Sayings of the Messenger

 

123Last ›

Chapter No: 1

باب فَضْلِ نَسَبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَسْلِيمِ الْحَجَرِ عَلَيْهِ قَبْلَ النُّبُوَّةِ

The superiority of our Prophet’s ﷺ lineage and a stone sent greetings to him ﷺ before his prophet hood

نبی ﷺکے نسب کی فضیلت اور اعلان نبوت سے پہلے آپ ﷺکو ایک پتھر کے سلام کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، جَمِيعًا عَنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ.

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں کنانہ کو فضیلت دی اور کنانہ میں سے قریش کو فضیلت دی اور قریش میں سے بنو ہاشم کو فضیلت دی اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو فضیلت دی۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لأَعْرِفُهُ الآنَ.

It was narrated that Jabir bin Samurah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I know a stone in Makkah that used to greet me before I was sent (made a Prophet). I would recognize it even now.”’

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میں مکہ کے اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو اعلان نبوت سے قبل مجھے سلام کیا کرتا تھا ، میں اس پتھر کو اب بھی پہچانتا ہوں۔

Chapter No: 2

بابُ تَفْضِيلِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمِيعِ الْخَلاَئِقِ

The superiority of our Prophet ﷺ over all the creations

ہمارے نبیﷺکے افضل الخلق ہونے کا بیان

حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ ، يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ.

Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I will be the leader of the sons of Adam on the Day of Resurrection, the first one for whom the grave is opened, the first one to intercede and the first one whose intercession will be accepted.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں گا ، سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا ، سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا ، اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی۔

Chapter No: 3

باب فِي مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

Concerning miracles of the Prophet ﷺ

نبی ﷺکے معجزات

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّؤُونَ ، فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الثَّمَانِينَ . قَالَ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ.

It was narrated from Anas that the Prophet (s.a.w) called for water and it was brought in a shallow vessel. The people started performing Wudu’, and I estimated that they were between sixty and eighty. And I looked at the water that was springing from between his (s.a.w) fingers.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے پانی منگایا تو ایک پھیلا ہوا پیالہ لایا گیا ، لوگ اس سے وضو کرنے لگے ، میں نے اندازہ کیا وہ ساٹھ سے اسّی تک لوگ تھے ، میں اس پانی کی طرف دیکھ رہا تھا جو آپﷺکی انگلیوں میں سے پھوٹ رہا تھا۔


وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ (ح) وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ ، فَلَمْ يَجِدُوهُ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّؤُوا مِنْهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّؤُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ.

It was narrated that Anas bin Malik said: “I saw the Messenger of Allah (s.a.w) when the time of ‘Asr came. The people looked for water and could not find any. Some water for Wudu’ was brought to the Messenger of Allah (s.a.w) and he put his hand in that vessel and told the people to perform Wudu’ from it. I saw the water springing from beneath his fingers, and the people performed Wudu’ from it, down to the last of them.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا اس حال میں کہ عصر کا وقت آچکا تھا ، لوگوں نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا اور انہیں پانی نہیں ملا ، پھر رسول اللہﷺکے پاس کچھ پانی لایا گیا ، رسول اللہ ﷺنے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا ، اور لوگوں کو اس پانی سے وضو کرنے کا حکم دیا ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا پانی آپﷺکی انگلیوں کے نیچے سے پھوٹ رہا تھا اور شروع سے آخر تک تمام لوگوں نے وضو کرلیا۔


حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِالزَّوْرَاءِ ، قَالَ: وَالزَّوْرَاءُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ السُّوقِ وَالْمَسْجِدِ فِيمَا ثَمَّهْ ، دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَوَضَعَ كَفَّهُ فِيهِ فَجَعَلَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، فَتَوَضَّأَ جَمِيعُ أَصْحَابِهِ قَالَ قُلْتُ:كَمْ كَانُوا يَا أَبَا حَمْزَةَ ؟ قَالَ:كَانُوا زُهَاءَ الثَّلاَثِمِائَةِ.

Anas bin Malik narrated that the Prophet (s.a.w) and his Companions were in Az-Zawra’ –he said: Az-Zawra’ is a place in Al-Madinah by the marketplace, near the Masjid. He called for a vessel of water and placed his hand in it, and it started to spring forth from between his fingers, and all of his Companions performed Wudu’. I said: “How many were they, O Abu Hamzah?” He said: “They were around three hundred.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺاور آپﷺکے اصحاب مقام زوراء میں تھے (راوی نے کہا: زوراء مدینہ کے بازار میں مسجد کے قریب ایک جگہ ہے ) آپﷺنے ایک پیالہ منگایا جس میں پانی تھا ، آپﷺنے اس میں ہتھیلی رکھ دی ، پھر آپ کی انگلیوں میں سے پانی پھوٹنے لگا ، آپﷺکے تمام اصحاب نے وضو کرلیا ، راوی نے کہا: اے ابو حمزہ ! اس وقت لوگوں کی کتنی تعداد تھی؟انہوں نے کہا:اندازا تین سو آدمی ہوں گے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالزَّوْرَاءِ فَأُتِيَ بِإِنَاءِ مَاءٍ لاَ يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ ، أَوْ قَدْرَ مَا يُوَارِي أَصَابِعَهُ ... ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ.

It was narrated from Anas that the Prophet (s.a.w) was in Az-Zawra’, and he was brought a vessel of water in which he could not immerse his fingers fully. Then he mentioned a Hadith like that of Hisham (no. 5934).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺزوراء میں تھے ، آپﷺکے پاس ایک برتن میں پانی لا یا گیا ، اس میں اتنا پانی تھا کہ اس میں آپ کی انگلیاں بھی نہیں ڈوبتی تھیں یا آپﷺکی انگلیاں بھی نہیں چھپتی تھیں ، بقیہ روایت حسب سابق ہے۔


وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ ، كَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا ، فَيَأْتِيهَا بَنُوهَا فَيَسْأَلُونَ الأُدْمَ ، وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ ، فَتَعْمِدُ إِلَى الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَجِدُ فِيهِ سَمْنًا ، فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدْمَ بَيْتِهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : عَصَرْتِيهَا ؟ قَالَتْ: نَعَمْ ، قَالَ لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا.

It was narrated from Jabir that Umm Malik used to give ghee to the Prophet (s.a.w) in a butter-skin of hers. Her sons used to go to her and asked for condiments, when they did not have anything. She would go to that skin in which she used to give (ghee) to the Prophet (s.a.w) and would find some ghee in it. It kept providing condiment for her family until one day she squeezed it. She went to the Prophet (s.a.w) and he said: “Did you squeeze it?” She said: “Yes.” He said: “If you had left it alone the ghee would still be there.”

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امّ مالک رضی اللہ عنہا نبی ﷺکو ایک کپّی میں گھی بھیجا کرتی تھیں ، ان کے بیٹے آکر ان سے سالن مانگتے ، ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تھی ، تو جس کپّی میں وہ نبی ﷺکے لیے گھی بھیجتی تھیں اس میں ان کو کچھ گھی مل جاتا ، ان کے گھر میں سالن کا مسئلہ اسی طرح حل ہوتارہا ، یہاں تک کہ انہوں نے ایک دن اس کپّی کو نچوڑ لیا ، پھر وہ نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں ، آپﷺنے فرمایا: تم نے کپی کو نچوڑ لیا ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! آپﷺنے فرمایا: اگر تم اس کو اسی طرح رہنے دیتیں تو اس سے گھی اسی طرح ملتا رہتا۔


وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَوَصِيفُهُمَا، حَتَّى كَالَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ ، وَلَقَامَ لَكُمْ.

It was narrated from Jabir that a man came to the Prophet (s.a.w) and asked him for food. He gave him half a Wasq of barley and the man, his wife and their guest continued to eat from it until he weighed it. He came to the Prophet (s.a.w) who said: “If you had not weighed it, you would still be eating from it, it would still be there.”

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبیﷺکی خدمت میں آکر کچھ کھانا طلب کیا ، آپ نے اس سے نصف وسق جو دے دئیے ، وہ آدمی،اور اس کی بیوی اور ان کا مہمان اس سے کھاتے رہے ، یہاں کہ ایک دن انہوں نے ان کو ماپ لیا ، پھر وہ نبی ﷺکے پاس آیا تو آپﷺنے فرمایا: اگر تم اس کو نہ ماپتے تو تم وہ جو کھاتے رہتے اور وہ جو یونہی باقی رہتا ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلاَةَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلاَةَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، ثُمَّ دَخَلَ ، ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، عَيْنَ تَبُوكَ ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ ، فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ فَلاَ يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلاَنِ ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ، قَالَ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا ؟ قَالاَ : نَعَمْ ، فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ . قَالَ : ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلاً قَلِيلاً ، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ ، قَالَ وَغَسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا ، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ ، أَوْ قَالَ : غَزِيرٍ ، شَكَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا قَالَ ، حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ ، ثُمَّ قَالَ يُوشِكُ ، يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ ، أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا.

Mu’adh bin Jabal narrated: “We set out with Messenger of Allah (s.a.w) during the campaign of Tabuk, and he was joining the prayers. He would pray Zuhr and ‘Asr together, and Maghrib and ‘Isha’ together, and Maghrib and ‘Isha’ together, until one day he delayed the prayer, then he came out and prayed Zuhr and ‘Asr together. Then he went in, and he came out after that and prayed Maghrib and ‘Isha’ together. Then he said: ‘Tomorrow, if Allah wills, you will reach the spring of Tabuk. You should not approach it until the forenoon, and whoever among you comes to it should not touch its water until I come.’ We came to it, and two men had reached it before us. The spring was a trickle of water, like a shoelace. The Messenger of Allah (s.a.w) asked them: ‘Did you touch the water at all?’ They said: ‘Yes.’ The Prophet (s.a.w) rebuked them, and said to them whatever Allah willed he should say. Then the people scooped water from the spring little by little, until they had gathered a little in a vessel. The Messenger of Allah (s.a.w) washed his hands and face in it, then he poured it back into the spring, and it begun to flow abundantly. The people dank their fill, then he said: ‘Soon, O Mu’adh, if you live a long life, you will see this area filled with gardens.”’

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک والے سال ہم رسول اللہﷺکے ساتھ گئے ، آپﷺنمازوں کو جمع کرتے تھے ، او رظہر اورعصر ، اور مغرب اور عشاء ملاکر پڑھتے تھے یہاں تک کہ ایک دن آپﷺنے نمازوں میں تاخیر کردی ، پھر آپﷺ باہر نکلے اور ظہر اور عصر کو ملاکر پڑھا ، پھر آپﷺاندر تشریف لے گئے اس کے بعد پھر آپﷺباہر نکلے اور مغرب اور عشاء کو ملاکر پڑھا ، پھر آپﷺنے فرمایا: کل تم ان شاء اللہ تبوک کے چشمہ پر پہنچ جاؤگے اور تم دن چڑھنے سے قبل نہیں پہنچوگے ، تم میں سے جو آدمی بھی اس چشمہ کے پاس جائے وہ میرے پہنچنے سے پہلے اس کےپانی کو ہاتھ نہ لگائے ، اس چشمہ پر ہم میں سے دو آدمی پہلے پہنچے ، چشمہ میں پانی زیادہ سے زیادہ جوتی کے تسمہ جتنا تھا اور وہ بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا ، راوی کہتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺنے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا: کیا تم نے اس کے پانی کو چھوا ہے انہوں نے کہا: ہاں ! نبی ﷺ نے ان کو برا بھلا کہا اور جو اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ ان کو فرماتے رہے ، لوگوں نے تھوڑا تھوڑا کرکے چلوؤں سے چشمہ کا پانی لیا اور اس کو کسی چیز میں جمع کرلیا ، پھر رسول اللہﷺنے اس برتن میں اپنے دست مبارک اور چہرہ انور کو دھویا اور وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا ،وہ چشمہ جوش مار کر بہنے لگا یہاں تک کہ لوگوں نے اس سے پانی (اپنے جانوروں اور ساتھیوں کو) پلایا ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے معاذ! اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم عنقریب دیکھوگے کہ یہ پانی باغات کو سیراب کرے گا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَأَتَيْنَا وَادِيَ الْقُرَى عَلَى حَدِيقَةٍ لاِمْرَأَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْرُصُوهَا فَخَرَصْنَاهَا وَخَرَصَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ ، وَقَالَ : أَحْصِيهَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَيْكِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ , وَانْطَلَقْنَا حَتَّى قَدِمْنَا تَبُوكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَلاَ يَقُمْ فِيهَا أَحَدٌ مِنْكُمْ فَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيَشُدَّ عِقَالَهُ فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَحَمَلَتْهُ الرِّيحُ حَتَّى أَلْقَتْهُ بِجَبَلَيْ طَيِّئٍ ، وَجَاءَ رَسُولُ ابْنِ الْعَلْمَاءِ ، صَاحِبِ أَيْلَةَ ، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَهْدَى لَهُ بُرْدًا ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِيَ الْقُرَى ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةَ عَنْ حَدِيقَتِهَا كَمْ بَلَغَ ثَمَرُهَا ؟ فَقَالَتْ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي مُسْرِعٌ فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِيَ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : هَذِهِ طَابَةُ ، وَهَذَا أُحُدٌ وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ خَيْرَ دُورِ الأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ فَلَحِقَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ : أَلَمْ تَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ دُورَ الأَنْصَارِ ، فَجَعَلَنَا آخِرًا فَأَدْرَكَ سَعْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، خَيَّرْتَ دُورَ الأَنْصَارِ ، فَجَعَلْتَنَا آخِرًا ، فَقَالَ : أَوَلَيْسَ بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ الْخِيَارِ.

It was narrated that Abu Humaid said: “We went out with Messenger of Allah (s.a.w) on the campaign of Tabuk, and we came to the valley of Al-Qura, where there was a garden belonging to a woman. The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Estimate the amount of its produce.’ So we estimated it, and the Messenger of Allah (s.a.w) estimated it at ten Wasq. He said: ‘Remember this number until we come back, if Allah wills.’ So we set off, until we came to Tabuk. The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘There will be a strong wind tonight, so none of you should stand up in it and whoever has a camel, let him hobble it tightly.’ “The strong wind came, and one man stood up; the wind carried him and threw him down in the mountains of Tayy’. The envoy of Ibn Al-‘Alma’, the ruler of Aylah, brought a letter to the Messenger of Allah (s.a.w) and gave him a gift of a white mule. The Messenger of Allah (s.a.w) wrote back to him and sent him a gift of a cloak. Then we came back to the valley of Al-Qura, and the Messenger of Allah (s.a.w) asked that woman its produce?’ She said: ‘Ten Wasq.’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I am hastening back; whoever among you wishes may leave with me, and whoever wishes may stay.’ We set out and when we were approaching Al-Madinah he said: ‘This is is Tabah and this is Uhad –it is a mountain that loves us and we love it.’ Then he said: ‘The best houses of the Ansar are the house of Banu ‘Abdul-Ash-hal, then the house of Banu ‘Abdul-Harith bin Al-Khazraj, then the house is goodness in all the houses of the Ansar.’ Sa’d bin ‘Ubadah came to us and Abu Usaid said: ‘Did you not see how the Messenger of Allah (s.a.w) mentioned the best of the houses of the Ansar, and mentioned us last?’ Sa’d went to the Messenger of Allah, you mentioned the best of the houses of the Ansar and mentioned us last.’ He said: “Is it not sufficient for you that you are among the best?”’

ابو حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺکے ساتھ غزوہ تبوک میں گئے اور وادی القریٰ میں ایک عورت کے باغ میں پہنچے ، رسول اللہ نے فرمایا: اس باغ کے پھلوں کا اندازہ لگاؤ ، ہم نے اندازہ لگایا ، رسول اللہﷺنے دس وسق اندازہ لگایا ، آپﷺنے اس عورت سے فرمایا: اس تعداد کو یاد رکھنا یہاں تک کہ ہم ان شاء اللہ تمہارے پاس لوٹ آئیں ، پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ تبوک پہنچ گئے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: آج رات سخت آندھی آئے گی تم میں سے کوئی آدمی کھڑا نہ رہے ، جس آدمی کے پاس اونٹ ہو وہ اس کو رسی کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دے ، پھر سخت آندھی آئی ، ایک شخص کھڑا ہوا تو ہوا اس کو اڑا کر لے گئی اور طے کے دو پہاڑوں کے درمیان اس کو گرادیا ، پھر ایلہ کے حاکم ابن العلماء کا قاصد رسول اللہﷺکے پاس ایک خط لیکر آیا اور اس نے نبیﷺکی خدمت میں ایک سفید خچر بھی ہدیہ دیا ، نبی ﷺنے اس کو جواب میں لکھا اور اسے ایک چادر ہدیہ میں پیش کی ، پھر ہم واپس ہوئے اور وادی قریٰ میں پہنچے ، رسول اللہﷺنے اس عورت سے اس کے باغ کے متعلق پوچھا کتنے ہوئے ؟ اس عورت نے کہا: دس وسق ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں جلد روانہ ہوں گا ، جو جلد روانہ ہونا چاہتا ہو وہ میرے ساتھ چلے اور جو ٹھہرنا چاہتا ہے وہ ٹھہر جائے ، ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے ، آپﷺنے فرمایا: یہ طابہ ہے اور یہ احد ہے ، یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر آپﷺنے فرمایا: انصار کے تمام گھروں میں بنو نجار کے گھر سب سے افضل ہیں ، پھر بنو عبد الاشہل کےگھر ہیں ، پھر بنو عبد الحارث بن خزرج کے گھر ہیں ، پھر بنو ساعدہ کے ، او رانصار کے تمام گھروں میں خیر ہے ، پھر حضرت سعد ین عبادہ ہم سے ملے ، ابو اسید نے ان سے کہا: کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہﷺنے تمام انصار کے گھروں کو بہتر قرار دیا ہے اورہم کو آخر میں کردیا۔حضرت سعد رسول اللہ ﷺسے ملے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! آپ ﷺنے تمام انصار کے گھروں کو بہتر قرار دیا ہے او رآپ نے ہم کو آخر میں رکھا ، آپﷺنے فرمایا: کیا تمہارے لیےیہ کافی نہیں ہے :کہ تم پسندیدہ لوگوں میں سے ہو؟


حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، إِلَى قَوْلِهِ وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ خَيْرٌ , وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ قِصَّةِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ. وَزَادَ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِهِمْ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

‘Amr bin Yahya narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5948), up to the words: “And there is goodness in all the houses of the Ansar”. He did not mention what comes after that of the story of Sa’d bin ‘Ubadah. In the Hadith of Wuhaib it adds: “The Messenger of Allah (s.a.w) wrote to them in their land.”

یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے اس میں ہے کہ انصار کے سب گھروں میں بھلائی ہے اور سعد بن عبادہ کا قصہ نہیں ہے اور وہیب کی سند میں ہے کہ رسول اللہﷺنے اس کے لیے ان کا سمندر(یعنی ان کا ملک) لکھ دیا ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے ان کو جواب لکھا۔

Chapter No: 4

بابُ تَوَكُّلِهِ عَلَى اللَّهِ وَعِصْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى لَهُ مِنَ النَّاسِ

Prophet's ﷺ reliance on Allah, The Exalted, and Allah's protection for His Prophet ﷺ against people

رسول اللہﷺکا اللہ تعالیٰ پر توکل اور آپ ﷺکے لیے اللہ کی نگہبانی کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ (ح) وحَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ ، يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ ، فَأَدْرَكَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا , قَالَ : وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْوَادِي يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ رَجُلاً أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ ، فَأَخَذَ السَّيْفَ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي ، فَلَمْ أَشْعُرْ إِلاَّ وَالسَّيْفُ صَلْتًا فِي يَدِهِ ، فَقَالَ لِي : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ قُلْتُ : اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قَالَ قُلْتُ : اللَّهُ ، قَالَ : فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ , ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “We went out with the Messenger of Allah (s.a.w) on a campaign towards Najd. The Messenger of Allah (s.a.w) caught up with us in a valley that abounded in thorny trees. The Messenger of Allah (s.a.w) stopped beneath a tree and hung his sword on one of its branches. The people scattered throughout the valley, seeking shade beneath the trees. The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘A man came to me while I was sleeping and took the sword, then I woke up to find him standing over my head, and I did not realize (that he was unsheathed in his hand. He said to me: “Who will protect you against me?” I said: “Allah.” He said a second time: “Who will protect you against me?” I said: “Allah.” Then he sheathed the sword, and he is sitting over there.’ Then the Messenger of Allah (s.a.w) left him alone.”

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺکے ساتھ نجد کی طرف ایک جنگ میں گئے تو ہم نے رسول اللہﷺکو ایک ایسی وادی میں دیکھا جس میں کانٹے دار درخت بہت تھے ، رسول اللہﷺایک درخت کے نیچے اترے اور اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ پر اپنی تلوار لٹکادی اور لوگ وادی کے دوسرے درختوں کے نیچے سائے کی طلب میں بکھر گئے ، روای کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ایک آدمی میرے پاس آیا اس حال میں کہ میں سویا ہوا تھا ، اس نے میری تلوار پکڑ لی ، میں اچانک بیدار ہوا تو وہ میرے سر پر کھڑا ہوا تھا ، اورمجھے صرف اس وقت احساس ہوا جب اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی ، اس نے کہا: اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا : میں نے کہا: اللہ! اس نے پھر دوبارہ کہا: تمہیں مجھ سے کون بچائے گا : میں نے کہا: اللہ! آپﷺنے فرمایا: پھر اس نے تلوار نیام میں کرلی اور وہ آدمی یہ بیٹھا ہوا ہے ، پھر رسول اللہﷺنے اس سے کچھ تعرض نہیں کیا۔


وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالاَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُمَا ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ ، فَلَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا ... ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ وَمَعْمَرٍ.

Jabir bin ‘Abdullah Al-Ansari, who was one of the Companions of the Prophet (s.a.w), narrated that he went out on a campaign with the Prophet (s.a.w) in the direction of Najd. When the Prophet (s.a.w) came back, he came back with him, and they sat to rest one day. Then he mentioned a Hadith like that of Ibrahim bin Sa’d and Ma’mar (no. 5950)

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ جو نبی ﷺکے اصحاب میں شامل تھے وہ روایت کرتے ہیں کہ وہ نجد کی طرف نبی ﷺکے ساتھ ایک غزوہ میں گئے ، جب نبی ﷺاس جنگ سے واپس لوٹے تو وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ واپس ہوئے ۔ایک دن ان سب کو دوپہر کے قیلولہ نے آلیا ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يَذْكُرْ : ثُمَّ لَمْ يَعْرِضْ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated that Jabir said: “We came back with the Messenger of Allah (s.a.w), and when we were in Dhat Ar-Riqa’…” a Hadith like that of Az-Zuhri (no. 5950), but he did not mention (the words): “Then the Messenger of Allah (s.a.w) left him alone.”

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺکے ساتھ گئے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع پر پہنچے ، باقی روایت زہری کی طرح ہے ، اس میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اس سے کوئی تعرض نہیں کیا۔

Chapter No: 5

بابُ بَيَانِ مَثَلِ مَا بُعِثَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ

An example of the guidance and the knowledge with which the Prophet ﷺ was sent

جس علم اور ہدایت کے ساتھ نبیﷺکو مبعوث کیا گیا اس کی مثال

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي عَامِرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ , كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا ، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ ، قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ ، وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ ، فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ ، فَشَرِبُوا مِنْهَا وَسَقَوْا وَرَعَوْا ، وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى ، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لاَ تُمْسِكُ مَاءً ، وَلاَ تُنْبِتُ كَلَأً ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ ، وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا ، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ.

It was narrated from Abu Musa that the Prophet (s.a.w) said: “The likeness of the guidance and knowledge with which Allah has sent me is that of rain falling upon the earth. Some of it is good ground which receives the water and brings forth a great deal of herbage and grass. Some of it is hard but it retains the water, and Allah benefits people by it, and they drink it and give it to their animals to drink, and they use it for irrigation and grazing. And another part of it is barren, it does not retain the water or produce herbage. That is the likeness of one who gains an understanding of the religion of Allah, and Allah benefits him by that with which Allah has sent me, and he learns and teaches others; and the likeness of a man who pays no attention to that, and does not accept the guidance of Allah with which I have been sent.”

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اللہ عزوجل نے جس علم و ہدایت کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس بادل کی طرح ہے جو زمین پر برسا ، زمین کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے اس پانی کو جذب کر لیا اور اس نے چارہ اور بہت سا سبزہ اگایا ، اور زمین کا بعض حصہ سخت تھا ، اس نے پانی کو روک لیا جس سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نفع دیا ، انہوں نے وہ پانی خود پیا ، جانوروں کو پلایا ، اور ان کو چرایا ، زمین کا بعض حصہ چٹیل میدان تھا ، جس پر بارش ہوئی تو اس نے نہ پانی کو روکا اور نہ کسی قسم کی گھاس اگائی ۔یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اس کا فیض پہنچایا اور اللہ تعالیٰ نے جس ہدایت کے ساتھ مجھے مبعوث کیا ہے اس کا علم حاصل کیا اور وہ علم آگے پہنچایا اور یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے اس کی طرف سر اٹھاکر نہیں دیکھا اور جس ہدایت کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے اس کو قبول نہیں کیا۔

Chapter No: 6

بابُ شَفَقَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ

Concerning extreme kindness of the Prophet ﷺ towards his Ummah, and his intense concern to warn them against all harmful things

رسول اللہﷺکی اپنی امت پر انتہائی درجے کی شفقت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى قَوْمَهُ ، فَقَالَ : يَا قَوْمِ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ ، فَالنَّجَاءَ ، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ ، فَأَدْلَجُوا فَانْطَلَقُوا عَلَى مُهْلَتِهِمْ ، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوا مَكَانَهُمْ ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي وَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِي وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ.

It was narrated from Abu Musa that the Prophet (s.a.w) said: “The likeness of me and that with which Allah has sent me, is that of a man who came to his people and said: ‘O people. I have seen the army with my own eyes, and I am a plain warner; save yourselves!’ his people obeyed him and fled early of a place of safety. Others belied him, and in the morning the army found them in their houses and killed them and destroyed them. That is the likeness of those who obey me ad follow that which I have brought, and the likeness of those who disobey me and belie that which I have brought of the truth.”

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: میری مثال اور جس دین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو اپنی قوم کے پاس جاکر کہے : اے میری قوم! میں نے اپنی آنکھوں سے (دشمن کا )ایک لشکر دیکھا ہے اور میں تم کو کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں سو تم خود کو بچاؤ، اس قوم میں سے بعض لوگوں نے اس کی اطاعت کرلی اور سر شام اس مہلت میں بھاگ گئے اور بعض لوگوں نے اس کی تکذیب کی اور وہ صبح تک وہیں رہے ، صبح ہوتے ہی لشکر ان پر حملہ آور ہوا اور ان کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ، یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو میری پیروی کرتے رہے اور میرے لائے ہوئے دین کی اتباع کرتے ہیں اور ا ن لوگوں کی مثال جو میری نافرمانی کرتے ہیں اور میرے لائے ہوئے دین حق کی تکذیب کرتے ہیں۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا ، فَجَعَلَتِ الدَّوَابُّ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهِ ، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ وَأَنْتُمْ تَقَحَّمُونَ فِيهِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘My likeness and that of my Ummah is that of a man who lights a fire and insects ad moths start falling into it. I am trying to hold you back but you are rushing headlong into it.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: میری مثال اور میری امت کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی ، پھر حشرات الار ض اور پروانے اس آگ میں گرنے لگے ، سو میں تم کو کمر سے پکڑ کر روک رہا ہوں ، اور تم اس آگ میں دھڑا دھڑ گر رہے ہو۔


وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 5955) was narrated from Abu Az-Zinnad with this chain.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا ، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهَا جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا ، وَجَعَلَ يَحْجُزُهُنَّ وَيَغْلِبْنَهُ فَيَتَقَحَّمْنَ فِيهَا ، قَالَ : فَذَلِكُمْ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ ، أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ فَتَغْلِبُونِي تَقَحَّمُونَ فِيهَا.

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w). – He narrated a number of Ahadith, including the following: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘My likeness is that of a man who lights a fire, and when it is glowing, moths and insects start falling into it. He tries to stop them but they overwhelm him and fall in. that is the likeness of you and I. I am trying to hold you back from the fire (and saying), come away from the fire, come away from the fire, but you overwhelm me and rush headlong into it.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: میری مثال آدمی کی طرح ہے جس نے آگ جلائی اور جب اس آگ نے ارد گرد کو روشن کردیا ، تو اس میں پروانے اور حشرات الارض گرنے لگے ، وہ آدمی ان کو آگ میں گرنے سے روکتا ہے اور وہ اس پر غالب آکر آگ میں دھڑا دھڑا گررہے ہیں ، پس یہ میری مثال اور تمہاری مثال ہے ، میں تمہاری کمر پکڑ کر تم کو جہنم میں جانے سے روک رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ جہنم کے پاس سے چلے آؤ ، او رتم لوگ میری بات نہ مان کر جہنم میں گرے جارے ہو۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا ، فَجَعَلَ الْجَنَادِبُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا ، وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا ، وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ ، وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي.

It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The likeness of me and you is that of a man who lights a fire, and locusts and moths start falling into it, and he is trying to keep them out of it. I am holding you back from the fire, but you are slipping through my hands.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے آگ جلائی ، پھر حشرات الارض اور پروانے اس میں گرنے لگے اس حال میں وہ ان کو اس سے روک رہا ہے ، اور میں تم کو کمر سے پکڑ کر آگ میں گرنے سے روک رہا ہوں اورتم میرے ہاتھوں سے نکلے جاتے ہو۔

Chapter No: 7

بابُ ذِكْرِ كَوْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ

Prophet ﷺ was the seal of the Prophets

نبیﷺکے خاتم النبیین ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ ، يَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا ، إِلاَّ هَذِهِ اللَّبِنَةَ ، فَكُنْتُ أَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةَ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: “The likeness of myself and the Prophets (who came before me) is that of a man who built a structure and built it well and he made it beautiful, and the people started walking around it and saying: ‘We have never seen any structure more beautiful than this, except for this brick.’ I am that brick.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: میری مثال اور انبیاء سابقین کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے ایک مکان بنایا اور کیا ہی اچھا اور خوبصورت مکان بنایا ، لوگ اس مکان کے گرد گھوم کر کہنے لگے : ہم نے اس مکان سے اچھا کوئی مکان نہیں دیکھا مگر اس میں ایک اینٹ نہیں ہے سو میں وہ اینٹ ہوں۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ: أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى بُيُوتًا فَأَحْسَنَهَا وَأَجْمَلَهَا وَأَكْمَلَهَا ، إِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ وَيُعْجِبُهُمُ الْبُنْيَانُ فَيَقُولُونَ: أَلاَّ وَضَعْتَ هَاهُنَا لَبِنَةً فَيَتِمَّ بُنْيَانُكَ فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ.

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: “This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w).” He narrated a number of Ahadith, including the following” ‘The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The likeness of myself and the Prophets who came before me is that of a man who built some houses and built them well, making them beautiful and perfect, apart from the space of one brick in one of their corners. The people started walking around them, admiring the structure, saying: “Why don’t you put a brick here? Then your building will be complete.”’ Muhammad (s.a.w) said: ‘I am that brick.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو القاسم ﷺنے فرمایا: میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے کئی مکان بنائے اور کیا اچھے خوبصورت اور مکمل مکان بنائے مگر اس کے گوشوں میں سے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی ، لوگ گھوم رہے تھے اور ان کو وہ مکان اچھا لگ رہا تھا، وہ کہنے لگے : تم نے یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ رکھ دی تاکہ تمہاری تعمیر مکمل ہوجاتی ؟ حضرت محمدﷺنے فرمایا: میں ہی وہ اینٹ ہوں۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ ، إِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ : هَلاَّ وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “The likeness of myself and the Prophet who came before me is that of a man who built a structure and built it well and made it beautiful, except for the space of a brick in one of its corners. The people started walking around it, admiring it and saying: ‘Why is this brick missing?’ I am that brick, I am the Seal of the Prophets.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے ایک مکان بنایا اور کیا ہی خوب اور جمیل مکان بنایا مگر ا س کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ تھی، لوگ اس کے ارد گرد گھوم کر خوش ہورہے تھے ، اور کہہ رہے تھے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہیں رکھی گئی ؟ آپﷺنے فرمایا: میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّينَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

It was narrated that Abu Sa’eed said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The likeness of me and the Prophets…”’ and he mentioned something similar (to Hadith no. 5961).

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میری مثال اور انبیاء کی مثال ، اس کے بعدمذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَتَمَّهَا وَأَكْمَلَهَا إِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا ، وَيَقُولُونَ : لَوْلاَ مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ ، جِئْتُ فَخَتَمْتُ الأَنْبِيَاءَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ.

It was narrated from Jabir that the Prophet (s.a.w) said: “The likeness of myself and the (previous) Prophets is that of a man who built a house and made it perfect and complete, except the space of a brick. The people started to enter it and admire it, and they said: ‘were it not for the space of a brick.”’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: “I am the space of that brick, I have come and sealed the (succession) Prophets.”

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: میری مثال اور انبیاء کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اس کو مکمل اور کامل کیا مگر ایک اینٹ کی جگہ رہ گئی ، لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور اس گھر کو دیکھ کر خوش ہوتے اور کہتے کہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھ دی گئی ؟ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: میں اس اینٹ کی جگہ آیا ہوں اور میں نے انبیاء (کی آمد) کو ختم کردیا ہے۔


وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ بَدَلَ ، أَتَمَّهَا ، أَحْسَنَهَا.

Salim narrated a similar report with this chain of narrators, and instead of saying ‘made it complete’ he said ‘made it beautiful.’

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے ، صرف فرق یہ ہے کہ اس میں " اتمہا" کی جگہ " احسنہا " کا لفظ آیا ہے ۔

Chapter No: 8

بابُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةَ أُمَّةٍ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا

When Allah intends to have mercy on an Ummah, He takes their Prophet before them

جب اللہ تعالیٰ کسی امت پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے پہلے اس کے نبی کو اٹھا لیتا ہے

وَحُدِّثْتُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، وَمِمَّنْ رَوَى ذَلِكَ عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ ، قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا ، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا ، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ ، عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ ، فَأَهْلَكَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ وَعَصَوْا أَمْرَهُ.

It was narrated from Abu Musa that the Prophet (s.a.w) said: “When Allah wants to show mercy to a nation among His slaves, He takes their Prophet before them, and makes him a forerunner for them. When He wants to destroy a nation, He punishes them when their Prophet is still alive, then He destroys them while he is looking on, and He relieves him by means of their destruction because they belied him and destroyed his commands.”

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ اس امت (کی ہلاکت) سے پہلے اس نبی کو اٹھالیتا ہے اور اس نبی کو امت کے لیے اجر اور پیش رو بنا دیتا ہے اور جب کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس نبی کی زندگی میں اس کی آنکھوں کے سامنے اس امت پر عذاب نازل فرماتا ہے اور اس امت کو ہلاک کر کے اس نبی کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا ہے ، کیونکہ انہوں نے اس نبی ﷺکی تکذیب کی تھی اور اس کی نافرمانی کی تھی۔

Chapter No: 9

بابُ إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ

Concerning the cistern of our Prophet ﷺ and its features

نبی ﷺکے حوض اور آپﷺ کی صفات کا بیان

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ.

Jundab said: “I heard the Prophet (s.a.w) say: ‘I will reach Al-Haud (the Cistern) ahead of you.”’

حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ مِسْعَرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلاَهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 5966) was narrated from ‘Abdul-Malik bin ‘Umair, form Jundab, from the Prophet (s.a.w).

حضرت جندب رضی اللہ ع نہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اس کے بعد حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلاً ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، مَنْ وَرَدَ شَرِبَ ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا ، وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي ، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ. قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : هَكَذَا سَمِعْتَ سَهْلاً يَقُولُ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ.

It was narrated that Abu Hazim said: “I heard Sahl say: ‘I heard the Prophet (s.a.w) say: “I will reach the Cistern ahead of you. He who comes will drink, and whoever drinks will never be thirsty again. There will come to me some people will recognize me, then they will be prevented from reaching me.”’ Abu Hazim said: "And i heard An-Nu'man bin Abi 'Ayyash say, when i was narrating this Hadith to them: 'Is this what you heard Sahl say?' I said: 'Yes."'

حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں ، جو اس حوض پر آئے گا وہ پیئے گا ، اور جو ایک بار پی لے وہ کبھی پیاسا نہیں رہے گا ، اور میرے پاس (حوض پر ) کچھ ایسے لوگ آئیں گے جن کو میں پہچانتا ہوں گا اور وہ مجھے پہچانتے ہوں گے ، پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ حائل کردی جائے گی ، ابو حازم کہتے ہیں کہ جس وقت میں یہ حدیث بیان کررہا تھا اس وقت نعمان بن ابی عیاش بھی اس حدیث کو سن رہے تھے ، انہوں نے کہا: تم نے حضرت سہل سے یہ حدیث اسی طرح سنی ہے ؟ میں نے کہا: ہاں۔


قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فَيَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّي ، فَيُقَالُ : إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي.

And I bear witness that I heard Abu Sa’eed Al-Khudri add something and say (The Messenger of Allah (s.a.w) said): “They belong to me.” But I will be said: “You do not know what they did after you were gone.” And I will say: “Away, away with the one who changed (the religion) after I was gone.”

انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی طرح سنی ہے ، البتہ وہ یہ زیادہ کہتے تھے : آپﷺفرمائیں گے : یہ میرے پیروکار ہیں ، تو کہاجائے گا: آپ ﷺ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپﷺکے بعد کیا کیا ہے ، میں کہوں گا: جن لوگوں نے میرے بعد دین میں تبدیلی کی ان سے دوری ہو، دوری ہو۔


وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ يَعْقُوبَ.

A Hadith like that of Ya’qub (no. 5968) was narrated from Sahl from the Prophet (s.a.w), and from An-Nu’man bin Abi ‘Ayyash, from Abu Sa’eed Al-Khudri, from the Prophet (s.a.w).

حضرت سہل نے نبی ﷺاور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس کی مثل روایت کی ہے۔


وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ ، وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ ، وَمَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ الْوَرِقِ ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ ، فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلاَ يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا.

‘Abdullah bin ‘Amr bin Al-As said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘My Cistern is the size of a month’s water is whiter than silver, its fragrance is better than musk, and its jugs are like the (number of) stars of the sky. Whoever drinks from it will never be thirsty again.”’

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میرے حوض ایک ماہ کی مسافت ہے اور اس کے سب کونے برابر ہیں اس کا پانی چاندی سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ اچھی ہے ، اس کے کوزے آسمان کے ستاروں جتنے ہیں ، جو آدمی اس کا پانی پی لے گا اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی۔


قَالَ: وَقَالَتْ: أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ ، وَسَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ دُونِي ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي ، فَيُقَالُ: أَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ؟ وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ. قَالَ: فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا ، أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا.

Asma bint Abi Bakr said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I will reach the Cistern and I will see those of you who come to me. Some people will be detained before they reach me and I will say: “O Lord, they belong to me and to my Ummah.” It will be said: “Do you not know what they did after you were gone? By Allah, they continued turning on their heels after you were gone.” Ibn Abi Mulaikah used to say: “O Allah, we seek refuge with You from turning on our heels or being put to trial with regard to our religion.”

راوی نے کہا: حضرت اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میں حوض پر رہوں گا اور یہ دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے ، کچھ لوگ میرے سامنے پکڑے جائیں گے ، میں کہوں گا کہ اے رب ! یہ میرے پروردگار ہیں اور میری امت سے ہیں تو یہ کہا جائے گا : " کیا آپ نے نہیں جانا انہوں نے آپ کے بعد کیا عمل کیا ہے ؟ اللہ کی قسم! آپ کے بعد یہ لوگ فورا اپنی ایڑیوں پر پلٹ گئے " راوی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ یہ دعا کرتے تھے " اے اللہ! ہم اس سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جائیں اور اپنے دین میں کسی آزمائش سے دو چار رہوں۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ ، فَوَاللَّهِ لَيُقْتَطَعَنَّ دُونِي رِجَالٌ ، فَلأَقُولَنَّ: أَيْ رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي ، فَيَقُولُ: إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ، مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ.

‘Aishah said: “I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say when he was among his Companions: ‘I will be at the Cistern and I will see those of you who come towards me. By Allah, some men will be prevented from reaching me, and I will say: “O Lord, they belong to me and my Ummah.” He will say: “You do not know what they did after you were gone. They kept turning back on their heels.”’

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جس وقت رسول اللہﷺاپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے تھے کہ میں نے آپﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں حوض پر انتظار کروں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے ، اللہ کی قسم ! کچھ لوگوں کومیرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا ، میں کہوں گا کہ اے میرے رب! یہ میرے پیروکار اور میری امت سے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپﷺکے بعد کیا کیا ہے ؟ یہ ہمیشہ دین سے پھرتے رہے ہیں۔


وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَذْكُرُونَ الْحَوْضَ ، وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمًا مِنْ ذَلِكَ ، وَالْجَارِيَةُ تَمْشُطُنِي ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ : اسْتَأْخِرِي عَنِّي ، قَالَتْ : إِنَّمَا دَعَا الرِّجَالَ وَلَمْ يَدْعُ النِّسَاءَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي مِنَ النَّاسِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ ، فَإِيَّايَ لاَ يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي كَمَا يُذَبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ ، فَأَقُولُ : فِيمَ هَذَا ؟ فَيُقَالُ : إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ : سُحْقًا.

It was narrated that Umm Salamah, the wife of the Prophet (s.a.w), said: “I used to hear the people talking about the Cistern, but I did not hear anything about it from the Messenger of Allah (s.a.w), until one day, when the slave woman was combing my hair, I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: ‘O people!’ I said to the slave woman: ‘Move away from me.’ I said: ‘I am one of the people.’ The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I will reach the Cistern ahead of you, so beware lest one of you come and be driven away like a stray camel. I will say: “What is the matter with this one?” And it will be said: “You do not know what they introduced after you were gone.” I will say: “Away with them.”

نبی ﷺکی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں لوگوں سے حوض کا ذکر سنتی تھی ، اور سول اللہ ﷺسے میں نے اس کے بارے میں کچھ نہیں سنا تھا کہ ایک دن جبکہ ایک لڑکی میرے کنگھی کررہی تھی کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرمایتے ہوئے سنا : اے لوگو! میں نے اس لڑکی سے کہا: ایک طرف ہٹ جاؤ ، اس نے کہا: آپﷺمردوں کو بلارہِے ہیں ، عورتوں کو نہیں بلارہے ہیں ، میں نے کہا: لوگوں میں میں بھی شامل ہوں، رسول اللہ ﷺفرمارہے تھے : میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا تم اس سے ڈرنا کہ کہیں تم کو میرے پاس سے ہٹا نہ دیا جائے جیسے بھٹکے ہوئے اونٹ کو ہٹادیا جاتا ہے ، میں کہوں گا کہ ایسا کیوں ہوا؟ تو یہ کہا جائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا بدعات نکالی ہیں ، میں کہوں گا : دوری ہو۔


وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهِيَ تَمْتَشِطُ: أَيُّهَا النَّاسُ فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا: كُفِّي رَأْسِي ، بِنَحْوِ حَدِيثِ بُكَيْرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ.

‘Abdullah bin Rafi said: “Umm Salamah used to narrate that she heard the Prophet (s.a.w) say on the Minbar, while she was having her hair combed: “O people!’ She said to the one who was combing her hair: ‘Gather my hair and put it together…”’ A Hadith like that of Bukair form Al-Qasim bin ‘Abbas (no. 4974)

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت وہ کنگھی کرارہی تھیں انہوں نے منبر پر نبی ﷺکی آواز سنی : اے لوگو! انہوں نے کنگھی کرنے والی سے کہا: اب میرے سر کو رہنے دو۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلاَتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ ، وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الآنَ ، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الأَرْضِ ، أَوْ مَفَاتِيحَ الأَرْضِ ، وَإِنِّي ، وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا.

It was narrated from ‘Uqbah bin ‘Amir that the Messenger of Allah (s.a.w) came out one day and prayed for the people of Uhud as he used to pray for the dead. Then he went to the Minbar and said: “I will be there ahead of you, and I will be your witness. By Allah, I am given the keys to the treasures of the earth, or the keys to the earth. By Allah, I do not fear that you will associate others with Allah after I am gone, but I fear that you will compete with one another for them (the treasures of the earth).”

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺباہر نکلے اور اہل احد کی نماز جنازہ پڑھی ، پھر منبر پر پلٹ آئے اور فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور میں تمہاری گواہی دوں گا اور اللہ کی قسم! میں اب بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور بے شک مجھے روئے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں یا روئے زمین کی چابیاں فرمایا، اور بے شک اللہ کی قسم! مجھے تمہارے متعلق یہ خدشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہوجاؤگے لیکن مجھے تمہارے متعلق یہ خدشہ ہے کہ تم دنیا میں رغبت کروگے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلأَحْيَاءِ وَالأَمْوَاتِ ، فَقَالَ: إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنَّ عَرْضَهُ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى الْجُحْفَةِ ، إِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا ، وَتَقْتَتِلُوا ، فَتَهْلِكُوا ، كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ. قَالَ عُقْبَةُ: فَكَانَتْ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ.

It was narrated that ‘Uqbah bin ‘Amir said: “The Messenger of Allah (s.a.w) prayed for those who had been slain at Uhud, then he ascended the Minbar like on who was bidding farewell to the living and the dead. He said: ‘I will reach the Cistern ahead of you, and its width is like the distance between Aylah and Al-Juhfah. I do not fear that you will associates others with Allah after I am gone, but I fear that you will compete with one another for worldly gains and you will fight one another and be destroyed as those who came before you were destroyed.”’ ‘Uqbah said: “That was the last thing I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say on the Minbar.”

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی ، پھر منبر پر رونق افروز ہوئے ، پھر اس طرح نصیحت فرمائی جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو نصیحت کررہا ہو اور فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش روہوں گا اور اس حوض کا عرض اتنا ہے جتنا مقام ایلہ سے لے کر جحفہ تک کا فاصلہ ہے ، مجھے تمہارے متعلق یہ خدشہ نہیں ہے ، کہ تم میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے لیکن مجھے تمہارے متعلق یہ خدشہ ہے کہ تم دنیا میں رغبت کروگے اور ایک دوسرے سے لڑکر ہلاک ہوجاؤ گے ، جیسا کہ تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوگئے ، حضرت عقبہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس موقع پر رسول اللہﷺکو آخری بار منبر پر دیکھا تھا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَلأُنَازِعَنَّ أَقْوَامًا ثُمَّ لأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَصْحَابِي ، أَصْحَابِي ، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ.

It was narrated that ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘I will reach the Cistern ahead of you, and I will plead concerning some people then I will have to give them up. I will say: “O Lord, my companions, my companions!” it will be said: “You do not know what they introduced after you were gone.”’

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا ، اور میں کچھ لوگوں سے جھگڑا کروں گا ، پھر میں ان سے مغلوب ہوں گا ، میں کہوں گا کہ اے میرے رب!یہ میرے اصحاب ہیں ، یہ میرے اصحاب ہیں ، پھر کہا جائے گا : بے شک آپ نہیں جانتے ، انہوں نے آپﷺکے بعد دین میں کیا بدعتیں نکالی تھیں ۔


وَحَدَّثَنَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَصْحَابِي ، أَصْحَابِي.

It was narrated from Al-A’mash with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5978), but he did not mention (the word) “My companions, my companions.”

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ، اس حدیث میں اصحابی اصحابی نہیں ہے ۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلاَهُمَا ، عَنْ جَرِيرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِ الأَعْمَشِ وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ.

A Hadith like that of Al-A’mash (no. 5978) was narrated from ‘Abdullah from the Prophet (s.a.w).

یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی مثل سابق مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ كِلاَهُمَا ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ الأَعْمَشِ ، وَمُغِيرَةَ.

A Hadith like that of Al-A’mash and Mughirah was narrated from Hudhaifah (no. 5978, 5980), from the Prophet (s.a.w).

یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے ، اس میں بھی اسی طرح حدیث ہے ۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَارِثَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : حَوْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ. فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ : أَلَمْ تَسْمَعْهُ قَالَ : الأَوَانِي ؟ قَالَ : لاَ ، فَقَالَ الْمُسْتَوْرِدُ : تُرَى فِيهِ الآنِيَةُ مِثْلَ الْكَوَاكِبِ.

It was narrated from Harithah that he heard the Prophet (s.a.w) say: “His Cistern is (as large as the distance) between San’a’ and Al-Madinah.” Al Mustawrid said to him: “Did yo not hear him say, “The vessels’?” He said: “No.” Al-Mustawrid said: “There will be seen in it vessels like the stars.”

حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: آپ کا حوض اتنا بڑا ہے جتنا صنعاء اور مدینہ میں فاصلہ ہے ، ان سے مستورد نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺسے برتنوں کے بارے میں نہیں سنا؟ انہوں نے کہا: نہیں ، تو مستورد نے کہا: اس کے برتن ستاروں جتنے ہوں گے۔


وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَذَكَرَ الْحَوْضَ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ الْمُسْتَوْرِدِ وَقَوْلَهُ.

Harithah bin Wahb Al-Khuza’i said: “I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say…” and he mentioned a similar report (as no. 2298) about the Cistern, but he did not mention the words of Al-Mustawrid.

حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺسے سنا ، آپﷺنے حوض کا ذکر کیا ، یہ حدیث مثل سابق ہے ، البتہ اس میں مستورد کا قول ذکر نہیں ہے ۔


حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا ، مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ.

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘Ahead of you lies the Cistern. The distance between its two corners is like the distance between Jarba’ and Adhrah.”’

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تمہارے سامنے حوض ہے جس کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى حَوْضِي.

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (s.a.w) said: “Ahead of you lies a Cistern like the distance between Jarba’ and Adhrah.” In the report of Ibn Al-Muthanna its says: “My Cistern.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: تمہارے سامنے حوض ہے (اس کا فاصلہ) جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلہ جتناہے ۔ ابن مثنیٰ کی روایت میں " میرا حوض" ہے کے الفاظ ہیں۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ. وَزَادَ: قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ قَرْيَتَيْنِ بِالشَّأْمِ ، بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ ثَلاَثِ لَيَالٍ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بِشْرٍ: ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ.

‘Ubaidullah narrated a similar report (as no. 5985) with this chain of narrators, and he added: “Ubaidullah said: ‘I asked him and he said: “They are two towns in Ash-Sham, between which there is the distance of three nights, travel.” In the Hadith of Ibn Bishr it says: Three days.”

یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے ، اس میں یہ اضافہ ہے ، عبید اللہ نے کہا: میں نے اس سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: یہ شام کی دو بستیاں ہیں اور ان کے درمیان تین راتوں کی مسافت ہے ، اور ابن بشر کی روایت میں تین دن کا ذکر ہے۔


وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ.

A Hadith like that of ‘Ubaidullah (no. 5986) was narrated from Ibn ‘Umar from the Prophet (s.a.w).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: اس کے بعد حسب سابق مروی ہے۔


وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ ، فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا.

It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “Ahead of you lies a Cistern like (the distance) between Jarba and Adhrah, in which there are jugs like the stars of the sky. Whoever come to it and drinks from it will never be thirsty again.”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تمہارے سامنے اتنا بڑا حوض ہے جتنا جرباء اور اذرح کا درمیانی فاصلہ ہے ، اس میں آسمان کے ستاروں جتنے کوزے ہیں جو آدمی اس حوض پر آئے گا اور پھر اس سے پیئے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا ، أَلاَ فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ ، آنِيَةُ الْجَنَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ آخِرَ مَا عَلَيْهِ ، يَشْخَبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنَ الْجَنَّةِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ ، عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ ، مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ.

It was narrated that Abu Dharr said: “I said: ‘O Messenger of Allah, what are the vessels of the Cistern?’ He said: ‘By the One is Whose Hand is the soul of Muhammad, its vessels are more plants in the sky, nay! On a dark and cloudless night. The vessels of Paradise, whoever drinks from them will never be thirsty again. There flow into it two spouts from Paradise, and whoever drinks from it will never he thirsty again. It is as wide as it is ‘Amman and Aylah. Its water is whiter than milk and sweeter than honey.”

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! حوض کے برتن کتنے ہیں؟ آپﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺکی جان ہے ، اس حوض کے برتن آسمان کے ستاروں اور سیاروں کے عدد سے زیادہ ہیں ، اس رات کے ستارے جو اندھیری رات میں ہوں اور اس میں بادل نہ ہوں ، وہ جنت کے برتن ہیں ، جو اس سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا ، اس حوض میں جنت کے دو پرنالے بہتے ہیں ، جو اس سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا ، اس کا عرض اس کے طول جتنا ہے اور ان میں عمان سے لے کر ایلہ تک کا فاصلہ ہے ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ۔


حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ لأَهْلِ الْيَمَنِ , أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ . فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ فَقَالَ : مِنْ مَقَامِي إِلَى عَمَّانَ وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ : أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ ، وَالآخَرُ مِنْ وَرِقٍ.

It was narrated from Thawban that the Prophet of Allah (s.a.w) said: “I will be at my Cistern pushing crowds of people of Yemen to reach it, and I will strike with my stick until it flows for them.” He was asked how wide it is, and he said: “From where I am standing ‘Amman.” He was asked about its drink and he said: “It is whiter than milk and sweeter than honey. Two spouts that originate from Paradise lead into it, one of gold and one of silver.”

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: میں اپنے حوض کے کنارے سے لوگوں کو ہٹاؤں گا یمن والوں کے لیے ، میں اپنی لکڑی سے ماروں گا یہاں تک کہ ان کے(یمن والوں) اوپر پانی بہنے لگے گا ، پھر آپ سے حوض کی چوڑائی کے بارے میں سوال کیا گیا ، آپﷺنے فرمایا: میری اس جگہ سے لے کر عمان تک ، اور آپﷺسے اس کے پانی کے متعلق سوال کیا گیا ، آپﷺنے فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید ، اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ، اس میں دو پرنالے گرتے ہیں جو جنت سے کھینچے گئے ہیں ، ایک پرنالہ سونے کا ہے اور دوسرا چاندی کا۔


وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ هِشَامٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَنَا ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، عِنْدَ عُقْرِ الْحَوْضِ.

A similar Hadith (As no. 5990) was narrated from Qatadah with the chain of Hisham, except that he said: “On the Day of Resurrection I will be the edge of the Cistern.”

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے اس میں یہ ہے کہ میں قیامت کے دن حوض کے کنارے پر ہوں گا۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَ الْحَوْضِ. فَقُلْتُ: لِيَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ : هَذَا حَدِيثٌ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ ، فَقَالَ: وَسَمِعْتُهُ أَيْضًا مِنْ شُعْبَةَ فَقُلْتُ: انْظُرْ لِي فِيهِ ، فَنَظَرَ لِي فِيهِ فَحَدَّثَنِي بِهِ.

The Hadith of the Cistern was narrated from Thawban, from the Messenger of Allah (s.a.w). I said Yahya bin Hammad (a narrator): “Did you hear this Hadith from Abu Awanah?” He said: “I also heard it from Shu’bah.” I said: “Look at it for me.” So he looked for me, then he narrated it to me.

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے نبیﷺسے حوض کی حدیث روایت کی ، میں نے یحیی بن حماد سے کہا: کیا تم نے یہ حدیث ابوعوانہ سے سنی ہے وہ کہنے لگے: میں نے یہ حدیث شعبہ سے بھی سنی ہے ، میں نے کہا وہ بھی مجھے بیان کرو تو انہوں نے وہ بھی مجھ سے بیان کر دی۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لأَذُودَنَّ عَنْ حَوْضِي رِجَالاً كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الإِبِلِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: “I will drive some people away from my Cistern as a stray camel is driven away.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: میں لوگوں کو حوض سے ہٹاؤں گا جیسا کہ اجنبی اونٹوں کو ہٹایا جاتا ہے۔


وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ.

Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said…” a similar report (as no. 5993).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: آگے حدیث مثل سابق ہے۔


وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَدْرُ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ مِنَ الْيَمَنِ ، وَإِنَّ فِيهِ مِنَ الأَبَارِيقِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ.

Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “The size of my Aylah and San’a in the Yemen. In it there are jugs as numerous as the stars in the sky.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میرے حوض کی مقدار اتنی ہے جتنا ایلہ اور یمن کے صنعاء میں فاصلہ ہے اور اس کے برتنوں کی تعداد آسمان کے ستاروں کے برابر ہے۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ ، يُحَدِّثُ قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَاحَبَنِي ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمْ وَرُفِعُوا إِلَيَّ اخْتُلِجُوا دُونِي ، فَلأَقُولَنَّ : أَيْ رَبِّ أُصَيْحَابِي ، أُصَيْحَابِي ، فَلَيُقَالَنَّ لِي : إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ.

Anas bin Malik narrated that the Prophet (s.a.w) said: “Some of those who accompanied me will come to me at the Cistern, and when I see them and they come close to me, they will be taken away before they reach me. I will say: ‘O Lord, my companions, my companions!’ but it will be said to me: ‘You do not know what they introduced after you were gone.”’

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: میرے صحابہ میں سے چند آدمی میرے پاس حوض پر آئیں گے یہاں تک کہ جب میں ان کو دیکھوں گا اور وہ میرے سامنے کیے جائیں گے تو ان کو میرے پاس سے ہٹا دیا جائے گا ، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے اصحاب ہیں ، یہ میرے اصحاب ہیں ، پھر مجھ سے یہ کہا جائے گا : آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپﷺکے بعد دین میں کیا بدعتیں نکالی ہیں۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالاَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى. وَزَادَ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ.

This was narrated from Anas from the Prophet (s.a.w), and he added: “Its vessels are as numerous as the stars.”

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺاسی طرح روایت کی ہے اور اس میں ستاروں کے برابر برتنوں کے الفاظ کا اضافہ ہے۔


وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِعَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ.

It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (s.a.w) said: “The distance between two corners of the Cistern is like the distance between San’a’ and Al-Madinah.”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا صنعاء اور مدینہ میں ہے ۔


وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ (ح) وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كِلاَهُمَا ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُمَا شَكَّا فَقَالاَ: أَوْ مِثْلَ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ. وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْ حَوْضِي.

A similar report (as no. 5998) was narrated from Anas from the Prophet (s.a.w), except that they were not sure and they said: “Or like the distance between Al-Madinah and ‘Amman.” In the Hadith if Abu ‘Awanah it says: “The distance between the two sides of my Cistern.”

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺسے مثل سابق مروی ہے ، البتہ ایک سند میں یہ ہے کہ : جتنا مدینہ اورعمان میں فاصلہ ہے ، اور دوسری سند میں "ما بین لابتی حوضی" کے الفاظ ہیں۔


وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرُّزِّيُّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ.

It was narrated from Qatadah that Anas said: “The Prophet of Allah (s.a.w) said: ‘In it (the Cistern) can be seen jugs of gold and silver, as numerous as the stars in the sky.”’

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: تم اس حوض میں آسمان کے ستاروں جتنے سونے اور چاندی کے کوزے دیکھوگے۔


وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِثْلَهُ. وَزَادَ ، أَوْ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ.

Anas bin Malik narrated that the Prophet of Allah (s.a.w) said… a similar report (as no. 6000), and he added: “Or more than the number of stars in the sky.”

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺسے اس کی مثل روایت ہے ، اور اس میں یہ ہے کہ وہ آسمان کے ستاروں سے تعداد میں زیادہ ہیں۔


حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَلاَ إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَأَيْلَةَ ، كَأَنَّ الأَبَارِيقَ فِيهِ النُّجُومُ.

It was narrated from Jabir bin Samurah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “I will reach the Cistern ahead of you, and the distance between its edges is like the distance between San’a’ and Aylah and its jugs are like the stars.”

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور حوض کے دو کناروں کا فاصلہ صنعاء اور ایلہ جتنا ہے اور اس کے کوزے ستاروں جتنے ہیں۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلاَمِي نَافِعٍ ، أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَنَا الْفَرَطُ عَلَى الْحَوْضِ.

It was narrated that ‘Amir bin Sa’d bin Abi Waqqas said: “I wrote to Jabir bin Samurah (and sent it) with my slave Nafi’ (saying): ‘Tell me of something that you heard from the Messenger of Allah (s.a.w).’ He wrote to me (saying): ‘I heard him say: “I will be the first one to reach the Cistern.”

عامر بن سعد بن ابی وقاص کہتےہیں کہ میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر بن سمرہ کو خط بھیجا کہ آپ نے رسول اللہﷺسے جو حدیث سنی ہو وہ مجھ کو بیان کیجئے ، انہوں نے مجھے جواب میں لکھا کہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔

Chapter No: 10

بابُ إِكْرَامِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِتَالِ الْمَلَائِكَةِ مَعَهُ

The honor of the Prophet ﷺ because of angels who fought alongside him

رسول اللہﷺکی معیت میں فرشتوں کی جنگ کا اعزاز

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابُ بَيَاضٍ ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ ، يَعْنِي جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ.

It was narrated that Sa’d said: “On the Day of Uhud I was on the right side of the Messenger of Allah (s.a.w) and on his left were two men wearing white garments, and I never saw them before or since, meaning Jibril and Mika’il.”

حضرت سعد بیان کرتےہیں کہ جنگ احد کے دن میں نے نبی ﷺکے دائیں اور بائیں سفید لباس میں ملبوس دو آدمیوں کو دیکھا جنہیں میں نے اس سے پہلے نہ دیکھا اور نہ بعد میں ، یعنی حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام۔


وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ يَوْمَ أُحُدٍ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ يَسَارِهِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ ، يُقَاتِلاَنِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلاَ بَعْدُ.

It was narrated that Sa’d bin Abi Waqqas said: “On the Day of Uhud I was no the right of the Messenger of Allah (s.a.w) and on his left were two men wearing white garments, fighting fiercely for him. And I never saw them before or since.”

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جنگ احد کے دن رسول اللہﷺکے دائیں اور بائیں سفید کپڑوں میں ملبوس دو آدمیوں کو دیکھا جو آپﷺکی طرف سے بہت شدت کے ساتھ جنگ کررہے تھے ۔ میں نے ان کو اس سے قبل اور بعد میں کبھی نہیں دیکھا۔

123Last ›