Sayings of the Messenger

 

123Last ›

Chapter No: 1

باب فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ

About the merits of the month of Ramadan

رمضان کے مہینے کی فضیلت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ أَبِى سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ ».

It was narrated from Abu Hurairah [May Allah pleased with him] that the Messenger of Allah (SAW) said: “When Ramadan comes, the gates of Paradise are opened and gates of the Fire are closed, and the devils are fettered.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اورشیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ أَبِى أَنَسٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ ».

Abu Hurairah [May Allah pleased with him] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘When Ramadan comes, the gates of mercy are opened and gates of Hell are shut, and the devils are put in chain.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اورشیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَالْحُلْوَانِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى نَافِعُ بْنُ أَبِى أَنَسٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ ». بِمِثْلِهِ.

Abu Hurairah [May Allah pleased with him] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘When Ramadan begins…” a similar report (as no. 2496).

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مثل سابق مروی ہے۔

Chapter No: 2

باب وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ لِرُؤْيَةِ الْهِلاَلِ وَالْفِطْرِ لِرُؤْيَةِ الْهِلاَلِ وَأَنَّهُ إِذَا غُمَّ فِي أَوَّلِهِ أَوْ آخِرِهِ أُكْمِلَتْ عِدَّةُ الشَّهْرِ ثَلاَثِينَ يَوْمًا

About the obligation to fast Ramdan with the sight of the new moon and to break the fast when the new moon (of Shawal) is sighted and if the weather is cloudy at the beginning or end of the month then the number of days are thirty for month

چاند دیکھ کر رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور چاند دیکھ کر عید الفطر کرنا اور اگر بادل ہوں تو تیس دن کے روزے پورے کرنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ « لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ أُغْمِىَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ».

It was narrated from Ibn Umar [May Allah pleased with them] that the Prophet (SAW) mentioned Ramadan and said: “Do not fast until you see the crescent and do not break the fast until you see it, and if it is cloudy, then count it”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے رمضان المبارک کا تذکرہ کیا پھر فرمایا: چاند دیکھے بغیر روزہ مت رکھو، نہ چاند دیکھے بغیر عید کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو (روزہ کی ) مدت پوری کرو۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَكَرَ رَمَضَانَ فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ فَقَالَ « الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا - ثُمَّ عَقَدَ إِبْهَامَهُ فِى الثَّالِثَةِ - فَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِىَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ثَلاَثِينَ ».

It was narrated from Ibn Umar [May Allah pleased with them] that the Prophet (SAW) mentioned Ramadan and he gestured with his hands and said: “The month is like this and like this and like this,” and he tucked his thumb away the third time. “Fasts when you see it (the crescent), and break the fast when you see it, and if it is cloudy, then count thirty for it.”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے رمضان المبارک کا تذکرہ کیا پھر اپنے دونوں ہاتھوں (کو کھول کر ) اشارہ کرکے فرمایا مہینہ ایسا ہے ، مہینہ ایسا ہے او رتیسری بار انگوٹھے کو بند کرکے فرمایا : چاند دیکھ کر روزہ رکھو، چاند دیکھ کر عید کرو، اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس روزوں کی مدت پوری کرو۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ « فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا ثَلاَثِينَ ». نَحْوَ حَدِيثِ أَبِى أُسَامَةَ.

Ubaidullah narrated with this chain: “The month is like this and like this and like this, and if it is cloudy then count thirty for it,” like the Hadith of Abu Usamah (no. 2499).

ایک اور سند سے بھی حسب سابق روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَمَضَانَ فَقَالَ « الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ». وَقَالَ « فَاقْدِرُوا لَهُ ». وَلَمْ يَقُلْ « ثَلاَثِينَ ».

It was narrated from Ubaidullah with this chain. He said: “The Messenger of Allah (SAW) mentioned Ramadan and said: ‘The month his twenty-nine. The month is like this, and like this, and like this.’ And he said: ‘And count it,” but he did not say: “thirty”.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے رمضان المبارک کا تذکرہ کیا اور فرمایا: مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے اور (ہاتھ سے اشارہ کیا )، ایسا ، ایسا ، ایسا ، پھر فرمایا (اس صورت میں ) روزوں کی مدت پوری کرو اور تیس کا لفظ نہیں فرمایا۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ».

It was narrated from Ibn Umar [May Allah pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘The month is twenty-nine days, so do not fast until you see it the crescent, and do not break the fast until you see it, and if it is cloudy then count it.’”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اس لیے چاند دیکھے بغیر روزہ مت رکھو اور نہ چاند دیکھے بغیر عید کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو روزوں کی مدت پوری کرو۔


وَحَدَّثَنِى حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِىُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ - وَهُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ - عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ».

It was narrated that Abdullah bin Umar [May Allah pleased with him] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘The month is twenty-nine days, when you see the crescent, then fasts, and when you see it, break the fast, and if it is cloudy then count it.’”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھ لو تو عید کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو روزوں کی مدت پوری کرو۔


حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ».

It was narrated that Abdullah bin Umar [May Allah pleased with him] said: “I heard the Messenger of Allah (SAW) say: ‘when you see it (the crescent) then fast, and when you see it, then break the fast, and if cloudy then count it.’

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھ لو تو عید کرو اور جب مطلع ابر آلود ہو تو روزوں کی مدت پوری کرو۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ إِلاَّ أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ».

It was narrated that Abdullah bin Dinar that he heard Ibn Umar [May Allah pleased with them] say: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘The month is twenty-nine nights. Do not fast until you see it (the crescent), and do not break the fast until you see it, unless it is cloudy, then count it.””

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:انتیس دن کا بھی مہینہ ہوتا ہے جب تک تم چاند دیکھ نہ لو روزہ نہ رکھو اور نہ ہی عید کرو ، سوائے اس کے کہ مطلع ابر آلود ہو ، اگر مطلع ابر آلود ہو تو حساب سے روزے رکھو۔


حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ». وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ فِى الثَّالِثَةِ.

Amr bin Dinar narrated that he hear Ibn Umar [May Allah pleased with them] say: “I heard the Prophet (SAW) say: ‘The month is like this and like this and like this,’ and he tucked away his thumb the third time.”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:مہینہ اس طرح ، اس طرح اور اس طرح ہے اور تیسری بار آپ ﷺنے انگوٹھے کو بند کرلیا۔


وَحَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا حَسَنٌ الأَشْيَبُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى قَالَ وَأَخْبَرَنِى أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ».

Ibn Umar [May Allah pleased with them] said: “I heard the Prophet (SAW) say: ‘The month is twenty-nine.’”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِىُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا ».

It was narrated from Abdullah bin Umar [may Allah be pleased with them] that the Prophet (SAW) said: “The month is like this, and like this, and like this; ten, ten and nine.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا:مہینہ اس طرح ، اس طرح اور اس طرح ہے ۔ دس دس اور نو روز کا۔


وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَبَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الشَّهْرُ كَذَا وَكَذَا وَكَذَا ». وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ بِكُلِّ أَصَابِعِهِمَا وَنَقَصَ فِى الصَّفْقَةِ الثَّالِثَةِ إِبْهَامَ الْيُمْنَى أَوِ الْيُسْرَى.

Ibn Umar [May Allah pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘The month this like this and like this and like this,’ and he clapped his hands twice with all his fingers, but he tucked away his right or left thumb on the third time.”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : مہینہ ایسا ، ایسا ، اور ایسا ہے ۔ آپﷺنے دو مرتبہ دونوں ہاتھوں کو کھول کر اشارہ کیا ، اور تیسری بار بایاں یا دایاں انگوٹھا بند کرلیا۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُقْبَةَ - وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ». وَطَبَّقَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ وَكَسَرَ الإِبْهَامَ فِى الثَّالِثَةِ. قَالَ عُقْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ « الشَّهْرُ ثَلاَثُونَ » وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مِرَارٍ.

Ibn Umar [May Allah pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: “The month is twenty-nine.” And (one of the narrators) Shubah put his hands together three times, and he tucked away his thumb on the third time. Uqbah said: “I think he said: ‘The month is thirty’ and he put his hands together three times”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ راوی شعبہ نے تین بار ہاتھوں سے اشارہ کیا اور تیسری بار انگوٹھے کو بند کرلیا۔ عقبہ کی روایت میں ہے مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور انہوں نے تین بار ہاتھوں سے اشارہ کیا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لاَ نَكْتُبُ وَلاَ نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا - وَعَقَدَ الإِبْهَامَ فِى الثَّالِثَةِ - وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ». يَعْنِى تَمَامَ ثَلاَثِينَ.

Ibn Umar [May Allah please with them] narrated the Prophet (SAW) said: “We are an unlettered Ummah, we do not write nor calculate. The month is like this, and like this, and like this,” and he tucked away his thumb the third time; “and the month is like this, and like this, and like this,” indicating a total of thirty.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ہم امی لوگ ہیں ، حساب کتاب نہیں کرتے ، مہینہ ایسا ہوتاہے ، ایسا ہوتاہے ، اور تیسری بار انگوٹھے کو بند کرلیا اور مہینہ ایسا ، ایسا ہوتا ہے یعنی پورے تیس دن کا ۔


وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ لِلشَّهْرِ الثَّانِى ثَلاَثِينَ.

It was narrated from Al-Aswad bin Qais with this chain (a Hadith similar to no. 2512), but he did not mention the (example of the) second month, with thirty.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے مگر اس میں دوسری بار مہینہ کے ذکر کے بعد تیس دن کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - رَجُلاً يَقُولُ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ النِّصْفِ فَقَالَ لَهُ مَا يُدْرِيكَ أَنَّ اللَّيْلَةَ النِّصْفُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ». وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْعَشْرِ مَرَّتَيْنِ « وَهَكَذَا ». فِى الثَّالِثَةِ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ كُلِّهَا وَحَبَسَ أَوْ خَنَسَ إِبْهَامَهُ ».

It was narrated that Sad bin Ubaidah said: “Ibn Umar [May Allah be pleased with him] heard a man saying: ‘tonight is halfway (through the month),’ and he said to him: ‘How do you know that tonight is halfway (through the month)? I heard the Messenger of Allah (SAW) say: ‘the month is like this, and like this,’ and he showed ten with his fingers twice, “and like this,” and he showed all his fingers the third time, but he tucked away, or hid his thumb.’”

سعد بن عبیدہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آج رات آدھا مہینہ ہوگیا ہے حضرت ابن عمر نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ آج رات آدھا مہینہ ہوگیا ہے ؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ مہینہ ایسا ، ایسا ، ایسا ہوتا ہے آپ نے اپنی انگلیوں سے دوبار دس کا اشارہ کیا اور تیسری بار بھی دس کا اشارہ کیا اور اپنی تمام انگلیوں سے اشارہ کیا اور انگوٹھے کو بند کرلیا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلاَثِينَ يَوْمًا ».

It was narrated from Abu Hurairah [May Allah be pleased with him] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘When you see the crescent then fast, and when you see it, then break the fats, and if it is cloudy than fasts thirty days.’”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب چاند دیکھو تو عید کرو، اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس دن کے روزے رکھو۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ - يَعْنِى ابْنَ مُسْلِمٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ - وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ - عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمِّىَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعَدَدَ ».

It was narrated from Abu Hurairah [May Allah pleased with him] that the Prophet (SAW) said: “Fast when you see it (the crescent), and break the fast when you see it, and if it is cloudy then complete the number.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو اوراگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کرو۔


وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمِّىَ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ ».

It was narrated from Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Fast when you see it (the crescent), and break the fast when you see it, and if it is cloudy then count the month as thirty.’”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو اوراگر تم پر مہینہ مخفی رہے تو تیس کی تعداد پوری کرو۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْهِلاَلَ فَقَالَ « إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ أُغْمِىَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ ».

It was narrated from Abu Hurairah [May Allah be please with him] said: “The Messenger of Allah (SAW) mentioned the crescent and said: ‘When you see it then fast, and when you see it then break the fast, and if it is cloudy, then count it thirty.’”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے چاند کا تذکرہ کیا اور فرمایا : چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر عید کرو اوراگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس کی گنتی پوری کرو۔

Chapter No: 3

باب لاَ تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ

The command to not to fast one or two days before Ramadan

رمضان المبا رک سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلِىِّ بْنِ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ إِلاَّ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ ».

It was narrated from Abu Hurairah [May Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Do not start fasting one or two days before Ramadan, except a man who (observes a regular) fast, then let him fast it.’”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں جس آدمی کی عادت اس دن روزہ رکھنے کی ہو وہ رکھ سکتا ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِىُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - يَعْنِى ابْنَ سَلاَّمٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ أَبِى عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no.2518) was narrated from Yahya bin Abi Kathir with this chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔

Chapter No: 4

بَابُ الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ

The month may consist of twenty nine days

مہینہ انتیس دنوں کا (بھی ) ہوتا ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَقْسَمَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى أَزْوَاجِهِ شَهْرًا - قَالَ الزُّهْرِىُّ - فَأَخْبَرَنِى عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ لَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً أَعُدُّهُنَّ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَتْ بَدَأَ بِى - فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ فَقَالَ « إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ».

It was narrated from Az-Zuhri that the Prophet (SAW) swore not to enter upon his wives for a month. Az-Zuhri said: “Urwah informed me that the Aishah [May Allah be pleased with her] said: ‘When twenty-nine days had passed, which I had counted, the Messenger of Allah (SAW) entered upon me. He started with me. I said: ‘O Messenger of Allah! You swore that you would not enter upon us for a month, and now you have entered after twenty-nine days which I have counted.’ He said: ‘The month may be twenty-nine days.’’”

امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہﷺنے قسم کھائی کہ آپ اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک نہیں جائیں گے زہری کہتے ہیں مجھے عروہ نے بتلایا وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں ایک ایک رات گن رہی تھی جب انتیس راتیں گزر گئیں تو رسول اللہ ﷺتشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ !آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ہمارے پاس ایک ماہ تک نہیں آئیں گے اور میں گن رہی تھی آپ انتیس روز بعد تشریف لائے ہیں۔آپﷺنے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ - رضى الله عنه - أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اعْتَزَلَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِى تِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقُلْنَا إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ. فَقَالَ « إِنَّمَا الشَّهْرُ ». وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدَةً فِى الآخِرَةِ.

It was narrated that Jabir bin Abdullah [May Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) stayed away from his wives for a month. He came out to us after twenty-nine days and we said: ‘Today is twenty-nine.’ He said: ‘The month,’ and he clapped his hands together three times, tucking away one thumb the third time.”

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ماہ تک رسول اللہ ﷺازواج سے علیٰحدہ رہے پھر انتیس دن کے بعد ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے عرض کیا آج انتیسواں دن ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اور دونوں ہاتھ تین بار ملائے ، اور آخری بار ایک انگلی بند کرلی۔


حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - يَقُولُ اعْتَزَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- نِسَاءَهُ شَهْرًا فَخَرَجَ إِلَيْنَا صَبَاحَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَصْبَحْنَا لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ. فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ». ثُمَّ طَبَّقَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدَيْهِ ثَلاَثًا مَرَّتَيْنِ بِأَصَابِعِ يَدَيْهِ كُلِّهَا وَالثَّالِثَةَ بِتِسْعٍ مِنْهَا.

Jabir bin Abdullah [May Allah be pleased with them] said: “The Prophet (SAW) stayed away from his wives for a month, then he came out to us on the morning of the twenty-ninth, and some of the people said to him: ‘O Messenger of Allah! It is twenty-ninth.’ The Prophet (SAW) said: ‘The month may be twenty-nine then the Prophet (SAW) brought his hands together three times, twice with all his fingers and the third time with nine fingers.’”

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺاپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک علیحدہ رہے انتیس دن گزر جانے کے بعد آپ ﷺہماری طرف صبح کے وقت تشریف لائے تو کچھ لوگوں نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! آپ انیتس دنوں کے بعد تشریف لے آئے؟ پھر نبی کریم ﷺنے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔ پھر آپﷺنے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ ملایا دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کی ساری انگلیوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ میں نو انگلیوں کے ساتھ۔


حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِىٍّ أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ - رضى الله عنها - أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- حَلَفَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ - أَوْ رَاحَ - فَقِيلَ لَهُ حَلَفْتَ يَا نَبِىَّ اللَّهِ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا. قَالَ « إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا ».

Umm Salamah [May Allah be pleased with her] narrated that the Prophet (SAW) swore that he would not enter upon some of his wives for a month. When twenty-nine days had passed, he came to them in the morning – or in the evening – and it was said to him: ‘You swore, O Prophet of Allah that you would not enter upon us for a month.’ He said: ‘The month may be only twenty-nine days.’

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺنے قسم اٹھائی کہ آپ ﷺاپنی کچھ ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے۔ تو جب انتیس دن گزر گئے تو آپ ﷺصبح یا شام ان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ ﷺسے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی! آپ ﷺنے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ ایک مہینہ تک ہماری طرف تشریف نہیں لائیں گے آپ نے فرمایا کہ مہینہ انیتس دنوں کا بھی ہوتا ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِى أَبَا عَاصِمٍ - جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no.2523) was narrated from Ibn Juraij with this chain.

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت منقول ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى خَالِدٍ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ - رضى الله عنه - قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدِهِ عَلَى الأُخْرَى فَقَالَ « الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا ». ثُمَّ نَقَصَ فِى الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا.

It was narrated that Sad bin Abi Waqqas said: “The Messenger of Allah (SAW) struck one hand against the other and said: ‘The month is like this, and like this,’ then he tucked away one digit the third time.”

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے اور تیسری بار ایک انگلی کم کرلی۔


وَحَدَّثَنِى الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِىٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ». عَشْرًا وَعَشْرًا وَتِسْعًا مَرَّةً.

It was narrated that Muhammad bin Sad, from his father, that the Prophet (SAW) said: ‘The month is like this, and like this and like this,’ ten, ten, and nine.

حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مہینہ ایسا ، ایسا او رایسا ہوتا ہے دس ، دس او رنو ۔


وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ وَسَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِى ابْنَ الْمُبَارَكِ - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى خَالِدٍ فِى هَذَا الإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا.

Ismail bin Abi Khalid narrated a similar Hadith (as no 2526) with the same chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔

Chapter No: 5

باب بَيَانِ أَنَّ لِكُلِّ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ وَأَنَّهُمْ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ بِبَلَدٍ لاَ يَثْبُتُ حُكْمُهُ لِمَا بَعُدَ عَنْهُمْ

Each town has its own sighting of the moon and if they (people) see the moon in a town its ruling does not apply to areas situated far away from that

ہر شہر کے لئے اس کی اپنی رؤیت معتبر ہے ۔اور کسی شہر میں چاند دیکھنے سے دُور والوں کے لیے رؤیت ثابت نہیں ہوتی

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ مُحَمَّدٍ - وَهُوَ ابْنُ أَبِى حَرْمَلَةَ - عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ قَالَ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتُهِلَّ عَلَىَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْتُ الْهِلاَلَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِى آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلاَلَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ. فَقَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ فَقُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ. فَقَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلاَ نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاَثِينَ أَوْ نَرَاهُ. فَقُلْتُ أَوَلاَ تَكْتَفِى بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ فَقَالَ لاَ هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. وَشَكَّ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى فِى نَكْتَفِى أَوْ تَكْتَفِى.

It was narrated from Kuraib that Umm Al-Fadl Bint Al-Harith sent him to Muawiyah in Ash-Sham. He said: “I arrived in Ash-Sham and I finished her errand, and the crescent of Ramadan appeared while I was in the Ash-Sham, where I saw the crescent moon on the night of Friday. Then I came to Al-Madinah at the end of the month, and I asked Abdullah bin Abbas [May Allah be pleased with him], who mentioned the crescent and said: ‘When did you see the crescent?’ I said: ‘We saw it on the night of Friday.’ He said: ‘Did you see it?’ I said: ‘Yes, and the people saw it, and they fasted, and Muawiyah fasted.’ He said: ‘But we saw it on the night of Saturday, and we will keep fasting until we complete thirty days, or we see it.’ I said: ‘Is the sighting and fasting not sufficient for you?’ He said: ‘no, this is what the Messenger of Allah (SAW) enjoined upon us.’”

حضرت کریب سے روایت ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ملک شام بھیجا میں شام میں پہنچا تو میں نے حضرت ام الفضل کا کام پورا کیا اور وہیں پر رمضان المبارک کا چاند ظاہر ہوگیا اور میں نے شام میں ہی جمعہ کی رات چاند دیکھا پھر میں مہینہ کے آخر میں مدینہ آیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چاند کا ذکر ہوا تو مجھے پوچھنے لگے کہ تم نے چاند کب دیکھا ہے؟ تو میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا ہے پھر فرمایا تو نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا ہاں! اور لوگوں نے بھی دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی روزہ رکھا ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن ہم نے تو چاند ہفتہ کی شب دیکھا ہے اور ہم تو تیس روزے پورے کریں گے یا ہم چاند دیکھ لیں۔میں نے عرض کیا کہ کیا حضرت معاویہ کا چاند دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نہیں! رسول اللہ ﷺنے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم فرمایا ہے ۔

Chapter No: 6

باب بَيَانِ أَنَّهُ لاَ اعْتِبَارَ بِكِبَرِ الْهِلاَلِ وَصِغَرِهِ وَأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ غُمَّ فَلْيُكَمَّلْ ثَلاَثُونَ

It is immaterial whether the moon is large or small, Allah The Most High postpones it to make it suitable for sighting, and if it is cloudy then thirty days should be completed

چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں اور جب بادل ہوں تو تیس دن شمار کرلیا کرو

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِى الْبَخْتَرِىِّ قَالَ خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ - قَالَ - تَرَاءَيْنَا الْهِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ. وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ قَالَ فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلاَلَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. فَقَالَ أَىَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ قَالَ فَقُلْنَا لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّ اللَّهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَهُوَ لِلَيْلَةِ رَأَيْتُمُوهُ ».

It was narrated that Abu Al-Bakhtari said: “We went for our Umrah, and when we stopped in Batn Nakhlah, we looked for the crescent and saw it. Some of the people said: ‘It is three nights old.’ And some of them said: ‘it is two nights old.’ Then we met Ibn Abbas and we said: ‘We have spotted the crescent; some of the people said that it is three nights old, and some of the said that it was two nights old.’ He said: ‘On what night did you see it?’ we said: ‘on such-and-such a night.’ He said: ‘The Messenger of Allah (SAW) [said: Indeed Allah] causes it to appear for long enough that it can be seen, so on the night that you saw it, that was when it appeared.’”

حضرت ابوالبختری سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لئے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاند ہے اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے تو ہماری ملاقات حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاند ہے، کوئی کہتا ہے دوسری کا چاند ہے، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم نے کس رات چاند دیکھا تھا؟ ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کو، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے دیکھنے کے لئے اسے بڑھا دیا ہے درحقیقت وہ اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِىِّ قَالَ أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلاً إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - يَسْأَلُهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِىَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ».

Abu Al-Bakhtari said: “We saw the crescent of Ramadan when we were in Dhat Irq, so we sent a man to Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] to ask him. Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said: ‘The Messenger of Allah (SAW) said: “Allah causes it to appear for a long enough that it can be seen. And if it is cloudy then complete the number (of days).”’”

حضرت ابوالبختری فرماتے ہیں کہ ہم نے ذات عرق میں رمضان کا چاند دیکھا تو ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ چاند کے بارے میں آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا اللہ تعالی نے چاند کو دیکھنے کے لئے بڑھا دیا ہے تو اگر مطلع ابرآلود ہو تو گنتی پوری کرو۔

Chapter No: 7

باب بَيَانِ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ

About the meaning of the Prophet’s saying : “ Two months of Eid (both) cannot be incomplete”

نبی ﷺ کے اس قول کے معنی میں کہ عید کے دو نوں مہینے ناقص نہیں ہوتے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ ».

It was narrated from Abdur-Rahman bin Abi Bakrah from his father [may Allah be pleased with him] that the prophet said: “The two months of ‘Id; Ramadan and Dhul-Hijjah, cannot both be incomplete.”

حضرت ابو بکرہ (نفیع بن حارث)سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے ایک رمضان المبارک کا دوسرے ذی الحجہ کا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ وَخَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى بَكْرَةَ عَنْ أَبِى بَكْرَةَ أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ ». فِى حَدِيثِ خَالِدٍ « شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ ».

It was narrated from Abi Bakrah that the Prophet of Allah said: “The two months of ‘Id cannot both be incomplete. According to the Hadith of Khalid: “The two months of ‘Id; Ramadan and Dhul-Hijjah.”

حضرت ابو بکرہ (نفیع بن حارث) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے۔ خالد کی روایت میں عید کے دو مہینے ایک رمضان المبارک ،دوسرا ذو الحجہ ۔

Chapter No: 8

بابُ بَيَانِ أَنَّ الدُّخُولَ فِي الصَّوْمِ يَحْصُلُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ وَأَنَّ لَهُ الأَكْلَ وَغَيْرَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ وَبَيَانِ صِفَةِ الْفَجْرِ الَّذِي تَتَعَلَّقُ بِهِ الأَحْكَامُ مِنَ الدُّخُولِ فِي الصَّوْمِ وَدُخُولِ وَقْتِ صَلاَةِ الصُّبْحِ وَغَيْرِ ذَلِكَ

The time of fasting begins with the dawn and one may eat or do other things until dawn begins, and the explanation about the feature of dawn which has to do with the rulings about the beginning of fasting and the time for the Fajr prayer and other than that

روزہ طلوع فجر سے شروع ہو جاتا ہے اور طلوع فجر تک کھانا وغیرہ جائز ہے،اور اس فجر(صبح کاذب) کا بیان جس میں روزہ شروع ہوتا ہے ، اور اس فجر(صبح صادق) کا بیان جس میں صبح کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ عَدِىِّ بْنِ حَاتِمٍ - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ (حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ) قَالَ لَهُ عَدِىُّ بْنُ حَاتِمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِى عِقَالَيْنِ عِقَالاً أَبْيَضَ وَعِقَالاً أَسْوَدَ أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنَ النَّهَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ وِسَادَتَكَ لَعَرِيضٌ إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ ».

It was narrated from Adiyy bin Hatim: “When the verse “Until the white thread appears to you distinct from the black thread of dawn”(Al-Baqarah 2:187) was revealed Adiyy [bin Hatim] said to him: ’O Messenger of Allah, I put to strings under my pillow, a white string and a black string, so that I can tell night from day.’ The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Your pillow must be very big, for that refers to the blackness of the night and the whiteness of the day.’”

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : (حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر) ترجمہ: اس وقت تک کھاتے پیتے رہنا جب تک کہ سفید دھاگا کالے دھاگے سے واضح نہ ہوجائے۔تو عدی نے آپﷺسے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لئے ہیں جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کر لیتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سما گئے ہیں اس سے مراد رات کی تاریکی اور دن کی سفیدی۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ) قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ فَيَأْكُلُ حَتَّى يَسْتَبِينَهُمَا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (مِنَ الْفَجْرِ) فَبَيَّنَ ذَلِكَ.

Sahl bin sa’d said: “When this verse was revealed –“And eat and drink until the white thread appears to you distinct from the black thread”(Al-Baqarah 2:187)- a man would take a white thread and a black thread and he would eat until he could tell them apart, until Allah, the Mighty and Sublime, revealed: “of dawn” then it became clear.”

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب یہ آیت وکلوا وشربوا حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالی نے لفظ "من الفجر" نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہو گئی۔


حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِىُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِى أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رضى الله عنه - قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ) قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِى رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الأَبْيَضَ فَلاَ يَزَالُ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَ ذَلِكَ (مِنَ الْفَجْرِ) فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِى بِذَلِكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ.

It was narrated that Sahl bin Sa’d [may Allah be pleased with him] said: “When this verse was revealed-“And eat and drink until the white thread appears to you distinct from the black thread”(Al-Baqarah 2:187) – if a man wanted to fast, he would tie a white thread to one foot an a black thread to the other, then he would carry on eating and drinking until he could tell them apart when he saw them. Then after that, Allah revealed: “of dawn” then they realized that what was meant by that was night and day.”

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت وکلوا واشربوا حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود نازل ہوئی تو کوئی شخص روزہ رکھنے کا ارادہ کرتا تو اپنے دونوں پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگے باندھ لیتا اور جب تک دونوں دھاگوں میں واضح فرق نظر نہ آتا تو کھاتے اور پیتے رہتے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے لفظ "من الفجر" نازل فرمایا تو تب معلوم ہوا کہ سیاہ وسفید دھاگے سے رات اور دن مراد ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنه - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ».

It was narrated by ‘Abdullah [may Allah be pleased with him] that the Messenger of Allah (SAW) said: “Bilal calls the Adhan at night, so eat and drink until you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum.”

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺسے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے تھے لہذا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سنو ۔


حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ».

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar [may Allah be pleased with them] said: “I heard the Messenger of Allah (SAW) say: ‘Bilal calls the Adhan at night, so eat and drink until you hear the Adhan of Ibn Umm Makhtum.’”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا حضرت بلال رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ تم حضرت ابن مکتوم کی اذان سنو۔


حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُؤَذِّنَانِ بِلاَلٌ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ بِلاَلاً يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ». قَالَ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلاَّ أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا.

It was narrated that ‘Ibn Umar [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah had two Mu’adhdhin, Bilal and Ibn Umm Maktum, the blind man. The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Bilal calls the Adhan at night, so eat and drink until Ibn Umm Maktum calls the Adhan.” And there was no more between them than the time it took for one to climb down and the other to climb up.

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺکے دو مؤذن تھے حضرت بلال اور حضرت ابن مکتوم نابینا تھے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم اذان دیں راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ اذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no.2538) was narrated from ‘Aishah [may Allah be pleased with her], from the Prophet (SAW).

مذکورہ بالا حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِالإِسْنَادَيْنِ كِلَيْهِمَا. نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.

A hadith similar to that of Ibn Numair (no. 2538) was narrated from ‘Ubaidullah.

ایک دیگر سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِىِّ عَنْ أَبِى عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ - أَوْ قَالَ نِدَاءُ بِلاَلٍ - مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ - أَوْ قَالَ يُنَادِى - بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَكُمْ ». وَقَالَ « لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا -وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا - حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا ». وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ.

It was narrated that Ibn Masud [may Allah be pleased with them] said, ‘Allah’s Messenger said: “No one of you should let the Adhan of Bilal or the call of Bilal’ – prevent him from eating his sahur. Rather he calls the Adhan’ – or ‘gives the call’ – ‘so that the standing (one who is praying Qiyam) may return (to rest) and the one who is asleep may awaken.’” Then he said: “‘It is not when it is like this,’ “and he moved his hand up and down, “ ‘rather it is when it is like this,’” and he spread his fingers out.

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم میں سے کوئی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کی وجہ سے نہ رکے یا آپ ﷺنے فرمایا کہ حضرت بلال کی پکار سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ اذان دیتے ہیں یا فرمایا کہ وہ پکارتے ہیں تاکہ نماز میں کھڑا ہونے والا سحری کھانے کے لئے لوٹ جائے اور تم میں سے سونے والاجاگ جائے آپ ﷺنے یہ فرما کر ہاتھ سیدھا کیا اور اوپر کی جانب اشارہ کیا تھا اور فرمایا: حتی کہ اس طرح ہوجائے اور آپﷺنے انگلیوں کو کھول دیا۔


حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ - يَعْنِى الأَحْمَرَ - عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِى يَقُولُ هَكَذَا ». وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الأَرْضِ « وَلَكِنِ الَّذِى يَقُولُ هَكَذَا ». وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ.

It was narrated from Sulaiman At-Taimi with this chain (a hadith similar to no. 2541),except that he said: “Dawn is not the one that is like this,” and he held his fingers together and pointed them down towards the ground, “rather it is the one like this”, and he put one index finger next to the other and spread his fingers.

اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں آپﷺ نے فرمایا کہ فجر وہ نہیں جو اس طرح ہو اور آپ ﷺنے انگلیوں کو ملایا پھر انہیں زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا کہ فجر وہ ہے جو اس طرح ہو اور شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پھیلایا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَانْتَهَى حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ « يُنَبِّهُ نَائِمَكُمْ وَيَرْجِعُ قَائِمَكُمْ ». وَقَالَ إِسْحَاقُ قَالَ جَرِيرٌ فِى حَدِيثِهِ « وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَلَكِنْ يَقُولُ هَكَذَا ». يَعْنِى الْفَجْرَ هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ.

It was narrated from Sulaiman At-Taimi with this chain (a Hadith similar to no.2541), but the Hadith of Al-Mu’tamir ends with the words: “so that the one who is asleep may wake up and the standing (one who is praying Qiyam) may return (to rest).” Ishaq said: “Jarir said in his Hadith: ’It is not when it is like this, rather it is when it is like this’ – meaning the dawn – ‘It is the horizontal one, not the vertical one.’”

ایک اور سند میں اس طرح روایت ہے کہ حضرت بلال کی اذان اس وجہ سے ہوتی ہے کہ تم میں سے جو سو رہا ہو وہ بیدار ہوجائے اور جو نماز پڑھ رہا ہو وہ لوٹ جائے۔ جریر نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ صبح اس طرح نہیں ہے مطلب یہ کہ چوڑائی میں ہے لمبائی میں نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِىِّ حَدَّثَنِى وَالِدِى أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَقُولُ سَمِعْتُ مُحَمَّدًا -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ يَغُرَّنَّ أَحَدَكُمْ نِدَاءُ بِلاَلٍ مِنَ السَّحُورِ وَلاَ هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَسْتَطِيرَ ».

Samurah bin Junab said: “I heard Muhammad(SAW) say: No one of you should be misled by the call of Bilal from (taking) Sahur, nor by this whiteness, until it spreads.”

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد ﷺسے سنا ہے آپﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی سحری کے وقت حضرت بلال کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی اس سفیدی سے جب تک کہ وہ پھیل نہ جائے۔


وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ هَذَا الْبَيَاضُ - لِعَمُودِ الصُّبْحِ - حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا ».

It was narrated that Samurah bin Jundab [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (sAW) said: ‘You should not be misled by the Adhan of Bilal, or by this whiteness-referring to the vertical columns of the (false) dawn-until it spreads like this.’”

حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی سفیدی سے جو کہ صبح کے وقت ستونوں کی طرح ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ ظاہر ہو جائے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِىُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَغُرَّنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ بَيَاضُ الأُفُقِ الْمُسْتَطِيلُ هَكَذَا حَتَّى يَسْتَطِيرَ هَكَذَا ». وَحَكَاهُ حَمَّادٌ بِيَدَيْهِ قَالَ يَعْنِى مُعْتَرِضًا.

It was narrated that Samurah bin Jundab [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Do not let the Adhan of Bilal nor the vertical whiteness on the horizon like this distract you from your Sahur, until (the whitness) is like this.” Hammad described it with his hands and said: “Meaning, when it is horizontal.”

حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال کی اذان سے اپنی سحری سے دھوکا نہ کھائے اور نہ ہی افق کی لمبی سفیدی سے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَوَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدَبٍ - رضى الله عنه - وَهُوَ يَخْطُبُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « لاَ يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلاَلٍ وَلاَ هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَبْدُوَ الْفَجْرُ - أَوْ قَالَ - حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ ».

Samurah bin jundab [may Allah be pleased with them] narrated in Khutbah that the Prophet (SAW) said: “Do not be misled by the call of Bilal nor this whiteness, until the dawn appears” – or “until dawn breaks.”

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خطبہ دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺسے روایت ہے آپﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال کی اذان سے دھوکا نہ کھائے اور نہ اس سفیدی سے یہاں تک کہ فجر ظاہر ہو جائے۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِى سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ الْقُشَيْرِىُّ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدَبٍ - رضى الله عنه - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَذَكَرَ هَذَا.

Samurah bin jundab [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) said…” and he mentioned something similar(to no. 2547).

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا پھر آگے اسی طرح حدیث مبارکہ ذکر فرمائی۔

Chapter No: 9

باب فَضْلِ السُّحُورِ وَتَأْكِيدِ اسْتِحْبَابِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ وَتَعْجِيلِ الْفِطْرِ

The merit of Suhur (taking meal before dawn) and its recommendation, and the recommendation of delaying it (Suhur), and hastening in breaking of the fast

سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کا استحباب، اور افطاری جلدی کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ رضى الله عنه ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِى السُّحُورِ بَرَكَةً ».

It was narrated that Anas [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Take Sahur, for in Sahur there is blessing.’”

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ ».

It was narrated from ‘Amr bin Al-As that the messenger of Allah (SAW) said: “The difference between our fasting and the fasting of the People of the Book is eating As-Sahur (the meal before dawn).”

حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا ہمارے روزے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کا فرق ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ ح وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ كِلاَهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Musa bin Ali with this chain (a similar Hadith as no. 2550).

ایک اور سند کے ساتھ حضرت موسیٰ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ - رضى الله عنه - قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاَةِ. قُلْتُ كَمْ كَانَ قَدْرُ مَا بَيْنَهُمَا قَالَ خَمْسِينَ آيَةً.

It was narrated that Anas, from Zaid bin Thabit [may Allah be pleased with them] who said: “We ate Sahur with the Messenger of Allah (SAW), then we got up and offered As-Salat (Fajr).” I said: “How long was there between the two?” He said: “(The time it takes to recite ) fifty verses”.

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ سحری کھائی پھر نماز کے لئے کھڑے ہوئے میں نے(راوی نے) عرض کیا کہ سحری کھانے اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے کہا پچاس آیات کے پڑھنے کے برابر۔


وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Qatadah with this chain ( a similar Hadith as no.2552).

ایک اور سند سے اسی طرح منقول ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ ».

It was narrated from Shaul bin sa’d [may Allah be pleased with them] that the Messenger of Allah (SAW) said: “The people will remain in goodness so long as they hasten to break the fast.”

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے ۔


وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ سُفْيَانَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم ﷺسے اسی حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِى عَطِيَّةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلاَةَ. قَالَتْ أَيُّهُمَا الَّذِى يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ قَالَ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِى ابْنَ مَسْعُودٍ. قَالَتْ كَذَلِكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ وَالآخَرُ أَبُو مُوسَى.

It was narrated that Abu ‘Atiyyah said: “Masruq and I entered upon Aishah and said: O Mother of the Believers, there are two men among the Companions of Muhammad (SAW); one of them hastens to break the fast and hasten to offer As-Salat, and the other delays the breaking the fast and delays the prayer.’ She said who hastens to break the fast and hastens to offer As-Salat?’ We said: ‘’Abdullah meaning bin Mas’ud.She said: “That is what the Prophet of Allah (SAW) use to do.” Abu Kuraib added: “The other one was Abu Musa.”

حضرت ابوعطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور مسروق دونوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے ام المومینن! محمد ﷺکے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز میں بھی جلدی کرتا ہے دوسرا ساتھی افطاری میں تاخیر کرتا ہے اور نماز میں بھی تاخیر کرتا ہے؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ان میں سے وہ کون ہیں جو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز بھی جلدی پڑھتے ہیں حضرت ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺبھی اسی طرح کیا کرتے تھے اب کریب کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ دوسرے ساتھی حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِى زَائِدَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِى عَطِيَّةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- كِلاَهُمَا لاَ يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالإِفْطَارَ وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالإِفْطَارَ. فَقَالَتْ مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالإِفْطَارَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ. فَقَالَتْ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَصْنَعُ.

It was narrated that Abu ‘Atiyyah said: “Masruq and I entered upon Aishah [may Allah be pleased with her], and Masruq said to her: ‘There are two men among the Companions of Messenger of Allah (SAW), both of whom are striving to do what is best. One of them hastens to Pray Maghrib and break the fast, and the other delays Maghrib and breaking the fast.’ She said: ‘who hastens to pray Magrib and break the fast?’ He said “Abdullah.’ She said ‘That is how the Messenger of Allah used to do it.’”

حضرت ابوعطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت مسروق ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ محمد ﷺکے ساتھیوں میں سے دو آدمی ایسے ہیں جو بھلائی کے بارے میں کمی نہیں کرتے ان میں سے ایک مغرب کی نماز اور افطاری میں جلدی کرتا ہے دوسرا مغرب کی نماز اور افطاری میں تاخیر کرتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ مغرب کی نماز اور افطاری میں کون جلدی کرتا ہے؟ مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺبھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔

Chapter No: 10

باب بَيَانِ وَقْتِ انْقِضَاءِ الصَّوْمِ وَخُرُوجِ النَّهَارِ

Concerning the time for ending the fast and the end of the day

روزہ کا وقت تمام ہونے ، اور دن کے ختم ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ - وَاتَّفَقُوا فِى اللَّفْظِ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ». لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ نُمَيْرٍ « فَقَدْ ».

It was narrated that Umar [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah SAW said: ‘When the night comes and the day departs, and the sun sets, then it is time for the fasting person to break his fast.’”

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى أَوْفَى - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى سَفَرٍ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ « يَا فُلاَنُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا. قَالَ « انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا ». قَالَ فَنَزَلَ فَجَدَحَ فَأَتَاهُ بِهِ فَشَرِبَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ « إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ».

It was narrated that Abdullah bin Abi Awfa said: “We were with the Messenger of Allah (SAW) on a journey during the month of Ramadan. When the sun set he said: ‘O so-and-so, dismount and mix something for us.’ He said: ‘O Messenger of Allah, it is still day.’ He said: ‘Dismount and mix something for us.’ So he dismounted and mixed something and brought it to him. The Prophet drank some, then he said, gesturing with his hand: ‘When the sun sets from here, and the nights comes from here, then I is time for the fasting person to break his fast.’”

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپﷺ نے فرمایا اے فلاں!نیچےاترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے آپ ﷺنے فرمایا: نیچےاترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔تو وہ اترا اور اس نے ستو گھول کر آپﷺ کی خدمت میں پیش کیا نبیﷺ نے ستو پیا پھر آپ ﷺنے اپنے ہاتھ مبارک سےاشارہ کرکے فرمایا جب سورج اس طرف سے غروب ہو جائے اور اس طرف سے رات آجائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنِ ابْنِ أَبِى أَوْفَى - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى سَفَرٍ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ « انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا ». فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ. قَالَ « انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا ». قَالَ إِنَّ عَلَيْنَا نَهَارًا. فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ « إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا - وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ - فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ».

It was narrated that Ibn Abi Awfa [may Allah be pleased with them] said: “We were with Messenger of Allah (SAW) on a journey, and when the sun set, he said to one man: “Dismount and mix something for us.’ He said: ‘O Messenger of Allah, why not wait till evening?’ He said: ‘Dismount and mix something for us.’ He said: ‘It is still day.’ But he dismounted and mixed something for him to drink, then he said: ‘When you see that the night has come from here’ – and he pointed towards the east-‘then it is time for the fasting person to break his fast.’”

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپﷺ نے فرمایا اے فلاں!نیچےاترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اگر آپ شام ہونے دیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: نیچےاترو اور ہمارے لئے ستو گھولو۔اس نے کہا ابھی تو دن ہے یہ کہہ کر وہ اترا اور اس نے ستو گھول لیا اور نبیﷺ نے ستو پیا پھر آپ ﷺنے مشرق کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: جب تم دیکھو کہ رات اس طرف سے آگئی ہے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِىُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِى أَوْفَى - رضى الله عنه - يَقُولُ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ قَالَ « يَا فُلاَنُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا ». مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ.

Abdullah bin Abi Awfa [may Allah be pleased with them] said: “We travelled with the Messenger of Allah (SAW) when he was fasting. When the sun set, he said: ‘O so-and-so, dismount and mix something for us’”… a Hadith like that of Ibn Mushir and Abbad bin Al- Awwam (no 2560).”

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک سفر میں تھے اور آپﷺ روزہ کی حالت میں تھے تو جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺنے فرمایا اے فلاں! نیچے اتر اور ہمارے لئے ستو لا آگے حدیث اسی طرح ہے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كِلاَهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنِ ابْنِ أَبِى أَوْفَى ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنِ ابْنِ أَبِى أَوْفَى - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادٍ وَعَبْدِ الْوَاحِدِ وَلَيْسَ فِى حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ وَلاَ قَوْلُهُ « وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا ». إِلاَّ فِى رِوَايَةِ هُشَيْمٍ وَحْدَهُ.

A Hadith similar to that of Ibn Mushir, ‘Abbad and Abdul-Wahid (no 2561), was narrated from Ibn Abi Awfa, but it does not say in the Hadith of any of them: “During the month of Ramadan,” nor the words, “when the night has come from here,” except in the report of Hushaim alone.

ایک اور سند سے کچھ کمی بیشی کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے۔

123Last ›