Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Book of Nikkah (67)    كتاب النكاح

‹ First23456Last ›

Chapter No: 31

باب نِكَاحِ الْمُحْرِمِ

The marriage of a Muhrim.

باب : احرام والا شخص نکاح (یعنی عقد) کر سکتا ہے (نہ جماع)

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُحْرِمٌ‏.

Narrated By Ibn 'Abbas : The Prophet got married while he was in the state of Ihram.

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے احرام کی حالت میں نکاح کیا۔

Chapter No: 32

باب نَهْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ أخِيرًا

Allah's Messenger (s.a.w) prohibited Nikah-al-Muta (temporary marriage) lately.

باب : اخیر میں متعہ کا منع ہو جا نا (جس کو شیعہ جائز رکھتے ہیں)

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَأَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ‏

Narrated By 'Ali : I said to Ibn 'Abbas, "During the battle of Khaibar the Prophet forbade (Nikah) Al-Mut'a and the eating of donkey's meat."

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نےحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نبی ﷺنے غزوۂ خیبر کے موقع پر متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا تھا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَرَخَّصَ فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْحَالِ الشَّدِيدِ وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ أَوْ نَحْوَهُ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ‏

Narrated By Abu Jamra : I heard Ibn Abbas (giving a verdict) when he was asked about the Mut'a with the women, and he permitted it (Nikah-al-Mut'a). On that a freed slave of his said to him, "That is only when it is very badly needed and women are scarce." On that, Ibn 'Abbas said, "Yes."

حضرت ابوجمرہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی، پھر ان کے ایک غلام نے ان سے پوچھا کہ اس کی اجازت سخت مجبوری یا عورتوں کی کمی یا اسی جیسی صورتوں میں ہو گی؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ ہاں۔


حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا ‏"‏‏.

Narrated By Jabir bin 'Abdullah and Salama bin Al-Akwa' : While we were in an army, Allah's Apostle came to us and said, "You have been allowed to do the Mut'a (marriage), so do it."

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اور حضرت سلمہ بن الاکوع سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک لشکر میں تھے تو رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے تم نکاح متعہ کر سکتے ہو۔


حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالاَ كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا ‏"‏‏.

Narrated By Jabir bin 'Abdullah and Salama bin Al-Akwa' : While we were in an army, Allah's Apostle came to us and said, "You have been allowed to do the Mut'a (marriage), so do it."

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اور حضرت سلمہ بن الاکوع سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک لشکر میں تھے تو رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے تم نکاح متعہ کر سکتے ہو۔


وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيُّمَا رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ تَوَافَقَا فَعِشْرَةُ مَا بَيْنَهُمَا ثَلاَثُ لَيَالٍ فَإِنْ أَحَبَّا أَنْ يَتَزَايَدَا أَوْ يَتَتَارَكَا تَتَارَكَا ‏"‏‏.‏ فَمَا أَدْرِي أَشَىْءٌ كَانَ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَبَيَّنَهُ عَلِيٌّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ مَنْسُوخٌ‏

Salama bin Al-Akwa' said: Allah's Apostle's said, "If a man and a woman agree (to marry temporarily), their marriage should last for three nights, and if they like to continue, they can do so; and if they want to separate, they can do so." I do not know whether that was only for us or for all the people in general. Abu Abdullah (Al-Bukhari) said: 'Ali made it clear that the Prophet said, "The Mut'a marriage has been cancelled (made unlawful)."

حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اللہ ﷺسے بیان کرتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا : جو مرد اور عورت آپس میں (نکاح متعہ ) پر اتفاق کرلیں تو وہ تین راتیں آپس میں گزارسکتے ہیں ۔ اس کے بعد اگر وہ چاہیں تو مدت کو زیادہ کرلیں یا ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ رخصت صرف ہمارے لیے تھی یا سب لوگوں کےلیے عام تھا۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے بیان کیا کہ نکاح متعہ منسوخ ہے۔

Chapter No: 33

باب عَرْضِ الْمَرْأَةِ نَفْسَهَا عَلَى الرَّجُلِ الصَّالِحِ

A woman can present herself to a righteous man (for marriage).

باب : اگر کوئی عورت اپنے تئیں کسی نیک شخص پر پیش کرے(تا کہ وہ اس سے نکاح کر لے)

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَرْحُومٌ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَنَسٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، قَالَ أَنَسٌ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَعْرِضُ عَلَيْهِ نَفْسَهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَكَ بِي حَاجَةٌ، فَقَالَتْ بِنْتُ أَنَسٍ مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا وَاسَوْأَتَاهْ وَاسَوْأَتَاهْ‏.‏ قَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا‏.‏

Narrated By Thabit Al-Banani : I was with Anas while his daughter was present with him. Anas said, "A woman came to Allah's Apostle and presented herself to him, saying, 'O Allah's Apostle, have you any need for me (i.e. would you like to marry me)?' "Thereupon Anas's daughter said, "What a shameless lady she was ! Shame! Shame!" Anas said, "She was better than you; she had a liking for the Prophet so she presented herself for marriage to him."

حضرت ثابت بنانی سے مروی ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور ان کے پاس ان کی بیٹی بھی تھی۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اپنے نفس کی پیش کش کی اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا آپ کو میری ضرورت ہے ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے کہا: وہ عورت کتنی بے حیاء تھی ! ہائے بے شرمی ! ہائے بے شرمی!(اس پر ) حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ عورت تجھ سے بہتر تھی کہ اس نے نبیﷺکے متعلق اپنی رغبت کا اظہار کیا اور آپ ﷺکو اپنی ذات کے متعلق پیش کش کی۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، أَنَّ امْرَأَةً، عَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا عِنْدَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا عِنْدِي شَىْءٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي وَلَهَا نِصْفُهُ ـ قَالَ سَهْلٌ وَمَا لَهُ رِدَاءٌ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَمَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلَسُهُ قَامَ فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَدَعَاهُ أَوْ دُعِي لَهُ فَقَالَ ‏"‏ مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ يُعَدِّدُهَا‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمْلَكْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏

Narrated By Sahl bin Sad : A woman presented herself to the Prophet (for marriage). A man said to him, "O Allah's Apostle! (If you are not in need of her) marry her to me." The Prophet said, "What have you got?" The man said, "I have nothing." The Prophet said (to him), "Go and search for something) even if it were an iron ring." The man went and returned saying, "No, I have not found anything, not even an iron ring; but this is my (Izar) waist sheet, and half of it is for her." He had no Rida' (upper garment). The Prophet said, "What will she do with your waist sheet? If you wear it, she will have nothing over her; and if she wears it, you will have nothing over you." So the man sat down and when he had sat a long time, he got up (to leave). When the Prophet saw him (leaving), he called him back, or the man was called (for him), and he said to the man, "How much of the Qur'an do you know (by heart)?" The man replied I know such Sura and such Sura (by heart)," naming the Suras The Prophet said, "I have married her to you for what you know of the Qur'an."

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبیﷺکو اپنے نفس کی پیش کش کی ۔ تو ایک آدمی نے آپﷺسے درخواست کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ!مجھ سے ان کا نکاح کردیں۔ آپﷺنے فرمایا: تمہارے پاس اسے دینے کےلیے کیا ہے؟ اس نے کہا : میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ نبی ﷺنے فرمایا : جاؤ اور تلاش کرو، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کی اللہ کی قسم! میں نے کوئی چیز نہیں پائی۔ مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی، البتہ یہ میرا تہبند میرے پاس ہے اس کا آدھا انہیں دے دیں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا : ان کے پاس اوڑھنے کےلیے چادر بھی نہیں تھی۔ نبیﷺنے فرمایا : یہ تمہارے اس تہبند کا کیا کرے گی، اگر تو نے اسے پہنا تو اس پر کچھ نہیں ہوگا اور اگر اس نے پہنا تو تیرے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ پھر وہ آدمی بیٹھ گیا اور کافی دیر تک بیٹھا رہا۔جب وہ اٹھ کر جانے لگا تو نبی ﷺنے اسے دیکھ کر اپنے پاس بلایا یا اسے بلایا گیا : آپﷺنے فرمایا: تجھے کچھ قرآن یاد ہے ؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورت یاد ہے اس نے کچھ سورتوں کو شمار کیا ۔ نبی ﷺنے فرمایا: ہم نے تجھے اس کا مالک بنادیا اس وجہ سے جو تجھے قرآن یاد ہے ۔

Chapter No: 34

باب عَرْضِ الإِنْسَانِ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ عَلَى أَهْلِ الْخَيْرِ

The presentation of one's own daughter or sister (for marriage) to religious man.

باب : اگر آدمی اپنی بیٹی یا بہن کسی نیک آدمی کے سا منے پیش کرے (اس سے نکاح کر لینے کو کہے)

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ـ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقَالَ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي‏.‏ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي فَقَالَ قَدْ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ زَوَّجْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ‏.‏ فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا، وَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَىَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَىَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا‏.‏ قَالَ عُمَرُ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ عَلَىَّ إِلاَّ أَنِّي كُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ ذَكَرَهَا، فَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبِلْتُهَا‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : 'Umar bin Al-Khattab said, "When Hafsa bint 'Umar became a widow after the death of (her husband) Khunais bin Hudhafa As-Sahmi who had been one of the companions of the Prophet, and he died at Medina. I went to 'Uthman bin 'Affan and presented Hafsa (for marriage) to him. He said, "I will think it over.' I waited for a few days, then he met me and said, 'It seems that it is not possible for me to marry at present.'" 'Umar further said, "I met Abu Bakr As-Siddique and said to him, 'If you wish, I will marry my daughter Hafsa to you." Abu Bakr kept quiet and did not say anything to me in reply. I became more angry with him than with 'Uthman. I waited for a few days and then Allah's Apostle asked for her hand, and I gave her in marriage to him. Afterwards I met Abu Bakr who said, 'Perhaps you became angry with me when you presented Hafsa to me and I did not give you a reply?' I said, 'Yes.' Abu Bakr said, 'Nothing stopped me to respond to your offer except that I knew that Allah's Apostle had mentioned her, and I never wanted to let out the secret of Allah's Apostle. And if Allah's Apostle had refused her, I would have accepted her.'"

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا ، (اپنے شوہر) خنیس بن حذافہ سہمی کی وفات کی وجہ سے بیوہ ہو گئیں اور خنیس رسول اللہ ﷺکے صحابی تھے اور ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے لیے حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا : میں اس معاملہ میں غور کروں گا۔ چند دن گزر جانے کے بعد پھر میری ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: میرے لیے یہ امر ظاہر ہوا ہے کہ میں ان دنوں نکاح نہ کروں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے کہا : اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کی شادی اپنی بیٹی حفصہ سے کر دوں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔مجھے ان کے عدم التفات کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نسبت زیادہ غصہ آیا۔ابھی چند دن گزرے ہوں گے کہ خود رسول اللہ ﷺنے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیج دیا تو میں نے حضرت حفصہ کا آپﷺسے نکاح کردیا۔ اس کے بعد میری ملاقات حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے فرمایا: جب آپ نے حضرت حفصہ سے نکاح کی مجھے پیش کش کی تھی تو میں نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا تھا شاید آپ کو اس بات سے تکلیف ہوئی ہوگی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ہاں۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب آپ نے مجھے اس کے ساتھ نکاح کی پیش کش کی تھی تو مجھے جواب دینے میں کوئی مسئلہ نہ تھا سوائے اس کے رسول اللہ ﷺنے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر مجھ سے کیا تھا ، اس لیے میں آپ کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ اگر رسول اللہ ﷺاپنا ارادہ ترک کردیتے تو میں اسے قبول کرلیتا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّكَ نَاكِحٌ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَعَلَى أُمِّ سَلَمَةَ لَوْ لَمْ أَنْكِحْ أُمَّ سَلَمَةَ مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّ أَبَاهَا أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ‏"‏‏

Narrated By Zainab bint Salama : Um Habiba said to Allah's Apostle "We have heard that you want to marry Durra bint Abu-Salama." Allah's Apostle said, "Can she be married along with Um Salama (her mother)? Even if I have not married Um Salama, she would not be lawful for me to marry, for her father is my foster brother."

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺسے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں۔ نبیﷺنے فرمایا : کیا میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے اس سے نکاح کروں ؟ اگر میں نے ام سلمہ سے نکاح نہ کیا ہوتا تو بھی وہ میرے لیے حلال نہ تھی کیونکہ اس کے والد (حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ ) میرے رضاعی بھائی تھے۔

Chapter No: 35

باب قَوْلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ:

The Statement of Allah, "And there is no sin on you if you make a hint of betrothal or conceal it in yourself, Allah knows ... Oft-Forgiving, Most Forbearing." (V.2:235)

باب: اللہ تعا لٰی کا ( سورہ بقرہ )میں فر ما نا تم پر کچھ گناہ نہیں عورتوں کو اشارے کنایے میں نکاح کا پیغام بھیجنا یا اپنے دل میں چھپائے رکھنا اخیر آیت غفور حلیم تک

‏{‏وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّهُ‏}‏ الآيَةَ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏غَفُورٌ حَلِيمٌ‏}‏ ‏{‏أَكْنَنْتُمْ‏}‏ أَضْمَرْتُمْ، وَكُلُّ شَىْءٍ صُنْتَهُ فَهْوَ مَكْنُونٌ

اکننتم کا معنی چھپا ئے رکھے اس کو مکنون کہیں گے

وَقَالَ لِي طَلْقٌ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏{‏فِيمَا عَرَّضْتُمْ‏}‏ يَقُولُ إِنِّي أُرِيدُ التَّزْوِيجَ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّهُ تَيَسَّرَ لِي امْرَأَةٌ صَالِحَةٌ‏.‏ وَقَالَ الْقَاسِمُ يَقُولُ إِنَّكِ عَلَىَّ كَرِيمَةٌ، وَإِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ، وَإِنَّ اللَّهَ لَسَائِقٌ إِلَيْكِ خَيْرًا‏.‏ أَوْ نَحْوَ هَذَا‏.‏ وَقَالَ عَطَاءٌ يُعَرِّضُ وَلاَ يَبُوحُ يَقُولُ إِنَّ لِي حَاجَةً وَأَبْشِرِي، وَأَنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ نَافِقَةٌ‏.‏ وَتَقُولُ هِيَ قَدْ أَسْمَعُ مَا تَقُولُ‏.‏ وَلاَ تَعِدُ شَيْئًا وَلاَ يُوَاعِدُ وَلِيُّهَا بِغَيْرِ عِلْمِهَا، وَإِنْ وَاعَدَتْ رَجُلاً فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ نَكَحَهَا بَعْدُ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا‏.‏ وَقَالَ الْحَسَنُ ‏{‏لاَ تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا‏}‏ الزِّنَا‏.‏ وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏{‏الْكِتَابُ أَجَلَهُ‏}‏ تَنْقَضِي الْعِدَّةُ‏.‏

Ibn 'Abbas said, "Hint your intention of marrying' is made by saying (to the widow) for example: "I want to marry, and I wish that Allah will make a righteous lady available for me.' " Al-Qasim said: One may say to the widow: 'I hold all respect for you, and I am interested in you; Allah will bring you much good, or something similar 'Ata said: One should hint his intention, and should not declare it openly. One may say: 'I have some need. Have good tidings. Praise be to Allah; you are fit to remarry.' She (the widow) may say in reply: I am listening to what you say,' but she should not make a promise. Her guardian should not make a promise (to somebody to get her married to him) without her knowledge. But if, while still in the Iddat period, she makes a promise to marry somebody, and he ultimately marries her, they are not to be separated by divorce (i.e., the marriage is valid).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے آیت « فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ‏» "ایسی عورتوں کو اشارے کے ساتھ نکاح کا پیغام دو" کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: کوئی شخص (کسی ایسی عورت سے جو عدت میں ہو) کہے کہ میرا ارادہ نکاح کا ہے اور میری خواہش ہے کہ مجھے کوئی نیک اور صالح بیوی میسر آ جائے۔ حضرت قاسم نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: (وہ یہ کہے): بلاشبہ تم میری نظر میں بہت اچھی اور قابل احترام ہو ، میں تیرے متعلق نیک جذبات رکھتا ہوں یقینا اللہ تمہاری طرف خیرو برکت بھیجنے والا ہے ۔ یا اس طرح کے اور الفاظ کہے۔ حضرت عطاء نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: صرف اشارہ کرے ، صراحت کے ساتھ نہ کہے، مثلا: یوں کہے: مجھے نکاح کی ضرورت ہے ، اور تمہیں بشارت ہو کہ تم الحمد للہ اچھی عورت ہو ۔ اور عورت اس کے جواب میں کہے : تمہاری بات میں نے سن لی ہے (لیکن صراحت کےساتھ) کوئی وعدہ نہ کرے۔ اور عورت کا ولی بھی اس کے علم کے بغیر کوئی وعدہ نہ کرے۔ اور اگر عورت نے زمانہ عدت میں کسی مرد سے نکاح کا وعدہ کر لیا اور پھر بعد میں اس سے نکاح کیا تو دونوں میں جدائی نہیں کرائی جائے گی۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: «لا تواعدوهن سرا‏» سے یہ مراد ہے کہ عورت سے چھپ کر بدکاری نہ کرو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ «الكتاب أجله‏» سے مراد عدت کا پورا کرنا ہے۔

Chapter No: 36

باب النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ قَبْلَ التَّزْوِيجِ

(It is permissible) to look at a woman before marrying her.

باب : عورت کو نکاح سے پہلے دیکھ لینا (اسی طرح مرد کو)

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ يَجِيءُ بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ لِي هَذِهِ امْرَأَتُكَ‏.‏ فَكَشَفْتُ عَنْ وَجْهِكِ الثَّوْبَ، فَإِذَا أَنْتِ هِيَ فَقُلْتُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : Allah's Apostle said (to me), "You were shown to me in a dream. An angel brought you to me, wrapped in a piece of silken cloth, and said to me, 'This is your wife.' I removed the piece of cloth from your face, and there you were. I said to myself. 'If it is from Allah, then it will surely be.'"

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہﷺنے فرمایا کہ (نکاح سے پہلے) میں نے تمہیں خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے ایک ٹکڑے میں تمہیں لپیٹ کر لے آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔ میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو وہ تم تھیں۔ میں نے کہا : اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے ضرور پورا کر دے گا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لأَهَبَ لَكَ نَفْسِي‏.‏ فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَىْ رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏"‏‏.‏ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي ـ قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ ـ فَلَهَا نِصْفُهُ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلَسُهُ ثُمَّ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ ‏"‏ مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَعِي سُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا‏.‏ عَدَّدَهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"

Narrated By Sahl bin Sad : A woman came to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! I have come to you to present myself to you (for marriage)." Allah's Apostle glanced at her. He looked at her carefully and fixed his glance on her and then lowered his head. When the lady saw that he did not say anything, she sat down. A man from his companions got up and said, "O Allah's Apostle! If you are not in need of her, then marry her to me." The Prophet said, "Have you got anything to offer." The man said, 'No, by Allah, O Allah's Apostle!" The Prophet said (to him), "Go to your family and try to find something." So the man went and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Apostle! I have not found anything." The Prophet said, "Go again and look for something, even if it were an iron ring." He went and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Apostle! I could not find even an iron ring, but this is my Izar (waist sheet).' He had no Rida (upper garment). He added, "I give half of it to her." Allah's Apostle said "What will she do with your Izar? If you wear it, she will have nothing over herself thereof (will be naked); and if she wears it, then you will have nothing over yourself thereof ' So the man sat for a long period and then got up (to leave). When Allah's Apostle saw him leaving, he ordered that he e called back. When he came, the Prophet asked (him), "How much of the Qur'an do you know (by heart)?" The man replied, I know such Sura and such Sura and such Sura," naming the suras. The Prophet said, "Can you recite it by heart?" He said, 'Yes." The Prophet said, "Go I let you marry her for what you know of the Qur'an (as her Mahr).

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے آپ کو آپ کی خدمت میں ہبہ کرنے کےلیے حاضر ہوئی ہوں۔ رسول اللہ ﷺنے اس کی طرف نظر اٹھاکر دیکھا ، پھر نگاہ نیچے کرلی اور سرجھکالیا۔ جب خاتون نے دیکھا کہ آپﷺنے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے تو وہ بیٹھ گئی ۔اتنے میں آپﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب اٹھے اور عرض کی: اللہ کے رسول ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو میرے ساتھ اس کا نکاح کردیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: کیا تمہاے پاس کچھ ہے ؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! کچھ نہیں ہے ۔ آپ ﷺنے فرمایا: اپنے گھر جاؤ وہاں جاکر دیکھو شاید کوئی چیز مل جائے ۔ چنانچہ وہ گیا ، پھر لوٹ آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول! مجھے وہاں کوئی چیز نہیں ملی۔ آپ ﷺنے فرمایا: پھر دیکھ لو شاید لوہے کی انگوٹھی ہی مل جائے ۔ وہ دوبارہ گیا اور واپس آگیا اور کہا: اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ البتہ میری یہ چادر حاضر ہے ۔ حضرت سہل کہتے ہیں کہ اسکے پاس کوئی دوسری چادر بھی نہ تھی۔ اس آدمی نے کہا: اس میں سے آدھی پھاڑ کر اسے دے دیں ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: وہ تیری اس چادر کو کیا کرے گی؟ تو پہنے گا تو اس کےلیے کچھ نہیں ہوگا اور اگر وہ پہنےگی تو تیرے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ چنانچہ وہ شخص بیٹھ گیا اور دیر تک بیٹھا رہا، پھر کھڑا ہوگیا۔ جب رسول اللہ ﷺنے اسے دیکھا کہ وہ پشت پھیر کر جانے لگا ہے تو اسے بلایا۔ جب وہ آیا تو آپ نے دریافت فرمایا: تجھے کتنا قرآن یاد ہے ؟ اس نے کہا: کہ فلاں فلاں سورت یاد ہے ۔ آپ نے فرمایا: کیا تو انہیں زبانی پڑھ سکتا ہے ؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپﷺنے فرمایا: جاؤ تجھے قرآن مجید کی جو سورتیں یاد ہیں ان کے بدلے میں نے اسے تمہاری نکاح میں دے دیا ہے۔

Chapter No: 37

باب مَنْ قَالَ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ‏،

Whoever said, a marriage is not valid except through the Wali.

باب : بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا ،

لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ‏}‏ فَدَخَلَ فِيهِ الثَّيِّبُ وَكَذَلِكَ الْبِكْرُ‏.‏ وَقَالَ ‏{‏وَلاَ تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا‏}‏ وَقَالَ ‏{‏وَأَنْكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ‏}‏‏

By virtue of the Statement of Allah, "And when you have divorced women and they have fulfilled the term of their prescribed period, then do not prevent them ..." (V.2:232) And this order includes the matron as well as the virgin. Allah also said, "Do not marry Pagan (women) till they believe." (V.2:221) And Allah also said, "Marry those among you who are single." (V.24:32)

کیوں کہ اللہ تعا لیٰ (سورہ بقرہ میں ) ارشاد فر ما تا ہے جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو عورتوں کے اولیاء تم کو ان کا روک رکھنا درست نہیں (یعنی نکاح نہ کرنے دینا ) اس میں ثیبہ اور باکرہ سب قسم کی عورتیں آ گئیں اور اللہ تعا لٰی نے اسی سورت میں فر ما یا عورتوں کے اولیاء تم عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کرو اور ( سورہ نور میں) فرما یا جو عورتیں خاوند نہیں رکھتیں ان کا نکاح کر دو۔

قَالَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ،‏.‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النِّكَاحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ، يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ أَوِ ابْنَتَهُ، فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَمْثِهَا أَرْسِلِي إِلَى فُلاَنٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ‏.‏ وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا، وَلاَ يَمَسُّهَا أَبَدًا، حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ نِكَاحَ الاِسْتِبْضَاعِ، وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ مَا دُونَ الْعَشَرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا‏.‏ فَإِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ، وَمَرَّ عَلَيْهَا لَيَالِيَ بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا، أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا تَقُولُ لَهُمْ قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ، وَقَدْ وَلَدْتُ فَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلاَنُ‏.‏ تُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ بِاسْمِهِ، فَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا، لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْتَنِعَ بِهِ الرَّجُلُ‏.‏ وَنِكَاحُ الرَّابِعِ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لاَ تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا كُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ تَكُونُ عَلَمًا فَمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ، فَإِذَا حَمَلَتْ إِحْدَاهُنَّ وَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جُمِعُوا لَهَا وَدَعَوْا لَهُمُ الْقَافَةَ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ فَالْتَاطَ بِهِ، وَدُعِيَ ابْنَهُ لاَ يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ كُلَّهُ، إِلاَّ نِكَاحَ النَّاسِ الْيَوْمَ‏.

Narrated Urwa bin Az-Zubair: Aishah, the wife of the Prophet (pbuh) told him that there were four types of marriage during the Pre-Islamic Period of Ignorance. One type was similar to that of the present day, i.e., a man used to ask somebody else for the hand of a girl under his guardianship or for his daughter’s hand, and give her Mahr and then marry her. The second type was that a man would say to his wife after she had become clean from her period, “Send for so-and-so and have sexual relations with him.” Her husband would then keep away from her and would never sleep with her till she got pregnant from the other man with whom she was sleeping. When her pregnancy became evident, her husband would then sleep with her if he wished. Her husband did so (i.e., let his wife sleep with some other man) so that he might have a child of noble breed. Such marriage was called Al-Istibda. Another type of marriage was that a group of less than ten men would assemble and enter upon a woman, and all of them would have sexual relation with her. If she became pregnant and delivered a child and some days had passed after her delivery, she would send for all of them and none of them would refuse to come, and when they all gathered before her, she would say to them, “You (all) know what you have done, and now I have given birth to a child. So, it is your child, O so-and-so!” naming whoever she liked, and her child would follow him and he could not refuse to take him. The fourth type of marriage was that many people would enter upon a lady and she would never refuse anyone who came to her. Those were the prostitutes who used to fix flags at their doors as signs, and he who wished, could have sexual intercourse with them. If anyone of them got pregnant and delivered a child, then all those men would be gathered for her and they would call the Qaif (persons skilled in recognising the likeness of a child to his father) to them and would let the child follow the man (whom they recognised as his father) and she would let him adhere to him and be called his son. The man could not refuse all that. But when Muhammad (pbuh) was sent with the Truth, he (pbuh) abolished all the types of marriages observed in the Pre-Islamic Period of Ignorance except the type of marriage the people recognise today.

نبی ﷺکی زوکہ محترمہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے بتایا کہ دور جاہلیت میں نکاح کی چار صورتین تھیں : ایک صورت تو یہی تھی کہ جو آج کل لوگ کرتے ہیں ایک آدمی دوسرے آدمی کے پاس جاکر اس کی زیر پرورش لڑکی یا بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجتا ، پھر اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کرتا۔ دوسری صورت یہ تھی کہ ایک آدمی اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ جب وہ حیض سے پاک ہوجاتی تو فلاں شخص کے پاس چلی جا اور اس سے منہ کالا کرلے ، اس مدت میں شوہر خود اس سے جدا رہتااور اس سے ہم بستر نہ ہوتا، پھر جب اس غیر مرد سے اس کا حمل ظاہر ہوجاتا جس سے ا س نے منہ کالا کیا تھا ، اس کے بعد اگر خاوند کی طبیعت چاہتی تو اس سے صحبت کرتا ، اور ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ ان کا لڑکا اچھا اور خوبصورت پیدا ہو۔ یہ نکاح "نکاح استبضاع" کہلاتا تھا۔تیسری صورت یہ تھی کہ چند آدمی جو دس سے کم ہوتے کسی عورت کے پاس باری باری جاتے او ران میں سے ہر ایک اس سے ہم بستر ہوتا ، پھر جب وہ عورت حاملہ ہوجاتی اور بچہ جنم دیتی تو وضع حمل کے چند دن بعد وہ ان تمام مردوں کو بلاتی ، اس موقع پر ان میں سے کوئی آدمی انکار نہیں کرسکتا تھا ، چنانچہ وہ سب اس عورت کے پاس جمع ہوجاتے تو وہ ان سے کہتی کہ تم اپنے حال کو خوب جانتے ہو ! اب میں نے یہ بچہ جنم دیا ہے (پھر وہ کہتی : ) اے فلاں ! یہ بچہ تیرا ہے وہ جس کا چاہتی نام لے لیتی ، پھر وہ لڑکا اس کا سمجھا جاتا ، اور وہ شخص اس سے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ چوتھی صورت یہ تھی کہ بہت سے لوگ ایک فاحشہ عورت کے پاس آیا جایا کرتے تھے ۔ عورت اپنے پاس کسی بھی آنے والے کو نہیں روکتی تھی۔ یہ فاحشہ ہوتی تھیں جنہوں نے اپنے دروازوں پر جھنڈے لگارکھے تھے جو ان کے لیے امتیازی نشان کی حیثیت رکھتے تھے ، جو کوئی بھی ان کے پاس جانے کی خواہش رکھتا ان کے پاس چلا جاتا ۔ جب ان میں سے کوئی عورت حاملہ ہوجاتی اور بچہ جنم دیتی تو اس کے پاس آنے جانے والے سب لوگ جمع ہوجاتے اور کسی قیافہ شناس کو بلاتے وہ جس کے ساتھ بچے کی مشابہت دیکھتا ، اس کے ساتھ بچے کو لاحق کردیتا ، پھر وہ بچہ اس کا بیٹا کہا جاتا۔ وہ آدمی اس کا انکار نہیں کرسکتا تھا۔ جب حضرت محمد ﷺکو حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا تو آپ ﷺنے جاہلیت کے تمام نکاح کالعدم کردیے ، صرف اس نکاح کو باقی رکھا جس کا آج کل رواج ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، ‏{‏وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللاَّتِي لاَ تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ‏}‏‏.‏ قَالَتْ هَذَا فِي الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ شَرِيكَتَهُ فِي مَالِهِ، وَهْوَ أَوْلَى بِهَا، فَيَرْغَبُ أَنْ يَنْكِحَهَا، فَيَعْضُلَهَا لِمَالِهَا، وَلاَ يُنْكِحَهَا غَيْرَهُ، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَشْرَكَهُ أَحَدٌ فِي مَالِهَا‏.

Narrated By 'Aisha : (As regards the Verse): 'And about what is recited unto you in the Book, concerning orphan girls to whom you give not the prescribed portions and yet, whom you desire to marry.' (4.127) This Verse is about the female orphan who is under the guardianship of a man with whom she shares her property and he has more right over her (than anybody else) but does not like to marry her, so he prevents her, from marrying somebody else, lest he should share the property with him.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے درج ذیل آیت کریمہ : «وما يتلى عليكم في الكتاب في يتامى النساء اللاتي لا تؤتونهن ما كتب لهن وترغبون أن تنكحوهن‏» وہ آیات جو کتاب میں یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جنہیں تم وہ کچھ نہیں دیتے جو ان کے لیے مقرر ہو چکا ہے اور تم چاہتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو۔ " کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: یہ آیت ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو کسی شخص کی پرورش میں ہو۔ ممکن ہے کہ اس کے مال و جائیداد میں بھی شریک ہو، وہی لڑکی کا زیادہ حقدار ہے لیکن وہ اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا البتہ اس کے مال کی وجہ سے اسے روکے رکھتا ہے اور کسی دوسرے مرد سے اس کی شادی نہیں ہونے دیتا کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اس کے مال میں حصہ دار بنے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنِ ابْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ـ فَقَالَ عُمَرُ لَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ‏.‏ فَقَالَ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي‏.‏ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي فَقَالَ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : When Hafsa, 'Umar's daughter became a widow because of the death of her (husband) Ibn Hudhafa As-Sahmi who was one of the companion of the Prophet and the one of the Badr warriors and died at Medina, 'Umar said, "I met 'Uthman bin 'Affan and gave him an offer, saying, 'If you wish, I will marry Hafsa to you.' He said. 'I will think it over' I waited for a few days, then he met me and said, 'I have made up my mind not to marry at present' "Umar added, "Then I met Abu Bakr and said to him, 'If you wish, I will marry Hafsa to you.'"

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے خبر دی کہ جب حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما، ابن حذافہ سہمی سے بیوہ ہوئیں۔ او رحضرت ابن حذافہ رضی اللہ عنہما نبیﷺکے اصحاب میں سے تھے اور جنگ بدر میں شریک تھے ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا اور انہیں پیش کش کی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کروں۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا چند دن میں نے انتظار کیا اس کے بعد وہ مجھ سے ملے اور کہا : میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ابھی نکاح نہ کروں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا : اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کردوں۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، ‏{‏فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ‏}‏ قَالَ حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ قَالَ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا، حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ لَهُ زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ، فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لاَ وَاللَّهِ لاَ تَعُودُ إِلَيْكَ أَبَدًا، وَكَانَ رَجُلاً لاَ بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنَّ تَرْجِعَ إِلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ ‏{‏فَلاَ تَعْضُلُوهُنَّ‏}‏ فَقُلْتُ الآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ‏

Narrated By Al-Hasan : Concerning the Verse: 'Do not prevent them' (2.232) Ma'qil bin Yasar told me that it was revealed in his connection. He said, "I married my sister to a man and he divorced her, and when her days of 'Idda (three menstrual periods) were over, the man came again and asked for her hand, but I said to him, 'I married her to you and made her your bed (your wife) and favoured you with her, but you divorced her. Now you come to ask for her hand again? No, by Allah, she will never go back to you (again)!' That man was not a bad man and his wife wanted to go back to him. So Allah revealed this Verse: 'Do not prevent them.' (2.232) So I said, 'Now I will do it (let her go back to him), O Allah's Apostle." So he married her to him again.

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت «فلا تعضلوهن‏» "تم عورتوں کو شادی کرنے سے مت روکو" میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میں نے اپنی ایک بہن کا نکاح ایک شخص سے کر دیا تھا۔ اس نے اسے طلاق دے دی لیکن جب عدت پوری ہوئی تو وہ شخص میری بہن سے پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا : میں نے تم سے اس کا (اپنی بہن) کا نکاح کیا اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دیدی اور اب پھر تم نکاح کا پیغام لے کر آئے ہو۔ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کبھی اسے نہیں دوں گا۔ وہ شخص کوئی برا آدمی نہ تھا اور عورت بھی اس کے یہاں واپس جانا چاہتی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فلا تعضلوهن‏» کہ تم عورتوں کو مت روکو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اب میں کر دوں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر انہوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دیا۔

Chapter No: 38

باب إِذَا كَانَ الْوَلِيُّ هُوَ الْخَاطِبَ

If the guardian himself is the suitor (of the lady in his charge)?

باب :ؒ اگر عورت کا ولی خود اس سے نکاح کر نا چاہے (تو کیا اپنا نکاح آپ کر لے یا دوسرے ولی سے نکاح کرائے)

وَخَطَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ امْرَأَةً هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا فَأَمَرَ رَجُلاً فَزَوَّجَهُ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ لأُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ قَارِظٍ أَتَجْعَلِينَ أَمْرَكِ إِلَىَّ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ قَدْ تَزَوَّجْتُكِ‏.‏ وَقَالَ عَطَاءٌ لِيُشْهِدْ أَنِّي قَدْ نَكَحْتُكِ أَوْ لِيَأْمُرْ رَجُلاً مِنْ عَشِيرَتِهَا‏.‏ وَقَالَ سَهْلٌ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَهَبُ لَكَ نَفْسِي فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا‏

Al-Mughira bin Shuba asked for the hand of a lady in marriage and he was the nearest guardian to her, so he asked another man to marry her to him. And Abdur Rehman bin Auf asked Umm Hakim, Qariz's daughter, "Do you entrust the question of your marriage to me?" She said, "Yes." He said to her, "I have married you." Ata said, "Let him make some people witness his saying, 'I have married you,' or ask a man from her kinsfolk (to marry her to him)." And Sahl said, "A woman said to the Prophet (s.a.w), 'I present myself (for marriage) to you.' Then a man said, 'O Allah's Messenger (s.a.w)! If you are not in need of her then please marry her to me.'"

اور مغیرہ بن شعبہ نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا اور سب سے قریب کے رشتہ دار اس عورت کے وہی تھے آخر انہوں نے ایک اور شخص (عثما ن بن ابی العاص) سے کہا اس نے ان کا نکاح پڑھا دیا اور عبد الرحمٰن نے ام حکیم بنت قارظ سے کہا تو نے اپنے نکاح کے باب میں مجھ کو مختار کیا ہے میں جس سے چاہوں تیرا نکاح کر دوں اس نے کہا ہاں۔ عبد الر حمٰن نے کہا تو میں نے خود تجھ سے نکاح کیا اور عطا بن ابی ربا ح نے کہا مرد گواہوں کے سامنے اس عورت سے کہہ دے میں نے تجھ سے نکاح کیا یا عورت کے کنبے والوں میں سے (گو دور کے رشتہ دار ہوں) کسی کو مقرر کر دے (وہ اس کا نکاح پڑھا دے ) اور سہل بن سعد ساعدی نے روایت کی ایک عورت نے نبیﷺ سے کہا میں اپنے تئیں آپ کوبخش دیتی ہوں اتنے میں ایک شخص کہنی لگا یا رسول اللہ اگر آپ کو اس کی خواہش نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیجیئے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ فِي قَوْلِهِ ‏{‏وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ، قَالَتْ هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ الرَّجُلِ، قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ، فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ، فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، فَيَحْبِسُهَا، فَنَهَاهُمُ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ‏.

Narrated By 'Aisha : (Regarding His Statement): 'They ask your instruction concerning the women. Say: Allah instructs you about them...' (4.127) It is about the female orphan who is under the guardianship of a man with whom she shares her property and he does not want to marry her and dislikes that someone else should marry her, lest he should share the property with him, so he prevents her from marrying. So Allah forbade such a guardian to do so (i.e. to prevent her from marrying).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے آیت «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن‏» "لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ان کے بارے میں تمہیں مسئلہ بتاتا ہے۔۔۔ آخر آیت تک۔ "کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی کی پروش میں ہوتی ہے اور وہ اس کے مال میں بھی شریک ہو۔وہ اس سے نکاح کرنے میں کوئی رغبت نہیں رکھتا اور نہ کسی دوسرے سے نکاح کردینا پسند کرتا، کہیں دوسرا شخص اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے اس غرض سے وہ لڑکی کو نکاح سے روکے رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس سے منع فرمادیا۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جُلُوسًا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَخَفَّضَ فِيهَا النَّظَرَ وَرَفَعَهُ فَلَمْ يُرِدْهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَعِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ مَا عِنْدِي مِنْ شَىْءٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلاَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَلاَ خَاتَمًا مِنَ حَدِيدٍ وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِي هَذِهِ فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ، وَآخُذُ النِّصْفَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ، هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏

Narrated By Sahl bin Sad : While we were sitting in the company of the Prophet a woman came to him and presented herself (for marriage) to him. The Prophet looked at her, lowering his eyes and raising them, but did not give a reply. One of his companions said, "Marry her to me O Allah's Apostle!" The Prophet asked (him), "Have you got anything?" He said, "I have got nothing." The Prophet said, "Not even an iron ring?" He Sad, "Not even an iron ring, but I will tear my garment into two halves and give her one half and keep the other half." The Prophet; said, "No. Do you know some of the Qur'an (by heart)?" He said, "Yes." The Prophet said, "Go, I have agreed to marry her to you with what you know of the Qur'an (as her Mahr)."

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبیﷺکی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون آئی اور اپنے آپ کو نبی ﷺکے لیے پیش کیا۔ آپﷺنے اس عورت کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا۔آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئے۔ نبی ﷺنے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ میرے پاس تو کچھ نہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا : کیا لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں؟ انہوں نے عرض کی :لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے۔ البتہ میں اپنی چادر کے دو ٹکڑے کردیتا ہوں ، ایک اسے دیتا ہوں اور ایک اپنے پاس رکھ لیتا ہوں۔ آپﷺنے فرمایا: نہیں ،اچھا بتاؤ تمہیں کچھ قرآن یاد ہے ؟ اس نے کہا: ہاں جی ۔ آپﷺنےفرمایا: جاؤ ، اس قرآن کے عوض میں نے اس سے تمہاری شادی کردی۔

Chapter No: 39

باب إِنْكَاحِ الرَّجُلِ وَلَدَهُ الصِّغَارَ،

Giving one's young children in marriage (is permissible).

باب : آدمی اپنے نا بالغ لڑکی کا نکاح کر دے سکتا ہے ،

لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى ‏{‏وَاللاَّئِي لَمْ يَحِضْنَ‏}‏ فَجَعَلَ عِدَّتَهَا ثَلاَثَةَ أَشْهُرٍ قَبْلَ الْبُلُوغِ

By virtue of the Statement of Allah, "... And for those who have no (monthly) courses (i.e. they are still immature) ..." (V.65:4) And the Idda for the girl before the puberty is three months.

اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے ( سورہ طلاق میں ) فر ما یا واللائی لم یحضن یعنی جن عورتوں کو ابھی حیض نہ آیا ہو ان کی بھی عدت تین مہینے ہے ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَهْىَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَأُدْخِلَتْ عَلَيْهِ وَهْىَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا‏.‏

Narrated By 'Aisha : That the Prophet married her when she was six years old and he consummated his marriage when she was nine years old, and then she remained with him for nine years (i.e., till his death).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے جب ان سے نکاح فرمایا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان کی رخصتی ہوئی تو وہ نو برس کی تھیں۔ اور آپﷺکے پاس نو برس رہیں۔

Chapter No: 40

باب تَزْوِيجِ الأَبِ ابْنَتَهُ مِنَ الإِمَامِ

The marrying of a daughter by her father to a ruler.

باب : باپ اپنی بیٹی کا نکاح مسلمانوں کے امام یا باد شاہ سے کر دے تو یہ درست ہے

وَقَالَ عُمَرُ خَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَىَّ حَفْصَةَ فَأَنْكَحْتُهُ‏

And Umar said, "The Prophet (s.a.w) asked for the hand of (my daughter) Hafsa, and I married (her to) him."

اور حضرت عمرؓ نے کہا نبیﷺ نےحفصہؓ کا پیغام دیا میں نے حفصہؓ کا نکاح آپ سے کر دیا

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَهْىَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهْىَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ‏.‏ قَالَ هِشَامٌ وَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ‏.‏

Narrated By 'Aisha : That the Prophet married her when she was six years old and he consummated his marriage when she was nine years old. Hisham said: I have been informed that 'Aisha remained with the Prophet for nine years (i.e. till his death)."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے جب ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان کی رخصتی ہوئی تو ان کی عمر نو سال تھی۔ ہشام بن عروہ نے کہا : مجھے بتایا گیا کہ وہ نبیﷺکے ساتھ نو سال تک رہیں۔

‹ First23456Last ›