Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Book of Provision (69)    كتاب النفقات

12

Chapter No: 11

باب كِسْوَةِ الْمَرْأَةِ بِالْمَعْرُوفِ

Providing one's wife with clothes reasonably.

باب: عورتوں کو دستور کے موافق کپڑا دینا چاہئیے

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ آتَى إِلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حُلَّةً سِيَرَاءَ فَلَبِسْتُهَا، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَشَقَّقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي‏.

Narrated By 'Ali : The Prophet gave me a silk suit and I wore it, but when I noticed anger on his face, I cut it and distributed it among my women-folk.

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا کہا مجھ سے عبدالملک بن میسرہ نے خبر دی کہا میں نے زید بن وہب سے سنا انہوں نے حضرت علیؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺ کےپاس کسی نے ایک ریشمی جوڑا(تحفہ کے طور پر)بھیجا میں نے پہن لیا پھر کیا دیکھتا ہوں کہ نبیﷺ کے مبارک چہرے پر غصہ ہے میں نے اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا ۔

Chapter No: 12

باب عَوْنِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا فِي وَلَدِهِ

A lady should help her husband in looking after his children.

باب :عورت اپنے خاوند کی مدد اس کی اولاد کی پرورش میں کر سکتی ہے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ خَيْرًا‏.

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : My father died and left seven or nine girls and I married a matron. Allah's Apostle said to me, "O Jabir! Have you married?" I said, "Yes." He said, "A virgin or a matron?" I replied, "A matron." he said, "Why not a virgin, so that you might play with her and she with you, and you might amuse her and she amuse you." I said, " 'Abdullah (my father) died and left girls, and I dislike to marry a girl like them, so I married a lady (matron) so that she may look after them." On that he said, "May Allah bless you," or "That is good."

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے عمروبن دینار سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے انہوں نے کہا میرے باپ مر گئے (جنگ احد میں شہید ہوئے)اور سات یا نو بیٹیاں(میری بہنیں)چھوڑ گئے میں نے ایک ایسی عورت سے نکاح کیا جو خاوند کر چکی تھی۔رسول اللہﷺ نے مجھ سے پوچھا جابر کیا تو نے نکاح کیا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں آپﷺ نے فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے میں نے کہا بیوہ سے آپﷺ نے فرمایا کنواری سے کیوں نہ کیا وہ تجھ سے کھیلتی تو اس سے کھیلتا وہ تجھ سے ہنسی دل لگی کرتی تو اس سے ہنسی دل لگی کرتا میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میرے باپ مر گئے اور(چھوٹی چھوٹی)بیٹیاں چھوڑ گئے میں نے ایک لڑکی انہی کی طرح کی بیاہ کرنا مناسب نہ سمجھا بلکہ میں نے ایسی عورت کی جو ان کی خبر رکھے اور ان کو درست کرے(آداب سکھائے)آپﷺ نے فرمایا اللہ تجھ کو برکت یا بھلائی عطا فرمائے۔

Chapter No: 13

باب نَفَقَةِ الْمُعْسِرِ عَلَى أَهْلِهِ

The expenditures of a poor man on his family.

باب :ؒمفلس آدمی کو بھی (جب کچھ ملے ) تو اپنی بی بی کو دکھلانا واجب ہے ۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ فَقَالَ هَلَكْتُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلِمَ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَعْتِقْ رَقَبَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ لَيْسَ عِنْدِي‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ أَسْتَطِيعُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ أَجِدُ‏.‏ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ ‏"‏‏.‏ قَالَ هَا أَنَا ذَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهَذَا ‏"‏‏.‏ قَالَ عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ قَالَ ‏"‏ فَأَنْتُمْ إِذًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : A man came to the Prophet and said, "I am ruined!" The Prophet said, "Why?" He said, "I had sexual intercourse with my wife while fasting (in the month of Ramadan)." The Prophet said to him, "Manumit a slave (as expiation)." He replied, "I cannot afford that." The Prophet said, "Then fast for two successive months." He said, "I cannot." The Prophet said, "Then feed sixty poor persons." He said, "I have nothing to do that." In the meantime a basket full of dates was brought to the Prophet. He said, "Where is the questioner." The man said, "I am here." The Prophet said (to him), "Give this (basket of dates) in charity (as expiation)." He said, "O Allah's Apostle! Shall I give it to poorer people than us? By Him Who sent you with the Truth, there is no family between Medina's two mountains poorer than us." The Prophet smiled till his pre-molar teeth became visible. He then said, "Then take it."

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے کہا ہم سے ابن شہاب نے انہوں نے حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے انہوں نے ابوہریرہؓ سےانہوں نے کہا نبیﷺ کے پاس ایک آدمی آیا (سلمہ یا سلمان بن صخریا اور کوئی)اور کہنے لگا یا رسولﷺ میں تو تباہ ہو گیا۔آپؐ نے فرمایا کیوں کیا ہوا؟کہہ تو۔ وہ کہنے لگا میں رمضان میں اپنی بی بی پر چڑھ بیٹھا(یعنی دن کو روزے میں)آپؐ نے فرمایا تو پھر(کفارہ دے)ایک بردہ آزاد کر۔وہ کہنے لگا بردے کا تو مجھ کو مقدور نہیں۔آپؐ نے فرمایا اچھا دو مہینے لگاتار روزے رکھ وہ کہنے لگا یہ بھی مجھ سے نہیں ہو سکتا آپؐ نے فرمایا اچھا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا وہ کہنے لگا اس کا بھی مجھ کو مقدور نہیں پھر ایسا ہوا کہ نبیﷺکے پاس کھجور کا ایک تھیلا آیا آپؐ نے(لوگوں سے)پوچھا وہ فتوی پوچھنے والا کہاں گیا؟اس نے عرض کیا حاضر ہوں یا رسولﷺ ! آپؐ نے فرمایا لے یہ کھجور لے جا اور(کفارہ میں)خیرات کر دے وہ کہنے لگا یا رسولﷺ اس کو خیرات کروں نا جو مجھ سے بڑھ کر محتاج ہو قسم اس پروردگار کی جس نے آپؐ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں میں کوئی گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے یہ سن کر آپؐ ہنس دیے اتنا ہنسے کہ آپؐ کی کچلیاں کھل اٹھیں اور فرمایا پھر تو تم ہی(میاں بی بی)اس کے زیادہ حق دار ہو ۔

Chapter No: 14

باب ‏{‏وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ‏}‏

"And on the (father's) heir is incumbent the like of that (which was incumbent on the father)" (V.2:233)

باب :اللہ تعالیٰ کا (سورت بقرہ میں ) یہ فرمانا تو بچے کے وارث (مثلا بھائی چچا وغیرہ ) پر بھی لازم ہے،

وَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْهُ شَىْءٌ ‏{‏وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ‏}‏‏.‏

And is woman chargeable with any thing thereof? And Allah said, "Allah puts forward an example of two men, one of them dumb ..." (V.16:76)

اور اللہ تعالیٰ نے (سورت نحل میں ) فرمایا اللہ دو مردوں کی مثال بیان کرتا ہے ایک تو گونگا ہے جو کچھ قدرت نہیں رکھتا اخیر آیت صراط مستیقم تک)

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ، وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا، إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ‏.‏ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ لَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ ‏"

Narrated By Um Salama : I said, "O Allah's Apostle! Shall I get a reward (in the Hereafter) if I spend on the children of Abu Salama and do not leave them like this and like this (i.e., poor) but treat them like my children?" The Prophet said, "Yes, you will be rewarded for that which you will spend on them."

ہم سے موسی بن اسمعیل نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب بن خالد نے کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی انہوں نے اپنے والد سے انھوں نے زینب بنت ابی سلمہؓ سے انہوں نے ام المومنین ام سلمہؓ سے انہوں نے کہا میں نے عرض کیا یا رسولﷺ اگر میں ابو سلمہ(اگلے خاوند )کے بیٹوں پر کچھ خرچ کروں تو مجھ کو ثواب ملے گا اور میں انکی خبر گیری کیسے چھوڑ دوں آخر وہ میرے ہی پیٹ کی اولاد ہیں آپﷺ نے فرمایا بیشک تو جو ان پر خرچ کرے گی اس کا تجھ کو ثواب ملے گا ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هِنْدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِينِي وَبَنِيَّ قَالَ ‏"‏ خُذِي بِالْمَعْرُوفِ ‏"‏‏

Narrated By 'Aisha : Hind (bint 'Utba) said, "O Allah's Apostle! Abu Sufyan is a miser. Is there any harm if I take of his property what will cover me and my children's needs?" The Prophet said, "Take (according to your needs) in a reasonable manner."

ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے انہوں نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا ہندہ کہنے لگی یا رسولﷺ ابو سفیانؓ(میرا خاوند)ایک ہی بخیل آدمی ہے۔اگر میں اپنے اور اپنے بیٹوں کی ضرورت کے موافق اس کے مال میں سے لوں تو مجھ پر کچھ گناہ تو نہ ہو گا آپؐ نے فرمایا دستور کے موافق تو لے سکتی ہے

Chapter No: 15

باب قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ تَرَكَ كَلاًّ أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَىَّ ‏"‏‏.

The statement of the Prophet (s.a.w), "If one dies leaving debts to be repaid or dependants to be taken care of, it is for me (to pay the debts and look after the needy dependants)."

باب : نبیﷺ کایہ فرمانا جو شخص مر جائے اور قرض کا بوجھ یا بال بچے چھوڑ جائے تو ان کا بندوبست مجھ پر (یعنی میرے ذمہ ) ہے ۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ، فَيَسْأَلُ ‏"‏ هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ فَضْلاً ‏"‏‏.‏ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى، وَإِلاَّ قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ ‏"‏ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ ‏"‏ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَىَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : A dead man in debt used to be brought to Allah's Apostle who would ask, "Has he left anything to re pay his debts?" If he was informed that he had left something to cover his debts the Prophet would offer the funeral prayer for him; otherwise he would say to the Muslims present there), "Offer the funeral prayer for your friend: "but when Allah helped the Prophet to gain victory (on his expeditions), he said, "I am closer to the Believers than themselves, so. if one of the Believers dies in debt, I will repay it, but if he leaves wealth, it will be for his heirs.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہؓ سے کہ رسول اللہﷺکے پاس جب ایسے شخص کا جنازہ لایا جاتا جو قرض دار مرتا تو آپؐ پوچھتے اس نے قرض ادا ہونے کے موافق جائیداد چھوڑی ہے یا نہیں اگر لوگ کہتے چھوڑی ہے تو آپؐ اس پر(جنازے کی)نماز پڑھتے ورنہ صحابہؓ سے فرما دیتے تم اپنے ساتھی پر نماز پڑھ لو(آپؐ نہ پڑھتے )پھر جب اللہ تعالی نے آپؐ کو ملک کے ملک فتح کرا دیے(اورروپیہ آنے لگا)تو آپؐ نے فرمایا مومنوں کا خیال مجھ کو ان کی ذات سے زیادہ ہے اب اگر کوئی مومن مر جائے اور قرضہ چھوڑ جائے(جائیداد نہ چھوڑے)تو اس کا قرضہ میرے ذمہ اور جو مومن جائیداد چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کی ہے ۔

Chapter No: 16

باب الْمَرَاضِعِ مِنَ الْمَوَالِيَاتِ وَغَيْرِهِنَّ

Freed female slaves or any other women can between nurses.

باب: آزاد اور لونڈی دونوں انا ہو سکتی ہیں (دودھ پلا سکتی ہیں )

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ أُخْتِي ابْنَةَ أَبِي سُفْيَانَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ ذَلِكَ لاَ يَحِلُّ لِي ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ إِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ بَنَاتِكُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِكُنَّ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ عُرْوَةُ ثُوَيْبَةُ أَعْتَقَهَا أَبُو لَهَبٍ‏.‏

Narrated By Um Habiba : (The wife of the Prophet) I said, "O Allah's Apostle! Will you marry my sister, the daughter of Abu Sufyan." The Prophet said, "Do you like that?" I said, "Yes, for I am not your only wife, and the person I like most to share the good with me, is my sister." He said, "That is not lawful for me." I said, "O Allah's Apostle! We have heard that you want to marry Durra, the daughter of Abu Salama." He said, "You mean the daughter of Um Salama?" I said, "Yes." He said, "Even if she were not my step-daughter, she is unlawful for me, for she is my foster niece. Thuwaiba suckled me and Abu Salama. So you should not present to me your daughters and sisters." Narrated 'Ursa: Thuwaiba had been a slave girl whom Abu Lahab had emancipated.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے انہوں نے عقیل سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی ان کو زینب بنت ابی سلمہؓ نے ان سے ام المومنین ام حبیبہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا یا رسولﷺ آپؐ میری بہن(عزہ)سے نکاح کر لیجئے جو ابو سفیان کی بیٹی ہے آپؐ نے فرمایا تجھ کو یہ پسند آئے گا میں نے کہا جی ہاں میں کچھ اکیلی آپ کے پاس تھوڑی ہوں پھر اگر میری بہن کو فائدہ پہنچے تو غیروں سے تو مجھ کو اچھا لگے گا آپؐ نے فرمایا یہ تو خیر مگر عزہ(تیری بہن)سے نکاح کرنا مجھ کو درست کہاں ہے ، پھر میں نے کہا پروردگار کی قسم ہم لوگ تو یہ باتیں کر رہے تھے کہ آپ درہ ابو سلمہؓ کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں آپ نے فرمایا ام سلمہؓ کی بیٹی سے میں نے کہا جی ہاں،آپؐ نے فرمایا وہ تو میری ربیبہ ہے(اگر میری ربیبہ نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے درست نہ ہوتی وہ تو میرے دودھ بھائی کی بیٹی ہے مجھ کو اور ابو سلمہ دونوں کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے( جو ابو لہب کی لونڈی تھی) تو ایسا مت کیا کرو اپنی بیٹیوں یا بہنوں کا ذکر مجھ سے نہ کیا کرو عروہ نے کہا ثوبیہ کو ابو لہب نے ( آپؐ کی ولادت کی خوشی میں آزاد کر دیا تھا)

12