Sayings of the Messenger

 

باب مَعْرِفَةِ الْعِفَاصِ وَالوِكَاءِ وَحُكْمِ ضَالَةِ الْغَنَمِ وَالإِبِلِ

About remembering the features of one’s bag and its strap, and the ruling on the lost sheep and camel

تھیلا اور اس کی رسی کی پہچان رکھنے اور گمشدہ بکری اور اونٹ کے حکم کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِىِّ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ « اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ فَشَأْنَكَ بِهَا ». قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ « لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ». قَالَ فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ « مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ». قَالَ يَحْيَى أَحْسِبُ قَرَأْتُ عِفَاصَهَا

It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said: A man came to the Prophet (s.a.w) and asked about picking up lost items. He said: "Memorize the features of its bag and strap, and announce it for a year. Then if its owner comes (give it to him), otherwise it is yours." He said: What about a lost sheep? He (s.a.w) said: "It is either for you or your brother or for the wolf." He said: What about a lost camel? He (s.a.w) said: "What have you to do with it? It has its water supply and its feet, and it can come to the water and eat from the trees, until its master finds it."

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺکی خدمت میں ایک آدمی آیا اور گمشدہ چیز کے بارے میں سوال کیا ، آپﷺنے فرمایا: اس گمشدہ چیز کے باندھنے کی ڈوری اور اس کی پہچان کو یاد رکھو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر تو اس کا مالک آگیا تو ٹھیک ہے ورنہ اس کو تم رکھ لو۔ اس نے کہا: گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیے کی۔ اس نے کہا: اور گم شدہ اونٹ کا کیا حکم ہے ؟ تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ مشک ہے اور اس کا جوتا بھی اس کے ساتھ ہے ،وہ پانی پر جائے گا اور درختوں کے پتے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک آکر اس کو پکڑلے گا۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهْوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِىِّ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ « عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ». فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ « خُذْهَا فَإِنَّمَا هِىَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ». فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ - أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ - ثُمَّ قَالَ « مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ».

It was narrated from Zaid bin Khalid Al-Juhani that a man asked the Messenger of Allah (s.a.w) about picking up lost items. He (s.a.w) said: "Announce it for one year, then memorize the features of its strap and bag, then spend from it. Then if its owner comes, pay him back." He said: O Messenger of Allah, what about a lost sheep? He(s.a.w) said: "Take it, for it will be either for you, for your brother or for the wolf." He said: o Messenger of Allah, what about a lost camel? He (the narrator) said: The Messenger of Allah (s.a.w) became so angry that his cheeks turned red - or his face turned red - and he (s.a.w) said: "What have you to do with it? It has its feet and its water supply until its owner finds it."

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺسے گم شدہ چیز کے بارے میں سوال پوچھا تو آپﷺنے فرمایا: ایک سال تک اعلان کرو،پھر اس کے سر بند اور اس کی تھیلی کو پہچان کر یاد رکھو، پھر اس کو خرچ کرلو، اور اگر اس کا مالک آگیا تو اس کو دے دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: اس کو لے لو، وہ تمہاری ہے ، یا تمہارے بھائی کی ہے ، یا بھیڑے کی ہے ۔اس نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ! گم شدہ اونٹ کا کیا حکم ہے ؟ (یہ سن کر) رسول اللہﷺ غضب ناک ہوگئے یہاں تک کہ آپﷺکے رخسار سرخ ہوگئے یا آپﷺکا چہرہ سرخ ہوگیا ،پھر آپﷺنے فرمایا: تمہیں اونٹ کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا ہے ،اور مشک ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس سے آملے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَغَيْرُهُمْ أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ. قَالَ وَقَالَ عَمْرٌو فِى الْحَدِيثِ « فَإِذَا لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا ».

Rabi'ah bin 'Abdur-Rahman narrated a Hadith like that of Malik (no. 4498) with this chain, except that he added: A man came to the Messenger of Allah (s.a.w) when I was with him and asked him about picking up lost items. And he said: 'Amr said in the Hadith: (The Prophet (s.a.w) said:) "If no one comes looking for it, then spend it."

ایک اور سند سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اور اس میں ہے کہ رسول اللہﷺکے پاس ایک آدمی اس حال میں آیا کہ میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھا ، اور اس آدمی نے آپﷺسے گم شدہ چیز کے بارے میں پوچھا ، اور اس حدیث کے آخر میں یہ ہے کہ جب اس چیز کو کوئی مانگنے والا نہ آئے تو اس کو خرچ کر ڈالو۔


وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِى سُلَيْمَانُ - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِىَّ يَقُولُ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاحْمَارَّ وَجْهُهُ وَجَبِينُهُ وَغَضِبَ. وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ « ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ». « فَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا كَانَتْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ ».

Zaid bin Khalid Al-Juhani said: A man came to the Messenger of Allah (s.a.w)... and he mentioned a Hadith like that of Isma'il bin Ja'far (no. 4499), except that he said: His face and forehead turned red and he became angry. And after the words ...'Announce it for a year" he (the sub-narrator) added, "then if its owner does not come, it is a trust with you."

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکے پاس ایک آدمی آیا ، اس کے بعد بقیہ حدیث مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺکا چہرہ اور پیشانی سرخ ہوگئی اور آپﷺغضب ناک ہوئے اور اس کے بعد آپﷺنے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اور اگر اس کا مالک نہ آئے تو وہ چیز تمہارے پاس امانت رہےگی۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِىَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ أَوِ الْوَرِقِ فَقَالَ « اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاسْتَنْفِقْهَا وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ». وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ فَقَالَ « مَا لَكَ وَلَهَا دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا ». وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ فَقَالَ « خُذْهَا فَإِنَّمَا هِىَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ».

It was narrated from Yazid, the freed slave of Al-Munba'ith, that he heard Zaid bin Khalid Al-Juhani, the Companion of the Messenger of Allah (s.a.w), say: The Messenger of Allah (s.a.w) was asked about picking up lost gold and silver. He (s.a.w) said: "Memorize the features of its strap and bag, then announce it for one year. If you do not find [its owner] then spend it, but it is a trust with you. If some day its owner comes looking for it, then pay him back." And he asked him about a lost camel. He said: "What have you to do with it? Let it be, for it has its feet and water supply with it, and it seeks water and eats the trees, until its master finds it." And he asked him about a lost sheep. He said: "Take it, for it is either for you, for your brother or for the wolf."

رسول اللہﷺکے صحابی حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺسے سونے یا چاندی کے گم شدہ کے بارے میں سوال کیا ، آپﷺنے فرمایا: اس کا سر بند اور اس کی تھیلی کو پہچان کر یاد رکھو، اور اس کا ایک سال تک اعلان کرو، پھر بھی اگر وہ معلوم نہ ہوجائے ، تو تم اس کو خرچ کرو، لیکن وہ چیز تمہارے پاس امانت رہے گی ، پھر جب کسی دن اس کا مالک آجائے تو وہ چیز اس کو دے دو، پھر اس آدمی نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا ، آپﷺنے فرمایا: تمہارا اس سے کیا تعلق؟ اس کو چھوڑ دو ، کیونکہ اس کے ساتھ اس کی جوتی اور مشک ہے ، وہ پانی پر جائے گا اور درخت کے پتے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پالے گا ، پھر اس نے آپﷺسے بکری کے بارے میں پوچھا ، آپﷺنے فرمایا: اس کو لے لو، کیونکہ یا وہ تمہارے لیے ہے یا تمہارے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کےلیے ہے۔


وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَرَبِيعَةُ الرَّأْىِ بْنُ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِىِّ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ. زَادَ رَبِيعَةُ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ « فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ وَإِلاَّ فَهْىَ لَكَ ».

It was narrated from Yazid, the freed slave of Al-Munba'ith, from Zaid bin Khalid Al-Juhani, that a man asked the Prophet (s.a.w) about a lost camel. Rabi'ah added: He (s.a.w) became so angry that his cheeks turned red... and he quoted a Hadith similar to their (no. 4502), and added (that the Prophet (s.a.w) said:) "If its owner comes and recognizes its bag, amount and strap, then give it to him, otherwise it is yours."

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے گم شدہ اونٹ کے متعلق سوال کیا ، ربیعہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ نبیﷺغضب ناک ہوئے یہاں تک کہ آپﷺکے رخسار مبارک سرخ ہوگئے ، اور اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اگر اس کا مالک آجائے اور اس تھیلی کے عدد اور سربند کو پہچان لے تو وہ اس کو دے دو، ورنہ وہ تمہارے لیے ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِى النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِىِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ « عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ».

It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani said: The Messenger of Allah (s.a.w) was asked about picking up lost items. He said: "Announce it for one year, then if it is not recognized (i.e., claimed), memorize the features of its bag and strap, then consume it, but if its owner comes, pay it back."

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے گم شدہ چیز کے بارے میں سوال کیا گیا ، آپﷺنے فرمایا: اس کا ایک سال تک اعلان کرو، پھر بھی اگر وہ نہ پہچانی جائے تو اس کی تھیلی اور سربند کی پہچان کو یاد رکھو، پھر اس کو کھالو اور اگر اس کا مالک آئے تو وہ چیز اس کو ادا کردو۔


وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِىُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِى الْحَدِيثِ « فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا وَإِلاَّ فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ».

Ad-Dahhak bin 'Uthman narrated it with this chain (a Hadith similar to no. 4504), and he said in the Hadith: "If it is recognized, then pay it back, otherwise memorize the features of its strap, bag, container and amount."

ایک اور سند سے یہ روایت ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر وہ چیز پہچان لی جائے تو اس کو دے ددو ، ورنہ اس کےسربند اور اس کے عدد کی پہچان کرکے یاد رکھو۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ غَازِينَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ فَقَالاَ لِى دَعْهُ. فَقُلْتُ لاَ وَلَكِنِّى أُعَرِّفُهُ فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهُ وَإِلاَّ اسْتَمْتَعْتُ بِهِ. قَالَ فَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا قُضِىَ لِى أَنِّى حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِشَأْنِ السَّوْطِ وَبِقَوْلِهِمَا فَقَالَ إِنِّى وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « عَرِّفْهَا حَوْلاً ». قَالَ فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ. فَقَالَ « عَرِّفْهَا حَوْلاً ». فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ. فَقَالَ « عَرِّفْهَا حَوْلاً ». فَعَرَّفْتُهَا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا. فَقَالَ « احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ فَاسْتَمْتِعْ بِهَا ». فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا. فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ فَقَالَ لاَ أَدْرِى بِثَلاَثَةِ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلٍ وَاحِدٍ.

It was narrated that Salamah bin Kuhayl said: I heard Suwaid bin Ghafalah say: I went out with Zaid bin Suhan and Salman bin Rabi'ah on a campaign, and I found a whip and picked it up. They said to me: Leave it. I said: No, but I will announce it. If its owner comes (I will give it to him), otherwise I will make use of it. I refused (to pay heed to them). When we came back from our campaign, it was decreed that I would go for Hajj. I came to AI-Madinah and met Ubayy bin Ka'b, and I told him about the whip and what they had said. He said: At the time of the Messenger of Allah (s.a.w) I found a moneybag in which there was one hundred Dinar. I brought it to the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: "Announce it for one year." So I announced it, but no one came forward to claim it. I came to him again and he said: "Announce it for one year," but no one came forward to claim it. Then I came to him again and he said, "Announce it for one year." So I announced it, but no one came forward to claim it. Then he said: "Memorize its number, and the features of its bag and strap, then if its owner comes (give it to him), otherwise make use of it." So I made use of it. I met him in Makkah after that and he said: I do not know if it was three years or one year.

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور حضرت زید بن صوحان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاد کرنے کی غرض سے نکلے تو میں نے ایک چابک پڑا ہوا پایا ،میں نے اسے اٹھا لیا ، ان دونوں نے کہا: اسے چھوڑ دو میں نے کہا:نہیں ،میں اس کا اعلان کروں گا ،اگر تو اس کا مالک آ گیا تو ٹھیک ورنہ میں اس سے فائدہ اٹھاؤں گا،میں نے ان دونوں کی بات نہیں مانی ۔اور جب ہم جہاد سے واپس لوٹے تو میں خوش قسمتی سے حج کو چلا گیا ، پھر میں مدینہ آیا ،تو میری ملاقات حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان کو چابک اٹھانے اور ساتھیوں کے منع کرنے کا قصہ سنایا۔تو حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: رسول اللہﷺکے زمانہ میں مجھے ایک تھیلی ملی تھی جس میں سو دینار تھے میں اسے لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں آیا آپﷺ نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو تو جب اس کا شناخت کرنے والا کوئی نہ آیا، تو میں آپﷺ کے پاس آیا آپﷺنے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو تو جب اس کا شناخت کرنے والا کوئی نہ آیا،میں آپﷺکے پاس آیا ، آپ ﷺنے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو تو جب اس کا شناخت کرنے والا کوئی نہ آیا۔پھرآپﷺ نے فرمایا: اس کی گنتی ، اور اس تھیلی ، اور سربند کی شناخت کو یاد رکھو، اگر تو اس کا مالک آگیا تو ٹھیک ورنہ تم اس سے فائدہ حاصل کرو۔ پھر میں نے اس سے فائدہ حاصل کیا، سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میری حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے مکہ میں ملاقات ہوئی ، انہوں نے کہا: مجھے یاد نہیں تین سال تھے یا ایک سال۔


وَحَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِى سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ أَوْ أَخْبَرَ الْقَوْمَ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ فَاسْتَمْتَعْتُ بِهَا. قَالَ شُعْبَةُ فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ يَقُولُ عَرَّفَهَا عَامًا وَاحِدًا.

Suwaid bin Ghafalah said: I went out with Zaid bin Suhan and Salman bin Rabi'ah, and I found a whip... and he narrated a similar Hadith (as no. 4506), up to the words: so I made use of it. Shu'bah (a sub-narrator) said: And I heard him ten years later saying: I announced it for one year.

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ میں اور حضرت زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ ایک سفر پر گئے ، مجھے ایک چابک پڑا ہوا ملا، اس کے بعد "میں نےاس سے فائدہ اٹھایا" تک مذکورہ بالاحدیث کی طرح ہے ، شعبہ کہتے ہیں کہ میں دس سال بعد ان سے ملا تو وہ کہتے تھے ایک سال تک اعلان کرو۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّىُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ - يَعْنِى ابْنَ عَمْرٍو - عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ ح وَحَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ. وَفِى حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا ثَلاَثَةَ أَحْوَالٍ إِلاَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ فَإِنَّ فِى حَدِيثِهِ عَامَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً. وَفِى حَدِيثِ سُفْيَانَ وَزَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ « فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِعَدَدِهَا وَوِعَائِهَا وَوِكَائِهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ ». وَزَادَ سُفْيَانُ فِى رِوَايَةِ وَكِيعٍ « وَإِلاَّ فَهِىَ كَسَبِيلِ مَالِكَ ». وَفِى رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ « وَإِلاَّ فَاسْتَمْتِعْ بِهَا ».

A Hadith like that of Shu'bah (no. 4507) was narrated from Salamah bin Kuhayl with this chain. In the Hadith of both of them it says: three years, except for Hammad bin Salamah, in whose Hadith it says: for two or three years. In the Hadith of Salman and Zaid bin Abi Unaysah and Hammad bin Salamah it says: "If someone comes and describes to you its number, its bag and its strap, then give it to him." Sufyan added in the report of Waki': "Otherwise, it is like your own property." In the report of Ibn Numair it says: "Otherwise, make use of it."

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی چار سندیں بیان کی ہیں ، حماد بن سلمہ کی روایت کے علاوہ تمام روایات میں تین سال تک اعلان کرنے کا ذکر ہے اور حماد کی روایت میں دو سال یا تین سال کا ذکر ہے اور سفیان اور زید بن ابی انیسہ او رحماد بن سلمہ کی روایت میں ہے کہ اگر کوئی آدمی آئے ، اور وہ اس چیز کی تعداد، تھیلی اور سربند کی پہچان بتلائے تو تم اس کو وہ چیز دے دو اور وکیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ورنہ وہ پھر تمہارے مال کی طرح ہے او رابن نمیر کی روایت میں ہے کہ ورنہ پھر تم اس سے نفع حاصل کرو۔

Chapter No: 1

باب فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ

Concerning the stray things of the pilgrims

حاجیوں کی گری ہوئی چیز اٹھانے کا حکم

حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ.

It was narrated from 'Abdur-Rahman bin 'Uthman At-Taimi that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade picking up property lost by a pilgrim.

حضرت عبد الرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے حاجیوں کی گری پڑی چیز اٹھانے سے منع فرمایا ہے ۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ أَبِى سَالِمٍ الْجَيْشَانِىِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِىِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا ».

It was narrated from Zaid bin Khalid Al-Juhani that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever finds a lost item is himself lost, unless he announces it."

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: جس آدمی نے کسی گم شدہ چیز کو رکھ لیا تو وہ آدمی گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کا اعلان نہ کرے۔

Chapter No: 2

باب تَحْرِيمِ حَلْبِ الْمَاشِيَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ مَالِكِهَا

The forbiddance of milking a walking animal without the owner’s permission

مالک کی اجازت کے بغیر دودھ دوہنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ إِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ فَلاَ يَحْلُبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِهِ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: No one should milk the animals of another person without his permission. Would one of you like his store to be raided and his vessels to be broken into and his food to be taken? The udders of their livestock also store up food for them, so no one should milk the animals of another person without his permission."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص دوسرے کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ، کیا تم میں سے کوئی آدمی اس کوپسند کرتا ہے کہ اس کی کوٹھڑی میں گھسا جائے ، اس کا خزانہ توڑا جائے ،اور اس کا کھانا نکال لیا جائے کیونکہ جانوروں کے تھنوں میں ان کا کھانا جمع کیا جاتا ہے تو کوئی آدمی کسی جانور کا دودھ اسکی اجازت کے بغیر نہ دوہے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنِى أَبِى كِلاَهُمَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنِى ابْنَ عُلَيَّةَ - جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُوسَى كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّ فِى حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا « فَيُنْتَثَلَ ». إِلاَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ فَإِنَّ فِى حَدِيثِهِ « فَيُنْتَقَلَ طَعَامُهُ ». كَرِوَايَةِ مَالِكٍ.

A Hadith like that of Malik (no. 4511) was narrated from Nafi' from Ibn 'Umar, from the Prophet (s.a.w), except that in their Hadith it says: "...to be thrown on the floor," except for Al-Laith bin Sa'd, in whose Hadith it says: "...or his food to be taken," as in the report of Malik.

یہ حدیث سات سندوں سے مروی ہے او رلیث بن سعد کی روایت کے سوا تمام روایتوں میں فینتقل کا لفظ ہے اور اس کی روایت میں فینتقل طعامہ کا لفظ ہے۔

Chapter No: 3

باب الضِّيَافَةِ وَنَحْوِهَا

Regarding the hospitality and the like

مہمان نوازی وغیرہ کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ أَبِى شُرَيْحٍ الْعَدَوِىِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعَتْ أُذُنَاىَ وَأَبْصَرَتْ عَيْنَاىَ حِينَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ ». قَالُوا وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ وَالضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ - وَقَالَ - مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ».

It was narrated that Abu Shurayh Al-'Adawi said: My ears heard and my eyes saw, when the Messenger of Allah (s.a.w) spoke and said: "Whoever believes in Allah and the Last Day, let him honor his guest with full hospitality." They said: What is full hospitality, O Messenger of Allah? He said: "One day and one night, and hospitality is for three days, and anything beyond that is charity towards him." And he (s.a.w) said: "Whoever believes in Allah and the Last Day, let him speak well or else remain silent."

حضرت ابوشریح عدوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جس وقت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو آدمی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے مہمان عزت کرے اور اس کی خاطر تواضع کرے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! مہمان کی خاطر تواضع کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :ایک دن اور ایک رات اور تین دنوں تک اس کی مہمان نوازی کرے اس کے بعد وہ اس پر صدقہ ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اللہ پر آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ أَبِى شُرَيْحٍ الْخُزَاعِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلاَ يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ قَالَ « يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلاَ شَىْءَ لَهُ يَقْرِيهِ بِهِ ».

It was narrated that Abu Shurayh Al-Khuza'i said: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Hospitality is for three days, and full hospitality is for one day and one night. It is not permissible for a Muslim man to stay with his brother until he causes him to sin." They said: o Messenger of Allah, how could he cause him to sin? He said: "When he stays with him until there is nothing left with which to entertain him."

حضرت ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہمان نوازی تین دن تک ہے ، اور اس کی خاطر تواضع ایک دن ایک رات تک ہے،اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کے پاس اتنی دیر ٹھہرے کہ اس کو گناہ گار کردے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ!وہ اس کو کیسے گناہ گار کرے گا؟ آپﷺنے فرمایا: ایک آدمی کسی کے ہاں (اتنی دیر) ٹھہرے کہ ا س کے پاس مہمان نوازی کے لیے کچھ نہ رہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ - يَعْنِى الْحَنَفِىَّ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِىُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا شُرَيْحٍ الْخُزَاعِىَّ يَقُولُ سَمِعَتْ أُذُنَاىَ وَبَصُرَ عَيْنِى وَوَعَاهُ قَلْبِى حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَذَكَرَ فِيهِ « وَلاَ يَحِلُّ لأَحَدِكُمْ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ ». بِمِثْلِ مَا فِى حَدِيثِ وَكِيعٍ.

Abu Shurayh Al-Khuza'i said: My ears heard, my eyes saw and my heart understood, when the Messenger of Allah (s.a.w) spoke of it... and he narrated a Hadith like that of Al-Laith (no. 4513), in which he said: "It is not permissible for any one of you to stay with his brother until he causes him to sin," as in the Hadith of Waki' (no.4514).

حضرت ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے کانوں نے سنا ، اور میری آنکھوں نے دیکھا ، اور میرے دل نے یاد رکھا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے،اور اس میں یہ ہے کہ تم میں سے کسی آدمی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے پاس اتنی دیر ٹھہرے کہ اس کو گناہ گار کردے ، جیسا کہ وکیع کی روایت میں ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ أَبِى الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلاَ يَقْرُونَنَا فَمَا تَرَى فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِى لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِى يَنْبَغِى لَهُمْ ».

It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir said: We said: O Messenger of Allah, you send us and we stay with people who do not show us hospitality. What do you think? The Messenger of Allah (s.a.w) said to us: "If you stay with a people and they order that you be offered what is befitting to a guest, then accept it, and if they do not do that, then take from them the right of a guest that is due to him."

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! آپ ہمیں کسی جگہ بھیجتے ہیں ، پھر ہم کسی قوم کے پاس ٹھہرتے ہیں اور وہ ہماری ضیافت نہیں کرتے ،تواس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب تم کسی قوم کے پاس ٹھہرو اور وہ تمہاری ایسی ضیافت کریں جیسے کہ ایک مہمان کی ضیافت کی جاتی ہے تو اس کو قبول کرلو، اور اگر وہ تمہاری ایسی ضیافت نہ کریں تو ان سے اس قدر ضیافت کا سامان وصول کرلو جتنا ان پر ایک مہمان کا حق ہے۔

Chapter No: 4

بابُ اسْتِحْبَابِ الْمُؤَاسَاةِ بِفُضُولِ الْمَالِ

The recommendation of spending surplus wealth (on one’s brother)

زائد مال کو مسلمانوں کی خیرخواہی میں خرچ کرنے کا استحباب

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ عَنْ أَبِى نَضْرَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِى سَفَرٍ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ لَهُ قَالَ فَجَعَلَ يَصْرِفُ بَصَرَهُ يَمِينًا وَشِمَالاً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَ مَعَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لاَ ظَهْرَ لَهُ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لاَ زَادَ لَهُ ». قَالَ فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لاَ حَقَّ لأَحَدٍ مِنَّا فِى فَضْلٍ.

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: Whilst we were on a journey with the Prophet (s.a.w), a man came to him on a mount of his and started looking to his right and left. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever has a surplus mount, let him give it to one who has no mount, and whoever has surplus provisions, let him give them to one who has no provisions." He mentioned various kinds of wealth, until we thought that none of us had any right to any kind of surplus.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ سفر میں جارہے تھے ، اچانک ایک آدمی اونٹنی پر سوار ہوکر آیا اور دائیں بائیں گھورنے لگا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: جس آدمی کے پاس فالتو سواری ہو وہ فالتو سواری اس شخص کو دے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس شخص کے پاس فالتو زاد راہ ہے وہ اس کو زاد راہ دے جس کے پاس زاد راہ نہیں ہے ،پھر رسول اللہﷺنے مال کی اقسام اتنی تفصیل سے بیان کیں کہ یوں لگتا تھا کہ ہم میں سے کسی کا اپنی فالتو چیز میں حق نہیں ہے۔

Chapter No: 5

باب اسْتِحْبَابِ خَلْطِ الأَزْوَادِ إِذَا قَلَّتْ وَالْمُؤَاسَاةِ فِيهَا

The recommendation of combining and sharing the provisions if they are short

جب کمی ہوتو سب کے زاد راہ کو ملادینے اور آپ میں غم گساری کرنے کا استحباب

حَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ - يَعْنِى ابْنَ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِىَّ - حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى غَزْوَةٍ فَأَصَابَنَا جَهْدٌ حَتَّى هَمَمْنَا أَنْ نَنْحَرَ بَعْضَ ظَهْرِنَا فَأَمَرَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجَمَعْنَا مَزَاوِدَنَا فَبَسَطْنَا لَهُ نِطَعًا فَاجْتَمَعَ زَادُ الْقَوْمِ عَلَى النِّطَعِ قَالَ فَتَطَاوَلْتُ لأَحْزُرَهُ كَمْ هُوَ فَحَزَرْتُهُ كَرَبْضَةِ الْعَنْزِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ حَشَوْنَا جُرُبَنَا فَقَالَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَهَلْ مِنْ وَضُوءٍ ». قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ بِإِدَاوَةٍ لَهُ فِيهَا نُطْفَةٌ فَأَفْرَغَهَا فِى قَدَحٍ فَتَوَضَّأْنَا كُلُّنَا نُدَغْفِقُهُ دَغْفَقَةً أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً. قَالَ ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةٌ فَقَالُوا هَلْ مِنْ طَهُورٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَرِغَ الْوَضُوءُ ».

Iyas bin Salamah narrated that his father said: We went out with the Messenger of Allah (s.a.w) on a campaign, and we faced hardship, so much so that we thought of slaughtering some of our mounts. The Prophet of Allah (s.a.w) ordered us to gather together our provisions, then we spread out a sheet of leather and he gathered together the people's provisions on that leather sheet. I measured it and found that it was the size of a spot where a goat could sit, and we were fourteen hundred men. We ate until we were all had our hunger satisfied, then we filled our bags. The Prophet of Allah (s.a.w) said: "Is there any water for Wudu'?" A man brought a small bucket in which there was a drop of water, and poured it into a bowl. We all did Wudu', using water plentifully, fourteen hundred men. Then after that eight men came and said: Is there any water for Wudu '? And the Messenger of Allah (s.a.w) said: "(The water for) Wudu' is finished."

ایاس بن سلمہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک جنگ میں گئے وہاں ہم کو تنگی کی شکایت ہوئی یہاں تک کہ ہم نے اپنی بعض سواریوں کو ذبح کرنے کا ارادہ کرلیا،تب اللہ کے نبیﷺنے یہ حکم دیا کہ ہم اپنے اپنے زاد راہ کو جمع کریں ، پھر ایک چمڑے کا دسترخوان بچھایا گیا جس پر سب کے زاد راہ جمع کیے گئے ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں اس چمڑے کے ٹکڑے کا اندازہ کرنے کے لیے آگے بڑھا تو میرے اندازے کے مطابق وہ ایک بکری کے بیٹھنے کی جگہ کے برابر تھا ، اس وقت لشکر میں ہم چودہ سو تھے ، ہم سب نے ا س کھانے کوکھایا یہاں تک کہ ہم سیر ہوگئے ، پھر ہم نے اپنے کھانے کے تھیلوں کو بھرلیا۔ نبیﷺنے فرمایا: کیا وضو کا پانی ہے ؟ ایک آدمی لوٹے میں تھوڑا سا پانی لے کر آیا ، آپﷺنے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈال دیا ، اور ہم سب نے اس سے اچھی طرح وضو کیا ، اور چودہ سو آدمیوں نے خوب اچھی طرح پانی بہایا ، پھر اس کے بعد آٹھ آدمی آئے اور پوچھا : کیا وضو کا پانی ہے ؟ تو رسول اللہﷺنے فرمایا: وضو سے فراغت ہوچکی ہے۔