Sayings of the Messenger

 

123Last ›

Chapter No: 1

باب مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ وَمَا لاَ يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ

Concerning what is permissible for Muhrim (wearer of Ihram) during the Hajj or Umrah and what is not permissible, and the clarification about the forbiddance of perfume for him

اس بات کا بیان کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کیا چیز جائز ہے اور کیا نا جائز ہے؟اور اس پر خوشبو کے حرام ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ الْبَرَانِسَ وَلاَ الْخِفَافَ إِلاَّ أَحَدٌ لاَ يَجِدُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلاَ تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلاَ الْوَرْسُ ».

It was narrated from Ibn Umar [May Allah be pleased with them] that man asked from Messenger of Allah (SAW): “What clothes may the Muhrim wear?” The Messenger of Allah (SAW) said: “Do not wear shirts, turbans, trousers, burnoose or Khuff, except for one who cannot find sandals, in which case he may wear Khuff but he should cut them (so that they come) lower than ankles. And do not wear any clothes that have been dyed with saffron or Wars.”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ محرم کس طرح کا لباس پہنے؟تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا : قمیض نہ پہنو، اور عمامہ مت باندھو، اور نہ ہی شلواریں پہنو، نہ ٹوپیاں اوڑھو، اور نہ موزے پہنو۔ ہاں اگر کسی کے پاس جوتی نہ ہو تو وہ موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہن سکتا ہے ۔اور ایسا لباس بھی مت پہنو جس میں زعفران اور ورس (ایک خوشبودار گھاس) ہو۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ - رضى الله عنه - قَالَ سُئِلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ قَالَ « لاَ يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ وَلاَ الْعِمَامَةَ وَلاَ الْبُرْنُسَ وَلاَ السَّرَاوِيلَ وَلاَ ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلاَ زَعْفَرَانٌ وَلاَ الْخُفَّيْنِ إِلاَّ أَنْ لاَ يَجِدَ نَعْلَيْنِ فَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ».

It was narrated from Salim that his father [May Allah be pleased with them] said: “The Prophet (SAW) was asked: ‘What may the pilgrim in Ihram wear?’ He said: ‘The pilgrim in Ihram should not wear a shirt, or a turban, or a burnoose, or a trouser, or any garment that has been dyed with wars or saffron, or Khuff, unless he cannot find any sandals, in which case he should cut them, so that they came lower than ankles.’”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺسے پوچھا گیا کہ محرم کس طرح کا لباس پہنے؟ آپ ﷺنے فرمایا احرام والا نہ قمیض پہنے اور نہ عمامہ باندھے اور نہ ٹوپی اور نہ ہی شلوار اور نہ ہی ایسا کپڑا جس کو ورس اور زعفران لگا ہو اور نہ ہی موزے سوائے اس کے کہ اگر کوئی جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے مگر ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ وَقَالَ « مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ».

It was narrated from Ibn Umar [May Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) forbade the pilgrim in Ihram to wear nay garment dyed with saffron or Wars, and he said: ‘Whoever cannot find any sandals, let him wear Khuff, and cut them (so that they come) lower than the ankles.’”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے احرام باندھنے والے کو زعفران یا ورس رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع کیا اور فرمایا جو آدمی جو تیاں نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور ان موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ - عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ « السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ ». يَعْنِى الْمُحْرِمَ.

It was narrated from Ibn Abbas [May Allah be pleased with them] said: “When delivering a Khutbah, I heard the Messenger of Allah (SAW) said: ‘Trousers, for the one who cannot find Izar, and Khuff, for the one who cannot find sandals’- referring to the pilgrim in the Ihram.”

حضرب ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ ﷺفرماتے ہیں جس شخص کو چادر نہ ملے وہ شلوار پہن لے اور جس کو جوتیاں نہ ملیں وہ موزے پہن لے ۔ یعنی احرام والا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِى ابْنَ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو غَسَّانَ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ. فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ.

It was narrated from Amr bin Dinar with this chain that he (Ibn Abbas) heard the Prophet (SAW) deliver a Khutbah in Arafat, and he mentioned this Hadith (a Hadith similar to no.2794).

ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے مگر اس میں آپﷺعرفات میں خطبہ دے رہے تھے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ. غَيْرُ شُعْبَةَ وَحْدَهُ.

It was narrated from Amr bin Dinar with this chain (a hadith similar to no.2794), but none of them (the narrators) mention that he was delivering a Khutbah in Arafat, except Shubah alone.

ایک اور دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے مگر اس میں شعبہ کے علاوہ کسی اور نے عرفات کے میدان میں خطبہ کا ذکر نہیں کیا۔


وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ ».

It was narrated that Jabir [May Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘’Whoever cannot find any sandals, let him wear Khuff, and whoever cannot find an Izar, let him wear trousers.”

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی جو تیاں نہ پائے وہ موزے پہن لے اور جو آدمی چادر نہ پائے وہ شلوار پہن لے۔


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ - رضى الله عنه - قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهَا خَلُوقٌ - أَوْ قَالَ أَثَرُ صُفْرَةٍ - فَقَالَ كَيْفَ تَأْمُرُنِى أَنْ أَصْنَعَ فِى عُمْرَتِى قَالَ وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- الْوَحْىُ فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ وَدِدْتُ أَنِّى أَرَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَقَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ - قَالَ - فَقَالَ أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ قَالَ فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ لَهُ غَطِيطٌ - قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ - كَغَطِيطِ الْبَكْرِ - قَالَ - فَلَمَّا سُرِّىَ عَنْهُ قَالَ « أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ - أَوْ قَالَ أَثَرَ الْخَلُوقِ - وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ وَاصْنَعْ فِى عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صَانِعٌ فِى حَجِّكَ ».

It was narrated from Safwan bin Yala bin Munyah that his father [May Allah be pleased with them] said: “A man came to Prophet (SAW) wearing a Jubbah on which was some Khaluq (a kind of perfume)” – or he said: ‘Traces of Sufrah – while he was at Al-Jiranah.’ He said: ‘What do you command me to do during my Umrah?’ the Revelation came upon on Prophet (SAW) so he was covered with a garment. Yala used to say: “I wish that I could see the Prophet (SAW) when the Revelation comes upon him.” “He (Umar bin Khattab) said: ‘Would you like to see the Prophet (SAW) when the revelation has come upon him?’ ‘Umar lifted the edge of the garment and I saw him breathing deeply.’ “When it was over, he (SAW) said: ‘Where is the one who was asking about Umrah? Wash the traces of Sufrah ’- or he said: ‘the traces of Khaluq – from you and take off your Jubbah, and do in your Umrah what you would do in your Hajj.’”

حضرت یعلی بن امیۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آپﷺکی خدمت میں آیا اس وقت آپﷺجعرانہ مقام میں تھے اس آدمی نے جبہ پہنا ہوا تھا جس پر کچھ خوشبو لگی ہوئی تھی یا کچھ زردی کا اثر تھا۔اس نے عرض کیا اللہ کے رسول آپ ﷺمجھے کیا حکم فرماتے ہیں کہ میں عمرہ میں کیا کروں؟ اور نبی ﷺپر اس وقت وحی نازل ہونا شروع ہوئی اور آپﷺ کو کپڑے سے پردہ کیا گیا۔ اور یعلی کہتے ہیں کہ میں چاہتا تھا کہ میں دیکھوں کہ نبی ﷺپر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ تم نبی ﷺکی وحی نازل ہونے کی کیفیت دیکھو یہ فرما کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کپڑے کا ایک کنارہ ہٹا دیا تو میں نے آپ ﷺکی طرف دیکھا کہ آپ ﷺخراٹے لے رہے ہیں راوی کہتا ہے کہ میراگمان ہے کہ وہ آواز اونٹ کے خراٹوں کی تھی جب وحی منقطع ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا کہ وہ عمرہ کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ وہ حاضر ہوا تو آپ ﷺنے اس سے فرمایا کہ خوشبو کے نشان دھو ڈالو اور جبہ اتار دو اور عمرہ میں اسی طرح کرو جس طرح تم حج کرتے ہو۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَأَنَا عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ - يَعْنِى جُبَّةً - وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ فَقَالَ إِنِّى أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَىَّ هَذَا وَأَنَا مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ. فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « مَا كُنْتَ صَانِعًا فِى حَجِّكَ ». قَالَ أَنْزِعُ عَنِّى هَذِهِ الثِّيَابَ وَأَغْسِلُ عَنِّى هَذَا الْخَلُوقَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « مَا كُنْتَ صَانِعًا فِى حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِى عُمْرَتِكَ ».

It was narrated from Safwan bin Yala that his father [May Allah be pleased with them] said: “A man came to Prophet (SAW) wearing a Jubbah and perfumed with Khaluq, when he was in Al-Jiranah, and I was with the Prophet (SAW). He said: “I have entered Ihram from Umrah wearing this, and I have perfumed myself with Khaluq.” The Prophet (SAW) said to him: ‘What would you do in your Hajj?’ he said: ‘I would take off this garment and wash off this Khaluq.’ The Prophet (SAW) said to him: ‘What you would do in your Hajj, do in your Umrah.’

حضرت صفوان بن یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺکی خدمت میں آیا اور آپ جعرانہ میں تھے اور میں بھی نبی ﷺکے پاس تھا اور اس آدمی کے اوپر ایک جبہ تھا اور اس کو خوشبو لگی ہوئی تھی اس آدمی نے عرض کیا کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور مجھ پر جبہ ہے اور اس پر خوشبو بھی لگی ہوئی ہے تو نبی ﷺنے اس آدمی سے فرمایا: جو کچھ حج میں کرتے ہو وہ کر۔ اس نے عرض کیامیں کیا یہ کپڑے اتار دوں اور ان سے خوشبو دھو ڈالوں! تو نبی ﷺنے اس سے فرمایاجو تو اپنے حج میں کرتا تھا وہی اپنے عمر میں بھی کر۔


حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ خَشْرَمٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عِيسَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - لَيْتَنِى أَرَى نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ. فَلَمَّا كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ عَلَيْهِ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِى رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِى جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ فَجَاءَهُ الْوَحْىُ فَأَشَارَ عُمَرُ بِيَدِهِ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ تَعَالَ. فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّىَ عَنْهُ فَقَالَ « أَيْنَ الَّذِى سَأَلَنِى عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا ». فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِىءَ بِهِ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَمَّا الطِّيبُ الَّذِى بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِى عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِى حَجِّكَ ».

Safwan bin Yala bin Umayyah narrated that Yala used to say to Umar bin Al-Khattab [May Allah be pleased with them]: “Would that I could see the Prophet of Allah (SAW) while the Revelation comes to him.” When the Prophet (SAW) was at Al-Jiranah, and there was a cloth over the Prophet (SAW) with which he was being shaded, and some of his Companions, including Umar, were with him, a man came to him wearing a woolen Jubbah that was daubed with perfume. He said: “O Messenger of Allah (SAW), what do you think of a man who enters Ihram for Umrah wearing Jubbah after daubing it with perfume?” The Prophet (SAW) looked at him for a moment, and then he fell silent. The Revelation came to him and Umar gestured to Yala bin Umayyah, telling him to come. Yala came, and he put his head in, and he saw the Prophet (SAW) red in the face and breathing deeply. Then he was relieved of that and he said: “Where is the one who asked me about Umrah just now?” The man was sought, and brought, and Prophet (SAW) said: “As for the perfume that is on you, wash it off three times, and as for the Jubbah, take it off, then do in your Umrah what you would do in your Hajj.”

حضرت ا بن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے عطاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ صفوان بن یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں خبر دیتے ہیں کہ یعلی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تھا کہ کاش کہ میں نبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھوں جس وقت کہ آپ ﷺپر وحی کا نزول ہوتا ہے تو جب نبی ﷺجعرانہ کے مقام میں تھے اور نبی ﷺپر ایک کپڑے سے سایہ کردیا گیا تھا اور آپ ﷺکے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے بھی کچھ لوگ آپ ﷺکے ساتھ تھے ان میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس پر خوشبو لگا ہوا جبہ تھا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ایسے آدمی کے بارے میں آپ ﷺکا کیا حکم ہے کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور اس نے ایسا جبہ بھی پہنا ہوجس پر خوشبو لگا ہوا ہو ۔ نبی ﷺنے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا پھر آپ ﷺخاموش رہے پھر آپ ﷺپر وحی آنا شروع ہوگئی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ہاتھ سے یعلی بن امیہ کی طرف اشارہ کیا یعلی فورا آگئے اور کپڑے میں سر ڈال کر دیکھا کہ نبی ﷺکا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا ہے اور آپ ﷺزور زور سے سانس لے رہے ہیں کچھ دیر بعد جب وحی کی کیفیت جاتی رہی تو آپ ﷺنے فرمایا کہ وہ کہاں ہے جس نے مجھ سے عمرہ کے بارے میں پوچھا تھا؟ تو اس آدمی کو تلاش کیا گیا اور وہ آپ ﷺکے پاس آیا تو نبی ﷺنے فرمایا کہ جو خوشبو تیرے ساتھ لگی ہے اسے تین مرتبہ دھو ڈال اور جبہ اتارے دے اور پھر اپنے عمرہ میں وہی کر جو تو حج میں کرتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِى قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ قَدْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى. فَقَالَ « انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِى حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِى عُمْرَتِكَ ».

It was narrated from Safwan bin Yala bin Umayyah, from his father [May Allah be pleased with them], that a man came to the Prophet (SAW) when he was at Al-Jiranah. He had entered Ihram for Umrah and he had put Sufrah (Khaluq) in his hair and beard, and was wearing a Jubbah. He said: “O Messenger of Allah (SAW), I have entered Ihram for Umrah, and I am as you see.” He said: “Take off the Jubbah and wash off the Sufrah, and what you would do in your Hajj, do in your Umrah.”

حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺکی خدمت میں آیا اور آپﷺ جعرانہ کے مقام میں تھے اور اس آدمی نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا اور اس کی داڑھی اور اس کے سر کے بال زرد رنگ کے خضاب سے رنگے ہوئے تھے اور اس نے ایک جبہ پہنا ہوا تھا۔اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور جیسا کہ آپ ﷺمجھے دیکھ رہے ہیں تو آپ ﷺنے فرمایا: جبہ اتار دو اور زرد رنگ دھو ڈالواور جو کچھ حج میں کرتے ہو وہ سب کچھ عمرہ میں کرو۔


وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِىٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِى مَعْرُوفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً قَالَ أَخْبَرَنِى صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ - رضى الله عنه - قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا أَثَرٌ مِنْ خَلُوقٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ أَفْعَلُ فَسَكَتَ عَنْهُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ وَكَانَ عُمَرُ يَسْتُرُهُ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ يُظِلُّهُ فَقُلْتُ لِعُمَرَ - رضى الله عنه - إِنِّى أُحِبُّ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْىُ أَنْ أُدْخِلَ رَأْسِى مَعَهُ فِى الثَّوْبِ. فَلَمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمَّرَهُ عُمَرُ - رضى الله عنه - بِالثَّوْبِ فَجِئْتُهُ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِى مَعَهُ فِى الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّىَ عَنْهُ قَالَ « أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا عَنِ الْعُمْرَةِ ». فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ « انْزِعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ الَّذِى بِكَ وَافْعَلْ فِى عُمْرَتِكَ مَا كُنْتَ فَاعِلاً فِى حَجِّكَ ».

Safwan bin Yala narrated that his father [May Allah be pleased with them] said: “We were with the Messenger of Allah (SAW) and a man came to him wearing a Jubbah and bearing traces of Khaluq. He said: ‘O Messenger of Allah (SAW), I entered Ihram from Umrah; what should I do?’ he remained silent and did not answer him. Umar used to cover him when the Revelation came upon him, to shade him. I said to Umar [May Allah be pleased with them]: ‘I would like, when the Revelation comes upon him, to put my head under the cloth with him.’ When the Revelation came upon him, Umar [May Allah be pleased with him] covered with him the cloth, and I came and put my head under the cloth with him, and I looked at him. When it was over, he said: ‘Where is the one who asking about Umrah just now?’ the man stood up and he said: ‘Take off your Jubbah, and wash off the traces of Khaluq that are on you, and do in your Umrah what you would do in your Hajj.’”

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے کہ ایک آدمی آپﷺکی خدمت میں آیا اس نے ایک جبہ پہنا ہوا تھا اس پر کچھ خوشبو لگی ہوئی تھی۔اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے میں اس میں کیا کروں؟ آپ ﷺخاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب آپ ﷺپر وحی نازل ہوتی تو خود ایک کپڑے سے آڑ کر لیتے تھے اور میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ جب آپ ﷺپر وحی نازل ہوتی ہے تو میں کپڑے میں سر ڈال کر دیکھنا چاہتا ہوں تو جب آپﷺ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو معمول کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ ﷺکو کپڑے میں چھپا لیا، میں نے بھی اپنا سر اس کپڑے میں داخل کرلیا اور آپ کو دیکھا ، جب آپ سے یہ کیفیت زائل ہوگئی تو آپ ﷺنے فرمایا کہ وہ عمرہ کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ وہ آدمی کھڑا ہوگیا آپ ﷺنے فرمایا کہ جبہ اتار دو اور تیرے ساتھ جو خوشبو کا نشان لگا ہے اسے دھو ڈال اور پھر اپنے عمر ےمیں وہی اعمال کر جو تو اپنے حج میں کرتا ہے۔

Chapter No: 2

بابُ مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ

About the Mawaqeet of Hajj and Umrah

میقات حج اور عمرہ کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ وَقُتَيْبَةُ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ. قَالَ « فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ وَكَذَا فَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا ».

It was narrated from Ibn Abbas [May Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) defined the Miqat of the people of the Al-Madinah as Dhul- Hulaifah; that of the people of Ash-Sham as Al-Juhfah ; that of the people of Najd as Qarn Al-Manazil; and that of the people of Yemen as Yalamlam. And he said: ‘And these Mawaqit are for the people at those very places, and besides them for those who come through those places with the intention of performing Hajj and Umrah; and whoever is living within these boundaries can (begin the Talbiyah) from the places he start, and the people of Makkah can start from Makkah.’ ”

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مدینہ منورہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ میقات مقرر فرمایا ،اور شام والوں کے لئے جحفہ اور نجد والوں کے لئے قرن المنازل اور یمن والوں کے لئے یلملم کو میقات مقرر فرمایا۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ یہ مواقیت ان لوگوں کے لئے بھی ہیں جو دوسرے علاقوں میں سے ان مواقیت کی حدود میں آئیں چاہے ان میں سے کسی کا ارادہ حج کا ہو یا عمرہ کا اور جو ان کے علاوہ اپنے علاقوں میں رہنے والوں میں سے ہوں تو وہ اپنی حدود سے احرام باندھیں گے یہاں تک کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ. وَقَالَ « هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ ».

It was narrated from Ibn Abbas [May Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) defined the Miqat of the people of the Al-Madinah as Dhul- Hulaifah; that of the people of Ash-Sham as Al-Juhfah ; that of the people of Najd as Qarn Al-Manazil; and that of the people of Yemen as Yalamlam. And he said: ‘And these Miqat are for the people at those very places, and besides them for those who come through those places with the intention of performing Hajj and Umrah; and whoever is living within these boundaries can enter (Ihram) from the place he starts, and the people of Makkah can start from Makkah.’ ”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مدینہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لئے جحفہ اور نجد والوں کے لئے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم میقات مقرر فرمایا اور ان لوگوں کے لئے بھی ہیں جو حج اور عمر کے ارادے سے دوسرے علاقوں سے ان میقات والے علاقوں میں آئیں اور جو لوگ ان میقات والی جگہ کے اندر ہوں تو وہ اسی جگہ سے احرام باندھیں یہاں تک کہ مکہ والے مکہ مکرمہ ہی سے احرام باندھ لیں۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِى الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ». قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبَلَغَنِى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ».

It was narrated from Ibn Umar [May Allah be pleased with them] that the Messenger of Allah (SAW) said: “The people of Al-Madinah should begin (the Talbiyah) from Dhul- Hulaifah, the people of Ash-Sham from Al-Juhfah and the people of Najd from Qarn.” Abdullah said: “And it was conveyed to me that that the Messenger of Allah (SAW) said: ‘And the people of Yemen should (begin the Talbiyah) from Yalamlam.’”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ مدینہ کے رہنے والے ذوالحلیفہ سے اور شام کے رہنے والے جحفہ سے اور نجد کے رہنے والے قرن سے احرام باندھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ یمن کے رہنے والے یلملم کے مقام سے احرام باندھیں۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ذُو الْحُلَيْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مَهْيَعَةُ وَهِىَ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ ». قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - وَزَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْهُ - قَالَ « وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ ».

It was narrated from Salim bin Abdullah bin Umar bin Al-Khattab [May Allah be pleased with them] that his father said: “I heard the Messenger of Allah (SAW) said: ‘The Miqat for the people of Al-Madinah is Dhul-Hulaifah, the Miqat for the people of Ash-Sham is Mahyaah- which is Al-Juhfah – and the Miqat for the people of Najd is Qarn.’” Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them] said: “And they said that the Messenger of Allah (SAW) said- although I did not hear that from him: ‘And the Miqat for the people of Yemen is Yalamlam.’”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا : مدینہ والے ذوالحلیفہ سے شام والے مہیعہ (جحفہ) سے ، اور نجد والے قرن سے احرام باندھیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں کا خیال ہے میں نے خود نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا یمن کے رہنے والے یلملم سے احرام باندھیں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَنْ يُهِلُّوا مِنْ ذِى الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلَ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَأَهْلَ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ. وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - وَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ قَالَ « وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ».

It was narrated from Abdullah bin Dinar that he heard Ibn Umar [May Allah be pleased with them] say: “The Messenger of Allah (SAW) commanded to the people of Al-Madinah to (begin the Talbiyah) from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-Sham from Al-Juhfah and the people of Najd is Qarn” Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them] said: “And I was told that he said: ‘The people of Yemen should (begin Talbiyah) from Yalamlam.’”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مدینہ والوں کو حکم فرمایا کہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں اور شام والوں کو حکم فرمایا کہ جحفہ سے اور نجد والے قرن سے احرام باندھیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا یمن والے یلملم سے احرام باندھیں۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ فَقَالَ سَمِعْتُ - ثُمَّ انْتَهَى فَقَالَ أُرَاهُ يَعْنِى - النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم-.

Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin Abdullah [May Allah be pleased with them] being asked about the Miqat. He said: “I heard”- then he stopped and said: “I think he meant the Prophet (SAW).”

ابو الزبیر سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مواقیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے سنا ہے۔۔۔ ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میرا گمان ہےکہ انہوں نے آپ ﷺسے سنا تھا۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ قَالَ ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِى الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ». قَالَ ابْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - وَذُكِرَ لِى - وَلَمْ أَسْمَعْ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ».

It was narrated from Salim, from his father [May Allah be pleased with them], that the Messenger of Allah (SAW) said: “The people of Al-Madinah should begin (the Talbiyah) from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-Sham should enter Ihram from Al-Juhfah and the people of Najd should (begin from the Talbiyah) from Qarn.” Ibn Umar [May Allah be pleased with them] said: “And it was mentioned to me, although I did not hear it, that the Messenger of Allah (SAW) said: ‘And the people of Yemen should (begin from the Talbiyah) from Yalamlam.’”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مدینہ والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور شام کے رہنے والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ جحفہ ہے اور نجد کے رہنے والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ قرن ہے ۔ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے خود تو نہیں سنا لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اہل یمن کے لئے احرام باندھنے کی جگہ یلملم ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلاَهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - رضى الله عنهما - يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ فَقَالَ سَمِعْتُ - أَحْسِبُهُ رَفَعَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- - فَقَالَ « مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِى الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ».

Abu Az-Zubair narrated that he heard the Jabir bin Abdullah being asked about the Miqat. He said: “I heard”- and I think he attributed it to the Prophet (SAW) – and said: “The Miqat of the people of Al-Madinah is from Dhul- Hulaifah, and the other way is Al-Juhfah, and the Miqat for the people of Al-Iraq is from Dhat Iqr, and the Miqat for the people of Najd is from Qarn, and the Miqat for the people of Yemen is Yalamlam.”

حضرت ابوزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے احرام باندھنے کی جگہ کے بارے میں پوچھا گیا راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ حدیث مرفوعا بیان کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مدینہ والوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے اوراہل عراق کے لیے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق ہے۔ اہل نجد کے لیے قرن ہے اور اہل یمن کے لیے یلملم ہے۔

Chapter No: 3

بابُ التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا

Regarding Talbiyah, its features and its timing

تلبیہ کے طریقے اور اس کے وقت کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ». قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.

It was narrated from Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them] that the Talbiyah of the Messenger of Allah (SAW) was: “Labbaik Allahumma Labbaik, Labbaika la sharika laka labbaik, inna al-hamda wan-ni matah laka wal-muk , la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verify all praise and grace and dominion are Yours, You have no partner.)” Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them] used to add to it (the words): “Labbaika labbaika labbaika wa a sa daika wal-khair fi yadaika, labbaika warraghabau ilaika wal-aml (Here I am, here I am, and at Your service, all good is in Your hands, here I am, seeking Your seeking pleasure and striving for Your sake.).”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے تلبیہ پڑھا ( لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک)میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں بے شک ساری تعریفیں اور نعمتیں اور بادشاہت تیرے ہی لئے ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلبیہ کے ان کلمات میں یہ زیادہ کرتے تھے میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اور تیرے احکام کی فرمانبرداری کے لئے حاضر ہوں ساری بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں میں حاضر ہوں اور رغبت اور عمل تیری طرف ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِى ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَنَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ وَحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِى الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ فَقَالَ « لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ». قَالُوا وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ نَافِعٌ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ - رضى الله عنه - يَزِيدُ مَعَ هَذَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.

It was narrated by Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them] that the when the camel of the Messenger of Allah (SAW) stood up with him at the Masjid of Dhul-Hulaifah, he would begin the Talbiyah saying: “Labbaik Allahumma Labbaik, Labbaika la sharika laka labbaik, inna al-hamda wan-ni matah laka wal-mulk , la sharika lak (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verify all praise and grace and dominion are Yours, You have no partner.) ” They said: “And Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them] used to say: ‘This is the Talbiyah of the Messenger of Allah (SAW).’” Nafi said: “Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them]used to add to this the words: ‘Labbaika labbaika labbaika wa a sa daika wal-khair fi yadaika, labbaika warraghabau ilaika wal-aml (Here I am, here I am, and at Your service, all good is in Your hands, here I am, seeking Your seeking pleasure and striving for Your sake.).’”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب وہ ذی الحلیفہ کی مسجد کے پاس کھڑی ہوگئی تو آپ ﷺ نے احرام باندھا اور فرمایا ( لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک) اورحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تلبیہ ہے حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلبیہ کے ساتھ ان کلمات کا اضافہ کرتے تھے(لبیک لبیک وسعدیک والخیر بیدیک لبیک والرغباء الیک والعمل)


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِى ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ فِى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.

It was narrated that Ibn Umar [May Allah be pleased with them] said: “I learned the Talbiyah from the mouth of the Messenger of Allah (SAW) …” And he mentioned a similar Hadith (as no.2812)

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺسے تلبیہ سیکھا ہے پھر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ فَإِنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنِى عَنْ أَبِيهِ - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ « لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ ». لاَ يَزِيدُ عَلَى هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ. وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَرْكَعُ بِذِى الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - يُهِلُّ بِإِهْلاَلِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِى يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.

Salim bin Abdullah bin Umar narrated that his father [May Allah be pleased with them] said: “I heard the Messenger of Allah (SAW) (begin the Talbiyah) Mulabidan, saying: ‘Labbaik Allahumma labbaik, labbaika la sharika laka labbaik , inna al-hamda wan-ni matah laka wal-mulk, la sharika lak(Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner , here I am. Verily all praise and grace and dominion are Yours, You have no partner.)’” And he did not add anything to these words. Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them] used to say: “The Messenger of Allah (SAW) used to pray two Rakah in Dhul-Hulaifah, then when his camel rose up with him by the Masjid of Dhul-Hulaifah, he would (begin the Talbiyah) by saying these words.” Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them] used to say: “Umar bin Al-Khattab [May Allah be pleased with him] used to begin the Talbiyah of the Messenger of Allah (SAW), with these words, and he would say: ‘Labbaika Allahumma labbaika Allahamma labbaika wa sa daika wal-khair fi yadaika, labbaika war-raghbau ilaika wal-aml’(Here I am, here I am, here I am, and at Your service; all good is in Your hands, here I am, seeking Your pleasure and striving for Your sake.)”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نےرسول اللہ ﷺسے تلبیہ سنا ، آپﷺاپنے بالوں کو جمائے ہوئے تلبیہ کہہ رہے تھے ۔(لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک) اور آپ ﷺنے ان کلمات پر اضافہ نہیں فرمایا ۔اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھیں پھر جب اونٹنی آپ ﷺکو لے کر ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس آکر سیدھی کھڑی ہوگئی تو آپ ﷺنے تلبیہ کے یہ کلمات پڑھ کر احرام باندھا ۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ ان کلمات کے ساتھ تلبیہ پڑھتے تھے اور کہتے تھےَ ( لبیک اللہم لبیک لبیک وسعدیک والخیر فی یدیک لبیک والرغبای الیک والعمل)


وَحَدَّثَنِى عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِىُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ - يَعْنِى ابْنَ عَمَّارٍ - حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ - قَالَ - فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ ». فَيَقُولُونَ إِلاَّ شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ. يَقُولُونَ هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ.

It was narrtaed form Ibn Abbas [May Allah be pleased with them] said: “The idolators used to say: ‘Labbaika la sharika lak (here we are, you have no partner.)’ the Messenger of Allah (SAW) say: ‘Woe to you, stop there.’ But they would continue: ‘Except a partner that You have, and You control him and all that he possess.’ And they would say this as they circumambulated the Kabah.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے لبیک لا شریک لک تو رسول اللہ ﷺارشاد فرماتے ہلاکت ہو تمہارے لئے اس سے آگے نہ کہو مگر مشرکین اس کے بعد کہتے : مگر ایک شریک ہے ، اے اللہ ! تو اس کا مالک ہے اور اس کے مملوک کا مالک نہیں اور یونہی کہتے کہتے بیت اللہ کا طواف کرتے۔

Chapter No: 4

بابُ أَمْرِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِالإِحْرَامِ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ

The people of Al-Madinah are commanded to wear the Ihram from the Masjid of Dhul-Hulaifah

مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ کی مسجد سے احرام باندھنے کا حکم

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ - رضى الله عنه - يَقُولُ بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِى تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِيهَا مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ يَعْنِى ذَا الْحُلَيْفَةِ.

It was narrtaed from Salim bin Abdullah that he heard his father [May Allah be pleased with them] say: “This Baida of yours is the one concerning which you attribute a lie to the Messenger of Allah (SAW). The Messenger of Allah (SAW) only (began the Talbiyah) from the Masjid, meaning at Dhul- Hulaifah.”

حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ یہ تمہارا بیداء ہے جس کے بارے میں تم رسول اللہﷺ پر جھوٹ بولتے ہو۔ رسول اللہ ﷺنےمسجد ذو الحلیفہ کے سوا اور کسی جگہ سے تلبیہ نہیں کیا۔


وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ - يَعْنِى ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ - رضى الله عنهما - إِذَا قِيلَ لَهُ الإِحْرَامُ مِنَ الْبَيْدَاءِ قَالَ الْبَيْدَاءُ الَّتِى تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلاَّ مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ حِينَ قَامَ بِهِ بَعِيرُهُ.

It was narrated from Salim said: “When it was said to Ibn Umar [may Allah be pleased with them] that they should enter Ihram from Al-Baida, he said: ‘Al-Baida is that concerning which you attribute a lie to Messenger of Allah (SAW). The Messenger of Allah (SAW) only (began the Talbiyah) from beside the tree, when his camel stood up with him.’”

حضرت سالم سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب کہا جاتا کہ احرام تو بیداء سے ہے تو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ بیداء تو وہ ہے جس کے بارے میں تم رسول اللہ ﷺپر جھوٹ بولتے ہو ۔ رسول اللہ ﷺنے تلبیہ نہیں پڑھا سوائے اس درخت کے پاس جس جگہ آپ ﷺکا اونٹ آپ ﷺکو لے کر کھڑا ہوگیا۔

Chapter No: 5

بابُ بَيَانِ أَنَّ الْأَفْضَلَ أَنْ يَحْرُمَ حِيْنَ تَنْبَعِثُ رَاحِلَته مُتَوَجِّهًا إِلَى مَكَّةَ لَا عَقِبَ الرَّكَعَتَيْنِ

It is better to wear the Ihram when a person’s mount sets off with him, heading towards Makkah, not straight after the two Rak’ahs

ایسے وقت احرام باند ھنے کی فضیلت جب سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہو جائے ۔

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا. قَالَ مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لاَ تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّى لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَمَسُّ إِلاَّ الْيَمَانِيَيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِى لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَصْبَغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبَغَ بِهَا وَأَمَّا الإِهْلاَلُ فَإِنِّى لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ.

It was narrated from Ubaid bin Juraij that he said to Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them]: “O Abu Abdur-Rahman1 I have seen you doing four things that I have not seen any of your companion doing.” He said: “What are they, O Ibn Juraij?” he said: “I saw that you do not touch any of the corners (of the Kabah) except the two Yemeni corners, and I saw you wearing Sibtiyyah sandals, and I saw you applying Sufrah, and when you were in a Makkah, I saw the people (beginning the Talbiyah) when they saw the crescent, but you did not (begin the Talbiyah) until the Day of At-Tarwiyah.” Abdullah bin Umar said: “As for the corners, I did not see the Messenger of Allah (SAW) touch any but the two Yemeni corners. As for the Sibtiyyah sandals, I saw the Messenger of Allah (SAW) wearing sandals on which there was no hair and performing Wudu in them, so I like to wear them. As for Sufrah, I saw the Messenger of Allah (SAW) using it and I like to use it. As for (beginning the Talbiyah), I did not see the Messenger of Allah (SAW) (beginning the Talbiyah) until his mount set off with him.”

حضرت عبید بن جریج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا اے ابوعبدالرحمن! میں نے آپ کو چار ایسے کام کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ کے ساتھیوں میں سے کسی اور کو ایسے کرتے ہوئے نہیں دیکھا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے ابن جریج! وہ کیا ہیں؟ ابن جریج نے کہا کہ ایک یہ کہ میں نے آپ کو کعبۃ اللہ کے دو رکن یمانیوں کے سوا اور کسی کو نے کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا دوسرا یہ کہ میں نے آپ کو بغیر بالوں والے چمڑے کی جوتیاں پہنے دیکھا اور تیسرا یہ کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ زرد رنگ سے رنگتے ہیں اور چوتھا یہ کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ جب مکہ میں تھے تو آپ نے آٹھ ذی الحجہ کو احرام باندھا جبکہ مکہ میں رہنے والے لوگ چاند دیکھتے ہی احرام باندھتے ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دو رکن یمانیوں کے چھونے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نبی ﷺکو دو رکن یمانیوں کے علاوہ اور کسی رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا اور بالوں کے بغیر چمڑے کی جوتی کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ ایسے چمڑے کی جوتی پہنے ہوئے تھے کہ جس میں بال نہیں تھے اور اسی چمڑے میں وضو کرتے اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ ایسی جوتی پہنوں اور زرد رنگ کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺزرد رنگ کے ساتھ رنگا کرتے تھے اسی لئے میں بھی زرد رنگ کے رنگنے کو پسند کرتا ہوں اور باقی احرام باندھنے کا جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ آپﷺاحرام اس وقت باندھتے تھے جب آپﷺکی اونٹنی آپ ﷺکو لیکر کھڑی ہوجاتی تھی۔


حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى أَبُو صَخْرٍ عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رضى الله عنهما - بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ مَرَّةً فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى إِلاَّ فِى قِصَّةِ الإِهْلاَلِ فَإِنَّهُ خَالَفَ رِوَايَةَ الْمَقْبُرِىِّ فَذَكَرَهُ بِمَعْنًى سِوَى ذِكْرِهِ إِيَّاهُ.

It was narrated that Ubaid bin Juraij said: “I performed Hajj with Abdullah bin Umar bin Al-Khattab [May Allah be pleased with them] twelve times between Hajj and Umrah. I said: ‘O Abu Abdur-Rahman, I saw you do four things….’” And he quoted a similar hadith (as no.2819), except that with regard to (beginning the Talbiyah) he differed from the report of Al-Maqburi (a narrator), and he mentioned something similar.

حضرت عبید بن جریج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بارہ مرتبہ حج اور عمرہ کیا تو میں نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمن! میں نے آپ سے چار خصلتیں دیکھی ہیں پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِى الْغَرْزِ وَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ ذِى الْحُلَيْفَةِ.

It was narrated that Ibn Umar [May Allah be pleased with them] said: “When the Messenger of Allah (SAW) put his foot in the stirrup and his mount rose with him, he (began the Talbiyah) from Dhul Hulaifah.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺنے جب رکاب میں اپنا پاؤں رکھا اور سواری آپ ﷺکو لے کر ذی الحلیفہ میں کھڑی ہوگئی تو آپ ﷺنے تلبیہ پڑھا۔


وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً.

It was narrated that Ibn Umar [May Allah be pleased with them] that the Messenger of Allah (SAW) (began the Talbiyah) when his camel stood up with him.

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے خبر دی کہ نبی ﷺنے احرام باندھا جس وقت اونٹنی آپ ﷺکو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَكِبَ رَاحِلَتَهُ بِذِى الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِى بِهِ قَائِمَةً.

Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them] said: “I saw the Messenger of Allah (SAW) getting onto his mount at Dhul-Hulaifah, then he (began the Talbiyah) when it stood up with him.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو ذی الحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار دیکھا پھر جس وقت وہ سواری آپ ﷺکو لے کر کھڑی ہوگئی تو آپ ﷺنے احرام باندھا۔

Chapter No: 6

بابُ الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ

Regarding prayer in Masjid of Dhul-Hulaifah

ذو الحلیفہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کا بیان

وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا وَقَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِذِى الْحُلَيْفَةِ مَبْدَأَهُ وَصَلَّى فِى مَسْجِدِهَا.

Abdullah bin Umar [May Allah be pleased with them] said: “the Messenger of Allah (SAW) stayed in Dhul-Hulaifah overnight when starting his Hajj, and he prayed in its masjid.

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذو الحلیفہ میں رات گزاری اور مناسک حج کی ابتداء یہیں سے کی اور اسی مسجد میں آپ ﷺ نے نماز پڑھی۔

Chapter No: 7

باب استحباب الطيب قبيل الإحرام في البدن واستحبابه بالمسك وأنه لا بأس ببقاء وبيصه وهو بريقة ولمعانه

It is recommended to apply the perfume before wearing the Ihram, and it is recommended to use the musk, and it is all right if its shining traces remain

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اورکستوری کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ.

It was narrated from Az-Zuhri, from Urwah, from Aishah [May Allah be pleased with her] that she said: “I put perfume on Messenger of Allah (SAW) when he entered Ihram, and when he exited Ihram before circumambulating the Kabah.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے جس وقت احرام باندھا تو میں نے خوشبو لگائی اور بیت اللہ کے طواف سے پہلے جب آپ ﷺنے احرام کھولا تو اس وقت بھی یہی خوشبو لگائی۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدِى لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ.

Aflah bin Humaid narrated, from Al-Qasim bin Muhammad, from Aishah the wife of Prophet (SAW), who said: “I put perfume on the Messenger of Allah (SAW) with my hand for his Ihram and when he exited Ihram, before he circumambulating the Kabah.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبیﷺکی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے جس وقت احرام باندھا تو میں نے احرام کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے آپ ﷺکو خوشبو لگائی اور جس وقت آپ ﷺنے بیت اللہ کے طواف سے پہلے احرام کھولا تو اس وقت بھی خوشبو لگائی۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ.

It was narrated from Abdur-Rahman bin Al-Qasim, from his father, from Aishah [May Allah be pleased with her], that she said: “I used to put perfume on the Messenger of Allah (SAW) for Ihram, before he entered in Ihram, and when he exited Ihram, before he circumambulating the Kabah.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺکو احرام کی وجہ سے خوشبو لگایا کرتی تھی اور اس وقت بھی جب آپ ﷺطواف سے پہلے احرام کھولتے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِحِلِّهِ وَلِحِرْمِهِ.

It was narrated from Ubaidullah bin Umar, who said: “I heard Al-Qasim (narrae) from Aishah [May Allah be pleased with her] who said: ‘I put perfume on the Messenger of Allah (SAW) when he exited Ihram and for his Ihram.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺکو احرام کھولتے اور احرام باندھتے وقت خوشبو لگاتی تھی۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ وَالْقَاسِمَ يُخْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِيَدِى بِذَرِيرَةٍ فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالإِحْرَامِ.

It was narrated from Umar bin Abdullah bin Urwah, that he heard Urwah and Al-Qasim narrating from Aishah [May Allah be pleased with her] who said: “I put perfume on the Messenger of Allah (SAW) with my hand in Dharirah, during farewell Pilgrimage, when he exited Ihram and for his Ihram. ”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺکو حجۃ الوداع کے موقع پر احرام کھولتے اور احرام باندھتے وقت اپنے ہاتھوں سے زریرہ خوشبو لگائی۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - بِأَىِّ شَىْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عِنْدَ حِرْمِهِ قَالَتْ بِأَطْيَبِ الطِّيبِ.

Uthman bin Urwah narrated that his father said: “I asked Aishah [May Allah be pleased with her]: ‘With what did you perfume the Messenger of Allah (SAW) for his Ihram?’ she said: ‘With the best of perfume.’ ”

حضرت عثمان بن عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کو احرام کے وقت کونسی خوشبو لگائی تھی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا سب سے زیادہ پاکیزہ اور اچھی خوشبو۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِأَطْيَبِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ثُمَّ يُحْرِمُ.

It was narrated that Uthman bin Urwah said: “I heard Urwah narrating that Aishah [May Allah be pleased with her] said: ‘I used to put perfume on the Messenger of Allah (SAW), using the best perfume that I could find before he entered Ihram, then he entered Ihram.’”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺکو اس سے قبل کہ آپ ﷺاحرام باندھتے آپ کو جس قدر اچھی خوشبو لگا سکتی میں آپ کو خوشبو لگاتی پھر آپ ﷺاحرام باندھتے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ عَنْ أَبِى الرِّجَالِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ بِأَطْيَبِ مَا وَجَدْتُ.

It was narrated from Ad-Dahhak from Abu Rijal from his mother, from Aishah [May Allah be pleased with her] that she said: “I put perfume on the Messenger of Allah (SAW) for his Ihram when he entered Ihram and for his exiting Ihram before (he performed Tawaf Al-Ifadah), using the best perfume that I could find.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺکے احرام باندھتے وقت اور طواف افاضہ سے قبل جب آپﷺاحرام کھولتے ، مجھے سب سے اچھی خوشبو میسر ہوتی تو وہ آپﷺکو لگاتی تھی۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ كَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِى مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ مُحْرِمٌ. وَلَمْ يَقُلْ خَلَفٌ وَهُوَ مُحْرِمٌ. وَلَكِنَّهُ قَالَ وَذَاكَ طِيبُ إِحْرَامِهِ.

It was narrated from Ibrahim, from Al-Aswad, from Aishah [May Allah be pleased with her] who said: “It is as if I can see the gleam of the perfume in the parting (of the hair) of the Messenger of Allah (SAW) when he was in Ihram.” (One of the narrators) Khalaf did not say: “when he was in Ihram,” but he said: “That was the perfume of his Ihram.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ اب بھی وہ منظر میرے سامنے ہے جب رسول اللہ ﷺکی مانگ میں خوشبو مہک رہی ہے اس حال میں کہ آپ ﷺاحرام باندھے ہوئے تھے۔راوی خلف نے یہ نہیں کہا کہ آپ ﷺاحرام کی حالت میں تھے لیکن انہوں نے کہا کہ یہ خوشبو احرام کی وجہ سے تھی۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ - عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ لَكَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِى مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يُهِلُّ.

It was narrated from Ibrahim, from Al-Aswad, from Aishah [May Allah be pleased with her] who said: “It is as if I can see the gleam of the perfume in the parting (of the hair) of the Messenger of Allah (SAW) when he was saying the Talbiyah.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ رسول اللہ ﷺکی مانگ میں خوشبو مہک رہی ہے اور آپﷺتلبیہ کہہ رہے تھے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِى الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ كَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِى مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ يُلَبِّى.

It was narrated form Abu Ad-Duha, from Masruq, from Aishah [May Allah be pleased with her] who said: “It is as if I can see the gleam of the perfume in the parting (of the hair) of the Messenger of Allah (SAW) when he was reciting the Talbiyah.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ رسول اللہ ﷺکی مانگ میں خوشبو مہک رہی ہے اور آپﷺتلبیہ کہہ رہے تھے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ وَعَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ لَكَأَنِّى أَنْظُرُ. بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ.

It was narrated from Ibrahim, from Al-Aswad, and from Muslim from Masruq, from Aishah [May Allah be pleased with her] who said: “it is as if I can see the…..”a Hadith like that of Waki (no. 2834)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہےآگے حدیث اسی طرح ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِى مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ مُحْرِمٌ.

It was narrated from Aishah [May Allah be pleased with her] that she said: “it is as if I can see the gleam of the perfume in the parting (of the hair) of the Messenger of Allah (SAW) when he was in Ihram.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ رسول اللہ ﷺکی مانگ میں خوشبو مہک رہی ہے اور آپﷺ احرام میں تھے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ إِنْ كُنْتُ لأَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِى مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ مُحْرِمٌ.

It was narrated from Al-Aswad from his father, from Aishah [May Allah be pleased with her] who said: “I used to look at the gleam of the perfume in the paring (of hair) of the Messenger of Allah (SAW) when he was in Ihram.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ رسول اللہ ﷺکی مانگ میں خوشبو مہک رہی ہے اور آپﷺ احرام میں تھے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ - وَهُوَ السَّلُولِىُّ - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ - وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِى إِسْحَاقَ السَّبِيعِىُّ - عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ سَمِعَ ابْنَ الأَسْوَدِ يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ يَتَطَيَّبُ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ ثُمَّ أَرَى وَبِيصَ الدُّهْنِ فِى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ.

It was narrated that Aishah [May Allah be pleased with her] who said: “when the Messenger of Allah (SAW) wanted to enter Ihram, he would put on the best of perfume that I could find, then I would see the gleam of the oil on his hair and beard, after that.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺکا احرام باندھنے کا ارادہ ہوتا تھا تو سب سے اچھی خوشبو لگاتے ، پھر میں اس کے بعد آپﷺ کی داڑھی مبارک اور سر میں تیل کی چمک دیکھتی تھی۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها كَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِى مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ مُحْرِمٌ.

It was narrated that Al-Aswad said: “Aishah [May Allah be pleased with her] said: ‘It is as if I can see the gleam of the perfume in the parting (of the hair) of the Messenger of Allah (SAW) when he was in Ihram.’ ”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ رسول اللہ ﷺکی مانگ میں کستوری کی خوشبو مہک رہی ہے اور آپﷺاحرام کی حالت میں ہیں۔


وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ.

A similar report (as no.2839) was narrated from Al-Hasan bin Ubaidullah with this chain.

ایک دیگر سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ.

It was narrated that Aishah [May Allah be pleased with her] who said: “I used to put perfume on the Messenger of Allah (SAW) before he entered Ihram, and on the day of sacrifice before he circumambulated the Kabah using perfume that continued to musk.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں میں نبی ﷺکو احرام باندھنے سے قبل ، اور قربانی والے دن ، اور بیت اللہ کا طواف کرنے سے قبل کستوری کی خوشبو لگاتی تھی۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو كَامِلٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِى عَوَانَةَ - قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ - عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - عَنِ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا لأَنْ أَطَّلِىَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ. فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَأَخْبَرْتُهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا لأَنْ أَطَّلِىَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عِنْدَ إِحْرَامِهِ ثُمَّ طَافَ فِى نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا.

It was narrated from Ibrahim bin Muhammad bin Al-Muntashir that his father said: “I asked Abdullah bin Umar [may Allah be pleased with them] about a man putting on perfume then entering Ihram in the morning. He said: ‘I would not like to enter Ihram reeking of perfume. If I were to rub pitch onto myself, that is dearer to me than doing that.’ Then I entered upon Aishah [may Allah be pleased with her] and told her that Ibn Umar said: ‘I would not like to enter Ihram reeking of perfume. If I were to rub pitch onto myself, that is dearer to me than doing that.’ Aishah said: ‘I put perfume on Messenger of Allah (SAW) for his Ihram, then he went around to his wives, then in the morning he entered Ihram.’”

حضرت ابراہیم بن محمد بن منتشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ خوشبو لگاتا ہے پھر صبح کو احرام باندھتا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں اسے پسند نہیں کرتا کہ میں صبح کو اس حال میں احرام باندھوں کہ میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو اگر میں اپنے جسم پر تارکول کے دو قطرے مل لوں تو میں اس کو پسند کرتا ہوں ۔ محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں گیا اور میں نے ان کو خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں صبح کو احرام باندھوں اس حال میں کہ میرے جسم سے خوشبو مہک رہی ہو اگر میں اپنے جسم پر تارکول کے دو قطرے لگالوں تو یہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو احرام کے وقت خوشبو لگائی پھر آپ اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن پر تشریف لاتے پھر صبح کو آپ ﷺ احرام باندھتے ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِى ابْنَ الْحَارِثِ - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا.

It was narrated from Ibrahim bin Muhammad bin Al-Muntashir said: “I heard my father narrating from Aishah [may Allah be pleased with her] that she said: ‘I put perfume on Messenger of Allah (SAW) for his Ihram, then he went around to his wives, then he would enter Ihram in the morning, smelling of perfume. ’ ”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہےوہ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺکو خوشبو لگاتی تھی پھر آپ ﷺاپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن پر تشریف لاتے پھر صبح کو آپ ﷺاحرام باندھتے تو خوشبو آ رہی ہوتی تھی۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ لأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا - قَالَ - فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ فَقَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَطَافَ فِى نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا.

It was narrated from Ibrahim bin Muhammad bin Al-Muntashir that his father said: “I heard Ibn Umar [may Allah be pleased with them] say: ‘If I were to rub pitch onto myself, that is dearer to me than entering Ihram reeking of perfume.’ Then I entered upon Aishah [may Allah be pleased with her] and told her what he had said. She said: ‘I put perfume on Messenger of Allah (SAW) for his Ihram, then he went around to his wives, then in the morning he entered Ihram.’

حضرت ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ تارکول کے دو قطروں کو مل کر صبح کروں اس بات سے کہ میں صبح کو احرام باندھوں اور میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو حضرت محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں گیا اور انہیں حضرت ابن عمر کے اس قول کی خبر دی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو خوشبو لگائی پھر آپ ﷺاپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے پاس گئے پھر آپ ﷺنے صبح کو احرام باندھا۔

Chapter No: 8

بابُ تَحْرِيمِ الصَّيْدِ المَأْكُوْلِ الْبَرِيِّ وَمَا أَصْلُهُ ذَلِكَ عَلَى الْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ أَوْ بِهِمَا

About the prohibition of wild food hunting for Muhrim (wearer of Ihram) for Hajj or for Umrah or both

حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پرخشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِىِّ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالأَبْوَاءِ - أَوْ بِوَدَّانَ - فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَلَمَّا أَنْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا فِى وَجْهِى قَالَ « إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلاَّ أَنَّا حُرُمٌ ».

It was narrated from Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] that As-Sab bin Jaththamah Al-Laithi gave the Messenger of Allah (SAW) a gift of some onager meat when he was at Al-Abwa- or at Waddan- and the Messenger of Allah (SAW) refused it. When the Messenger of Allah (SAW) saw the (expression) on his face, he said: ‘we would not have refused it, except that we have entered Ihram.’

حضرت صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکو ابواء یا ودان کے مقام پر ایک جنگلی گدھا(زیبرا) ہدیہ پیش کیا تو رسول اللہ ﷺنے اس گدھے کو اسی پر واپس لوٹا دیا ۔حضرت صعب کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺنے مجھے دیکھا کہ میرے چہرے میں کچھ غم سا ہے تو آپ ﷺنے فرمایا ہم نے اس کو صرف اس وجہ سے واپس کیا ہے کہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَقُتَيْبَةُ جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ. كَمَا قَالَ مَالِكٌ. وَفِى حَدِيثِ اللَّيْثِ وَصَالِحٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ.

It was narrated from Az-Zuhri (a similar Hadith to as no. 2845) with this chain in which he said: “I gave him a gift of some onager meat,” as Malik said. In this Hadith of Al-Laith and Salih it says that As-Sab bin Jaththamah told him.

حضرت صعب بن جثامہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺکو ایک جنگلی گدھا پیش کیا ، اس کے بعد اسی طرح روایت ہے جو پہلے گذرچکی ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ أَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ.

It was narrated from Az-Zuhri (a similar Hadith to as no. 2845) with this chain in which he said: “I gave him a gift of some onager meat.”

ایک اور سند سے بھی یہی روایت منقول ہے اس میں ہے کہ میں نے آپﷺکی خدمت میں جنگلی گدھے کا گوشت پیش کیا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ « لَوْلاَ أَنَّا مُحْرِمُونَ لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ ».

It was narrated from Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] said: “As-Sab bin Jaththamah gave the Prophet (SAW) a gift of some onager meat when he was in Ihram, and he refused it and said: ‘Were it not that we are in Ihram, we would have accepted it from you’”

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺکی خدمت میں جنگلی گدھا ہدیہ کے طور پر پیش کیا ، آپ ﷺنے اس کو واپس کردیااور فرمایا: اگر ہم محرم نہ ہوتے تو ہم اس کو آپ سے قبول کرلیتے۔


وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ عَنِ الْحَكَمِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ جَمِيعًا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - فِى رِوَايَةِ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَكَمِ أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ. وَفِى رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَجُزَ حِمَارِ وَحْشٍ يَقْطُرُ دَمًا. وَفِى رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ أُهْدِىَ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- شِقُّ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ.

It was narrated from Saeed bin Jubair, from Ibn Abbas [may Allah be pleased with them] (a similar Hadith as no.2845) According to the report of Mansur from AL-Hakam: “As-Sab bin Jaththamah gave the Prophet (SAW) a gift of a leg of onager.” According to report of Shubah from Al-Hakam: “The rump of an onager that was dripping with blood.” According to the report of Shubah from Habib: “the prophet (SAW) given a piece of onager meat and he refused it.”

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت صعب بن جثامہ نے نبی کریم ﷺکو جنگلی گدھے کا ایک پاؤں ہدیہ کیا ۔اور شعبہ کی وہ روایت جو حکم سے مروی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے آپ ﷺکو جنگلی گدھے کا پچھلا دھڑ جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے ہدیہ دیا اور شعبہ کی وہ روایت جو حبیب سے مروی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے نبی ﷺکو جنگلی گدھے کا ایک حصہ ہدیہ دیا تو آپ ﷺنے اسے واپس فرما دیا۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِى الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ كَيْفَ أَخْبَرْتَنِى عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِىَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ حَرَامٌ قَالَ قَالَ أُهْدِىَ لَهُ عُضْوٌ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ. فَقَالَ « إِنَّا لاَ نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ ».

It was narrated from Tawus from Ibn Abbas [may Allah be pleased with them], he said: “Zaid bin Arqam came and Abdullah bin Abbas said to him reminding him: ‘what did you tell me about the game meat that was given to the Messenger of Allah (SAW) when he was in Ihram?’ he said: ‘he was given a leg of game meat but he refused it, and he (SAW) said: ‘we cannot eat it, we are in Ihram.’’”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم جب تشریف لائے تو ان سے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تو نے مجھے شکار کے اس گوشت کے بارے میں کیا خبر دی تھی کہ جو نبی ﷺکو احرام کی حالت میں ہدیہ کیا گیا تھا ۔ انھوں نے فرمایا کہ آپﷺ کو شکار کے گوشت کا ایک عضو ہدیہ کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کردیا اور فرمایا کہ ہم اسے نہیں کھاتے کیونکہ ہم احرام میں ہیں۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِى قَتَادَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ فَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِى يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ. فَأَسْرَجْتُ فَرَسِى وَأَخَذْتُ رُمْحِى ثُمَّ رَكِبْتُ فَسَقَطَ مِنِّى سَوْطِى فَقُلْتُ لأَصْحَابِى وَكَانُوا مُحْرِمِينَ نَاوِلُونِى السَّوْطَ. فَقَالُوا وَاللَّهِ لاَ نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَىْءٍ. فَنَزَلْتُ فَتَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ رَكِبْتُ فَأَدْرَكْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِى فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِى فَقَالَ بَعْضُهُمْ كُلُوهُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَأْكُلُوهُ. وَكَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَمَامَنَا فَحَرَّكْتُ فَرَسِى فَأَدْرَكْتُهُ فَقَالَ « هُوَ حَلاَلٌ فَكُلُوهُ ».

Abu Qatadah said: “we went out with the Prophet (SAW) and when we were in Al-Qahah, some of us were in Ihram and some of us were not. Then I saw my companions looking at something, so I looked, and there was an onager. I saddled my horse and took up my spear, then I mounted and I dropped my whip. I said to my companions, who were in Ihram: ‘pass me the whip’. They said: ‘by Allah, we will not help you with it in any way.’ So I dismounted and picked I up, then I mounted again. I caught up with the onager from behind, when it was behind a hillock, and I stabbed it with my spear and killed it. I brought it to my companions and some of them said: ‘eat it, and others said: ‘do not eat it.’ The Prophet (SAW) was ahead of us, so I spurred my horse on and caught up with him, and he said: ‘it is lawful; eat it.’’”

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم قاحہ کے مقام پر پہنچے تو ہم میں سے کچھ لوگ احرام میں تھے اور کچھ بغیر احرام کے تو اچانک میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی کوئی چیز دیکھ رہے ہیں میں نے دیکھا کہ وہ ایک جنگلی گدھا تھا میں نے اپنے گھوڑے پر زین کس لی اور میں نے اپنا نیزہ لیا پھر میں سوار ہوگیا مجھ سے میرا چابک گر گیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے میرا چابک اٹھا دو اور وہ ساتھی حالت احرام میں تھے تو وہ کہنے لگے اللہ کی قسم! اس چیز پر ہم تمہاری مدد نہیں کر سکتے پھر میں اترا اور میں نے چابک رکھا اور پھر سوار ہوگیا تو میں نے اس جنگلی گدھے کو جا کر پکڑ لیا اور وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا میں نے اسے نیزہ مارا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں اور اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لے آیا ان میں سے کچھ ساتھیوں نے کہا کھاؤ اور کچھ نے کہا نہ کھاؤ ۔نبی ﷺہمارے آگے تھے میں نے اپنے گھوڑے کو دوڑا کر آپ ﷺکو پا لیا اور آپ ﷺسے پوچھا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ وہ حلال ہے تم اسے کھا لو۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِى النَّضْرِ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِى قَتَادَةَ عَنْ أَبِى قَتَادَةَ - رضى الله عنه - أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ « إِنَّمَا هِىَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ ».

It was narrated from Abu Qatadah that he was with the Messenger of Allah (SAW), and when they were partway along the road to Makkah, he lagged behind with some companions of his who were in Ihram, and he was not in Ihram. He saw an onager, so he mounted his horse and asked his companions to hand him his whip, but they refused to do so. He asked them for his spear, and they refused to give it to him. He picked it up and chased the onager and killed it, and some of the Companions of Prophet (SAW) ate from it and some of them refused. They caught up with the Messenger of Allah (SAW) and asked him about that, and he said: “it is food that Allah has provided for you.”

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے یہاں تک کہ جب آپ ﷺمکہ کے کسی راستے پر تھے تو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے احرام والے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے اور خود ابوقتادہ احرام کے بغیر تھے تو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جنگلی گدھا دیکھا وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کوڑا پکڑا دیں ،انہوں نے انکار کردیا پھر حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے نیزہ مانگا تو انہوں نے اس سے بھی انکار کردیا تو پھر انہوں نے خود نیزہ پکڑا اور پھر اپنے گھوڑے کو دوڑا کر اس گدھے کو پکڑ کر قتل کردیا۔ نبی ﷺکے کچھ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس میں سے کھایا اور کچھ نے انکار کردیا پھر وہ رسول اللہ ﷺکے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے اس بارے میں آپ سے پوچھا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ یہ ایک کھانا ہے جسے اللہ نے تمہیں کھلایا ہے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى قَتَادَةَ - رضى الله عنه - فِى حِمَارِ الْوَحْشِ. مِثْلَ حَدِيثِ أَبِى النَّضْرِ غَيْرَ أَنَّ فِى حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَىْءٌ ».

A Hadith like that of Abu An-Nadr (no. 2852) about onager was narrated from Al-Qatadah, except that in the Hadith of Zaid bin Aslam it says that the Messenger of Allah (SAW) said: “do you have any of its meat with you?”

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابوالنضر کی حدیث کی طرح روایت ہے سوائے اس کے کہ زید بن اسلم کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ ہے؟


وَحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ السُّلَمِىُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى قَتَادَةَ قَالَ انْطَلَقَ أَبِى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ وَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ عَدُوًّا بِغَيْقَةَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ - فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ إِذْ نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِى فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أُرَفِّعُ فَرَسِى شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا فَلَقِيتُ رَجُلاً مِنْ بَنِى غِفَارٍ فِى جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ أَيْنَ لَقِيتَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ تَرَكْتُهُ بِتِعْهِنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا فَلَحِقْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ انْتَظِرْهُمْ. فَانْتَظَرَهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى أَصَدْتُ وَمَعِى مِنْهُ فَاضِلَةٌ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- لِلْقَوْمِ « كُلُوا ». وَهُمْ مُحْرِمُونَ.

Abdullah bin Abi Qatadah said: “My father set out with the Messenger of Allah (SAW) during the year of Al-Hudaybiyah, and his companions entered Ihram but he did not. The Messenger of Allah (SAW) was told that there was an enemy in Ghaiqah, so the Messenger of Allah (SAW) set out.” He said: “While I was with his Companions, one of them smiled at me. I looked and there I saw an onager, so I attacked it, stabbed it and held on to it. I asked them to help me but they refused to do so. We ate some of its meat, we were afraid that we would be separated (from the people), so I set out to catch up with the Messenger of Allah (SAW). I made my horse go fast some times and slow sometimes, then I met a man form Banu Ghifar in the middle of the night and I said: ‘where did you meet the Messenger of Allah (SAW)?’ he said: ‘I left him in a Tahin, but he was intending to stop at As-Suqya.’ So I caught up with him and I said: ‘O Messenger of Allah (SAW), your companions send greeting of the Salam and the mercy of Allah to you, and they are afraid lest they get separated from you, so wait for them.’ He waited for them, and I said: ‘O Messenger of Allah (SAW), I caught some game and I have some of it left over.’ The Messenger of Allah (SAW) said to the people: ‘Eat,’ and they were in Ihram. ”

حضرت عبداللہ بن قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے باپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلح حدیبیہ کے سال گئے ۔ آپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم احرام کی حالت میں تھے اور میرا والداحرام کی حالت میں نہیں تھے اور رسول اللہ ﷺکو بتایا گیا کہ دشمن غیقہ میں ہے تو رسول اللہ ﷺ روانہ ہوگئے حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھا اور وہ میری طرف دیکھ کر ہنس رہے تھے تو میں نے ایک جنگلی گدھے کو دیکھا اور میں نے اس پر حملہ کر دیا، اور اس پر نیزہ مار کر اسے روک لیا پھر میں نے اپنے ساتھیوں سے مدد مانگی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کردیا پھر ہم نے اس کا گوشت کھایا اور ہمیں ڈر لگا کہ ہم رسول اللہ ﷺسے کہیں علیحدہ نہ ہو جائیں میں رسول اللہ ﷺکی تلاش میں نکلا کبھی گھوڑے کو بھگاتا اور کبھی آہستہ چلاتا آدھی رات کو قبیلہ بنو غفار کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ تجھے رسول اللہ ﷺکہاں ملے تھے؟ اس نے کہا میں نے آپ کو تعھن کے مقام میں چھوڑا ہے اور آپ سقیا کے مقام میں قیلولہ فرمائیں گے تو میں آپ ﷺسے اسی جگہ جا کر ملا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺکے صحابہ آپ ﷺکو سلام عرض کرتے ہیں اور انہیں یہ ڈر ہے کہ کہیں وہ آپ ﷺسے علیحدہ نہ ہو جائیں آپ ﷺان کا انتظار فرمائیں تو آپ ﷺنے ان کا انتظار فرمایا پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے شکار کیا ہے اور اس سے بچا ہوا میرے پاس کچھ گوشت ہے تو نبی ﷺنے لوگوں سے فرمایا کہ تم کھاؤ حالانکہ وہ سب احرام کی حالت میں تھے۔


حَدَّثَنِى أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ - رضى الله عنه - قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَاجًّا وَخَرَجْنَا مَعَهُ - قَالَ - فَصَرَفَ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ « خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى تَلْقَوْنِى ». قَالَ فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ. فَلَمَّا انْصَرَفُوا قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ إِلاَّ أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا - قَالَ - فَقَالُوا أَكَلْنَا لَحْمًا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ - قَالَ - فَحَمَلُوا مَا بَقِىَ مِنْ لَحْمِ الأَتَانِ فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا فَقُلْنَا نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ. فَحَمَلْنَا مَا بَقِىَ مِنْ لَحْمِهَا. فَقَالَ « هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَىْءٍ ». قَالَ قَالُوا لاَ. قَالَ « فَكُلُوا مَا بَقِىَ مِنْ لَحْمِهَا ».

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺحج کرنے کے لئے نکلے اور ہم بھی آپ ﷺکے ساتھ نکلے راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺنے اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے کچھ کو ایک طرف پھیر دیا حضرت ابوقتادہ بھی انہیں میں تھے تو آپ ﷺنے فرمایا کہ تم سمندر کے ساحل پر چلو یہاں تک کہ تم مجھ سے آکر ملنا راوی کہتے ہیں کہ سب لوگ سمندر کے ساحل پر چلے تو جب وہ رسول اللہ ﷺکی طرف جانے لگے تو ابو قتادہ کے علاوہ سب نے احرام باندھ لیا۔اسی دوران وہ چل رہے تھے کہ انہوں نے جنگلی گدھے دیکھے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پر حملہ کر کے ایک گدھی کی کونچیں کاٹ دیں۔ پھر ہم سب اترے اور ہم نے اس کا گوشت کھایا۔پھر ہم نے سوچا ہم نے تو شکار کا گوشت کھایا حالانکہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں ہم نے بچا ہوا گوشت ساتھ رکھ لیا اور جب رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آئے تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم احرام کی حالت میں تھے اور ابوقتادہ احرام میں نہیں تھے ہم نے جنگلی گدھے دیکھے تو ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پر حملہ کردیا اور ان میں سے ایک گدھی کی کونچیں کاٹ دیں پھر ہم اترے اور ہم نے اس گوشت سے کھایا پھر ہم نے سوچا کہ ہم تو شکار کا گوشت کھا بیٹھے ہیں حالانکہ ہم تو احرام میں ہیں اور شکار کا بچا ہوا گوشت ہم نے ساتھ اٹھا لیا ۔(جب آپﷺ کی خدمت میں پہنچے )تو آپ ﷺنے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے شکار کا حکم دیا تھا ؟ یا اس کی طرف کسی قسم کا اشارہ کیا تھا ؟ ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا : نہیں۔آپﷺنے فرمایا: شکار کا باقی ماندہ گوشت بھی کھالو۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنِى الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ فِى رِوَايَةِ شَيْبَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا ». وَفِى رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ « أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ ». أَوْ « أَصَدْتُمْ ». قَالَ شُعْبَةُ لاَ أَدْرِى قَالَ « أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ ».

It was narrated from Uthman bin Abdullah bin Mawhab with this chain (a Hadith similar to 2855). According to report of Shaiban: “The Messenger of Allah (SAW) said: ‘Did any of you tell him to catch it, or gesture to him?’” According to the report of Shubah he said: “Did you suggest it to him or help him to tell him to catch it?” Shubah said: “I do not know if he said: ‘did you help him’ – or ‘did you tell him to catch it?’”

حضرت شیبان کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے یہ حکم دیا تھا کہ ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگلی گدھوں پر حملہ کریں یا اس کی طرف کسی نے اشارہ کیا؟ اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا: کیا تم نے اشارہ کیا تھا یا کیا تم نے شکار میں مدد کی تھی یا تم نے شکار کیا تھا شعبہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺنے اعنتم یا اصدتم فرمایا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِىُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - وَهُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ - أَخْبَرَنِى يَحْيَى أَخْبَرَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى قَتَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ - رضى الله عنه - أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِى - قَالَ - فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِى وَهُمْ مُحْرِمُونَ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً. فَقَالَ « كُلُوهُ » وَهُمْ مُحْرِمُونَ.

Abdullah bin Abi Qatadah narrated that his father [may Allah be pleased with them] told him, that he went out with the Messenger of Allah (SAW) on the campaign of Al- Hudaybiyah. He said: “They entered Ihram for Umrah apart from me. Then I hunted an onager and I fed my companions who were in Ihram. Then I came to the Messenger of Allah (SAW) and told him that we had some of the leftover meat, and he said: ‘Eat it, and they were in Ihram.’”

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں تھے میرے علاوہ سب نے عمرہ کا احرام باندھ لیا۔ میں نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیااور اسے اپنے ساتھیوں کو کھلایا جنہوں نے احرام باندھا تھا۔پھر میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آیا اور میں نے آپ ﷺکو اس کی خبر دی کہ ہمارے پاس اس کا گوشت بچ گیا ہے تو آپ ﷺنے فرمایا تم سب اسے کھاؤ حالانکہ وہ سارے احرام کی حالت میں تھے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّىُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ - رضى الله عنه - أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ فَقَالَ « هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَىْءٌ ». قَالُوا مَعَنَا رِجْلُهُ. قَالَ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَكَلَهَا.

Abdullah bin Abi Qatadah narrated that his father [may Allah be pleased with them], that they went out with the Messenger of Allah (SAW) and they were in Ihram, but Abu Qatadah was not….. And he quoted the same hadith, (no. 2885) according to which (the Prophet (SAW)) said: “Do you have any of it with you?” they said: ‘we have its leg.’ The Messenger of Allah (SAW) took it and ate it.

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ احرام کی حالت میں نکلے اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ احرام کے بغیر تھے ۔اور اس کے بعد اسی طرح حدیث ہے اور اس میں ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس ایک ٹانگ ہے تو رسول اللہ ﷺنے وہ ٹانگ لی اور اسے کھا لیا۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَإِسْحَاقُ عَنْ جَرِيرٍ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى قَتَادَةَ قَالَ كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِى نَفَرٍ مُحْرِمِينَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ « هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ أَوْ أَمَرَهُ بِشَىْءٍ ». قَالُوا لاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « فَكُلُوا ».

It was narrated that Abdullah bin Abi Qatadah said: “Abu Qatadah was with a group of people who were in Ihram, but Abu Qatadah was not in Ihram…..” he quoted the same hadith (no 2855), according to which (the Prophet (SAW)) said: “Did any of you suggest it to him, or tell him to do something?” they said: “NO, O Messenger of Allah (SAW).” He said: “Then eat it.”

حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ احرام کی حالت میں نہیں تھے جبکہ باقی سب احرام میں تھے آگے حدیث اسی طرح ہے اور اس میں ہے کہ کیا تم میں سے کسی انسان نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا یا اسے کسی چیز سے حکم دیا تھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ نہیں اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ نے فرمایا : تو پھر تم اسے کھا لو۔


حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِىِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِىَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ وَقَالَ أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Muadh bin Abdur-Rahman bin Uthman At-Taimi that his father said: “we were with Talhah bin Ubaidullah and we were in Ihram. He was given a (cooked) bird while Talhah was sleeping. Some of us ate and some of us refrained. When Talhah woke up, he approved of those who had eaten and said: ‘We ate that with the Messenger of Allah (SAW).’”

حضرت معاذ بن عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم حضرت طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ساتھ تھے اور ہم احرام کی حالت میں تھے ، ان کے لیے ایک پرندہ ہدیہ لایا گیا اور حضرت طلحہ سو رہے تھے تو ہم میں سے کچھ نے وہ کھالیا اور کچھ نے پرہیز کیا تو جب حضرت طلحہ جاگے تو انہوں نے ان کی موافقت کی جنہوں نے کھایا تھا اور فرمایا کہ ہم نے احرام کی حالت میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ کھایا ہے۔

Chapter No: 9

بابُ مَا يُنْدَبُ لِلْمُحْرِمِ وَغَيْرِهِ قَتْلُهُ مِنَ الدَّوَابِّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ

It is recommended for Muhrim and others to kill them, inside and outside the sanctuary

حل اور حرم میں محرم اور غیر محرم کے لیے جن جانوروں کا مارنا جائز ہے۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ يَقُولُ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « أَرْبَعٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِى الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ». قَالَ فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ أَفَرَأَيْتَ الْحَيَّةَ قَالَ تُقْتَلُ بِصُغْرٍ لَهَا.

Aishah the wife of Prophet (SAW), said: “I heard the Messenger of Allah (SAW) said: ‘There are four (creatures), all of which are vermin and may be killed inside the sanctuary and outside: kites, crows, mice and vicious dogs. ’” He (the narrator) said: “I said to Al- Qasim: ‘what do you think of snakes? He said: ‘They may be killed.’’”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبیﷺکی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ ﷺفرماتے ہیں کہ چار جانور فاسق(موذی ) ہیں۔ ان کو حرم اور غیرحرم میں قتل کردیا جائے: چیل، کوا، چوہا ، کاٹنے والا کتا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے قاسم سے کہا کہ سانپ کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا اس کی ذلت کی وجہ سے اسکو قتل کیا جائے گا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِى الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الأَبْقَعُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحُدَيَّا ».

It was narrated from Aishah [may Allah be pleased with her] that the Prophet (SAW) said: “There are five vermin which may be killed inside the sanctuary and outside: Snakes, crows, speckled crows, mice and vicious dogs and kites.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا پانچ جانور(فاسق) موذی ہیں ان کو حرم اور غیر حرم میں قتل کیاجائے۔سانپ،سیاہ اورسفید رنگوں والا کوا، چوہا، کاٹنے والا کتا، اور چیل۔


حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِى الْحَرَمِ الْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ».

It was narrated from Aishah [may Allah be pleased with her] that the Messenger of Allah (SAW) said: “There are five vermin which may be killed in the sanctuary: Scorpions, crows, mice and vicious dogs and kites.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: پانچ جانور(فاسق) موذی ہیں ان کو حرم میں(بھی) قتل کیاجائے۔ بچھو، چوہا، چیل، کوا اور کاٹنے والا کتا۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

Hisham narrated it with this chain.

ایک اورسند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِى الْحَرَمِ الْفَارَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ».

It was narrated from Aishah [may Allah be pleased with her] that the Messenger of Allah (SAW) said: “There are five vermin which may be killed in the sanctuary: Mice, scorpions, crows, kites and vicious dogs.”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: پانچ جانور(فاسق) موذی ہیں ان کو حرم میں(بھی) قتل کیاجائے۔ چوہا، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والا کتا۔


وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِى الْحِلِّ وَالْحَرَمِ. ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ.

It was narrated from Az-Zuhri with this chain. She (Aishah) said: “The Messenger of Allah (SAW) ordered that five vermin be killed inside the sanctuary and outside… ” then he mentioned a hadith like that of Yazid bin Zuray (no. 2865)

اسی سند سے ہے کہ رسول اللہ ﷺنے پانچ (فاسق) موذی جانوروں کو قتل کرنے کا حکم دیا حرم میں ہوں یا غیر حرم میں۔اس کے بعد اسی طرح حدیث بیان کی ۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَوَاسِقُ تُقْتَلُ فِى الْحَرَمِ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ ».

It was narrated from Aishah [may Allah be pleased with her] that the Messenger of Allah (SAW) said: There are five (creatures), all of which are vermin and may be killed inside the sanctuary: kites, crows, mice, scorpions and vicious dogs.’”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: تمام جانوروں میں پانچ جانور فاسق(موذی) ہیں ان کو حرم میں (بھی) قتل کردیا جائے: کوا، چیل، کاٹنے والا کتا، بچھو، اور چوہا۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ - رضى الله عنه - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « خَمْسٌ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِى الْحَرَمِ وَالإِحْرَامِ الْفَارَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ». وَقَالَ ابْنُ أَبِى عُمَرَ فِى رِوَايَتِهِ « فِى الْحُرُمِ وَالإِحْرَامِ ».

It was narrated from Salim, from his father [may Allah be pleased with them], that the Prophet (SAW) said: “There are five for which there is no sin on the one who kills them in the sanctuary or when he is in Ihram: ‘Mice, scorpions, crows, kites and vicious dogs.’” Ibn Abi Umar said in his narration: “In the sanctuary and when in Ihram.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ ان کو حرم میں اور احرام کی حالت میں قتل کرنا کوئی گناہ نہیں چوہا ، بچھو ، کوا ، چیل اور کاٹنے والا کتا۔


حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَاسِقٌ لاَ حَرَجَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ الْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ».

Abdullah bin Umar [may Allah be pleased with them] said: “Hafsah, the wife of Prophet (SAW), said: ‘The Messenger of Allah (SAW) said: There are five creatures all of which are vermin and there is no sin on the one who kills them: Mice, scorpions, crows, kites and vicious dogs.’ ”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺکی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جانوروں میں پانچ جانور ایسے ہیں جو کلی طور پر فاسق(موذی) ہیں جن کے قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں: بچھو اور کوا اور چیل اور چوہا اور کاٹنے والا کتا۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ فَقَالَ أَخْبَرَتْنِى إِحْدَى نِسْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ أَمَرَ - أَوْ أُمِرَ - أَنْ تُقْتَلَ الْفَارَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ.

Zaid bin Jubair narrated that a man asked Ibn Umar: “What creatures may be Muhrim kill?” He said: “One of the wives of the Messenger of Allah (SAW) told me that he commanded” – “or was commanded” – “that mice, scorpions, kites, vicious dogs and crows should be killed.”

حضرت زید بن جبیر سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےکسی نے پوچھا کہ احرام والا کن جانوروں کو قتل کر سکتا ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺکی ازواج مطہرات میں سے کسی نے مجھے خبر دی کہ آپ ﷺنے حکم دیا کہ چوہا اور بچھو اور چیل اور کاٹنے والا کتا اور کوا قتل کردیا جائے۔


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الرَّجُلُ مِنَ الدَّوَابِّ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ حَدَّثَتْنِى إِحْدَى نِسْوَةِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الْعَقُورِ وَالْفَارَةِ وَالْعَقْرَبِ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابِ وَالْحَيَّةِ. قَالَ وَفِى الصَّلاَةِ أَيْضًا.

It was narrated that Zaid bin Jubair said: “A man asked Ibn Umar: ‘what creatures may a man kill when he is in Ihram?’ he said: ‘One of the wives of Prophet (SAW) told me that he used to order that vicious dogs , mice, scorpions, kites, crows and snakes should be killed.’” He said: “And in prayer too.”

حضرت زید بن جبیر سے روایت ہے فرمایا کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا احرام کی حالت میں کن جانوروں کو قتل کیا جاسکتا ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ نے مجھے بتایا کہ آپ ﷺکاٹنے والے کتے، چوہے اور بچھو اورچیل اور کوا اور سانپ کے قتل کرنے کا حکم فرماتے تھے اور فرمایا کہ نماز میں بھی انہیں قتل کر دیا جائے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِى قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ».

It was narrated form Ibn Umar [may Allah be pleased with them] that the Messenger of Allah (SAW) said: “There are five creatures for which there is no sin on the one who kills them: Mice, scorpions, crows, kites and vicious dogs.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں جن کو قتل کرنے میں احرام والے پر کوئی گناہ نہیں کوا، چیل، بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا۔


وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ مَاذَا سَمِعْتَ ابْنَ عُمَرَ يُحِلُّ لِلْحَرَامِ قَتْلَهُ مِنَ الدَّوَابِّ فَقَالَ لِى نَافِعٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِى قَتْلِهِنَّ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ».

Ibn Juraij said: “I said to Nafi: ‘What creatures did you hear Ibn Umar say it is permissible to kill when in Ihram?’ Nafi said to me: “Abdullah said: “I heard the Prophet (SAW) said: ‘There are five creatures for which there is no sin on the one who kills them: Mice, scorpions, crows, kites and vicious dogs.’’””

حضرت ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا آپ نے احرام والے کے لئے جانوروں کے قتل کرنے کے بارے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا سنا؟ حضرت نافع نے مجھے بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺکو فرماتے ہوئے سنا پانچ جانوروں کو قتل کرنے میں احرام والے پر کوئی گناہ نہیں کوا، چیل، بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا۔


وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ - يَعْنِى ابْنَ حَازِمٍ - جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم-. إِلاَّ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحْدَهُ وَقَدْ تَابَعَ ابْنَ جُرَيْجٍ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ إِسْحَاقَ.

A hadith like that of Malik and Ibn Juraij (no 2873) was narrated from Ibn Umar from the Prophet (SAW), but none of them (the sub narration) said: ‘From Nafi from Ibn Umar [may Allah be pleased with them]: ‘I heard the Messenger of Allah (SAW) say ..’ except Ibn Juraij only, and Ibn Ishaq followed Ibn Juraij in that.”

مصنف نے بےشمار اسانید ذکر کرنے کے بعد کہا ان اسانید سے بھی حضرت نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی روایت بیان کی ہے۔


وَحَدَّثَنِيهِ فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رضى الله عنهما - قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « خَمْسٌ لاَ جُنَاحَ فِى قَتْلِ مَا قُتِلَ مِنْهُنَّ فِى الْحَرَمِ ». فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.

It was narrated that Ibn Umar [may Allah be pleased with them] said: “I heard the Messenger of Allah (SAW) say: ‘There are five for which there is no sin for killing of those of them that are killed in the sanctuary,’ and he quoted a similar report (as no. 2872).”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے سنا: کہ پانچ جانور ایسے ہیں ان کو حرم میں بھی قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ اس کے بعد اسی طرح روایت بیان کی۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ - رضى الله عنهما - يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خَمْسٌ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ حَرَامٌ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيهِنَّ الْعَقْرَبُ وَالْفَارَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا ». وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى.

It was narrated from Abdullah bin Dinar that he heard Abdullah bin Umar [may Allah be pleased with them] say: “There are five vermin for which there is no sin on the one who kills them when he is in Ihram: Scorpions, mice, vicious dogs, crows and kites.”

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جو ان کو احرام کی حالت میں قتل کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ان جانوروں میں بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا، کوا اور چیل ہیں۔ اور یہ الفاظ یحیی بن یحیی راوی کے ہیں۔

Chapter No: 10

بَابُ جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ وَبَيَانِ قَدْرِهَا

It is permissible for Muhrim to shave the head if there is a trouble, and expiation becomes obligatory for shaving it, and clarifying what expiation it is

تکلیف لاحق ہونے کی صورت میں محرم کو سرمنڈانے کی اجازت اور اس پر فدیہ کا بیان

وَحَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ أَتَى عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ - قَالَ الْقْوَارِيرِىُّ قِدْرٍ لِى. وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ بُرْمَةٍ لِى - وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِى فَقَالَ « أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ». قَالَ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ « فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً ». قَالَ أَيُّوبُ فَلاَ أَدْرِى بِأَىِّ ذَلِكَ بَدَأَ.

It was narrated that Kab bin Ujrah [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) came to me at the time of Hudaybiyah while I was lighting a fire under a kettle or a pot, and lice were crawling on my face. He said: ‘’Are these vermin on your head bothering you? I said: ‘yes.’ He said: ‘Shave your head and fast for three days, or feed six poor persons, or offer a sacrifice.’” Ayyub said: “I do not know with which of them he started.”

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺحدیبیہ والے سال میرے پاس تشریف لائے اور میں ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میرے چہرے پر جوئیں گر رہیں تھیں آپ ﷺنے فرمایا کہ کیا تجھے جوئیں بہت تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے کہا ہاں! آپ ﷺنے فرمایا: اپنا سر منڈا دے اور تین دنوں کے روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک قربانی کر۔ راوی ایوب نے کہا مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺنے ابتداء میں کس چیز کا ذکر فرمایا۔


حَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ فِى هَذَا الإِسْنَادِ. بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 2877) was narrated form Ayyub with this chain.

ایک اورسند میں بھی اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ فِىَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ) قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ « ادْنُهْ ». فَدَنَوْتُ فَقَالَ « ادْنُهْ ». فَدَنَوْتُ. فَقَالَ -صلى الله عليه وسلم- « أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ». قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَظُنُّهُ قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَأَمَرَنِى بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ.

It was narrated that Kab bin Ujrah [may Allah be pleased with them] said: “This verse was revealed concerning me: ‘And whosoever of you is ill or has an ailment in his scalp (necessitating shaving), he must pay a Fidyah (ransom) of either observing Sawm (fasts) (three days) or giving Sadaqah or offering sacrifice (a sheep)…. I came to him (SAW) and he said: ‘Come closer.’ I came closer and he said: ‘Come closer,’ so I came closer. Then he (SAW) said: ‘Are these vermin bothering you?’’” (one of the narrators) Ibn Awn said: “I think he said: ‘yes.’” – He said: “And he commanded me to offer a Fidyah by fasting, or giving charity, or offering a sacrifice, whichever was easiest.”

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں میرے بارے میں یہ آیت نازل کی گئی تم میں سے جو آدمی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺکی خدمت میں آیا آپ ﷺنے فرمایا قریب ہوجاؤ ، میں قریب ہوگیا ،آپ ﷺنے فرمایا: قریب ہوجاؤ میں قریب ہوگیا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ کیا تجھے جوئیں بہت تکلیف دیتی ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺنے مجھے حکم دیا ، روزے ، صدقہ یا قربانی میں سے جو آسان ہو کرلو۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا سَيْفٌ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى لَيْلَى حَدَّثَنِى كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ - رضى الله عنه - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَقَفَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلاً فَقَالَ « أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ». قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ « فَاحْلِقْ رَأْسَكَ ». قَالَ فَفِىَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ) فَقَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ مَا تَيَسَّرَ ».

Kab bin Ujrah [may Allah be pleased with them] narrated that Messenger of Allah (SAW) stood near him while he lice were falling from his head, and he said: “Are these vermin bothering you?” he said: “Yes.” He said: “Shave your head.” He said: “This verse was revealed concerning me” ‘….. And whosoever of you is ill or has an ailment in his scalp (necessitating shaving), he must pay a Fidyah (ransom) of either observing Sawm (fasts) (three days) or giving Sadaqah or offering sacrifice (a sheep)…. ’ “ The Messenger of Allah (SAW) said to me: ‘Fast for three days or give a Faraq (three Sa) to be shared between six poor persons, or offer whatever you can afford as a sacrifice.’””

حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلی حضرت کعب بن عجرہ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺان کے پاس کھڑے ہوئے اس حال میں کہ ان کے سر سے جوئیں جھڑ رہی تھیں آپ ﷺنے فرمایا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں؟ حضرت کعب بن عجرہ فرماتے ہیں میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺنے فرمایا: اپنا سر منڈالے۔ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ (ترجمہ: تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھ لے یا صدقہ دے یا قربانی کرلے۔) تو رسول اللہ ﷺنے مجھ سے فرمایا کہ تو تین دن کے روزے رکھ لے یا ایک ٹوکرا چھ مسکینوں کے میں صدقہ کر دو یا قربانی کر دو، جو تجھے میسر ہو کرلو۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ وَأَيُّوبَ وَحُمَيْدٍ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ - رضى الله عنه - أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ « أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ ». قَالَ نَعَمْ. قَالَ « فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ - وَالْفَرَقُ ثَلاَثَةُ آصُعٍ - أَوْ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً ». قَالَ ابْنُ أَبِى نَجِيحٍ « أَوِ اذْبَحْ شَاةً ».

It was narrated from Kab bin Ujrah [may Allah be pleased with them] that the Prophet (SAW) passed by him when he was in Al- Hudaybiyah, before he entered Makkah, and he was in Ihram, and he was lighting a fire beneath a cooking pot, with lice crawling on his face. The Messenger of Allah (SAW) said: “Are these vermin bothering you?” He said: “Yes.” The Messenger of Allah (SAW) said to me: ‘Shave your head and fast for three days or give a Faraq (three Sa) to be shared between six poor persons, or offer a sacrifice.’”” Ibn Abi Najih said: “or slaughter a sheep.”

حضرت ابن ابی لیلی حضرت کعب بن عجرہ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺان کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ آپﷺ حدیبیہ میں تھے اور ابھی تک آپ ﷺمکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہوئے تھے اور کعب بن عجرہ احرام کی حالت میں ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں ان کے چہرے پر سے جھڑ رہی تھیں تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کیا تجھے تیری جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔آپﷺنے فرمایا: اپنا سر منڈا دے اور چھ مسکینوں میں ایک فرق کا کھانا تقسیم کردے اور فرق تین صاع کا ہوتا ہے۔ یا تین دنوں کے روزے رکھ لیں یا قربانی کر لیں۔ ابن ابی نجیح راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا: یا ایک بکری ذبح کردیں۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ « آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ». قَالَ نَعَمْ. فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « احْلِقْ رَأْسَكَ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا أَوْ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلاَثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ ».

It was narrated that Kab bin Ujrah [may Allah be pleased with them] said: “The Messenger of Allah (SAW) passed by him at the time of Hudaybiyah and said to him: “Are these vermin bothering you?” He said: “Yes.” The Messenger of Allah (SAW) said to him: ‘Shave your head, then slaughter a sheep as a sacrifice, or fast for three days, or give three Sa of dates to six poor persons.”

عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺحدیبیہ والے سال ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا کیا تجھے جوئیں بہت تکلیف دے رہی ہیں؟ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی ﷺنے ان سے فرمایا اپنے سر کو منڈا دو پھر ایک بکری ذبح کر کے قربانی کر دو، یا تین دنوں کے روزے رکھ دو، یا تین صاع کھجوریں چھ مسکینوں کو کھلا دو۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ قَعَدْتُ إِلَى كَعْبٍ - رضى الله عنه - وَهُوَ فِى الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ (فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ) فَقَالَ كَعْبٌ رضى الله عنه نَزَلَتْ فِىَّ كَانَ بِى أَذًى مِنْ رَأْسِى فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِى فَقَالَ « مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى أَتَجِدُ شَاةً ». فَقُلْتُ لاَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ) قَالَ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ نِصْفَ صَاعٍ طَعَامًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ - قَالَ - فَنَزَلَتْ فِىَّ خَاصَّةً وَهْىَ لَكُمْ عَامَّةً.

It was narrated that Abdullah bin Maqil said: “I sat with Kab [may Allah be pleased with them] when he was in Masjid, and I asked him about this verse: ‘He must pay a Fidyah (a ransom) of either observing Sawm (fasts) (three days) or giving Sadaqah or offering sacrifice (one sheep) … Kab [may Allah be pleased with them] said: ‘it was revealed concerning me. I had a problem in my scalp and I was brought to the Messenger of Allah (SAW) with the lice crawling on my face. He said: “I did not think that your problem had become as bad as I see it. Can you afford a sheep?” I said: “No.” then this verse was revealed: “…… he must a pay Fidyah (a ransom) of either observing a Sawm (fasts) (three days) or giving a Sadaqah or offering a sacrifice (one sheep). He said: “Fasting for three days, or feeding six poor persons, half a Sa of food for each one.” He said: ‘It was revealed specifically concerning me, but it applies to all of you.’”’’”

حضرت عبداللہ بن معقل سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں کہ میں کعب کے پاس مسجد میں بیٹھا تھا تو میں نے ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا (ففدیۃ من صیام او صدقۃ او نسک) حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ ﷺکے پاس لایا گیا اس حال میں کہ میرے سر سے جوئیں جھڑ رہی تھیں۔آپﷺنے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بہت تکلیف ہورہی ہے، میرے خیال میں تمہیں بکری نہیں مل سکتی ؟ میں نے کہا : نہیں ۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : (ففدیۃ من صیام او صدقۃ او نسک ) کہ اس کا فدیہ روزے ہیں یا صدقہ یا قربانی۔آپﷺنے فرمایا: تین دن کے روزے یا چھ مسکینوں کوکھانا کھلانا ، یا ہر مسکین کے لیے آدھا آدھا صاع کھانا کھلانا۔ حضرت کعب فرماتے ہیں کہ یہ آیت خاص طور پر میرے بارے میں نازل ہوئی لیکن اس کا حکم تمہارے لئے بھی عام ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِى زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَصْبَهَانِىِّ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ حَدَّثَنِى كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ - رضى الله عنه - أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مُحْرِمًا فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَدَعَا الْحَلاَّقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ « هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ ». قَالَ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ. فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً (فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ) ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً.

Kab bin Ujrah [may Allah be pleased with them] narrated that he went out with the Messenger of Allah (SAW) in Ihram, and his heas and beard was infested with lice. News of that reached the Prophet (SAW) and he sent for him and called the barber to shave his head, then he said to him: “Do you have an animal to sacrifice?” He said: “I cannot afford that.” So he told him to fast for three days, or feed to to six persons , giving a Sa to each two poor persons. Then Allah revealed the verse “And whosoever of you is ill or has an ailment in his scalp (necessitating shaving)” specifically about him, then it applies to all the Muslims in general.

عبداللہ بن معقل، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺکے ساتھ احرام کی حالت میں نکلے تو ان کے سر اور داڑھی میں جوئیں پڑگئیں یہ بات نبی ﷺتک پہنچی تو آپ ﷺنے اس کی طرف پیغام بھیج کر اس کو بلا لیا اور ایک حجام کو بلوا کر اس کا سر منڈوادیا پھر آپ ﷺنے فرمایا کیا تیرے پاس قربانی ہے؟ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میں اس کی قدرت نہیں رکھتا پھر آپ ﷺنے حضرت کعب کو حکم دیا کہ تین روزے رکھیں یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں ہر دو مسکینوں کے لئے ایک صاع کا کھانا ہو ۔پھر اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر یہ آیت نازل فرمائی (فمن کان منکم مریضا او بہ اذی من راسہ)پھر اس آیت کا حکم مسلمانوں کے لئے عام ہوگیا۔

123Last ›