَوَقَعُوا فِيهِ‏.

Narrated By Anas : When 'Abdullah bin Salam heard the arrival of the Prophet at Medina, he came to him and said, "I am going to ask you about three things which nobody knows except a prophet: What is the first portent of the Hour? What will be the first meal taken by the people of Paradise? Why does a child resemble its father, and why does it resemble its maternal uncle" Allah's Apostle said, "Gabriel has just now told me of their answers." 'Abdullah said, "He (i.e. Gabriel), from amongst all the angels, is the enemy of the Jews." Allah's Apostle said, "The first portent of the Hour will be a fire that will bring together the people from the east to the west; the first meal of the people of Paradise will be Extra-lobe (caudate lobe) of fish-liver. As for the resemblance of the child to its parents: If a man has sexual intercourse with his wife and gets discharge first, the child will resemble the father, and if the woman gets discharge first, the child will resemble her." On that 'Abdullah bin Salam said, "I testify that you are the Apostle of Allah." 'Abdullah bin Salam further said, "O Allah's Apostle! The Jews are liars, and if they should come to know about my conversion to Islam before you ask them (about me), they would tell a lie about me." The Jews came to Allah's Apostle and 'Abdullah went inside the house. Allah's Apostle asked (the Jews), "What kind of man is 'Abdullah bin Salam amongst you?" They replied, "He is the most learned person amongst us, and the best amongst us, and the son of the best amongst us." Allah's Apostle said, "What do you think if he embraces Islam (will you do as he does)?" The Jews said, "May Allah save him from it." Then 'Abdullah bin Salam came out in front of them saying, "I testify that None has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is the Apostle of Allah." Thereupon they said, "He is the evilest among us, and the son of the evilest amongst us," and continued talking badly of him.

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو جب رسول اللہ ﷺکے مدینہ تشریف لانے کی خبر ملی تو وہ آپﷺکی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھوں گا۔ جنہیں نبیﷺکےسوا اور کوئی نہیں جانتا ۔ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے ؟ وہ کون ساکھانا ہے جوسب سے پہلے جنتیوں کو کھانے کےلیے دیا جائے گا؟ اور کس چیز کی وجہ سے بچھ اپنے باپ کے مشابہ ہوتا ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے ابھی ابھی آکر اس کی خبر دی ہے ۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن سلام نے کہا کہ فرشتوں میں تو یہی یہودیوں کے دشمن ہیں ۔آپﷺنے فرمایا: قیامت کے سب سے پہلی علامت ایک آگ کی صورت میں ظاہر ہوگی جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی ، سب سے پہلا کھانا جو اہل جنت کی دعوت کےلیے پیش کیا جائے گا ، وہ مچھلی کی کلیجی پر جو ٹکڑا لٹکا رہتا ہے وہ ہوگا اور بچے کی مشابہت کا جہاں تک تعلق ہے تو جب مرد عورت کے قریب جاتا ہے اس وقت اگر مرد کی منی پہل کر جاتی ہے تو بچہ اسی کی شکل و صورت پر ہوتا ہے۔(یہ سن کر ) حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بول اٹھے " میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ پھر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! یہود انتہاکی جھوٹی قوم ہے ۔اگر آپ کی دریافت کرنے سے قبل میرے اسلام قبول کرنے کے بارے میں انہیں علم ہوگیا تو آپﷺکے سامنے مجھ پر ہر طرح کی تہمتیں دھرنی شروع کردیں گے۔ چنانچہ کچھ یہودی آئے اور حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ گھر کے اندر چھپ کر بیٹھ گئے ۔ آپ ﷺنے ان سے پوچھا تم لوگوں میں عبد اللہ بن سلام کون صاحب ہیں؟سارے یہودی کہنے لگے وہ ہم میں سب سے بڑے عالم اور سب سے بڑے عالم کے صاحبزادے ہیں۔ ہم میں سب سے زیادہ بہتر اور ہم میں سب سے بہتر کے صاحبزادے ہیں۔آپﷺنے ان سے فرمایا: اگر عبد اللہ بن سلام مسلمان ہوجائیں تو پھر تمہار کیا خیال ہوگا؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ انہیں اس سے محفوظ رکھے ۔ اتنے میں حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔اب وہ سب ان کے متعلق کہنے لگے کہ ہم میں سب سے بدترین اور سب سے بدترین کا بیٹا ہے ، وہیں وہ ان کی برائی کرنے لگے۔


حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ يَعْنِي ‏"‏ لَوْلاَ بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلاَ حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "But for the Israelis, meat would not decay and but for Eve, wives would never betray their husbands."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اگر قوم بنی اسرائیل نہ ہوتی تو گوشت نہ سڑا کرتا اور اگر حضرت حوا نہ ہوتیں تو عورت اپنے شوہر سے دغا نہ کرتی۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُوسَى بْنُ حِزَامٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَىْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلاَهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah 's Apostle said, "Treat women nicely, for a women is created from a rib, and the most curved portion of the rib is its upper portion, so, if you should try to straighten it, it will break, but if you leave it as it is, it will remain crooked. So treat women nicely."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: عورتوں کے بارے میں میری وصیت کا ہمیشہ خیال رکھنا ، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے ۔ پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اوپر کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اسے بالکل سیدھی کرنے کی کوشش کرے تو انجام کار توڑ کے رہے گا اور اگر اسے وہ یونہی چھوڑ دے گا تو پھر ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہ جائے گی ۔ پس عورتوں کے بارے میں میری نصیحیت مانو، عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔


حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ‏"‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُ النَّارَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abdullah : Allah's Apostle, the true and truly inspired said, "(as regards your creation), every one of you is collected in the womb of his mother for the first forty days, and then he becomes a clot for an other forty days, and then a piece of flesh for an other forty days. Then Allah sends an angel to write four words: He writes his deeds, time of his death, means of his livelihood, and whether he will be wretched or blessed (in religion). Then the soul is breathed into his body. So a man may do deeds characteristic of the people of the (Hell) Fire, so much so that there is only the distance of a cubit between him and it, and then what has been written (by the angel) surpasses, and so he starts doing deeds characteristic of the people of Paradise and enters Paradise. Similarly, a person may do deeds characteristic of the people of Paradise, so much so that there is only the distance of a cubit between him and it, and then what has been written (by the angel) surpasses, and he starts doing deeds of the people of the (Hell) Fire and enters the (Hell) Fire."

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی ¬ﷺنے ہمیں فرمایا جو کہ صادق و مصدوق ہیں۔تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں مکمل کی جاتی ہے ۔ چالیس روز تک نطفہ رہتا ہے ، پھر اتنے ہی وقت تک منجمد خون کی شکل اختیار کرتا ہے۔پھر اتنے ہی روز تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتاہے کہ اس کا عمل، اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دےاور یہ بھی لکھ دے کہ بدبخت یا نیک بخت ۔ اس کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے ۔ پھر تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو نیک عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے مگر اس پر تقدیر غالب آجاتا ہے او روہ اہل جہنم کا کام کربیٹھتا ہے ایسے ہی کوئی شخص برے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے ۔ پھر تقدیر کا فیصلہ غالب آجاتا ہے تو وہ اہل جنت کے سے کام کرنے لگتا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ وَكَّلَ فِي الرَّحِمِ مَلَكًا فَيَقُولُ يَا رَبِّ نُطْفَةٌ، يَا رَبِّ عَلَقَةٌ، يَا رَبِّ مُضْغَةٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَهَا قَالَ يَا رَبِّ، أَذَكَرٌ أَمْ يَا رَبِّ أُنْثَى يَا رَبِّ شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ‏"‏‏.

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet said, "Allah has appointed an angel in the womb, and the angel says, 'O Lord! A drop of discharge (i.e. of semen), O Lord! a clot, O Lord! a piece of flesh.' And then, if Allah wishes to complete the child's creation, the angel will say. 'O Lord! A male or a female? O Lord! wretched or blessed (in religion)? What will his livelihood be? What will his age be?' The angel writes all this while the child is in the womb of its mother."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ماں کے رحم کےلیے ایک فرشتہ مقرر کردیا ہے وہ فرشتہ عرض کرتا ہے ، اے رب ! یہ نطفہ ہے ، اے رب! یہ مضغہ ہے اے رب! یہ علقہ ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔تو فرشتہ پوچھتا ہے اے رب!یہ مرد ہے ، یا اے رب ! یہ عورت ہے ، اے رب! یہ بد ہے یا نیک ہے ؟ اس کی روزی کیا ہے ؟ اور مدت زندگی کتنی ہے ؟ چنانچہ اسی کے مطابق ماں کے پیٹ ہی میں سب کچھ فرشتہ لکھ لیتا ہے۔


حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، يَرْفَعُهُ ‏"‏ أَنَّ اللَّهَ، يَقُولُ لأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَىْءٍ كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ فَقَدْ سَأَلْتُكَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لاَ تُشْرِكَ بِي‏.‏ فَأَبَيْتَ إِلاَّ الشِّرْكَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Anas : The Prophet said, "Allah will say to that person of the (Hell) Fire who will receive the least punishment, 'If you had everything on the earth, would you give it as a ransom to free yourself (i.e. save yourself from this Fire)?' He will say, 'Yes.' Then Allah will say, 'While you were in the backbone of Adam, I asked you much less than this, i.e. not to worship others besides Me, but you insisted on worshipping others besides me.'"

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس شخص سے پوچھے گا جسے دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب کیا گیا ہوگا۔ اگر دنیا میں تمہاری کوئی چیز ہوتی تو کیا تو اس عذاب سے نجات پانے کےلیے اسے بدلے میں دے سکتا تھا؟ وہ شخص کہے گا کہ جی ہاں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب تو آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھا تو میں نے تجھ سے اس سے بھی معمولی چیز کا مطالبہ کیا تھا ۔ (روز ازل میں) کہ میرا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرانا ، لیکن (جب تو دنیا میں آیا تو )اسی شرک کا عمل اختیار کیا۔


حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلاَّ كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، لأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abdullah : Allah's Apostle said, "Whenever a person is murdered unjustly, there is a share from the burden of the crime on the first son of Adam for he was the first to start the tradition of murdering."

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب بھی کوئی انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے تو حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بیتے (قابیل ) کے نامۂ اعمال میں بھی اس قتل کا گناہ لکھا جاتا ہے۔ کیونکہ قتل ناحق کی بنا سب سے پہلے اسی نے قائم کی تھی۔

Chapter No: 2

باب الأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ

Souls are like recruited troops.

با ب: روحوں کے جتھے ہیں جھنڈ جھنڈ ۔

قَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا‏.‏

Narrated Aisha (R.A.): I heard the Prophet(s.a.w.) saying, "Souls are like recruited troops: Those who are of like qualities are inclined to each other, but those who have dissimilar qualities, differ."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبیﷺسے سنا آپ ﷺفرمارہے تھے کہ روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ الگ الگ تھے ۔ پھر وہاں جن روحوں میں آپس میں پہچان تھی ان میں یہاں بھی محبت ہوتی ہے اور جو وہاں غیر تھیں یہاں بھی وہ خلاف رہتی ہیں ۔

Chapter No: 3

باب قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ‏}‏

The Statement of Allah, "And indeed We sent Nuh (Noah) to his people ..." (V.11:25)

با ب:( نو ح کے بیان میں) اللہ تعالیٰ کا ( سورت ہو د میں) فرمانا اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ۔

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏بَادِئَ الرَّأْىِ‏}‏ مَا ظَهَرَ لَنَا ‏{‏ أَقْلِعِي‏}‏ أَمْسِكِي‏.‏ ‏{‏وَفَارَ التَّنُّورُ‏}‏ نَبَعَ الْمَاءُ‏.‏ وَقَالَ عِكْرِمَةُ وَجْهُ الأَرْضِ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ الْجُودِيُّ جَبَلٌ بِالْجَزِيرَةِ‏.‏ دَأْبٌ مِثْلُ حَالٌ‏ ‏{‏وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ إِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقَامِي وَتَذْكِيرِي بِآيَاتِ اللَّهِ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏مِنَ الْمُسْلِمِينَ‏}‏‏‏ {‏إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ‏}‏ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ

ابن عباس نے کہا (اسی سورت میں ) بادی الرای کا معنی ظاہر میں اسی سورت میں اَقلِعِی کے معنی روک لے ، ٹھر جا ۔ فَارَالتّنّور کا معنی تنور سے پا نی پھوٹ نکلا۔ عکرمہ نے کہا تنو ر سے سطح زمین مراد ہے مجاہد نے کہا جودی ایک پہاڑ کا نا م ہے جو جزیرہ میں ( دجلہ اور فرات کے بیچ میں ہے ) سورت مومن میں دأب کا معنی حال اللہ تعالیٰ کا( سورت یونس میں ) یہ فر ما نا اے پیغمبر ، ان کافروں کو نوح کاقصہ پڑھ کر سنا جب اس نےا پنی قوم سے کہا اگر تم کو میرا رہنا اور اللہ کی آیتیں یاد د لا نا شاق ہے اخیر من المسلمین تک ۔ (سورت نو ح میں)یہ فر ما نا، ہم نے نو ح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (اخیر سورت تک)

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَالِمٌ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي لأُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn Umar : Once Allah's Apostle stood amongst the people, glorified and praised Allah as He deserved and then mentioned the Dajjal saying, "l warn you against him (i.e. the Dajjal) and there was no prophet but warned his nation against him. No doubt, Noah warned his nation against him but I tell you about him something of which no prophet told his nation before me. You should know that he is one-eyed, and Allah is not one-eyed."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺلوگوں میں خطبہ سنانے کھڑے ہوئے ۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا بیان کی ، پھر دجال کا ذکر فرمایا اور فرمایا: کہ میں تمہیں دجال کے فتنے سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا ۔ لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتاتاہوں جو کسی نبی نے بھی اپنی قوم کو نہیں بتائی تھی ، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دجال کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا عَنِ الدَّجَّالِ مَا حَدَّثَ بِهِ نَبِيٌّ قَوْمَهُ، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ بِمِثَالِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ‏.‏ هِيَ النَّارُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمْ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Shall I not tell you about the Dajjal a story of which no prophet told his nation? The Dajjall is one-eyed and will bring with him what will resemble Hell and Paradise, and what he will call Paradise will be actually Hell; so I warn you (against him) as Noah warned his nation against him."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: کیوں نہ میں تمہیں دجال کے متعلق ایک ایسی بات بتادوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو اب تک نہیں بتائی ۔ وہ کانا ہوگا اور جنت اور جہنم جیسی چیز لائے گا ۔ پس جسے وہ جنت کہے گا درحقیقت وہی دوزخ ہوگی اور میں تمہیں اس کے فتنے سے اسی طرح ڈراتا ہوں ، جیسے نو ح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَجِيءُ نُوحٌ وَأُمَّتُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ، أَىْ رَبِّ‏.‏ فَيَقُولُ لأُمَّتِهِ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ لاَ، مَا جَاءَنَا مِنْ نَبِيٍّ‏.‏ فَيَقُولُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم وَأُمَّتُهُ، فَنَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ، وَهْوَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ ‏{‏وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ‏}‏ وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Said : Allah's Apostle said, "Noah and his nation will come (on the Day of Resurrection and Allah will ask (Noah), "Did you convey (the Message)?' He will reply, 'Yes, O my Lord!' Then Allah will ask Noah's nation, 'Did Noah convey My Message to you?' They will reply, 'No, no prophet came to us.' Then Allah will ask Noah, 'Who will stand a witness for you?' He will reply, 'Muhammad and his followers (will stand witness for me).' So, I and my followers will stand as witnesses for him (that he conveyed Allah's Message)." That is, (the interpretation) of the Statement of Allah: "Thus we have made you a just and the best nation that you might be witnesses Over mankind..." (2.143)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی ﷺنے فرمایا: (قیامت کے دن ) نوح علیہ السلام بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوں گے۔اللہ تعالیٰ دریافت فرمائےگا۔کیا تم نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ حضرت نوح علیہ السلام عرض کریں گے میں نے تیرا پیغام پہنچادیا تھا ، اے رب العزت ! اب اللہ تعالیٰ ان کی امت سے دریافت فرمائے گا ، کیا (نوح علیہ السلام نے) تم تک میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ جواب دیں گے نہیں ، ہمارے پاس تیرا کوئی نبیﷺنہیں آیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نوح علیہ السلام سے دریافت فرمائے گا اس کےلیے آپ کی طرف سے کوئی گواہی بھی دے سکتا ہے ؟ وہ عرض کریں گے کہ محمد ﷺاور ان کی امت (میرے گواہ ہیں ) چنانچہ ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے پیغام خداوندی اپنی قوم تک پہنچایا تھا اور یہی مفہوم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ہےکہ " اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا ، تاکہ تم لوگوں پر گواہی دو " اور وسط کے معنیٰ درمیانی کے ہیں۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي دَعْوَةٍ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً وَقَالَ ‏"‏ أَنَا سَيِّدُ الْقَوْمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، هَلْ تَدْرُونَ بِمَنْ يَجْمَعُ اللَّهُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَيُبْصِرُهُمُ النَّاظِرُ وَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَتَدْنُو مِنْهُمُ الشَّمْسُ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ أَلاَ تَرَوْنَ إِلَى مَا أَنْتُمْ فِيهِ، إِلَى مَا بَلَغَكُمْ، أَلاَ تَنْظُرُونَ إِلَى مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ أَبُوكُمْ آدَمُ، فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، وَأَسْكَنَكَ الْجَنَّةَ، أَلاَ تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ وَمَا بَلَغَنَا فَيَقُولُ رَبِّي غَضِبَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلاَ يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَنَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ، نَفْسِي نَفْسِي، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ‏.‏ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الأَرْضِ، وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا، أَمَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلاَ تَرَى إِلَى مَا بَلَغَنَا أَلاَ تَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَيَقُولُ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلاَ يَغْضَبُ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، نَفْسِي نَفْسِي، ائْتُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، فَيَأْتُونِي، فَأَسْجُدُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ لاَ أَحْفَظُ سَائِرَهُ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : We were in the company of the Prophet at a banquet and a cooked (mutton) forearm was set before him, and he used to like it. He ate a morsel of it and said, "I will be the chief of all the people on the Day of Resurrection. Do you know how Allah will gather all the first and the last (people) in one level place where an observer will be able to see (all) of them and they will be able to hear the announcer, and the sun will come near to them. Some People will say: Don't you see, in what condition you are and the state to which you have reached? Why don't you look for a person who can intercede for you with your Lord? Some people will say: Appeal to your father, Adam.' They will go to him and say: 'O Adam! You are the father of all mankind, and Allah created you with His Own Hands, and ordered the angels to prostrate for you, and made you live in Paradise. Will you not intercede for us with your Lord? Don't you see in what (miserable) state we are, and to what condition we have reached?' On that Adam will reply, 'My Lord is so angry as He has never been before and will never be in the future; (besides), He forbade me (to eat from) the tree, but I disobeyed (Him), (I am worried about) myself! Myself! Go to somebody else; go to Noah.' They will go to Noah and say; 'O Noah! You are the first amongst the messengers of Allah to the people of the earth, and Allah named you a thankful slave. Don't you see in what a (miserable) state we are and to what condition we have reached? Will you not intercede for us with your Lord? Noah will reply: 'Today my Lord has become so angry as he had never been before and will never be in the future Myself! Myself! Go to the Prophet (Muhammad). The people will come to me, and I will prostrate myself underneath Allah's Throne. Then I will be addressed: 'O Muhammad! Raise your head; intercede, for your intercession will be accepted, and ask (for anything). for you will be given."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺکے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے ۔ آپﷺکی خدمت میں بازو کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو بہت مرغوب تھا۔آپﷺنے اس بازو کی ہڈی کا گوشت دانتوں سے نکالا کر کھایا ۔ پھر فرمایا: کہ میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا ۔ تمہیں معلوم ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو ایک چٹیل میدان میں جمع کرے گا ؟ اس طرح کہ دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا ۔ آواز دینے والے کی آواز ہر جگہ سنی جاسکے گی اور سورج بالکل قریب ہوجائے گا۔ایک شخص اپنے قریب کے دوسرے شخص سے کہے گا ، دیکھتے نہیں کہ سب لوگ کیسی پریشانی میں مبتلا ہیں؟ اور مصیبت کس حد تک پہنچ چکی ہے؟ کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب کی شفاعت کےلیے جائے ۔ کچھ لوگوں کا مشورہ ہوگا کہ بابا آدم علیہ السلام اس کےلیے مناسب ہیں۔ چنانچہ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے ، اے بابا آدم ! آپ انسانوں کے دادا ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا ، اپنی روح آپ کے اندر پھونکی تھی ، فرشتوں کو حکم دیا تھا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا تھا ، اور جنت میں آپ کو ٹھہرایا تھا۔ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کردیں۔آپ خود ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ ہم کس درجہ الجھن اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔وہ فرمائیں گے کہ (گناہگاروں پر ) اللہ تعالیٰ آج اس درجہ غضبناک ہے کہ کبھی اتنا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا اور مجھے پہلے ہی درخت (جنت ) کے کھانے سے منع کرچکا تھا لیکن میں اس فرمان کو بجالانے میں کوتاہی کرگیا ۔ آج تو مجھے اپنی ہی پڑی ہے۔ (نفسی نفسی)تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ ۔ ہاں ، نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ۔ چنانچہ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے ، اے نوح علیہ السلام ! آپ(آدم علیہ السلام کے بعد ) روئے زمین پر سب سے پہلے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو "عبد شکور" کہہ کر پکارا ہے۔ آپ ملاحظہ فرماسکتے ہیں کہ آج ہم کیسی مصیبت و پریشانی میں مبتلا ہیں ؟ آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کردیجئے ۔ وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میرا رب آج اس درجہ غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غضبناک نہیں ہوا تھا اور نہ کبھی اس کے بعد اتنا غضبناک ہوگا۔ آج تو مجھے خود اپنی ہی فکر ہے۔(نفسی نفسی) تم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جاؤ ۔ چنانچہ وہ لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں (ان کی شفاعت کےلیے) عرش کے نیچے سجدے میں گر پڑوں گا۔ پھر آواز آئے گی ، اے محمدﷺ!سر اٹھاؤ اور شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ مانگو تمہیں دیا جائے گا ۔ محمد بن عبید اللہ نے بیان کیا کہ ساری حدیث میں یاد نہیں رکھ سکا۔


حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ ‏{‏فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ‏}‏ مِثْلَ قِرَاءَةِ الْعَامَّةِ‏.‏

Narrated By 'Abdullah : Allah's Apostle recited the following Verse) in the usual tone: 'Fahal-Min-Muddalkir.' (54.15)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے آیت "فھل من مدکر" مشہور قرأت کے مطابق (ادغام کے ساتھ ) تلاوت فرمائی تھی۔

Chapter No: 4

باب

"And Verily! Illyas (Elias) was one of the Messengers. When he said to his people, "Will you not fear Allah? ... and We left for him (a goodly remembrance) among the later generations." (V.37:123-129)

باب : الیا س پیغمبر کا بیان

‏{‏وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ * إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَلاَ تَتَّقُونَ * أَتَدْعُونَ بَعْلاً وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ * اللَّهُ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الأَوَّلِينَ * فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ * إِلاَّ عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ * وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الآخِرِينَ‏}‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُذْكَرُ بِخَيْرٍ ‏{‏سَلاَمٌ عَلَى آلِ يَاسِينَ * إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ * إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ‏}‏‏.‏ يُذْكَرُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ إِلْيَاسَ هُوَ إِدْرِيسُ‏.‏

"Salam (peace) be upon Illyas (Elias). Verily! Thus do We reward the good-doers. Verily he was one of Our believing slaves." (V.37:130-132) And Ibn Masood and Ibn Abbas said that Illyas was Idris.

(سورت والصافات میں ) فر ما یا بے شک الیاس پیغمبروں میں سے تھا جب اس نے اپنی قوم والو ں سے کہا تم اللہ سے نہیں ڈر تے (تر کنا علیہ فی الاخرین تک )ابن عبا س نے کہا تر کنا علیہ سے یہی مراد ہے الیاس پر ہمارا سلام ہم اچھے لوگو ں کو اچھا ہی بدلہ دیتے ہیں ۔ بے شک وہ ہمارے ایمان داروں میں سے تھا ابن مسعود اور ابن عباس سے منقول ہے کہ الیاس حضرت ادریس ہیں ۔

 

Chapter No: 5

بابُ ذِكْرِ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَهُوَ جَدُّ أَبىِ نُوحٍ وَ يُقَالُ : جَدُّ نُو حٍ عَليهما السَّلَامُ

The reference to Idris. He was Nuh's (Noah) great-grand-father, and it is said that he was Nuh's grandfather.

با ب :ادریس پیغمبر کا بیا ن :حضرت ادریس حضرت نوح کے با پ کے دادا تھے۔بعض نے کہا حضرت نوح کے دادا تھے۔

وَقَوْلِه اللَّهِ تَعَالَى :‏{‏وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا‏}‏

The Statement of Allah, "We raised him (Idris) to a high station." (V.19:57)

اللہ تعا لیٰ نے( سو رت مر یم ) میں فر ما یا ہم نے ادریس کو بلند مقام ( چھٹے یا چوتھے آسما ن پر) اٹھا لیا ۔

قَالَ عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ أَنَسٌ كَانَ أَبُو ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي، فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا جَاءَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ افْتَحْ‏.‏ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا جِبْرِيلُ‏.‏ قَالَ مَعَكَ أَحَدٌ قَالَ مَعِيَ مُحَمَّدٌ‏.‏ قَالَ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ، فَافْتَحْ‏.‏ فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا آدَمُ، وَهَذِهِ الأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ، حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ‏.‏ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الأَوَّلُ، فَفَتَحَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَنَسٌ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ إِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ، وَلَمْ يُثْبِتْ لِي كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّادِسَةِ‏.‏ وَقَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ بِإِدْرِيسَ‏.‏ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ‏.‏ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِدْرِيسُ، ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَى‏.‏ ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالأَخِ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ عِيسَى‏.‏ ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالاِبْنِ الصَّالِحِ‏.‏ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ‏.‏ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الأَنْصَارِيَّ كَانَا يَقُولاَنِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ صَرِيفَ الأَقْلاَمِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَىَّ خَمْسِينَ صَلاَةً، فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى مَا الَّذِي فُرِضَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلاَةً‏.‏ قَالَ فَرَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ‏.‏ فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ رَبِّي فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ، وَهْىَ خَمْسُونَ، لاَ يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَىَّ‏.‏ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ‏.‏ فَقُلْتُ قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي، ثُمَّ انْطَلَقَ، حَتَّى أَتَى السِّدْرَةَ الْمُنْتَهَى، فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لاَ أَدْرِي مَا هِيَ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ ‏{‏الْجَنَّةَ‏}‏ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ ‏"‏‏.‏

Narrated Anas (R.A.): Abu Dhar(R.A.) used to say that Allah's Messenger(s.a.w.) said, "While I was at Makkah, the roof of my house was opened and Jibril descended, opened my chest and washed it with Zamzam water.Then he brought a golden tray full of wisdom and faith and having poured its contents into my chest, he closed it.then he took my hand and ascended with me to the heaven. When Jibril reached the nearest heaven , he said to the gatekeeper of the heaven, Open (the gate)'.The gatekeeper asked, 'who is it?' Jibril answered ,'Jibril.'He asked 'Has he been called?' Jibril replied,'Muhammad is with me.'Jibril said,'Yes'.So, the gate was opened and we went over the nearest heaven and there we saw a man sitting withAswida( a large number of people) on his right and Aswida on his left.When he looked towards his right, he laughed and when he looked towards his left he wept.He said(to me), 'Welcome O pious Prophet and Poius son'.I said, 'Who is this man O Jibril?' Jibril replied, 'He is Adam and the people on his right and left are the souls of his offspring. Those on the right are the people of paradise , and those on the left are the people of the (Hell) fire.So, when he looks to the right , he laughs and when he looks to the left he weeps.' Then Jibril ascended with me till he reached the second heaven and said to its gatekeeper.'Open (the gate).' The gatekeeper said to him the as the gatekeeper of the first heaven has said , and he opened the gate." Anas added: Abu Dhar mentioned that the prophet (s.a.w.)met Idris, Musa(Moses), Isa and Ibrahim over the heavens, but he did not specify their places (i.e. on which heaven each of them was), but mentioned that he (the prophet s.a.w.) had met Adam on the nearest heaven, and Ibrahim on the sixth.Anas said,"When Jibril and the Prophet(s.a.w.) passed by Idris, the latter said, 'Welcome , O pious Prophet and Pious brother!' I said , 'Who is he ?' He replied , 'He is Isa.' Then I passed by the prophet Ibrahim who said,'Welcome , O pious Prophet and Pious son!' I said,'Who is he?' Jibril replied ,'He is Ibrahim.'" Narrated Ibn Abbas and Abu Haiyya Al-Ansari : The prophet(s.a.w.) said,'Then Jibril ascended with me to a place where i heard the creaking of thepens." Ibn Hazm and Anas bin Malik state that the Prophet(s.a.w.) said,"Allah enjoined fifty Salat(prayers) on me.When I returned with this order of Allah, I passed by Musa who asked me, 'What has Allah enjoined on your followers?' I replied, ' He has enjoined fifty Salat(prayers) on them.' On that Musa said to me,'Go back to your Lord(and appeal for reduction), for your followers will not be able to bear it.'So , I returned to my Lord asked for some reduction, and He reduced it to half.When I passed by Musa again and informed him about it, he once more said to me,'Go back to your Lord, for your followers will not be able to bear it.' So, I returned to my Lord similarly as before and half of it was reduced.I again passed by Musa and he said to me, 'Go back to your Lord, for your followers will not be able to bear it'.I again returned to my Lord and He said, 'These are five (salat-prayers) and they are all equal to fifty( in reward), for My Word does not change.' I returned to Musa , he again told me to return to my Lord (for further reduction) but I said to him'I feel shy of asking my Lord now. Then Jibril took me till we reached Sidrat-al-Muntaha( i.e. lote tree of utmost boundry) which was shroudede in colours indescribable. Then I was admitted into Paradise where I found small tents(made) of pearls and its earth was musk (a kind of perfume)."

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میرے گھر کی چھت کھولی گئی ۔ میرا قیام ان دنوں مکہ میں تھا۔ پھر جبریل علیہ السلام اترے اور میرا سینہ چاک کیا اور اسے زمزم کے پانی سے دھویا ۔ اس کے بعد سونے کا ایک طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے لبریز تھا۔ اسے میرے سینے میں انڈیل دیا ۔ پھر میرا ہاتھا پکڑکر آسمان کی طرف لے کر چلے ، جب آسمان دنیا پر پہنچے تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ دروازہ کھولو ، پوچھا کہ کون صاحب ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جبریل ، پھر پوچھا کہ آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے ؟ جواب دیا کہ میرے ساتھ محمدﷺہیں ،پوچھا کہ انہیں لانے کےلیے آپ کو بھیجا گیا تھا ۔ جواب دیا کہ ہاں ، اب دروازہ کھلا ، جب ہم آسمان پر پہنچے تو وہاں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی ، کچھ انسانی روحیں ان کے دائیں طرف تھیں اور کچھ بائیں طرف ، جب وہ دائیں طرف دیکھتے تو ہنس دیتے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو رو پڑتے ۔ انہوں نے کہا : خوش آمدید ، نیک نبی ، نیک بیٹے! میں نے پوچھا، جبریل ! یہ صاحب کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں ۔اور یہ انسانی روحیں ان کے دائیں اور بائیں طرف تھیں ان کی اولاد بنی آدم کی روحیں تھیں ان کے جو دائیں طرف تھیں وہ جنتی تھیں اور جو بائیں طرف تھیں وہ دوزخی تھیں ، اسی لیے جب وہ دائیں طرف دیکھتے تو مسکراتے او رجب بائیں طرف دیکھتے تو روتے تھے ، پھر جبریل علیہ السلام مجھے اوپر لے کر چڑھے اور دوسرے آسمان پر آئے ، اس آسمان کے داروغہ سے بھی انہوں نے کہا کہ دروازہ کھولو، انہوں نے بھی اسی طرح کے سوالات کئے جو پہلے آسمان پر ہوچکے تھے ، پھر دروازہ کھولا ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے تفصیل سے بتایا کہ آپ ﷺمختلف آسمانوں پر ادریس ، موسیٰ ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو پایا ، لیکن انہوں نے ان انبیاء کرام کے مقامات کی کوئی تخصیص نہیں کی ، صرف اتنا کہا کہ آپﷺنے حضرت آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا (پہلے آسمان پر ) پایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے پر اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر جب جبریل علیہ السلام ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا : خوش آمدید ، نیک نبی ، نیک بھائی ، میں نےپوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں ؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ادریس علیہ السلام ہیں ، پھر میں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا ، انہوں نے بھی کہا خوش آمدید نیک نبی نیک بھائی، میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں ؟ تو بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ۔ پھر میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گذ را تو انہوں نے فر مایا: خوش آمدید نیک نبی ، اور نیک بیٹے ، میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں ، ابن شہاب سے زہری نے بیان کیا اور مجھے ایوب بن حزم نے خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو حیہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبیﷺنے فرمایا: پھر مجھے اوپر لے کر چڑھے اور میں اتنے بلند مقام پر پہنچ گیا جہاں سے قلم کے لکھنے کی آواز صاف سننے لگی تھی،ابو بکر بن حزم نے بیان کیا اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے پچاس وقت کی نماز یں مجھ پر فرض کیں۔میں اس فریضہ کے ساتھ واپس ہوا اور جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرا ، تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کی امت پر کیا چیز فرض کی گئی ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ پچاس وقت کی نمازیں ان پر فرض ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں ، کیونکہ آپ کی امت میں اتنی نمازوں کی طاقت نہیں ہے۔ چنانچہ میں واپس ہوا اور ب العالمین کے دربار میں مراجعت کی ، اس کے نتیجے میں اس کا ایک حصہ کم کردیا گیا ، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور اس مرتبہ بھی انہوں نے کہا کہ اپنے رب سے پھر مراجعت کریں پھر انہوں نے اپنی تفصیلات کا ذکر کیا کہ رب العالمین نے ایک حصہ کی پھر کمی کردی ، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں خبر کی ، انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب سے مراجعت کریں ، کیونکہ آپ کی امت میں اس کی بھی طاقت نہیں ہے ، پھر میں واپس ہوا اور اپنے رب سے پھر مراجعت کی ، اللہ تعالیٰ نے اس مرتبہ فرمادیا کہ نمازیں پانچ وقت کی کردی گئیں اور ثواب پچاس نمازوں ہی کا باقی رکھا گیا ، ہمارا قول بدلا نہیں کرتا ۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے اب بھی اسی پر زور دیا کہ اپنے رب سے آپ کو پھر مراجعت کرنی چاہیے ۔ لیکن میں نے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے بار بار درخواست کرتے ہوئے اب شرم آتی ہے ۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر آگے بڑھے اور سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لائے جہاں مختلف قسم کے رنگ نظر آئے ، جنہوں نے اس درخت کو چھپا رکھا تھا میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے ۔ اس کے بعد مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو میں نے دیکھا کہ موتی کے گنبد بنے ہوئے ہیں اور اس کی مٹی مشک کی طرف خوشبودار تھی۔

Chapter No: 6

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏{‏وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا}‏

The Statement of Allah, "And to Aad (people, We sent), their brother Hud." (V.7:65) And Allah's Statement, "When he warned his people in Al-Ahqaf ... Thus do We recompense the people who are Mujrimiun." (V.46:21-25)

با ب: ہو د پیغمبر (اور ان کی قو م عاد) کا بیان۔

وَقَوْلِهِ ‏{‏إِذْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ بِالأَحْقَافِ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏كَذَلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ‏}‏‏. فِيهِ عَنْ عَطَاءٍ وَسُلَيْمَانَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ باب قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ‏}‏ شَدِيدَةٍ ‏{‏عَاتِيَةٍ‏}‏ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَتَتْ عَلَى الْخُزَّانِ ‏{‏سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا‏}‏ مُتَتَابِعَةً ‏{‏فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ‏}‏ أُصُولُهَا ‏{‏فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ‏}‏ بَقِيَّةٍ‏

And also the Statement of Allah, "And as for Aad, they were destroyed by a furious violent wind! Which Allah imposed on them for seven nights and eight days in succession, so that you could see men lying overthrown, as if they were hollow trunks of date-palms. Do you see any remnants of them?" (V.69:6-8)

اللہ تعالیٰ نے (سورت اعراف میں) فرمایا ہم نے عاد قو م کی طرف ان کے ذات بھائی ہود کو بھیجا (اخیر آیت تک )اور (سورت الاحقاف میں) فرما یا جب ہود نے اپنی قوم کو ریت کے میدانوں میں ڈرایا۔ اخیر آیت کذالک نجزی القوم المجرمین تک۔اس با ب میں عطاء بن ابی رباح اور سلیمان بن یسا ر نے حضرت عائشہ سےروا یت کی ہے ،انہوں نے نبی ﷺسے اور اللہ تعالیٰ نے (سورت حاقہ میں)فرمایا عا د کی قو م تو تیز تند (یا سرد ) نا فر ما ن آندھی سے تباہ کیے گئے۔ابن عیینہ نے کہا عا تیہ کا معنی اپنے داروغہ فرشتوں کے قا بو سے باہر ہو گئی یہ آندھی اللہ نے سا ت رات آٹھ دن برا بر قائم رکھی حسو ما کا معنی پے درپے چلتی رہی (ایک منٹ بھی نہیں رکی)اگر تو اس وقت مو جو د ہو تا تو عا د کے لوگو ں کو اس طرح مر ےپڑے دیکھتاجیسے کھوکھلی کھجور کے تنے (مدلے ٹھونٹھ) اب تو ان میں کا بچا ہوا کوئی بھی پاتا ہے ؟

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, "I have been made victorious with As-Saba (i.e. an easterly wind) and the people of 'Ad were destroyed by Ad-Dabur (i.e. a westerly wind)."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: (غزوۂ خندق کے موقع پر) باد صبا(مشرق کی طرف سے چلنے والی ہوا) سے میری مد د کی گئی ، اور قوم عاد دبور (مغرب کی طرف سے چلنے والی ہوا) سے ہلاک کردی گئی تھی۔


قَالَ وَقَالَ ابْنُ كَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنه ـ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذُهَيْبَةٍ فَقَسَمَهَا بَيْنَ الأَرْبَعَةِ الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلاَثَةَ الْعَامِرِيِّ ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلاَبٍ، فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَالأَنْصَارُ، قَالُوا يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ ‏"‏‏.‏ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقٌ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُ، أَيَأْمَنُنِي اللَّهُ عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ فَلاَ تَأْمَنُونِي ‏"‏‏.‏ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ قَتْلَهُ ـ أَحْسِبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ـ فَمَنَعَهُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ ‏"‏ إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا ـ أَوْ فِي عَقِبِ هَذَا ـ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Said: Ali sent a piece of gold to the Prophet who distributed it among four persons: Al-Aqra' bin Habis Al-Hanzali from the tribe of Mujashi, 'Uyaina bin Badr Al-Fazari, Zaid At-Ta'i who belonged to (the tribe of) Bani Nahban, and 'Alqama bin Ulatha Al-'Amir who belonged to (the tribe of) Bani Kilab. So the Quraish and the Ansar became angry and said, "He (i.e. the Prophet) gives the chief of Najd and does not give us." The Prophet said, "I give them) so as to attract their hearts (to Islam)." Then a man with sunken eyes, prominent checks, a raised forehead, a thick beard and a shaven head, came (in front of the Prophet) and said, "Be afraid of Allah, O Muhammad!" The Prophet ' said "Who would obey Allah if I disobeyed Him? (Is it fair that) Allah has trusted all the people of the earth to me while, you do not trust me?" Somebody who, I think was Khalid bin Al-Walid, requested the Prophet to let him chop that man's head off, but he prevented him. When the man left, the Prophet said, "Among the off-spring of this man will be some who will recite the Qur'an but the Qur'an will not reach beyond their throats (i.e. they will recite like parrots and will not understand it nor act on it), and they will renegade from the religion as an arrow goes through the game's body. They will kill the Muslims but will not disturb the idolaters. If I should live up to their time' I will kill them as the people of 'Ad were killed (i.e. I will kill all of them)."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (یمن سے ) نبی ﷺکی خدمت میں کچھ سونا بھیجا تو آپ ﷺنے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کردیا ، اقرع بن حابس حنظلی ، المجاشعی ، عیینہ بن بدر فزاری ، زید طائی ،بنو نبہان والے، اور علقمہ بن علاثہ عامری ، پھر بنو کلاب والے ۔ اس پر قریش اور انصار کے لوگوں کو غصہ آیا اور کہنے لگے کہ آپﷺنے نجد کے بڑوں کو تو دیا لیکن ہمیں نظر انداز کردیا ہے۔ آپﷺنے فرمایا: میں صرف ان کے دل ملانے کےلیے انہیں دیتا ہوں (کیونکہ ابھی حال ہی میں یہ لوگ مسلمان ہوئے ہیں)پھر ایک شخص سامنے آیا ، اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں ، رخسار پھولے ہوئے تھے ، پیشانی بھی اٹھی ہوئی ،داڑھی بہت گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا ۔ اس نے کہا اے محمدﷺ! اللہ سے ڈرو۔ آپﷺنے فرمایا: اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے روئے زمین پر دیانت دار بناکر بھیجا ہے ۔ کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے ؟ اس شخص کی اس گستاخی پر ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی ، میرا خیال ہے کہ یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے ، لیکن آپ ﷺنے انہیں اس سے روک دیا ، پھر وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو آپﷺنے فرمایا: اس شخص کی نسل سے ، یا (آپﷺنے یہ فرمایا ) اس شخص کے بعد اسی کی قوم سے ایسے لوگ جھوٹے مسلمان پیدا ہوں گے ، جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے ، لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے ، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ، اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا (عذاب الٰہی سے) قتل ہوا تھا (کہ ایک بھی باقی نہ بچا)۔


حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ ‏{‏فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ‏}‏‏.‏

Narrated By 'Abdullah : I heard the Prophet reciting: "Fahal Min Muddakir."

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے نبیﷺسے سنا آپ ﷺ آیت فھل من مدکر کی تلاوت فرمارہے تھے۔

Chapter No: 7

باب قِصَّةِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ

The story of Yajuj (Gog) and Majuj (Magog).

باب : قصہ یاجوج ماجوج

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ‏}‏ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَأَتْلُو عَلَيْكُمْ مِنْهُ ذِكْرًا * إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ سَبَبًا * فَاتَّبَعَ سَبَبًا‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ائْتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ‏}‏ وَاحِدُهَا زُبْرَةٌ وَهْىَ الْقِطَعُ ‏{‏حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ‏}‏ يُقَالُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْجَبَلَيْنِ، وَالسُّدَّيْنِ الْجَبَلَيْنِ ‏{‏خَرْجًا‏}‏ أَجْرًا ‏{‏قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا‏}‏ أَصْبُبْ عَلَيْهِ رَصَاصًا، وَيُقَالُ الْحَدِيدُ‏.‏ وَيُقَالُ الصُّفْرُ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ النُّحَاسُ‏.‏ ‏{‏فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ‏}‏ يَعْلُوهُ، اسْتَطَاعَ اسْتَفْعَلَ مِنْ أَطَعْتُ لَهُ فَلِذَلِكَ فُتِحَ أَسْطَاعَ يَسْطِيعُ وَقَالَ بَعْضُهُمُ اسْتَطَاعَ يَسْتَطِيعُ، ‏{‏وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا * قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكًّا‏}‏ أَلْزَقَهُ بِالأَرْضِ، وَنَاقَةٌ دَكَّاءُ لاَ سَنَامَ لَهَا، وَالدَّكْدَاكُ مِنَ الأَرْضِ مِثْلُهُ حَتَّى صَلُبَ مِنَ الأَرْضِ وَتَلَبَّدَ‏.‏ ‏{‏وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا * وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ‏}‏ ‏{‏حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ‏}‏ قَالَ قَتَادَةُ حَدَبٍ أَكَمَةٍ‏.‏ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَأَيْتُ السَّدَّ مِثْلَ الْبُرْدِ الْمُحَبَّرِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ رَأَيْتَهُ ‏"‏‏

And the Statement of Allah, "They said, O Dhul-Qarnain! Verily Gog and Magog are doing great mischief in the land." (V.18:94) "And they ask you about Dhul-Qarnain ... a way." (V.18:83-85)

اللہ تعالیٰ نے سورت کہف میں فر ما یا اے پیغمبر تجھ سے ذو القرنین (بادشاہ )کا حال پو چھتے ہیں تو کہہ میں اس کا کچھ قصہ تم کو سنا تا ہو ں ۔ ہم نے اس کو زمین کی حکو مت دی تھی اور ہر طرح کا ساما ن اس کو عطا فر ما یا وہ ایک سمت چل نکلا اس آیت تک لو ہے کی اینٹیں میرے پا س لاؤ زبر،زُبرۃ کی جمع ہے زبرہ کے معنی ٹکڑا جب اس نے دو نو ں پہا ڑوں کے برابر دیوار اٹھا دی صدفین سے پہاڑ مرا د ہیں ۔ یہ ابن عبا س سے منقول ہے سدّ ین سے بھی پہاڑ مراد ہیں خر جاً کے معنی محصول (اجرت ) ذوالقرنین نے کہا اس دیو ار کو آگ سے دھو نکو ، جب دہکتے دہکتے اس کو آگ بنا دیا تو کہنے لگے لاؤ میں اس پر قطر ڈال دوں یعنی شیش بعض کہتے ہیں پیتل ۔ ابن عبا س نے کہا تا نبا پھریا جو ج ما جو ج اس پر چڑھ نہ سکے استطا ع با ب استفعال سے ہے اطعت سے اسی لئے (ت کو تخفیف کے لئے کبھی حذف کر کے )ت کا فتح ہمزہ کو د یتے ہیں اور کہتے ہیں اسطاع یسطیع اور بعض نے استطاع یستطیع بھی کہا ہے اور یا جو ج ما جو ج اس میں سو را خ بھی نہ کر سکے ۔ ذوالقر نین نے کہا یہ میرے پرور دگا ر کی رحمت ہے(کہ اس نے ایسی مضبوط د یو ا ر میر ے ہا تھ سے بنو ائی)جب میر ے پر ور دگا ر کا ٹھہرایا ہو ا و قت آئے گا تو اس دیوار کو دکّاء یعنی زمین دوز کر دے گا ۔ عر ب لو گ کہتے ہیں یہ اونٹنی دکّاء ہے یعنی اس کا کو ہا ن نہیں۔ اسی سے ہے دکداک یعنی وہ زمین جو ہموار ہو کر سخت ہو گئی ہو ، اونچی نہ ہو اور میرے ما لک کا وعدہ بر حق ہے اور ہم یاجو ج ماجو ج کے لو گو ں کو اس دن ہجوم کرتے ہوئے (ہر بستی پر ٹڈیو ں کی طرح امنڈتے ہو ئے ) چھوڑ دیں گے( یا خلقت کو ان کے ڈر سے ایک پر ایک گر تے ہوئے چھوڑ دیں گے ) جب یاجو ج ما جو ج کھو ل دئیے جا ئیں گے (اور وہ سخت مصیبت کا وقت ہو گا ) اور وہ ہر بلندی سے دوڑ پڑ یں گے قتا دہ نے کہا حدب کے معنی ٹیلہ (ٹبہ) ایک شخص(نا م نا معلوم)نے نبیﷺ سے عرض کیا میں نے اس دیوار کو دیکھاوہ چوخانہ کی چادر کی طرح تھی (ایک دھاری سرخ ایک کالی) آپؑ نے فر ما یا تو نے سچ اس کو دیکھا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ ـ رضى الله عنهن أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا يَقُولُ ‏"‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ‏"‏‏.‏ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا‏.‏ قَالَتْ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخُبْثُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Zainab bint Jahsh : That the Prophet once came to her in a state of fear and said, "None has the right to be worshipped but Allah. Woe unto the Arabs from a danger that has come near. An opening has been made in the wall of Gog and Magog like this," making a circle with his thumb and index finger. Zainab bint Jahsh said, "O Allah's Apostle! Shall we be destroyed even though there are pious persons among us?" He said, "Yes, when the evil person will increase."

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبیﷺان کے ہاں تشریف لائے اس حال میں کہ آپﷺکچھ گھبرائے ہوئے تھے پھر آپﷺنے فرمایا: اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ، ملک عرب میں اس برائی کی وجہ سے بربادی آجائے گی جس کے دن قریب آنے کو ہیں ، آج یاجوج ماجوج نے دیوار میں اتنا سوراخ کردیا ہے پھر آپﷺنے انگوٹھے اور اس کے قریب کی انگلی سے حلقہ بناکر بتلایا ۔ ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کا کہ میں نے سوال کیا اے اللہ کے رسول ﷺ!کیا ہم اس کے باوجود ہلاک کردئیے جائیں گے کہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہوں گے ؟ آپﷺنے فرمایا: جب فسق و فجور بڑھ جائے گا (تو یقینا بربادی ہوگی)


حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ فَتَحَ اللَّهُ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلَ هَذَا ‏"‏‏.‏ وَعَقَدَ بِيَدِهِ تِسْعِينَ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Allah has made an opening in the wall of the Gog and Magog (people) like this, and he made with his hand (with the help of his fingers).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یاجوج ماجوج کی دیوار سے اتنا کھول دیا ہے ، پھر آپﷺنے اپنی انگلیوں سے نوے کا عدد بناکر بتلایا ۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَا آدَمُ‏.‏ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ‏.‏ فَيَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ‏.‏ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ، فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا، وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى، وَمَا هُمْ بِسُكَارَى، وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِكَ الْوَاحِدُ قَالَ ‏"‏ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْكُمْ رَجُلٌ، وَمِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفٌ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَكَبَّرْنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَكَبَّرْنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَكَبَّرْنَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلاَّ كَالشَّعَرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ، أَوْ كَشَعَرَةٍ بَيْضَاءَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : The Prophet said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam.' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa'daik', and all the good is in Your Hand.' Allah will say: 'Bring out the people of the fire.' Adam will say: 'O Allah! How many are the people of the Fire?' Allah will reply: 'From every one thousand, take out nine-hundred-and ninety-nine.' At that time children will become hoary headed, every pregnant female will have a miscarriage, and one will see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but dreadful will be the Wrath of Allah." The companions of the Prophet asked, "O Allah's Apostle! Who is that (excepted) one?" He said, "Rejoice with glad tidings; one person will be from you and one-thousand will be from Gog and Magog." The Prophet further said, "By Him in Whose Hands my life is, hope that you will be one-fourth of the people of Paradise." We shouted, "Allahu Akbar!" He added, "I hope that you will be one-third of the people of Paradise." We shouted, "Allahu Akbar!" He said, "I hope that you will be half of the people of Paradise." We shouted, "Allahu Akbar!" He further said, "You (Muslims) (compared with non Muslims) are like a black hair in the skin of a white ox or like a white hair in the skin of a black ox (i.e. your number is very small as compared with theirs)."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) فرمائے گا کہ اے آدم! حضرت آدم علیہ السلام عرض کریں گے میں اطاعت کے لیے حاضر ہوں ، مستعد ہوں ، ساری بھلائیاں صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، جہنم میں جانے والوں کو (لوگوں میں سے الگ) نکال لو۔ حضرت آدم علیہ السلام عرض کریں گے ۔ اے اللہ ! جہنمیوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فر مائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔ اس وقت ( کی ہولناکی اور وحشت سے) بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرادے گی ۔ اس وقت تم (خوف ودہشت سے) لوگوں کومدہوشی کے عالم میں دیکھوگے ، حالانکہ وہ بے ہوش نہ ہوں گے ۔ لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہوگا۔صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ!وہ ایک شخص ہم میں سے کون ہوگا ؟ آپﷺنے فرمایا: تمہیں بشارت ہو، وہ ایک آدمی تم میں سے ہوگا اور ایک ہزار دوزخی یا جوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے پھر آپﷺنے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، مجھے امید ہے کہ تم (امت مسلمہ ) تمام جنت والوں کی ایک چوتھائی ہوں گے۔ پھر ہم نے اللہ اکبر کہا تو آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت والوں کے ایک تہائی ہوں گے ۔ پھر ہم نے اللہ اکبر کہا تو آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت والوں کے آدھے ہوں گے پھر ہم نے اللہ اکبر کہا ، پھر آپﷺنے فرمایا: (محشر میں) تم لوگ تمام انسانوں کے مقابلے میں اتنے ہوں گے جتنے کسی سفید بیل کے جسم پر ایک سیاہ بال ، یا جتنے کسی سیاہ بیل کے جسم پر ایک سفید بال ہوتا ہے۔

Chapter No: 8

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً‏}‏

The Statement of Allah, "... And Allah did take Ibrahim (Abraham) as a Khalil (an intimate friend)." (V.4:125)

با ب: ( حضرت ابرا ہیم کا بیان ) اللہ تعالیٰ کا (سورت نساءمیں ) یہ فر ما نا اللہ نے ابرا ہیم کو جا نی دو ست بنایا ،

وَقَوْلِهِ ‏{‏إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا‏}‏ وَقَوْلِهِ ‏{‏إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لأَوَّاهٌ حَلِيمٌ‏}‏ وَقَالَ أَبُو مَيْسَرَةَ الرَّحِيمُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ‏.

And His Statement, "Verily, Ibrahim (Abraham) was an Ummah (a leader having all good righteous qualities, or a nation), obedient to Allah Hanifa (i.e., to worship none but Allah) ..." (V.16:120) And His Statement, "Verily, Ibrahim (Abraham) was Awwah (one who invokes Allah with humility, glorifies Him and remembers Him much) and was forebearing." (V.9:114)

اور (سو رت نحل میں ) فر ما نا بے شک ابراھیم خوبیوں کا مجموعہ اللہ کا فر ما نبر دار ایک طرف والا تھا اور ( سورت تو بہ میں )بے شک ابراھیم مہربا ن تھا بر د با ر ابو میسرہ ( عمرو بن شرجیل ) نے کہا اواہ کا معنی مہربا ن ۔یہ حبشی زبا ن کا لفظ ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً ـ ثُمَّ قَرَأَ – ‏{‏كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ‏}‏ وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِي أَصْحَابِي‏.‏ فَيَقُولُ، إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ‏.‏ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ‏{‏وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏الْحَكِيمُ ‏}‏‏"‏

Narrated By Ibn Abbas : The Prophet said, "You will be gathered (on the Day of Judgment), bare-footed, naked and not circumcised." He then recited: 'As We began the first creation, We, shall repeat it: A Promise We have undertaken: Truly we shall do it.' (21.104) He added, "The first to be dressed on the Day of Resurrection, will be Abraham, and some of my companions will be taken towards the left side (i.e. to the (Hell) Fire), and I will say: 'My companions! My companions!' It will be said: 'They renegade from Islam after you left them.' Then I will say as the Pious slave of Allah (i.e. Jesus) said. 'And I was a witness Over them while I dwelt amongst them. When You took me up You were the Watcher over them, And You are a witness to all things. If You punish them. They are Your slaves And if You forgive them, Verily you, only You are the All-Mighty, the All-Wise." (5.120-121)

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی کہا ہم سے مغیرہ بن نعمان نے بیان کیا کہا مجھ سے سعید بن جبیر نے،انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے۔آپؐ نے فرمایا (قیامت کے دن)ننگے پاؤں،ننگے بدن بن ختنہ حشر کئے جاؤ گے۔پھر آپؐ نے (سورت انبیاء کی) یہ آیت پڑھی:جیسے ہم نے پہلی بار پیدا کیا ویسا ہی دوبارہ بھی پیدا کریں گے،ہم اس کا وعدہ کر چکے ہیں جس کو (پورا) کریں گے اور قیامت کے دن سب سے پہلے ابراہیمؑ کو کپڑے پہنائے جائیں گے(پھر ہمارے پیغمبر صاحبؐ کو)اور ایسا ہو گا میرے اصحاب میں سے کئی لوگوں کو بائیں طرف (دوزخ کی طرف )کھینچ لے جائیں گے۔میں کہوں گا (فرشتو!) یہ تو میرے اصحاب ہیں۔وہ کہیں گے(تم کو معلوم نہیں)یہ لوگ جب تمہاری وفات ہو گئی تو اسلام سے پھر گئے اس وقت میں اس نیک بندے (عیسٰیؑ) کی طرح کہوں گا میں تو جب تک ان لوگوں میں رہا تو ان کا حال دیکھتا رہا۔اخیر آیت الحکیم تک۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لاَ تَعْصِنِي فَيَقُولُ أَبُوهُ فَالْيَوْمَ لاَ أَعْصِيكَ‏.‏ فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ يَا رَبِّ، إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لاَ تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، فَأَىُّ خِزْىٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ، ثُمَّ يُقَالُ يَا إِبْرَاهِيمُ مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُلْتَطِخٍ، فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ ‏"‏‏.

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "On the Day of Resurrection Abraham will meet his father Azar whose face will be dark and covered with dust.(The Prophet Abraham will say to him): 'Didn't I tell you not to disobey me?' His father will reply: 'Today I will not disobey you.' 'Abraham will say: 'O Lord! You promised me not to disgrace me on the Day of Resurrection; and what will be more disgraceful to me than cursing and dishonouring my father?' Then Allah will say (to him):' 'I have forbidden Paradise for the disbelievers." Then he will be addressed, 'O Abraham! Look! What is underneath your feet?' He will look and there he will see a Dhabh (an animal,) blood-stained, which will be caught by the legs and thrown in the (Hell) Fire."

ہم سے اسمعٰیل بن عبداللہ نے بیان کیا کہا مجھ کو میرے بھائی عبدالحمید نے خبر دی،انہوں نے ابن ابی ذئب سے،انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے،انہوں نے ابوہریرہؓ سے،انہوں نے نبیﷺ سے،انہوں نے کہا ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کو قیامت کے دن دیکھیں گے،منہ پر سیاہی گرد وغبار،ان سے کہیں گے میں نے (دنیا میں)تم سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرنا(کہا مانو)آزر کہیں گے آج میں تمہاری نافرمانی نہیں کرنے کا(جو تم کہو بجا لاؤں گا)اس وقت ابراہیمؑ(پروردگار سے)عرض کریں گے پروردگار (تو نے میری یہ دعا قبول کی تھی جوسورت شعراء میں ہے)مجھ سےو عدہ فرمایا تھا کہ قیامت کے دن تجھ کو ذلیل نہیں کروں گا۔اس سے زیادہ کونسی ذلّت ہو گی،میرا باپ ذلیل ہُوا جو تیری رحمت سے محروم ہے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تو کافروں پر بہشت حرام کردی ہے پھر ابراہیمؑ کو تسلّی دینے کے لئے کہا جائے گا ذرا اپنے پاؤں تلے دیکھو،وہ دیکھیں گے تو (ان کے والد کا پتہ نہیں)ایک بجّو ہے نجاست سے لتھڑا ہُوا اس کے پاؤں پکڑ کر (فرشتے) دوزخ میں ڈال دیں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ فَوَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَصُورَةَ مَرْيَمَ فَقَالَ ‏"‏ أَمَا لَهُمْ، فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلاَئِكَةَ لاَ تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرٌ فَمَا لَهُ يَسْتَقْسِمُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : The Prophet entered the Ka'ba and found in it the pictures of (Prophet) Abraham and Mary. On that he said' "What is the matter with them (i.e. Quraish)? They have already heard that angels do not enter a house in which there are pictures; yet this is the picture of Abraham. And why is he depicted as practicing divination by arrows?"

ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے کہا مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی،ان سے بکیر نے بیان کیا،انہوں نے کریب سے جو ابن عباس کے غلام تھے،انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا جب نبیﷺ(جب مکہ فتح ہوا) بیت اللہ میں گئے دیکھا تو وہاں ابراہیمؑ اور بی بی مریمؑ کی موریتں ہیں۔آپؐ نے فرمایا قریش کے کافروں کو کیا ہو گیا ہے۔وہ تو سن چکےہیں کہ فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جہاں مورت ہو۔یہ ابراہیمؑ کی تصویر ہے۔ان کو کیا ہوا،بھلا وہ پانسوں سے فال کھولتے تھے؟


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا رَأَى الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ لَمْ يَدْخُلْ، حَتَّى أَمَرَ بِهَا فَمُحِيَتْ، وَرَأَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ ـ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ ـ بِأَيْدِيهِمَا الأَزْلاَمُ فَقَالَ ‏"‏ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ، وَاللَّهِ إِنِ اسْتَقْسَمَا بِالأَزْلاَمِ قَطُّ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : When the Prophet saw pictures in the Ka'ba, he did not enter it till he ordered them to be erased. When he saw (the pictures of Abraham and Ishmael carrying the arrows of divination, he said, "May Allah curse them (i.e. the Quraish)! By Allah, neither Abraham nor Ishmael practiced divination by arrows."

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم کو ہشام نے خبر دی،انہوں نے معمر سے،انہوں نے ایوب سے،انہوں نے عکرمہ سے،انہوں نے ابنِ عباسؓ سے کہ نبیﷺ نے جب (باہر سے) دیکھا کہ کعبہ میں تصویریں رکھی ہوئی ہیں تو آپؐ اندر نہیں گئے حکم دیا،وہ تصویر ہٹائی گئیں (یا مٹائی گئیں) آپؐ نے دیکھا ابراہیم اور اسمٰعیل علیہما السلام کی مورتیں بنائی ہیں،ان کے ہاتھوں میں پانسے(فال کھولنے کے) دیئے ہیں،فرمایا اللہ ان کافروں کو غارت کرے ان بزرگوں نے پانسوں پر کبھی فال نہیں کھولی۔


ـ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ ‏"‏ أَتْقَاهُمْ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونَ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقُهُوا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَمُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By Abu Huraira : The people said, "O Allah's Apostle! Who is the most honourable amongst the people (in Allah's Sight)?" He said, "The most righteous amongst them." They said, "We do not ask you, about this. " He said, "Then Joseph, Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, The son of Allah's Prophet the son of Allah's Khalil (i.e. Abraham)." They said, "We do not want to ask about this," He said' "Then you want to ask about the descent of the Arabs. Those who were the best in the Pre-Islamic period of ignorance will be the best in Islam provided they comprehend the religious knowledge."

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے کہا مجھ سے سعید بن ابی سعید نے،انہوں نے اپنے باپ سے،انہوں نے ابوہریرہؓ سے،آپﷺ سے پوچھا گیا سب لوگوں میں(اللہ کے نزدیک) کس کا مرتبہ زیادہ ہے(یعنی اعمال کی رُو سے)آپؐ نے فرمایا جو زیادہ پرہیز گار ہو۔لوگوں نے عرض کیا ہم یہ نہیں پوچھتے۔آپؐ نے فرمایا تو(نسب اور خاندانی شرافت کے لحاظ سے سب سے افضل) یوسف پیغمبر ہیں جو خود نبی تھے،باپ نبی ،دادانبی،پردادا اللہ کے خلیلؑ(چار پشت برابر پیغمبری رہنا یہ فضلیت کسی کو نہیں ملی)انہوں نے کہا ہم اس کو بھی نہیں پوچھتے۔آپؐ نے فرمایا(معلوم ہوا) تم عرب کے خاندان پوچھتے ہو اُن میں کون افضل ہے تو جو لوگ عرب زمانۂ جاہلیت میں شریف تھے اسلام لانے کے بعد بھی شریف ہیں بشرطیکہ دین کا علم حاصل کریں۔اس حدیث کو ابواسامہ اور معتمر نے بھی عبیداللہ سے روایت کیا،انہوں نے سعید سے،انہوں نے ابوہریرہؓ سے،انہوں نے نبیﷺ سے۔


حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ طَوِيلٍ، لاَ أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولاً، وَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ صلى الله عليه وسلم ‏"‏‏.‏

Narrated By Samura : Allah's Apostle said, "Two persons came to me at night (in dream) (and took me along with them). We passed by a tall man who was so tall that I was not able to see his head and that person was Abraham."

ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا کہا ہم سے اسمٰعیل بن علیہ نے کہا ہم سے عوف اعرابی نے کہا ہم سے ابو رجاء نے کہا ہم سے سمرہ نے،رسول اللہﷺ نے فرمایا رات کو (خواب میں) میرے پاس دو فرشتے آئے اور مجھ کو ایک لمبے شخص کے پاس لے گئے اتنے لمبے کہ میں ان کا سر قریب تھا کہ نہ دیکھ سکو ں معلوم ہوا کہ وہ ابراہیمؑ پیغمبر ہیں۔


حَدَّثَنِي بَيَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ وَذَكَرُوا لَهُ الدَّجَّالَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ أَوْ ك ف ر‏.‏ قَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ وَلَكِنَّهُ قَالَ ‏"‏ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، وَأَمَّا مُوسَى فَجَعْدٌ آدَمُ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي ‏"‏‏.‏

Narrated By Mujahid : That when the people mentioned before Ibn 'Abbas that the Dajjal would have the word Kafir, (i.e. unbeliever) or the letters Kafir (the root of the Arabic verb 'disbelieve') written on his forehead, I heard Ibn 'Abbas saying, "I did not hear this, but the Prophet said, 'If you want to see Abraham, then look at your companion (i.e. the Prophet) but Moses was a curly-haired, brown man (who used to ride) a red camel, the reins of which was made of fires of date-palms. As if I were now looking down a valley."

مجھ سےبیان بن عمرو نے بیان کیا کہا ہم سے نصر بن شمیل نے کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی،انہوں نے مجاہد سے،انہوں نے ابنِ عباسؓ سے سنا،لوگوں نے ان سے ذکر کیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان میں یہ حروف لکھے ہوں گے'ک ف ر'(ہر مومن ان حرفوں کو پڑھ لے گا یعنی کافر ہے)ابنِ عباسؓ نے کہا یہ تو میں نے آپﷺ سے نہیں سنا لیکن آپؐ نے یوں فرمایا،اگر تم ابراہیمؑ کو دیکھنا چاہتے ہو تو اپنے صاحب(یعنی حضرت محمدؐ کو)دیکھو اور موسٰیؑ کا بدن گٹھا ہُوا گندمی رنگ،سرخ اونٹ پر جس کی نکیل لگی ہے سوار،یہ نکیل کھجور کی چھال کی تھی گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں وہ نالے میں اترے(لبیک کہتے ہوئے)


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ وَهْوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُّومِ ‏"‏‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ‏"‏ بِالْقَدُومِ ‏"‏‏.‏ مُخَفَّفَةً‏.‏ تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ‏.‏ تَابَعَهُ عَجْلاَنُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ‏.‏ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Abraham did his circumcision with an adze at the age of eighty."

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن قرشی نے،انہوں نے ابو الزناد سے،انہوں نے اعرج سے،انہوں نے ابوہریرہؓ سے ۔۔۔۔انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا ابراہیمؑ نے اسی(۸۰) برس کی عمر میں بسولے سے ختنہ کیا۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلاَّ ثَلاَثًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Abraham did not tell a lie except on three occasions."

ہم سے سعید بن تلیدرُ عَینی نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی کہا مجھ کو جریر بن حازم نے،انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے محمد بن سیرین سے،انہوں نے ابو ہریرہؓ سے،انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابراہیمؑ (ساری عمر) جھوٹ نہیں بولے مگر تین بار(ان کا بیان آگے آتا ہے)۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ إِلاَّ ثَلاَثَ كَذَبَاتٍ ثِنْتَيْنِ مِنْهُنَّ فِي ذَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَوْلُهُ ‏{‏إِنِّي سَقِيمٌ ‏}‏ وَقَوْلُهُ ‏{‏بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا‏}‏، وَقَالَ بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَارَةُ إِذْ أَتَى عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ هَا هُنَا رَجُلاً مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُ عَنْهَا‏.‏ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَ أُخْتِي، فَأَتَى سَارَةَ قَالَ يَا سَارَةُ، لَيْسَ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، وَإِنَّ هَذَا سَأَلَنِي، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلاَ تُكَذِّبِينِي‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ ذَهَبَ يَتَنَاوَلُهَا بِيَدِهِ، فَأُخِذَ فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكِ‏.‏ فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُطْلِقَ، ثُمَّ تَنَاوَلَهَا الثَّانِيَةَ، فَأُخِذَ مِثْلَهَا أَوْ أَشَدَّ فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكِ‏.‏ فَدَعَتْ فَأُطْلِقَ‏.‏ فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِهِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَمْ تَأْتُونِي بِإِنْسَانٍ، إِنَّمَا أَتَيْتُمُونِي بِشَيْطَانٍ‏.‏ فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ فَأَتَتْهُ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ مَهْيَا قَالَتْ رَدَّ اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ ـ أَوِ الْفَاجِرِ ـ فِي نَحْرِهِ، وَأَخْدَمَ هَاجَرَ‏.‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ‏.

Narrated By Abu Huraira : Abraham did not tell a lie except on three occasion. Twice for the Sake of Allah when he said, "I am sick," and he said, "(I have not done this but) the big idol has done it." The (third was) that while Abraham and Sarah (his wife) were going (on a journey) they passed by (the territory of) a tyrant. Someone said to the tyrant, "This man (i.e. Abraham) is accompanied by a very charming lady." So, he sent for Abraham and asked him about Sarah saying, "Who is this lady?" Abraham said, "She is my sister." Abraham went to Sarah and said, "O Sarah! There are no believers on the surface of the earth except you and I. This man asked me about you and I have told him that you are my sister, so don't contradict my statement." The tyrant then called Sarah and when she went to him, he tried to take hold of her with his hand, but (his hand got stiff and) he was confounded. He asked Sarah. "Pray to Allah for me, and I shall not harm you." So Sarah asked Allah to cure him and he got cured. He tried to take hold of her for the second time, but (his hand got as stiff as or stiffer than before and) was more confounded. He again requested Sarah, "Pray to Allah for me, and I will not harm you." Sarah asked Allah again and he became alright. He then called one of his guards (who had brought her) and said, "You have not brought me a human being but have brought me a devil." The tyrant then gave Hajar as a girl-servant to Sarah. Sarah came back (to Abraham) while he was praying. Abraham, gesturing with his hand, asked, "What has happened?" She replied, "Allah has spoiled the evil plot of the infidel (or immoral person) and gave me Hajar for service." (Abu Huraira then addressed his listeners saying, "That (Hajar) was your mother, O Bani Ma-is-Sama (i.e. the Arabs, the descendants of Ishmael, Hajar's son)."

ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن یزید نے،انہوں نے ایوب سے،انہوں نے محمد بن سیرین سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے،انہوں نے کہا ابراہیمؑ (ساری عمر) جھوٹ نہیں بولے مگر تین بار۔دو جھوٹ تو خالص اللہ کے لئے(یعنی اس کی راہ میں جس میں ان کا ذاتی فائدہ کچھ نہ تھا)ایک تویہ کہنا میں بیمار ہو جاؤں گا(ستاروں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے) دوسرے یہ کہنا کہ اس بڑےبُت نے ان بتوں کو توڑا ہے اور تیسرے یہ کہ ابراہیم اور سارہ دونوں (سفر میں جارہے تھے) اتنے میں ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے(صادق یا سنان یا سفیان یا عمرو اردن کا بادشاہ تھا)لوگوں نے اس سے جڑ دیا یہاں ایک مرد آیا ہے،اس کے ساتھ عورت ہے بڑی خوبصورت۔ظالم بادشاہ نے ابراہیمؑ کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا یہ عورت کون ہے انہوں نے کہا میری بہن ہے پھر ابراہیمؑ (بادشاہ کے پاس سے ہو کر )سارہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے سارہ اس وقت ساری زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے(سب مشرک اور کافر ہیں)اور اس ظالم بادشاہ نے مجھ سے یہ پوچھا یہ عورت تیری کون ہے تو میں نے تم کو بہن کہہ دیا تم بھی اپنے تئیں میری بہن کہنا ایسا نہ ہو میں جھوٹا ہو جاؤں۔خیر اس ظالم بادشاہ نے سارہ کو (جبراً )بلا بھیجا۔جب وہ اس کے پاس پہنچیں تو اس نے ان کے لباس پر ہاتھ ڈالا لیکن ہاتھ ڈالتے ہی سزا ملی(زمین پر گر کر تڑپنے لگا یا ہاتھ سوکھ گیا)اب کیا کہنے لگا اے عورت تو میرے لئے دعا کر میں تجھ کو نہیں ستانے کا۔سارہ نے دعا کی تو اچھا ہوگیا۔پھر اس مردود نے اگلی سزا فراموش کرکے ہاتھ ڈالا،پھر اسی آفت میں یا پہلے سے بھی زیادہ سخت آفت میں مُبتلا ہُوا پھر کہنے لگا اے عورت میرے لئے دعا کر میں تجھ کو نہیں ستانے کا۔انہوں نے دعا کی تو اچھا ہو گیا۔تب اس ظالم نے اپنے خدمت گاروں میں سے کسی کو بلایا اور کہنے لگا واہ اچھی عورت میرے پاس لائے،یہ عورت نہیں شیطان ہے(مردود خود شیطان تھا)اور (ایک لونڈی ) ہاجرہ،سارہ کو دیکر رخصت کیا۔وہ ابراہیمؑ کے پاس پہنچیں،دیکھا تو کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں،انہوں نے (نماز ہی میں) ہاتھ کے اشارہ سے پوچھا کیا کیفیت گزری۔سارہ نے کہا اللہ نے اس کافر یا بد کار کی تدبیر نہ چلنے دی،اس کا فریب اسی پر الٹ دیا اور ہاجرہ (ایک لونڈی) خدمت کیلئے دلوائی۔ابوہریرہؓ نے یہ حدیث بیان کر کے لو گوں سے کہا آسمان کے پانی والو یہی ہاجرہ تمہاری ماں تھیں۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَوِ ابْنُ سَلاَمٍ عَنْهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ ـ رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ ‏"‏ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Um Sharik : Allah's Apostle ordered that the salamander should be killed and said, "It (i.e. the salamander) blew (the fire) on Abraham."

ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے یا محمد بن سلام نے عبید اللہ سے،انہوں نے کہا ہم کو ابنِ جریج نےخبر دی انہوں نے عبدالحمید بن جبیر سے،انہوں نے سعید بن مسیب سے،انہوں نے ام شریک سے کہ رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ مار ڈالنے کا حکم دیا،فرمایا یہ (کم بخت) ابراہیمؑ پر آگ پھونکتا تھا (اور سب جانور بجھارہے تھے)۔


حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا نَزَلَتِ ‏{‏الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‏}‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لاَ يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ ‏"‏ لَيْسَ كَمَا تَقُولُونَ ‏{‏لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‏}‏ بِشِرْكٍ، أَوَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لاِبْنِهِ ‏{‏يَا بُنَىَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ ‏}‏‏"‏‏.‏

Narrated By Abdullah : When the Verse: "It is those who believe and do not confuse their belief with wrong (i.e. joining others in worship with Allah" (6.83) was revealed, we said, "O Allah's Apostle! Who is there amongst us who has not done wrong to himself?" He replied, "It is not as you say, for 'wrong' in the Verse and 'do not confuse their belief, with wrong means 'SHIRK' (i.e. joining others in worship with Allah). Haven't you heard Luqman's saying to his son, 'O my son! Join not others in worship with Allah, verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed." (31.13)

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا ہم سے والد نے کہا ہم سے اعمش نے کہا مجھ سے ابراہیم نخعی نے،انہوں نےعلقمہ سے،انہوں نے عبداللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا جب (سورت انعام کی)یہ آیت اتری۔جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی ملونی نہیں کی۔تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں کون ایسا ہے جس نے ظلم (یعنی گناہ)نہیں کیا؟آپؐ نے فرمایا ظلم سے گناہ مراد نہیں ہے بلکہ شرک مراد ہے۔تم نے (سورت لقمان کی) یہ آیت نہیں سنی جب لقمان نے اپنے بیٹے (انعم یا اشکم)سے کہا بیٹا اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا،شرک بڑا ظلم ہے۔

Chapter No: 9

باب ‏{‏يَزِفُّونَ‏}‏ النَّسَلاَنُ فِي الْمَشْىِ

And Allah's Statement, "... hastening." (V.37:94)

باب :

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بِلَحْمٍ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ يَجْمَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيُنْفِدُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ مِنْهُمْ ـ فَذَكَرَ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ ـ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنَ الأَرْضِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ‏.‏ فَيَقُولُ ـ فَذَكَرَ كَذَبَاتِهِ ـ نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By Abu Huraira : One day some meat was given to the Prophet and he said, "On the Day of Resurrection Allah will gather all the first and the last (people) in one plain, and the voice of the announcer will reach all of them, and one will be able to see them all, and the sun will come closer to them." (The narrator then mentioned the narration of intercession): "The people will go to Abraham and say: 'You are Allah's Prophet and His Khalil on the earth. Will you intercede for us with your Lord?' Abraham will then remember his lies and say: 'Myself! Myself! Go to Moses."

ہم سے اسحٰق بن ابراہیم بن نصر نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے،انہوں نے ابو حیان سے،انہوں نے ابوزرعہ سے،انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے،انہوں نے کہا کہ نبیﷺ کے پاس ایک دن گوشت لائے ۔آپؐ نے فرمایا اللہ قیامت کے دن اگلوں پچھلوں سب کو ایک میدان میں جمع کرے گا۔پکارنے والا اپنی آواز ان کو سنا سکے گا اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا(کیونکہ یہ میدان ہموار ہو گا زمین کی طرح گول نہ ہوگا) اور سورج ان کے نزدیک آجائے گا۔پھر آپؐ نے شفاعت کا قصّہ سنایا تو فرمایا لوگ (محشر والے )ابراہیمؑ کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے تم زمین والوں میں اللہ کے نبی اور خلیل ہو پروردگار سے ہماری سفارش کرو۔وُہ اپنی جھوٹ باتوں کو یاد کریں گے (عمر بھر میں کل تین جھوٹ جو اوپر گزر چکے ہیں)اور کہیں گے مجھے اپنی فکر ہے، مجھے اپنی فکر ہے تم موسٰیؑ کے پاس جاؤ۔ابوہریرہؓ کے ساتھ اس حدیث کو انسؓ نے بھی نبی ﷺ سے روایت کیا ہے۔


حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْلاَ أَنَّهَا عَجِلَتْ لَكَانَ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, "May Allah bestow His Mercy on the mother of Ishmael! Had she not hastened (to fill her water-skin with water from the Zam-zam well). Zam-zam would have been a stream flowing on the surface of the earth." Ibn 'Abbas further added, "(The Prophet) Abraham brought Ishmael and his mother (to Mecca) and she was suckling Ishmael and she had a water-skin with her.'

مجھ سے ابو عبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے وہب بن جریر نے،انہوں نے اپنے باپ جریر بن حازم سے،انہوں نے ایوب سختیانی سے،انہوں نے عبداللہ بن سعید بن جبیر سے،انہوں نے اپنے باپ سے،انہوں نے ابن عباسؓ سے،انہوں نے نبی ﷺ سے آپؐ نے فرمایا اللہ اسمٰعیل کی والدہ( حضرت ہاجرہ) پر رحم کرے،اگر وہ جلدی نہ کرتیں(زمزم کے پانی کے گرد مینڈ نہ بناتیں)تو آج وہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔


قَالَ الأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَمَّا كَثِيرُ بْنُ كَثِيرٍ فَحَدَّثَنِي قَالَ إِنِّي وَعُثْمَانَ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ جُلُوسٌ مَعَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ مَا هَكَذَا حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ أَقْبَلَ إِبْرَاهِيمُ بِإِسْمَاعِيلَ وَأُمِّهِ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ وَهْىَ تُرْضِعُهُ، مَعَهَا شَنَّةٌ ـ لَمْ يَرْفَعْهُ ـ ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ وَبِابْنِهَا إِسْمَاعِيلَ‏.‏

Ibn Abbas further added,"(The Prophet( Ibrahimm brought Ismail and his mother(to Makkah) and she was suckling Isma'il , and she had a water-skin with her."

محمد بن عبداللہ انصاری نے کہا ہم سے یہ حدیث اس طرح ابنِ جریج نے بیان کی لیکن کیثر بن کیثر نے مجھ سے یوں بیان کیا میں اور عثمان بن ابی سلیمان دونوں سعید بن جبیر کے پاس بیٹھے تھے،اتنے میں انہوں نے کہا ابنِ عباسؓ نے مجھ سے یہ حدیث اس طرح بیان نہیں کی بلکہ یوں کہا کہ ابراہیم اسمٰعیل اور ان کی والدہ حاجرہ کو لے کر( مکہّ کی سر زمین میں) آئے حضرت حاجرہ اسمٰعیل کو دودھ پلاتی تھیں۔ان کے ساتھ ایک پرانی مشک تھی۔ابن عباسؓ نے اس حدیث کو مرفوع نہیں کیا ۔


وَحَدَّثَنِا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ،، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الآخَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَوَّلَ مَا اتَّخَذَ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ، اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لَتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ، وَبِابْنِهَا إِسْمَاعِيلَ وَهْىَ تُرْضِعُهُ حَتَّى وَضَعَهُمَا عِنْدَ الْبَيْتِ عِنْدَ دَوْحَةٍ، فَوْقَ زَمْزَمَ فِي أَعْلَى الْمَسْجِدِ، وَلَيْسَ بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ، وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ، فَوَضَعَهُمَا هُنَالِكَ، وَوَضَعَ عِنْدَهُمَا جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ وَسِقَاءً فِيهِ مَاءٌ، ثُمَّ قَفَّى إِبْرَاهِيمُ مُنْطَلِقًا فَتَبِعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ فَقَالَتْ يَا إِبْرَاهِيمُ أَيْنَ تَذْهَبُ وَتَتْرُكُنَا بِهَذَا الْوَادِي الَّذِي لَيْسَ فِيهِ إِنْسٌ وَلاَ شَىْءٌ فَقَالَتْ لَهُ ذَلِكَ مِرَارًا، وَجَعَلَ لاَ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ لَهُ آللَّهُ الَّذِي أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَتْ إِذًا لاَ يُضَيِّعُنَا‏.‏ ثُمَّ رَجَعَتْ، فَانْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الثَّنِيَّةِ حَيْثُ لاَ يَرَوْنَهُ اسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْبَيْتَ، ثُمَّ دَعَا بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ ‏{‏رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ‏}‏ حَتَّى بَلَغَ ‏{‏يَشْكُرُونَ‏}‏‏.‏ وَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تُرْضِعُ إِسْمَاعِيلَ، وَتَشْرَبُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا فِي السِّقَاءِ عَطِشَتْ وَعَطِشَ ابْنُهَا، وَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتَلَوَّى ـ أَوْ قَالَ يَتَلَبَّطُ ـ فَانْطَلَقَتْ كَرَاهِيَةَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَوَجَدَتِ الصَّفَا أَقْرَبَ جَبَلٍ فِي الأَرْضِ يَلِيهَا، فَقَامَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتِ الْوَادِيَ تَنْظُرُ هَلْ تَرَى أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا، فَهَبَطَتْ مِنَ، الصَّفَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْوَادِيَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا، ثُمَّ سَعَتْ سَعْىَ الإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ، حَتَّى جَاوَزَتِ الْوَادِيَ، ثُمَّ أَتَتِ الْمَرْوَةَ، فَقَامَتْ عَلَيْهَا وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا، فَلَمْ تَرَ أَحَدًا، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ ـ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَذَلِكَ سَعْىُ النَّاسِ بَيْنَهُمَا ‏"‏‏.‏ ـ فَلَمَّا أَشْرَفَتْ عَلَى الْمَرْوَةِ سَمِعَتْ صَوْتًا، فَقَالَتْ صَهٍ‏.‏ تُرِيدَ نَفْسَهَا، ثُمَّ تَسَمَّعَتْ، فَسَمِعَتْ أَيْضًا، فَقَالَتْ قَدْ أَسْمَعْتَ، إِنْ كَانَ عِنْدَكَ غِوَاثٌ‏.‏ فَإِذَا هِيَ بِالْمَلَكِ، عِنْدَ مَوْضِعِ زَمْزَمَ، فَبَحَثَ بِعَقِبِهِ ـ أَوْ قَالَ بِجَنَاحِهِ ـ حَتَّى ظَهَرَ الْمَاءُ، فَجَعَلَتْ تُحَوِّضُهُ وَتَقُولُ بِيَدِهَا هَكَذَا، وَجَعَلَتْ تَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فِي سِقَائِهَا، وَهْوَ يَفُورُ بَعْدَ مَا تَغْرِفُ ـ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ ـ أَوْ قَالَ لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ ـ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا ‏"‏‏.‏ ـ قَالَ فَشَرِبَتْ وَأَرْضَعَتْ وَلَدَهَا، فَقَالَ لَهَا الْمَلَكُ لاَ تَخَافُوا الضَّيْعَةَ، فَإِنَّ هَا هُنَا بَيْتَ اللَّهِ، يَبْنِي هَذَا الْغُلاَمُ، وَأَبُوهُ، وَإِنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَهْلَهُ‏.‏ وَكَانَ الْبَيْتُ مُرْتَفِعًا مِنَ الأَرْضِ كَالرَّابِيَةِ، تَأْتِيهِ السُّيُولُ فَتَأْخُذُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ، فَكَانَتْ كَذَلِكَ، حَتَّى مَرَّتْ بِهِمْ رُفْقَةٌ مِنْ جُرْهُمَ ـ أَوْ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ جُرْهُمَ ـ مُقْبِلِينَ مِنْ طَرِيقِ كَدَاءٍ فَنَزَلُوا فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ، فَرَأَوْا طَائِرًا عَائِفًا‏.‏ فَقَالُوا إِنَّ هَذَا الطَّائِرَ لَيَدُورُ عَلَى مَاءٍ، لَعَهْدُنَا بِهَذَا الْوَادِي وَمَا فِيهِ مَاءٌ، فَأَرْسَلُوا جَرِيًّا أَوْ جَرِيَّيْنِ، فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ، فَرَجَعُوا فَأَخْبَرُوهُمْ بِالْمَاءِ، فَأَقْبَلُوا، قَالَ وَأُمُّ إِسْمَاعِيلَ عِنْدَ الْمَاءِ فَقَالُوا أَتَأْذَنِينَ لَنَا أَنْ نَنْزِلَ عِنْدَكِ فَقَالَتْ نَعَمْ، وَلَكِنْ لاَ حَقَّ لَكُمْ فِي الْمَاءِ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، وَهْىَ تُحِبُّ الإِنْسَ ‏"‏ فَنَزَلُوا وَأَرْسَلُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ، فَنَزَلُوا مَعَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ بِهَا أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْهُمْ، وَشَبَّ الْغُلاَمُ، وَتَعَلَّمَ الْعَرَبِيَّةَ مِنْهُمْ، وَأَنْفَسَهُمْ وَأَعْجَبَهُمْ حِينَ شَبَّ، فَلَمَّا أَدْرَكَ زَوَّجُوهُ امْرَأَةً مِنْهُمْ، وَمَاتَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، فَجَاءَ إِبْرَاهِيمُ، بَعْدَ مَا تَزَوَّجَ إِسْمَاعِيلُ يُطَالِعُ تَرِكَتَهُ، فَلَمْ يَجِدْ إِسْمَاعِيلَ، فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عَنْهُ فَقَالَتْ خَرَجَ يَبْتَغِي لَنَا‏.‏ ثُمَّ سَأَلَهَا عَنْ عَيْشِهِمْ وَهَيْئَتِهِمْ فَقَالَتْ نَحْنُ بِشَرٍّ، نَحْنُ فِي ضِيقٍ وَشِدَّةٍ‏.‏ فَشَكَتْ إِلَيْهِ‏.‏ قَالَ فَإِذَا جَاءَ زَوْجُكِ فَاقْرَئِي عَلَيْهِ السَّلاَمَ، وَقُولِي لَهُ يُغَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِهِ‏.‏ فَلَمَّا جَاءَ إِسْمَاعِيلُ، كَأَنَّهُ آنَسَ شَيْئًا، فَقَالَ هَلْ جَاءَكُمْ مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ نَعَمْ، جَاءَنَا شَيْخٌ كَذَا وَكَذَا، فَسَأَلَنَا عَنْكَ فَأَخْبَرْتُهُ، وَسَأَلَنِي كَيْفَ عَيْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا فِي جَهْدٍ وَشِدَّةٍ‏.‏ قَالَ فَهَلْ أَوْصَاكِ بِشَىْءٍ قَالَتْ نَعَمْ، أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ، وَيَقُولُ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ‏.‏ قَالَ ذَاكِ أَبِي وَقَدْ أَمَرَنِي أَنْ أُفَارِقَكِ الْحَقِي بِأَهْلِكِ‏.‏ فَطَلَّقَهَا، وَتَزَوَّجَ مِنْهُمْ أُخْرَى، فَلَبِثَ عَنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَتَاهُمْ بَعْدُ، فَلَمْ يَجِدْهُ، فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَسَأَلَهَا عَنْهُ‏.‏ فَقَالَتْ خَرَجَ يَبْتَغِي لَنَا‏.‏ قَالَ كَيْفَ أَنْتُمْ وَسَأَلَهَا عَنْ عَيْشِهِمْ، وَهَيْئَتِهِمْ‏.‏ فَقَالَتْ نَحْنُ بِخَيْرٍ وَسَعَةٍ‏.‏ وَأَثْنَتْ عَلَى اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ مَا طَعَامُكُمْ قَالَتِ اللَّحْمُ‏.‏ قَالَ فَمَا شَرَابُكُمْ قَالَتِ الْمَاءُ‏.‏ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي اللَّحْمِ وَالْمَاءِ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ يَوْمَئِذٍ حَبٌّ، وَلَوْ كَانَ لَهُمْ دَعَا لَهُمْ فِيهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَهُمَا لاَ يَخْلُو عَلَيْهِمَا أَحَدٌ بِغَيْرِ مَكَّةَ إِلاَّ لَمْ يُوَافِقَاهُ‏.‏ قَالَ فَإِذَا جَاءَ زَوْجُكِ فَاقْرَئِي عَلَيْهِ السَّلاَمَ، وَمُرِيهِ يُثْبِتُ عَتَبَةَ بَابِهِ، فَلَمَّا جَاءَ إِسْمَاعِيلُ قَالَ هَلْ أَتَاكُمْ مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ نَعَمْ أَتَانَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ، وَأَثْنَتْ عَلَيْهِ، فَسَأَلَنِي عَنْكَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَسَأَلَنِي كَيْفَ عَيْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا بِخَيْرٍ‏.‏ قَالَ فَأَوْصَاكِ بِشَىْءٍ قَالَتْ نَعَمْ، هُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلاَمَ، وَيَأْمُرُكَ أَنْ تُثْبِتَ عَتَبَةَ بَابِكَ‏.‏ قَالَ ذَاكِ أَبِي، وَأَنْتِ الْعَتَبَةُ، أَمَرَنِي أَنْ أُمْسِكَكِ‏.‏ ثُمَّ لَبِثَ عَنْهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ، وَإِسْمَاعِيلُ يَبْرِي نَبْلاً لَهُ تَحْتَ دَوْحَةٍ قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ، فَلَمَّا رَآهُ قَامَ إِلَيْهِ، فَصَنَعَا كَمَا يَصْنَعُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ وَالْوَلَدُ بِالْوَالِدِ، ثُمَّ قَالَ يَا إِسْمَاعِيلُ، إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِأَمْرٍ‏.‏ قَالَ فَاصْنَعْ مَا أَمَرَكَ رَبُّكَ‏.‏ قَالَ وَتُعِينُنِي قَالَ وَأُعِينُكَ‏.‏ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِيَ هَا هُنَا بَيْتًا‏.‏ وَأَشَارَ إِلَى أَكَمَةٍ مُرْتَفِعَةٍ عَلَى مَا حَوْلَهَا‏.‏ قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ رَفَعَا الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ، فَجَعَلَ إِسْمَاعِيلُ يَأْتِي بِالْحِجَارَةِ، وَإِبْرَاهِيمُ يَبْنِي، حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَ الْبِنَاءُ جَاءَ بِهَذَا الْحَجَرِ فَوَضَعَهُ لَهُ، فَقَامَ عَلَيْهِ وَهْوَ يَبْنِي، وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ، وَهُمَا يَقُولاَنِ ‏{‏رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ‏}‏‏.‏ قَالَ فَجَعَلاَ يَبْنِيَانِ حَتَّى يَدُورَا حَوْلَ الْبَيْتِ، وَهُمَا يَقُولاَنِ ‏{‏رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ‏}

Narrated By Ibn Abbas : The first lady to use a girdle was the mother of Ishmael. She used a girdle so that she might hide her tracks from Sarah. Abraham brought her and her son Ishmael while she was suckling him, to a place near the Ka'ba under a tree on the spot of Zam-Zam, at the highest place in the mosque. During those days there was nobody in Mecca, nor was there any water So he made them sit over there and placed near them a leather bag containing some dates, and a small water-skin containing some water, and set out homeward. Ishmael's mother followed him saying, "O Abraham! Where are you going, leaving us in this valley where there is no person whose company we may enjoy, nor is there anything (to enjoy)?" She repeated that to him many times, but he did not look back at her Then she asked him, "Has Allah ordered you to do so?" He said, "Yes." She said, "Then He will not neglect us," and returned while Abraham proceeded onwards, and on reaching the Thaniya where they could not see him, he faced the Ka'ba, and raising both hands, invoked Allah saying the following prayers: 'O our Lord! I have made some of my offspring dwell in a valley without cultivation, by Your Sacred House (Kaba at Mecca) in order, O our Lord, that they may offer prayer perfectly. So fill some hearts among men with love towards them, and (O Allah) provide them with fruits, so that they may give thanks.' (14.37) Ishmael's mother went on suckling Ishmael and drinking from the water (she had). When the water in the water-skin had all been used up, she became thirsty and her child also became thirsty. She started looking at him (i.e. Ishmael) tossing in agony; She left him, for she could not endure looking at him, and found that the mountain of Safa was the nearest mountain to her on that land. She stood on it and started looking at the valley keenly so that she might see somebody, but she could not see anybody. Then she descended from Safa and when she reached the valley, she tucked up her robe and ran in the valley like a person in distress and trouble, till she crossed the valley and reached the Marwa mountain where she stood and started looking, expecting to see somebody, but she could not see anybody. She repeated that (running between Safa and Marwa) seven times." The Prophet said, "This is the source of the tradition of the walking of people between them (i.e. Safa and Marwa). When she reached the Marwa (for the last time) she heard a voice and she asked herself to be quiet and listened attentively. She heard the voice again and said, 'O, (whoever you may be)! You have made me hear your voice; have you got something to help me?" And behold! She saw an angel at the place of Zam-Zam, digging the earth with his heel (or his wing), till water flowed from that place. She started to make something like a basin around it, using her hand in this way, and started filling her water-skin with water with her hands, and the water was flowing out after she had scooped some of it." The Prophet added, "May Allah bestow Mercy on Ishmael's mother! Had she let the Zam-Zam (flow without trying to control it) (or had she not scooped from that water) (to fill her water-skin), Zam-Zam would have been a stream flowing on the surface of the earth." The Prophet further added, "Then she drank (water) and suckled her child. The angel said to her, 'Don't be afraid of being neglected, for this is the House of Allah which will be built by this boy and his father, and Allah never neglects His people.' The House (i.e. Kaba) at that time was on a high place resembling a hillock, and when torrents came, they flowed to its right and left. She lived in that way till some people from the tribe of Jurhum or a family from Jurhum passed by her and her child, as they (i.e. the Jurhum people) were coming through the way of Kada'. They landed in the lower part of Mecca where they saw a bird that had the habit of flying around water and not leaving it. They said, 'This bird must be flying around water, though we know that there is no water in this valley.' They sent one or two messengers who discovered the source of water, and returned to inform them of the water. So, they all came (towards the water)." The Prophet added, "Ishmael's mother was sitting near the water. They asked her, 'Do you allow us to stay with you?" She replied, 'Yes, but you will have no right to possess the water.' They agreed to that." The Prophet further said, "Ishmael's mother was pleased with the whole situation as she used to love to enjoy the company of the people. So, they settled there, and later on they sent for their families who came and settled with them so that some families became permanent residents there. The child (i.e. Ishmael) grew up and learnt Arabic from them and (his virtues) caused them to love and admire him as he grew up, and when he reached the age of puberty they made him marry a woman from amongst them. After Ishmael's mother had died, Abraham came after Ishmael's marriage in order to see his family that he had left before, but he did not find Ishmael there. When he asked Ishmael's wife about him, she replied, 'He has gone in search of our livelihood.' Then he asked her about their way of living and their condition, and she replied, 'We are living in misery; we are living in hardship and destitution,' complaining to him. He said, 'When your husband returns, convey my salutation to him and tell him to change the threshold of the gate (of his house).' When Ishmael came, he seemed to have felt something unusual, so he asked his wife, 'Has anyone visited you?' She replied, 'Yes, an old man of so-and-so description came and asked me about you and I informed him, and he asked about our state of living, and I told him that we were living in a hardship and poverty.' On that Ishmael said, 'Did he advise you anything?' She replied, 'Yes, he told me to convey his salutation to you and to tell you to change the threshold of your gate.' Ishmael said, 'It was my father, and he has ordered me to divorce you. Go back to your family.' So, Ishmael divorced her and married another woman from amongst them (i.e. Jurhum). Then Abraham stayed away from them for a period as long as Allah wished and called on them again but did not find Ishmael. So he came to Ishmael's wife and asked her about Ishmael. She said, 'He has gone in search of our livelihood.' Abraham asked her, 'How are you getting on?' asking her about their sustenance and living. She replied, 'We are prosperous and well-off (i.e. we have everything in abundance).' Then she thanked Allah' Abraham said, 'What kind of food do you eat?' She said. 'Meat.' He said, 'What do you drink?' She said, 'Water." He said, "O Allah! Bless their meat and water." The Prophet added, "At that time they did not have grain, and if they had grain, he would have also invoked Allah to bless it." The Prophet added, "If somebody has only these two things as his sustenance, his health and disposition will be badly affected, unless he lives in Mecca." The Prophet added," Then Abraham said Ishmael's wife, "When your husband comes, give my regards to him and tell him that he should keep firm the threshold of his gate.' When Ishmael came back, he asked his wife, 'Did anyone call on you?' She replied, 'Yes, a good-looking old man came to me,' so she praised him and added. 'He asked about you, and I informed him, and he asked about our livelihood and I told him that we were in a good condition.' Ishmael asked her, 'Did he give you any piece of advice?' She said, 'Yes, he told me to give his regards to you and ordered that you should keep firm the threshold of your gate.' On that Ishmael said, 'It was my father, and you are the threshold (of the gate). He has ordered me to keep you with me.' Then Abraham stayed away from them for a period as long as Allah wished, and called on them afterwards. He saw Ishmael under a tree near Zam-Zam, sharpening his arrows. When he saw Abraham, he rose up to welcome him (and they greeted each other as a father does with his son or a son does with his father). Abraham said, 'O Ishmael! Allah has given me an order.' Ishmael said, 'Do what your Lord has ordered you to do.' Abraham asked, 'Will you help me?' Ishmael said, 'I will help you.' Abraham said, Allah has ordered me to build a house here,' pointing to a hillock higher than the land surrounding it." The Prophet added, "Then they raised the foundations of the House (i.e. the Ka'ba). Ishmael brought the stones and Abraham was building, and when the walls became high, Ishmael brought this stone and put it for Abraham who stood over it and carried on building, while Ishmael was handing him the stones, and both of them were saying, 'O our Lord! Accept (this service) from us, Verily, You are the All-Hearing, the All-Knowing.' The Prophet added, "Then both of them went on building and going round the Ka'ba saying: O our Lord ! Accept (this service) from us, Verily, You are the All-Hearing, the All-Knowing." (2.127)

اور مجھ سے محمد بن عبداللہ مسندی نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی،انہوں نے ایوب سختیانی اور کیثر بن کیثر بن مطلب بن ابی وداعہ سے ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کچھ زیادہ بیان کرتا ہے، انہوں نے سعید بن جبیر سے،انہوں نے کہا ابنِ عباسؓ نے کہا عورتوں میں سب سے پہلے حضرت ہاجرہ نے کمر پٹہ باندھا،ان کی غرض یہ تھی کہ سارہ ان کا سُراغ نہ پائیں (وہ جلدبھاگ جائیں پھر حضرت ابراہیمؑ ،ہاجرہ اور انکے بچے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو مکہّ میں لے آئے حضرت ہاجرہ حضرت اسمٰعیل کو دودھ پلاتی تھیں۔حضرت ابراہیمؑ نے ان دونوں کو ایک بڑے درخت کے تلے بٹھا دیا جو اس مقام پر تھا جہاں آبِ زمزم ہے۔مسجد کے بلند جانب میں ۔اس وقت مکہّ میں آدمی کا نام ونشان نہ تھا،نہ وہاں پانی کا وجود تھا۔خیر حضرت ابراہیمؑ دونوں کو وہاں چھوڑ گئےاور ایک تھیلا کھجور کا،ایک مشکیزہ پانی کا دے گئے خود اپنے ملک(شام ) کو چل دیئے (جہاں حضرت سارہ تھیں) جب حضرت ابراہیمؑ چلنے لگے تو ہاجرہ ان کے پیچھے ہوئیں اور کہنے لگیں ابراہیمؑ تم کہاں چلے،ہم کو اس جنگل میں چھوڑے جاتے ہو جہاں آدمی کا پتہ تک نہیں،نہ کوئی چیز ملتی ہے۔کئی بار پکارپکار کر حضرت ہاجرہ نے یہ کہا مگر حضرت ابراہیمؑ نے ادھر دیکھا تک نہیں(جواب دینا تو کجا)آخر حضرت ہاجرہ نے ان سے کہا کیا اللہ کا ایسا ہی حکم ہے؟انہوں نے کہا ہاں تب حضرت ہاجرہ نے کہا پھر تو پروردگار (ہماری حفاظت کرے گا)ہم کو ہلاک نہیں کرنے کا۔یہ کہا کر حضرت ہاجرہ لوٹ آئیں(سبحان اللہ ! کس جگرے کی عورت تھیں) اور حضرت ابراہیمؑ چل دیئے اس پہاڑی پر پہنچے جہاں سے دکھائی نہیں پڑتے تھے(جس پہاڑی سے آپﷺ مکہّ میں داخل ہوئے تھے)تو اُدھر کا رُخ کیا جہاں اب کعبہ ہے(وہیں ہاجرہ اور اسمٰعیل کو چھوڑ آئے تھے )اور دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی(جو سورت ابراہیم میں ہے) مالک میں نے اپنی اولاد ایسے میدان میں چھوڑ دی ہےجہاں کچھ نہیں اگتا (کیونکہ کعبہ حضرت آدمؑ کے وقت سے تھا لیکن گر کر مٹ گیا تھا)۔ادھر حضرت ہاجرہ کا یہ حال گزرا،وہ حضرت اسمٰعیل کو دودھ پلاتی اور مشک میں سے پانی پیتی رہیں جب پانی ختم ہو گیا تو خود بھی پیاسی ہوئیں ،بچہ کو بھی پیاس لگی۔بچہ کو دیکھا تو وہ پیاس کے مارے تلے اوپر ہو رہا ہے یا تڑپ رہا ہے وہ اس نیت سے سرک گئیں کہ بچہ کایہ حال نہ دیکھیں،دیکھا تو صفا پہاڑ قریب ہے ۔اس پر چڑھیں شاید کوئی آدمی نظر آئے (اس سے پانی مانگیں) لیکن کوئی نہ دکھائی دیا،وہاں سے اتریں اور اپنا کرتہ سمیٹ کرنالے کے نشیب میں اس طرح دوڑیں جیسے کوئی مصبیت زدہ (آفت کا مارا) دوڑتا ہے۔نالے کے پار جا کر مروہ پہاڑ پر چڑھیں وہاں بھی دیکھا کوئی آدمی نظرنہ پڑا۔سات چکر انہوں نے اسی طرح مارے۔ابنِ عباسؓ نے کہا نبیﷺ نے فرمایا جب ہی سے لوگوں نے صفا مروہ کا پھیرا (حج میں) شروع کیا۔خیر جب (ساتویں پھیرے میں) مَروے پر چڑھیں تو انہوں نے ایک آواز سنی۔اپنے تئیں آپ کہنے لگیں چپ رہ پھر کان لگایا تو وہی آواز سنی۔اس وقت پکار اٹھیں(خدا کے بندے) میں نے تیری آواز سنی،تو کچھ ہماری مدد کر سکتا ہے؟تو پھر کر دیکھا تو جہاں آبِ زم زم ہے وہاں اللہ کے فرشتے (حضرت جبریلؑ ) ملے،انہوں نے اپنی ایڑی یا پنکھ مار کر زمین کھود ڈالی،پانی نکل آیا۔حضرت ہاجرہ حوض کی طرح اس کو بنانے لگیں،ہاتھ سے اس کے گرد منڈیر کرنے لگیں اور پانی چلّو سے لے لے کر اپنی مشک میں بھرتی جاتی تھیں۔جوں جوں پانی لیتی جاتی تھیں وہ چشمہ اور زور مارتا تھا(پانی زیادہ ہو جاتا تھا)ابنِ عباسؓ نے کہا نبیﷺ نے فرمایا اللہ اسمٰعیلؑ کی والدہ پر رحم کرے اگر وہ زمزم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتیں یا یوں فرمایا اگروہ چلّو بھر بھر کر (مشک میں پانی) نہ لیتیں تو زمزم ایک بہتا چشمہ رہتا۔خیر حضرت ہاجرہ نے پانی پیا اور اپنے بچے کو بھی پلایا۔فرشتے(حضرت جبریلؑ)نے ان سے کہا تم جان کا ڈر نہ کرو۔یہاں اللہ کا گھر ہے۔یہ بچّہ اور اس کا باپ دونوں (مل کر )اس گھر کو بنائیں گے اور اللہ اپنے گھر والوں کو تباہ نہیں کرنے کا۔اس وقت کعبے کا یہ حال تھا ٹیلے (ٹبّے) کی طرح زمین سے اونچا تھا دائیں اور بائیں سے( برسات کا) پانی نکل جاتا تھا۔ہاجرہ نے ایک مدّت اسی طرح گزاری۔چند روز کے بعد جرہم قبیلے کے کچھ لوگ یا کچھ گھر والے جو کدأ کے رستے(مکہ کی )بلند جانب سے آرہے تھے،ادھر سے گزرے ،وہ مکہّ کے نشیب میں اُترے۔انہوں نے ایک پرندہ دیکھا جو وہاں گھوم رہا تھا ۔وہ کہنے لگے یہ پرندہ جو گھوم رہا ہے ضرور پانی پر گھوم رہا ہے ہم تو اس میدان سے واقف ہیں یہاں کبھی پانی نہیں دیکھا خیر انہوں نے ایک یا دو آدمی خبر لینے کے لئے بھیجے وہ آئے دیکھا تو پانی موجود ہے۔پھر اپنے لوگوں کے پاس لوٹ گئے ۔ان کوپانی کی خبر دی۔وہ بھی آئے۔آپ ﷺ نے فرمایا اسمٰعیلؑ کی والدہ وہیں بیٹھی تھیں۔ان لوگوں نے کہا تم ہم کو یہاں پر اتر پڑنے( اور سکونت کرنے) کی اجازت دیتی ہو؟انہوں نے کہا اچھا رہو مگر پانی میں تمہارا کوئی حق نہیں۔ان لوگوں نے قبول کیا۔ابنِ عباسؓ نے کہا نبیﷺ نے فرمایا تو جرہم کے لوگوں نے (وہاں رہنے کی) ایسے وقت میں اجازت مانگی جب خود اسمٰعیل کی والدہ چاہتی تھیں کہ یہاں بستی ہو(آدمی کی صورت )نظر آئے۔خیر جرہم کے لوگ وہاں اتر پڑے اور اپنے بال بچوں کو بھی بلا بھیجا۔وہ بھی وہیں اترے۔جب مکہ میں کئی گھر بن گئے اور اسمٰعیل جوان ہوئے ۔انہوں نے عربی زبان جرہم کے لوگوں سے سکیھی اور جوان ہو کر انکی نگاہ میں بہت اچھے نکلے اور جرہم کے لوگ ان سے محبّت کرنے لگے اور اپنے خاندان کی ایک عورت ان کو بیاہ دی۔ان کی والدہ(حضرت ہاجرہ)گزر گئیں۔جب اسمٰعیلؑ کی شادی ہو چکی تو (مدّت کے بعد)حضرت ابراہیمؑ اپنے جورو بچے کو دیکھنے آئے اسمٰعیل اس وقت اپنے گھر میں نہ تھے۔انہوں نے ان کی بی بی (اپنی بہو) سے پُوچھا اسمٰعیل کہاں ہے۔اس نے کہا روزی کی تلاش میں گئے ہیں۔ابراہیمؑ نے پوچھا تمہاری گزران کیسی ہوتی ہے؟معاش کا کیا حال ہے؟اس نے کہا بہت بُری۔بڑی تنگی سے گزرتی ہے۔ان سے خوب شکایت کی۔ابراہیمؑ نے کہا جب تمہارے خاوند آئیں تو میری طرف سے ان کو سلام کہنا اور یہ کہنا کہ اپنے دروازے کی زہ بدل ڈالیں ابراہیمؑ یہ کہہ کر وہاں سے روانہ ہوئے۔جب گھر آئے تو اپنے باپ کی خوشبوئی پائی،بی بی سے پوچھا کوئی آیا تھا؟ اس نے کہا ہاں ایک بوڑھا ایسی ایسی شکل کا آیا تھا ۔اس نے تم کو پوچھا میں نے کہہ دیا وہ روزی کی تلاش میں گئے ہیں پھر مجھ سے پوچھا تمہارہ گزران کس طرح ہو تی ہے، میں نے کہا بڑی تکلیف اور تنگی سے،اسمٰعیل نے کہا اور بھی کچھ انہوں نے کہا؟اس نے کہا ہاں تم کو سلام کہا ہے اور کہا ہے اپنے دروازے کی زہ بدل ڈالو۔اسمٰعیل نے کہا وہ میرے والد تھے ۔انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں تجھ کو چھوڑ دوں۔اب تو اپنے گھر والوں میں چلی جا۔اسمٰعیل نے اس کو طلاق دے دی اور جرہم کی ایک دوسری عورت سے نکاح کر لیا۔پھر اللہ کو جتنے دنوں منظور تھا ابراہیمؑ اپنے ملک میں ٹھہرے رہے۔اس کے بعد پھر آئے تو پھر اسمٰعیل گھر میں نہ ملےوہ ان کی(دوسری) جورو کے پاس گئے پوچھا اسمٰعیل کہاں ہیں؟اس نے کہا روٹی کمانے کی فکر میں گئے ہیں۔ابراہیمؑ نے کہا تمہارا کیا حال ہے،کیونکر گزرتی ہے؟اچھی تو رہتی ہو؟اس نے کہا اللہ کا شکر ہے ہم بہت خیر وخوبی کے ساتھ خوش گزران رہتے ہیں ابراہیمؑ نے پوچھا تم کھاتے کیا ہو؟اس نے کہا گوشت۔پوچھا پیتے کیا ہو اس نے کہا پانی۔جب انہوں نے دعا کی یا اللہ ! ان کے گوشت پانی میں برکت دے۔نبیﷺ نے فرمایا ان دنوں مکہ میں اناج کا نام نہ تھا نہیں تو ابراہیمؑ اس میں بھی برکت کی دعا کرتے آپﷺ نے فرمایا(یہ خاصیت اللہ نے مکہ ہی میں رکھی)اگر دوسرے ملک والے صرف گوشت اور پانی پر گزران کریں تو بیمار کر جائیں۔خیر ابراہیمؑ نے (اپنی بہو سے) کہا جب تمہارے خاوند آئیں تو میری طرف سے سلام کہنا اور یہ کہنا یہ زہ بہت عمدہ ہے اس کو حفاظت سے رکھو(ابراہیمؑ یہ کہہ کر روانہ ہوگئے)جب اسمٰعیل گھر میں آئے تو (باپ کی بِھنک پاکر)اپنی بی بی سے پوچھا کوئی آیا تھا؟انہوں نے کہا ایک بوڑھے سے خوبصورت صاحب آئے تھے(ابراہیمؑ کی بہت تعریف کی )تم کو پوچھتے تھے میں نے کہہ دیا (وہ باہر گئے ہیں)انہوں نے مجھ سے پوچھا تمہاری گزران کیونکر ہوتی ہے،میں نے کہا بہت اچھی طرح،اسمٰعیلؑ نے پوچھا اور بھی کچھ کہا۔اس نے کہا ہاں تم کو سلام کہا ہے اور یہ کہا ہے تمہارےدروازے کی زہ بہت اچھی ہے اس کو حفاظت سے رکھنا۔تب اسمٰعیل نے کہا وہ میرے والد تھے اور انہوں نے یہ حکم دیا ہے کہ میں تجھ کو (اپنی زوجیت میں )رہنےدوں۔پھر جب تک اللہ کو منظور تھا ابراہیمؑ اپنے ملک میں ٹھہرے رہے اس کے بعد جو آئے تو اسمٰعیلؑ اس وقت گھر میں تھے زمزم کے پاس ایک درخت تلے بیٹھے اپنے تیر درست کر رہے تھے۔جب انہوں نے اپنے والد کو دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے۔باپ بیٹے سے،بیٹا باپ سے جو کرتا ہے وہ کیا اس کے ختم ہونے کے بعد ابراہیمؑ نے کہا اسمٰعیلؑ ،اللہ نے مجھ کو ایک حکم دیا ہے۔انہوں نے کہا جو حکم دیا ہے بجا لاؤ۔ابراہیمؑ نے کہا تو میری مدد کرے گا۔انہوں نے کہا میں(ضرور) مدد کروں گا۔ابراہیمؑ نے کہا اللہ نے مجھ کو یہ حکم دیا ہے میں اس مقام پر ایک گھر بناؤں اور ایک اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا یعنی اس کے گرد ۔اس وقت باپ بیٹے دونوں نے اس گھر کی بنیاد اٹھائی ۔اسمٰعیل پتھر لاتے جاتے تھے اور ابراہیمؑ تعمیر کرتے تھے۔جب دیواریں اونچی ہوگئیں(زمین پر کھڑے ہو کر تعمیر نہ ہو سکی) تو اسمٰعیلؑ یہ پتھر (یعنی مقام ابراہیمؑ)لے کر آئے اوراس کو وہاں رکھ دیا ۔ابراہیمؑ اس پر کھڑے ہو کر دیوار اٹھاتے اور اسمٰعیلؑ پتھر دیے جاتے اور دونوں (سورت بقرہ کی) یہ دعا پڑھتے تھے،مالک ہمارے تو ہماری طرف سے یہ کوشش قبول کر بیشک تو سنتا جانتا ہے۔غرض وہ دونوں بیت اللہ کی تعمیر کرتے رہے،گرد پھرتے جاتے اور یہی دعا پڑھتے جاتے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا كَانَ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَبَيْنَ أَهْلِهِ مَا كَانَ، خَرَجَ بِإِسْمَاعِيلَ وَأُمِّ إِسْمَاعِيلَ، وَمَعَهُمْ شَنَّةٌ فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ فَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَوَضَعَهَا تَحْتَ دَوْحَةٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِبْرَاهِيمُ إِلَى أَهْلِهِ، فَاتَّبَعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، حَتَّى لَمَّا بَلَغُوا كَدَاءً نَادَتْهُ مِنْ وَرَائِهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِلَى مَنْ تَتْرُكُنَا قَالَ إِلَى اللَّهِ‏.‏ قَالَتْ رَضِيتُ بِاللَّهِ‏.‏ قَالَ فَرَجَعَتْ فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنَ الشَّنَّةِ وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا، حَتَّى لَمَّا فَنِيَ الْمَاءُ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا‏.‏ قَالَ فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ هَلْ تُحِسُّ أَحَدًا فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا، فَلَمَّا بَلَغَتِ الْوَادِيَ سَعَتْ وَأَتَتِ الْمَرْوَةَ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ أَشْوَاطًا، ثُمَّ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ ـ تَعْنِي الصَّبِيَّ ـ فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ، فَإِذَا هُوَ عَلَى حَالِهِ كَأَنَّهُ يَنْشَغُ لِلْمَوْتِ، فَلَمْ تُقِرَّهَا نَفْسُهَا، فَقَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ لَعَلِّي أُحِسُّ أَحَدًا، فَذَهَبَتْ فَصَعِدَتِ الصَّفَا فَنَظَرَتْ وَنَظَرَتْ فَلَمْ تُحِسَّ أَحَدًا، حَتَّى أَتَمَّتْ سَبْعًا، ثُمَّ قَالَتْ لَوْ ذَهَبْتُ فَنَظَرْتُ مَا فَعَلَ، فَإِذَا هِيَ بِصَوْتٍ فَقَالَتْ أَغِثْ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ خَيْرٌ‏.‏ فَإِذَا جِبْرِيلُ، قَالَ فَقَالَ بِعَقِبِهِ هَكَذَا، وَغَمَزَ عَقِبَهُ عَلَى الأَرْضِ، قَالَ فَانْبَثَقَ الْمَاءُ، فَدَهَشَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ فَجَعَلَتْ تَحْفِزُ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ تَرَكَتْهُ كَانَ الْمَاءُ ظَاهِرًا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَجَعَلَتْ تَشْرَبُ مِنَ الْمَاءِ، وَيَدِرُّ لَبَنُهَا عَلَى صَبِيِّهَا ـ قَالَ ـ فَمَرَّ نَاسٌ مِنْ جُرْهُمَ بِبَطْنِ الْوَادِي، فَإِذَا هُمْ بِطَيْرٍ، كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَاكَ، وَقَالُوا مَا يَكُونُ الطَّيْرُ إِلاَّ عَلَى مَاءٍ‏.‏ فَبَعَثُوا رَسُولَهُمْ، فَنَظَرَ فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ، فَأَتَاهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ فَأَتَوْا إِلَيْهَا، فَقَالُوا يَا أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، أَتَأْذَنِينَ لَنَا أَنْ نَكُونَ مَعَكِ أَوْ نَسْكُنَ مَعَكِ فَبَلَغَ ابْنُهَا فَنَكَحَ فِيهِمُ امْرَأَةً، قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لأَهْلِهِ إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي‏.‏ قَالَ فَجَاءَ فَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ إِسْمَاعِيلُ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ ذَهَبَ يَصِيدُ‏.‏ قَالَ قُولِي لَهُ إِذَا جَاءَ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ‏.‏ فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ قَالَ أَنْتِ ذَاكِ فَاذْهَبِي إِلَى أَهْلِكِ‏.‏ قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لأَهْلِهِ إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي‏.‏ قَالَ فَجَاءَ فَقَالَ أَيْنَ إِسْمَاعِيلُ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ ذَهَبَ يَصِيدُ، فَقَالَتْ أَلاَ تَنْزِلُ فَتَطْعَمَ وَتَشْرَبَ فَقَالَ وَمَا طَعَامُكُمْ وَمَا شَرَابُكُمْ قَالَتْ طَعَامُنَا اللَّحْمُ، وَشَرَابُنَا الْمَاءُ‏.‏ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي طَعَامِهِمْ وَشَرَابِهِمْ‏.‏ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَرَكَةٌ بِدَعْوَةِ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ بَدَا لإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ لأَهْلِهِ إِنِّي مُطَّلِعٌ تَرِكَتِي‏.‏ فَجَاءَ فَوَافَقَ إِسْمَاعِيلَ مِنْ وَرَاءِ زَمْزَمَ، يُصْلِحُ نَبْلاً لَهُ، فَقَالَ يَا إِسْمَاعِيلُ، إِنَّ رَبَّكَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِيَ لَهُ بَيْتًا‏.‏ قَالَ أَطِعْ رَبَّكَ‏.‏ قَالَ إِنَّهُ قَدْ أَمَرَنِي أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ‏.‏ قَالَ إِذًا أَفْعَلَ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ‏.‏ قَالَ فَقَامَا فَجَعَلَ إِبْرَاهِيمُ يَبْنِي، وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ، وَيَقُولاَنِ ‏{‏رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ‏}‏ قَالَ حَتَّى ارْتَفَعَ الْبِنَاءُ وَضَعُفَ الشَّيْخُ عَلَى نَقْلِ الْحِجَارَةِ، فَقَامَ عَلَى حَجَرِ الْمَقَامِ، فَجَعَلَ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ، وَيَقُولاَنِ ‏{‏رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ‏}‏‏.

Narrated By Ibn Abbas : When Abraham had differences with his wife), (because of her jealousy of Hajar, Ishmael's mother), he took Ishmael and his mother and went away. They had a water-skin with them containing some water, Ishmael's mother used to drink water from the water-skin so that her milk would increase for her child. When Abraham reached Mecca, he made her sit under a tree and afterwards returned home. Ishmael's mother followed him, and when they reached Kada', she called him from behind, 'O Abraham! To whom are you leaving us?' He replied, '(I am leaving you) to Allah's (Care).' She said, 'I am satisfied to be with Allah.' She returned to her place and started drinking water from the water-skin, and her milk increased for her child. When the water had all been used up, she said to herself, 'I'd better go and look so that I may see somebody.' She ascended the Safa mountain and looked, hoping to see somebody, but in vain. When she came down to the valley, she ran till she reached the Marwa mountain. She ran to and fro (between the two mountains) many times. They she said to herself, 'i'd better go and see the state of the child,' she went and found it in a state of one on the point of dying. She could not endure to watch it dying and said (to herself), 'If I go and look, I may find somebody.' She went and ascended the Safa mountain and looked for a long while but could not find anybody. Thus she completed seven rounds (of running) between Safa and Marwa. Again she said (to herself), 'I'd better go back and see the state of the child.' But suddenly she heard a voice, and she said to that strange voice, 'Help us if you can offer any help.' Lo! It was Gabriel (who had made the voice). Gabriel hit the earth with his heel like this (Ibn 'Abbas hit the earth with his heel to Illustrate it), and so the water gushed out. Ishmael's mother was astonished and started digging. (Abu Al-Qasim) (i.e. the Prophet) said, "If she had left the water, (flow naturally without her intervention), it would have been flowing on the surface of the earth.") Ishmael's mother started drinking from the water and her milk increased for her child. Afterwards some people of the tribe of Jurhum, while passing through the bottom of the valley, saw some birds, and that astonished them, and they said, 'Birds can only be found at a place where there is water.' They sent a messenger who searched the place and found the water, and returned to inform them about it. Then they all went to her and said, 'O Ishmael's mother! Will you allow us to be with you (or dwell with you)?' (And thus they stayed there.) Later on her boy reached the age of puberty and married a lady from them. Then an idea occurred to Abraham which he disclosed to his wife (Sarah), 'I want to call on my dependents I left (at Mecca).' When he went there, he greeted (Ishmael's wife) and said, 'Where is Ishmael?' She replied, 'He has gone out hunting.' Abraham said (to her), 'When he comes, tell him to change the threshold of his gate.' When he came, she told him the same whereupon Ishmael said to her, 'You are the threshold, so go to your family (i.e. you are divorced).' Again Abraham thought of visiting his dependents whom he had left (at Mecca), and he told his wife (Sarah) of his intentions. Abraham came to Ishmael's house and asked. "Where is Ishmael?" Ishmael's wife replied, "He has gone out hunting," and added, "Will you stay (for some time) and have something to eat and drink?' Abraham asked, 'What is your food and what is your drink?' She replied, 'Our food is meat and our drink is water.' He said, 'O Allah! Bless their meals and their drink." Abu Al-Qa-sim (i.e. Prophet) said, "Because of Abraham's invocation there are blessings (in Mecca)." Once more Abraham thought of visiting his family he had left (at Mecca), so he told his wife (Sarah) of his decision. He went and found Ishmael behind the Zam-Zam well, mending his arrows. He said, "O Ishmael, Your Lord has ordered me to build a house for Him." Ishmael said, "Obey (the order of) your Lord." Abraham said, "Allah has also ordered me that you should help me therein." Ishmael said, "Then I will do." So, both of them rose and Abraham started building (the Ka'ba) while Ishmael went on handing him the stones, and both of them were saying, "O our Lord ! Accept (this service) from us, Verily, You are the All-Hearing, the All-Knowing." (2.127). When the building became high and the old man (i.e. Abraham) could no longer lift the stones (to such a high position), he stood over the stone of Al-Maqam and Ishmael carried on handing him the stones, and both of them were saying, 'O our Lord! Accept (this service) from us, Verily You are All-Hearing, All-Knowing." (2.127)

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے ابوعامر عبدالملک بن عمرو نے کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے،انہوں نے کیثر بن کیثر سے،انہوں نے سعید بن جبیر سے،انہوں نے ابنِ عباسؓ سے،انہوں نے کہا جب ابراہیمؑ اور ان کی بی بی(سارہ) میں جھگڑا ہُوا(سارہ نے کہا ہاجرہ کو نکالو) تو ابراہیمؑ ،اسمٰعیلؑ کی والدہ کو لے کر نکل گئے۔پانی کا مشکیزہ ان کے ساتھ تھا۔اسمٰعیل کی والدہ وہی پیتی تھیں،ان کا دودھ بچّے کےلئے اترتا تھا،یہاں تک کہ مکہّ پہنچے۔ابراہیمؑ نے ایک درخت کے تلے اسمٰعیلؑ اور ان کی والدہ کو بٹھا دیا۔آپؑ سارہؑ کے پاس لوٹ گئے تو اسمٰعیلؑ کی والدہ ان کے پیچھے لگیں۔ابراہیمؑ جب مکہّ کی بلند ٹیکری پر پہنچے تو اسمٰعیلؑ کی والدہ نے انہیں پکارا،کہنے لگیں،ابراہیمؑ تم ہم کو کس پر چھوڑے جاتے ہو۔انہوں نے کہا،اللہ پر۔یہ سن کر اسمٰعیلؑ کی والدہ نے کہا،اچھا میں اللہ پر راضی ہوں اور لوٹ آئیں اس مشکیزہ کا پانی پیتی رہیں اور اپنے بچّے کو دودھ پلاتی رہیں۔جب پانی ختم ہوگیا تو انہوں نے(اپنے دل میں)کہا چلوں تو اور دیکھوں شاید کوئی اللہ کا بندہ مل جائے(جس سے میں مدد چاہوں)ابنِ عباسؓ نے کہا پہلے اسمٰعیل کی والدہ جاکر صفا پر چڑھیں ،وہاں اِدھر اُدھر خوب دیکھا،کوئی تو دکھائی دے لیکن کوئی نظر نہیں پڑا ۔جب وہاں سے اُتر کر نالے میں آئیں (تو گھبراہٹ کے مارے) دوڑ کر چلیں اور مروہ پہاڑ پر پہنچیں۔ایسا ہی کئی بار انہوں نے کیا پھر (اپنے دل میں) کہنے لگیں،کاش میں بچّہ کو دیکھوں اس کا کیا حال ہے،دیکھا تو اسی حال میں ہے(یعنی زندہ ہے) مگر تکلیف کے مارے گویا موت کو پکار رہا ہے۔یہ حال دیکھ کر ان سے صبر نہ ہوسکا۔انہوں نے پھر اپنے دل میں یہی کہا پھر چلوں شاید کسی شخص کو پاؤں اور جا کر صفا پہاڑ پر چڑھ گئیں ۔بار بار اِدھر اُدھر دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا۔اسی طرح انہوں نے صفا مروے کے سات پھیرے کئے،پھر کہنے لگیں چلوں بچّہ کو چل کر دیکھوں اس کا کیا حال ہے۔اتنے میں ایک آواز اُن کے کان میں آئی انہوں نے جواب میں یوں کہا اگر تو کوئی بھلا آدمی ہے تو ہماری فریاد سُن۔پھر کیا دیکھتی ہیں کہ حضرت جبریلؑ موجود ہیں ابنِ عباسؓ نے کہا پھر جبریلؑ نے اپنی ایڑی زمین پر مار ی ۔ابن عباسؓ نے ایڑی مار کر بتلایا اس طرح ۔اسی وقت پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔ اسمٰعیلؑ کی والدہ ڈریں(کہیں یہ پانی غائب نہ ہوجائے) اور زمین کھودنے لگیں۔ابو القاسمﷺ نے فرمایا اگر وہ پانی کو اپنے حال پر چھوڑ دیتیں تو زمین پر بہتا رہتا۔غرض انہوں نے پانی پینا شروع کیااور بچے کودودھ پلانے لگیں۔ پھر جرہم (قبیلے) کے کچھ لوگ اس میدان کے نشیب میں گزرے۔انہوں نے ایک پرندہ وہاں دیکھا جو خلافِ عادت معلوم ہُوا ۔وہ کہنے لگے پرندہ وہیں رہتا ہے جہاں پانی ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک آدمی کو بھیجا اس نے جاکر دیکھا تو وہاں پانی ہے۔آن کر اپنے لوگوں کوخبر کی،پھر تو سب لوگ وہاں آگئے اور کہنے لگے اسمٰعیلؑ کی والدہ تم اجازت دو تو ہم بھی تمہارے ساتھ رہیں یا تمہارے ساتھ اس مقام میں بسیں۔(انہوں نے اجازت دی،وہ لوگ وہیں رہنے لگے) جب اسمٰعیلؑ جوان ہوئے تو انہوں نے جرہم قبیلے کی ایک عورت سے نکاح کیا ۔ ابنِ عباسؓ نے کہا (ایک مدّت بعد) ابراہیمؑ کو (ہاجرہ اور اسمٰعیلؑ کا خیال آیا) انہوں نے حضرت سارہ سے کہا میں اُن کے دیکھنے کو جاتا ہوں۔ابنِ عباسؓ نے کہا جب وہ آئے تو اسمٰعیل کی بی بی سے پُوچھا اسمٰعیل کہاں ہے؟اس نے کہا شکار کرنےگئے ہیں۔ابراہیمؑ نے کہا جب اسمٰعیل آئیں تو اُن سے یوں کہہ دینا اپنے دروازے کی زِہ بدل دے۔ اسمٰعیلؑ (شکار سے) لوٹ کر آئے تو اُن کی بیوی نے کہہ دیا۔انہوں نے کہا زِہ سے تُو ہی مراد ہے۔جا اپنے گھر والوں میں چلی جا۔پھر ابراہیمؑ کو دوبارہ خیال آیا اور اپنی بیوی سارہ سے کہنے لگے میں اسمٰعیلؑ کو دیکھنے جاتا ہوں۔دوبارہ آئے جب بھی اسمٰعیلؑ نہ ملے۔ ان کی دوسری بیوی سے پُوچھا اسمٰعیلؑ کہاں ہیں؟اس نے کہا شکار کرنے گئے ہیں۔ آپ سواری سے تو اتریئے اور کچُھ کھائیے پیجئے۔ابراہیمؑ نے کہا تم کیا کھاتے پیتے ہو؟اس نے کہاہمارا کھاناگوشت اور پینا پانی۔ابراہیمؑ نے یوں دعا دی،یا اللہ ان کے کھانے پینے میں برکت دے۔ابوالقاسمﷺ نے فرمایا مکہّ کے کھانے پینے میں ابراہیمؑ کی دعا سے برکت ہے پھر (تیسری بار) ابراہیمؑ کو خیا ل آیا اور بی بی سارہ سے کہا اسمٰعیلؑ کو دیکھنے جاتا ہوں ۔جب آئے تو اس وقت اسمٰعیلؑ موجود تھے، زمزم کے پیچھے بیٹھے اپنے تیر درست کر رہے تھے۔ ابراہیمؑ نے کہا اسمٰعیلؑ تیرے مالک کا یہ حکم ہُوا ہے کہ میں اس کا گھر تیار کروں۔اسمٰعیلؑ نے کہا بہت خوب، جو مالک کا حکم ہے بجا لاؤ۔ابراہیمؑ نے کہا مالک کا یہ بھی حکم ہے کہ تم مدد کرو انہوں نے کہا میں تمہاری مدد کروں گا یا ایسا ہی کوئی لفظ کہا۔پھر ابراہیمؑ نے بنانا شروع کیا اور اسمٰعیل پتھر لا لا کر دیتے تھے اور دونوں یوں دعا کرتے تھے،مالک ہمارے ہماری یہ کوششیں قبول فرما بیشک تو سنتا جانتا ہے۔ یہاں تک کہ دیواریں اونچی ہوگئیں اور ابراہیمؑ کو پتھر اٹھانا دشوار ہُوا۔پھر وُہ مقامِ ابراہیمؑ(ایک پتھر) پر کھڑے ہوئے ۔اسمٰعیلؑ ان کو پتھر دیتے جاتے تھے اور دونوں یہ دعا کرتے جاتے تھے،مالک ہمارے ہماری یہ محنت قبول فرمالے بے شک تو سنتا جانتا ہے۔

Chapter No: 10

باب

Chapter

باب :

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَىُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ قَالَ ‏"‏ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى ‏"‏‏.‏ قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ ‏"‏ أَرْبَعُونَ سَنَةً، ثُمَّ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ بَعْدُ فَصَلِّهْ، فَإِنَّ الْفَضْلَ فِيهِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Dhar : I said, "O Allah's Apostle! Which mosque was first built on the surface of the earth?" He said, "Al-Masjid-ul-,Haram (in Mecca)." I said, "Which was built next?" He replied "The mosque of Al-Aqsa (in Jerusalem)." I said, "What was the period of construction between the two?" He said, "Forty years." He added, "Wherever (you may be, and) the prayer time becomes due, perform the prayer there, for the best thing is to do so (i.e. to offer the prayers in time)."

ہم سے موسٰی بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالواحد نے کہا ہم سے اعمش نے کہا ہم سے ابراہیم تیمی نے،انہوں نے اپنے باپ (یزید بن شریک) سے کہا میں نے ابوذر سے سُنا وہ کہتے تھے میں نے آپﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ! سب سے پہلے زمین میں کونسی مسجد بنی ہے؟آپؐ نے فرمایا مسجد حرام میں نے پوچھا پھر کونسی مسجد ؟ آپؐ نے فرمایا مسجدِاقصٰی(بیت المقدس ) میں نے پوچھا ان دونوں میں کتنا فاصلہ تھا؟ آپؐ نے فرمایا چالیس برس کا پھر فرمایا جہاں تجھ کو نماز کا وقت آجائے وہاں نماز پڑھ لے۔بڑی فضلیت نماز پڑھنا ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ ‏"‏ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا ‏"‏‏.‏ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated By Anas bin Malik : When the mountain of Uhud came in the sight of Allah's Apostle he said. "This is a mountain that loves us and is loved by us. O Allah! Abraham made Mecca a sanctuary, and I make (the area) in between these two mountains (of Medina) a sanctuary."

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا انہو ں نے امام مالک سے ، انہوں نے عمرو بن ابی عمرو سے جو مطلب کے غلام تھے انہوں نے انسؓ بن مالک سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ کو اُحد پہا ڑ دکھا ئی دیا(جو مدینہ میں ہے )آپؐ نے فر مایا یہ وہ پہا ڑ ہے جو ہم سے محبّت رکھتا ہے ۔ ہم اس سے محبّت رکھتے ہیں یا اللہ! ابراہیمؑ نے مکہ کو حرام کیا اور میں مدینہ کے دونوں پتھر یلے کناروں کے اندر جو زمین ہے اس کو حرام کرتا ہوں ۔اس حدیث کو عبداللہ بن زید نے بھی نبی ﷺ سے روایت کیا ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ أَبِي بَكْرٍ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنهم ـ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ قَوْمَكِ بَنَوُا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلاَ تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَوْلاَ حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا أُرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرَكَ اسْتِلاَمَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلاَّ أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ‏.‏ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ‏.‏

Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) Allah's Apostle said (to her). "Don't you see that when your folk built the Ka'ba, they did not build it on all the foundations built by Abraham?" I said, "O Allah's Apostle! Why don't we rebuild it on the foundations of Abraham?" He said. "But for the fact that your folk have recently given up infidelity (I would have done so)." Narrated Ibn Umar: 'Aisha must have heard this from Allah's Apostle for I see that Allah's Apostle used not to touch the two corners facing Al-Hijr only because the House had not been built on the foundations of Abraham."

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے ابنِ شہاب سے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے کہ (عبداللہ) بن ابی بکرؓ نے عبداللہ ابن عمرؓ کو حضرت عائشہؓ سے سن کر یہ خبر دی کہ نبیﷺ نے(حضرت عائشہ سے فرمایا کیا تجھ کومعلوم نہیں تیری قوم (قریش) نے جب کعبہ کو بنایا تو حضرت ابراہیمؑ کی بنیادوں (پایوں) سے چھوٹا کر دیا۔حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ آپؐ کعبہ کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر کیوں نہیں بنا دیتے؟آپؐ نے فرمایا اگر تیری قوم کے کفر کا زمانہ تازہ نہ ہوتا (تو میں ضرور ایسا کرتا)عبداللہ بن عمرؓ نے کہا اگر حضرت عائشہؓ نے یہ حدیث رسول اللہﷺ سے سنی ہے تو میرا خیال یہ ہے کہ اسی وجہ سے آپؐ دونوں کونوں کو بوسہ نہیں دیتے تھے جو حجر اسود کے قریب ہیں(یعنی رکن شامی اور عراقی کو)کیونکہ کعبہ کی بنیاد حضرت ابراہیمؑ کی بنیاد نہیں ہے(یہ دونوں رکن آگے ہٹ گئے ہیں) اسمٰعیل بن اویس نے اس حدیث میں عبداللہ بن محمد بن ابی بکر نے کہا ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Humaid As-Sa'idi : The people asked, "O Allah's Apostle! How shall we (ask Allah to) send blessings on you?" Allah's Apostle replied, "Say: O Allah! Send Your Mercy on Muhammad and on his wives and on his off spring, as You sent Your Mercy on Abraham's family; and send Your Blessings on Muhammad and on his offspring, as You sent Your Blessings on Abraham's family, for You are the Most Praise-worthy, the Most Glorious."

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے،انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عمرو بن سلیم زرقی سے کہا مجھ کو ابو حمید ساعدی نے خبر دی لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم آپؐ پر درود کیونکر بھیجیں۔آپؐ نے فرمایا یوں کہو یا اللہ محمدؐ اور ان کی بی بیوں اور ان کی اولاد پر اپنی رحمت اتار جیسے تو نے ابراہیم کی اولاد پر رحمت اتاری اور محمدؐ اور ان کی بی بیوں اور اولاد پر اپنی برکت اتار جیسے تو نے ابراہیمؑ کی اولاد پر برکت اتاری۔بے شک تو خوبیوں والا بڑائی والا ہے۔


حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، مُسْلِمُ بْنُ سَالِمٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلاَ أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً سَمِعْتُهَا مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ بَلَى، فَأَهْدِهَا لِي‏.‏ فَقَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الصَّلاَةُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَلَّمَنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abdur-Rahman bin Abi Laila : Ka'b bin Ujrah met me and said, "Shall I not give you a present I got from the Prophet?" 'Abdur-Rahman said, "Yes, give it to me." I said, "We asked Allah's Apostle saying, 'O Allah's Apostle! How should one (ask Allah to) send blessings on you, the members of the family, for Allah has taught us how to salute you (in the prayer)?' He said, 'Say: O Allah! Send Your Mercy on Muhammad and on the family of Muhammad, as You sent Your Mercy on Abraham and on the family of Abraham, for You are the Most Praise-worthy, the Most Glorious. O Allah! Send Your Blessings on Muhammad and the family of Muhammad, as You sent your Blessings on Abraham and on the family of Abraham, for You are the Most Praise-worthy, the Most Glorious.'"

ہم سے قیس بن حفص اور موسٰی بن اسمٰعیل نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے کہا ہم سے ابوفروہ مسلم بن سالم ہمدانی نے کہا مجھ سے عبداللہ بن عیسٰی نے بیان کیا ،انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلٰی سے سُنا انہوں نے کہا کعب بن عجرہ مجھ سے ملے اور کہنے لگے میں تجھ کو ایک تحفہ دوں جو میں نے نبیﷺ سے سنا؟ میں نے کہا ضرور دو،انہوں نے کہا ہم لوگوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ہم آپؐ پر اور آپؐ کے اہلِ بَیت پر کیونکر درود پڑھیں کیونکہ آپؐ کو سلام کرنا تو ہم کو اللہ نے سکھلا دیا(یعنے تشہد میں السلام علیک ایّہا النبّی ورحمۃ اللہ وبرکاتہُ) آپؐ نے فرمایا (درود میں) یوں کہا کرو یااللہ،محمدؐ اور محمدؐ کی آل پر رحم کر جیسے تو نے ابراہیمؑ اور ابراہیمؑ کی آل پر رحم کیا بے شک تو خوبیوں والا بڑائیوں والا ہے، یااللہ،محمدؐ اور محمدؐ کی آل پر اپنی برکت اتار جیسے تو نے ابراہیمؑ اور ابراہیمؑ کی آل پر برکت اتاری ہے، بے شک تو خوبیوں والا بڑائیوں والا ہے۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَيَقُولُ ‏"‏ إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ، أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ ‏"‏‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet used to seek Refuge with Allah for Al-Hasan and Al-Husain and say: "Your forefather (i.e. Abraham) used to seek Refuge with Allah for Ishmael and Isaac by reciting the following: 'O Allah! I seek Refuge with Your Perfect Words from every devil and from poisonous pests and from every evil, harmful, envious eye.'"

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے جریر نے انہوں نے منصور سے انہوں نے منہال بن عمرو سے،انہوں نے سعید بن جُبَیر سے،انہوں نے ابنِ عباسؓ سے انہوں نے کہا نبی ﷺ ،امام حسن اور امام حسین کے لئے ان کلموں سے پناہ ڈھونڈتے تھے تمہارے دادا ابراہیمؑ اسمٰعیلؑ اور اسحاق کے لئے انہیں کلموں سے پناہ ڈھونڈا کرتے تھے،وہ کلمے یہ ہیں۔أعُوذُ بِکَلِمِاتِ اللہِ التَّامَّۃِ،مِن کُلِّ شَیطانٍ وَ ھَا مَّۃٍ، وَمِن کُلِّ عَینٍ لا مَّۃٍ۔

123Last ›