Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ‏{‏لاَ تُقَدِّمُوا‏}‏ لاَ تَفْتَاتُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِهِ‏.‏ ‏{‏امْتَحَنَ‏}‏ أَخْلَصَ‏.‏ ‏{‏تَنَابَزُوا‏}‏ يُدْعَى بِالْكُفْرِ بَعْدَ الإِسْلاَمِ‏.‏ ‏{‏يَلِتْكُمْ‏}‏ يَنْقُصْكُمْ، أَلَتْنَا نَقَصْنَا‏.‏

مجاہد نے کہا لَا تُقَدِّمُوا بَینَ یَدِیَ اللہِ وَ رسولہِ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بڑھ کر باتیں مت کرو (ٹھہرے رہو) یہاں تک کہ اللہ کو جو حکم دینا ہے وہ اپنے پیغمبرﷺ کی زبان پر دے۔اِمتَحَنَ کا معنی صاف کیا، پر لکھ لیا۔ لَا تَنَا بَزوا بِالاَلقَاب کا معنی یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد اس کو کافر (مثلا یہودی، نصرانی) کہہ کر نہ پکارو۔ لَا یَلِتکُم تمھارا ثواب کچھ کم نہ کرے گا۔ اسی سے ہے وَ مَ اَلَتنَا (جو سورہ طور میں ہے) یعنی ہم نے ان کے عمل کا ثواب کچھ گھٹایا نہیں۔

 

Chapter No: 1

باب ‏{‏لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ‏}‏ الآيَةَ

"O you who believe! Raise not your voices above the voice of the Prophet (s.a.w) ..." (V.49:2)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول لَا تَرفَعُوا اَصوَاتَکُم فَوقَ صَوتِ النَّبِیِّ کی تفسیر

‏{‏تَشْعُرُونَ‏}‏ تَعْلَمُونَ وَمِنْهُ الشَّاعِرُ‏.

تشعرون کا معنی جانتے ہو اسی سے شاعر نکلا ہے یعنی جانے والا۔

حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا ـ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ رَفَعَا أَصْوَاتَهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ عَلَيْهِ رَكْبُ بَنِي تَمِيمٍ، فَأَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، وَأَشَارَ الآخَرُ بِرَجُلٍ آخَرَ ـ قَالَ نَافِعٌ لاَ أَحْفَظُ اسْمَهُ ـ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَرَدْتَ إِلاَّ خِلاَفِي‏.‏ قَالَ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ‏.‏ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فِي ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ‏}‏ الآيَةَ‏.‏ قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَمَا كَانَ عُمَرُ يُسْمِعُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ، يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ‏.‏

Narrated By Ibn Abi Mulaika : The two righteous persons were about to be ruined. They were Abu Bakr and 'Umar who raised their voices in the presence of the Prophet when a mission from Bani Tamim came to him. One of the two recommended Al-Aqra' bin Habeas, the brother of Bani Mujashi (to be their governor) while the other recommended somebody else. (Nafi', the sub-narrator said, I do not remember his name). Abu Bakr said to Umar, "You wanted nothing but to oppose me!" 'Umar said, "I did not intend to oppose you." Their voices grew loud in that argument, so Allah revealed: 'O you who believe! Raise not your voices above the voice of the Prophet.' (49.2) Ibn Az-Zubair said, "Since the revelation of this Verse, 'Umar used to speak in such a low tone that the Prophet had to ask him to repeat his statements." But Ibn Az-Zubair did not mention the same about his (maternal) grandfather (i.e. Abu Bakr).

ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے کہا دو بہت اچھے نیک شخص تباہ ہونے والے تھے یعنی ابو بکرؓ اور عمرؓ۔ ہوا یہ کہ جب بنی تمیم کے سوار (؁ ۹ ہجری میں) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے (انہوں نے یہ درخواست کی کہ کوئی ان کا سردار مقرر فرما دیں) رو ان دو صاحبوں میں سے ایک (عمرؓ) نے کہا اقرع بن حابس کو سردار کیجیئے جو بنی مجاشع کے خاندان میں سے تھا( یہ بنی تمیم کی ایک شاخ ہے) اور دوسرے (ابو بکرؓ) نے کسی اور کے لئے کہا۔ نافع بن عمرؓ نے کہا مجھے اس کا نام نہیں یاد رہا۔ خیر ابو بکرؓ عمرؓ سے کہنے لگے تم یہ چاہتے ہو کہ مجھ سے اختلاف کرو (تم کو مصلحت اور انصاف سے کام نہیں) عمرؓ کہنے لگے نہیں میں اختلاف نہیں کرنا چاہتا (بلکہ مصلحت کی بات کہتا ہوں) دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں تو اللہ نے یہ آیت اتاری لَا تَرفَعُوا اَصوَاتَکُم فَوقَ صَوتِ النَّبِیِّ الخ۔ تو عبداللہ بن زبیرؓ کہتے تھے جب سے یہ آیت اتری تو عمرؓ رسول اللہ ﷺ سے اتنی آہستہ سے بات کرتے کہ رسول اللہﷺ کو پوچھنے کی ضرورت ہوتی (کیا کہا) اور عبداللہ بن زبیر نے یہ طریقہ (آہستہ بات کرنے کا) اپنے دادا ابو بکر سے نہیں نقل کیا۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ أَنْبَأَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم افْتَقَدَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَعْلَمُ لَكَ عِلْمَهُ‏.‏ فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ جَالِسًا فِي بَيْتِهِ مُنَكِّسًا رَأْسَهُ فَقَالَ لَهُ مَا شَأْنُكَ‏.‏ فَقَالَ شَرٌّ‏.‏ كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ، وَهْوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ‏.‏ فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ كَذَا وَكَذَا ـ فَقَالَ مُوسَى ـ فَرَجَعَ إِلَيْهِ الْمَرَّةَ الآخِرَةَ بِبِشَارَةٍ عَظِيمَةٍ فَقَالَ ‏"‏ اذْهَبْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَلَكِنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet missed Thabit bin Qais for a period (So he inquired about him). A man said. "O Allah's Apostle! I will bring you his news." So he went to Thabit and found him sitting in his house and bowing his head. The man said to Thabit, " 'What is the matter with you?" Thabit replied that it was an evil affair, for he used to raise his voice above the voice of the Prophet and so all his good deeds had been annulled, and he considered himself as one of the people of the Fire. Then the man returned to the Prophet and told him that Thabit had said, so-and-so. (Musa bin Anas) said: The man returned to Thabit with great glad tidings. The Prophet said to the man. "Go back to him and say to him: "You are not from the people of the Hell Fire, but from the people of Paradise."

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے، کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، کہا مجھ کو موسٰی بن انس نے، انہوں نے انسؓ سے کہ نبیﷺ نے (کئی روز تک اپنی صحبت میں) ثابت بن قیس بن شمال کو نہیں دیکھا۔ ایک شخص (سعد بن معاذؓ) کہنے لگے یا رسول اللہﷺ! میں ان کا حال دریافت کرکے آپؐ سے عرض کروں گا۔پھر وہ (یعنی سعد بن معاذؓ) ثابتؓ کے پاس گئے دیکھا تو ثابتؓ سر جھکائے ہوئے (شرمندہ رنجیدہ) اپنے گھر میں بیٹھے ہیں۔ سعدؓ نے پوچھا کہو کیا حال ہے۔ انہوں نے کہا حال کیا ہے۔ بہت برا حال ہے۔ میں تو ہمیشہ اپنی آواز رسول اللہﷺ کی آواز پر بلند کیا کرتا تھا (میری عادت ہی یہ تھی آواز ہی میری بلند ہے) تو میری نیکیاں سب ہی مٹ گئیں اور میں دوزخی ہوں۔ یہ سن کر سعد بن معاذ نبیﷺ کے پاس گئے اور آپؐ سے کل کیفیت بیان کی۔ موسٰی بن انس نے کہا پھر ایسا ہو اکہ سعد بن معاذؓ بہت بڑی خوشخبری لے کر ثابتؓ کہ پاس گئے (رسول اللہ ﷺ نے ان کو بھیجا) فرمایا ثابتؓ کے پاس جاؤ اور کہو کہ تم دوزخی نہیں ہو بلکہ بہشت والوں میں ہے۔

Chapter No: 2

باب ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ‏}‏

"Verily! Those who call you from behind the dwellings, most of them have no sense." (V.49:4)

ب : اللہ تعالیٰ کے اس قول اِنَّ الَّذِینَ یُنَادُونَکَ مِن وَرَاءِ الحُجُرَاتِ اَکثَرُھُم لَا یَعقِلُون کی تفسیر

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ، قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمِّرِ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدٍ‏.‏ وَقَالَ عُمَرُ بَلْ أَمِّرِ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ مَا أَرَدْتَ إِلَى ـ أَوْ إِلاَّ ـ خِلاَفِي‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ مَا أَرَدْتُ خِلاَفَكَ‏.‏ فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَىِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ‏}‏ حَتَّى انْقَضَتِ الآيَةُ‏.‏

Narrated By Abdullah bin Az-Zubair : A group of Bani Tamim came to the Prophet (and requested him to appoint a governor for them). Abu Bakr said, "Appoint Al-Qaqa bin Mabad." Umar said, "Appoint Al-Aqra' bin Habeas." On that Abu Bakr said (to 'Umar). "You did not want but to oppose me!" 'Umar replied "I did not intend to oppose you!" So both of them argued till their voices grew loud. So the following Verse was revealed: 'O you who believe! Be not forward...' (49.1)

ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد مصیصی نے، انہوں نے ابن جریج سے، کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبر دی، ان کو عبداللہ بن زبیرؓ نے خبر دی کہ بنی تمیم کے کچھ سوار نبیﷺ کے پاس آئے۔ ابو بکرؓ نے عرض کیا بنی تمیم کا سردار قعقاع بن معبد کو بنا دیجیئے۔ عمرؓ نے کہا نہیں٘ اقرع بن حابس کو سردار بنا دیں۔ ابو بکرؓ کہنے لگے اجی تم تو بس مجھ سے اختلاف کرنا چاہتے ہو۔ عمرؓ نے کہا نہیں میں اختلاف نہیں کرنا چاہتا۔ غرض دونوں صاحبوں میں تکرار ہوئی اور دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی یٰاَیُّھَا لَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَینَ یَدِیَ اللہِ وَ رسولہِ الآیۃ

Chapter No: 3

باب ‏{‏وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ‏}‏

The Statement of Allah, "And if they had patience till you could come out to them, it would have been better for them ..." (V.49:5)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ لَوا اَنَّھُم صَبَرُوا حَتّٰی تَخرُجَ اِلَیھِم لَکَانَ خَیرًا لَّھُم کی تفسیر