Sayings of the Messenger

 

12

Chapter No: 1

بابُ الصَّيْدِ بِالْكِلاَبِ الْمُعَلَّمَةِ

About hunting with trained dogs

سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کا حکم

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلاَبَ الْمُعَلَّمَةَ ، فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ ، وَأَذْكُرُ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ ، فَقَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلْ ، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ ؟ قَالَ: وَإِنْ قَتَلْنَ ، مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ، فَأُصِيبُ ، فَقَالَ: إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَزَقَ فَكُلْهُ ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ ، فَلاَ تَأْكُلْهُ.

It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: "I said: 'O Messenger of Allah, I release my trained dogs and they catch (game) for me, and I mention the Name of Allah over them.' He said: 'If you release your trained dog and you mention the Name of Allah over him, then eat.' I said: 'Even if (the dogs) kill (the game)?' He said: 'Even if they kill it, so long as another dog has not joined them." I said to him: 'And I shoot the game with a Mi'rad. (a short blunt, arrow without fletching) and I hit it.' He said: If you shoot the Mi'rad and it pierces (the game), then eat it, but if it strikes it sideways, then do not eat it."'

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! میں سکھلائے گئے کتوں کو چھوڑتا ہوں وہ میرے لیے شکار کو روک کر رکھتے ہیں اور میں اس پر بسم اللہ پڑھتا ہوں ، آپ ﷺنے فرمایا: جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑو اور اس پر بسم ا للہ پڑھ لو تو پھر اس کو کھالیا کرو، میں نے کہا: اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالے؟ آپﷺنے فرمایا: اگرچہ وہ شکار کو مار ڈالےلیکن شرط یہ ہے کہ کوئی اور کتا اس کے ساتھ شریک نہ ہوا ہو، میں نے كہا: میں بغیر پر کا تیر شکار کو مارتا ہوں اور وہ مر جاتا ہے آپ نے فرمایا جب تو بغیر پر کے تیر شکار کو مارے اور وہ اس کے پار ہو جائے تو اسے کھا لے اور اگر شکار تیر کے عرض سے مرجائے تو پھر اس سے مت کھاؤ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلاَبِ ، فَقَالَ : إِذَا أَرْسَلْتَ كِلاَبَكَ الْمُعَلَّمَةَ ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا ، فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ، وَإِنْ قَتَلْنَ ، إِلاَّ أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ ، فَإِنْ أَكَلَ فَلاَ تَأْكُلْ ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلاَبٌ مِنْ غَيْرِهَا ، فَلاَ تَأْكُلْ.

It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah (s.a.w) saying: 'We are a people who hunt with these dogs.' He said: 'If you release these trained dogs and mention the Name of Allah over them, then eat what they catch for you, even if they kill it, unless the dog eats some of it. If he eats some of it then do not eat of it, for I am afraid that he may have caught it for himself. And if other dogs join your dog, then do not eat (the game)."'

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ ہم لوگ ان کتوں سے شکار کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا جب تم اپنے سکھلائے گئے کتے کو (شکار کے لیے) بھیجے اور اس پر اللہ کا نام بھی لے تو اس میں سے کھاؤ جو اس نے تمہارے لیے شکار کیا ہے اگرچہ اس کو اس نے مار ڈالا ہو،البتہ اگر کتے نے بھی اس شکار سے کچھ کھالیا ہوتو پھر مت کھانا، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کتے نے اپنے لیے شکار کیا ہو اور اگر تمہارے کتے کے ساتھ اور کتے بھی شامل ہوجائیں تو پھر شکار کو مت کھانا۔


وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ ، فَقَالَ: إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ ، فَلاَ تَأْكُلْ وَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ ، فَقَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلاَ تَأْكُلْ ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ ، قُلْتُ : فَإِنْ وَجَدْتُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ ، فَلاَ أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ ؟ قَالَ: فَلاَ تَأْكُلْ ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ.

It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah (s.a.w) about the Mi'rad. He said: 'If its point strikes (the game), then eat, but if its edge (i.e., side - ways) strikes it and kills it, then it has been beaten to death, so do not eat it.' And I asked the Messenger of Allah (s.a.w) about dogs. He said: 'If you release your dog and mention the Name of Allah, then eat, but if he has eaten part of it then do not eat, for he has caught it for himself.' I said: 'What if I find another dog with my dog, and I do not know which of them caught it?' He said: 'Do not eat, for you mentioned the Name of Allah over your dog but you did not mention the Name of Allah over any other."'

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بغیر پر کے تیر کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر شکار تیر کے دھار سے مرجائے تو اسے کھالو اور اگرتیر کے عرض سے مرجائے تو وہ موقوذ یعنی چوٹ کھایا ہوا ہے اسے مت کھاؤ اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے کتے کے شکار کے بارے میں پوچھا؟ آپ ﷺنے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اس کو کھالو، اور اگر کتے نے اس میں سے کھالیا تو اس کو مت کھاؤ، کیونکہ اس نے اس شکار کو اپنے لیے کیا ہے ، میں نے کہا: اگر میں اپنے کتے کے ساتھ کسی او رکتے کوبھی دیکھوں اور مجھے معلوم نہ ہو کہ کس کتے نے شکار کیا ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: پھر تم مت کھاؤ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے ، دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی۔


وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

Ash-Sha'bi said: "I heard 'Adiyy bin Hatim saying: 'I asked the Messenger of Allah (s.a.w) about the Mi'rad..."' and he mentioned a similar report (as Hadith no. 4974).

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بغیر پر کے تیر کے بارے میں پوچھا ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ،حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، وَعَنْ نَاسٍ ، ذَكَرَ شُعْبَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ بِمِثْلِ ذَلِكَ.

'Adiyy bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah (s.a.w) about the Mi'rad..." and he mentioned a similar report (as no. 4974).

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض ( بغیر پر کا تیر) کے بارے میں پوچھا ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ ؟ فَقَالَ: مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ أَخْذُهُ ، فَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا آخَرَ ، فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ ، فَلاَ تَأْكُلْ ، إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ ، وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ.

It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah (s.a.w) about hunting with a Mi'rad. He said: 'Whatever is struck with its point, eat it, but whatever is struck with its sideways, do not eat it, for it has been beaten to death.' And I asked him about hunting with dogs. He said: 'Whatever it catches for you and does not eat, then eat it, for its slaughtering is its being caught and killed (by the dog). But if you find another dog with him and you fear that (the other dog) caught it with him and killed it, then do not eat, for you mentioned the Name of Allah over your dog, not any other.'"

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض ( بغیر پر کا تیر) کے بارے میں پوچھا تو آپﷺنے فرمایا: اگر شکار معراض کی دھار سے مر گیا تو اس کو کھالو، اور اگر اس کے عرض سے شکار ہوا تو وہ وقیذ (چوٹ کھایا ہوا) ہے ، اور میں نے آپﷺسے کتے کے شکار کے بارے میں سوال کیا آپﷺنے فرمایا: اگر کتا تمہارے لیے شکار پکڑلے اور اس میں سے خود نہ کھائے تو اس کو کھالو، کیونکہ شکار کو کتے کا پکڑ لینا ہی ذبح کر دینا ہے اور اگر تم اس شکار کے ساتھ کوئی دوسرا کتابھی دیکھو اور تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ دوسرے کتے نے بھی اس کے ساتھ پکڑا ہوگا اور اسے مار ڈالا ہوگا تو پھر اسے نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اللہ کا نام اپنے کتے پر لیا ہے اپنے کتے کے علاوہ دوسرے کتے پر اللہ کا نام نہیں لیا۔


وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

Zakariyya bin Abi Za'idah narrated it with this chain.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلاً وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي ، فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ ، لاَ أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ ؟ قَالَ: فَلاَ تَأْكُلْ ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ.

Ash-Sha'bi said: "I heard 'Adiyy bin Hatim, who was our neighbor, partner and close associate in An-Nahrain, say that he asked the Messenger of Allah (s.a.w): 'I release my dog and I find another dog has caught the game with my dog, and I do not know which of them caught it and killed it first.' He said: 'Do not eat, for you only mentioned the Name of Allah over your dog, not any other.'"

شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نہرین میں ہمارے پڑوسی اور شریک کار تھے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺسے پوچھا کہ میں اپنے کتے کو چھوڑتا ہوں اور پھر اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتا بھی پاتا ہوں اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کس نے شکار پکڑا ہے ، آ پﷺنے فرمایا: اس کو مت کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔


وحَدَّثَنَا مَحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.

A similar report (as no. 4979) was narrated from 'Adiyy bin Hatim from the Prophet (s.a.w).

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے مذکورہ بالا حدیث کی طرح روایت ہے۔


حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ ، فَإِنْ أَمْسَكَ عَلَيْكَ ، فَأَدْرَكْتَهُ حَيًّا فَاذْبَحْهُ ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ ، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ ، وَقَدْ قَتَلَ فَلاَ تَأْكُلْ ، فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَهُ ، وَإِنْ رَمَيْتَ سَهْمَكَ ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ ، فَإِنْ غَابَ عَنْكَ يَوْمًا ، فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ إِلاَّ أَثَرَ سَهْمِكَ ، فَكُلْ إِنْ شِئْتَ ، وَإِنْ وَجَدْتَهُ غَرِيقًا فِي الْمَاءِ ، فَلاَ تَأْكُلْ.

It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'If you release your dog and mention the Name of Allah, if he catches something for you and you find it alive, then slaughter it; if you find he has killed it but has not eaten any of it, then eat it. If you find another dog with your dog and it (the game) has been killed, then do not eat, for you do not know which of them killed it. If you shoot your arrow and mention the Name of Allah, then (the game) vanishes from your sight for a day, and you only find the mark of your arrow on it, then eat if you wish, but if you find it drowned in water, then do not eat it."'

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مجھے کہا: جب تم اپنا کتا(شکار کے لیے) بھیجو تو بسم اللہ پڑھو، اگر وہ تمہارے لیے شکار کو روک لے اورتم شکار کو زندہ پاؤ تو اس کو ذبح کردو اور اگر تم شکار کو اس حال میں پاؤ کہ کتے نے مار ڈالا ہو اور اس میں سے خود نہ کھایا ہو تو اسکو کھالو اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کسی اور کتے کو پاؤ اور شکار کو کتے نے مار ڈالا ہو تو اس کو مت کھاؤ ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان دونوں میں سے کس کتے نے اس کو مارا ہے؟ اور اگر تم تیر پھینکو تو بسم اللہ پڑھو ، پھر اگر تمہارا شکار ایک دن تک غائب رہے اور تم کو اس میں اپنے تیر کے علاوہ اور کوئی نشان نہ ملے تو اگر تم چاہو تو اس کو کھالو اور اگر تم کو شکار پانی میں ڈوبا ہوا ملے تو پھر اس کو مت کھاؤ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ ؟ قَالَ : إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَ فَكُلْ ، إِلاَّ أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ ، فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي ، الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ.

It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah (s.a.w) about hunting. He said: "When you shoot your arrow, mention the Name of Allah. Then if you find it (the game) dead then eat, unless you find that it has fallen into water, in which case you cannot know whether it was the water that killed it, or your arrow."'

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا: جب تم اپنا تیر پھینکو تو اس پر بسم اللہ پڑھو،پھر اگر تم نے اس کو مرا ہوا پایا تو اس کو کھالو، اور اگر تم نے اس کو پانی میں ڈوبا ہوا پایا (تو اس کو نہیں کھانا) کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ وہ پانی سے مرا ہے یا تمہارے تیر سے مرا ہے۔


حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ ، وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ ، أَوْ بِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ ، فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ ، فَلاَ تَأْكُلُوا فِيهَا ، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ، ثُمَّ كُلُوا فِيهَا ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ ، فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ ، ثُمَّ كُلْ ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ ، فَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ ، ثُمَّ كُلْ ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ ، فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ ، فَكُلْ.

Abu Tha'labah Al-Khushani said: "I came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: 'O Messenger of Allah, we are in the land of some of the People of the Book, and we eat from their vessels. And it is a land where I hunt with my bow and with my trained dog, or my dog that is not trained. Tell me what is permissible for us of that.' He (s.a.w) said: 'As for what you have mentioned about being in a land of some of the People of the Book, and eating from their vessels, if you can find vessels other than theirs, then do not eat (from their vessels), but if you cannot, then wash them then eat from them. As for what you have mentioned about being in a hunting land, whatever you catch with your bow, mention the Name of Allah then eat, and whatever you catch with your trained dog, mention the Name of Allah then eat. But whatever you catch with your dog that is not trained, if you come to it (when it is still alive) and slaughter it, then eat it."'

حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں ۔ اور ہمارے ملک میں شکار کیا جاتا ہے میں اپنی کمان اور اپنے سکھلائے ہوئے کتے اور بغیر سکھلائے ہوئے کتے کے ذریعہ شکار کرتا ہوں مجھے بتلادیجئے کہ ان میں سے کون سا شکار ہمارے لیے حلال ہے ؟آپﷺنے فرمایا: تم نے جو کہا ہے کہ ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں تو اگر تمہیں ان کے علاوہ اور برتن مل جائیں تو ان کے برتنوں میں نہیں کھانا ، اور اگر نہ ملیں تو پھر ان کے برتنوں کو دھوکر ان میں کھانا ، او رتم نے جو یہ کہاہے کہ تمہارے ملک میں شکار کیا جاتا ہے تو جب تم اپنی کمان سے شکار کرو تو اس پر بسم اللہ پڑھ لو ، پھر ا س کو کھالینا اور تم نے جو اپنے سکھلائے ہوئے کتے کا شکار پایا تو اس پر بسم اللہ پڑھ کے کھالینا اور غیر سکھلائے ہوئے کتے سے اگر تم نے شکار کیا ہے تو اگر تم نے شکار کو زندہ پایا تو اس کو ذبح کرکے کھالو۔


وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ (ح) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، كِلاَهُمَا عَنْ حَيْوَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ وَهْبٍ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ صَيْدَ الْقَوْسِ.

A Hadith like that of Ibn Al-Mubarak (no. 4983) was narrated from Haiwah with this chain of narration, except that the Hadith of Ibn Wahb does not mention hunting with a bow.

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے ، لیکن ابن وہب نے اپنی روایت میں کمان کے شکار کا ذکر نہیں کیا۔

Chapter No: 2

باب إِذَا غَابَ عَنْهُ الصَّيْدُ ثُمَّ وَجَدَهُ

Concerning (a situation) when the hunt gets out of hunter’s site then later on he finds it

شکار ( زخمی جانور) کا گم ہونے کے بعد ملنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ ، فَغَابَ عَنْكَ ، فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ ، مَا لَمْ يُنْتِنْ.

It was narrated from Abu Tha'labah that the Prophet (s.a.w) said: "If you shoot your arrow and (the game) disappears, then you find it, then eat it, so long as it has not turned rotten."

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جب تم اپنا تیر مارو اور پھر شکار تم سے غائب ہوجائے ، پھر تم اس کو پالو تو اگر بدبودار نہ ہوا ہو اس کو کھالو۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ : فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ.

It was narrated from Abu Tha'labah from the Prophet (s.a.w) concerning the one who catches up with his game after three days: (He (s.a.w) said:) "Eat it so long as it has not turned rotten."

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جس آدمی کو تین دنوں کے بعد اپنا شکار ملے تو بدبو پیدا ہونے سے قبل اس کو کھا سکتا ہے۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فِي الصَّيْدِ. ثُمَّ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَأَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْعَلاَءِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ نُتُونَتَهُ ، وَقَالَ فِي الْكَلْبِ: كُلْهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ إِلاَّ أَنْ يُنْتِنَ فَدَعْهُ.

A Hadith like that of Al-'Ala' was narrated from Abu Tha'labah Al-Khushani, except that he did not mention it turning rotten. And he said concerning dogs: "Eat it after three days unless it has turned rotten, in which case leave it."

یہ حدیث حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کی ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں بدبو کا ذکر نہیں ہے ، اور کتے کے شکار کے متعلق یہ فرمایا ہے : تین دن کے بعد بھی اس کو کھالو، لیکن اگر اس سے بدبو آئے تو پھر اس کو چھوڑ دو۔

Chapter No: 3

باب تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ

The forbiddance of eating any wild animals with fangs and any birds with talons

نوک دار دانتوں والے درندوں اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندوں کو کھانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ. زَادَ إِسْحَاقُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِمَا ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَلَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا حَتَّى قَدِمْنَا الشَّامَ.

It was narrated that Abu Tha'labah said: "The Prophet (s.a.w) forbade eating any wild animal with fangs." Ishaq and Ibn Abi 'Umar added in their Hadith: "Az-Zuhri said: 'We did not hear this until we came to Ash-Sham.'"

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے ہر نوک دار دانت والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ راوی اسحاق اور ابن ابی عمر کی روایت میں یہ زائد ہے کہ امام زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہم نے اس حدیث کو شام کے ملک میں آنے تک نہیں سنا تھا۔


وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ عُلَمَائِنَا بِالْحِجَازِ حَتَّى حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ ، وَكَانَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الشَّامِ.

It was narrated from Abu Idris Al-Khawlani that he heard Abu Tha'labah Al-Khushani say: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade eating any wild animal with fangs." Ibn Shihab said: "I did not hear that from our scholars in the Hijaz, until Abu Idris, who was one of the Fuqaha' (scholar) of Ash-Sham, narrated it to me."

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے ہر نوک دار دانت والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے علماء سے حجاز میں یہ حدیث نہیں سنی یہاں تک کہ مجھے ابو ادریس نے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ شام کے فقہاء میں سے تھے ۔


وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ.

It was narrated from Abu Tha'labah Al-Khushani that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade eating any wild animal with fangs.

حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہر نوک دار دانت والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔


وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، وَغَيْرُهُمْ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ (ح) وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ (ح) وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ ، وَعَمْرٍو ، كُلُّهُمْ ذَكَرَ الأَكْلَ إِلاَّ صَالِحًا ، وَيُوسُفَ ، فَإِنَّ حَدِيثَهُمَا نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ.

A Hadith like that of Yunus and 'Amr was narrated from Az-Zuhri with this chain of narration. All (the narrators) mentioned eating except Salih and Yusuf, in whose Hadith it says: "He forbade every wild animal that has fangs."

یہ حدیث چار سندوں سے مروی ہے سب میں کھانے کا ذکر ہے ، مگر صالح اور یوسف کی روایت میں یہ ہے کہ ہر نوک دار دانت والے درندے سے آپﷺنے منع فرمایا ہے۔


وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ فَأَكْلُهُ حَرَامٌ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Every wild animal that has fangs, eating it is Haram (forbidden)."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ہر نوک دار دانت والے درندے کو کھانا حرام ہے ۔


وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Malik bin Anas narrated a similar report (as no. 4992), with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade (eating) every wild animal with fangs and every bird with talons."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ہر نوک دار دانتوں والے درندوں ، اور ہر پنجے (سے شکار کرنے والے) پرندوں کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔


وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Shu'bah said... a similar report with this chain of narrators (as no. 4994).

یہ حدیث ایک اور سندسے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، وَأَبُو بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ.

It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade every wild animal that has fangs and every bird that has talons.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ہر نوک دار دانتوں والے درندوں ، اور ہر پنجے (سے شکار کرنے والے) پرندوں کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔


وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ (ح) وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ : أَخْبَرَنَا عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى (ح) وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade..." a Hadith like that of Shu'bah from Al-Hakam.

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے منع فرمایا ہے اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔

Chapter No: 4

باب إِبَاحَةِ مَيْتَاتِ الْبَحْرِ

The permissibility of (eating) dead animals of sea

سمندر میں مرے ہوئے جانور کی اباحت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ (ح) وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ ، نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً ، قَالَ : فَقُلْتُ : كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا ؟ قَالَ : نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبِيُّ ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ ، فَتَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ ، وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ، ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ فَنَأْكُلُهُ ، قَالَ : وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ ، فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ ، فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هِيَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَيْتَةٌ ، ثُمَّ قَالَ : لاَ ، بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي سَبِيلِ اللهِ ، وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا ، قَالَ : فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا وَنَحْنُ ثَلاَثُ مِئَةٍ حَتَّى سَمِنَّا ، قَالَ : وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنِهِ بِالْقِلاَلِ الدُّهْنَ ، وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ ، أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ ، فَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلاَثَةَ عَشَرَ رَجُلاً ، فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ ، وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مَعَنَا ، فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ ، فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا ؟ قَالَ : فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَهُ.

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) sent us on an expedition and appointed Abu 'Ubaidah in charge of us, to intercept a caravan of the Quraish. He supplied us with a bag of dates, and we had no other provisions apart from that. Abu 'Ubaidah used to give them to us, one date at a time." He (the narrator) said: "I said: 'What did you do with it?' He said: 'We used to suck it like a child, then drink water after that, and it would suffice us for that day until night. And we used to knock down leaves with our sticks, then soak them in water and eat them. We set off along the coast and there appeared before us on the shore something like a huge mound. We came to it and saw that it was a beast called Al' Anbar (sperm whale). Abu 'Ubaidah said: "It is dead meat." Then he said: "No, we are the envoys of the Messenger of Allah (s.a.w), (striving) in the cause of Allah, and we are compelled (by hunger); eat." We lived on it for a month, three hundred of us, until we grew fat. And I remember that we extracted pitchers of fat from its eye socket, and we cut out pieces of meat like that of a bull. Abu 'Ubaidah called out thirteen of us and made them sit in its eye socket, and he took one of its ribs and set it up, then he saddled the largest camel we had with us and passed beneath it. And we supplied ourselves with preserved pieces of its meat. When we reached Al-Madinah, we came to the Messenger of Allah (s.a.w) and told him all of that. He said: "It is provision that Allah brought forth for you. Do you have any of its meat with you that you can give us to eat?" We sent some of it to the Messenger of Allah (s.a.w) and he ate it."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں قریش کے قافلے کے خلاف حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے زیر کمان بھیجا،اور بطور زاد راہ ایک کھجور کی بوری عنایت کی ، اس کے علاوہ آپﷺکو اور کوئی چیز ہمیں دینے کے لیے نہیں ملی۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ روزانہ ہمیں ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: تم ایک کھجور پر کیسے گزارہ کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: ہم اس کھجور کو بچے کی طرح چوستے تھے ، پھر اس کے اوپر پانی پیتے تھے ، وہ ہمیں ایک رات تک کافی ہوتی تھی اور ہم لاٹھیوں سے درختوں کے پتے جھاڑتے تھے پھر ان کو پانی میں بھگوکر کھالیتے تھے ، ایک مرتبہ ہم ساحل سمندر کی طرف چلے وہاں کنارے پر ایک بڑے ٹیلے کی طرح کوئی چیز پڑی ہوئی تھی ، ہم اس کے پاس آئے تو دیکھا وہ ایک جانور ہے جس کو عنبر کہتے ہیں حضرت ابو عبیدہ نے کہا: یہ مردار ہے ، پھر کہا: نہیں ، ہم رسول اللہﷺکے نمائندے ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم حالت اضطراری ہو سو تم اس کو کھالو،راوی کہتا ہے کہ ہم تین سو آدمی تھے اور ایک مہینے تک وہاں قیام کیا اور اس کو کھاکر ہم موٹے تازے ہوگئے ۔ اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم نے اس جانور کی آنکھ کے ڈھیلے سے مشکوں سے بھر بھر کر چربی نکالی تھی اور اس میں بیل جتنا گوشت کے ٹکڑے کاٹے تھے ، حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو اس کی آنکھ کے ڈھیلے میں بٹھادیا اور ا س جانور کی ایک پسلی کو کھڑا کرکے اور سب سے بڑے اونٹ کی پیٹھ پر کجاوہ کس کر اس کے نیچے سے گزار لیا اور اس کے گوشت کو ہم نے ابال کر زاد راہ بنایا۔جب ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے ہم رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺکو واقعہ سنایا ، تو آپ ﷺنے فرمایا: یہ ایک رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہے ، کیا تمہارے پاس اس گوشت میں سے کچھ ہے ؟ تو ہمیں کھلاؤ ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم نے اس گوشت میں سے کچھ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں بھیج دیا اور آپﷺ نے اس کو کھالیا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلاَثُ مِئَةِ رَاكِبٍ ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ ، فَسُمِّيَ جَيْشَ الْخَبَطِ ، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا نِصْفَ شَهْرٍ ، وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهَا حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا ، قَالَ : فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنَصَبَهُ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ فِي الْجَيْشِ وَأَطْوَلِ جَمَلٍ فَحَمَلَهُ عَلَيْهِ ، فَمَرَّ تَحْتَهُ ، قَالَ : وَجَلَسَ فِي حَجَاجِ عَيْنِهِ نَفَرٌ ، قَالَ: وَأَخْرَجْنَا مِنْ وَقْبِ عَيْنِهِ كَذَا وَكَذَا قُلَّةَ وَدَكٍ ، قَالَ: وَكَانَ مَعَنَا جِرَابٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا قَبْضَةً قَبْضَةً ، ثُمَّ أَعْطَانَا تَمْرَةً تَمْرَةً ، فَلَمَّا فَنِيَ وَجَدْنَا فَقْدَهُ.

'Amr heard Jabir bin 'Abdullah say: "The Messenger of Allah (s.a.w) sent us, three hundred riders, with Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah in charge, to keep a lookout for the caravan of the Quraish. We stayed on the coast for half a month, and we were stricken with such intense hunger that we ate leaves, and it was called the Army of Leaves. Then the sea threw out to us a beast called Al-'Anbar (sperm whale) and we ate from it for half a month and rubbed its fat on our bodies, until our bodies grew strong. Abu 'Ubaidah took one of its ribs and set it up, then he looked for the tallest man in the army and the tallest camel. He mounted the man on the camel, and he passed beneath it. And a number of men sat in its eye socket, and we extracted such and such number of pitchers of fat from its eye socket. 'Abu 'Ubaidah used to give each one of us a handful of dates at a time, then he gave us one date at a time, and when he ran out we felt its loss."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح تھے ، ہم قریش کے قافلے کی گھات میں تھے ، ہم نصف مہینے تک ساحل سمندر پر ٹھہرے رہے ، ہمیں شدید بھوک لگی تھی یہاں تک کہ ہم نے درختوں کے پتے کھائے ،اور اس لشکر کا نام ہی پتوں کا لشکر پڑگیا تھا ،(اسی اثناء میں) سمندر نے ہمارے لیے ایک جانور باہر پھینکا جس کو عنبر کہتے ہیں ہم آدھے مہینے تک اس کا گوشت کھاتے رہے اور اس کا تیل جسم پر لگاتے رہے یہاں تک کہ ہم خوب موٹے تازے ہوگئے ، حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس جانور کی ایک پسلی (زمین میں) گھاڑ دی اور لشکر کے سب سے لمبے آدمی کو سب سے اونچے اونٹ پر سوار کیا تو وہ اونٹ اس پسلی کے نیچے سے گزر گیا اور اس کی آنکھ کے ڈھیلے میں متعدد آدمی بیٹھ گئے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس کی آنکھ کے ڈھیلے میں سے اتنے اتنے گھڑے چربی نکالی ، ہمارے ساتھ کھجوروں کی ایک بوری تھی، حضرت ابو عبیدہ شروع میں ہم میں ہر آدمی کو ایک ایک مٹھی کھجور دیتے تھے ، پھر ایک ایک کھجور دینے لگے ، اور جب کھجور ملنا بند ہوگئی تو ہم نے جان لیا کہ اب کھجوریں ختم ہوگئیں۔


وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرًا ، يَقُولُ فِي جَيْشِ الْخَبَطِ: إِنَّ رَجُلاً نَحَرَ ثَلاَثَ جَزَائِرَ ، ثُمَّ ثَلاَثًا ،ثُمَّ ثَلاَثًا ، ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ.

'Amr heard Jabir say concerning the Army of the Leaves: "A man slaughtered three camels, then another three, then another three, then Abu 'Ubaidah forbade him to do that."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پتوں کے لشکر میں ایک آدمی نے ایک دن میں تین اونٹ ذبح کیے ، پھر تین اونٹ ذبح کیے ، اس کے بعد پھر تین اونٹ ذبح کیے ، اس کے بعد ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کیا۔


وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ:بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ نَحْمِلُ أَزْوَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Prophet (s.a.w) sent us, three hundred men, and we carried our provision slung around our necks."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے ہمیں بھیجا تو ہم تین سو آدمی تھے ہم اپنا زاد راہ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، أَخْبَرَهُ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ثَلاَثَ مِائَةٍ ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، فَفَنِيَ زَادُهُمْ ، فَجَمَعَ أَبُو عُبَيْدَةَ زَادَهُمْ فِي مِزْوَدٍ ، فَكَانَ يُقَوِّتُنَا حَتَّى كَانَ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ.

Jabir bin ' Abdullah narrated: "The Messenger of Allah (s.a.w) sent an expedition, three hundred strong, and appointed Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah in charge of them. Their provisions ran short, so Abu 'Ubaidah collected their provisions in a bag and fed us from it each day, until the ration was reduced to one date each every day."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے تین سو کا ایک لشکر روانہ کیا اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر کیا ، جب ان کا زاد راہ ختم ہوگیا تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سب کا زاد راہ اکٹھا کیا ، پھر وہ ہمیں کھجوریں کھلاتے تھے یہاں تک کہ آخر میں روزانہ ایک ایک کھجور دیتے تھے۔


وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً أَنَا فِيهِمْ إِلَى سِيفِ الْبَحْرِ ، وَسَاقُوا جَمِيعًا بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ : فَأَكَلَ مِنْهَا الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً.

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) sent an expedition, of whom I was one, to the coast..." and they (the narrators) all quoted a Hadith like that of 'Amr bin Dinar and Abu Az-Zubair except that in the Hadith of Wahb bin Kaisan (no. 5002) it says: "The army ate from it for eighteen days."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے سمندر کے کنارے ایک لشکر روانہ فرمایا، میں بھی اس لشکر میں شامل تھا، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، لیکن وہب بن کیسان کی روایت میں یہ ہے کہ لشکر نے اٹھارہ دن تک اس (مچھلی) کا گوشت کھایا۔


وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ ، كِلاَهُمَا عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى أَرْضِ جُهَيْنَةَ ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلاً وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) sent an expedition to the land of Juhainah, and appointed a man in charge of them..." and he quoted a similar Hadith (as no. 5003).

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ارض جہینہ کی طرف ایک لشکر بھیجا اور ایک آدمی کو ان کا امیر بنایا۔ اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔

Chapter No: 5

باب تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ

The forbiddance of eating meat of domesticated donkey

پالتو گدھوں کے کھانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، وَالْحَسَنِ ، ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ.

It was narrated from 'Ali bin Abi Talib that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade Mut'ah marriage with women on the Day of Khaibar, and he forbade the meat of domesticated donkeys.

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے او رپالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ (ح) وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ (ح) وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ (ح) وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالاَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ.

It was narrated from Az-Zuhri, with this chain of narrators. In the Hadith of Yunus it says: "And eating the meat of domesticated donkeys."

یہ حدیث چار سندوں سے اسی طرح مروی ہے ، یونس کی روایت میں یہ ہے کہ رسول اللہﷺنے پالتو گدھوں کے گوشت کو کھانےسے منع فرمایا ہے۔


وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، كِلاَهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ ، قَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ.

It was narrated from Ibn Shihab that Abu Idris told him that Abu Tha'labah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) prohibited the meat of domesticated donkeys."

حضرت ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام کردیا۔


وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، وَسَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade eating the meat of domesticated donkeys.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے پالتو گدھوں کے گوشت کو کھانے سے منع فرما دیا۔


وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ (ح) وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْحِمَارِ الأَهْلِيِّ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَكَانَ النَّاسُ احْتَاجُوا إِلَيْهَا.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade eating domesticated donkeys on the Day of Khaibar, although the people needed it."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت کو کھانے سے منع فرما دیا اس حال میں کہ لوگوں کو اس کی ضرورت تھی۔


وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ ، فَقَالَ: أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ أَصَبْنَا لِلْقَوْمِ حُمُرًا خَارِجَةً مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَنَحَرْنَاهَا ، فَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي ، إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اكْفَؤُوا الْقُدُورَ ، وَلاَ تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا ، فَقُلْتُ: حَرَّمَهَا تَحْرِيمَ مَاذَا ؟ قَالَ: تَحَدَّثْنَا بَيْنَنَا ، فَقُلْنَا : حَرَّمَهَا الْبَتَّةَ ، وَحَرَّمَهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ.

It was narrated that Ash-Shaibani said: "I asked 'Abdullah bin Abi Awfa about the meat of domesticated donkeys. He said: 'We were stricken with hunger on the Day of Khaibar, when we were with the Messenger of Allah (s.a.w), and the people had captured some donkeys outside Al-Madinah. So we slaughtered them, and the cooking pots were boiling, when the caller of the Messenger of Allah (s.a.w) cried out that the cooking pots should be overturned and nothing of the donkey meat should be eaten.' I said: "What kind of prohibition was it?"' He said: 'We talked about that amongst ourselves, did he (s.a.w) prohibit it forever or did he prohibit it because it had not been distributed as it should have been (i.e., with the Khumus being taken out before the booty was divided)?"'

شیبانی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ خیبر کے دن ہمیں بھوک لگی ہوئی تھی اور ہم رسول اللہﷺکے ساتھ تھے ، ہم نے شہر سے باہر نکلنے والے یہودیوں کے گدھوں کو پکڑ لیا ، پھر ہم نے ان کو ذبح کیا ، ہماری دیگچیوں میں ان کا گوشت پک رہا تھا،اچانک رسول اللہﷺکے منادی نے یہ اعلان کیا کہ دیگچیاں الٹ دو اور گدھوں کے گوشت کو مت کھاؤ ، میں نے کہا: آپﷺنے اس کو حرام کرتے ہوئے کیا فرمایا تھا ؟ انہوں نے کہا: ہم نے آپس میں باتیں کیں کہ آپﷺنے اس کو یقینی طور پر حرام کردیا اور اس وجہ سے حرام کیا کہ اس میں خمس نہیں نکالا گیا تھا۔


وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ : أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ لَيَالِيَ خَيْبَرَ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ ، فَانْتَحَرْنَاهَا ، فَلَمَّا غَلَتْ بِهَا الْقُدُورُ ، نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اكْفَؤُوا الْقُدُورَ ، وَلاَ تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا ، قَالَ : فَقَالَ نَاسٌ : إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ ، وَقَالَ آخَرُونَ : نَهَى عَنْهَا الْبَتَّةَ.

Sulaiman Ash-Shaibani said: "I heard 'Abdullah bin Abi Awfa say: 'On the Day of Khaibar we fell upon some domesticated donkeys and slaughtered them. When the cooking pots were boiling, the caller of the Messenger of Allah (s.a.w) cried out (saying): "Overturn the cooking pots and do not eat any of the donkey meat." Some people said: "The Messenger of Allah (s.a.w) has only forbidden it because it has not been distributed as it should have been (i.e., with the Khumus being taken out before the booty was divided)," and others said: "He has forbidden it forever."

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے جنگ میں ہمیں راتوں کو بھوک لگی ، جب خیبر کا دن تھا ، ہم پالتو گدھوں پر ٹوٹ پڑے اور ان کو ذبح کیا ،حس وقت ان کا گوشت ہماری دیگچیوں میں پک رہا تھا ، رسول اللہﷺکے منادی نے یہ اعلان کیا: دیگچیاں الٹ دو، پالتو گدھوں کے گوشت سے کچھ نہ کھاؤ، اس موقعہ پر بعض صحابہ نے کہا تھا: ان کو اس لیے حرام کیا ہے کہ ان کا خمس نکالا نہیں گیا ، اور بعض نے کہا تھا : ان کو حتمی طور پر حرام کردیا گیا۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولاَنِ: أَصَبْنَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا ، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اكْفَؤُوا الْقُدُورَ.

It was narrated that 'Adiyy bin Thabit said: "I heard Al-Bara' and 'Abdullah bin Abi Awfa say: 'We got some donkeys and cooked them, then the caller of the Messenger of Allah (s.a.w) cried out saying: "Overturn the cooking pots."

حضرت براء اور حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہم نے گدھے پکڑ لیے پھر ہم نے ان کو پکانا شروع کیا تو رسول اللہﷺکے منادی نے یہ اعلان کیا کہ دیگچیاں الٹ دو۔


وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ الْبَرَاءُ : أَصَبْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا ، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اكْفَؤُوا الْقُدُورَ.

It was narrated that Abu Ishaq said: "Al-Bara' said: 'On the Day of Khaibar we got some donkeys, then the caller of the Messenger of Allah (s.a.w) cried out saying: "Overturn the cooking pots."

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر والے دن ہم نے گدھے پکڑ لیے ، تو رسول اللہ ﷺکے منادی نے آواز دی کہ دیگچیاں الٹ دو۔


وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: نُهِينَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ.

It was narrated that Thabit bin 'Ubaidullah said: "I heard Al-Bara' saying: 'We were forbidden the meat of domesticated donkeys."'

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے ہمیں منع کیا گیا۔


وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُلْقِيَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ ، نِيئَةً وَنَضِيجَةً ، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ.

It was narrated that Al-Bara' bin 'Azib said: "The Messenger of Allah (s.a.w) commanded us to throw away the meat of domesticated donkeys, raw and cooked, then he did not command us to eat it."

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ہمیں پالتو گدھوں کے گوشت کو پھینکنے کا حکم دیا ،چاہیے وہ کچا ہو یا پکا ہو ، اور پھر ہمیں اس کے کھانے کا حکم نہیں دیا گیا۔


وحَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 5015) was narrated from 'Asim with this chain narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔


وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لاَ أَدْرِي إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ، فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ ، أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ لُحُومَ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "I do not know whether the Messenger of Allah (s.a.w) forbade it because they (donkeys) were beasts of burden for the people, and he did not want their beasts of burden to be lost, or if he prohibited the meat of domesticated donkeys on the Day of Khaibar."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہﷺنے گدھوں کا گوشت کھانا اس لیے منع فرمایا تھا کیونکہ وہ بوجھ اٹھانے کے کام آتے ہیں ، تو آپﷺنے یہ پسند نہیں کیا کہ بوجھ اٹھانے کا ذریعہ ختم ہوجائے ، یا آپﷺنے خیبر کے دن گدھوں کا گوشت حرام قرار دیا۔


وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ الْيَوْمَ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ ، أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذِهِ النِّيرَانُ ؟ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ ؟ قَالُوا: عَلَى لَحْمٍ ، قَالَ: عَلَى أَيِّ لَحْمٍ ؟ قَالُوا: عَلَى لَحْمِ حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! ، أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا ؟ قَالَ: أَوْ ذَاكَ.

It was narrated that Salamah bin Al-Akwa' said: "We set out with the Messenger of Allah (s.a.w) for Khaibar, then Allah granted them victory over it. When evening came on the day that they conquered it, the people lit many fires, and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'What are these fires? What are you lighting them for?' They said: 'For (cooking) meat.' He said: 'What kind of meat?' They said: 'For the meat of domesticated donkeys.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Throw it away and break them (the pots).' A man said: 'O Messenger of Allah, or throw it away and wash them?' He said: 'Or that.'"

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے پھر اللہ تعالی نے خبیر کو فتح فرما دیا جس دن خیبر فتح ہوا لوگوں نے اس دن شام کو بہت آگ جلائی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ کیسی آگ ہے اور کس وجہ سے جلائی گئی؟ صحابہ نے عرض کیا: گوشت پکار رہے ہیں آپﷺنے فرمایا: کس چیز کا گوشت؟ صحابہ نے عرض کیا:پالتو گدھے کا گوشت، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گوشت کو پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ دو۔ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! اگر ہم ہانڈیوں کو انڈیل کر دھولیں ؟ آپﷺنے فرمایا: چلو ایسا کرو۔


وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، وَصَفْوَانُ بْنُ عِيسَى (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Yazid bin Abi 'Ubaid, with this chain narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔


وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ ، فَطَبَخْنَا مِنْهَا ، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلاَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْهَا ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا ، وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِمَا فِيهَا.

It was narrated that Anas said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) conquered Khaibar, we captured some donkeys outside the town, and we cooked some of them. Then the caller of the Messenger of Allah (s.a.w) cried out (saying); 'Allah and His Messenger have forbidden it to you, for it is an abomination of the Shaitan's handiwork.' So the pots and their contents were overturned, and they were brimming with their contents.''

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جب خبیر کو فتح کیا، تو گاؤں سے باہر نکلنے والے گدھوں کو ہم نے پکڑ لیا اور ان کا گوشت پکانا شروع کیا ،تو اچانک رسول اللہﷺکے منادی نے اعلان کیا کہ :سنو! اللہ اور اس کے رسول ﷺ تم کو اس سے منع کرتے ہیں ، کیونکہ یہ نجس ہے او رشیطانی عمل ہے،پھر ان ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا اس حال میں ان میں گوشت پک رہا تھا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ جَاءَ جَاءٍ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، أُكِلَتِ الْحُمُرُ ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَلْحَةَ ، فَنَادَى:إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ ، أَوْ نَجِسٌ. قَالَ: فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا.

It was narrated that Anas bin Malik said: "On the Day of Khaibar, someone came and said: 'O Messenger of Allah, the donkeys have been eaten.' Then another person came and said: 'O Messenger of Allah, the donkeys are finished.' The Messenger of Allah (s.a.w) told Abu Talhah to call out: 'Allah and His Messenger forbid the meat of donkeys to you, for it is an abomination or it is impure.' So the cooking pots were overturned with their contents.''

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب خبیر کا دن تھا تو ایک آنے والے نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! گدھوں کا گوشت کھالیا گیا ، پھر دوسرا شخص آیا اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! گدھے ختم کردئے گئے ، تو رسول اللہﷺ ابو طلحہ کو حکم دیا ، انہوں نے اعلان کردیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺتم کو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ ناپاک اور پلید ہے ،راوی کہتا ہے کہ پھر ہانڈیوں کو گوشت سمیت الٹ دیا گیا۔

Chapter No: 6

باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ

Eating horse meat

گھوڑے کاگوشت کھانے کے بارے میں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ ، وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ.

It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that on the Day of Khaibar, the Messenger of Allah (s.a.w) forbade the meat of domesticated donkeys, but he permitted the meat of horses.

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے خیبر کے دن پالتوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت دی۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ، وَحُمُرَ الْوَحْشِ، وَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ الأَهْلِيِّ.

Jabir bin 'Abdullah said: "At the time of Khaibar, we ate the meat of horses and onagers, but the Prophet (s.a.w) forbade us (to eat) the meat of domestic donkeys."

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ خبیر کے وقت ہم نے گھوڑوں اور جنگلی گدھوں کا گوشت کھایا اور نبی ﷺ نے ہمیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔


وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ (ح) وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Ibn Juraij, with this chain narrators (a Hadith similar to no. 5023).

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔


وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَكَلْنَاهُ.

It was narrated that Asma' said: "We slaughtered a horse at the time of the Messenger of Allah (s.a.w) and ate it."

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا اور پھر ہم نے اس کو کھالیا۔


وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Hisham with this chain narrators (a Hadith similar to no. 5025).

یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔

Chapter No: 7

باب إِبَاحَةِ الضَّبِّ

Concerning the permissibility of (eating) mastigure

گوہ کے گوشت کی اباحت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ؟ فَقَالَ: لَسْتُ بِآكِلِهِ، وَلاَ مُحَرِّمِهِ.

It was narrated from 'Abdullah bin Dinar that he heard Ibn 'Umar said: The Prophet (s.a.w) was asked about Ad-Dabb (mastigure, desert lizard). He said: "I will not eat it but I will not prohibit it."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے گوہ (سوسمار) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے حرام کرتا ہوں۔


وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ، فَقَالَ: لاَ آكُلُهُ، وَلاَ أُحَرِّمُهُ.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "A man asked the Messenger of Allah (s.a.w) about eating Ad-Dabb (mastigure, desert lizard), and he said: "'I do not eat it but I do not prohibit it."'

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے گوہ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی اس کو حرام کرتا ہوں۔


وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ ، فَقَالَ: لاَ آكُلُهُ ، وَلاَ أُحَرِّمُهُ.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "A man asked the Messenger of Allah (s.a.w) about eating Ad-Dabb (mastigure, desert lizard) when he was on the pulpit. He said: 'I do not eat it but I do not prohibit it."'

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے اس حال میں گوہ کھانے کے متعلق سوال پوچھا کہ آپﷺمنبر پر تشریف فرما تھے ، تو آپﷺ نے فرمایا: نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی میں اسے حرام کرتا ہوں۔


وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الإِسْنَادِ.

A similar report (as no. 5029) was narrated from 'Ubaidullah with this chain narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ ، وَقُتَيْبَةُ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ (ح) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ (ح) وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ (ح) وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ (ح) وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ (ح) وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الضَّبِّ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ ، عَنْ نَافِعٍ. غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَيُّوبَ : أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ ، وَلَمْ يُحَرِّمْهُ، وَفِي حَدِيثِ أُسَامَةَ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ.

A Hadith like that of Al-Laith from Nafi' (no. 5029) was narrated from Nafi' from Ibn 'Umar, from the Prophet (s.a.w), except that the Hadith of Ayyub (says): "A mastigure was brought to the Messenger of Allah (s.a.w) and he did not eat it but he did not prohibit it." In the Hadith of Usamah it says: "A man stood up in the Masjid when the Messenger of Allah (s.a.w) was on the pulpit."

یہ حدیث چھ مختلف سندوں کے ساتھ حضرت ابن عمر ﷺکی نبی ﷺسے اسی طرح مروی ہے ، البتہ ایوب کی روایت میں یہ ہے کہ نبیﷺکے پاس گوہ پیش کی گئی تو آپﷺنے اس کو نہیں کھایا اور نہ ہی اس کو حرام کیا ، اور اسامہ کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہوا اس حال میں کہ رسو ل اللہ ﷺمنبر پر تشریف فرما تھے۔


وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ سَعْدٌ، وَأُتُوا بِلَحْمِ ضَبٍّ، فَنَادَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا فَإِنَّهُ حَلاَلٌ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي.

Ash-Sha'bi heard Ibn 'Umar (say) that the Prophet (s.a.w) had some of his Companions with him, among whom was Sa'd. Some mastigure meat was brought to them and one of the wives of the Prophet (s.a.w) called out: "It is mastigure meat." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Eat, for it is Halal, but it is not something that I eat."

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کچھ اصحاب تھے ان میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی تھے اور آپ ﷺ کی خدمت میں گوہ کا گوشت لایا گیا تو نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے ایک نے آواز دی کہ یہ گوہ کا گوشت ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم کھاؤ کیونکہ یہ حلال ہے لیکن یہ میرا طعام نہیں۔


وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ: أَرَأَيْتَ حَدِيثَ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَقَاعَدْتُ ابْنَ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ سَنَتَيْنِ، أَوْ سَنَةٍ وَنِصْفٍ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا ، قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سَعْدٌ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ.

It was narrated that Tawbah Al-'Anbari said: "Ash-Sha'bi said to me: 'Have you heard the Hadith of Al-Hasan from the Prophet? I sat with Ibn 'Umar for nearly two years or a year and a half, and I did not hear him narrate anything from the Prophet (s.a.w) except this. He said: "Some of the Companions of the Prophet (s.a.w), among whom was Sa'd..." a Hadith like that of Mu'adh (no. 5032).

حضرت توبہ عنبری فرماتے ہیں کہ مجھ سے شعبی نے کہا: کہ کیا تم نے حسن کی وہ حدیث سنی ہے جو انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی ہے اور میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تقریبا دو یا ڈیڑھ سال بیٹھا رہا لیکن میں نے اس روایت کے علاوہ اور کوئی روایت ان سے سنی ہی نہیں کہ جو انہوں نے نبی ﷺ سے نقل کی ہو راوی کہتا ہے کہ نبیﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی اس حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: لاَ ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ. قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.

It was narrated that 'Abdullah bin 'Abbas said: "Khalid bin Al-Walid and I, along with the Messenger of Allah (s.a.w), entered the house of Maimunah. A roasted mastigure was brought and the Messenger of Allah (s.a.w) stretched out his hand, then one of the women who were in the house of Maimunah said: 'Tell the Messenger of Allah (s.a.w) what he is about to eat.' Then the Messenger of Allah (s.a.w) withdrew his hand. I said: 'Is it Haram, O Messenger of Allah?' He said: 'No, but it is not found in the land of my people and I have an aversion to it."' Khalid said: "I took it and ate it, and the Messenger of Allah (s.a.w) was looking on."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہﷺ کے ساتھ حضرت میمونہ کے گھر میں داخل ہوئے اتنے میں ایک بھنی گوہ پیش کی گئی رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں جو عورتیں موجود تھیں ان میں سے ایک عورت نے کہا: رسول اللہ ﷺ جو کھانا چاہتے ہیں وہ آپﷺ کو بتا دو (یہ سن کر ) رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ گوہ ہماری زمین میں نہیں پائی جاتی اس لئے میں نے اسے ناپسند کیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ میں نے اس گوہ کو اپنی طرف کھینچا اور اسے کھانا شروع کردیا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔


وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ حَرْمَلَةُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، الَّذِي يُقَالُ لَهُ : سَيْفُ اللهِ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا ، قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ ، فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدَّمُ إِلَيْهِ طَعَامٌ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ ، فَأَهْوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ : أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ ، قُلْنَ : هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللهِ ، ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ. قَالَ خَالِدٌ : فَاجْتَرَرْتُهُ ، فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ ، فَلَمْ يَنْهَنِي.

It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif Al-Ansari that 'Abdullah bin 'Abbas told him that Khalid bin Al-Walid, who was called Saifullah (the Sword of Allah), told him that he entered, along with the Messenger of Allah (s.a.w), upon Maimunah, the wife of the Prophet (s.a.w), who was his maternal aunt and the maternal aunt of Ibn 'Abbas. He found in her house a roasted mastigure which had been brought by her sister Hufaidah bint Al-Harith from Najd. It was rare that food would be offered to him without being described or named. The Messenger of Allah (s.a.w) stretched out his hand towards it and one of the women present said: "Tell the Messenger of Allah (s.a.w) what is being offered to him." They said: "It is a mastigure, O Messenger of Allah." The Messenger of Allah (s.a.w) withdrew his hand and Khalid bin Al-Walid said: "Is mastigure Haram, O Messenger of Allah?" He said: "No, but it is not found in the land of my people and I have an aversion to it." Khalid said: "I took it and ate it while the Messenger of Allah (s.a.w) was looking on, and he did not forbid me."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جن کو سیف اللہ کہا جاتا ہے انہوں نے کہا: کہ وہ رسول اللہﷺ کے ہمراہ نبیﷺ کے زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے (گھر) داخل ہوئے اور وہ حضرت خالد اور حضرت ابن عباس کی خالہ تھیں، تو خالد رضی اللہ عنہ نے حضرت میمونہ کے پاس ایک بھنی ہوئی گوہ دیکھی جو ان کی بہن حضرت حفیدہ بنت حارث نجد سے لائی تھیں، انہوں نے وہ گوہ رسول اللہ ﷺ کے آگے پیش کر دی ، رسول اللہ ﷺکے سامنے جب بھی کوئی کھانا پیش کیا جاتا تو بہت کم ایسا ہوتاتھا کہ آپ کو اس کے بارے میں نہ بتایا گیا ہو، اور اس کھانے کا نام نہ لیا گیا ہو، رسول اللہ ﷺ نے گوہ کی طرف ہاتھ بڑھانے کا ارادہ کیا تو وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو جو کچھ تم نے پیش کیا ہے وہ بتا دو، وہ کہنے لگیں: اے اللہ کے رسولﷺ! یہ گوہ ہے تو رسول اللہﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک کھینچ لیا حضرت خالد بن ولید ﷺنے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا گوہ حرام ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: نہیں، لیکن یہ گوہ چونکہ ہمارے علاقے میں نہیں ہوتی جس کی وجہ سے میں نے اسے ناپسند سمجھا حضرت خالد کہتے ہیں: کہ میں نے اس گوہ کو اپنی طرف کھینچا اور اسے کھانا شروع کردیا اور رسول اللہﷺ دیکھتے رہے اور مجھے منع نہیں کیا۔


وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنِي ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ خَالَتُهُ ، فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ. وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَحَدَّثَهُ ابْنُ الأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا.

It was narrated from Ibn 'Abbas that Khalid bin Al-Walid told him that he entered with the Messenger of Allah (s.a.w) upon Maimunah bint Al-Harith, who was his maternal aunt. Some mastigure meat was brought to the Messenger of Allah (s.a.w), which had been brought by Umm Hufaid bint Al-Harith from Najd, who was married to a man from Banu Ja'far. The Messenger of Allah (s.a.w) would not eat anything until he knew what it was... then he mentioned a Hadith like that of Yunus (no. 5035), and at the end of the Hadith he added: "Ibn Al-Asamm narrated it from Maimunah, and he was under her care."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ حضرت میمونہ بنت حارث کے گھر میں داخل ہوئے اور وہ حضرت خالد کی خالہ تھیں، تو رسول اللہ ﷺکی خدمت میں گوہ کا گوشت پیش کیا گیا جو کہ ام حفیدہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نجد سے لائی تھیں اور یہ ام حفیدہ ، قبیلہ بنو جعفر کے کسی آدمی کے نکاح میں تھیں اور رسول اللہ ﷺ اتنی دیر تک کچھ نہیں کھاتے تھے جب تک کہ معلوم نہ ہو جاتا کہ وہ کیا چیز ہے؟ آگے مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے، اور اس حدیث کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت خالد حضرت میمونہ کے زیر پرورش تھے۔


وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ ، وَلَمْ يَذْكُرْ يَزِيدَ بْنَ الأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "Two grilled mastigures were brought to the Prophet (s.a.w) when we were in the house of Maimunah..." a similar Hadith (as no. 5036), but he did not mention Yazid bin Al-Asamm from Maimunah.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺکے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر بیٹھے ہوئے تھے تو دو بھنی ہوئی گوہ لائی گئیں ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے اور یزید بن اصم نے میمونہ کا ذکر نہیں کیا۔


وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلاَلٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ ، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِلَحْمِ ضَبٍّ ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "Some mastigure meat was brought to the Messenger of Allah (s.a.w) when he was in the house of Maimunah and Khalid bin Al-Walid was with him..." and he mentioned a Hadith like that of Az-Zuhri.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺحضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے اور ان کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے ، تو ایک گوہ کا گوشت لا یا گیا ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَهْدَتْ خَالَتِي أَمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا ، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالأَقِطِ ، وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا ، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا ، مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Ibn 'Abbas said: "My maternal aunt Umm Hufaid gave a gift to the Messenger of Allah (s.a.w) of some ghee, dried yoghurt and mastigures. He ate some of the ghee and dried yoghurt, but he left the mastigure, having an aversion to it. It was eaten at the table of the Messenger of Allah (s.a.w), and if it were Haram, it would not have been eaten at the table of the Messenger of Allah (s.a.w)."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری خالہ ام حفید نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں گھی ، پنیر ، اور گوہ کوبھیجا، تو آپﷺنے گھی ، اور پنیر کو کھالیا اور گوہ سے نفرت کرتے ہوئے چھوڑ دیا ۔ اور گوہ رسول اللہﷺکے دستر خوان پر کھائی گئی ، اور اگر گوہ حرام ہوتی تو رسول اللہ ﷺکے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ : دَعَانَا عَرُوسٌ بِالْمَدِينَةِ فَقَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلاَثَةَ عَشَرَ ضَبًّا ، فَآكِلٌ وَتَارِكٌ ، فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْغَدِ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَأَكْثَرَ الْقَوْمُ حَوْلَهُ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ آكُلُهُ ، وَلاَ أَنْهَى عَنْهُ ، وَلاَ أُحَرِّمُهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِئْسَ مَا قُلْتُمْ ، مَا بُعِثَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلاَّ مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ ، وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَامْرَأَةٌ أُخْرَى ، إِذْ قُرِّبَ إِلَيْهِمْ خُوَانٌ عَلَيْهِ لَحْمٌ ، فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ ، قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ : إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ ، فَكَفَّ يَدَهُ ، وَقَالَ : هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ ، وَقَالَ لَهُمْ : كُلُوا ، فَأَكَلَ مِنْهُ الْفَضْلُ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَالْمَرْأَةُ. وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ : لاَ آكُلُ مِنْ شَيْءٍ إِلاَّ شَيْءٌ يَأْكُلُ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated that Yazid bin Al-Asamm said: "A newly-married man in Al-Madinah invited us (to a meal) and he served us thirteen mastigures. Some people ate and some did not. I met Ibn 'Abbas the next day and told him about that. People started narrating what they heard about this issue, until one of them said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said: "I do not eat it, but I do not forbid it and I do no prohibit it." Ibn 'Abbas said: 'What a bad thing you have said. No Prophet of Allah was sent except to explain what is permitted and what is forbidden. When the Messenger of Allah (s.a.w) was in the house of Maimunah, along with Al-Fadl bin 'Abbas, Khalid bin AI-Walid and another woman, a tray of meat was brought to them. When the Messenger of Allah (s.a.w) wanted to eat, Maimunah said to him: "It is mastigure meat." He withdrew his hand and said: "This is meat which I have never eaten." And he said to them: "Eat." So Al-Fadl, Khalid and the woman ate from it. Maimunah said: "I will never eat something that the Messenger of Allah (s.a.w) did not eat."

حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک دولہا نے ہماری دعوت کی اس نے تیرہ گوہ ہمارے سامنے رکھے تو ہم میں سے بعض نے گوہ کھالی اور بعض نے ترک کردی، میں اگلے دن حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو میں نے ان کو بتایا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارد گرد بہت سے لوگ بھی اکٹھے ہوگئے ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا نہ میں گوہ کھاتا ہوں اور نہ ہی میں گوہ کھانے سے منع کرتا ہوں اور نہ ہی گوہ کو حرام قرار دیتا ہوں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تم نے بہت بری بات کی ،نبیﷺتو صرف حلال اور حرام بیان کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں رسول اللہﷺحضرت میمونہ کے ہاں تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ کے پاس حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ایک عورت بھی موجود تھی ان سب کے سامنے دسترخوان پر گوشت رکھا گیا جب نبی ﷺنے اسے کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یہ گوہ کا گوشت ہے تو آپ ﷺنے اپنا ہاتھ مبارک روک لیا اور آپﷺنے فرمایا: یہ گوشت میں نے کبھی نہیں کھایا،اور ان سے فرمایا: تم کھاؤ تو حضرت فضل رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور اس عورت نے گوہ کا گوشت کھالیا، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تو صرف اس چیز سے کھاؤں گی جس سے رسول اللہﷺکھائیں گے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ ، وَقَالَ : لاَ أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ.

Jabir bin 'Abdullah said: "A mastigure was brought to the Messenger of Allah (s.a.w) and he refused to eat it. He said: 'I do not know, perhaps it is descended from one of the generations who were transformed."'

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک گوہ لائی گئی تو آپ ﷺ نے اسے کھانے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا: میں نہیں جانتا شاید کہ یہ ان قوموں میں سےہو جن کو مسخ کردیا گیا تھا۔


وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا ، عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ: لاَ تَطْعَمُوهُ وَقَذِرَهُ ، وَقَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، فَإِنَّمَا طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ مِنْهُ ، وَلَوْ كَانَ عِنْدِي طَعِمْتُهُ.

It was narrated that Abu Az-Zubair said: "I asked Jabir about mastigure. He said: 'Do not eat it,' and he regarded it as repulsive. He said: 'Umar bin Al-Khattab said: 'The Prophet (s.a.w) did not prohibit it, and Allah has benefited more than one person by it. It is the food of most shepherds, and if I had some with me I would eat it."'

حضرت ابوزبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے گوہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: تم اسے مت کھاؤ اور فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس گوہ کو حرام نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالی نے اس کے ذریعے بہت ساروں کو نفع پہنچاتا ہے اور عام چرواہوں کی غذا بھی یہی ہے، اوراگر گوہ میرے پاس ہوتی تو میں اس کو کھاتا۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ ، أَوْ فَمَا تُفْتِينَا ؟ قَالَ: ذُكِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ ، فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ ، قَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ ، وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ هَذِهِ الرِّعَاءِ ، وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ ، إِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated that Abu Sa'eed said: "A man said: 'O Messenger of Allah, we live in a land that abounds in mastigures. What do you command us to do? Or what is your ruling to us? 'He said: 'I have been told that a group of the Children of Israel was transformed,' and he did not command or forbid." Abu Sa'eed said: "After that, 'Umar said: 'Allah (Glorified and Exalted is He) has benefited more than one person by it, and it is the food of most shepherds. If I had some with me, I would eat it. It was just that the Messenger of Allah (s.a.w) had an aversion to it.'"

حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! ہم ایک ایسی زمین میں رہتے ہیں کہ جہاں گوہ بہت کثرت سے پائی جاتی ہے تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ یا یہ کہا: آپ کیا فتوی دیتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے بتایا گیا کہ بنی اسرائیل کی ایک قوم کو مسخ کرکے گوہ بنادیا ، تو آپﷺنے مجھے گوہ کھانے کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی اس سے منع کیا ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالی اس کے ذریعے سے بہت ساروں کو نفع دیتا ہے اور عام چرواہوں کی غذا بھی یہی جانور ہے اگر وہ میرے پاس ہوتی تو میں اس سےضرور کھاتا، رسول اللہﷺنے تو صرف اس سے کراہت کا اظہار کیا۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي فِي غَائِطٍ مَضَبَّةٍ ، وَإِنَّهُ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي ؟ قَالَ : فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَقُلْنَا : عَاوِدْهُ ، فَعَاوَدَهُ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ثَلاَثًا ، ثُمَّ نَادَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ ، فَقَالَ : يَا أَعْرَابِيُّ ، إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ ، أَوْ غَضِبَ ، عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمَسَخَهُمْ دَوَابَّ ، يَدِبُّونَ فِي الأَرْضِ ، فَلاَ أَدْرِي ، لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا ، فَلَسْتُ آكُلُهَا ، وَلاَ أَنْهَى عَنْهَا.

It was narrated from Abu Sa'eed that a Bedouin came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: "I live in a low land that abounds in mastigures, and they are the main food of my people." He (s.a.w) did not answer him and we said: "Ask him again." He asked him again and he did not answer him, three times. Then the Messenger of Allah (s.a.w) called out to him the third time and said: "O Bedouin, Allah cursed or became angry with a tribe of the Children of Israel, and He transformed them into animals that move on the earth, and I do not know, perhaps these are descended from them. So I do not eat it but I do not forbid it."

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: میں ایک ایسے نشیبی علاقہ میں رہتا ہوں کہ جہاں گوہ بکثرت پائی جاتی ہیں ، اور میرے گھروالوں کی عام غذا یہی ہے ، تو آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، ہم نے اس دیہاتی سے کہا: دوبارہ عرض کرو، اس نے دوبارہ عرض کیا تو آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا پھر رسول اللہ ﷺ نے تیسری مرتبہ اسے آواز دی اور فرمایا: اے دیہاتی اللہ نے بنو اسرائیل کی ایک جماعت پر لعنت فرمائی یا غصہ کیا تو ان کو مسخ کر کے جانور بنا دیا جو زمین میں پھرتے ہیں اور میں نہیں جانتا ہو سکتا ہے کہ شاید یہ گوہ بھی انہی جانوروں میں سے ہو اس لئے نہ تو میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے کھانے سے منع کرتا ہوں ۔

Chapter No: 8

باب إِبَاحَةِ الْجَرَادِ

The permissibility of eating locusts

ٹڈی کھانے کا جواز

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ.

It was narrated that 'Abdullah bin Abi Awfa said: "We went on seven campaigns with the Messenger of Allah (s.a.w) during which we ate locusts."

حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺکے ساتھ سات غزوات کئے جس میں ہم ٹڈیاں کھاتے رہے ۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: سَبْعَ غَزَوَاتٍ ، وقَالَ إِسْحَاقُ: سِتَّ ، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: سِتَّ ، أَوْ سَبْعَ.

It was narrated that Abu Ya'fur with this chain of narrators (a similar Hadith as no. 5045). Abu Bakr said in his report: "Seven campaigns." Ishaq said: "Six." Ibn Abi 'Umar said: "Six or seven."

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے اس میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے چھ یا سات غزوات کا ذکر کیا ۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ (ح) وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : سَبْعَ غَزَوَاتٍ.

It was narrated from Abu Ya'fur with this chain of narrators, and he said: "Seven campaigns."

ابویعفور نے اس حدیث کو اسی سند سے روایت کیا ہے ، اس میں سات غزوات کا ذکر ہے۔

Chapter No: 9

باب إِبَاحَةِ الأَرْنَبِ

The permissibility of eating rabbit

خرگوش کھانے کا جواز

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مَرَرْنَا فَاسْتَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ، فَسَعَوْا عَلَيْهِ فَلَغَبُوا ، قَالَ: فَسَعَيْتُ حَتَّى أَدْرَكْتُهَا ، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا ، فَبَعَثَ بِوَرِكِهَا وَفَخِذَيْهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهُ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "We passed by and chased a rabbit in Marr Az-Zahran. They ran after it but got tired, then I ran and caught it. I brought it to Abu Talhah, who slaughtered it, and he sent its haunch and two hind legs to the Messenger of Allah (s.a.w). I brought it to the Messenger of Allah (s.a.w) and he accepted it."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم جا رہے تھے اور مر الظہران کے مقام پر ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا ، لوگ دوڑے اور تھک گئے ، پھر میں دوڑا یہاں تک کہ میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو حضرت ابو طلحہ کے پاس لایا ، انہوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کی سرین اور دو رانیں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں بھیجیں ، میں ان کو لے کر رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپﷺنے ان کو قبول کرلیا۔


وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ (ح) وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى : بِوَرِكِهَا ، أَوْ فَخِذَيْهَا.

It was narrated from Shu'bah with this chain (a similar Hadith as no. 5048). In the Hadith of Yahya it says: "Its haunch or its hind legs."

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے ، اس میں سرین اور رانوں کو کلمہ شک کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

Chapter No: 10

باب إِبَاحَةِ مَا يُسْتَعَانُ بِهِ عَلَى الاِصْطِيَادِ وَالْعَدُوِّ وَكَرَاهَةِ الْخَذْفِ

The permissibility of using those things which are useful for hunting and chasing the enemy, but it is disliked to use small pebbles

شکار اور دوڑ میں مدد حاصل کرنے کا جواز اور کنکر پھینکنے کی کراہت

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ ، فَقَالَ لَهُ: لاَ تَخْذِفْ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ ، أَوْ قَالَ ، يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ ، فَإِنَّهُ لاَ يُصْطَادُ بِهِ الصَّيْدُ، وَلاَ يُنْكَأُ بِهِ الْعَدُوُّ ، وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ ، وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ ، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ ، فَقَالَ لَهُ: أُخْبِرُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ ، أَوْ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ ، لاَ أُكَلِّمُكَ كَلِمَةً كَذَا وَكَذَا.

It was narrated that Ibn Buraidah said: "Abdullah bin Al-Mughaffal saw one of his companions throwing small pebbles and he said to him: 'Do not throw small pebbles, for the Messenger of Allah (s.a.w) disliked - or forbade - the throwing of small pebbles, for no game is caught thereby and no enemy is defeated; it just breaks a tooth or puts out an eye.' Then he saw him throwing small pebbles again after that and he said to him: 'I tell you that the Messenger of Allah (s.a.w) used to dislike - or forbid - the throwing of small pebbles, then I see you throwing small pebbles! I will never speak to you again!"'

ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کو کنکر پھینکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: کنکر مت پھینکو، کیونکہ رسو ل اللہﷺاس کو ناپسند فرماتے ہیں یا فرمایا: رسول اللہﷺکنکر پھینکنے سے منع کرتے تھے کیونکہ کنکر سے کسی چیز کو شکار نہیں کیا جاتا ، اور نہ ہی اس سے دشمن کو ہلاک کیا جاتا ہے ، صرف یہ دانت توڑتا ہے اور آنکھ پھوڑتا ہے ، پھر عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اس کو کنکر پھنکتے ہوئے دیکھا تو کہا: میں نے تم کو بتایا تھا کہ رسول اللہﷺ اس کو ناپسند کرتے تھے ، یا کہا تھا: آپﷺکنکر پھنکنے سے منع کرتے تھے ، پھر میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم کنکر پھینک رہے ہو ، میں اتنی مدت تک تم سے بات نہیں کروں گا۔


حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

'Uthman bin 'Umar narrated: "Kahmas narrated a similar report (as no. 5050) with this chain of narrators.''

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ. قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ : وَقَالَ : إِنَّهُ لاَ يَنْكَأُ الْعَدُوَّ ، وَلاَ يَقْتُلُ الصَّيْدَ ، وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ ، وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ. وقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ: إِنَّهَا لاَ تَنْكَأُ الْعَدُوَّ ، وَلَمْ يَذْكُرْ یَفْقَأُ الْعَيْنَ.

It was narrated that 'Abdullah bin Al-Mughaffal said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade the throwing of small pebbles." Ibn Ja'far said in his Hadith: "It does not kill (or hurt) the enemy or kill the game, rather it breaks a tooth or puts out an eye." Ibn Mahdi said: "It does not defeat the enemy." And he did not say: "It puts out an eye."

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے کنکر پھینکنے سے منع فرمایا ہے ، ابن جعفر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ یہ کنکر نہ دشمن کو مارتا ہے اور نہ ہی شکار کرتا ہے ، لیکن دانت توڑتا ہے اور آنکھ پھوڑتا ہے ، اور ابن مہدی نے کہا: یہ دشمن کو ہلاک نہیں کرتا ، اور انہوں نے (اپنی روایت میں) آنکھ پھوڑنے کا ذکر نہیں کیا۔


وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ ، قَالَ : فَنَهَاهُ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ ، وَقَالَ : إِنَّهَا لاَ تَصِيدُ صَيْدًا ، وَلاَ تَنْكَأُ عَدُوًّا ، وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ ، وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ ، قَالَ : فَعَادَ ، فَقَالَ : أُحَدِّثُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ، ثُمَّ تَخْذِفُ ، لاَ أُكَلِّمُكَ أَبَدًا.

It was narrated from Sa'eed bin Al-Jubair that a relative of 'Abdullah bin Al-Mughaffal threw small pebbles and he told him not to do that. He said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade the throwing of small pebbles and said: 'It does not kill the game or kill (or hurt) the enemy, rather it breaks a tooth or puts out an eye."' Then he did it again and he said: "I told you that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade it, then you throw small pebbles again. I will never speak to you."

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے کسی قریبی رشتہ دار نے کنکر پھینکا، انہوں نے اس کو منع کیا ، اور کہا: رسول اللہﷺنے کنکر پھینکنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ کنکر نہ تو کسی جانور کو شکار کرتا ہے او رنہ ہی کسی دشمن کو ہلاک کرتا ہے ، لیکن وہ دانت توڑتا ہے اور آنکھ پھوڑتا ہے ۔ راوی کہتا ہے کہ اس آدمی نے دوبارہ کنکر مارا ، حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تم کو حدیث سنائی کہ رسو ل اللہﷺنے اس سے منع فرمایا ہے ، اور تم دوبارہ کنکر پھینک رہے ہو، میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 5053) was narrated from Ayyub with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

12