Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Umra (26)    أبواب العمرة

12

Chapter No: 11

باب مَتَى يَحِلُّ الْمُعْتَمِرُ

When should a person performing Umrah finish his Ihram?

باب: عمرہ کرنے والا احرام سے کب نکلتا ہے ؟

وَقَالَ عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ رضى الله عنه أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا‏

Jabir said, "The Prophet (s.a.w) ordered his Companions to perform Umrah (with the Ihram they intended for Hajj) and to perform the Tawaf and then cut short their hair and finish the Ihram"

اور عطاء بن ابی رباح نے جابرؓ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ حج کو عمرہ کر ڈالیں اور (بیت اللہ صفا مروہ کا ) طواف کر کے بال کتروائیں احرام سے نکل جائیں۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاعْتَمَرْنَا مَعَهُ فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ، وَأَتَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ وَأَتَيْنَاهَا مَعَهُ، وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ‏.‏ فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ لِي أَكَانَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ لاَ‏

Narrated By Isma'il : Abdullah bin Abu Aufa said: "Allah's Apostle performed 'Umra and we too performed 'Umra along with him. When he entered Mecca he performed the Tawaf (of Ka'ba) and we too performed it along with him, and then he came to the As-Safa and Al-Marwa (i.e. performed the Sai) and we also came to them along with him. We were shielding him from the people of Mecca lest they may hit him with an arrow." A friend of his asked him (i.e. 'Abdullah bin Aufa), "Did the Prophet enter the Ka'ba (during that 'Umra)?" He replied in the negative.

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺنے عمرہ کیا اور ہم نے بھی آپﷺکے ساتھ عمرہ کیا، جب آپﷺ مکہ پہنچے تو طواف کیا ہم نے بھی آپﷺ کے ساتھ طواف کیا اور آپﷺ صفا مروہ پر تشریف لے گئے ہم بھی آپﷺ کے ساتھ گئےاور ہم آپﷺ پر آڑ کئے ہوئے تھے ایسا نہ ہو کہ کوئی مکہ والا (کافر) آپﷺ کو تیر مارے میرے ایک ساتھی نے ابن ابی اوفیٰ سے پوچھا کیا آپﷺ کعبہ کے اندر بھی گئے تھے انہوں نے کہا: نہیں۔


قَالَ فَحَدِّثْنَا مَا، قَالَ لِخَدِيجَةَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بَشِّرُوا خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ ‏"‏‏.

Then he said, "What did he (the Prophet) say about Khadija?" He (Abdullah bin Aufa) said, "(He said) 'Give Khadija the good tidings that she will have a palace made of Qasab in Paradise and there will be neither noise nor any trouble in it."

پھر اس نے کہا: اچھا بیان کرو آپﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کےلیے کیا فرمایا تھا انہوں نے کہا: یہ فرمایا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں ایک گھر کی خوشخبری دو جو خولدار موتی کا ہے نہ اس میں شوروغل ہے نہ کوئی تکلیف۔


حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنْ رَجُلٍ، طَافَ بِالْبَيْتِ فِي عُمْرَةٍ، وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‏

Narrated By 'Amr bin Dinar : We asked Ibn 'Umar whether a man who had performed the Tawaf of the Ka'ba but had not performed the Tawaf between As-Safa and Al-Marwa yet, was permitted to have sexual relation with his wife. He replied, "The Prophet arrived (at Mecca) and circumambulated the Ka'ba seven times and then offered a two Rak'at prayer behind Maqam-lbrahim and then performed the going (Tawaf) between As-Safa and Al-Marwa (seven times) (and verily, in Allah's Apostle you have a good example."

عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اگر کوئی شخص عمرہ میں بیت اللہ کا طواف کرے لیکن صٖفا مروہ کی سعی نہ کرے وہ اپنی عورت سے صحبت کرسکتا ہے انہوں نے کہا: نبیﷺ (مدینہ سے) مکہ تشریف لائے بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا، اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا مروہ کی سات مرتبہ سعی کی اور تمہارے لیے نبی ﷺکی زندگی بہترین نمونہ ہے۔


قَالَ وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رضى الله عنهما فَقَالَ لاَ يَقْرَبَنَّهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ‏

And we asked Jabir bin 'Abdullah (the same question) and he replied, "He should not go near her till he has finished the going (Tawaf) between As-Safa and Al-Marwa."

عمرو بن دینار نے کہا ہم نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا انہوں نے کہا: اپنی عورت سے صحبت نہیں کرسکتا جب تک صفا مروہ کی سعی نہ کرلے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ مُنِيخٌ فَقَالَ ‏"‏ أَحَجَجْتَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِمَا أَهْلَلْتَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلاَلٍ كَإِهْلاَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَحْسَنْتَ‏.‏ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحِلَّ ‏"‏‏.‏ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَيْسٍ، فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ‏.‏ فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ، حَتَّى كَانَ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ فَقَالَ إِنْ أَخَذْنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ أَخَذْنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْىُ مَحِلَّهُ‏

Narrated By Abu Musa Al-Ashari : I came to the Prophet at Al-Batha' while his camel was kneeling down and he asked me, "Have you intended to perform the Hajj?" I replied in the affirmative. He asked me, 'With what intention have you assumed Ihram?" I replied, "I have assumed Ihram with the same intention as that of the Prophet. He said, "You have done well. Perform the Tawaf of the Ka'ba and (the Sai) between As-safa and Al-Marwa and then finish the Ihram." So, I performed the Tawaf around the Ka'ba and the Sai) between As-Safa and Al-Marwa and then went to a woman of the tribe of Qais who cleaned my head from lice. Later I assumed the Ihram for Hajj. I used to give the verdict of doing the same till the caliphate of 'Umar who said, "If you follow the Holy Book then it orders you to remain in the state of Ihram till you finish from Hajj, if you follow the Prophet then he did not finish his Ihram till the Hadi (sacrifice) had reached its place of slaughtering (Hajj-al-Qiran)."

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نبیﷺ کے پاس بطحاء میں حاضر ہوا آپ وہاں اترے ہوئے تھے آپﷺ نے فرمایا:کیا تم حج کے ارادے سے آئے ہو میں نے کہا: جی، آپﷺ نے فرمایا: تم نے لبیک میں کیا کہا: میں نے کہا: لبیک اسی احرام کے ساتھ جو نبیﷺ نے باندھا آپﷺ نے فرمایا: تم نے اچھا کیا اب بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرلو، پھر احرام کھول ڈال دو، میں نے کعبہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کا پھر قبیلہ قیس کی ایک عورت کے پاس آیا اس نے میرے سر کی جوئیں نکالیں پھر حج کا احرام باندھا، پھر میں لوگوں کو ایسا ہی کرنے کا فتوی دیتا رہا یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ آیا انہوں نے کہا: اگر ہم اللہ کی کتاب کو لیں تو وہ ہمیں حج اور عمرہ پورا کرنے کا حکم دیتی ہے اور اگر نبیﷺ کے قول کو لیں تو آپﷺ نے اس وقت تک احرام نہیں کھولا جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، كَانَ يَسْمَعُ أَسْمَاءَ تَقُولُ كُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُونِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَا هُنَا، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافٌ، قَلِيلٌ ظَهْرُنَا، قَلِيلَةٌ أَزْوَادُنَا، فَاعْتَمَرْتُ أَنَا وَأُخْتِي عَائِشَةُ وَالزُّبَيْرُ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ، فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ أَحْلَلْنَا، ثُمَّ أَهْلَلْنَا مِنَ الْعَشِيِّ بِالْحَجِّ‏

Narrated By Al-Aswad : Abdullah the slave of Asma bint Abu Bakr, told me that he used to hear Asma', whenever she passed by Al-Hajun, saying, "May Allah bless His Apostle Muhammad. Once we dismounted here with him, and at that time we were travelling with light luggage; we had a few riding animals and a little food ration. I, my sister, 'Aisha, Az-Zubair and such and such persons performed 'Umra, and when we had passed our hands over the Ka'ba (i.e. performed Tawaf round the Ka'ba and between As-Safa and Al-Marwa) we finished our Ihram. Later on we assumed Ihram for Hajj the same evening."

عبداللہ نے بیان کیا جو حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے غلام تھے وہ اسماء سے سنتے جب وہ حجون (پہاڑ) پر گزرتیں تو یہ کہتیں حضرت محمدﷺ پر اللہ اپنی رحمت بھیجے ہم ان کے ساتھ اس جگہ اترے ان دنوں ہم ہلکے پھلکے تھے ہمارے پاس سواریاں کم تھیں توشے بھی کم تھے تو میں اور میری بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور فلاں فلاں نے عمرہ کیا ہم لوگ کعبہ کو چھوتے ہی (طواف کرتے ہی) احرام سے نکل گئے پھر تیسرے پہر کو ہم نے حج کا احرام باندھا۔

Chapter No: 12

باب مَا يَقُولُ إِذَا رَجَعَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ أَوِ الْغَزْوِ

What should one say on returning from Hajj, Umrah and Ghazwa.

باب: جب کوئی حج یا عمرے یا جہاد سے لوٹے تو کیا کہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الأَرْضِ ثَلاَثَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ ‏"‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ ‏"‏‏

Narrated By 'Abdullah bin 'Umar : Whenever Allah's Apostle returned from a Ghazwa, Hajj or 'Umra, he used to say Takbir thrice at every elevation of the ground and then would say, "None has the right to be worshipped but Allah; He is One and has no partner. All the kingdoms is for Him, and all the praises are for Him, and He is Omnipotent. We are returning with repentance, worshipping, prostrating, and praising our Lord. He has kept up His promise and made His slave victorious, and He Alone defeated all the clans of (non-believers)."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب جہاد یا حج یا عمرے سے لوٹتے تو ہر چڑھائی پر تین تکبیریں کہتے (تین بار اللہ اکبر) پھر فرماتے: اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کےلیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ہم سفر سے لوٹنے والے ہیں،توبہ کرنے والے،عبادت کرنے والے، اپنے رب کو سجدہ کرنے والے، اپنے مالک کی تعریف کرنے والے، اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور کافروں کی فوجوں کو اکیلے بھگا دیا۔

Chapter No: 13

باب اسْتِقْبَالِ الْحَاجِّ الْقَادِمِينَ وَالثَّلاَثَةِ عَلَى الدَّابَّةِ

Reception of the returning pilgrims and the riding of three persons on one animal.

باب: جو حاجی مکہ میں آئیں ان کا استقبال کرنا اور تین آدمیوں کا ایک جانور پر چڑھنا۔

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ اسْتَقْبَلَتْهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَآخَرَ خَلْفَهُ‏

Narrated By Ibn Abbas : When the Prophet arrived at Mecca, some boys of the tribe of Bani 'Abdul Muttalib went to receive him, and the Prophet made one of them ride in front of him and the other behind him.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب نبیﷺ مکہ میں تشریف لائے تو عبد المطلب کی اولاد میں سے کئی لڑکوں نے آپ کا استقبال کیا آپﷺ نے ان میں سے ایک کو اپنے سامنے بٹھالیا اور دوسرے کو پیچھے بٹھالیا۔

Chapter No: 14

باب الْقُدُومِ بِالْغَدَاةِ

Arriving in the morning.

باب: مسافر کا صبح کو اپنے گھر آنا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ الشَّجَرَةِ، وَإِذَا رَجَعَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَطْنِ الْوَادِي وَبَاتَ حَتَّى يُصْبِحَ‏

Narrated By Ibn Umar : Whenever Allah's Apostle left for Mecca, he used to pray in the mosque of Ash-Shajra, and when he returned (to Medina), he used to pray in the middle of the valley of Dhul-Hulaifa and used to pass the night there till morning.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (جب مدینہ سے)مکہ روانہ ہوتے تو مسجد شجرہ میں نماز پڑھتے اور جب (مدینہ کو) لوٹ کر آتے تو ذوالحلیفہ میں نالے کے نشیب میں نماز پڑھتے پھر رات کو صبح تک وہیں قیام کرتے۔

Chapter No: 15

باب الدُّخُولِ بِالْعَشِيِّ

Returning between midday and sunset.

باب: شام کو گھر میں آنا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ رضى الله عنه قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ يَطْرُقُ أَهْلَهُ، كَانَ لاَ يَدْخُلُ إِلاَّ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً‏

Narrated By Anas : The Prophet never returned to his family from a journey at night. He used to return either in the morning or in the afternoon.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ (سفر سے واپسی پر) رات میں اپنے گھر کو نہیں کھٹکھٹاتے تھے، بلکہ اپنے گھر صبح یا شام کو داخل ہوتے۔

Chapter No: 16

باب لاَ يَطْرُقُ أَهْلَهُ إِذَا بَلَغَ الْمَدِينَةَ

Not to go to one's family on arrival at one's town, at night.

باب: جب آدمی اپنے شہر میں آئے تو رات کو گھر میں نہ جائے ۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَطْرُقَ أَهْلَهُ لَيْلاً

Narrated By Jabir : The Prophet forbade going to one's family at night (on arrival from a journey).

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ نے (سفر سے واپسی پر) رات کو اپنے گھر میں آنے سے منع فرمایا۔

Chapter No: 17

باب مَنْ أَسْرَعَ نَاقَتَهُ إِذَا بَلَغَ الْمَدِينَةَ

Whoever made his she-camel proceed faster on reaching his town

باب: جب مد ینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو سواری کو تیز کرنا۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَأَبْصَرَ دَرَجَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ نَاقَتَهُ، وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةً حَرَّكَهَا‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ زَادَ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ حُمَيْدٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جُدُرَاتٍ‏.‏ تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ‏

Narrated By Humaid : Anas said, "Whenever Allah's Apostle returned from a journey, he, on seeing the high places of Medina, would make his she-camel proceed faster; and if it were another animal, even then he used to make it proceed faster." Narrated Humaid that the Prophet used to make it proceed faster out of his love for Medina. Narrated By Anas :but mentioned "the walls of Medina" instead of "the high places of Medina. Al-Harith bin Umar agrees with Anas.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ جب سفر سے لوٹتے اور مدینہ کی چڑھائیاں دیکھتے تو اپنی اونٹنی کو تیز چلاتے اور اگر کوئی اور جانور ہوتا تو اس کو ایڑ لگاتے۔ امام بخاری نے کہا حارث بن عمیر نے حمید سے اس حدیث میں اتنا بڑھایا (مدینہ کی محبت سے)۔ اور دوسری روایت میں چڑھائیوں کی جگہ "دیواروں" کا ذکر ہے۔

Chapter No: 18

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا‏}‏

The Saying of Allah, "… So enter houses through their proper doors …" (V.2:189)

باب: اللہ تعالٰی کا( سورت بقرہ میں) یہ فرمانا

اور گھر وں میں دروازوں سے آؤ۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِينَا، كَانَتِ الأَنْصَارُ إِذَا حَجُّوا فَجَاءُوا لَمْ يَدْخُلُوا مِنْ قِبَلِ أَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ، وَلَكِنْ مِنْ ظُهُورِهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَدَخَلَ مِنْ قِبَلِ بَابِهِ، فَكَأَنَّهُ عُيِّرَ بِذَلِكَ، فَنَزَلَتْ ‏{‏وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا‏}‏‏

Narrated By Abu Ishaq : I heard Al-Bara' saying, "The above Verse was revealed regarding us, for the Ansar on returning from Hajj never entered their houses through the proper doors but from behind. One of the Ansar came and entered through the door and he was taunted for it. Therefore, the following was revealed: "It is not righteousness That you enter the houses from the back, But the righteous man is He who fears Allah, Obeys His order and keeps away from What He has forbidden So, enter houses through the proper doors." (2.189)

ابو اسحاق سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے یہ آیت (گھروں میں دروازوں سے آؤ) ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انصار جب حج کرکے واپس آتے تو اپنے گھروں میں دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے بلکہ گھروں کی پشت کی طرف سے داخل ہوتے تھے۔ ایک انصاری کہیں گھر کے دروازے سے داخل ہوا تو اس کو لعنت ملامت ہونے لگی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی " یہ کوئی نیکی نہیں کہ گھروں میں پشت کی طرف سے آؤ نیکی تو یہ ہے کہ گناہ سے بچو اور گھروں میں دروازوں سے داخل ہوجاؤ"۔

Chapter No: 19

باب السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ

Travelling is a kind of torture.

باب: سفر بھی گویا ایک قسم کا عذاب ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهُ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "Travelling is a kind of torture as it prevents one from eating, drinking and sleeping properly. So, when one's needs are fulfilled, one should return quickly to one's family."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: سفر گویا ایک قسم کا عذاب ہے آدمی کو کھانا پانی سونا (آرام کے ساتھ) نہیں ملتا اس لیے جب کوئی اپنا کام پورا کرلے تو (سفر سے) جلدی اپنے گھر والوں میں واپس لو ٹ آئے۔

Chapter No: 20

باب الْمُسَافِرِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ يُعَجِّلُ إِلَى أَهْلِهِ

What may a traveller do if he has to proceed fast to arrive home early?

باب: مسافر جب جلد چلنے کی کوشش کر رہا ہو اور اپنی گھر میں شتابی پہنچنا چاہے تو کیا کرے۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَبَلَغَهُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ شِدَّةُ وَجَعٍ فَأَسْرَعَ السَّيْرَ، حَتَّى كَانَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّفَقِ نَزَلَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ، جَمَعَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَجَمَعَ بَيْنَهُمَا‏

Narrated By Zaid bin Aslam : From his father, I was with Ibn 'Umar on the way to Mecca, and he got the news that Safiya bint Abu Ubaid was seriously ill. So, he hastened his pace, and when the twilight disappeared, he dismounted and offered the Maghrib and 'Isha prayers together. Then he said, "I saw that whenever the Prophet had to hasten when traveling, he would delay the Maghrib prayer and join them together (i.e. offer the Maghrib and the 'Isha prayers together)."

زید بن اسلم کے والد سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں مکہ کے راستے میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انہیں حضرت صفیہ بنت ابی عبید (اپنی بیوی) کی سخت بیماری کی خبرآئی وہ بہت تیز چلے جب شفق ڈوبنے لگی تو سواری سے اترے اور مغرب اور عشاء کی نماز ملاکر پڑھی پھر کہنے لگے: میں نے نبیﷺ کو دیکھا آپﷺ کو جب جلدی چلنے کی ضرورت ہوتی تو مغرب کی نماز میں دیر کرتے، اور مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھ لیتے۔

12