Sayings of the Messenger

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنُ الرَّحِيم

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

شروع ساتھ نام اللہ کےجو بہت رحم والا مہربان ہے۔

 

Chapter No: 1

باب قَوْلُهُ ‏{‏وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ‏}‏‏

The Statement of Allah, "And (He has sent Prophet (s.a.w) to) others among them (Muslims) who have not yet joined them ..." (V.62:3)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ اٰخَرِینَ مِنھُم لَمَّا یَلحَقُوا بِھِم کی تفسیر

وَقَرَأَ عُمَرُ فَامْضُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ

عمرؓ نے بجائے فاسعوا اِلی ذِکرِ اللہ کے فَامضُوا اِلی ذِکرِ اللہ پڑھا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ ‏{‏وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ‏}‏ قَالَ قُلْتُ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُرَاجِعْهُ حَتَّى سَأَلَ ثَلاَثًا، وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ، وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ لَوْ كَانَ الإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ ـ أَوْ رَجُلٌ ـ مِنْ هَؤُلاَءِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : While we were sitting with the Prophet Surat Al-Jumu'a was revealed to him, and when the Verse, "And He (Allah) has sent him (Muhammad) also to other (Muslims)...' (62.3) was recited by the Prophet, I said, "Who are they, O Allah's Apostle?" The Prophet did not reply till I repeated my question thrice. At that time, Salman Al-Farisi was with us. So Allah's Apostle put his hand on Salman, saying, "If Faith were at (the place of) Ath-Thuraiya (pleiades, the highest star), even then (some men or man from these people (i.e. Salman's folk) would attain it."

مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے، انہوں نے ثور بن زید دیلی سے، انہوں نے کہا ابو الغیث (سالم) سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے کہا ہم رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ آپؐ پر سورہ جمعہ نازل ہوئی جب آپؐ اس آیت پر پہنچے وَ اٰخَرِینَ مِنھُم لَمَّا یَلحَقُوا بِھِم تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! یہ کون لوگ ہیں۔ آپؐ نے جواب نہ دیا۔ میں نے تین بار یہی پوچھا ۔ اس وقت ہم میں سلیمان فارسیؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ ان پر رکھا پھر فرمایا اگر ایمان ثریا (پروین ستارے) پر ہوتا (زمین سے اتنا اونچا) تب بھی ان لوگوں (یعنی فارس والوں) میں سے کئی آدمی اس تک پہنچ جاتے۔ یا یوں فرمایا ایک آدمی ان لوگوں میں سے اس تک پہنچ جاتا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَنِي ثَوْرٌ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلاَءِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said. Then some men from these people would attain it."

ہم سے عبداللہ بن الوھاب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز دراوردی نے، کہا مجھ کو ثور بن زید ذیلی نے، انہوں نے ابو الغیث (سالم) سے، انہوں نے ابو ہریرہؓ سے، انہوں نے رسول اللہﷺ سے یہی۔ اس میں یوں ہے کہ کئی آدمی ان لوگوں میں سے اس تک پہنچ جاتے۔

Chapter No: 2

باب ‏{‏وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً‏ أَوْ لَهْواً }‏

"And when they see some merchandise or some amusement ..." (V.62:11)

باب : اللہ تعالیٰ کے اس قول وَ اِذَا رَ اَو تِجَارَۃً اَو لَھوًا کی تفسیر

حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَقْبَلَتْ عِيرٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَثَارَ النَّاسُ إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا‏}‏

Narrated By Jabir bin Abdullah : A caravan of merchandise arrived at Medina on a Friday while we were with the Prophet All the people left (the Prophet and headed for the caravan) except twelve persons. Then Allah revealed: 'But when they see some bargain or some amusement they disperse headlong to it.'...(62.11)

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے، کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے سالم بن ابی الجعد اور ابو سفیان طلحہ بن نافع سے، ان دونوں نے جابر بن عبداللہؓ سے، انہوں نے کہا ایسا ہوا جمعہ کے دن غلہ کا ایک قافلہ (مدینہ میں) آن پہنچا۔ اس وقت ہم رسول اللہ کے پاس (خطبہ سن رہے) تھے۔ سب لوگ ادھر چل دیئے صرف بارہ آدمی آپؐ کے پاس رہ گئے۔ تب اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی وَ اِذَا رَ اَو تِجَارَۃً اَو لَھوًا اِنفَضُّوا اِلَیھَا۔