Sayings of the Messenger

 

‏‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔سورہ الغاشیہ کی تفسیر

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ‏}‏ النَّصَارَى‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏عَيْنٍ آنِيَةٍ‏}‏ بَلَغَ إِنَاهَا وَحَانَ شُرْبُهَا ‏{‏حَمِيمٍ آنٍ‏}‏ بَلَغَ إِنَاهُ ‏{‏لاَ تَسْمَعُ فِيهَا لاَغِيَةً‏}‏ شَتْمًا‏.‏ الضَّرِيعُ نَبْتٌ يُقَالَ لَهُ الشِّبْرِقُ، يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْحِجَازِ الضَّرِيعَ إِذَا يَبِسَ، وَهْوَ سَمٌّ‏.‏ ‏{‏بِمُسَيْطِرٍ‏}‏ بِمُسَلَّطٍ، وَيُقْرَأُ بِالصَّادِ وَالسِّينِ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏إِيَابَهُمْ‏}‏ مَرْجِعَهُمْ‏.‏

ابن عباسؓ نے کہا عَامِلَۃ ناصِبَۃ سے نصاریٰ مراد ہیں مجاہد نے کہا عَیۡن اٰنِیَۃ گرمی کی حد کو پہنچ گیا اس کے پینے کا وقت آن پہنچا (سورۃ رحمٰن میں) حَمیۡمٍ اٰن کا بھی یہی معنی گرمی کی حد کو پہنچ گیا لَا تَسۡمَع فیہا لاغیہ وہاں گالی گلوچ نہیں سنائی دیگی۔الضریۡع ایک بھاجی ہے جس کو شبرق کہتے ہیں حجاز والے اس کو ضریع کہتے ہیں جب وا سوکھ جاتی ہے یہ زہر ہے بِمُسَیۡطرٍ کا معنےٰ مسلّط (کڑوڑی) بعضوں نے صاد سے پڑھا بمُصَیۡطر ان عباسؓ نے کہا ایابَہُمۡ ان کا لوٹنا۔