Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Interpretation of Dreams (91)    كتاب التعبير

‹ First345

Chapter No: 41

باب إِذَا رَأَى أَنَّهُ أَخْرَجَ الشَّىْءَ مِنْ كُورَةٍ فَأَسْكَنَهُ مَوْضِعًا آخَرَ

If one sees in a dream that he takes something out of some place and places it at another place.

باب :اگر خواب میں یہ دیکھے کہ ایک چیز کو ایک مقام سے دوسری جگہ رکھا ۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رَأَيْتُ كَأَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ، خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ، حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ ـ وَهْىَ الْجُحْفَةُ ـ فَأَوَّلْتُ أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَيْهَا ‏"

Narrated By 'Abdullah : The Prophet said, "I saw (in a dream) a black woman with unkempt hair going out of Medina and settling at Mahai'a, i.e., Al-Juhfa. I interpreted that as a symbol of epidemic of Medina being transferred to that place (Al-Juhfa)."

ہم سے اسمعیل بن ابی اویس نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے بھائی عبد الحمید نے انہوں نے سلیمان بن بلال سے انہوں نے موسی بن عقبہ سے انہوں نے سالم بن عبد اللہ سے انہوں نے اپنے والد (عبد اللہ بن عمرؓ) سے کہ نبیﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ کالی عورت پریشان سر مدینہ سے نکل گئی اور مہیعہ(جحفہ) میں جا کر کھڑی ہوئی میں نے اس خواب کی تعبیر کی کہ مدینہ کی وبا جحفہ میں چلی گئی۔

Chapter No: 42

باب الْمَرْأَةِ السَّوْدَاءِ

A black woman in a dream

باب :کالی عورت کا خواب میں دیکھنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَدِينَةِ ‏"‏ رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ، خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ، حَتَّى نَزَلَتْ بِمَهْيَعَةَ، فَتَأَوَّلْتُهَا أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ، وَهْىَ الْجُحْفَةُ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Concerning the dream of the Prophet in Medina: The Prophet said, "I saw (in a dream) a black woman with unkempt hair going out of Medina and settling at Mahai'a. I interpreted that as (a symbol of) the epidemic of Medina being transferred to Mahai'a, namely, Al-Juhfa."

ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے کہا ہم سے موسی بن عقبہ نے کہا مجھ سے سالم بن عبد اللہ نے انہوں نے(اپنے والد) عبد اللہ بن عمرؓ سے انہوں نے نبیﷺ کا وہ خواب بیان کیا جو آپ نے مدینہ کے باب میں دیکھا تھا، آپ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ کالی عورت سر پریشان مدینہ سے نکل کر مہیعہ میں جا کر اتری میں نے اس کی یہ تعبیر دی کہ مدینہ کی وبا مہیعہ یعنی جحفہ میں پہنچی۔

Chapter No: 43

باب الْمَرْأَةِ الثَّائِرَةِ الرَّأْسِ

A lady with unkempt hair (in a dream)

باب :سر پریشان عورت خواب میں دیکھنا ۔

حَدَّثَنى إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ، خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ، حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ فَأَوَّلْتُ أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ، وَهْىَ الْجُحْفَةُ ‏"‏‏

Narrated By Salim's father : The Prophet said, "I saw (in a dream) a black woman with unkempt hair going out of Medina and settling in Mahai'a. I interpreted that as (a symbol of) epidemic of Medina being transferred to Mahai'a, namely, Al-Juhfa."

ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا کہا مجھ سے ابو بکر بن اویس نے کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے انہوں نے موسی بن عقبہ سے انہوں نے سالم سے انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمرؓ) سے کہ نبیﷺ نے فرمایا: میں نے ایک کالی عورت پریشان سر والی (خواب میں) دیکھی جو مدینہ سے نکل کر مہیعہ میں( یعنی جحفہ میں) جا کر اتری میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ مدینہ کی وبا جحفہ میں پہنچی۔

Chapter No: 44

باب إِذَا هَزَّ سَيْفًا فِي الْمَنَامِ

If someone waves a sword in a dream

باب :خواب میں تلوار ہلانا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ رَأَيْتُ فِي رُؤْيَا أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى، فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ، وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ ‏"‏‏

Narrated By Abu Musa : The Prophet said, "I saw in a dream that I waved a sword and it broke in the middle, and behold, that symbolized the casualties the believers suffered on the Day (of the battle) of Uhud. Then I waved the sword again, and it became better than it had ever been before, and behold, that symbolized the Conquest (of Mecca) which Allah brought about and the gathering of the believers."

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے برید بن عبد اللہ بن ابی بردہ سے انہوں نے اپنے دادا ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسی اشعری سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ تلوار ہلا رہا ہوں ایک ہی ایکا وہ اوپر سے ٹوٹ گئی ،پھر دوبارہ جو ہلایا تو اچھی خاصی درست ہوگئی ،اب ٹوٹنے کی تعبیر وہ ہوئی جو احد کے دن مسلمانوں پر آفت آئی (ستر مسلمان شہید ہوئے)،اور درست ہونے کی تعبیر وہ ہوئی جو اللہ تعالی نے اس کے بعد مکہ فتح کرا دیا ،مسلمانوں کا جتھا بڑھ گیا۔

Chapter No: 45

باب مَنْ كَذَبَ فِي حُلُمِهِ

Whoever tells a lie by narrating a dream which he did not see

باب :جھو ٹا خواب بیان کرنے کی سزا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ تَحَلَّمَ بِحُلُمٍ لَمْ يَرَهُ، كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ، وَلَنْ يَفْعَلَ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ أَوْ يَفِرُّونَ مِنْهُ، صُبَّ فِي أُذُنِهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً، عُذِّبِ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَصَلَهُ لَنَا أَيُّوبُ‏.‏ وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَوْلَهُ مَنْ كَذَبَ فِي رُؤْيَاهُ‏.‏ وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَوْلَهُ مَنْ صَوَّرَ، وَمَنْ تَحَلَّمَ، وَمَنِ اسْتَمَعَ‏.‏ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ‏"‏ مَنِ اسْتَمَعَ، وَمَنْ تَحَلَّمَ، وَمَنْ صَوَّرَ ‏"‏‏.‏ نَحْوَهُ‏.‏ تَابَعَهُ هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَهُ‏.‏

Narrated By Ibn Abbas : The Prophet said, "Whoever claims to have seen a dream which he did not see, will be ordered to make a knot between two barley grains which he will not be able to do; and if somebody listens to the talk of some people who do not like him (to listen) or they run away from him, then molten lead will be poured into his ears on the Day of Resurrection; and whoever makes a picture, will be punished on the Day of Resurrection and will be ordered to put a soul in that picture, which he will not be able to do."

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے ایوب سختیانی سےانہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے انہوں نے نبیﷺ سے آپ نے فرمایا : جو شخص بن دیکھے (جھوٹ) خواب بیان کرے تو (قیامت کے دن) اس کو حکم دیا جائے گا کہ دو جو کے دانوں میں گرہ دے کر جوڑے اور وہ جوڑ نہ سکے گا ( اس پر مار کھاتا رہے گا) اور جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے اور وہ اس کا سننا پسند نہ کرتے ہوں یا اس سے بھاگتے پھرتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں رانگا( سیسہ) پگھلا کر ڈالا جائے گا، اور جو شخص کسی جاندار کی صورت بنائے اس پر عذاب ہو گا اس سے کہا جائے گا اب اس میں جان بھی ڈال ، وہ ڈال نہ سکے گا سفیان نے کہا ایوب نے ہم سے یہ حدیث مو صولاً بیان کی اور قتیبہ بن سعید نے کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا انہوں نے قتادہ سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابو ہریرہؓ سے کہ ابو ہریرہؓ نے کہا جو شخص بن دیکھے ، جھوٹا خواب بیان کرے ، اخیر حدیث تک(تو حدیث کو موقوفاً نقل کیا) اور شعبہ نے ابو ہاشم رمانی (یحیی بن دینار سے ) روایت کی(اس کو اسمٰعیلی نے وصل کیا) کہا میں نے عکرمہ سے سنا کہ ابو ہریرہؓ کہتے تھے(یعنی انہی کا قول موقوفاً) جو شخص مورت بنائے جو شخص جھوٹ خواب بیان کرے جو شخص کان لگا کر دوسرے لوگوں کی بات سنے(یعنی یہی حدیث نقل کی)۔ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا کہا ہم سے خالد طحان نے انہوں نے خالد حذاء سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے انہوں نے کہا جو شخص کان لگا کر دوسرے کی بات سنے اور جو شخص جھو ٹا خواب بیان کرے، اورجو شخص مورت بنائے ایسی ہی حدیث نقل کی(موقوفاً ) ابن عباس سے خالد حذاء سے اس حدیث کو ہشام بن حسان فردوسی نے بھی عکرمہ سے انہوں نے ابن عباسؓ سے موقوفاً روایت کیا۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُرِيَ عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تَرَ ‏"‏‏

Narrated By Ibn 'Umar : Allah's Apostle said, "The worst lie is that a person claims to have seen a dream which he has not seen."

ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا کہا ہم سے عبد الصمد بن عبد الوارث نے کہا ہم سے عبدالر حمن بن عبداللہ بن دینار نے جو ابن عمرؓ کے غلام تھے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا سب بہتانوں میں بڑا بہتان یہ ہے( کہ جو خواب آنکھوں نے) نہ دیکھا ہو ، کہے کہ میری آنکھوں نے دیکھا ہے۔

Chapter No: 46

باب إِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلاَ يُخْبِرْ بِهَا وَلاَ يَذْكُرْهَا

If someone saw a bad dream which he disliked, he should not tell it to anybody, nor mention it

باب :جب کوئی برا خواب دیکھے تو کسی سے بیان نہ کرے ۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ لَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي حَتَّى سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ وَأَنَا كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي، حَتَّى سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلاَ يُحَدِّثْ بِهِ إِلاَّ مَنْ يُحِبُّ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَلْيَتْفِلْ ثَلاَثًا وَلاَ يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Salama : I used to see a dream which would make me sick till I heard Abu Qatada saying, "I too, used to see a dream which would make me sick till I heard the Prophet saying, "A good dream is from Allah, so if anyone of you saw a dream which he liked, he should not tell it to anybody except to the one whom he loves, and if he saw a dream which he disliked, then he should seek refuge with Allah from its evil and from the evil of Satan, and spit three times (on his left) and should not tell it to anybody, for it will not harm him."

ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عبد ربہ بن سعید سے کہا میں نے ابوسلمہؓ سے سنا وہ کہتے تھے میں نے ایک خواب دیکھا تھا اس کے ڈر سے بیمار ہو جاتا ہوں میں نے ابو قتادہ سے سنا وہ کہنے لگے میرا بھی یہی حال تھا کہ ایک خواب دیکھتااس کے ڈر سے بیمار ہو جاتا یہاں تک کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے ،اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے جب کوئی تم میں سے اچھا خواب دیکھے تو اس شخص سے بیان کرے جو اپنا دوست ہو ، اور جب برا خواب دیکھے تو اس کی برائی سے اور شیطان کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگے،اور تین بار (بائیں طرف) تھو تھو کرے اور کسی سے بیان نہ کرے ،ا س کو کوئی نقصان نہ ہوگا۔


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا، فَإِنَّهَا مِنَ اللَّهِ، فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا، وَلْيُحَدِّثْ بِهَا، وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ شَرِّهَا، وَلاَ يَذْكُرْهَا لأَحَدٍ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ‏"‏

Narrated By Abu Sa'id Al-Khudri : I heard Allah's Apostle saying, "If anyone of you saw a dream which he liked, then that was from Allah, and he should thank Allah for it and tell it to others; but if he saw something else, i.e. a dream which he did not like, then that is from Satan and he should seek refuge with Allah from it and should not tell it to anybody for it will not harm him."

مجھ سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن ابی حازم اور دراوردی نے انہوں نے یزید بن عبد اللہ سے انہوں نے عبداللہ بن خباب سے انہوں نے ابو سعید خدریؓ سے انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے جب کوئی تم میں سے ایسا خواب دیکھے جس کو پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، اللہ کا شکر کرے اور (اپنے دوست سے) بیان کرے اور اگر برا خواب دیکھے تو اس کی بدی سے اللہ کی پناہ مانگے اور کسی سے بیان نہ کرے اس کو کچھ نقصان نہ ہوگا۔

Chapter No: 47

باب مَنْ لَمْ يَرَ الرُّؤْيَا لأَوَّلِ عَابِرٍ إِذَا لَمْ يُصِبْ

Whoever considers the interpretation of the first interpreter of one's dream as not valid if he does not interpret it correctly.

باب :اگر پہلا تعبیر دینے والا غلط تعبیر دے تو اس کی تعبیر سے کچھ نہ ہو گا ۔

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ الأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَأَعْبُرَهَا‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اعْبُرْ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالإِسْلاَمُ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ فَالْقُرْآنُ حَلاَوَتُهُ تَنْطُفُ، فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوَصَّلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَوَاللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ تُقْسِمْ ‏"‏‏

Narrated By Ibn 'Abbas : A man came to Allah's Apostle and said, "I saw in a dream, a cloud having shade. Butter and honey were dropping from it and I saw the people gathering it in their hands, some gathering much and some a little. And behold, there was a rope extending from the earth to the sky, and I saw that you (the Prophet) held it and went up, and then another man held it and went up and (after that) another (third) held it and went up, and then after another (fourth) man held it, but it broke and then got connected again." Abu Bakr said, "O Allah's Apostle! Let my father be sacrificed for you! Allow me to interpret this dream." The Prophet said to him, "Interpret it." Abu Bakr said, "The cloud with shade symbolizes Islam, and the butter and honey dropping from it, symbolizes the Qur'an, its sweetness dropping and some people learning much of the Qur'an and some a little. The rope which is extended from the sky to the earth is the Truth which you (the Prophet) are following. You follow it and Allah will raise you high with it, and then another man will follow it and will rise up with it and another person will follow it and then another man will follow it but it will break and then it will be connected for him and he will rise up with it. O Allah's Apostle! Let my father be sacrificed for you! Am I right or wrong?" The Prophet replied, "You are right in some of it and wrong in some." Abu Bakr said, "O Allah's Prophet! By Allah, you must tell me in what I was wrong." The Prophet said, "Do not swear."

ہم سے یحیی بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے یونس سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے،ابن عباسؓ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس آٰیا(اس کا نام معلوم نہیں ہوا) کہنے لگا یا رسول اللہ میں نے رات کو خواب میں دیکھا ایک ابر کا ٹکڑا ہے اس میں سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے ۔لوگ اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں ،کسی نے بہت لیا کسی نے کم ، اتنے میں ایک رسی نمودار ہوئی جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے ،پہلے آپ آئے یا رسول اللہ اور اس رسی کوتھام کر اوپر چڑھ گئے ،پھر ایک دوسرے شخص نے رسی تھامی وہ بھی اوپر چڑھ گیا ،پھر ایک تیسرے شخص نے تھامی وہ بھی اوپر چل دیا، پھر ایک چوتھے شخص نے وہ رسی تھامی تو وہ ٹوٹ کر گر پڑی لیکن پھر جڑ گئی (وہ بھی چڑھ گیا) یہ سن کر ابو بکر صدیقؓ نے کہا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر صدقے ،خدا کی قسم اس کی تعبیر مجھے کہنے دیجئے ،آپ نے فرمایا اچھا کہہ ،انہوں نے کہا ابر کاٹکڑا دین اسلام ہے اور شہد اور گھی جو اس سے ٹپکتا ہے اس سے مراد قرآن اور اس کی شیرینی ہے اب کوئی شخص بہت قرآن سیکھتا ہے کوئی کم ، رہی رسی جو آسمان سے زمین تک لٹکتی ہے اس سے مراد وہ سچا طریق ہے جس پر آپ ہیں آپ اسی پر قائم رہیں گے یہاں تک کہ اللہ آپ کو اٹھا لے گا پھر آپ کے بعد ایک شخص اس طریق کو لے گا (جو آپ کا خلیفہ ہو گا) وہ بھی مرے تک اس طریق پر قائم رہے گا پھر ایک اور شخص لے گا اس کا بھی یہی حال ہے پھر ایک اور شخص لے گا تو اس کا معاملہ(خلافت کا) کٹ جائے گا پھر جڑ جائے گا تو وہ بھی اوپر چڑھ جائے گا یا رسول اللہ بتلائیے میں نے یہ صحیح تعبیر دی یا اس میں غللطی کی ؟آپ نے فرمایا تو نے کچھ صحیح تعبیر دی کچھ غلط دی ۔وہ کہنے لگے خدا کی قسم بتلائے میں نے کیا غلطی کی، آپ نے فرمایا کہ قسم مت کھا۔

Chapter No: 48

باب تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ

The interpretation of dreams after the Fajr prayer

باب :صبح کی نماز کے بعد ( طلوع آفتاب سے پہلے ) تعبیر دینا جائز ہے۔

حَدَّثَنِي مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ لأَصْحَابِهِ ‏"‏ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رُؤْيَا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ، وَإِنَّهُ قَالَ ذَاتَ غَدَاةٍ ‏"‏ إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ، وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي، وَإِنَّهُمَا قَالاَ لِي انْطَلِقْ‏.‏ وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، وَإِنَّا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ، وَإِذَا هُوَ يَهْوِي بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ، فَيَثْلَغُ رَأْسَهُ فَيَتَهَدْهَدُ الْحَجَرُ هَا هُنَا، فَيَتْبَعُ الْحَجَرَ فَيَأْخُذُهُ، فَلاَ يَرْجِعُ إِلَيْهِ حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ، فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الأُولَى‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَهُمَا سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ قَالَ قَالاَ لِي انْطَلِقْ ـ قَالَ ـ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ، وَإِذَا هُوَ يَأْتِي أَحَدَ شِقَّىْ وَجْهِهِ فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمَنْخِرَهُ إِلَى قَفَاهُ وَعَيْنَهُ إِلَى قَفَاهُ ـ قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ أَبُو رَجَاءٍ فَيَشُقُّ ـ قَالَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الآخَرِ، فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الأَوَّلِ، فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ ذَلِكَ الْجَانِبُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الأُولَى‏.‏ قَالَ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ قَالَ قَالاَ لِي انْطَلِقْ‏.‏ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ التَّنُّورِ ـ قَالَ فَأَحْسِبُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ـ فَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ ـ قَالَ ـ فَاطَّلَعْنَا فِيهِ، فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ، وَإِذَا هُمْ يَأْتِيهِمْ لَهَبٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ ضَوْضَوْا ـ قَالَ ـ قُلْتُ لَهُمَا مَا هَؤُلاَءِ قَالَ قَالاَ لِي انْطَلِقِ انْطَلِقْ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ ـ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ـ أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ، وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ سَابِحٌ يَسْبَحُ، وَإِذَا عَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ حِجَارَةً كَثِيرَةً، وَإِذَا ذَلِكَ السَّابِحُ يَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ، ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الَّذِي قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ الْحِجَارَةَ فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا فَيَنْطَلِقُ يَسْبَحُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ، كُلَّمَا رَجَعَ إِلَيْهِ فَغَرَ لَهُ فَاهُ فَأَلْقَمَهُ حَجَرًا ـ قَالَ ـ قُلْتُ لَهُمَا مَا هَذَانِ قَالَ قَالاَ لِي انْطَلِقِ انْطَلِقْ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلاً مَرْآةً، وَإِذَا عِنْدَهُ نَارٌ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا ـ قَالَ ـ قُلْتُ لَهُمَا مَا هَذَا قَالَ قَالاَ لِي انْطَلِقِ انْطَلِقْ‏.‏ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ مُعْتَمَّةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ، وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَىِ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ طَوِيلٌ لاَ أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولاً فِي السَّمَاءِ، وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ ـ قَالَ ـ قُلْتُ لَهُمَا مَا هَذَا مَا هَؤُلاَءِ قَالَ قَالاَ لِي انْطَلِقِ انْطَلِقْ‏.‏ ـ قَالَ ـ فَانْطَلَقْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ عَظِيمَةٍ لَمْ أَرَ رَوْضَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلاَ أَحْسَنَ‏.‏ ـ قَالَ ـ قَالاَ لِي ارْقَ فِيهَا‏.‏ قَالَ فَارْتَقَيْنَا فِيهَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ وَلَبِنِ فِضَّةٍ، فَأَتَيْنَا باب الْمَدِينَةِ فَاسْتَفْتَحْنَا فَفُتِحَ لَنَا، فَدَخَلْنَاهَا فَتَلَقَّانَا فِيهَا رِجَالٌ شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ ـ قَالَ ـ قَالاَ لَهُمُ اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ‏.‏ قَالَ وَإِذَا نَهَرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّ مَاءَهُ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ، فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا قَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ، فَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ـ قَالَ ـ قَالاَ لِي هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ، وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ‏.‏ قَالَ فَسَمَا بَصَرِي صُعُدًا، فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ ـ قَالَ ـ قَالاَ هَذَاكَ مَنْزِلُكَ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَهُمَا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا، ذَرَانِي فَأَدْخُلَهُ‏.‏ قَالاَ أَمَّا الآنَ فَلاَ وَأَنْتَ دَاخِلُهُ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَهُمَا فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا، فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ قَالَ قَالاَ لِي أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ، أَمَّا الرَّجُلُ الأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ وَيَنَامُ عَنِ الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمَنْخِرُهُ إِلَى قَفَاهُ، وَعَيْنُهُ إِلَى قَفَاهُ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ فَيَكْذِبُ الْكَذْبَةَ تَبْلُغُ الآفَاقَ، وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ فَإِنَّهُمُ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي‏.‏ وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يَسْبَحُ فِي النَّهَرِ وَيُلْقَمُ الْحَجَرَ، فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا، وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا، فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي فِي الرَّوْضَةِ فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ صلى الله عليه وسلم وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلاَدُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَوْلاَدُ الْمُشْرِكِينَ‏.‏ وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنًا وَشَطَرٌ مِنْهُمْ قَبِيحًا، فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ خَلَطُوا عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، تَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‏"

Narrated By Samura bin Jundub : Allah's Apostle very often used to ask his companions, "Did anyone of you see a dream?" So dreams would be narrated to him by those whom Allah wished to tell. One morning the Prophet said, "Last night two persons came to me (in a dream) and woke me up and said to me, 'Proceed!' I set out with them and we came across a man Lying down, and behold, another man was standing over his head, holding a big rock. Behold, he was throwing the rock at the man's head, injuring it. The rock rolled away and the thrower followed it and took it back. By the time he reached the man, his head returned to the normal state. The thrower then did the same as he had done before. I said to my two companions, 'Subhan Allah! Who are these two persons?' They said, 'Proceed!' So we proceeded and came to a man Lying flat on his back and another man standing over his head with an iron hook, and behold, he would put the hook in one side of the man's mouth and tear off that side of his face to the back (of the neck) and similarly tear his nose from front to back and his eye from front to back. Then he turned to the other side of the man's face and did just as he had done with the other side. He hardly completed this side when the other side returned to its normal state. Then he returned to it to repeat what he had done before. I said to my two companions, 'Subhan Allah! Who are these two persons?' They said to me, 'Proceed!' So we proceeded and came across something like a Tannur (a kind of baking oven, a pit usually clay-lined for baking bread)." I think the Prophet said, "In that oven t here was much noise and voices." The Prophet added, "We looked into it and found naked men and women, and behold, a flame of fire was reaching to them from underneath, and when it reached them, they cried loudly. I asked them, 'Who are these?' They said to me, 'Proceed!' And so we proceeded and came across a river." I think he said, "...red like blood." The Prophet added, "And behold, in the river there was a man swimming, and on the bank there was a man who had collected many stones. Behold. while the other man was swimming, he went near him. The former opened his mouth and the latter (on the bank) threw a stone into his mouth whereupon he went swimming again. He returned and every time the performance was repeated, I asked my two companions, 'Who are these (two) persons?' They replied, 'Proceed! Proceed!' And we proceeded till we came to a man with a repulsive appearance, the most repulsive appearance, you ever saw a man having! Beside him there was a fire and he was kindling it and running around it. I asked my companions, 'Who is this (man)?' They said to me, 'Proceed! Proceed!' So we proceeded till we reached a garden of deep green dense vegetation, having all sorts of spring colours. In the midst of the garden there was a very tall man and I could hardly see his head because of his great height, and around him there were children in such a large number as I have never seen. I said to my companions, 'Who is this?' They replied, 'Proceed! Proceed!' So we proceeded till we came to a majestic huge garden, greater and better than I have ever seen! My two companions said to me, 'Go up and I went up' The Prophet added, "So we ascended till we reached a city built of gold and silver bricks and we went to its gate and asked (the gatekeeper) to open the gate, and it was opened and we entered the city and found in it, men with one side of their bodies as handsome as the handsomest person you have ever seen, and the other side as ugly as the ugliest person you have ever seen. My two companions ordered those men to throw themselves into the river. Behold, there was a river flowing across (the city), and its water was like milk in whiteness. Those men went and threw themselves in it and then returned to us after the ugliness (of their bodies) had disappeared and they became in the best shape." The Prophet further added, "My two companions (angels) said to me, 'This place is the Eden Paradise, and that is your place.' I raised up my sight, and behold, there I saw a palace like a white cloud! My two companions said to me, 'That (palace) is your place.' I said to them, 'May Allah bless you both! Let me enter it.' They replied, 'As for now, you will not enter it, but you shall enter it (one day) I said to them, 'I have seen many wonders tonight. What does all that mean which I have seen?' They replied, 'We will inform you: As for the first man you came upon whose head was being injured with the rock, he is the symbol of the one who studies the Qur'an and then neither recites it nor acts on its orders, and sleeps, neglecting the enjoined prayers. As for the man you came upon whose sides of mouth, nostrils and eyes were torn off from front to back, he is the symbol of the man who goes out of his house in the morning and tells so many lies that it spreads all over the world. And those naked men and women whom you saw in a construction resembling an oven, they are the adulterers and the adulteresses;, and the man whom you saw swimming in the river and given a stone to swallow, is the eater of usury (Riba) and the bad looking man whom you saw near the fire kindling it and going round it, is Malik, the gatekeeper of Hell and the tall man whom you saw in the garden, is Abraham and the children around him are those children who die with Al-Fitra (the Islamic Faith)." The narrator added: Some Muslims asked the Prophet, "O Allah's Apostle! What about the children of pagans?" The Prophet replied, "And also the children of pagans." The Prophet added, "My two companions added, 'The men you saw half handsome and half ugly were those persons who had mixed an act that was good with another that was bad, but Allah forgave them.'"

ہم سے ابو ہشام مومل بن ہشام نے بیان کیا ،کہا ہم سے اسمعیل بن ابراہیم نے کہا ہم سے عوف اعرابی نے کہا ہم سے ابو رجاء نے کہا ہم سے سمرہ بن جندبؓ نے انہوں نے کہا رسول اللہﷺ اپنے اصحاب سے پوچھا کرتے کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ، سمرہؓ کہتے ہیں پھر اللہ تعالی جس کے لیے چاہتا وہ اپنا خواب بیان کرتا ایک دن صبح کے وقت ایسا ہوا آپﷺ نے فرمایا گذشتہ رات میرے پاس دو فرشتے آئے (جبریلؑ اور میکائیلؑ) دونوں نے مجھ کو اٹھایا کہنے لگے چلو، میں ان کے ساتھ چلا ، ایک آدمی کے پاس پہنچے وہ کروٹ پر لیٹا ہے اور ایک دوسرا شخص(فرشتہ) پتھر لئے اس کے سر پر کھڑا ہے وہ کیا کرتا ہے جھک کر اس کا سر پتھر سے کچل ڈالتا ہے اور پتھر ڈھلک کر ادھر آجاتا ہے وہ شخص(فرشتہ) پتھر کو سنبھالنے کے لئے جاتا ہے اور جب پتھر لے کر آئے اس لیٹے ہوئے کا سر جڑ کر جیسے پہلے تھا وہ ویسا ہی درست ہو جاتاہے ،وہ پھر پتھر مار کر اس کا سر کچل دیتا (ایسا ہی برابر ہو رہا ہے) میں نے ان فرشتوں سے پوچھا سبحان اللہ ! یہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا چلو چلو (ابھی نہ پوچھو) خیر ہم (تینوں )پھر چلے ،اور ایک شخص پر پہنچے جو چت لیٹا ہوا ہے اور اس کے پاس ایک اور شخص (فرشتہ)لوہے کی سنسی لئے کھڑا ہے وہ کیا کرتا ہے اس کے منہ کے ایک طرف جاکر اس کا کل پھڑا گدی تک پھاڑ دیتا ہے اور نتھنی، اور آنکھ کو بھی اسی طرح چیر دیتا ہے۔عوف اعرابی نے کہا کبھی ابو رجاء راوی نے اس حدیث میں بجائے فیشر شر کے فیشق کہا ہے (معنی ایک ہی ہیں) پھر منہ کی دوسری طرف جا کر بھی ایسا ہی کرتا ہے اور جب ایک طرف کا چیرتا ہے تو دوسری طرف کا بالکل درست ہو کر اپنی اصلی حالت میں آجاتا ہے پھر اس کو چیرتا ہے تو یہ درست ہو جاتا ہے (ایسا ہی برابر ہو رہا ہے) میں نے( اپنے سا تھ والے) فرشتوں سے پوچھا ۔سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا چلو چلو (ابھی کچھ مت پوچھو) خیر پھر ہم تینوں چلے ایک گڈھے پر پہنچے جو تندور کی طرح تھا ۔سمرہ بن جندبؓ کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا اس تندور میں غل اور شور ہو رہا تھا ،ہم نے جو جھانک کر دیکھا تو اس میں مرد اور عورتیں ہیں لیکن سب ننگے(برہنہ) اور جب ان کے نیچے سے آگ کی ڈیک (لپٹ) ان پر آتی ہے تو وہ چلاتے ہیں میں نے اپنے ساتھ والے فرشتوں سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا چلو چلو (ابھی کچھ نہ پوچھو) خیر ہم پھر تینوں چلے اور ایک ندی پر پہنچے ،سمرہ کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ آپﷺ نے فرمایا اس کا پانی خون کی طرح لال تھا اور ایک شخص اس ندی میں تیر رہا تھا ندی کے کنارے ایک اور شخص کھڑا تھا جس نے اپنے سامنے بہت سے پتھر اکٹھے کر رکھے تھے یہ شخص جو ندی میں تیر رہا تھا،تیرتے تیرتے اس کنارے والے شخص کے پاس آتا اور اپنا منہ کھول دیتا ۔وہ اس کے منہ میں ایک پتھر دے دیتا تو پھر ندی میں چل دیتا ،پھر لوٹ کر آتا تو کنارے والا شخص ایک اور پتھر اس کے منہ میں دے دیتا ،غرض جب لوٹ کر آتا یہی ہوتا ۔میں نے ( اپنے ساتھ والے فرشتوں سے) پوچھا یہ دونوں کون ہیں ؟ انہوں نے کہا چلو چلو (ابھی کچھ نہ پوچھو) خیر پھر ہم تینوں چلے ،۔ چلتے چلتے ایک نہایت بد صورت بد شکل مرد کے پاس پہنچے ،بہت ہی بد صورت جو تم نے کبھی نہ دیکھا ہو وہ کیا کر رہا تھا آگ سلگا رہا تھا اور اس کے گرد دوڑ رہاتھا ،میں نے اپنے ساتھ والے فرشتوں سے پوچھا یہ کون ہے؟انہوں نے کہا چلو چلو(ابھی کچھ نہ پوچھو) خیر ہم تینوں چلتے چلتے ایک بہت گھنے سبز باغیچے پر پہنچے اس میں ہمہ قسم کے پھول تھے ،اس کے بیچا بیچ ایک لمبے قد کا آدمی تھا ،اتنا لمبا کہ مجھ کو اس کا سر دیکھنا مشکل ہو گیا اور اس کے گردا گرد بہت سے لڑکے جمع ہیں اتنے بہت سے لڑکے میں نے کبھی نہیں دیکھے میں نے اپنے ساتھ والے فرشتوں سے پوچھایہ لمبا شخص کون ہے اور یہ لڑکے کون ہیں؟ انہوں نے کہا چلو چلو (ابھی کچھ نہ پوچھو) خیر پھر ہم تینوں چلے اور ایک بڑے باغ پر ایسا بڑا اور عمدہ باغ میں نے کبھی نہیں دیکھا میرے ساتھ والے فرشتوں نے کہا، (اس باغ میں ایک درخت تھا) اس پر چڑھ جا ، ہم تینوں اس پر چڑھ گئے اور جاتے جاتے ایک شہر پر پہنچے جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنایا گیا تھا ہم نے اس شہر کے دروازے پر آکر دروازے کو کھلوایا، دروازہ کھولا گیا، ہم اس کے اندر گئے وہاں ہم کو ایسے آدمی ملے کہ ان کا آدھا دھڑ تو نہایت خوبصورت بہت ہی خوبصورت جو تم نے کبھی دیکھا ہو۔اور آدھا دھڑ بد صورت بہت بد صورت جو تم نے کبھی دیکھا ہو ۔ میرے ساتھ والے فرشتوں نےان سے کہا جاؤ اس ندی میں گر پڑو( غوطہ لگاؤ) وہاں ایک اور ندی دکھائی دی جو ارض میں بہہ رہی تھی اس کا پانی دودھ کی طرح سفید تھا۔ غرض یہ آدمی اس ندی میں کود پڑے پھر جو لوٹ کر ہمارے پاس آئے تو ان کی بد صورتی بالکل جاتی رہی اور ان کا سارا دھڑ نہایت خوبصورت ہو گیا اب میرے ساتھ والےفرشتے کہنے لگےیہ شہر جنۃ العدن ہے ( ہمیشہ رہنے کا باغ) اور یہی تمھارا مقام ہے اور میری آنکھ جو اوپر اٹھی تو دیکھتا ہوں ، ایک محل ہے سفید ابر کی طرح ان فرشتوں نے کہا یہ تمھارا گھر ہے ،میں نے کہا اللہ تم کو برکت دے، مجھ کو چھوڑو میں اپنے گھر میں جاؤں انہوں نے کہا نہیں ابھی تم اس گھر میں نہیں جا سکتے ( تمہاری دنیا میں رہنے کی عمر ابھی باقی ہے) لیکن (عنقریب مرنے کے بعد) تم اس میں داخل ہو گے ۔ میں نے کہا اچھا خیر، اس رات کو میں نے جو عجیب عجیب باتیں دیکھی ہیں ان کی حقیقت بیان کر، انہوں نے کہا ہاں اب ہم تم سے اس کی حقیقت بیان کرتے ہیں، پہلا شخص جو تم نے دیکھا جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جس نے دنیا میں قرآن سیکھ کر اس کو چھوڑ دیا تھا ، فرض نماز کا وقت قضاء ہو جاتا وہ سوتا پڑا رہتا۔ اور جس شخص کے گلپھڑے اور نتھنے اور آنکھیں گدی تک چیر رہے تھے وہ دنیا میں کیا کرتا تھا ، صبح کو گھر سے نکلتے ہی ایک جھوٹی خبر تراشتا ( لوگوں سے کہتا) وہ خبر سارے جہان میں پھیل جاتی ۔ اور ننگے مرد اور عورت جو تم نے تندور میں دیکھے وہ زنا کرنے والے اور زنا کرنے والیاں ہیں اور وہ شخص جو ندی میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر دیے جاتے تھے وہ سود خور ہے۔ اور وہ بد صورت شخص جو آگ سلگا رہا تھا اور اس کے گرد دوڑ رہا تھا وہ دوزخ کا داروغہ ہے مالک نامی اور وہ لمبا شخص جو با غیچہ میں ملا تھا وہ ابراہیم علیہ السلام پیغمبر ہیں، ان کے گرد وہ لوگ ہیں جو اسلام کی فطرت پر مرے (یعنی توحید پر) سمرہ کہتے ہیں بعضے مسلمانوں نے آپﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ اور مشرکوں کے بچے جو نابالغ مرتے ہیں وہ بھی ان میں داخل ہیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں مشرکوں کے بچے بھی ۔ اب رہے وہ لوگ جن کا آدھا دھڑ خوبصورت تھا اور آدھا دھڑ بدصورت ، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے( دنیا میں) اچھے اور برے سب طرح کے کام کیے، اللہ تعالی نے ان کے قصور معاف کر دیے ۔

‹ First345