Sayings of the Messenger

 

123Last ›

Chapter No: 1

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ‏}‏

The Statement of Allah, "(O you who believe!) Obey Allah and obey the Messenger (s.a.w) and those of you (Muslims) who are in authority ..." (V.4:59)

باب: اللہ تعالی نے فرمایا (سورۃ نساءمیں) اللہ اور رسول کااور اپنےحاکموں (سرداروں) کا کہا مانو۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي ‏"‏‏.

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Whoever obeys me, obeys Allah, and whoever disobeys me, disobeys Allah, and whoever obeys the ruler I appoint, obeys me, and whoever disobeys him, disobeys me."

ہم سے عبدان نے بیان کیا ۔کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی انہوں نے یونس بن یزید سے ،انہوں نے زہری سے کہا مجھ کو ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے خبر دی انہوں نے ابو ہریرہؓ سے سنا وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نا فرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ( کیونکہ میں اللہ کا پیغام پہنچانے والا ہوں) اس طرح جس نے میرے مقرر کئے ہوئے حاکم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی گویا میری نافرمانی کی۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَلاَ كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالإِمَامُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهْوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهْوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى أَهْلِ بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهْوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلاَ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ‏"

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Allah's Apostle said, "Surely! Everyone of you is a guardian and is responsible for his charges: The Imam (ruler) of the people is a guardian and is responsible for his subjects; a man is the guardian of his family (household) and is responsible for his subjects; a woman is the guardian of her husband's home and of his children and is responsible for them; and the slave of a man is a guardian of his master's property and is responsible for it. Surely, everyone of you is a guardian and responsible for his charges."

ہم سے اسمٰعیل بن اویس نے بیان کیا ۔کہا مجھ کو امام مالک نے، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا سن لو تم میں سے ہر شخص حکومت رکھتا ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیّت کی باز پرس ہوگی بادشاہ تو بڑا حاکم ہے اس سے تو اس کی رعایا کی پوچھ ہو گی لیکن دوسرے لوگ بھی اپنے اپنے گھر والوں کے حاکم ہیں (گھر کے لوگ اس کی رعیّت ہیں ) ان کی باز پرس اس سے ہوگی اور عورت اپنے خاوند کے گھر والوں کی نگہبان ہے اس سے ان کی پوچھ ہوگی اسی طرح آدمی کاغلام اس کے چیز بس کا نگہبان ہے اس سے اس کی پوچھ ہو گی (کچھ چرائی یا تلف تو نہیں کی) غرض ہر شخص حکومت رکھتا ہے اور اس سے اپنی رعیّت کی پرسش ہونا ہے۔

Chapter No: 2

باب الأُمَرَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ

The (chief) rulers (of all Muslims must be) from the Quraish.

باب: امیر اور سرادار اور خلیفہ قریش قبیلے سے ہونا چاہئیں ۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ وَهْوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ فَغَضِبَ، فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالاً مِنْكُمْ يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلاَ تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُولَئِكَ جُهَّالُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَالأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ هَذَا الأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ، لاَ يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلاَّ كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ نُعَيْمٌ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ‏.‏

Narrated By Muhammad bin Jubair bin Mut'im : That while he was included in a delegation of Quraish staying with Muawiya, Muawiya heard that 'Abdullah bin 'Amr had said that there would be a king from Qahtan tribe, whereupon he became very angry. He stood up, and after glorifying and praising Allah as He deserved, said, "To proceed, I have come to know that some of you men are narrating things which are neither in Allah's Book, nor has been mentioned by Allah's Apostle. Such people are the ignorant among you. Beware of such vain desires that mislead those who have them. I have heard Allah's Apostle saying, 'This matter (of the caliphate) will remain with the Quraish, and none will rebel against them, but Allah will throw him down on his face as long as they stick to the rules and regulations of the religion (Islam).'"

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم سے شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے ،انہوں نے کہا محمّد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے تھے وہ قریش کے چند لوگوں کے ساتھ معاویہؓ کے پاس گئے تھے (ان کو مدینہ والوں نے بھیجا تھا معاویہؓ سے بیعت کرنے کے لئے جب امام حسن نے خلافت ان کے سپرد کر دی تھی) معاویہؓ کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ عنقریب ایک شخص قحطان کا بادشاہ ہو گا (یعنی قحطان قبیلے کا جیسے ابو ہریرؓ ہ کی روایت سے بھی اوپر گزر چکا) معاویہؓ یہ سن کر غصہ ہوئے اور خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے پہلے جیسے چاہئیے ویسی اللہ کی تعریف کی پھر کہنے لگے اما بعد مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میں سے چند لوگ ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کا ثبوت اللہ کی کتاب(قرآن )سے نہیں ہےاور نہ رسول اللہﷺ سے منقول ہیں ایسے لوگ بڑے جاہل ہیں تم لوگ ایسے خیالات سے بچے رہو جو گمراہ کرنے والے ہیں میں نے خود رسول اللہﷺ سے سنا ہے آپؐ فرماتے تھے یہ امر یعنی خلافت اور سر داری قریش میں رہے گی جب تک وہ دین اور شریعت کو قائم رکھیں گے اور جو کوئی ان میں سے( یعنی قریشی خلیفوں سے) دشمنی کرے گا اللہ اس کو اندھے منہ دوزخ میں گرائے گا شعیب کے ساتھ اس حدیث کو نعیم بن حماد نے بھی ابن مبارک سے انہوں نے معمر سے انہوں نے زہری سے انہوں نے محمد بن جبیر سے روایت کیا۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَزَالُ الأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَانِ ‏"

Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle said, "This matter (caliphate) will remain with the Quraish even if only two of them were still existing."

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا کہا ہم سے عاصم بن محمّد نے کہا میں نے والد( محمد بن زید بن عبداللہ بن عمرؓ) سے وہ کہتے تھے (دادا صاحب یعنی) عبد اللہ بن عمرؓ نے کہارسول اللہﷺ نے فرمایا یہ خلافت اور سرداری ہمیشہ قریش ہی میں رہے گی جب تک قریش کے دو آدمی بھی باقی رہیں گے۔

Chapter No: 3

باب أَجْرِ مَنْ قَضَى بِالْحِكْمَةِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ‏}‏

The reward of the person who judges according to Wisdom as the Statement of Allah, "... And whosoever does not judge by what Allah has revealed, (then) such (people) are the disobedient." (V.5:47)

باب: جو شخص اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ کرے اس کا ثواب ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے(سورۃ مائدہ میں) فرمایا جو لوگ اللہ کے اتارے موافق فیصلہ نہ کریں وہی گنہگارہیں (معلوم ہوا جواللہ کے اتارے موافق فیصلہ کریں ان کو ثواب ملے گا)

حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَآخَرُ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهْوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah : Allah's Apostle said, "Do not wish to be like anyone, except in two cases: (1) A man whom Allah has given wealth and he spends it righteously. (2) A man whom Allah has given wisdom (knowledge of the Qur'an and the Hadith) and he acts according to it and teaches it to others."

ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے انہوں نے اسمٰعیل بن ابی خالد سے انہوں نے قیس بن ابی حازم سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا کسی پر رشک نہیں ہونا چاہئیے مگر دو آدمیوں پر ایک تو اس شخص پر جس کو اللہ تعالٰی نے حلال مال دیا اور وہ اس کو نیک کاموں میں خرچ کر رہا ہے دوسرے اس شخص پر جس کو اللہ تعالٰی نے علم دیا (یعنی دین کا علم قرآن حدیث کا) وہ اس کے موافق فیصلہ کرتا ہے لوگوں کو تعلیم دیتا ہے۔

Chapter No: 4

باب السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ مَعْصِيَةً

To listen to and obey one's Imam (Muslim ruler) as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah).

باب : امام(اور بادشاہ اسلام) کی بات سننا اور ماننا واجب ہے بشرطیکہ خلاف شرع اور گناہ کی با ت کا حکم نہ دے ۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ ‏"

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle said, "You should listen to and obey, your ruler even if he was an Ethiopian (black) slave whose head looks like a raisin."

ہم سے مسدّد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے شعبہ سے انہوں نے ابو التیاح (یزید بن حمید ضبعی) سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا (سردار کی) بات سنو اور مانو گو تم پر ایک حبشی غلام سردار کیا جائے جس کا سر منّقے کی طرح چھوٹا ہو( یعنی بے وقوف ہو) ۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنِ الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْوِيهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَكَرِهَهُ فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ إِلاَّ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ‏"

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet said, "If somebody sees his Muslim ruler doing something he disapproves of, he should be patient, for whoever becomes separate from the Muslim group even for a span and then dies, he will die as those who died in the Pre-Islamic period of ignorance (as rebellious sinners).

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے جعد بن دینار سے ،انہوں نے ابو رجاءعمران عطاردی سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے وہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں آپؐ نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم سے کوئی بری بات دیکھے تو صبر کرے اس لئے کہ جو شخص جماعت سے بالشت بھر الگ ہو کر مرے اس کی موت جاہلیت کی سی موت ہوگی۔


حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ، فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah : The Prophet said, "A Muslim has to listen to and obey (the order of his ruler) whether he likes it or not, as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah), but if an act of disobedience (to Allah) is imposed one should not listen to it or obey it.

ہم سے مسدّد نے بیان کیا کہا ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے انہوں نے عبید اللہ عمری سے کہا مجھ سے نافع نے بیان کیا انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا مسلمان پر( اپنے امام اور بادشاہ اسلام ) کی اطاعت واجب ہے خوشی یا نا خوشی ہر حال میں جب تک گناہ کا حکم اس کو نہ دیا جائے پھر جب امام یا بادشاہ اسلام کی طرف سے اس کو گناہ (ناجائز کام )کا حکم دیا جائے تو نہ سنے نہ اطاعت کرے۔


حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ، فَغَضِبَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ تُطِيعُونِي قَالُوا بَلَى‏.‏ قَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَمَا جَمَعْتُمْ حَطَبًا وَأَوْقَدْتُمْ نَارًا، ثُمَّ دَخَلْتُمْ فِيهَا، فَجَمَعُوا حَطَبًا فَأَوْقَدُوا، فَلَمَّا هَمُّوا بِالدُّخُولِ فَقَامَ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّمَا تَبِعْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِرَارًا مِنَ النَّارِ، أَفَنَدْخُلُهَا، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ خَمَدَتِ النَّارُ، وَسَكَنَ غَضَبُهُ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا أَبَدًا، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ ‏"

Narrated By 'Ali : The Prophet sent an army unit (for some campaign) and appointed a man from the Ansar as its commander and ordered them (the soldiers) to obey him. (During the campaign) he became angry with them and said, "Didn't the Prophet order you to obey me?" They said, "Yes." He said, "I order you to collect wood and make a fire and then throw yourselves into it." So they collected wood and made a fire, but when they were about to throw themselves into, it they started looking at each other, and some of them said, "We followed the Prophet to escape from the fire. How should we enter it now?" So while they were in that state, the fire extinguished and their commander's anger abated. The event was mentioned to the Prophet and he said, "If they had entered it (the fire) they would never have come out of it, for obedience is required only in what is good."

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا ہم سے والد نے کہا، ہم سے اعمش نے کہا ہم سے سعد بن عبیدہ نے انہوں نے عبد الرحمٰن سلمی سے، انہوں نےحضرت علیؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے (۹؁ ہجری ) میں ایک لشکر بھیجا اس کا سردار ایک انصاری (عبد اللہ بن حذیفہ سہمی) کو مقرر کیا اور لوگوں کو یہ حکم دیا کہ ان کی اطاعت کریں (رستے میں ایسا اتفاق ہوا) عبد اللہ بن حذافہ ان لوگوں پر غصے ہوئے کہنے لگے کیا نبیﷺ نے تم کو یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میری اطاعت کرنا انہوں نے کہا بیشک یہ حکم تو دیا تھا ۔عبد اللہ نے کہا تومیں تم سے بضد ہو کر یہ کہتا ہوں کہ تم لکڑیاں جمع کرو انگار سلگاؤ اس میں گھس جاؤ انہوں نے لکڑیاں جمع کیں آگ سلگائی جب اس میں گھسنے کا قصد کیا تو ایک دوسرے کو تکنے لگے کہنے لگے ہم نے جو( اپنے باپ دادا کا دین چھوڑا) نبیﷺ کی پیروی کی تو محض (دوزخ کی )آگ سے بچنے کے لیے اب ہم پھر آگ میں داخل ہو جائیں (تو اسلام لانے سے اتنی تکلیف اٹھانے سے نتیجہ ہی کیا ہوا) اتنے میں آگ( خودبخود) بجھ گئی اور عبد اللہ کا غصہ بھی جاتا رہا پھر یہ قصہ نبیﷺ سے بیان کیا گیا آپؐ نے فرمایا اگر لشکر والے اس آگ میں گھس جاتے تو کبھی اس میں سے نہ نکلتے (حاکم کی) اطاعت اسی کام میں کرنا چاہئیے جو جائز ہو۔

Chapter No: 5

باب مَنْ لَمْ يَسْأَلِ الإِمَارَةَ أَعَانَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا

If somebody does not seek authority of ruling, then Allah will surely help him (if he is given such authority)

باب : جس کو بن مانگے سرداری ملے تو اللہ اس کی مدد کرے گا

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَكَفِّرْ يَمِينَكَ، وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdur-Rahman bin Samura : The Prophet said, "O 'Abdur-Rahman! Do not seek to be a ruler, for if you are given authority on your demand then you will be held responsible for it, but if you are given it without asking (for it), then you will be helped (by Allah) in it. If you ever take an oath to do something and later on you find that something else is better, then you should expiate your oath and do what is better."

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے جریر بن حازم نے انہوں نے امام حسن بصریؒ سے انہوں نے عبد الرحمٰن بن سمرہؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا عبد الرحمٰن حکومت اور سرداری کے درخواست نہ کر کیونکہ اگر مانگنے پر تجھ کو حکومت اور سرداری ملے گی تو اللہ اپنی مدد تجھ سے اٹھا لے گا (تو جانے تیرا کام جانے ) اور جو بِن مانگے (زبردستی) تو سردار بنایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ تیری مدد کرے گا اور جب تو کسی بات کی قسم کھا لے پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور جو کام بہتر معلوم ہو وہ کر۔

Chapter No: 6

باب مَنْ سَأَلَ الإِمَارَةَ وُكِلَ إِلَيْهَا

He who seeks to be a ruler will be held responsible for that

باب : جو شخص مانگ کر حکومت اور سرداری لے ۔ اس کو چھوڑ دیگا (وہ جانے اس کاکام جانے)

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ، لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ‏"

Narrated By 'Abdur-Rahman bin Samura : Allah's Apostle said, "O 'Abdur-Rahman bin Samura! Do not seek to be a ruler, for if you are given authority on your demand, you will be held responsible for it, but if you are given it without asking for it, then you will be helped (by Allah) in it. If you ever take an oath to do something and later on you find that something else is better, then do what is better and make expiation for your oath."

ہم سے ابو معمر نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الوارث نے کہا کہ ہم سے یونس بن یزید نے انہوں نے امام حسن بصری سے مجھ سے عبد الرحمٰن بن سمرہؓ نے بیان کیا۔ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا ۔عبد الرحمٰن حکومت اور سرداری کی درخواست نہ کیجیو اگر درخواست پر تجھے ملے گی تو چھوڑ دیا جائے گا( تو جانے تیرا کام) اور اگر بن درخواست ملے گی تو اللہ تعالیٰ تیری مدد کرے گا اور جب تو کسی بات کی قسم کھالے پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھے تو جو کام بہتر ہے وہ کر اور قسم کا کفارہ دے دے۔

Chapter No: 7

باب مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الإِمَارَةِ

What is disliked regarding being keen to have authority of ruling

باب: حکومت اور سرداری کی حرص کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الإِمَارَةِ، وَسَتَكُونُ نَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَنِعْمَ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ ‏"‏‏. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَوْلَهُ‏.

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "You people will be keen to have the authority of ruling which will be a thing of regret for you on the Day of Resurrection. What an excellent wet nurse it is, yet what a bad weaning one it is!"

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے، انہوں نے سعید مقبری سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے نبیﷺ سے آپؐ نے فرمایا تم لوگ قریب میں حکومت اور سرداری کی حرص کرو گے اور قیامت کے دن تم کو اس کی وجہ سے ندامت اور شرمندگی ہو گی حکومت اور سرداری ایک انّا کی طرح ہے دودھ پلاتے وقت تو مزہ ہے اور دودھ چھٹتے وقت تکلیف اور محمد بن بشار نے کہا ہم سے عبد اللہ بن حُمران نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الحمید بن جعفر نے ،ا نہوں نے سعید مقبری سے انہوں نے عمر بن حکم سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، ان کا قول نقل کیا (یہی جو اوپر گزرا)۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَا وَرَجُلاَنِ مِنْ قَوْمِي فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ أَمِّرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ مِثْلَهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّا لاَ نُوَلِّي هَذَا مَنْ سَأَلَهُ، وَلاَ مَنْ حَرَصَ عَلَيْهِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Musa : Two men from my tribe and I entered upon the Prophet. One of the two men said to the Prophet, "O Allah's Apostle! Appoint me as a governor," and so did the second. The Prophet said, "We do not assign the authority of ruling to those who ask for it, nor to those who are keen to have it."

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ،کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے برید سے ۔انہوں نے (اپنے دادا) ابو بردہؓ سے۔ انہوں نے (اپنے والد) ابو موسٰی اشعریؓ سے ،انہوں نے کہا میں اپنی قوم کے دو شخصوں کے ساتھ (طبرانی کی روایت میں ہےکہ ایک ان میں ابو موسیٰ کے چچا زاد بھائی تھے)نبیﷺ کے پاس گیا ان میں سے ایک کہنے لگا یا رسول اللہ ہم کو کہیں کی حکومت دیجئے دوسرے نے یہ بھی عرض کیا آپ نے فرمایا ہم اس شخص کو حکومت نہیں دیتے جو اس کی درخواست کرے یا حرص کرے۔

Chapter No: 8

باب مَنِ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً فَلَمْ يَنْصَحْ

If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner

باب : جو شخص رعیت کا حکم دے اور ان کی خیرخواہی نہ کرے ان کا عذاب

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ، عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَا مِنْ عَبْدٍ اسْتَرْعَاهُ اللَّهُ رَعِيَّةً، فَلَمْ يَحُطْهَا بِنَصِيحَةٍ، إِلاَّ لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ‏"

Narrated By Ma'qil : I heard the Prophet saying, "Any man whom Allah has given the authority of ruling some people and he does not look after them in an honest manner, will never feel even the smell of Paradise."

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا ۔کہا ہم سے ابو الاشہب (جعفر بن حیان ) نے ۔ انہوں نے امام حسن بصریؒ سے کہ عبید اللہ بن زیاد نے معقل بن یسار صحابی کی مرض موت میں عیادت کی معقل نے اس سے کہا میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے آپؐ فرماتے تھے جو شخص ایسا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رعیّت کی نگہبانی پر مقرر کیا( اور ) ہو خیر خواہی کے ساتھ ان کی نگہبانی نہ کرے تو قیامت کے دن وہ بہشت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا(بہشت میں جانا کہاں)۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، قَالَ زَائِدَةُ ذَكَرَهُ عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ أَتَيْنَا مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ نَعُودُهُ فَدَخَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَمُوتُ وَهْوَ غَاشٌّ لَهُمْ، إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ‏"

Narrated By Ma'qil : Allah's Apostle said, "If any ruler having the authority to rule Muslim subjects dies while he is deceiving them, Allah will forbid Paradise for him."

ہم سے اسحاق بن منصور کوسج نے بیان کیا کہا ہم کو حسین بن علی جعفی نے خبر دی کہ زائدہ بن قدامہ نے یہ حدیث ہشام بن حسن سے نقل کی ۔ ا نہوں نے امام حسن بصریؒ سے انہوں نے کہا ہم عیادت (بیمار پرسی) کےلئے معقل بن یسار صحابیؓ کے پاس گئے اتنے میں عبید اللہ بن زیاد بھی وہاں آیا معقل نے اس سے کہا میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے آپؐ نے فرمایا جو بادشاہ یا حاکم مسلمانوں پر حکومت کرتا ہو اور ان کی بد خواہی پر اس کا خاتمہ ہو تو اس پر بہشت حرام ہے۔

Chapter No: 9

باب مَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ

Whoever puts the people into troubles and difficulties will be put into troubles and difficulties by Allah

باب : جو شخص بندگان خداکوستائے۔ (مشکل میں پھانسے) اللہ تعالیٰ اس کو ستائے گا( مشکل میں پھنسائے گا)

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنِ طَرِيفٍ أَبِي تَمِيمَةَ، قَالَ شَهِدْتُ صَفْوَانَ وَجُنْدَبًا وَأَصْحَابَهُ وَهْوَ يُوصِيهِمْ فَقَالُوا هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ـ قَالَ ـ وَمَنْ يُشَاقِقْ يَشْقُقِ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ فَقَالُوا أَوْصِنَا‏.‏ فَقَالَ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنَ الإِنْسَانِ بَطْنُهُ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لاَ يَأْكُلَ إِلاَّ طَيِّبًا فَلْيَفْعَلْ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لاَ يُحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ بِمِلْءِ كَفِّهِ مِنْ دَمٍ أَهْرَاقَهُ فَلْيَفْعَلْ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَنْ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جُنْدَبٌ قَالَ نَعَمْ جُنْدَبٌ‏.

Narrated By Tarif Abi Tamima : I saw Safwan and Jundab and Safwan's companions when Jundab was advising. They said, "Did you hear something from Allah's Apostle?" Jundab said, "I heard him saying, 'Whoever does a good deed in order to show off, Allah will expose his intentions on the Day of Resurrection (before the people), and whoever puts the people into difficulties, Allah will put him into difficulties on the Day of Resurrection.'" The people said (to Jundab), "Advise us." He said, "The first thing of the human body to purify is the abdomen, so he who can eat nothing but good food (Halal and earned lawfully) should do so, and he who does as much as he can that nothing intervene between him and Paradise by not shedding even a handful of blood, (i.e. murdering) should do so."

مجھ سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا کہا ہم سے خالد بن عبد اللہ طحان نے انہوں نے سعید بن ایاس جریری سے، انہوں نے ابو تمیمہ طریف بن مجالد سے انہوں نے کہا میں صفوان(بن محرز) اور جندب (بن عبد اللہ بجلی) کے ساتھیوں کے پاس اس وقت حاضر ہوا جبکہ وہ ان کو نصیحت کر رہے تھے لوگوں نے ان سے پوچھا تم نے رسول اللہﷺ سے کچھ سنا ہے انہوں نے کہا ہاں سنا ہے آپؐ فرماتے تھے جو شخص لوگوں کو سنانے(ریاکاری اور ناموری) کے لئے نیک کام کرے گا اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن اس کی ریاکاری کا حال لوگوں کو سنا دے گا اور جو شخص بندگان خدا پر سختی کرے گا اللہ تعالیٰ بھی اس پر سختی کرے گا یہ سن کر لوگوں نے کہا ہم کو (اور) نصیحت کرو انہوں نے کہا (یعنی جندب نے کہا) دیکھو آدمی کی پہلی چیز جو (مرنے کے بعد)سڑتی ہے وہ پیٹ ہے اب جس سے ہو سکے وہ پیٹ میں ہی حلال ہی کا لقمہ ڈالے (حرام سے پرہیز کرے) اور جس سے ہو سکے وہ چلّو بھر لہو بہا کر (یعنی ناحق خون کر کے) بہشت میں جانے سے اپنے تئیں نہ روکے فر بری کہتے ہیں میں نے امام بخاریؓ سے پوچھا اس حدیث میں یہ قول میں نےرسول اللہﷺ سے سُنا کس کا قول ہے جندب کا ہے انہوں نے کہا ہاں

Chapter No: 10

باب الْقَضَاءِ وَالْفُتْيَا فِي الطَّرِيقِ

To give judgements and legal opinions on the road

باب : رستے چلتے چلتے کوئی فیصلہ کرنا یا فتوی دینا ۔

وَقَضَى يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ فِي الطَّرِيقِ‏.‏ وَقَضَى الشَّعْبِيُّ عَلَى باب دَارِهِ‏.

Yahya bin Yamar gave a judgement on the road and Ash-Shabi gave a judgement at the gate of his house.

اور یحییٰ بن یعمر (تابعی مشہور ) نےرستے میں فیصلہ کیا (اس کو ابن سعد نے طبقات میں وصل کیا) اور شعبی نے اپنےگھر کے دواز ے پر فیصلہ کیا (اس کو بھی ابن سعد نے وصل کیا)۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا وَالنَّبِيُّ، صلى الله عليه وسلم خَارِجَانِ مِنَ الْمَسْجِدِ فَلَقِيَنَا رَجُلٌ عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ‏"‏ فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صِيَامٍ وَلاَ صَلاَةٍ وَلاَ صَدَقَةٍ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ‏"

Narrated By Anas bin Malik : Allah's Apostle - The Prophet said, "You will be with the one whom you love."

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، انہوں نے منصور بن معتمر سے انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے کہا ہم سے انس بن مالکؓ نے بیان کیا انہوں نے کہا ایک بار ایسا ہوا میں اور نبیﷺ دونوں مسجد سے نکل رہے تھے اتنے میں مسجد کے دروازے پر ایک شخص ملا (نام نامعلوم) اور کہنے لگا یا رسولا للہ قیامت کب آئے گی آپؐ نے فرمایا تو نے قیامت کے لئے کیا سامان تیار کر رکھا ہے یہ سنتے ہی جیسے وہ دب گیا (شر مندہ ہو گیا) اور کہنے لگا یا رسولا للہ میں نے تو قیامت کے لئے نہ ایسا بہت کچھ روزہ تیار کیا ہے نہ نماز نہ صدقہ بس اتنی بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں آپؐ نے فرمایا تو(قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھے گا۔

123Last ›