Sayings of the Messenger

 

Chapter No: 1

بابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الدَّهْرِ

The forbiddance of abusing the “time”

زمانہ کو برا کہنے کی ممانعت

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِيَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ.

Abu Hurairah said: “I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: ‘Allah says: “The son of Adam inveighs against time, but I am time, in My Hand is the night and day.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم زمانہ کو برا کہتا ہے اور میں زمانہ ہوں ، رات اور دن کی گردش میرے ہاتھ میں ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ ، يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے ، وہ زمانہ کو گالیاں دیتا ہے اور میں زمانہ (کا خالق ) ہوں ، میں رات اور دن کو بدلتا رہتا ہوں ۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَقُولُ : يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَلاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Allah Blessed and Exalted is He, said: ‘’The son of Adam offends me. He says: ‘May time be doomed.’ But none of you should say ‘may time be doomed.’ for I am time, I alternate night and day, and if I wished I could end them.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ عزو جل نے فرمایا: مجھے ابن آدم تکلیف دیتا ہے ، وہ کہتاہے ہاے زمانے کی بربادی ! تو تم میں سے کوئی آدمی یہ نہ کہے: کہ" ہائے زمانے کی بربادی" کیونکہ میں زمانہ (کا خالق ) ہوں ، رات اور دن کو بدلتا رہتا ہوں او رجب میں چاہوں گا ان کو قبض کرلوں گا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ.

It was narrated form Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “None of you should say: ‘May time be doomed,’ Allah is time.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی یہ نہ کہے : ہائے زمانہ کی نا مرادی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ( کا خالق) ہے۔


وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ تَسُبُّوا الدَّهْرَ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: “Do not curse time, for Allah is time.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: زمانہ کو گالی مت دو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ زمانہ (کا خالق) ہے۔

Chapter No: 2

بابُ كَرَاهَةِ تَسْمِيَةِ الْعِنَبِ كَرْمًا

The disapproval of naming the grapes Karm

انگور کو کرم کہنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ يَسُبُّ أَحَدُكُمُ الدَّهْرَ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ وَلاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ ، فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘None of you should inveigh against time, for Allah is time, and none of you should call grapes Karm, for Karm is the Muslim man.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:تم میں سے کوئی آدمی زمانے کو گالی نہ دے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ کا خالق ہے ، او رتم میں سے کوئی آدمی(انگور کو)کرم نہ کہے کیونکہ کرم تومسلمان آدمی ہے۔


حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ تَقُولُوا كَرْمٌ فَإِنَّ الْكَرْمَ ، قَلْبُ الْمُؤْمِنِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Do not say Karm, for Karm is the heart of the believer.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ( انگور کو)کرم نہ کہو کیونکہ کرم مومن کا دل ہے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ ، فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: “Do not call grapes Karm, for Karm is the Muslim man.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ( انگور کو)کرم نہ کہو کیونکہ کرم تو مسلمان آدمی ہے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ الْكَرْمُ ، فَإِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘None of you should say Karm, for Karm is only the heart of the believer.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کرم نہ کہے کیونکہ کرم مؤمن کا دل ہے ۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ ، لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ ، إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ.

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w), and he mentioned a number of Ahadith, including the following: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘None of you should call grapes Karm, for Karm is only the Muslim man.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی انگور کو کرم نہ کہے کیونکہ کرم تو مسلمان آدمی ہے۔


حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ تَقُولُوا: الْكَرْمُ ، وَلَكِنْ قُولُوا الْحَبْلَةُ يَعْنِي الْعِنَبَ.

It was narrated from ‘Alqamah bin Wa’il, from his father, that the Prophet (s.a.w) said: “Do not say Karm, rather say: ‘Hablah,”’ referring to grapes.

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: کرم نہ کہو لیکن حبلہ یعنی عنب (انگور) کہو۔


وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ تَقُولُوا الْكَرْمُ وَلَكِنْ قُولُوا الْعِنَبُ وَالْحَبْلَةُ.

‘Alqamah bin Wa’il (narrated) from his father that the Prophet (s.a.w) said: “Do not say Karm, rather say ‘Inab and Hablah.”

حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: کرم نہ کہو لیکن کہو: عنب اور حبلہ۔

Chapter No: 3

بابُ حُكْمِ إِطْلاَقِ لَفْظَةِ الْعَبْدِ وَالأَمَةِ وَالْمَوْلَى وَالسَّيِّدِ

The ruling on the use of words; slave (male), female slave, Al- Maula and As- Sayyid

لفظ عبد ، امہ، مولیٰ اور سید کے اطلاق کرنے کا حکم

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللهِ ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللهِ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلاَمِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “None of you should say my ‘Abd (my slave) or my Amah (my female slave), for all of you are slaves (‘Abid) of Allah and your women folk are His female slaves (Ima'). Rather let him say my Ghulam or my Jariyah, or Fataya or Fatati.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی کو میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے ، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں ، البتہ یوں کہہ سکتا ہے میرا غلام ، میری کنیز ، میرا نوکر ، میری نوکرانی۔


وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : عَبْدِي ، فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللهِ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: فَتَايَ ، وَلاَ يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: سَيِّدِي.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘None of you should say my ‘Abd (slave), for all of you are slaves of Allah. Rather let him say: my Fataya (young man). And no slave should say Rabbi (my lord), rather let him say Sayyidi (my master).”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی کو یہ نہ کہے : میرا بندہ ، تم سب اللہ کے بندے ہو ، البتہ یہ کہہ سکتا ہے : میرا نوکر ، اور غلام یہ نہ کہے : میرا رب ، بلکہ یہ کہے : میرا سردار ۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.وَفِي حَدِيثِهِمَا وَلاَ يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ مَوْلاَيَ. وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَإِنَّ مَوْلاَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

It was narrated from Al-A’mash with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5875). In their Hadith it says: “No slave should say to his master: Mawalaya.” In the Hadith of Abu Mu’awiyah it adds: “For your Mawla is Allah.”

ایک روایت میں ہے : غلام اپنے سید کو " میرا مولا " نہ کہے ، کیونکہ تم سب کا مولیٰ اللہ عزوجل ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمُ اسْقِ رَبَّكَ ، أَطْعِمْ رَبَّكَ ، وَضِّئْ رَبَّكَ ، وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي ، وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلاَيَ ، وَلاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي ، وَلْيَقُلْ فَتَايَ فَتَاتِي غُلاَمِي.

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w), - and he mentioned a following: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘None of you should say (to his slave): “Give water to your Rabb (lord), give food to your Rabb, help your Rabb with Wudu’.”’ And he said: “None of you should say Rabbi (my lord), rather he should say Sayyidi or Mawlaya (my master). And none of you should say ‘Abd or my Amah; let him say my Fataya or Fatati, or Ghulami.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی یہ نہ کہے : اپنے رب کو پلا ، اپنے رب کو کھلا ، اپنے رب کو وضو کرادے ، اور نہ تم میں سے کوئی آدمی یہ نہ کہے : میرا رب، بلکہ یہ کہے : میرا سردار ، اور میرا مولیٰ کہے ۔ اور تم میں سے کوئی آدمی کسی کو میرا بندہ ، یا میری بندی نہ کہے ، بلکہ یہ کہے: میرا نوکر ، یا میری نوکرانی ۔

Chapter No: 4

بابُ كَرَاهَةِ قَوْلِ الإِنْسَانِ خَبُثَتْ نَفْسِي

The disapproval of a man’s phrase; “my soul has become evil”

میرا نفس خبیث ہوگیا ، کہنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي. هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ وقَالَ: أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَكِنْ.

It was narrated that ‘Aishah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘No one among you should say: “Khabuthat Nafsi (I feel bad).” Rather let him say: “Laqisat Nafsi (I feel tired).”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنےفرمایا: تم میں سے کوئی آدمی یہ نہ کہے : میرا نفس خبیث ہوگیا ، بلکہ یوں کہے: میرا نفس سست اور کاہل ہوگیا ۔ راوی ابوبکر نے اس حدیث کو نبی ﷺروایت کیا اور اس میں "لکن" کا لفظ نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.

Abu Mu’awiyah narrated it with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔


وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي ، وَلْيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي.

It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif, from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “None of you should say: ‘Khabuthat Nafsi (I feel bad).’ Rather let him say: ‘Laqisat Nafsi (I feel tired).”’

سہل بن حنیف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی یہ نہ کہے: کہ "میرا نفس خبیث ہوگیا " بلکہ یہ کہے کہ میرا نفس سست اور کاہل ہوگیا۔

Chapter No: 5

بابُ اسْتِعْمَالِ الْمِسْكِ وَأَنَّهُ أَطْيَبُ الطِّيبِ وَكَرَاهَةِ رَدِّ الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ

Regarding; the use of musk, the fact that it is the best perfume, and disapproval of rejecting a gift of scent or perfume

کستوری کا استعمال اور وہ بہترین خوشبو ہے ، اور ریحان اور خوشبو کو مسترد کرنے کی کراہت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، قَصِيرَةٌ تَمْشِي مَعَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ ، وَخَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ مُغْلَقٌ مُطْبَقٌ ، ثُمَّ حَشَتْهُ مِسْكًا ، وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ ، فَمَرَّتْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ ، فَلَمْ يَعْرِفُوهَا ، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا وَنَفَضَ شُعْبَةُ يَدَهُ.

It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Prophet (s.a.w) said: “A woman of the Children of Israel, who was short, was walking with two tall women, She got two shoes made of wood and a ring of gold with a compartment, then she filled it with musk, which is the best of perfumes, and she passed between those two women, but they did not recognize her, and she moved her hand like this.” And Shu’bah (a sub narrator) shook his hand.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: بنو اسرائیل میں ایک چھوٹے قد عورت تھی، وہ دو لمبی عورتوں کے درمیان چلتی تھی ، اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں بنوائیں اور سونے کے خول کی ایک انگھوٹھی بنوائی جو بند ہوتی تھی، پھر اس میں کستوری کی خوشبو بھری اور وہ سب سے اچھی خوشبو ہے ، پھر وہ ان دو لمبی عورتوں کے درمیان سے گزری تو انہوں نے اس کو نہیں پہچانا ، پھر اس عورت نے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ، راوی شعبہ نے ہاتھ سے اشارہ کرکے بتایا۔


حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وَالْمُسْتَمِرِّ ، قَالاَ : سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، حَشَتْ خَاتَمَهَا مِسْكًا ، وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ.

It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (s.a.w) mentioned a woman of the Children of Israel who filled her ring with musk, and musk is the best perfumes.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بنو اسرائیل کی ایک عورت کا ذکر کیا جس نے اپنی انگوٹھی میں کستوری بھرلی تھی اور کستوری سب سے اچھی خوشبو ہے ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، كِلاَهُمَا عَنِ الْمُقْرِئِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلاَ يَرُدُّهُ ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Whoever is offered perfume let him not refuse it, for it is light to carry, and smells good.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس آدمی کو ریحان (پھول) دیا جائے وہ اس کو واپس نہ کرے کیونکہ اس کا کوئی بوجھ نہیں اور اس کی خوشبو پاکیزہ ہے ۔


حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَأَبُو طَاهِرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ بِالأَلُوَّةِ ، غَيْرَ مُطَرَّاةٍ وَبِكَافُورٍ ، يَطْرَحُهُ مَعَ الأَلُوَّةِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated that Nafi said: “When Ibn ‘Umar perfumed himself with incense, he used aloes wood that was not mixed with anything, or he used camphor that he put with the aloes wood, then he said: ‘This is how the Messenger of Allah (s.a.w) used to perfume himself with incense.”’

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جب خوشبو کی دھونی لیتے تو عود کی دھونی لیتے ، جس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہیں ہوتی یا عود میں کافور ملاکر ڈالتے ، پھر فرمایا: کہ رسول اللہﷺاسی طرح دھونی لیتے تھے۔