Sayings of the Messenger

 

123Last ›

Chapter No: 1

باب النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ وَالْخِلاَفَةُ فِي قُرَيْشٍ

People are to follow the Quraish and the Caliphate belongs to the Quraish

خلافت کا قریش کے ساتھ خاص ہونا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ - يَعْنِيَانِ الْحِزَامِىَّ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَفِى حَدِيثِ زُهَيْرٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم-. وَقَالَ عَمْرٌو رِوَايَةً « النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِى هَذَا الشَّأْنِ مُسْلِمُهُمْ لِمُسْلِمِهِمْ وَكَافِرُهُمْ لِكَافِرِهِمْ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The people follow the Quraish in this matter, the Muslims follow the Muslims, and the disbelievers follow the disbelievers."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لوگ اس معاملے (خلافت یا حکومت) میں قریش کے تابع ہیں ، مسلمان ، قرشی مسلمانوں کے تابع ہیں اور کافر ، قرشی کافروں کے تابع ہیں۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِى هَذَا الشَّأْنِ مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ ».

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: "This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w), and he mentioned a number of Ahadith including the following: 'The people follow the Quraish in this matter, the Muslims follow the Muslims and the disbelievers follow the disbelievers."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺکی چند احادیث نقل کی ہیں ، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: لوگ اس معاملے (خلافت یا حکومت) میں قریش کے تابع ہیں ، مسلمان، قرشی مسلمان کے تابع ہیں اور کافر ، قرشی کافروں کے تابع ہیں۔


وَحَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِىُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِى الْخَيْرِ وَالشَّرِّ ».

Jabir bin 'Abdullah said: "The Prophet (s.a.w) said: 'People follow the Quraish, for good or for evil."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کی پیروی کرتے ہیں۔


وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَزَالُ هَذَا الأَمْرُ فِى قُرَيْشٍ مَا بَقِىَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ ».

'Asim bin Muhammad bin Zaid narrated from his father that Abdullah said: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "This matter will remain among the Quraish, even if only two people remain."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: یہ معاملہ (حکومت) ہمیشہ قریش میں رہے گا ، خواہ لوگوں میں سے صرف دو آدمی ہی رہ جائیں۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ ح وَحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِىُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانَ - عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِى عَلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ « إِنَّ هَذَا الأَمْرَ لاَ يَنْقَضِى حَتَّى يَمْضِىَ فِيهِمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً ». قَالَ ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلاَمٍ خَفِىَ عَلَىَّ - قَالَ - فَقُلْتُ لأَبِى مَا قَالَ قَالَ « كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ».

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I entered upon the Prophet (s.a.w) with my father, and I heard him say: 'This matter will not end until there have been among them twelve caliphs.' Then he said something that I could not hear, and I said to my father: 'What did he say?' He said: 'All of them will be from the Quraish."'

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے رسول اللہﷺسے سنا کہ آپ ﷺنے فرمایا: یہ حکومت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ بارہ خلیفہ پورے نہ ہوجائیں ، پھر آپ ﷺنے آہستہ سے کچھ کہا: جو مجھ سے پوشیدہ رہا ،میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپﷺنے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: آپﷺنے فرمایا: وہ سب قریش ہی سے ہوں گے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً ». ثُمَّ تَكَلَّمَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِكَلِمَةٍ خَفِيَتْ عَلَىَّ فَسَأَلْتُ أَبِى مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ».

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I heard the Prophet (s.a.w) say: 'The people's affairs will go well so long as they are governed by twelve men.' Then the Prophet (s.a.w) said something that I did not hear, and I asked my father: 'What did the Messenger of Allah (s.a.w) say?' He said: 'All of them will be from the Quraish.'"

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکویہ فرماتے سنا کہ خلافت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ بارہ خلیفہ حکمران رہیں گے ، پھر نبی ﷺنے کوئی بات کہی جو مجھ سے پوشیدہ رہی ، میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺنے کونسی بات کہی تھی؟ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺنے فرمایا: وہ سب قریش سے ہوں گے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَذْكُرْ « لاَ يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا ».

This Hadith was narrated from Jabir bin Samurah (similar to no. 4706) from the Prophet (s.a.w), but he did not mention (the words) "The people's affairs will go well."

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس حدیث کو روایت کیا ہے لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے ، " یہ حکومت ہمیشہ جاری رہے گی"۔


حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ يَزَالُ الإِسْلاَمُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَىْ عَشَرَ خَلِيفَةً ». ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ لأَبِى مَا قَالَ فَقَالَ « كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ».

It was narrated that Simak bin Harb said: I heard Jabir bin Samurah say: I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "Islam will continue to prevail through twelve caliphs." Then he said something that I did not understand, and I said to my father: "What did he say?" He said: "All of them will be from the Quraish."

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بارہ خلیفہ ہونے تک اسلام غالب رہے گا ، پھر آپﷺنے ایک کلمہ فرمایا جس کو میں سمجھ نہیں سکا،میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپﷺنے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: آپﷺنے فرمایا: سب قریش سے ہوں گے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ دَاوُدَ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَزَالُ هَذَا الأَمْرُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَىْ عَشَرَ خَلِيفَةً ». قَالَ ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَىْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَقُلْتُ لأَبِى مَا قَالَ فَقَالَ « كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ».

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Prophet (s.a.w) said: 'This matter will continue to prevail until there have been twelve caliphs.' Then he said something that I did not understand, and I said to my father: 'What did he say?' He said: 'All of them will be from the Quraish."'

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: بارہ خلیفہ پورے ہونے تک اسلام غالب رہے گا ، پھر آپ ﷺنے کوئی بات کہی جس کو میں نہیں سمجھ سکا، میں نے اپنے والد سے کہا: آپﷺنے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: آپﷺنے فرمایا: وہ سب قریش سے ہوں گے۔


حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ الْجَهْضَمِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِىُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَزْهَرُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَمَعِى أَبِى فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ « لاَ يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا إِلَى اثْنَىْ عَشَرَ خَلِيفَةً ». فَقَالَ كَلِمَةً صَمَّنِيهَا النَّاسُ فَقُلْتُ لأَبِى مَا قَالَ قَالَ « كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ».

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I went to the Messenger of Allah (s.a.w), and my father was with me, and I heard him say: 'This religion will continue to prevail and be strong until there have been twelve caliphs.' Then he said something that I could not hear because of the people's voices. I said to my father: 'What did he say?' He said: 'All of them will be from the Quraish."'

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہﷺکی خدمت میں گیا ، تو میں نے آپﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا: بارہ خلیفہ پورے ہونے تک یہ دین غالب رہے گا ، پھر آپ ﷺنے کوئی کلمہ فرمایا جسے لوگوں نے مجھے سننے نہیں دیا، میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپﷺنے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپﷺنے یہ فرمایا ہے کہ وہ سب قریش سے ہوں گے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ قَالَ كَتَبْتُ إِلَى جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلاَمِى نَافِعٍ أَنْ أَخْبِرْنِى بِشَىْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَكَتَبَ إِلَىَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ جُمُعَةٍ عَشِيَّةَ رُجِمَ الأَسْلَمِىُّ يَقُولُ « لاَ يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَوْ يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ». وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ « عُصَيْبَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَفْتَتِحُونَ الْبَيْتَ الأَبْيَضَ بَيْتَ كِسْرَى أَوْ آلِ كِسْرَى ». وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ « إِنَّ بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ ». وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ « إِذَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدَكُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ ». وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ « أَنَا الْفَرَطُ عَلَى الْحَوْضِ ».

It was narrated that 'Amir bin Sa'd bin Abi Waqqas said: I sent a letter to Jabir bin Samurah with my slave Nafi', saying: Tell me of something that you heard from the Messenger of Allah (s.a.w). He wrote back to me saying: I heard the Messenger of Allah (s.a.w) one Friday, the day on which the Aslami was stoned, saying: "This religion will continue until the Hour begins, or until there have been twelve caliphs over you, all of them from the Quraish." And I heard him say: "A small group of Muslims will conquer the white palace, the palace of Chosroes, or of the family of Chosroes." And I heard him say: "Just before the Hour there will be liars, so beware of them." And I heard him say: "If Allah bestows something good upon one of you, let him start with himself and his family." And I heard him say: "I will reach the Cistern ahead of you."

عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر بن سمرہ کے پاس خط روانہ کیا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ کر بھیجیں جس کو آپﷺنے رسول اللہ ﷺسے سنا ہو ،انہوں نے میری طرف لکھا کہ جمعہ کی شام کو جس دن حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کو رجم کیا گیا تھا ، میں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ قیامت تک یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا یہاں کہ مسلمانوں کے بارہ خلیفہ ہوں گے ، اور وہ سب قریش سے ہوں گے اور میں نے آپﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمانوں کی ایک چھوٹی جماعت کسریٰ یا آل کسریٰ کے وائٹ ہاوس کو فتح کرے گی، اور میں نے آپﷺسے یہ سنا کہ قیامت کے قریب کذاب ، جھوٹے ظاہر ہوں گے ان سے بچنا ،اور میں نے آپﷺسے یہ سنا کہ جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو کوئی اچھی چیز دے تو پہلے اس کو اپنے اوپر اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرے اور میں نے آپﷺسے یہ سنا کہ میں تمہارا حوض پر پیش رو ہوں گا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى ذِئْبٍ عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ سَمُرَةَ الْعَدَوِىِّ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَاتِمٍ.

It was narrated from 'Amir bin Sa'd that he sent word to Ibn Samurah Al-'Adawi saying: "Tell us what you heard from the Messenger of Allah (s.a.w)." He said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say..." and he mentioned a Hadith like that of Hatim (no. 4711).

عامر بن سعد سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن سمرہ عدوی کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپﷺنے رسو ل اللہﷺسے جو حدیث سنی ہو، وہ بتلائیے انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے ۔ پھر آگے مذکورہ بالا حدیث کی طرح بیان کیا۔

Chapter No: 2

باب الاِسْتِخْلاَفِ وَتَرْكِهِ

Appointing a succeeding caliph or not doing so

خلیفہ بنانے اور اس کو چھوڑنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ حَضَرْتُ أَبِى حِينَ أُصِيبَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ وَقَالُوا جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا. فَقَالَ رَاغِبٌ وَرَاهِبٌ قَالُوا اسْتَخْلِفْ فَقَالَ أَتَحَمَّلُ أَمْرَكُمْ حَيًّا وَمَيِّتًا لَوَدِدْتُ أَنَّ حَظِّى مِنْهَا الْكَفَافُ لاَ عَلَىَّ وَلاَ لِى فَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّى - يَعْنِى أَبَا بَكْرٍ - وَإِنْ أَتْرُكْكُمْ فَقَدْ تَرَكَكُمْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حِينَ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "I was with my father when he was wounded. They praised him and said: 'May Allah reward you with good.' He said: 'I hope (for Allah's mercy) and I fear (His wrath).' They said: 'Appoint a successor.' He said: 'Should I carry the burden of your affairs in life and in death? Would that my caliphate would conclude with nothing to my credit or counting against me. If I appoint a successor, then one who was better than me appointed a successor' - meaning Abu Bakr - 'and if I do not do that, then one who was better than me, the Messenger of Allah (s.a.w), did not do that either."' 'Abdullah said: "Then I knew, when he mentioned the Messenger of Allah (s.a.w), that he was not going to appoint a successor."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میرے والد (حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) زخمی ہوئے تو میں اس وقت موجود تھا ، لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اللہ کی رحمت کی امید ہے اور اس کے عذاب کا خوف ہے ، لوگوں نے کہا: آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیجئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں زندگی میں تمہارا بوجھ اٹھاتا رہا ، اب مرنے کے بعد بھی تمہارا بوجھ اٹھاؤں ؟ مجھے صرف یہ خواہش ہے کہ خلافت سے میرا حصہ برابر ہوجائے نہ یہ مجھ پر بوجھ ہو اور نہ میرے لیے نفع ہو، اگر میں خلیفہ بناؤں تو جو مجھ سے بہتر تھے (حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ) انہوں نے خلیفہ بنایا تھا اور اگر میں تم کو اسی حال پر چھوڑ دوں تو جو مجھ سے بہتر تھے (یعنی رسول اللہﷺ) انہوں نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا تھا ،حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسو ل اللہ ﷺکا ذکر کیا تو میں نے جان لیا کہ آپ کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ إِسْحَاقُ وَعَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ - أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ أَخْبَرَنِى سَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقَالَتْ أَعَلِمْتَ أَنَّ أَبَاكَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ قَالَ قُلْتُ مَا كَانَ لِيَفْعَلَ. قَالَتْ إِنَّهُ فَاعِلٌ. قَالَ فَحَلَفْتُ أَنِّى أُكَلِّمُهُ فِى ذَلِكَ فَسَكَتُّ حَتَّى غَدَوْتُ وَلَمْ أُكَلِّمْهُ - قَالَ - فَكُنْتُ كَأَنَّمَا أَحْمِلُ بِيَمِينِى جَبَلاً حَتَّى رَجَعْتُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلَنِى عَنْ حَالِ النَّاسِ وَأَنَا أُخْبِرُهُ - قَالَ - ثُمَّ قُلْتُ لَهُ إِنِّى سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ مَقَالَةً فَآلَيْتُ أَنْ أَقُولَهَا لَكَ زَعَمُوا أَنَّكَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ وَإِنَّهُ لَوْ كَانَ لَكَ رَاعِى إِبِلٍ أَوْ رَاعِى غَنَمٍ ثُمَّ جَاءَكَ وَتَرَكَهَا رَأَيْتَ أَنْ قَدْ ضَيَّعَ فَرِعَايَةُ النَّاسِ أَشَدُّ قَالَ فَوَافَقَهُ قَوْلِى فَوَضَعَ رَأْسَهُ سَاعَةً ثُمَّ رَفَعَهُ إِلَىَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْفَظُ دِينَهُ وَإِنِّى لَئِنْ لاَ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَسْتَخْلِفْ وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدِ اسْتَخْلَفَ. قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ ذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبَا بَكْرٍ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَعْدِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَحَدًا وَأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "I entered upon Hafsah and she said: 'Do you know that your father is not going to appoint a successor?' I said: 'He will not do that.' She said: 'He will do that.' I swore that I would talk to him about that, and I remained silent until the next day, and I did not speak to him. It was as if I were carrying a mountain in my right hand, until I came back to him and entered upon him, and he asked me about the state of the people, and I told him. Then I said: 'I have heard the people saying something, and I swore that I would speak to you about it.' "They said that you are not going to appoint a successor, but if you had a herdsman tending camels or a shepherd tending sheep, and he came to you and left his herd or flock, wouldn't you think that he is being negligent? But looking after people is more serious. He agreed with me, then he lowered his head (in thought) for a while, then he raised his head and said: 'Allah will protect His religion. If I do not appoint a successor, then the Messenger of Allah (s.a.w) did not appoint a successor, and if I do appoint a successor, then Abu Bakr appointed a successor.' "By Allah, as soon as he mentioned the Messenger of Allah (s.a.w) and Abu Bakr, I knew that he would not place anyone on the same level as the Messenger of Allah (s.a.w), and he would not appoint a successor."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت حفصہ کے پاس گیا ، حضرت حفصہ نے کہا: کیا تمہیں علم ہے کہ تمہارے والد نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا ، میں نے کہا: وہ اس طر ح نہیں کریں گے ،حضرت حفصہ رضی اللہ عنہانے کہا:وہ اسی طرح کرنے والے ہیں ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے قسم کھائی کہ میں اس بارے میں ان سے ضرور بات کروں گا، پھر میں صبح ہونے تک خاموش رہا اور ان سے بات نہیں کی،اور میں قسم کھانے کی وجہ سے اس طرح ہوگیا گویا کہ میں اپنے ہاتھ پر پہاڑ اٹھاتا ہوں ،آخر کار میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا انہوں نے مجھ سے لوگوں کا حال دریافت کیا ، میں نے آپ کو حالات سے باخبر کیا ، پھر میں نے کہا: میں نے لوگوں سے سنا اور سن کر میں نے قسم کھائی کہ میں اس بارے میں آپ سے ضرور بات کروں گا، لوگ کہتے ہیں کہ آپ کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے ، اور بات یہ ہے کہ أگر آپ کے اونٹوں یا بکریوں کا کوئی چرواہا ہو اور وہ ان اونٹوں یا بکریوں کو چھوڑ کر آپ کے پاس چلا آئے تو آپ یہی کہیں گے کہ اس نے ان اونٹوں یا بکریوں کو ضائع کردیا ہے، سو لوگوں کی نگہبانی زیادہ اہم ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری اس رائے کی موافقت کی، کچھ دیر تک سرجھکائے ، پھر میری طرف سر اٹھا کر فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا اور أگر میں نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا تو رسول اللہ ﷺنے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا تھا ، اور اگر میں نے کسی کو خلیفہ بنادیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بناچکے ہیں ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم!جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺاور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو میں جان گیا تھا کہ وہ رسول اللہﷺکے طریقہ کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اوروہ کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔

Chapter No: 3

باب النَّهْيِ عَنْ طَلَبِ الإِمَارَةِ وَالْحِرْصِ عَلَيْهَا

The forbiddance of demanding or desiring a position of authority

امارت کو طلب کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ أُكِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ».

'Abdur-Rahman bin Samurah narrated: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'O 'Abdur-Rahman, do not seek a position of authority, for if you are given it when you ask for it, you will be left alone (without divine support), but if you are given it without asking for it, you will be helped (by divine support).'"

حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مجھ سے فرمایا: اے عبد الرحمن!حکومت کا سوال نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں سوال کرنے کے بعد حکومت ملی تو تم اس کے حوالے کردیے جاؤگے (یعنی تمہارے ساتھ اللہ کی تائید و نصرت نہیں ہوگی) اور اگر یہ چیز تمہیں سوال کیے بغیر مل جائے تو تمہیں اللہ کی جانب سے مدد کی جائے گی۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ وَمَنْصُورٍ وَحُمَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ كُلُّهُمْ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.

A Hadith like that of Jarir (no. 4715) was narrated from 'Abdur-Rahman bin Samurah, from the Prophet (s.a.w).

تین مختلف سندوں کے ساتھ حضرت عبد الرحمن بن سمرہ نے نبیﷺسے یہ روایت نقل کی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى مُوسَى قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَا وَرَجُلاَنِ مِنْ بَنِى عَمِّى فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا وَلاَّكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ. وَقَالَ الآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ « إِنَّا وَاللَّهِ لاَ نُوَلِّى عَلَى هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلاَ أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ ».

It was narrated that Abu Musa said: "I entered upon the Prophet (s.a.w) along with two of my paternal cousins. One of the two men said: 'O Messenger of Allah appoint me over some of that with which Allah has entrusted you,' and the other one said . something similar. He said: 'By Allah, we will not appoint to such positions anyone who asks for it , or anyone who is eager for it."'

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور دو آدمی میرے چچا زاد نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دو میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ تعالیٰ نے جو ملک آپ کو دیے ہیں ان میں کسی ملک کی حکومت ہمیں عنایت کریں ، اور دوسرے نے بھی اسی طرح کہا،آپﷺنے فرمایا: اللہ کی قسم! ہم اس کام پر کسی ایسے آدمی کو مامور نہیں کرتے جو اس کا سوال کرتا ہو، یا اس کی حرص رکھتا ہو۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَاتِمٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ حَدَّثَنِى أَبُو بُرْدَةَ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَمَعِى رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِى وَالآخَرُ عَنْ يَسَارِى فَكِلاَهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَسْتَاكُ فَقَالَ « مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ». قَالَ فَقُلْتُ وَالَّذِى بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِى عَلَى مَا فِى أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ. قَالَ وَكَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ وَقَدْ قَلَصَتْ فَقَالَ « لَنْ أَوْ لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ ». فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ قَالَ انْزِلْ وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ قَالَ مَا هَذَا قَالَ هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السَّوْءِ فَتَهَوَّدَ قَالَ لاَ أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَقَالَ اجْلِسْ نَعَمْ. قَالَ لاَ أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ. فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاكَرَا الْقِيَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا مُعَاذٌ أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ وَأَرْجُو فِى نَوْمَتِى مَا أَرْجُو فِى قَوْمَتِى.

Abu Musa said: "I came to the Prophet (s.a.w), with two men of the Ash'aris, one on my right and one on my left, and both of them asked for a position of authority. The Prophet (s.a.w) was using a Siwak (tooth stick) and he said: 'What are you saying, O Abu Musa (or O 'Abdullah bin Qais)?' I said: 'By the One Who has sent you with the truth, they did not tell me what was on their minds, and I did not realize that they were going to ask for positions of authority."' He said: "It is as if I can see his Siwak between his lips. He said: 'We will never appoint to this work those who want it. Rather you should go, O Abu Musa (or O 'Abdullah bin Qais)."' And he sent him to be in charge of Yemen, then he sent Mu'adh bin Jabal after him. When (Mu'adh) reached him he said: "Dismount," and he spread a mattress for him. There was a man with him who was tied up. He said: "What is this?" He said: "This man was a Jew who became Muslim, then he went back to his old false religion, and became a Jew again." He said: "I will not sit down until he is executed in accordance with the decree of Allah and His Messenger (s.a.w)." He said: "Sit down, it will be done." He said: "I will not sit down until he is killed in accordance with the decree of Allah and His Messenger (s.a.w)," (and he said that) three times. So he ordered that he be killed. Then they spoke of praying Qiyam at night, and one of them, that is, Mu'adh, said: "As for me, I sleep and I pray Qiyam, and I hope that I will get the same (reward) for my sleep as for my prayer."

حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں گویاکہ میں دیکھ رہا تھا کہ آپﷺکے ہونٹوں کے نیچے مسواک تھی جو گھس چکی تھی، آپ ﷺنے فرمایا: جو آدمی منصب کا سوال کرتا ہے ہم اس کو ہرگز منصب پر فائز نہیں کرتے ہیں ، لیکن اے ابو موسیٰ یا فرمایا: اے عبد اللہ بن قیس! تم یمن جاؤ اور ان کو یمن بھیج دیا اور پھر ان کے پیچھے حضرت معاذ بن جبل کو بھیج دیا ، جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن پہنچ گئے تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: آئیے تشریف لائیے او ران کے لیے ایک گدا بچھادیا۔وہاں اس وقت اس آدمی رسیوں سے بندھا ہوا تھا ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ایک یہودی تھا ، پھر مسلمان ہوگیا ، پھر اپنے برے دین کی طرف دوبارہ لوٹ آیا اور یہودی ہوگیا،حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ اسے اللہ اور اس کے رسولﷺکے فیصلہ کے مطابق قتل نہ کردیا جائے، حضرت ابو موسیٰ نے کہا: ہاں ٹھیک ہے آپ تشریف رکھیں، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ اس آدمی کو اللہ اور اس کے رسول ﷺکے فیصلہ کے مطابق قتل نہیں کردیا جائے گا ، تین مرتبہ یہی مکالمہ ہوا ، بالآخر اس آدمی کو قتل کردیا گیا ، پھر ان دونوں میں رات کے قیام کے متعلق گفتگو ہونے لگی ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سوتا بھی ہوں او رقیام بھی کرتا ہوں اور میں اپنے قیام میں جس اجر کی امید رکھتا ہوں اسی اجر کی میں اپنی نیند میں بھی توقع رکھتا ہوں۔

Chapter No: 4

باب كَرَاهَةِ الإِمَارَةِ بِغَيْرِ ضَرُورَةٍ

Concerning the disapproval of getting a position of authority unnecessarily

بغیر ضرورت طلب امارت کی کراہت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِى أَبِى شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ حَدَّثَنِى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِى يَزِيدُ بْنُ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِىِّ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الأَكْبَرِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ تَسْتَعْمِلُنِى قَالَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِى ثُمَّ قَالَ « يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ ضَعِيفٌ وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْىٌ وَنَدَامَةٌ إِلاَّ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِى عَلَيْهِ فِيهَا ».

It was narrated that Abu Dharr said: "I said: 'O Messenger of Allah, will you not appoint me (to a position of authority)?' He struck me on the shoulder with his hand and said: 'O Abu Dharr, you are weak, and it is a trust, and on the Day of Resurrection it will be a source of humiliation and regret, except for the one who takes it and fulfills all obligations and does all duties required."'

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ مجھے عامل نہیں بناتے ؟ آپﷺنے میرے کندھے پر ہاتھ مارکر فرمایا: اے ابو ذر! تم کمزور ہو اور یہ امارت امانت ہے ، اور یہ قیامت کے دن رسوائی اور شرمندگی کا باعث ہوگی، البتہ جو امارت کے حقوق ادا کرے اور اس کی ذمہ داریاں پوری کرے (وہ مستثنیٰ ہوگا)


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلاَهُمَا عَنِ الْمُقْرِئِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى جَعْفَرٍ الْقُرَشِىِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِى سَالِمٍ الْجَيْشَانِىِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّى أَرَاكَ ضَعِيفًا وَإِنِّى أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِى لاَ تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلاَ تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ ».

It was narrated from Abu Dharr that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "O Abu Dharr. I think that you are weak, and I love for you what I love for myself. Do not take a position of authority over even two persons, and do not take care of the property of an orphan."

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اے ابو ذر ! میں تم کو کمزور پاتا ہوں اور میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جسے اپنے لیے پسند کرتا ہوں ، تم دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا ، اور نہ یتیم کے مال کا ولی بننا۔

Chapter No: 5

باب فَضِيلَةِ الإِمَامِ الْعَادِلِ وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ

The merit of a just ruler and the punishment of a tyrant, and the urge to be kind to the (subservient) subjects and the forbiddance of enforcing hardships on them

عادل حاکم کی فضیلت اور ظالم حاکم کی مذمت ، اور رعایا پر نرمی کی ترغیب اور ان پر مشقت ڈالنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو - يَعْنِى ابْنَ دِينَارٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَكْرٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَفِى حَدِيثِ زُهَيْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِى حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا ».

It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Those who are fair and just will be near to Allah on thrones of light, at the Right Hand of the Most Merciful, Glorified and Exalted is He, and both of His Hands are Right, those who are fair and just in their rulings and towards their families and those who are under their authority."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: عدل کرنے والے اللہ کے نزدیک اللہ کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور اللہ کے دونوں دائیں ہاتھ ہیں ، یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے اہل و عیال اور اپنی رعایا میں انصاف سے فیصلے کریں گے۔


حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَىْءٍ فَقَالَتْ مِمَّنْ أَنْتَ فَقُلْتُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ. فَقَالَتْ كَيْفَ كَانَ صَاحِبُكُمْ لَكُمْ فِى غَزَاتِكُمْ هَذِهِ فَقَالَ مَا نَقَمْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِنْ كَانَ لَيَمُوتُ لِلرَّجُلِ مِنَّا الْبَعِيرُ فَيُعْطِيهِ الْبَعِيرَ وَالْعَبْدُ فَيُعْطِيهِ الْعَبْدَ وَيَحْتَاجُ إِلَى النَّفَقَةِ فَيُعْطِيهِ النَّفَقَةَ فَقَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لاَ يَمْنَعُنِى الَّذِى فَعَلَ فِى مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ أَخِى أَنْ أُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ فِى بَيْتِى هَذَا « اللَّهُمَّ مَنْ وَلِىَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِى شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ وَمَنْ وَلِىَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِى شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ ».

It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Shumasah said: "I went to 'Aishah and asked her about something. She said: 'Where are you from?' I said: 'I am a man from Egypt.' She said: 'How was your commander with you in this war of yours?' He said: 'We did not experience anything bad from him. If a man's camel died, he would give him a camel, and if his slave died, he would give him a slave; if he needed basic provisions, he would give him basic provisions.' She said: 'What has happened to my brother, Muhammad bin Abi Bakr, does not prevent me from telling you what I heard from the Messenger of Allah (s.a.w), which he said in this house of mine: (He (s.a.w) said:) "O Allah, whoever attains any position of authority among my Ummah and is harsh towards them, be harsh towards him, and whoever attains any position of authority among my Ummah and is kind towards them, be kind towards him."'

حضرت عبد الرحمن بن شماسہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ پوچھنے کے لیےحاضر ہوا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا: میں اہل مصر سے ہوں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تمہاراحکمران جہاد میں تمہارے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے؟ میں نے کہا: ہمیں اس کی کوئی بات ناگوار نہیں گزری،اگر ہم میں سے کسی کا اونٹ مر جائے تو وہ اس کو اونٹ عطا کر دیتا ہے ، اور اگر غلام مرجائے تو اس کو غلام دے دیتا ہے اور اگر کسی کو خرچ کی ضرورت ہو تو وہ اس کو دیتا ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے بھائی محمد بن ابی بکر کے ساتھ اس نے جو کچھ کیا ہے وہ مجھے یہ حدیث بیان کرنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔ میں نے ر سول اللہﷺکو اس حجر ے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ، " اے اللہ ! میری امت کا جو آدمی بھی کسی پر حاکم ہو اور وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی ان پر سختی کراور اگر وہ ان پر نرمی کرے تو تو بھی ان پر نرمی کرو "۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِىِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 4722) was narrated from 'Abdur-Rahman bin Shumasah, from 'Aishah, from the Prophet (s.a.w.).

حضرت عبد الرحمن بن شماسہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبیﷺسے ایک اور روایت اسی طرح نقل کرتا ہے ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « أَلاَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالأَمِيرُ الَّذِى عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِىَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ أَلاَ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "Each of you is a shepherd and each of you is responsible for his flock. The ruler of the people is a shepherd and is responsible for his flock. A man is the shepherd of his household and is responsible for his flock. A woman is the shepherd of her husband's house and children and is responsible for her flock. The slave is the shepherd of his master's wealth and is responsible for it. Each of you is a shepherd and each of you is responsible for his flock."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: سنو! تم میں سے ہر شخص مسئول اور ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اسکی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا،امیر لوگوں پر حاکم ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہوگا ، اور مرد اپنے اہل خانہ پر حاکم ہے اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا ،اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کی ذمہ دار اور مسئول ہے اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا اور غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ یاد رکھو! تم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِى ابْنَ الْحَارِثِ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِى الْقَطَّانَ - كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِى ابْنَ عُثْمَانَ - ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى أُسَامَةُ كَلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ.

A Hadith like that of Al-Laith from Nafi' (no. 4724) was narrated from Nafi' from Ibn 'Umar.

امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو مزید سات سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔


قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ.

A Hadith like that of Al-Laith from Nafi' (no. 4724) was narrated from Nafi' from Ibn 'Umar.

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ح وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ. بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَزَادَ فِى حَدِيثِ الزُّهْرِىِّ قَالَ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَدْ قَالَ « الرَّجُلُ رَاعٍ فِى مَالِ أَبِيهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ».

It was narrated from Salim bin 'Abdullah that his father said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: ..." a Hadith like that of Nafi' from Ibn 'Umar (no. 4725). In the Hadith of Az-Zuhri (a sub-narrator) it adds: "He said: 'I think he (s.a.w) said: "The man is a shepherd of his father's wealth and is responsible for his flock."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: آدمی اپنے والد کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی مسئولیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔


وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمِّى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى رَجُلٌ سَمَّاهُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا الْمَعْنَى.

A similar report (as no. 4727) was narrated from 'Abdullah bin 'Umar, from the Prophet (s.a.w).

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اسی کی مثل حدیث بیان کی ہے۔


وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِىَّ فِى مَرَضِهِ الَّذِى مَاتَ فِيهِ فَقَالَ مَعْقِلٌ إِنِّى مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِى حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ».

It was narrated that Al-Hasan said: 'Ubaidullah bin Ziyad visited Ma'qil bin Yasar Al-Muzani during his final illness, and Ma'qil said: I am going to tell you a Hadith that I heard from the Messenger of Allah (s.a.w). If I knew that I was going to live, I would not tell it to you. I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "If Allah appoints a person to a position of authority, and on the day he dies he is being deceitful towards those under his authority, Allah will forbid Paradise to him."

حضرت حسن بیان کرتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد ، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی اس مرض میں عیادت کے لیے گیا جس میں ان کی وفات ہوئی تھی ، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺسے سنی ہے اگر میں جانتا کہ میری زندگی باقی ہے تو میں بیان نہ کرتا میں نے رسول اللہﷺسے سنا آپ فرماتے تھے: جس بندہ کو اللہ نے رعیت پر ذمہ دار بنایا ہو اور جس دن وہ مرے اپنی رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والا ہو تو اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ. بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِى الأَشْهَبِ وَزَادَ قَالَ أَلاَّ كُنْتَ حَدَّثْتَنِى هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ قَالَ مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ لَمْ أَكُنْ لأُحَدِّثَكَ.

It was narrated that Al-Hasan said: "Ibn Ziyad entered upon Ma'qil bin Yasar when he was sick..." a Hadith like that of Abu Al-Ash-hab (no. 4729), and he added: "He said: 'Did you not tell me this before today?' He said: 'I did not tell it to you,' or 'I was not going to tell it to you."'

حسن کہتے ہیں کہ ابن زیاد حضرت معقل کے پاس گیا اس حال میں کہ ان کو تکلیف تھی، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ،لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن زیاد نے کہا: آپ نے آج سے پہلے یہ حدیث مجھے کیوں نہیں بیان کی ؟حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تیرے لیے بیان نہیں کیا ، یا فرمایا:میں تجھے یہ بیان نہ کرتا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى الْمَلِيحِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ دَخَلَ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِى مَرَضِهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّى مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلاَ أَنِّى فِى الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِى أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لاَ يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ إِلاَّ لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ ».

It was narrated from Abu Al-Malih that 'Ubaidullah bin Ziyad entered upon Ma'qil bin Yasar when he was sick, and Ma'qil said to him: "I am going to tell you a Hadith; were it not that I am about to die, I would not have narrated it to you. I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'There is no leader who has reached a position of authority over the Muslims, then he does not strive for their sake or act with sincerity towards them, but he will not enter Paradise with them."'

ابو ملیح بیان کرتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد ، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کے پاس گیا ، حضرت معقل نے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کروں گا ، اور اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو پھر تم کو یہ حدیث بیان نہ کرتا ، میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو امیر مسلمانوں پر حاکم ہو ، اور ان کی بھلائی کے لیے کوشش نہ کرے وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔


وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّىُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِى سَوَادَةُ بْنُ أَبِى الأَسْوَدِ حَدَّثَنِى أَبِى أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ مَرِضَ فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ. نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلٍ.

Sawadah bin Abi Al-Aswad narrated: "My father told me that Ma'qil bin Yasar fell sick and 'Ubaidullah bin Ziyad came to visit him..." a Hadith like that of Al-Hasan from Ma'qil (no. 4729).

ابو الاسود سے روایت ہے کہ میرے والد نے بیان کیا ہے کہ حضرت معقل بن یسار بیمار پڑگئے تو عبید اللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے آیا باقی حدیث حسن کی حدیث کی طرح ہے۔


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ أَىْ بُنَىَّ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ». فَقَالَ لَهُ اجْلِسْ فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم-. فَقَالَ وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِى غَيْرِهِمْ.

Al-Hasan narrated that 'A'idh bin 'Amr, who was one of the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w), entered upon 'Ubaidullah bin Ziyad, and he said: "O my son, I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'The worst of guardians are those who are cruel. Beware lest you be one of them."' So he said to him: "Sit down; you are no more than one of the chaff of the Companions of Muhammad (s.a.w)." So he said: "Was there chaff among them? Rather the chaff came after them, and among people other than them."

رسول اللہﷺکے اصحاب میں سے حضرت عائذ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ وہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا: اے بیٹے ! میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے سنا کہ بدترین حاکم ظالم بادشاہ ہے ، تم اس سے بچنا ،اس نے کہا: بیٹھیئے ،تم تو صرف محمد رسول اللہ کے اصحاب کا تلچھٹ (آخر میں بچنے والا میل کچل) ہو انہوں نے کہا: کیا رسول اللہﷺکے صحابہ میں تلچھت بھی ہے ؟تلچھٹ تو بعد کے لوگوں میں ہوگا یا غیر صحابہ میں ہوگا۔

Chapter No: 6

باب غِلَظِ تَحْرِيمِ الْغُلُولِ

Regarding the stern forbiddance of Al-Ghulul (stealing from the spoils of war)

مال غنیمت میں خیانت کی شدید حرمت

وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِى حَيَّانَ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ يَوْمٍ فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ « لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِىءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِى. فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِىءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِى. فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِىءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِى. فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِىءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِى. فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِىءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِى. فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِىءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِى فَأَقُولُ لاَ أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) stood up amongst us one day and mentioned Ghulul (theft from the war spoils of war). He declared it to be an extremely serious matter, then he said: 'I should not see one of you coming on the Day of Resurrection with a groaning camel on his shoulders, saying: "O Messenger of Allah, help me!" I will say: "I cannot do anything for you. I conveyed (the message) to you." I should not see one of you coming on the Day of Resurrection with a neighing horse on his shoulders, saying: "O Messenger of Allah, help me!" I will say: "I cannot do anything for you. I conveyed (the message) to you." I should not see one of you coming on the Day of Resurrection with a bleating sheep on his shoulders, saying: "O Messenger of Allah, help me!" I will say: "I cannot do anything for you. I conveyed (the message) to you." "I should not see one of you coming on the Day of Resurrection with a person crying loudly on his shoulders, saying: "O Messenger of Allah, help me!" I will say: "I cannot do anything for you. I conveyed (the message) to you." I should not see one of you coming on the Day of Resurrection with flapping clothes on his shoulders, saying: "O Messenger of Allah, help me!" I will say: "I cannot do anything for you. I conveyed (the message) to you." I should not see one of you coming on the Day of Resurrection with a heap of gold and silver on his shoulders, saying: "O Messenger of Allah, help me!" I will say: "I cannot do anything for you. I conveyed (the message) to you."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوکر مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اس کی بہت مذمت کی پھر فرمایا: میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہوکر بڑبڑا رہا ہو اور وہ کہے گا: اے اللہ کے رسولﷺ! میری مدد کریں تو میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں،میں تم کو تبلیغ کرچکا ہوں ، میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر گھوڑا سوار ہوکر ہنہنا رہا ہو اور وہ کہے گا: اے اللہ کے رسولﷺ! میری مدد کریں تو میں کہوں گا: میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں،میں تم کو تبلیغ کرچکا ہوں ، میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پربکری سوار ہوکر منمنا رہی ہو، اور وہ کہے گا: اے اللہ کے رسولﷺ! میری مدد کریں تو میں کہوں گا: میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں،میں تم کو تبلیغ کرچکا ہوں،میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر کسی شخص کی جان سوار ہو اور وہ چیخ رہا ہو، اور وہ کہے گا: اے اللہ کے رسولﷺ! میری مدد کریں تو میں کہوں گا: میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں،میں تم کو تبلیغ کرچکا ہوں ، میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر کپڑے لدے ہوئے ہل رہے ہوں اور وہ کہے گا: اے اللہ کے رسولﷺ! میری مدد کریں تو میں کہوں گا: میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں،میں تم کو تبلیغ کرچکا ہوں ، میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر سونا ، چاندی لدا ہوا ہواور وہ کہے گا: اے اللہ کے رسولﷺ! میری مدد کریں تو میں کہوں گا: میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں،میں تم کو تبلیغ کرچکا ہوں ۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِى حَيَّانَ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَبِى حَيَّانَ وَعُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ جَمِيعًا عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِى حَيَّانَ.

A Hadith like that of Isma'il from Abu Hayyan (no. 4734) was narrated from Abu Hurairah.

یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے ۔


وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِىُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ قَالَ حَمَّادٌ ثُمَّ سَمِعْتُ يَحْيَى بَعْدَ ذَلِكَ يُحَدِّثُهُ فَحَدَّثَنَا بِنَحْوِ مَا حَدَّثَنَا عَنْهُ أَيُّوبُ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) mentioned Ghulul (stealing from the spoils of war) and declared it to be a serious matter..." and he narrated the same lfadith (as no. 4736). Hammad (a sub-narrator) said: "Then I heard Yahya after that narrating it, and he told us something similar to what Ayyub narrated to us from him."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر کیا ہے اور اس کی سخت مذمت فرمائی ،اور آگے پوری حدیث بیان کی۔ حماد کہتے ہیں کہ یحییٰ نے بھی اس حدیث کو ایوب کی طرح بیان کیا ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

A similar Hadith (as no. 4736) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند اسی طرح مروی ہے۔

Chapter No: 7

باب تَحْرِيمِ هَدَايَا الْعُمَّالِ

Concerning the forbiddance of giving gifts to the state officers

سرکاری ملازمین کو ہدیہ لینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِى حُمَيْدٍ السَّاعِدِىِّ قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلاً مِنَ الأَسْدِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ - قَالَ عَمْرٌو وَابْنُ أَبِى عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ - فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا لِى أُهْدِىَ لِى قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ « مَا بَالُ عَامِلٍ أَبْعَثُهُ فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِىَ لِى. أَفَلاَ قَعَدَ فِى بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ فِى بَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى يَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لاَ وَالَّذِى نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لاَ يَنَالُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ ». ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَتَىْ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ « اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ». مَرَّتَيْنِ.

It was narrated that Abu Humaid As-Sa'idi said: "The Messenger of Allah (s.a.w) appointed a man in charge of collecting the Sadaqah (Zakat) from Al-Asad who was called Ibn Al-Lutbiyyah. When he came he said: 'This is for you, and this was given to me.' The Messenger of Allah (s.a.w) stood up on the Minbar and praised and glorified Allah, and said: 'What is the matter with an agent whom I send, and he says: "This is for you and this was given to me?" Why doesn't he sit in the house of his father or the house of his mother and see if he is given anything or not. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad! None of you gets anything from it (unlawfully), but he will bring it on the Day of Resurrection, carrying it on his shoulders, even if it is a groaning camel, a lowing cow or a bleating sheep.' Then he raised his arms until we saw the whiteness of his armpits, then he said: 'O Allah, have I conveyed (the message)?' two times."

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے بنو اسد کے ایک آدمی کو زکاۃ وصول کرنے کےلیے عامل مقرر کیا اور اس کا نام ابن لتبیہ تھا، جب وہ (زکاۃ وصول کرکے) آیا تو اس نے کہا: یہ آپ کا مال ہے ، اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا،اللہ کے رسول ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی اور فرمایا: عاملوں کا کیا حال ہے ؟ میں ان کو (زکاۃ وصول کرنے کے لیے) روانہ کرتاہوں اور وہ آکر کہتے ہیں کہ یہ آپ کا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا، یہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا پھر ہم دیکھتے کہ اس کو کوئی چیز ہدیہ کی جاتی ہے یا نہیں ؟اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺکی جان ہے ،تم میں جو آدمی بھی ان اموال میں سے کوئی چیز بھی لے گا ، قیامت کے دن وہ مال اس کی گردن پر سوار ہوگا۔(کسی کی گردن پر) اونٹ بڑ بڑا رہا ہوگا،یا گائے ڈکرا رہی ہوگی، یا بکری منمنا رہی ہوگی، پھر آپﷺ نےاپنے ہاتھ بلند کئے کہ ہم نے آپﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی ، اس کے بعد آپ ﷺنے دو مرتبہ فرمایا: اے اللہ! میں نے تبلیغ کردی ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِى حُمَيْدٍ السَّاعِدِىِّ قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ - رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ - عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ بِالْمَالِ فَدَفَعَهُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِى. فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَفَلاَ قَعَدْتَ فِى بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَتَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْكَ أَمْ لاَ ». ثُمَّ قَامَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- خَطِيبًا. ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ.

It was narrated that Abu Humaid As-Sa'idi said: "The Prophet (s.a.w) appointed Ibn Al-Lutbiyyah, a man from Al-Azd, in charge of collecting the Sadaqah (Zakat), and he brought the wealth and gave it to the Prophet (s.a.w). He said: 'This is your wealth and this is a gift that was given to me.' The Prophet (s.a.w) said to him: 'Why don't you sit in the house of your father and mother and see if you are given any gifts or not?' Then the Prophet (s.a.w) stood up and delivered a speech..." then he mentioned a Hadith like that of Sufyan (no. 4738).

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے قبیلہ ازد کے ایک آدمی ابن لتبیہ کو زکاۃ کی وصولی کے لیے عامل بناکر بھیجا۔وہ (زکاۃ کا) مال لے کرآیا اور نبیﷺکو دیا تو کہا: یہ آپ کا مال ہے ، اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ،نبیﷺنے اسے کہا: آپ اپنے والدین کے گھر میں بیٹھتے ، پھر ہم دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں ،پھر نبی ﷺنے کھڑے ہوکر خطبہ دیا اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى حُمَيْدٍ السَّاعِدِىِّ قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلاً مِنَ الأَزْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِى سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ الأُتْبِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ قَالَ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَهَلاَّ جَلَسْتَ فِى بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ». ثُمَّ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ « أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّى أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلاَّنِى اللَّهُ فَيَأْتِى فَيَقُولُ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِى. أَفَلاَ جَلَسَ فِى بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا وَاللَّهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلاَّ لَقِىَ اللَّهَ تَعَالَى يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِىَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعِرُ ». ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِىَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ « اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ». بَصُرَ عَيْنِى وَسَمِعَ أُذُنِى.

It was narrated that Abu Humaid As-Sa'idi said: "The Messenger of Allah (s.a.w) appointed a man from Al-Asad who was called Ibn Al-Lutbiyyah in charge of the Sadaqah (Zakat) of Banu Sulaim. He said: 'This is your wealth, and this is a gift (for me).' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Why don't you sit in the house of your father and mother so that the gift may come to you, if you are telling the truth.' Then he addressed us; he praised and glorified Allah, then he said: 'I appoint a man among you (to deal with some of the affairs) that Allah has entrusted to me, then he comes and says: "This is your wealth and this is a gift that was given to me." Why doesn't he sit in the house of his father and mother so that the gift may come to him, if he is telling the truth? By Allah, no one of you takes something from it unlawfully, but he will meet Allah, exalted is He, on the Day of Resurrection carrying it, and I will recognize one of you who meets Allah carrying a groaning camel, or a lowing cow, or a bleating sheep.' Then he raised his arms until the whiteness of his armpits could be seen and said: 'O Allah, have I conveyed (the message)?' My eyes saw and my ears heard.''

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے قبیلہ ازد کے ایک آدمی کو بنو سلیم کے صدقات وصول کرنے کے لیے عامل بنایا،اس كو ابن اتبیہ کہا جاتا ہے ۔جب وہ مال لے کر آیا تو حساب کرنے لگا ، یہ آپ کا مال ہے، اور یہ ہدیہ ہے ،تو رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھتے تاکہ تمہارے پاس تمہارے ہدیے آتے ، پھر آپﷺنے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، اور فرمایا: اما بعد! میں تم میں سے کسی آدمی کو ایسے کام کے لیے عامل بناتا ہوں ، جس کا انتظام اللہ تعالیٰ نے میرے حوالے کیا ہے اور وہ آکر کہتا ہے یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے ،وہ اپنے والدین کے گھر کیوں نہیں بیٹھتا تاکہ اس کے پاس ہدیہ آتے اگر وہ سچا ہے ۔اللہ کی قسم! تم میں سے جو بھی اس مال سے ناحق لے گا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ چیز اس کی گردن پر سوار ہوگی ، میں تم میں سے کسی آدمی کو ضرور پہچان لوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا ، کہ وہ بڑ بڑاتا ہوا اونٹ یا ڈکراتی ہوئی گائے ، یا منمناتی ہوئی بکری کو اٹھائے ہوئے ہوگا ، پھر آپ ﷺنے اپنے ہاتھ بلند فرمائے یہاں تک ہم نے آپ ﷺکی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ،پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے تبلیغ کردی ہے ؟ اس واقعہ کو میری آنکھوں نے دیکھا ہے اور میرے کانوں نے سنا ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِى حَدِيثِ عَبْدَةَ وَابْنِ نُمَيْرٍ فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ. كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ. وَفِى حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ « تَعْلَمُنَّ وَاللَّهِ وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا ». وَزَادَ فِى حَدِيثِ سُفْيَانَ قَالَ بَصُرَ عَيْنِى وَسَمِعَ أُذُنَاىَ. وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ كَانَ حَاضِرًا مَعِى.

It was narrated from Hisham with this chain of narration (a similar Hadith as no. 4740). In the Hadith of 'Abdah and Ibn Numair it says: "You should know, by Allah. By the One in Whose Hand is my soul! None of you should take anything from it.'' In the Hadith of Sufyan (a sub-narrator) it adds: "My eyes saw and my ears heard. Ask Zaid bin Thabit, for he was present with me."

یہ حدیث اور دو سندوں سے مروی ہے اور اس میں ہے کہ جب وہ آدمی آیا تو اس نے حساب کرنا شروع کیا اور ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ تم جان لو گے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، تم میں سے جو آدمی بھی اس میں کسی چیز کو لے گا ۔ اور سفیان کی روایت میں یا اضافہ ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا ، آپ لوگ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھ سکتے ہیں ، کیونکہ وہ بھی اس وقت میرے ساتھ تھے۔


وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ - وَهُوَ أَبُو الزِّنَادِ - عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ بِسَوَادٍ كَثِيرٍ فَجَعَلَ يَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِىَ إِلَىَّ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ عُرْوَةُ فَقُلْتُ لأَبِى حُمَيْدٍ السَّاعِدِىِّ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِى.

It was narrated from Ibn Humaid As-Sa'idi that the Messenger of Allah (s.a.w) appointed a man in charge of the Sadaqah (Zakat), and he brought a large number of things, and he started saying: "This is for you, and this was given to me..." and he mentioned a similar report (as no. 4740). 'Urwah said: "I said to Abu Humaid As-Sa'idi: 'Did you hear it from the Messenger of Allah (s.a.w)?' He said: 'From his mouth to my ears."'

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک آدمی کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے عامل بنایا ، وہ بہت زیادہ مال لے کر آیا اور کہنے لگا: یہ تمہارا مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ ملا ہے ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، راوی عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو حمید ساعدی سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہﷺسے خود سنی ہے ؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہﷺکے منہ سے اپنے کانوں سے سنی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِى حَازِمٍ عَنْ عَدِىِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِىِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ كَانَ غُلُولاً يَأْتِى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ». قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مِنَ الأَنْصَارِ كَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّى عَمَلَكَ قَالَ « وَمَا لَكَ ». قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا. قَالَ « وَأَنَا أَقُولُهُ الآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِىَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِىَ عَنْهُ انْتَهَى ».

It was narrated that 'Adiyy bin 'Amirah Al-Kindi said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Whomever we appoint of you to do any task, and he conceals a needle or more, it is stolen spoils of war (Ghulul) that he will bring on the Day of Resurrection.' A black man from among the Ansar stood up - it is as if I can see him now - and he said: 'O Messenger of Allah, take back from me your assignment.' He said: 'Why are you saying that?' He said: 'I heard you saying such and such.' He (s.a.w) said: 'And I say it now. Whoever among you is appointed to do any task, let him bring everything, small or large, and whatever is given to him, let him take it, but whatever is forbidden to him, let him refrain.'"

حضرت عدی بن عمیر کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس کو ہم کسی کام پر عامل بنائیں اور وہ ایک سوئی یا اس سے بھی کم چیز چھپالے تو یہ خیانت ہوگی اور وہ قیامت کے دن اس چیز کو لے کر آئے گا، حضرت عدی کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا، پھر ایک سیاہ رنگ کا انصاری کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یارسول اللہﷺ!آپ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیں ، آپﷺنے فرمایا : کیا بات ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ، آپﷺنے فرمایا: میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ تم میں جس شخص کو ہم نے عامل بنایا وہ ہر چھوٹی بڑی چیز کو لے کر آئے ، اس کے بعد جو چیز اس کو دی جائے وہ لے لیں ، اور جو نہ دی جائے اس سے باز رہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بِهَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.

Isma'il narrated a similar report (as no. 4743) with this chain of narration.

یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى خَالِدٍ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِى حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَدِىَّ بْنَ عَمِيرَةَ الْكِنْدِىَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.

'Adiyy bin 'Amirah Al-Kindi said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say..." a similar Hadith (as no. 4743).

حضرت عدی بن عمیر کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔

Chapter No: 8

باب وُجُوبِ طَاعَةِ الأُمَرَاءِ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ وَتَحْرِيمِهَا فِي الْمَعْصِيَةِ

Concerning the obligation of obeying the leaders in matters which do not involve sin but it is forbidden to obey them in sinful matters

نافرمانی صادر نہ ہونے کی صورت میں حاکم کی اطاعت کرنے کا وجوب اور معصیت صادر ہونے میں اطاعت کرنے کی حرمت

حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ نَزَلَ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِى الأَمْرِ مِنْكُمْ) فِى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِىٍّ السَّهْمِىِّ بَعَثَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فِى سَرِيَّةٍ. أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

Hajjaj bin Muhammad said: "Ibn Juraij said: 'The words: "O you who believe! Obey Allah and obey the Messenger, and those of you (Muslims) who are in authority... were revealed concerning 'Abdullah bin Hudhafah bin Qais bin 'Adiyy As-Sahmi, whom the Prophet (s.a.w) sent as commander of an expedition. Ya'la bin Muslim narrated it to me from Sa'eed bin Jubair, from Ibn 'Abbas."

حجاج بن محمد سے روایت ہے کہ ابن جریج نے کہا: قرآن مجید کی یہ آیت : "اے مومنو! اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول اللہﷺکی اطاعت کرو، اور حاکموں کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہوں" حضرت عبد اللہ بن حذافہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، جب رسول اللہﷺنے انہیں ایک لشکر کا امیر بناکر بھیجا تھا، ابن جریج نے اپنی سند کے ساتھ اس کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِىُّ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ أَطَاعَنِى فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ يَعْصِنِى فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ يُطِعِ الأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِى وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِى ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever obeys me has obeyed Allah, and whoever disobeys me has disobeyed Allah. Whoever obeys the leader has obeyed me, and whoever disobeys the leader has disobeyed me."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اورجس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی ، اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔


وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ « وَمَنْ يَعْصِ الأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِى ».

It was narrated from Abu Az-Zinnad with this chain of narration (a Hadith similar to no. 4747), but he did not mention (the words): "Whoever disobeys the leader has disobeyed me."

ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں یہ نہیں ہے " جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی "


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « مَنْ أَطَاعَنِى فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِى فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَاعَنِى وَمَنْ عَصَى أَمِيرِى فَقَدْ عَصَانِى ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever obeys me has obeyed Allah, and whoever disobeys me has disobeyed Allah. Whoever obeys the leader I appoint has obeyed me, and whoever disobeys the leader I appoint has disobeyed me."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مَكِّىُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ زِيَادٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ سَوَاءً.

It was narrated from Ibn Shihab that Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman told him that he heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah (s.a.w) said... a similar report (as no. 4749).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِى عَلْقَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِى أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ فِيهِ إِلَى فِىَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ح وَحَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ سَمِعَ أَبَا عَلْقَمَةَ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

It was narrated that Abu Ya'la bin 'Ata' heard Abu 'Alqamah, who heard Abu Hurairah (narrate) from the Prophet (s.a.w)... a similar Hadith (as no. 4749).

یہ حدیث تین سندوں سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی نبی ﷺسے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.

A similar Hadith (as no. 4749) was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی نبیﷺسے ایک اور سند کے ساتھ اسی کی مثل مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ حَيْوَةَ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِى هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِذَلِكَ وَقَالَ « مَنْ أَطَاعَ الأَمِيرَ ». وَلَمْ يَقُلْ أَمِيرِى وَكَذَلِكَ فِى حَدِيثِ هَمَّامٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ.

Abu Hurairah narrated from the Messenger of Allah (s.a.w), that he said: "Whoever obeys the leader" but he did not say "the leader I appoint." The same appears in the Hadith of Hammam (a sub-narrator) from Abu Hurairah.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے امیر کی اطاعت کی ، یہ نہیں کہا: کہ جس نے میرے امیر کی اطاعت کی۔


وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كِلاَهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِى عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'You must hear and obey, at times of hardship and times of ease, whether you like it or not, even if the leaders act in a selfish manner."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم پر امیر کے احکام سننا اور اس کی اطاعت کرنا لازم ہے ، مشکل میں ، تنگی میں ، خوشی میں ناخوشی میں اور جب تم پر کسی کو ترجیح دی جائے (ان تمام حالات میں)۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِىُّ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِى عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ إِنَّ خَلِيلِى أَوْصَانِى أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ.

It was narrated that Abu Dharr said: "My beloved (s.a.w) advised me to hear and obey, even if (the leader is) a slave with amputated limbs."

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے خلیل نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں سنوں اور اطاعت کروں اگرچہ (امیر) ہاتھ پاؤں کٹا ہوا غلام ہی کیوں نہ ہو۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِى عِمْرَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ فِى الْحَدِيثِ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ.

It was narrated from Abu 'Imran with this chain of narration (a Hadith similar to no. 4755), and he said in the Hadith: "... n Abyssinian slave with amputated limbs."

ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے کہ خواہ ہاتھ پاؤں کٹا ہوا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔


وَحَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى عِمْرَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ كَمَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ.

It was narrated from Abu 'Imran with this chain of narration, as Ibn Idris said (no. 4755): "A slave with amputated limbs."

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ خواہ ہاتھ پاؤں کٹا ہوا غلام ہی کیوں نہ ہو۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ جَدَّتِى تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقُولُ « وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ».

It was narrated that Yahya bin Husain said: "I heard my grandmother narrate that she heard the Prophet (s.a.w) delivering a Khutbah during the Farewell Pilgrimage, and he said: 'Even if there is appointed over you a slave who leads you in accordance with the Book of Allah, then listen to him and obey."'

حضرت یحییٰ بن حصین کہتے ہیں کہ میں نے اپنی دادی سے سنا وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں نبی ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا : اگر تم پر کسی غلام کو حکمران مقرر کیا جائے اور وہ تمہاری قیادت اللہ کی کتاب کے مطابق کرے تو اس کا حکم مانو اور اس کی اطاعت کرو۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ عَبْدًا حَبَشِيًّا.

It was narrated from Shu'bah with this chain of narration (a Hadith similar to no. 4758), and he said: "An Abyssinian slave."

ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں حبشی غلام کا ذکر ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا.

It was narrated from Shu'bah with this chain of narration (a Hadith similar to no . 4758), and he said: "An Abyssinian slave with amputated limbs."

ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں نکٹے حبشی غلام کا ذکر ہے۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ حَبَشِيًّا مُجَدَّعًا وَزَادَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ.

Shu'bah narrated it with this chain of narration (a Hadith similar to no. 4760), but he did not mention "...an Abyssinian with amputated limbs," and he added that she heard the Messenger of Allah (s.a.w) in Mina or 'Arafat.

ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں نکٹے حبشی غلام کا ذکر ہے اور یہ اضافہ بھی ہے کہ میں نے رسول اللہﷺسے منیٰ یا عرفات میں سنا۔


وَحَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَ سَمِعْتُهَا تَقُولُ حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَجَّةَ الْوَدَاعِ - قَالَتْ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَوْلاً كَثِيرًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ « إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ - حَسِبْتُهَا قَالَتْ - أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ».

It was narrated from Yahya bin Husain from his grandmother Umm Al-Husain; he said: I heard her say: "I performed Hajj with the Messenger of Allah (s.a.w) - the Farewell Pilgrimage - and the Messenger of Allah (s.a.w) said many things, then I heard him say: 'If there is appointed over you a slave with amputated limbs' - I think she said: 'and black, who leads you in accordance with the Book of Allah, then listen to him and obey."'

حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺکے ساتھ حجۃ الوداع میں گئی ،رسول اللہﷺنے بہت سی باتیں فرمائیں، پھر میں نے آپﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا : اگر تم پر ایک نکٹے غلام کو بھی حاکم بنا دیا جائے اور وہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق حکم دے تو اس کی بات سنو، اور اس کی اطاعت کرو۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ إِلاَّ أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "The Muslim must hear and obey, whether he likes it or not, unless he is commanded to commit a sin; if he is commanded to commit a sin, then there is no hearing and no obeying."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مسلمان آدمی پر حاکم کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا لازم ہے خواہ اس کی بات اس کو پسند ہو یا ناپسند ، البتہ اگر وہ معصیت کا حکم دے تو اس صورت میں حاکم کی بات نہ سنی جائے گی اور نہ ہی اطاعت ہوگی۔


وَحَدَّثَنَاهُ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى كِلاَهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 4763) was narrated from 'Ubaidullah, with this chain of narration.

یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِىٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً فَأَوْقَدَ نَارًا وَقَالَ ادْخُلُوهَا. فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا وَقَالَ الآخَرُونَ إِنَّا قَدْ فَرَرْنَا مِنْهَا. فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا « لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ». وَقَالَ لِلآخَرِينَ قَوْلاً حَسَنًا وَقَالَ « لاَ طَاعَةَ فِى مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِى الْمَعْرُوفِ ».

It was narrated from 'Ali that the Messenger of Allah (s.a.w) sent an army and he appointed a man over them. He (the commander) lit a fire and said: "Enter it." Some people wanted to enter it, but others said: "We are trying to flee from this." Mention of that was made to the Messenger of Allah (s.a.w) and he said to those who had wanted to enter the fire: "If you had entered it, you would have remained in it until the Day of Resurrection." And he said good words to the others. He (s.a.w) said: "There is no obedience if it involves disobedience towards Allah; obedience is only in that which is right and proper."

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک لشکر روانہ کیا تو ایک آدمی کو اس کا امیر بنایا ، اس آدمی نے آگ جلائی اور لوگوں سے کہا: اس میں داخل ہوجاؤ، بعض لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا اور دوسروں نے کہا: ہم آگ ہی سے تو بھاگے ہیں۔پھر رسول اللہﷺسے اس کا ذکر کیا گیا تو آپﷺنے ان لوگوں کو فرمایا جو آگ میں داخل ہونے لگے تھے : " اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے"۔ اور دوسروں کی تعریف کی اور فرمایا: اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے ، اطاعت توصرف معروف چیز میں ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ - وَتَقَارَبُوا فِى اللَّفْظِ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا فَأَغْضَبُوهُ فِى شَىْءٍ فَقَالَ اجْمَعُوا لِى حَطَبًا. فَجَمَعُوا لَهُ ثُمَّ قَالَ أَوْقِدُوا نَارًا. فَأَوْقَدُوا ثُمَّ قَالَ أَلَمْ يَأْمُرْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ تَسْمَعُوا لِى وَتُطِيعُوا قَالُوا بَلَى. قَالَ فَادْخُلُوهَا. قَالَ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا إِنَّمَا فَرَرْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ النَّارِ. فَكَانُوا كَذَلِكَ وَسَكَنَ غَضَبُهُ وَطُفِئَتِ النَّارُ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِى الْمَعْرُوفِ ».

It was narrated that 'Ali said: "The Messenger of Allah (s.a.w) sent an expedition, and he appointed a man in charge of them, and told them to listen to him and obey him. They made him angry with regard to some matter, so he said: 'Gather firewood for me.' So they gathered it for him, then he said: 'Light a fire.' So they lit a fire. Then he said: 'Didn't the Messenger of Allah (s.a.w) tell you to listen to me and obey me?' They said: 'Yes.' He said: 'Then enter it (the fire).' They looked at one another and said: 'We have fled to the Messenger of Allah (s.a.w) from the Fire.' They stood like that for a while, then his anger ceased and the fire was extinguished. When they came back, they told the Prophet (s.a.w) about that, and he said: 'If they had entered it they would not have come out of it. Obedience is only in that which is right and proper."'

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک لشکر روانہ کیا اور ایک انصاری کو اس لشکر کا امیر بنایا اور لشکر کو یہ حکم دیا کہ وہ امیر کا حکم مانیں اور اس کی اطاعت کریں،لشکر والوں کی کسی بات سے امیر غضب ناک ہوگیا،تو اس نے کہا: میرے لیے لکڑیاں جمع کرو، تو لوگوں نے لکڑیاں جمع کردیں،پھر امیر نے کہا: اس میں آگ جلاؤ، انہوں نے آگ جلائی ، پھر اس نے کہا: کیا آپ کو رسول اللہﷺنے میری بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اس نے کہا: پھر اس آگ میں داخل ہوجاؤ،تو لشکر والے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہنے لگے: ہم رسول اللہﷺکے پاس آگ سے بھاگ کر ہی آئےتھے ، وہ اسی موقف پر قائم رہے یہاں تک کہ امیر کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور آگ بجھادی گئی،جب لشکروالے واپس لوٹے تو نبی ﷺسے اس بارے میں ذکر کیا گیا ، آپﷺنے فرمایا: اگر یہ اس آگ میں داخل ہوجاتے تو پھر کبھی اس سے نکل نہ سکتے ، اطاعت تو صرف نیک کاموں میں کی جاتی ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 4766) was narrated from Al-A'mash with this chain of narration.

یہ حدیث ایک اورسند سے اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِى الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ وَعَلَى أَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَعَلَى أَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ أَيْنَمَا كُنَّا لاَ نَخَافُ فِى اللَّهِ لَوْمَةَ لاَئِمٍ.

It was narrated from 'Ubadah bin Al-Walid bin 'Ubadah, from his father, that his grandfather said: "We swore allegiance to the Messenger of Allah (s.a.w), pledging to hear and obey, at times of hardship and times of ease, whether we liked it or not, even if the leaders acted in a selfish manner, and promising not to contest any position of authority, and not to fear the blame of any blamer in the cause of Allah."

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺسے مشکل اور آسانی میں اور خوشی اور ناخوشی میں اور خود پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں ، حکم سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی اور اس پر بیعت کی کہ ہم کسی آدمی سے اس کے اقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں حق کے سوا کچھ نہیں کہیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِى ابْنَ إِدْرِيسَ - حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ فِى هَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 4768) was narrated from 'Ubadah bin Al-Walid, with this chain of narration.

یہ حدیث ایک اورسندسے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِى الدَّرَاوَرْدِىَّ - عَنْ يَزِيدَ - وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ - عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِى أَبِى قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ.

It was narrated from 'Ubadah bin Al-Walid bin 'Ubadah bin As-Samit, from his father: "My father told me: 'We swore allegiance to the Messenger of Allah (s.a.w)..."' a Hadith like that of Ibn Idris (no. 4768).

یہ حدیث حضرت عبادہ بن صامت سے ایک اور سندسے اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَمِّى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِى بُكَيْرٌ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِى أُمَيَّةَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ بِحَدِيثٍ يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَقَالَ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَبَايَعْنَاهُ فَكَانَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِى مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا وَأَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ قَالَ « إِلاَّ أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ ».

It was narrated that Junadah bin Abi Umayyah said: "We entered upon 'Ubadah bin As-Samit when he was sick. We said: 'Tell us, may Allah give you health, a Hadith by means of which Allah may benefit us, that you heard from the Messenger of Allah (s.a.w).' He said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) called us, and we swore allegiance to him, and among the pledges that he took from us was that we would hear and obey, whether we liked it or not, at times of hardship and times of ease, even if the leaders acted in a selfish manner, and promising not to contest any position of authority, and he said: "Unless you see blatant Kufr (disbelief), for which you have proof from Allah."

جنادہ بن امیہ کہتے ہیں کہ ہم عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اس حال میں کہ وہ بیمار تھے ، ہم نے کہا: اللہ آپ کو صحت دے ، ہمیں کوئی ایسی حدیث بتائیں جو آپ نے رسول اللہﷺسے خود سنی ہو،اور وہ ہم کو نفع دے ،انہوں نے کہا: ہمیں رسو ل اللہ ﷺ نے بلایا، ہم نے آپﷺسے بیعت کی ، او رجن چیزوں پر آپﷺنے ہم سے بیعت لی تھی وہ یہ تھیں: کہ ہم خوشی اور ناخوشی میں ، مشکل اور آسانی میں ، اور ہم پر ترجیح دیے جانے کی صورت میں بھی سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کریں اور ہم صاحب اقتدار کے خلاف جنگ نہیں کریں گے ،البتہ اگر تم کو اس میں واضح کفر نظر آئے جس کے کفر ہونے پر تمہارے پاس قرآن و سنت سے واضح دلیل موجود ہو (تو اس صورت میں اطاعت جائز نہیں ہے)۔

Chapter No: 9

بابُ الإِمَامِ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَقَّى بِهِ

The ruler is a shield, people fight behind him and are protected by him

امام مسلمانوں کی ڈھال ہے۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِى وَرْقَاءُ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَلَ كَانَ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرٌ وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "The ruler is a shield from behind whom they fight and by whom they are protected. If he enjoins fear of Allah and is just, then he will be rewarded for that, but if he enjoins otherwise, that will count against him."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: امام ڈھال ہے اس کی پشت پناہی میں لڑائی کی جاتی ہے ، اور وہ ذریعہ امان ہے ، اگر وہ اللہ سے ڈرنے کا حکم دے ، اور انصاف سے کام لے تو اسے اس کا اجر ملے گا ، اور اگر اس نے اس کے خلاف کیا تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔

Chapter No: 10

باب الْوَفَاءِ بِبَيْعَةِ الْخُلَفَاءِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ

Concerning the obligation of fulfilling the oaths of allegiance with first of the two caliphs

جس آدمی کی خلافت پر پہلے بیعت کرلی جائے اس کو پورا کرنا واجب ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ أَبِى حَازِمٍ قَالَ قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِىٌّ خَلَفَهُ نَبِىٌّ وَإِنَّهُ لاَ نَبِىَّ بَعْدِى وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ ». قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ « فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ ».

It was narrated that Abu Hazim said: "I stayed with Abu Hurairah for five years, and I heard him narrate that the Prophet (s.a.w) said: 'The Children of Israel were ruled by the Prophets. Every time one Prophet died, another Prophet would succeed him. But there will be no Prophet after me, but there will be many caliphs.' They said: 'What do you command us to do?' He said: 'Fulfill the oath of allegiance to the first one and not the second (if there are two caliphs at one time), and give them their dues, for Allah will question them about that which He entrusted to them."'

ابو حازم کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پانچ سال رہا، میں نے ان کو نبیﷺکی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ بنو اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے، جب کوئی نبی فوت ہوجاتا تو دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہوجاتا اور بلاشبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ، اور عنقریب میرے بعد بکثرت خلفاء ہوں گے ، صحابہ نے عرض کیا آپﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں آپﷺ نے فرمایا: جس کے ہاتھ پر پہلے بیعت کرلو اسکو پورا کرو اور حکام کا حق ادا کرو، اور یقینا اللہ ان سے انکی رعایا کے بارے میں پوچھے گا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 4773) was narrated from Al-Hasan bin Furat, from his father, with this chain of narration.

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ وَوَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِى أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَكَ مِنَّا ذَلِكَ قَالَ « تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِى عَلَيْكُمْ وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِى لَكُمْ ».

It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'After me there will be selfishness and things that you object to.' They said: 'O Messenger of Allah, what do you command us to do if any of us lives to see that?' He said: 'Fulfill the duties that you owe, and ask Allah for your rights.'"

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: عنقریب میرے بعد حقوق تلف کئے جائیں گے اور ایسے امور پیش آئیں گے جنہیں تم پسند نہیں کروگے،صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! ہم میں سے جس آدمی کو یہ حالات پیش آئیں گے اس کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ آپﷺنے فرمایا: تم پر جو حکام کا حق ہے تم اس کو ادا کرو، اور تمہارے حقوق کے بارے میں اللہ ان سے پوچھے گا۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِى ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِى جَشَرِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الصَّلاَةَ جَامِعَةً. فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِىٌّ قَبْلِى إِلاَّ كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِى أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلاَءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا وَتَجِىءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِىءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِكَتِى. ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِىءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ هَذِهِ. فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِى يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الآخَرِ ». فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ أَنْشُدُكَ اللَّهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَهْوَى إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِى. فَقُلْتُ لَهُ هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللَّهُ يَقُولُ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا) قَالَ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ أَطِعْهُ فِى طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِى مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .

It was narrated that 'Abdur-Rahman bin 'Abd Rabb Al-Ka'bah said: "I entered the Masjid and saw 'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As sitting in the shade of the Ka'bah, and the people were gathered around him. I came to them and sat down with him, and he said: 'We were with the Messenger of Allah (s.a.w) on a journey, and we made a stop. Some of us began to repair tents, and some of us competed in shooting (arrows), and some of us grazed their animals. Then the caller of the Messenger of Allah (s.a.w) called out: "As-Salatu Jami'ah (prayer is about to begin)." We gathered around the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: "There was no Prophet before me but it was his duty to tell his Ummah of the best of what he knew was good for them, and the worst of what he knew was bad for them. "The time of peace and security for this Ummah has been made in its first era, and its last era will be afflicted with trials and things that you object to. Fitnah (tribulation) will come in waves, one after another. A Fitnah will come and the believer will say: 'This is going to cause my doom.' Then when it ends, another Fitnah will come, and the believer will say: 'This is the one.' Whoever would like to be delivered from Hell and enter Paradise, let him die believing in Allah and the Last Day, and let him treat people as he would like to be treated. Whoever swears allegiance to a ruler, giving him his oath with sincerity, let him obey him if he can. If another comes and disputes with him, then strike the neck of the other one.'" I (the narrator) drew close to him and said to hiin: 'I adjure you by Allah, did you hear this from the Messenger of Allah (s.a.w)?' He pointed to his ears and his heart and said: 'My ears heard it and my heart understood.' I said to him: 'This son of your paternal uncle, Mu'awiyah, enjoins us to consume our wealth unlawfully amongst ourselves, and to kill ourselves, but Allah, glorified and exalted is He, says: O you who believe! Eat not up your property among yourselves unjustly except it be a trade amongst you, by mutual consent. And do not kill yourselves (nor kill one another). Surely, Allah is Most Merciful to you...' He remained silent for a while, then he said: 'Obey him in that which is obedience to Allah, and disobey him in that which is disobedience to Allah.'"

حضرت عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے ارد گرد جمع تھے میں ان کے پاس جاکر بیٹھ گیا تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ایک سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ قیام کیا ، ہم میں سے بعض نے اپنا خیمہ لگانا شروع کردیا اوربعض تیراندازی کرنے لگے، اوربعض وہ تھے جو جانوروں میں ٹھہرے رہے اتنے میں رسول اللہﷺ کے منادی نے آواز دی الصلاۃ جامعۃ یعنی نماز کا وقت ہوگیا ہے تو ہم رسول اللہﷺکے پاس جمع ہو گئے تو آپﷺنے فرمایا:یقینا مجھ سے قبل ہر نبی پر یہ فرض تھا کہ وہ اپنے علم کے مطابق اپنی امت کو فلاح او رخیر کی رہنمائی کرے اور جو چیز اس کے علم میں بری ہو اس سے ڈرائے اور تمہاری اس امت کے اولین میں عافیت ہے ، اور بعد کے لوگوں میں مصیبتیں ، اور برائیاں ہوں گی جس کو تم نا پسند کرتےہو، اور جن کے مقابلہ میں دوسرے فتنے کم معلوم ہوں گے ، ایک فتنہ آئے گا تو مؤمن کہے گا کہ اس فتنہ میں میری ہلاکت ہوگی ، پھر وہ فتنہ دور ہوجائے گا ، اور ایک اور فتنہ آئے گا تو مؤمن کہے گا : یہی اصل فتنہ ہے سو جو آدمی جہنم سے دور ہونا او رجنت میں داخل ہونا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی موت اس حالت میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، او رجو اپنے لیےپسند کرتا ہو وہی معاملہ دوسروں کے لیے پسند کرے ،اور جو آدمی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر دل کی گہرائیوں سے کسی امام کے ہاتھ پر بیعت کرے ، اس پر لازم ہے کہ استطاعت کے مطابق اس کی اطاعت کرے ، اور اگر دوسرا آدمی اس کی امامت سے اختلاف کرے تو اس دوسرے کی گردن کو اڑادو، راوی کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو کے قریب ہوا اور ان سے پوچھا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے یہ بات رسو ل اللہﷺسے خود سنی ہے ؟ حضرت عبد اللہ بن عمرو نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: میں نے اپنے کانوں سے سنا اور اپنے دل میں ان کو یاد رکھا ، میں نے ان سے کہا: یہ تمہارے چچا زاد معاویہ ہیں جو ہم کو حکم دیتے ہیں کہ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے کھائیں او رہم ایک دوسرے کو ناحق قتل کریں اور اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ "اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، ہاں باہمی رضامندی سے تجارت مستثنیٰ ہے او رتم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، یقینا اللہ تعالیٰ تم پر رحیم ہے ، راوی نے کہا: پھر حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ، ایک لمحہ خاموش رہے ، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو، اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں ان کی نافرمانی کرو۔ "


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 4776) was narrated from Al-A'mash, with this chain of narration.

یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى السَّفَرِ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ الصَّائِدِىِّ قَالَ رَأَيْتُ جَمَاعَةً عِنْدَ الْكَعْبَةِ. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الأَعْمَشِ.

It was narrated that 'Abdur-Rahman bin 'Abd Rabb Al-Ka'bah As-Sa'idi said: "I saw a group of people at the Ka'bah...'' and he mentioned a Hadith like that of Al-A'mash (no. 4776).

عبد الرحمن بن عبد رب کعبہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک جماعت کو کعبہ کے پاس دیکھا ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ۔

123Last ›