Sayings of the Messenger

 

123Last ›

Chapter No: 1

باب مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أُمَّتَهُ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى

What has been said about the Prophet's (s.a.w) inviting his followers (nation) to Tawhid of Allah (Monotheism)

باب: نبیﷺکا اپنی اُمت کو توحید کی طرف بلانا

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : When the Prophet sent Muadh to Yemen.

ہم سے ابو عاصم نبیل نے بیا ن کیا کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے انہوں نے یحیےٰ بن عبد اللہ بن صیفی سے انہوں نے ابو معبد سے انہوں نے ابن عباسؓ سے کہ نبی ﷺنے معاذؓ کو یمن کی طرف بھیجا۔


وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ لَمَّا بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُعَاذًا نَحْوَ الْيَمَنِ قَالَ لَهُ ‏"‏ إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَى فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، فَإِذَا صَلُّوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ غَنِيِّهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فَقِيرِهِمْ، فَإِذَا أَقَرُّوا بِذَلِكَ فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ ‏"

Narrated By Ibn Abbas : When the Prophet sent Muadh to Yemen, he said to him, "You are going to a nation from the people of the Scripture, so let the first thing to which you will invite them, be the Tauhid of Allah. If they learn that, tell them that Allah has enjoined on them, five prayers to be offered in one day and one night. And if they pray, tell them that Allah has enjoined on them Zakat of their properties and it is to be taken from the rich among them and given to the poor. And if they agree to that, then take from them Zakat but avoid the best property of the people."

امام بخاریؒ نے کہا اور مجھ سے عبد اللہ بن ابی الاسود نے بیا ن کیا کہا ہم سے فضل بن علاء نے کہا ہم سے اسمٰعیل بن امیہ نے انہوں نے یحییٰ بن محمد بن عبد اللہ بن صیفی نے انہوں نے ابو معبد سے سنا جو عبد اللہ بن عباسؓ کے غلام تھے انہوں نے ابن عباسؓ سے سنا وہ کہتے تھے جب نبی ﷺ نے معاذ بن جبل کو (حاکم بنا کر) یمن کی طرَف بھیجا تو ان سے فر مایا دیکھو تم کو اہل کتاب کے کچھ لوگ ملیں گے تو پہلے ان کو اللہ کی توحید کی طرف بلائیو جب وہ یہ توحید سمجھ لیں (اس کو مان لیں تو اب ان سے یہ کہیو کہ اللہ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں جب وہ نماز بھی پڑھنے لگیں تو اب ان سے کہیو اللہ نے ان کے مالوں میں زکوٰۃ بھی فرض کی ہے ان میں جو مالدار ہے اس سے لی جائے گی اور ان میں جو محتاج ہے اس کو دی جائے گی جب وہ اس کو بھی مان جائیں تو اس سے زکوۃ وصول کراور زکوۃ میں عمدہ عمدہ مال لینے سے بچارہ ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، وَالأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، سَمِعَا الأَسْوَدَ بْنَ هِلاَلٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ‏"‏‏.‏ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ ‏"

Narrated By Mu'adh bin Jabal : The Prophet said, "O Mu'adh! Do you know what Allah's Right upon His slaves is?" I said, "Allah and His Apostle know best." The Prophet said, "To worship Him (Allah) Alone and to join none in worship with Him (Allah). Do you know what their right upon Him is?" I replied, "Allah and His Apostle know best." The Prophet said, "Not to punish them (if they do so)."

ہم سے محمد بن بشار نے بیا ن کیا کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے ابو حصین (عثمان بن عاصم )ہندی اور اشعث بن سلیم سے د ونوں نے اسود بن ہلال سے سنا انہوں نے معاذبن جبل سے انہوں نے کہا نبیﷺنے فر مایا معاذبن جبل تو جانتا ہے اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے مُعاذ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ ﷺنے فر مایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ اس کی پوجا کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں پھر فر مایا معاذ تو جانتا ہے بندوں کا حق اللہ پر کیا ہےانہوں نے کہا اللہ اور اس رسول ﷺ خوب جانتا ہے آپﷺنے فر مایا بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ کرے ۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلاً، سَمِعَ رَجُلاً، يَقْرَأُ ‏{‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.زَادَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَخِي، قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.

Narrated By Abu Said Al-Khudri : A man heard another man reciting (in the prayers): 'Say (O Muhammad): "He is Allah, the One." (112.1) And he recited it repeatedly. When it was morning, he went to the Prophet and informed him about that as if he considered that the recitation of that Sura by itself was not enough. Allah's Apostle said, "By Him in Whose Hand my life is, it is equal to one-third of the Qur'an."

ہم سے اسمٰعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا ہم سے امام مالکؒ نے انہوں نے عبد الرحمٰن بن عبدا للہ بن عبد الرحمٰن بن ابی صعصعہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے انہوں نے کہا ایک شخص نے (نام نامعلوم )دوسرے شخص(قتادہ بن نعمان ) کو سنا وہ بار بار قل ہو اللہ احد پڑھ رہا تھا صبح کو سننے والا شخص نبیﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ سے بیان کیا وہ قل ہو اللہ احد کا پڑھنا ایک کم درجہ کی عبادت سمجھتا تھا رسول اللہﷺ نے فر مایا قسم اس پر ورد گار کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قل ہو اللہ احد ( ثواب میں ) تہائی قرآن کے برا بر ہے اسمٰعیل بن جعفر نے امام مالکؒ سے انہوں نے عبد الرحمٰن سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابو سعید سے یوں روایت کیا میرے بھائی قتادہ بن نعمانؓ نے نبی ﷺ سے روایت کی تو قتادہ بن نعمانؓ کا ذکر زیادہ کیا (یہ روایت اوپر مذکور ہو چکی ہے فضائل القرآن میں) ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلاَلٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَتْ فِي حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ رَجُلاً عَلَى سَرِيَّةٍ، وَكَانَ يَقْرَأُ لأَصْحَابِهِ فِي صَلاَتِهِ فَيَخْتِمُ بِ ـ ‏{‏قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‏}‏ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ سَلُوهُ لأَىِّ شَىْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ ‏"‏‏.‏ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet sent (an army unit) under the command of a man who used to lead his companions in the prayers and would finish his recitation with (the Sura 112): 'Say (O Muhammad): "He is Allah, the One."' (112.1). When they returned (from the battle), they mentioned that to the Prophet. He said (to them), "Ask him why he does so." They asked him and he said, "I do so because it mentions the qualities of the Beneficent and I love to recite it (in my prayer)." The Prophet; said (to them), "Tell him that Allah loves him."

ہم سے محّمد بن یحییےٰ(ذہلی ) نے بیان کیا کہا ہم سے احمد بن صالح نے کہا ہم سے عبد اللہ بن وہب نے کہا ہم سے عمرو بن حارث مصری نے انہوں نےسعید بن ابی ہلال سے ان سے ابو الرجال محمدبن عبد الرحمٰن نے بیا ن کیا انہوں نے اپنی والدہ عمرہ بنت عبد الرحمٰن سے جو حضرت عائشہ صدیقہؓ کی پرورش میں تھیں انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہ نبیﷺ نے ایک شخص(کلثوم بن زہدم یا کسی اور) کو ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجا وہ نماز میں (رکعت میں ) اپنی قراٗت قل ہو اللہ احد پر ختم کرتا جب لشکر کے لوگ لوٹ کر مدینہ میں آئے تو انہوں نے نبیﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ ﷺنے فر مایا اس سے پوچھو ایسا کیوں کرتا ہے لوگوں نے پوچھا وہ کہنے لگے اس سورت میں اللہ کی صفتیں مذکور ہیں مجھ کو اس کا پڑھنا اچھا لگتا ہے نبیﷺ نے فر مایا اس سے کہو اللہ تجھ سے محبت رکھتا ہے ۔

Chapter No: 2

باب قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ‏{‏قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى‏}‏

The Statement of Allah, "Say, Invoke Allah or invoke the most Gracious, by whatever name you invoke him (it is the same), for to him belong the best names." (V.17:110)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ بنی اسرائیل میں) یہ فرمانا اے پیغمبر لوگوں سے کہہ دے اللہ کو اللہ کہہ کر پکارویا رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے پکارو اس کے تو سب نام اچھے ہیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، وَأَبِي، ظَبْيَانَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لاَ يَرْحَمُ النَّاسَ ‏"‏‏

Narrated By Jarir bin 'Abdullah : Allah's Apostle said, "Allah will not be merciful to those who are not merciful to mankind."

ہم سے محمّد بن سلام نے بیا ن کیا کہا ہم کو ابو معاویہ (محمد بن حازم) نے خبر دی انہوں نے اعمش سے انہوں زیدبن وہب اور ابو ظبیان سے انہوں نے جریر بن عبد اللہ بجلیؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺنے فر مایا اللہ ان لوگوں پر رحم نہیں کرتا (یا آخرت میں رحم نہیں کرے گا )جو اس کے بندوں پر (دنیا میں) رحم نہیں کرتے ۔


حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ رَسُولُ إِحْدَى بَنَاتِهِ يَدْعُوهُ إِلَى ابْنِهَا فِي الْمَوْتِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ارْجِعْ فَأَخْبِرْهَا أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ‏"‏‏.‏ فَأَعَادَتِ الرَّسُولَ أَنَّهَا أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَدُفِعَ الصَّبِيُّ إِلَيْهِ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ‏"‏‏.

Narrated By Usama bin Zaid : We were with the Prophet when suddenly there came to him a messenger from one of his daughters who was asking him to come and see her son who was dying. The Prophet said (to the messenger), "Go back and tell her that whatever Allah takes is His, and whatever He gives is His, and everything with Him has a limited fixed term (in this world). So order her to be patient and hope for Allah's reward." But she sent the messenger to the Prophet again, swearing that he should come to her. So the Prophets got up, and so did Sa'd bin 'Ubada and Mu'adh bin Jabal (and went to her). When the child was brought to the Prophet his breath was disturbed in his chest as if it were in a water skin. On that the eyes of the Prophet. became flooded with tears, whereupon Sa'd said to him, "O Allah's Apostle! What is this?" The Prophet said, "This is mercy which Allah has put in the heart of His slaves, and Allah bestows His mercy only on those of His slaves who are merciful (to others)."

ہم سے ابو النعمان محمّد بن فضل سدوسی نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے عاصم احول سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے اسامہ بن زید سے انہوں نے کہا ہم نبی ﷺکے پاس بیٹھے تھے اتنے میں آپ ﷺکی صاحبزادی (علیا حضرت زینب)کی طرف سے ایک شخص آپ ﷺ کو بلانے کے لئے آیا کہنے لگا ان کا بچہ مرنے کے قریب ہو رہا ہے نبیﷺنے فر مایا جا اور زینبؓ سے کہہ دے اللہ ہی کا سب مال ہے جو چاہے لے لے اور جو چاہے دے اور ہر ذی روح کی حیات کا اللہ کے پاس ایک وقت مقرر ہے (وہ اتنا ہی جئے گا )اس سے کہہ دے صبر کر اور اللہ سے صبر کا ثواب مانگ لیکن حضرت زینبؓ نے دوبارہ ا س کو بھیجا اور قسم دی آپ ﷺضرور تشریف لائیے اس وقت آپ ﷺکے ساتھ سعد بن عبادہؓ اور معاذبن جبلؓ بھی گئے ،حضرت زینبؓ نے بچہ کو (آپﷺکی گود میں )ڈال دیا اس کی جان نکل رہی تھی (دم ٹوٹ رہا تھا )جیسے پرانی مشک کو حال ہوتا ہے یہ کیفیت دیکھ کر نبیﷺکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے سعد بن عبادہؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ رونا کیسا آپ ﷺنے فر مایا یہ رونا رحم کی وجہ سے ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دل میں رکھا ہے اور اللہ انہی بندوں پر رحم کرتا ہے جو (دوسروں پر )رحم کرتے ہیں ۔

Chapter No: 3

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ‏}‏

The Statement of Allah, "Verily Allah is the All-Provider, Owner of Power, the most Strong." (V.51:58)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃوالذاریات میں)فرمانا روزی دینے والا میں ہوں زوردار مضبوط

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللَّهِ، يَدَّعُونَ لَهُ الْوَلَدَ، ثُمَّ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ ‏"‏‏

Narrated By Abu Musa Al-Ashari : The Prophet said, "None is more patient than Allah against the harmful and annoying words He hears (from the people): They ascribe children to Him, yet He bestows upon them health and provision.

ہم سے عبدان نے بیان کیا انہوں نے ابوحمزہؓ سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے سعید بن جبیر سےانہوں نے ابو عبد الرحمٰن سلمی سے انہوں نے ابو موسےٰاشعریؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺنے فر مایا اللہ سے زیادہ تکلیف کی بات سن کر صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے کم بخت مشرک کہتے ہیں اللہ اولاد رکھتا ہے باو جو د ایسی باتوں کے وہ مشرکوں کو چنگا بھلا کرتا ہے ان کو روزی دیتا ہے ۔

Chapter No: 4

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏عَالِمُ الْغَيْبِ فَلاَ يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا‏}‏

The Statements of Allah, "(He alone is) the All-Knower of the unseen, and He reveals to none His Unseen." (V.72:26)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ جن میں)فرمانا غیب کا جاننے والا وہ اپنے غیب کسی پر نہیں کھولتا۔

وَ‏{‏إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ‏}‏ وَ‏{‏أَنْزَلَهُ بِعِلْمِه‏}‏ وَ‏{‏مَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَى وَلاَ تَضَعُ إِلاَّ بِعِلْمِهِ‏}‏ ‏{‏إِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ‏}‏ قَالَ يَحْيَى الظَّاهِرُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا، وَالْبَاطِنُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ عِلْمًا‏

"Verily, Allah! With Him (Alone) is the knowledge of the Hour ..." (V.31:34). And, "...He has sent it (the Quran) down with His Knowledge ..." (V.35:11). And, "... And no female conceives or gives birth, but with His Knowledge ..." (V.35:11). "To Him (Alone) is referred the knowledge of the hour." (V.41:47) And Yahya said, "Allah has knowledge of everything, whether apparent or hidden (perceivable by human being or not)."

اور (سورۃ لقمان میں) فرمانا اللہ ہی کو معلوم ہے قیامت کب آئیگی اور (سورۃ نساء میں) فرمانا اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے جو اس نے تجھ پر اتارا جان بوجھ کر (یعنی علم کے ساتھ) اس کو اتارا اور (سورۃ حمٓ سجدی میں)فرمانا اور کسی مادہ کو پیٹ نہیں رہتا نہ وہ جنتی ہے مگر اس کو معلوم ہے (اور اسی سورۃ میں) فرمانا قیامت کب آئیگی اس کا علم اسی کے حوالے ہے یحییٰ بن زیاد فراء نے کہا ہر چیز پر ظاہر ہے یعنی علم کی وجہ سے اور ہر چیز پر باطن ہے یعنی علم کی وجہ سے ۔

حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ اللَّهُ، لاَ يَعْلَمُ مَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ إِلاَّ اللَّهُ، وَلاَ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلاَّ اللَّهُ، وَلاَ يَعْلَمُ مَتَى يَأْتِي الْمَطَرُ أَحَدٌ إِلاَّ اللَّهُ، وَلاَ تَدْرِي نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِلاَّ اللَّهُ، وَلاَ يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ إِلاَّ اللَّهُ ‏"

Narrated By Ibn Umar : The Prophet said, "The keys of the unseen are five and none knows them but Allah: (1) None knows what is in the womb, but Allah: (2) None knows what will happen tomorrow, but Allah; (3) None knows when it will rain, but Allah; (4) None knows where he will die, but Allah (knows that); (5) and none knows when the Hour will be established, but Allah."

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے کہا مجھ سے عبد اللہ بن دینار نے انہوں عبد اللہ بن عمرؓ سے انہوں نےنبیﷺسے آپ ﷺنے فر مایا غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جن کو اللہ ہی جانتا ہے (پیٹوں کا گھٹنا بڑھنا ان میں ایک بچہ ہے یا زیادہ پورا ہے یا ادھورا ہے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کل کیا ہوگا اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا مینہ کب بر سے گا اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا جاندار کس سرزمین میں مرے گا اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا قیامت کب ہو گی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ وَهْوَ يَقُولُ ‏{‏لاَ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ‏}‏ وَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَقَدْ كَذَبَ، وَهْوَ يَقُولُ لاَ يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلاَّ اللَّهُ‏

Narrated By Masruq : 'Aisha said, "If anyone tells you that Muhammad has seen his Lord, he is a liar, for Allah says: 'No vision can grasp Him.' (6.103) And if anyone tells you that Muhammad has seen the Unseen, he is a liar, for Allah says: "None has the knowledge of the Unseen but Allah."

ہم سے محمّد بن یوسف فر یانی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے اسمٰعیل بن ابی خالد بجلی سے انہوں نے عامر شعبی سے انہوں نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا جو کو ئی تجھ سے یہ کہے کہ حضرت محمد ﷺنے شب معراج میں اپنے پرور دگار کو دیکھا وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ تو (سورت انعام میں )فر ماتا ہے آنکھیں اس کو نہیں پاسکتیں اور جو کوئی تجھ سے یہ کہے حضرت محمد ﷺغیب کی بات جانتے تھے وہ جھوٹا ہے اللہ تعالیٰ سورت نمل میں فر ماتا ہے کسی کو غیب کا علم بجز خدا کے نہیں ہے ۔

Chapter No: 5

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏السَّلاَمُ الْمُؤْمِنُ‏}‏

The Statement of Allah, "... (Allah is He Who is) the One free from all defects, the Giver of security ..." (V.59:23)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ حشر میں) فرمانا وہ سلام ہے (یعنی تمام عیبوں سے پاک ہے)اور مومن ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ، حَدَّثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَقُولُ السَّلاَمُ عَلَى اللَّهِ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلاَمُ وَلَكِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah : We used to pray behind the Prophet and used to say: "As-Salamu 'Al-Allah. The Prophet said, "Allah himself is As-Salam (Name of Allah), so you should say: 'At-Tahiyatu lil-laihi was- sala-watu wat-taiyibatu, as-sallamu 'Alayka aiyuha-n-nabiyyu wa rahrmatu-l-lahi wa barak-atuhu, As-salamu 'alaina wa 'ala 'ibaldi-l-lahi as-salihin. Ashhadu an la ilaha il-lallah, wa ash-hadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluhu.'"

ہم سے احمد بن یونس نے بیا ن کیا کہا ہم سے زہیر بن معا ویہ جعفی نے کہا ہم سے مغیرہ بن مقسم نے کہا ہم سے شقیق بن سلمہ نے کہ عبد اللہ بن مسعودؓ نے کہا ہم نبیﷺکے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے تو یوں کہتے (یعنی تشہد میں )اللہ پر سلام نبی ﷺنے (جب نماز سے فارغ ہوئے ) فر مایا (یوں نہ کہو اللہ پر سلام ) اللہ تو خود سلام ہے (سب کا بچانے والا ہے ) بلکہ یوں کہا کرو التحیات للہ والصلوات والطیّبات السلام علیک ایہا النبی ورحمتہ اللہ وبر کاتہ السلام علینا و علٰی عباد اللہ الصالحین ۔ اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہدان محمد اًعبد ہ ور رسولہُ

Chapter No: 6

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏مَلِكِ النَّاسِ‏}‏

The Statement of Allah, "The King of mankind." (V.114:2)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ النّاس میں) فرمانا ملک الناس یعنی سب آدمیوں کا بادشاہ۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يَقْبِضُ اللَّهُ الأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الأَرْضِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ شُعَيْبٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ مُسَافِرٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ‏.

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "On the Day of Resurrection Allah will hold the whole earth and fold the heaven with His right hand and say, 'I am the King: where are the kings of the earth?'"

ہم سے احمد بن صالح نے بیا ن کیا کہا ہم سے عبد اللہ بن وہب نے کہا مجھ کو یونس بن یزید نے خبر دی انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے سعید بن مسیب سے انہوں نے ابو ہر یرہؓ سے انہوں نے نبی ﷺسے آپ ﷺنے فر مایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو داہنے ہاتھ پر لیپٹ لے گا پھر فر مائے گا میں بادشاہ ہوں اب زمین کے (جھوٹے ) بادشاہ کہاں گئے (کوئی بولتا تک نہیں )اس حدیث کو شعیب اور محمّد بن ولید زبیدی اور اسحاق بن یحییٰ کلبی نے بھی زہری سے روایت کی انہوں نے ابو سلمہؓ سے ۔

Chapter No: 7

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَهْوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ‏}‏ ‏{‏سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ‏}‏ ‏{‏وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ‏}‏ وَمَنْ حَلَفَ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ‏.

The Statements of Allah, "And He is the All-Mighty, the All-Wise." (V.14:4) (V.16:60) (V.45:37)

باب: اللہ تعالیٰ کا (کئی جگہ قرآن میں) فرمانا وہ پروردگار عزّت والا حکمت والا ۔

"Glorified be your Lord, the Lord of honour and power! (He is free) from what they attribute unto Him." (V.37:180) "But honour, power, and glory belong to Allah, and to His Messenger (s.a.w) ..." (V.63:8). And whoever swore by the Honour and Power of Allah and by his Qualities. Narrated by Anas (r.a), "The Prophet (s.a.w) said, "... And Hell will say, 'Qat! Qat! (Sufficient! Sufficient!) By Your Izzat (Power and Honour)!'" Narrated by Abu Hurairah (r.a), the Prophet (s.a.w) said, "A man who will be the last person to enter Paradise will remain between Hell and Paradise. He will say, 'O Lord, turn my face away from the Fire! No, by Your Izzat, I will not ask You for anything else.'" Abu Saeed said, Allah's Messenger (s.a.w) said, "Allah will say (to that man), 'For you is that and ten times the similar of that.'" (The Prophet) Ayub (Job) said, "By Your Izzat! I cannot dispense with Your Blessings!"

اور سورۃ والصافات میں اے پیغمبر تیرا مالک جو عزت والا ہے ان باتوں سے پاک ہے جو یہ کافر بناتے ہیں اور (سورۃ منافقون میں) عزت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور جو شخص اللہ کی عزت اور دوسری صفات کی قسم کھائے تو وہ قسم منعقد ہو جائے گی اگر قسم کے خلاف کرے گا تو کفارہ دینا ہوگا اور انسؓ نے کہا (یہ حدیث کتاب التفسیر میں موصولاً گزر چکی ہے) نبیﷺ نے فرمایا (جب اللہ تعالیٰ دوزخ میں اپنا پاؤں رکھ لے گا ) تو وہ کہے گی بس بس قسم تیرے عزت کی (میں بھر گئی) اور ابو ہریرہؓ نے کہا نبیﷺ نے فرمایا ایک شخص (جہینہ) دوزخ اور بہشت کے بیچ میں رہ جائے گا یہ ان دوزخیوں میں سے ہوگا جو سب کے بعد بہشت میں جائے گا وہ کہے گا پروردگار ایک ذرا میرا منہ دوزخ کی طرف سے پھرا دے تیری عزت کی قسم بس اور کوئی سوال تجھ سے نہیں کروںگا اس حدیث میں ابو سعید خدریؓ نے یوں کہا نبیﷺ نے کہا اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ بھی لے اور اس سے دس گنی (نعمتیں) اور لے اور ایوبؓ پیغمبر علیہ السلام نے عرض کیا پروردگار قسم تیری عزت کی کہاں میں تیری عنایت اور سرفرازی سے کبھی بے پرواہ ہو سکتا ہوں۔

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ ‏"‏ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، الَّذِي لاَ يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يَمُوتُونَ ‏"‏‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet used to say, "I seek refuge (with YOU) by Your 'Izzat, None has the right to be worshipped but You Who does not die while the Jinns and the human beings die."

ہم سے معمر نے بیا ن کیا کہا ہم سے عبد الوارث بن سعید نے کہا ہم سے حسین معلم نے کہا مجھ سے عبد اللہ بن بریدہ نے انہوں نے یحییٰ بن یعمر سے انہوں نےابن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبی ﷺیوں کہتے اس پروردگار کی عزت کی پناہ مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی سچا خدا نہیں ہے پروردگار تجھ ہی کو موت نہیں ہے باقی جنات اور آدمی سب کو موت ہے ۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا حَرَمِيٌّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ يُلْقَى فِي النَّارِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ‏.‏ وَعَنْ مُعْتَمِرٍ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَزَالُ يُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ‏.‏ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ قَدَمَهُ فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ تَقُولُ قَدْ قَدْ بِعِزَّتِكَ وَكَرَمِكَ‏.‏ وَلاَ تَزَالُ الْجَنَّةُ تَفْضُلُ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا فَيُسْكِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ ‏"‏‏

Narrated By Anas : The Prophet said, "(The people will be thrown into Hell (Fire) and it will keep on saying, 'Is there any more?' till the Lord of the worlds puts His Foot over it, whereupon its different sides will come close to each other, and it will say, 'Qad! Qad! (enough! enough!) By Your 'Izzat (Honour and Power) and YOUR KARAM (Generosity)!' Paradise will remain spacious enough to accommodate more people until Allah will create some more people and let them dwell in the superfluous space of Paradise."

ہم سے عبد اللہ بن ابی الاسود نے بیا ن کیا کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے انہوں نے نبیﷺسے آپ ﷺنے فر مایا دوزخ میں لوگ برا بر پڑتے رہیں گے دوسری سند امام بخاریؒ نےکہا مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے تیسری سند اور خلیفہ بن خیاط نے اس حدیث کو معتمر بن سلیمان سے بھی روایت کیا کہا میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انسؓ سے کہ نبیﷺنے فر مایا برابر گنہہگار لوگ دوزخ میں پڑتے رہیں گے اور وہ یہی کہتی جائے گی اور کچھ ہیں اور کچھ ہیں آخر پروردگار اپنا (مبارک) قدم اس پر رکھ دیگا اس وقت وہ سمٹ کر (چھوٹی ہو جائیگی )عرض کرے گی بس بس تیری عزت اور بزرگی کی قسم (میں بھر گئی اب گنجائش نہیں رہی )اور بہشت کسی طرح نہیں بھرے گی اس میں بہت خالی جگہ رہے گی آخر اللہ تعالےٰ اور ایک مخلوق پیدا کرے گا اور بہشت کی خالی جگہ ان کو رہنے کے لئے دے گا ۔

Chapter No: 8

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ بِالْحَقِّ‏}‏

The Statement of Allah, "And it is He Who has created the heavens and the earth in truth ..." (V.6:73)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ انعام میں) فرمانا وہی خُدا ہے جس نے آسمانوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْعُو مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، قَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لاَ إِلَهَ لِي غَيْرُكَ ‏"‏‏.‏ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا وَقَالَ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ‏.‏

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet used to invoke Allah at night, saying, "O Allah: All the Praises are for You: You are the Lord of the Heavens and the Earth. All the Praises are for You; You are the Maintainer of the Heaven and the Earth and whatever is in them. All the Praises are for You; You are the Light of the Heavens and the Earth. Your Word is the Truth, and Your Promise is the Truth, and the Meeting with You is the Truth, and Paradise is the Truth, and the (Hell) Fire is the Truth, and the Hour is the Truth. O Allah! I surrender myself to You, and I believe in You and I depend upon You, and I repent to You and with You (Your evidences) I stand against my opponents, and to you I leave the judgment (for those who refuse my message). O Allah! Forgive me my sins that I did in the past or will do in the future, and also the sins I did in secret or in public. You are my only God (Whom I worship) and there is no other God for me (i.e. I worship none but You)." Narrated By Sufyan : (Regarding the above narration) that the Prophet added, "You are the Truth, and Your Word is the Truth."

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے انہوں نے ابن جریج سے نہوں نے سلیمان احول سے انہوں نے طاؤس سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺرات کو یوں دعا کرتے (یعنی تہجد کے وقت ) یا اللہ تجھ ہی کو تعریف سزا وار ہے تو آسمان اور زمین کا مالک ہے تجھ ہی کو تعریف سزا وار ہے تو آسمان اور زمین کا قائم رکھنے والا ہے اور ان کا بھی جوان دونوں میں رہتے ہیں (آدمی جن فرشتے )تجھی کو تعریف سزا وار ہے تو زمین اور آسمان کا نور ہے تیرا کلام سچا تیرا وعدہ سچا تجھ سے ملنا سچ ہے دوزخ سچ ہے قیامت سچ ہے یا اللہ میں تیرا تابعدرا بن گیا تجھ پر ایمان لایا تجھ پر بھروسہ کیا تیرے ہی طرف رجوع ہوا اور تیری ہی مدد سے میں نے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور تجھ ہی سے ہر جھگڑے میں انصاف چاہتا ہوں میرے اگلے اور پچھلے اور چھپے اور کھلے سب گناہ بخش دے تو ہی میرا معبود ہے تیرے سوا کوئی میرا معبود نہیں ۔ ہم سے ثابت بن محمد نے بیا ن کیا کہا ہم سے سفیان ثوری نے پھر یہی حدیث نقل کی اس میں یوں ہے تو حق ہے تیرا کلام حق ہے۔

Chapter No: 9

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا‏}‏

The Statement of Allah, "And Allah is Ever All-Hearer, All-Seer." (V.4:134)

باب: اللہ تعالیٰ کا (کئی جگہ قرآن میں) فرمانا اللہ تعالیٰ سنتا دیکھتا ہے۔

وَقَالَ الأَعْمَشُ عَنْ تَمِيمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الأَصْوَاتَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏{‏قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا‏}‏

Aisha (r.a) said, "Praise is to Allah,Whose hearing power can detect all kinds of sounds." Then Allah revealed to the Prophet (s.a.w), "Indeed! Allah has heard the statement of her (Khaula bint Thalabah) that disputes with you (O Muhammad (s.a.w)) concerning her husband (Aus bin As-Samit) ..." (V.58:1)

اور اعمش نے تمیم بن سلمہ سے روایت کی اس نے عروہ بن زبیرؓ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا ساری تعریف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے جو ساری آوازوں کو سنتا ہے (پھر خولہ بنت چعلبہ کا قصہ بیان کیا اور کہا) پھر اللہ نے یہ آیت اتاری (سورہ مجادلہ کی)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَكُنَّا إِذَا عَلَوْنَا كَبَّرْنَا فَقَالَ ‏"‏ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا، تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا قَرِيبًا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَتَى عَلَىَّ وَأَنَا أَقُولُ فِي نَفْسِي لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ‏.‏ فَقَالَ لِي ‏"‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قُلْ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ‏.‏ فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ "أَلاَ أَدُلُّكَ "؟بِهِ‏

Narrated By Abu Musa : We were with the Prophet on a journey, and whenever we ascended a high place, we used to say, "Allahu Akbar." The Prophet said, "Don't trouble yourselves too much! You are not calling a deaf or an absent person, but you are calling One Who Hears, Sees, and is very near." Then he came to me while I was saying in my heart, "La hawla wala quwwatta illa billah (There is neither might nor power but with Allah)." He said, to me, "O 'Abdullah bin Qais! Say, 'La hawla wala quwwata illa billah (There is neither might nor power but with Allah), for it is one of the treasures of Paradise." Or said, "Shall I tell you of it?"

مجھ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے ابو عثمان نہدی سے انہوں نے ابو موسیٰ اشعری سے انہوں نے کہا ہم ایک سفر میں نبیﷺ کے ساتھ تھے ہم جب کسی چڑھاوٗ پر چڑھتے تو (زور سے چلا کر ) اللہ اکبر کہتے نبیﷺنے فرمایا لوگو اتنی تکلیف کیوں اٹھاتے ہو (آہستہ اللہ کی یاد کرو )کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو تھوڑے پکارتے ہو تم اس (پروردگار کو ) پکارتے ہو جو (رتی رتی )سنتا ہے اور دیکھتا ہے اور (علم اور سمع اور بصر کے لحاظ سے ) نزدیک ہے پھر نبیﷺمیرے پاس تشریف لائے میں دل ہی دل میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھ رہا تھا آپﷺنے فر مایا عبد اللہ بن قیس لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھتا رہ یہ کلمہ بہشت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے راوی نے کہا یا آپﷺنے یوں فر مایا عبد اللہ بن قیس میں تجھ کو بہشت کا ایک خزانہ بتلاوٗں ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاَتِي‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مِنْ عِنْدِكَ مَغْفِرَةً، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : Abu Bakr As-Siddiq said to the Prophet "O Allah's Apostle! Teach me an invocation with which I may invoke Allah in my prayers." The Prophet said, "Say: O Allah! I have wronged my soul very much (oppressed myself), and none forgives the sins but You; so please bestow Your Forgiveness upon me. No doubt, You are the Oft-Forgiving, Most Merciful."

ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیا ن کیا کہا مجھ سے عبد اللہ بن وہب نے کہا مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے انہوں نے ابو الخیر ( مرثد بن عبد اللہ )سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے سنا کہ ابو بکر صدیقؓ نے نبیﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھ کو کوئی ایسی دعا بتلائیے جس کو میں نماز میں پڑھا کروں آپ ﷺنے فر مایا یہ دعا پڑھا کرو اللہم انی ظلمت نفسی ظلما کثیراً ولا یغفر الذنوب الا انت فاعفرلی من عندک مغفرۃ انک انت الغفورا الرحیم ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاَتِي‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مِنْ عِنْدِكَ مَغْفِرَةً، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Amr : Abu Bakr As-Siddiq said to the Prophet "O Allah's Apostle! Teach me an invocation with which I may invoke Allah in my prayers." The Prophet said, "Say: O Allah! I have wronged my soul very much (oppressed myself), and none forgives the sins but You; so please bestow Your Forgiveness upon me. No doubt, You are the Oft-Forgiving, Most Merciful."

ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیا ن کیا کہا مجھ سے عبد اللہ بن وہب نے کہا مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے انہوں نے ابو الخیر ( مرثد بن عبد اللہ )سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے سنا کہ ابو بکر صدیقؓ نے نبیﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھ کو کوئی ایسی دعا بتلائیے جس کو میں نماز میں پڑھا کروں آپ ﷺنے فر مایا یہ دعا پڑھا کرو اللہم انی ظلمت نفسی ظلما کثیراً ولا یغفر الذنوب الا انت فاعفرلی من عندک مغفرۃ انک انت الغفورا الرحیم ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ حَدَّثَتْهُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ نَادَانِي قَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : The Prophet said, "Gabriel called me and said, 'Allah has heard the statement of your people and what they replied to you.'"

ہم سے عبد اللہ بن یوسف تنیسی نے بیا ن کیا کہا ہم کو عبد اللہ بن وہب نے خبر دی کہا مجھ کو یونس بن یزید ایلی نے انہوں نے ابن شہاب سے کہا مجھ سے عروہ نے بیا ن کیا ان سے حضرت عائشہؓ نے کہ نبیﷺنے فر مایا جبریل نےمجھ کو پکارا کہنے لگے اللہ نے تمہاری قوم قریش کی باتیں سن لیں اور جو انہوں نے تم کو جواب دیا وہ بھی سن لیا ۔

Chapter No: 10

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏قُلْ هُوَ الْقَادِرُ‏}‏

The Statement of Allah, "Say, He has power to (send torment on you from above) ..." (V.6:65)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ انعام میں) فرماناکہہ دے وہ پروردگار قُدرت والا ہے۔

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيُّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ الاِسْتِخَارَةَ فِي الأُمُورِ كُلِّهَا، كَمَا يُعَلِّمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُولُ ‏"‏ إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الأَمْرَ ـ ثُمَّ تُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ ـ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ قَالَ أَوْ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ـ أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ ـ فَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ ‏"‏‏

Narrated By Jabir bin Abdullah : As-Salami: Allah's Apostle used to teach his companions to perform the prayer of Istikhara for each and every matter just as he used to teach them the Suras from the Qur'an He used to say, "If anyone of you intends to do some thing, he should offer a two rakat prayer other than the compulsory prayers, and after finishing it, he should say: O Allah! I consult You, for You have all knowledge, and appeal to You to support me with Your Power and ask for Your Bounty, for You are able to do things while I am not, and You know while I do not; and You are the Knower of the Unseen. O Allah If You know It this matter (name your matter) is good for me both at present and in the future, (or in my religion), in my this life and in the Hereafter, then fulfil it for me and make it easy for me, and then bestow Your Blessings on me in that matter. O Allah! If You know that this matter is not good for me in my religion, in my this life and in my coming Hereafter (or at present or in the future), then divert me from it and choose for me what is good wherever it may be, and make me be pleased with it."

ہم سے ابراہیم بن مندر نے بیا ن کیا کہا ہم سے معن بن عیسٰی نے کہا مجھ سے عبد الرحمٰن بن ابی المو الی نے کہا میں نے محمد بن منکدر سے سنا وہ عبد اللہ بن حسن (بن حسن بن علی بن ابی طالب علیہم السلام ) سے حدیث کرتے تھے کہتے تھے میں نے جابر بن عبد اللہ انصاریؓ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہ ﷺ اپنےا صحا بؓ کو ہر کام میں (جو مباح ہے استخارہ کرنا سکھاتے تھے اور اس طرح سکھاتے تھے احتیاط کے ساتھ )جیسے قرآن کی سورۃسکھاتے تھے آپ ﷺنے فر ماتے تھے جب تم میں سے کوئی کسی کام کا قصد کرے تو پہلے دو رکعتیں نفل پڑھے پھر سلام کے بعد تشہد کے بعد یا سجدے میں یہ دعا پرھے یا اللہ میں تیرے علم کی طفیل سے اس کام میں خیر یت چاھتا ہوں (یعنی دین دنیا کی بھلائی ) اور تجھ سے قدرت چاھتا ہوں تیری قدرت کی طفیل سے اور تیرا فضل چاھتا ہوں تو ہی قدرت رکھتا ہے مجھ کو یہ قدرت نہیں ہے اور تو ہی علم رکھتا ہے (کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے ) مجھ کو یہ علم نہیں ہے تو ہی غیب کی باتوں کو خوب جانتا ہے یا اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام یہاں پر اس کام کا بیان کرے جس کے لئے استخارہ کرتا ہے (زبان سے اس کا نام لے یا دل میں تصور کرے ) میرے لئے فی الحال اور دنیا اور انجام کیلئے بہتر ہے تو اس کو میری قسمت میں (مقدّر میں )کردے اور اس کو آسان کر پھر اس میں بر کت دے یا اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین اور دنیا اور انجام کے لئے بُرا ہے یا یوں فر مایا فی الحال اور آئندہ کے لئے بُرا ہے تو اس کو مجھ پر سے ہٹا دے (دور کر دے کہ میں اس کو نہ کر سکوں )اور پھر جو امر بہتر ہو جہاں ہو میرے لئے مقدر کر دے پھر اس پر مجھ کو راضی اور خوش رکھ ۔

123Last ›