Sayings of the Messenger

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

وَالْخَبْءُ مَا خَبَأْتَ‏.‏ ‏{‏لاَ قِبَلَ‏}‏ لاَ طَاقَةَ‏.‏ الصَّرْحُ كُلُّ مِلاَطٍ اتُّخِذَ مِنَ الْقَوَارِيرِ، وَالصَّرْحُ الْقَصْرُ، وَجَمَاعَتُهُ صُرُوحٌ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏وَلَهَا عَرْشٌ‏}‏ سَرِيرٌ ‏{‏كَرِيمٌ‏}‏ حُسْنُ الصَّنْعَةِ، وَغَلاَءُ الثَّمَنِ ‏{‏مُسْلِمِينَ‏}‏ طَائِعِينَ‏.‏ ‏{‏رَدِفَ‏}‏ اقْتَرَبَ ‏{‏جَامِدَةً‏}‏ قَائِمَةً ‏{‏أَوْزِعْنِي‏}‏ اجْعَلْنِي‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏نَكِّرُوا‏}‏ غَيِّرُوا ‏{‏وَأُوتِينَا الْعِلْمَ‏}‏ يَقُولُهُ سُلَيْمَانُ‏.‏ الصَّرْحُ بِرْكَةُ مَاءٍ ضَرَبَ عَلَيْهَا سُلَيْمَانُ قَوَارِيرَ، أَلْبَسَهَا إِيَّاهُ‏.‏

الخب پوشیدہ (چھپی) چیز۔ لَا قِبَلَ طاقت نہیں۔ الصّرح کانچ کا گارا اور صرح محل کو بھی کہتے ہیں۔ اس کی جمع صروح آئی ہے۔ ابن عباسؓ نے کہا وَ لَھَا عَرشٌ عَظِیمٌ کا یہ معنی ہے کہ اس کا تخت نہایت عمدہ ہے۔ اچھی کاریگری کا پیش قیمت ہے۔ مُسلمین تابعدار ہو کو۔ رَدِفَ نزدیک آ پہنچا۔ جَامِدۃً اپنی جگہ پر قائم۔ اَوزِعنِی مجھ کو کر دے۔ اور مجاہد نے کہا نَکِرُّوا کا معنی یہ ہے اس کا روپ بدل ڈالو۔ وَ اُوتِینَا العِلمَ یہ سلیمانؑ کا قول ہے (بعضوں نے کہا بلقیس کا)صرح پانی کا ایک حوض تھا۔ سلیمانؑ نے اس کو شیشوں سے ڈھانپ دیا تھا (دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا جیسے پانی بھرا ہوا ہے)۔