Sayings of the Messenger

 

‏بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

وَقَالَ قَتَادَةُ ‏{‏حَرْدٍ‏}‏ جِدٍّ فِي أَنْفُسِهِمْ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏لَضَالُّونَ‏}‏ أَضْلَلْنَا مَكَانَ جَنَّتِنَا‏.‏ وَقَالَ غَيْرُهُ ‏{‏كَالصَّرِيمِ‏}‏ كَالصُّبْحِ انْصَرَمَ مِنَ اللَّيْلِ، وَاللَّيْلِ انْصَرَمَ مِنَ النَّهَارِ، وَهْوَ أَيْضًا كُلُّ رَمْلَةٍ انْصَرَمَتْ مِنْ مُعْظَمِ الرَّمْلِ، وَالصَّرِيمُ أَيْضًا الْمَصْرُومُ، مِثْلُ قَتِيلٍ وَمَقْتُولٍ‏.

ؓن عباسؓ نے کہا یَتَخَافَتُوۡنَ چھپکے چھپکے کانا پھوسی کرتے ہوئے قتادہ نے کہا حَرۡدٍ کا معنے دل سے کوشش (یا بخیلی،غصّہ) ابن عباسؓ نے کہا لَضَالّوۡن کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے باغ کی جگہ بھول گئے۔(بھٹک کر آگے بڑھ گئے) اوروں نے کہا صَرِیۡم کا معنےٰ صبح جو رات سے پہلے کٹ کر الگ ہو جاتی ہے۔یا رات جو دن سے کٹ کر الگ ہوجاتی ہے۔ صَرِیۡم اس ریتی کو بھی کہتے ہیں جو ریتی کے بڑے ٹیلے سے کٹ کر الگ ہو جائے ۔صَرِیۡم مَصۡرُوۡم کی معنی میں ہے جیسے قتیل مقتول کے معنی میں ہے۔

 

Chapter No: 1

باب ‏{‏عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ‏}‏

"Cruel, and moreover baseborn (of illegitimate birth)." (V.68:13)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول عُتُلٍّ بَعدَ ذٰلِکَ زَنِیمٌ کی تفسیر

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ ‏{‏عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ‏}‏ قَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ لَهُ زَنَمَةٌ مِثْلُ زَنَمَةِ الشَّاةِ‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : (Regarding the Verse): 'Cruel after all that, base-born (of illegitimate birth).' (68.13) It was revealed in connection with a man from Quaraish who had a notable sign (Zanamah) similar to the notable sign which usually-hung on the neck of a sheep (to recognize it).

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن موسٰی نے، انہوں نے اسرائیل بن یونس سے، انہوں نے ابو حصین (عثمان بن عاصم) سے، انہوں نے مجاہدؒ سے، انہوں نے ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا عُتُلٍّ بَعدَ ذٰلِکَ زَنِیمٌ سے قریش کا ایک شخص مراد ہے۔ زَنِیم یعنی بکری کی طرح اس پر ایک گوشت کا ٹکڑا لٹک رہا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ، أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ ‏"‏‏.

Narrated By Haritha bin Wahb Al-Khuzai : I heard the Prophet saying. "May I tell you of the people of Paradise? Every weak and poor obscure person whom the people look down upon but his oath is fulfilled by Allah when he takes an oath to do something. And may I inform you of the people of the Hell-Fire? They are all those violent, arrogant and stubborn people."

ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے معبد بن خالد سے، انہوں نے کہا حارثہ بن وہب خزاعیؓ سے سنا، انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے میں تم کو بہشتی شخص کی صفت بتاؤں ۔ہر ناتواں عاجزی کرنے والا، اگر اللہ کے بھروسے پر قسم اٹھا بیٹھے تو اللہ اس کو سچا کرے۔ میں تم کو دوزخی شخص کی صفت بتلاؤں ہر ایک جھگڑالو (اجڈ، کھرا) موٹا ۔ (مغرور، اینٹھو)۔

Chapter No: 2

باب ‏{‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ‏}‏

"(Remember) the Day when the Shin shall be laid bare ..." (V.68:42)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول یَومَ یُکشَفُ عَن سَاقٍ کی تفسیر

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِئَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Said : I heard the Prophet saying, "Allah will bring forth the severest Hour, and then all the Believers, men and women, will prostrate themselves before Him, but there will remain those who used to prostrate in the world for showing off and for gaining good reputation. Such people will try to prostrate (on the Day of Judgment) but their back swill be as stiff as if it is one bone (a single vertebra)."

ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے خالد بن یزید سے، انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے، انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے (قیامت کے دن) پروردگار اپنی پنڈلی کھولے گا۔ ہر ایک ایماندار مرد اور ایماندار عورتیں (اس کو دیکھ کر) سجدے میں گر پڑیں گے۔ وہ لوگ رہ جائیں گے جو دنیا میں لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لئے سجدہ (اور عبادت) کیا کرتے تھے (ان کی نیت ریا کی تھی)۔ وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ اکڑ کر ایک تختہ ہو جائے گی (سجدہ نہ کر سکیں گے)۔