Sayings of the Messenger

 

Chapter No: 1

بابُ تَحْرِيمِ طَلاَقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلاَقُ وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا

It is forbidden to divorce a menstruating woman without her consent, and if a man does against this rule the divorce is still effective, and he would be ordered to take her back

حائضہ عورت کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینے کی حرمت اور اگر کوئی طلاق دے دے تو طلاق واقع ہوگی اور مرد کو رجوع کرنے کا حکم

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيَتْرُكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِى أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife while she was menstruating, at the time of the Messenger of Allah (s.a.w). 'Umar bin Al-Khattab asked the Messenger of Allah (s.a.w) about that and the Messenger of Allah (s.a.w) said to him: "Tell him to take her back, then wait until she has become pure, then menstruated again, then become pure again. Then if he wishes he may keep her, or if he wishes he may divorce her before he has intercourse with her. That is the 'lddah (prescribed periods) for which Allah has enjoined the divorce of women."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے زمانہ میں انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ان کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلیں ، پھر اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے یہاں تک کہ حیض سے پاک ہوجائے ،پھر وہ حیض والی ہوجائیں ، پھر حیض سے پاک ہوجائے ، پھر چاہے اس کو رکھے ، یا اس کو چھونے سے پہلے طلاق دے ۔یہ وہ وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ وَقَالَ الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ - عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهْىَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِى أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ. وَزَادَ ابْنُ رُمْحٍ فِى رِوَايَتِهِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ لأَحَدِهِمْ أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَنِى بِهَذَا وَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلاَثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ وَعَصَيْتَ اللَّهَ فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِكَ. قَالَ مُسْلِمٌ جَوَّدَ اللَّيْثُ فِى قَوْلِهِ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً.

It was narrated from 'Abdullah that he divorced one of his wives while she was menstruating, with a single divorce. The Messenger of Allah (s.a.w) ordered him to take her back and keep her until she had become pure then menstruated again in his house. Then he should wait until she became pure again, then if he wished he could divorce her when she became pure, before having intercourse with her. That is the 'Iddah (prescribed periods) for which Allah has enjoined the divorce of women. Ibn Rumh added in his report: "When 'Abdullah was asked about that, he said to one of them: 'But if you have divorced your wife once or twice, the Messenger of Allah (s.a.w) told me to do that (i.e., take her back), but if you have divorced her three times, then she becomes unlawful to you until she marries another husband; and you have disobeyed Allah with regard to His commands about divorcing your wife."' Muslim said: Al-Laith did well with his saying: "A single divorce (a narrator)."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی۔رسول اللہ ﷺنے انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کریں ، پھر حیض سے پاک ہونے تک اپنی بیوی کو رکھیں۔پھر ایک اور مرتبہ ان کے پاس حیض والی ہوجائیں ، پھر ان کو حیض سے پاک ہونے تک مہلت دیں ، پھر اگر وہ اس کو طلاق دینا چاہیں تو اس طہر میں طلاق دیں جس میں ہمبستری نہ ہوئی ہو۔یہ وہ وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ابن رمح نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جب اس بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے تھے : جب تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی تو (تم رجوع کرسکتے ہو) اس لیے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے اس چیز کا حکم دیا تھا ، اور اگر تم نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تو تمہاری بیوی تم پر حرام ہوگئی یہاں تک کہ کسی اور شخص سے شادی کرے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا جو طریقہ بتایا تھا تم نے اس کی نافرمانی کی ہے ۔امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لیث نے اپنی روایت میں ایک طلاق کا لفظ عمدگی سے ذکر کیا ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ طَلَّقْتُ امْرَأَتِى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهْىَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيَدَعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا أَوْ يُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِى أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ». قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ قُلْتُ لِنَافِعٍ مَا صَنَعَتِ التَّطْلِيقَةُ قَالَ وَاحِدَةٌ اعْتَدَّ بِهَا.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "I divorced my wife at the time of the Messenger of Allah (s.a.w) while she was menstruating. 'Umar mentioned that to the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: 'Tell him to take her back, then let him wait until she becomes pure, then menstruates again, then when she becomes pure again, let him divorce her before having intercourse with her, or let him keep her. That is the 'Iddah (prescribed periods) for which Allah has enjoined the divorce of women."' 'Ubaidullah said: "I said to Nafi': 'What happened to that divorce?' He said: 'It was one divorce that was counted as such."'

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺکو اس واقعہ کے بارے میں بتایا ، تو آپﷺنے فرمایا: انہیں حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کریں۔پھر اس کو رہنے دو یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک و صاف ہوجائے ، پھر وہ ایک اور مرتبہ حیض والی ہوجائے پھر جب اس سے پاک ہوجائے تو پھر اس کو ہمبستری سے قبل طلاق دے دیں یا پھر اس کو اپنے پاس رہنے دیں، یہ وہ وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے ۔ راوی عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے پوچھا : طلاق کا کیا ہوا جو دی گئی تھی ؟ انہوں نے کہا: اس طلاق کو ایک شمار کیا گیا۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ عُبَيْدِ اللَّهِ لِنَافِعٍ. قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِى رِوَايَتِهِ فَلْيَرْجِعْهَا. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَلْيُرَاجِعْهَا.

A similar report (as no. 3654) was narrated from 'Ubaidullah with this chain, but he did not mention what 'Ubaidullah said to Nafi'.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے لیکن اس میں عبید اللہ کا سوال اور نافع کا جواب مذکور نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْجِعَهَا ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِى أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ. قَالَ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ يَقُولُ أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ. إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَهُ أَنْ يَرْجِعَهَا ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا وَأَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلاَثًا فَقَدْ عَصَيْتَ رَبَّكَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِكَ. وَبَانَتْ مِنْكَ.

It was narrated from Nafi' that Ibn 'Umar divorced his wife while she was menstruating, and 'Umar asked the Prophet (s.a.w) about that. He (s.a.w) ordered him to take her back, then wait until she had menstruated again, then wait until she became pure, then he could divorce her before having intercourse with her. That is the 'Iddah (prescribed periods) for which Allah has enjoined the divorce of women. He said: "When Ibn 'Umar was asked about a man who divorces his wife while she is menstruating, he would say: 'If you have divorced her once or twice, the Messenger of Allah (s.a.w) told him to take her back, then wait until she menstruated again, then wait until she became pure, then divorce her before having intercourse with her. If you divorced her three times, then you have disobeyed your Lord with regard to the manner in which He commanded you to divorce your wife, and the divorce is irrevocable."'

حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس بارے میں پوچھا :تو آپﷺنے حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ کو اس سے رجوع کرنے کا حکم دیا ، پھر اس کو ایک اور حیض آنے تک مہلت دے ، پھر حیض سے پاک ہونے تک مہلت دے دیں۔ پھر اس کو چھونے سے قبل (اسی طہر) میں طلاق دے ، یہ وہ وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے ۔پھر جب حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے کسی آدمی کے بارے میں سوال پوچھا جاتا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔تو وہ فرماتے : اگر تم نے ایک یا دو طلاقیں دی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے ، پھر اس کو مہلت دو یہاں تک کہ وہ ایک اور مرتبہ حیض والی ہوجائیں ، پھر اس کو مہلت دو کہ وہ اس سے پاک ہوجائے ، پھر اس کوچھونے سے قبل طلاق دے دو۔ اور اگر تم نے تین طلاقیں دے دیں ، تو اپنی بیوی سے طلاق دینے کا جو حکم تجھے دیا گیا تھا تم نے اس میں اپنے رب کی نافرمانی کی۔اور تمہاری بیوی تم سے بائنہ (ہمیشہ کے لیے جدا) ہوگئی ۔


حَدَّثَنِى عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنِى يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - وَهُوَ ابْنُ أَخِى الزُّهْرِىِّ - عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ طَلَّقْتُ امْرَأَتِى وَهْىَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ قَالَ « مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى مُسْتَقْبَلَةً سِوَى حَيْضَتِهَا الَّتِى طَلَّقَهَا فِيهَا فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا مِنْ حَيْضَتِهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَذَلِكَ الطَّلاَقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ ». وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ طَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَحُسِبَتْ مِنْ طَلاَقِهَا وَرَاجَعَهَا عَبْدُ اللَّهِ كَمَا أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

'Abdullah bin 'Umar said: "I divorced my wife while she was menstruating. 'Umar mentioned that to the Prophet (s.a.w) and the Messenger of Allah (s.a.w) got angry and said: 'Tell him to take her back until she has menstruated again, a menses other than that in which he divorced her. Then if he wants to divorce her, let him divorce her when she is pure of menses and before he has intercourse with her. That is divorce at the time prescribed by Allah."' 'Abdullah had divorced her once, and that was counted as one divorce. And 'Abdullah took her back as the Messenger of Allah (s.a.w) commanded him.

حضرت سالم سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس واقعہ کا ذکر کیا،رسول اللہ ﷺناراض ہوگئے ، پھر آپﷺنے فرمایا: اس کو حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کریں یہاں تک کہ جس حیض میں اس نے طلاق دی ہے اس کے علاوہ ایک اور حیض گزرجائے ، پھر اگر وہ اس کو طلاق دینا چاہتا ہے تو طلاق دے لیکن حیض سے پاک ہونے کے بعد (یعنی طہر میں) اور چھونے سے قبل ۔یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق طلاق دینے کا وقت ہے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر نے ایک طلاق دی تھی جو کہ شمار کر لی گئی تھی۔اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺکے حکم کے مطابق اس طلاق سے رجوع کرلیا تھا۔


وَحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِى الزُّبَيْدِىُّ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَرَاجَعْتُهَا وَحَسَبْتُ لَهَا التَّطْلِيقَةَ الَّتِى طَلَّقْتُهَا.

It was narrated from Az-Zuhri with this chain (a Hadith similar to no. 3657), except that he said: "...Ibn 'Umar said: 'So I took her back, and that was counted as one divorce that I had given her."'

ایک اور سندسے بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ کا یہ قول موجود ہے کہ میں نے اس سے رجوع کرلیا تھا اور میں نے جو طلاق دی تھی اس کو شمار کرلیا گیا تھا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلاً ».

It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife while she was menstruating. 'Umar mentioned that to the Prophet (s.a.w) who said: "Tell him to take her back, then divorce her when she is pure or pregnant."

حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کا نبی ﷺسے ذکر کیا ہے ، تو آپﷺنے فرمایا: اس کو حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کریں ، پھراس کو حیض سے پاک ہونے کے بعد یا پھر حالت حمل میں طلاق دے۔


وَحَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِى سُلَيْمَانُ - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ يُطَلِّقَ بَعْدُ أَوْ يُمْسِكَ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that he divorced his wife while she was menstruating. 'Umar asked the Messenger of Allah (s.a.w) about that and he said: "Tell him to take her back until she becomes pure, then menstruates again, then becomes pure, then he may divorce her after that or keep her."

حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کا نبی ﷺسے ذکر کیا ہے ، تو آپﷺنے فرمایا: اس کو حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کریں ، پھراس کو حیض سے پاک ہونے کے بعد یا پھر حالت حمل میں طلاق دے۔


وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ مَكَثْتُ عِشْرِينَ سَنَةً يُحَدِّثُنِى مَنْ لاَ أَتَّهِمُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا وَهْىَ حَائِضٌ فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَجَعَلْتُ لاَ أَتَّهِمُهُمْ وَلاَ أَعْرِفُ الْحَدِيثَ حَتَّى لَقِيتُ أَبَا غَلاَّبٍ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ الْبَاهِلِىَّ. وَكَانَ ذَا ثَبَتٍ فَحَدَّثَنِى أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهْىَ حَائِضٌ فَأُمِرَ أَنْ يَرْجِعَهَا - قَالَ - قُلْتُ أَفَحُسِبَتْ عَلَيْهِ قَالَ فَمَهْ. أَوَإِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ

It was narrated that Ibn Sirin said: For twenty years those whom I trust narrated to me that Ibn 'Umar divorced his wife thrice while she was menstruating and he was told to take her back. I did not doubt them, but I did not hear the Hadith from anyone else either, until I met Abu Ghallab, Yunus bin Jubair Al-Bahili, who was very reliable. He told me that he asked Ibn 'Umar, who told him that he had divorced his wife with one divorce while she was menstruating, and he was commanded to take her back. He said: I said:" 'Was that counted as a divorce?' He said: 'Of course; it must be counted even if he failed and acted foolishly."

ابن سیرین کہتے ہیں کہ بیس سال تک ایک ثقہ آدمی مجھے یہ حدیث بیان کرتا رہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔اور انہیں حکم دیا گیا کہ اس سے رجوع کریں۔میں اس راوی پر بدگمانی تو نہیں کرتا تھا ، لیکن مجھے اس حدیث میں اشکال تھا یہاں تک کہ میری ملاقات ابو غلاب یونس بن جبیر باہلی سے ہوئی جو بہت مستند شخص تھے ۔ انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں ایک طلاق دی تھی ، اور انہیں اس طلاق سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ، راوی نے پوچھا کہ وہ طلاق شمار کی گئی تھی ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں ، کیا وہ عاجز اور بیوقوف ہیں جو ا س طلاق کو شمار نہیں کرے گا ۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ وَقُتَيْبَةُ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَمَرَهُ.

A similar report (as no. 3661) was narrated from Ayyub with this chain, except that he said: " 'Umar asked the Prophet (s.a.w) and he told him..."

ایک اور سند میں اسی طرح روایت ہے صرف اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے یہ مسئلہ پوچھا تو آپﷺنے انہیں (رجوع کرنے کا ) حکم دیا۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّى عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِى الْحَدِيثِ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ وَقَالَ « يُطَلِّقُهَا فِى قُبُلِ عِدَّتِهَا ».

It was narrated from Ayyub with this chain (a Hadith similar to no. 3661), and he said in the Hadith: "Umar asked the Prophet (s.a.w) about that, and he told him to take her back, until he could divorce her when she was pure, without having had intercourse with her. And he said: 'Divorce her at the beginning of her 'Iddah."'

ایک اور سند سے یہ روایت اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس مسئلہ کے بارے میں نبی ﷺسے پوچھا تو آپﷺنے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا ، حتی کہ اس طہر میں طلاق دے جس میں مباشرت نہ ہوئی ہو۔ اور فرمایا: اس مدت کے شروع میں طلاق دے دیں۔


وَحَدَّثَنِى يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ يُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْجِعَهَا ثُمَّ تَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا. قَالَ فَقُلْتُ لَهُ إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ أَتَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ فَقَالَ فَمَهْ أَوَإِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ

It was narrated that Yunus bin Jubair said: "I said to Ibn 'Umar: 'A man divorced his wife while she was menstruating.' He said: 'Do you know 'Abdullah bin 'Umar? He divorced his wife while she was menstruating, and 'Umar went to the Prophet (s.a.w) and asked him (about that), and he told him to take her back, so that she might start her 'Iddah."' He said: "I said to him: 'If a man divorces his wife while she is menstruating, does that count as a divorce?' He said: 'Of course; it must be counted even if he failed and acted foolishly."'

یونس بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک شخص نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دی ہے ، انہوں نے فرمایا: کیا تم عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں پہچانتے ، انہوں نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺکے پاس تشریف لائے اور آپﷺسے مسئلہ دریافت کیا تو آپﷺنے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: دوبارہ عدت شروع کرے۔ پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے تو کیا وہ طلاق شمار ہوگی ، انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، کیا وہ عاجز اور بیوقوف ہیں جو ا س طلاق کو شمار نہیں کرے گا ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ طَلَّقْتُ امْرَأَتِى وَهْىَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لِيُرَاجِعْهَا. فَإِذَا طَهَرَتْ فَإِنْ شَاءَ فَلْيُطَلِّقْهَا ». قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ أَفَاحْتَسَبْتَ بِهَا قَالَ مَا يَمْنَعُهُ. أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ

Ibn 'Umar said: "I divorced my wife while she was menstruating, and 'Umar went to the Prophet (s.a.w) and told him about that. The Prophet (s.a.w) said: 'Let him take her back, then when she becomes pure, if he wishes he may divorce her.' He (the narrator) said: "I said to Ibn 'Umar: 'Was that counted (as a divorce)?' He said: 'Why wouldn't it be? It must be counted even if he failed and acted foolishly."'

یونس بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی،تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر اس بات کا تذکرہ کیا ،آپﷺنے فرمایا: وہ اس طلاق سے رجوع کرلیں ، جب وہ پاک ہوجائیں تو پھر چاہیں اس کو طلاق دیں ، راوی کہتا ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا وہ طلاق شمار کی گئی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ابن عمر کو طلاق شمارکرنے سے کون سی چیز مانع تھی؟کیا تمہارے خیال میں وہ عاجر اور بیوقوف تھے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِى طَلَّقَ فَقَالَ طَلَّقْتُهَا وَهْىَ حَائِضٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهَرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا لِطُهْرِهَا ». قَالَ فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ طَلَّقْتُهَا لِطُهْرِهَا. قُلْتُ فَاعْتَدَدْتَ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ الَّتِى طَلَّقْتَ وَهْىَ حَائِضٌ قَالَ مَا لِىَ لاَ أَعْتَدُّ بِهَا وَإِنْ كُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ.

It was narrated that Anas bin Sirin said: "I asked Ibn 'Umar about his wife whom he divorced. He said: 'I divorced her while she was menstruating, and I told 'Umar about that, and he told the Prophet (s.a.w), who said: "Tell him to take her back, then when she becomes pure, he may divorce her when she is pure." He said: 'So I took her back, then I divorced her when she was pure.' I said: 'Was that divorce that you gave her while she was menstruating counted as such? He said: 'Why wouldn't I count it? It must be counted even if I failed and acted foolishly."'

ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی بیوی کی طلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے حالت حیض میں انہیں طلاق دی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر ہوا ، تو انہوں نے نبی ﷺسے اس کا تذکرہ کیا ، تو آپﷺنے فرمایا: ان کوحکم دو کہ وہ اس سے رجوع کریں۔پھر جب وہ (حیض سے) پاک ہوجائے تو اس کو طہر میں طلاق دو،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس طلاق سے رجوع کرلیا ، پھر طہر میں طلاق دے دی۔ میں نے پوچھا :آپ نے حالت حیض میں جو طلاق دی تھی اس کو شمار کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں اس کو کیوں نہ شمار کرتا ، کیا میں عاجر اور احمق تھا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ طَلَّقْتُ امْرَأَتِى وَهْىَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ « مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ إِذَا طَهَرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا ». قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ أَفَاحْتَسَبْتَ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ قَالَ فَمَهْ.

It was narrated from Anas bin Sirin that he heard Ibn 'Umar said: "I divorced my wife while she was menstruating. 'Umar went to the Prophet (s.a.w) and told him about that, and he said: 'Tell him to take her back, then when she becomes pure, let him divorce her.' I said to Ibn 'Umar: 'Did you count that divorce as such?' He said: 'Of course."'

ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر اس بات کی خبر دی ، تو آپﷺنے فرمایا: انہیں حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرلیں۔پھر جب وہ اس طلاق سے پاک ہوجائے تو اس کو طلاق دے دیں ، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ نے اس طلاق کو شمار کرلیا تھا ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔


وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ح وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِى حَدِيثِهِمَا « لِيَرْجِعْهَا ». وَفِى حَدِيثِهِمَا قَالَ قُلْتُ لَهُ أَتَحْتَسِبُ بِهَا قَالَ فَمَهْ.

Shu'bah narrated with this chain (a Hadith similar to no. 3667), except that in their Hadith it says: "... Let him take her back.'' And in their Hadith (it says): He said: "I said to him: 'Did you count it as such?' He said: 'Of course."'

امام مسلم نے دو سندوں کے ساتھ یہ روایت ذکر کی ہے ۔ پہلی سند میں ہے اس کو اس طلاق سے رجوع کرنا چاہیے۔ اور دوسری سند میں ہے کہ کیا طلاق شمار کی گئی تھی، انہوں نے کہا : کیوں نہیں۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُسْأَلُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ نَعَمْ. قَالَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَذَهَبَ عُمَرُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا قَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ لأَبِيهِ.

Ibn Tawus narrated from his father that he heard Ibn 'Umar being asked about a man who divorced his wife while she was menstruating. He said: "Do you know 'Abdullah bin 'Umar?" He said: "Yes." He said: "He divorced his wife while she was menstruating, and 'Umar went to the Prophet (s.a.w) and told him the news. He told him to take her back." He (Ibn Tawus) said: "I did not hear him - his father - say any more than that."

طاؤس کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے کسی آدمی کے بارے میں سوال پوچھا جارہا تھا کہ اس نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم حضرت ابن عمر کو پہچانتے ہو؟ طاؤس نے کہا: ہاں ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دی تھی،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس کا تذکرہ کیا تو آپﷺنے اسے رجوع کرنے کا حکم دیا۔ ابن طاؤس کہتے ہیں انہوں نے اپنے والد سے یہ حدیث نہیں سنی تھی۔


وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عَزَّةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ ذَلِكَ كَيْفَ تَرَى فِى رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَقَالَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهْىَ حَائِضٌ. فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لِيُرَاجِعْهَا ». فَرَدَّهَا وَقَالَ « إِذَا طَهَرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ ». قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَقَرَأَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَا أَيُّهَا النَّبِىُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِى قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ.

Abu Az-Zubair narrated that he heard 'Abdur-Rahman bin Ayman, the freed slave of 'Azzah, asking Ibn 'Umar, and Abu Az-Zubair heard that: "What do you think of a man who divorces his wife when she is menstruating?" He said: "Ibn 'Umar divorced his wife while she was menstruating, at the time of the Messenger of Allah (s.a.w)." 'Umar asked the Messenger of Allah (s.a.w) (about it), saying: ''Abdullah bin 'Umar has divorced his wife when she is menstruating.' The Prophet (s.a.w) said to him: 'Let him take her back.' So he took her back. And he said: 'When she becomes pure, let him divorce her or let him keep her."' Ibn 'Umar said: "And the Prophet (s.a.w) recited the words: O Prophet! When you divorce women, divorce them at their 'Iddah (prescribed periods) ..."

عبد الرحمن بن ایمن جو عزہ کے غلام تھے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس حال میں کہ ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سن رہے تھے ، اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دی؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عبد اللہ بن عمر نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دی ، تو نبی ﷺنے انہیں کہا کہ اس سے رجوع کرلیں ، اور فرمایا: جب وہ حیض سے پاک ہوجائیں تو اس کو طلاق دے دو یا اس کو رکھ لو، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی ﷺنے یہ آیت پڑھی : اے نبیﷺ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔


وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ. نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ.

A similar story (as no. 3670) was narrated from Ibn 'Umar.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عُرْوَةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَجَّاجٍ وَفِيهِ بَعْضُ الزِّيَادَةِ. قَالَ مُسْلِمٌ أَخْطَأَ حَيْثُ قَالَ عُرْوَةَ إِنَّمَا هُوَ مَوْلَى عَزَّةَ.

Abu Az-Zubair narrated that he heard 'Abdur-Rahman bin Ayman, the freed slave of 'Urwah, asking Ibn 'Umar, when Abu Az-Zubair was listening... a Hadith like that of Hajjaj (no. 3670), with some additions. Muslim said: He made a mistake when he said "... the freed slave of 'Urwah"; he was the freed slave of' Azzah.

عبد الرحمن بن ایمن جوعروہ کے غلام تھے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس حال میں کہ ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سن رہے تھے ، آگے اسی طرح حسب سابق مذکور ہے ، مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کہ اس میں عبد الرحمن بن ایمن عروہ کے غلام نہیں ہیں بلکہ عزہ کے غلام ہیں۔

Chapter No: 2

باب طَلاَقِ الثَّلاَثِ

Regarding the threefold divorce

تین طلاقوں کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الطَّلاَقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ طَلاَقُ الثَّلاَثِ وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِى أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ. فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "During the time of the Messenger of Allah (s.a.w), Abu Bakr and the first two years of 'Umar's Khilafah, a threefold divorce was counted as one. Then 'Umar bin Al-Khattab said: 'People have become hasty in a matter in which they should take their time. I am thinking of holding them to it.' So he made it binding upon them."

طاؤس بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺکے زمانے میں ، اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خلافت کے ابتدائی دوسالوں میں جو شخص بیک وقت تین طلاقیں دیتا تھا وہ ایک طلاق شمار کیا جاتا تھا، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں نے اس معاملے میں عجلت شروع کردی ہے جس میں ان کے لیے مہلت تھی ، تو اگر ہم بیک وقت تین طلاقوں کو نافذکردیں تو بہتر ہوگا ، پھر انہوں نے تین طلاقوں کے نافذ کرنے کا حکم دیا۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَتَعْلَمُ أَنَّمَا كَانَتِ الثَّلاَثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَثَلاَثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ.

Ibn Tawus narrated from his father that Abu As-Sahba' said to Ibn 'Abbas: "Do you know that the threefold divorce was regarded as one at the time of the Messenger of Allah (s.a.w) and Abu Bakr, and for three years of 'Umar's leadership?" He said: "Yes."

طاؤس بیان کرتے ہیں کہ ابو صہباء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی ﷺکے زمانے میں ، اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی تین سالوں میں بیک وقت دی گئی تین طلاقین ایک طلاق شمار ہوتی تھی ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِىِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ هَاتِ مِنْ هَنَاتِكَ أَلَمْ يَكُنِ الطَّلاَقُ الثَّلاَثُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَاحِدَةً فَقَالَ قَدْ كَانَ ذَلِكَ فَلَمَّا كَانَ فِى عَهْدِ عُمَرَ تَتَايَعَ النَّاسُ فِى الطَّلاَقِ فَأَجَازَهُ عَلَيْهِمْ.

It was narrated from Tawus that Abu As-Sahba' said to Ibn 'Abbas: "Tell us of something interesting that you know. Wasn't the threefold divorce counted as one at the time of the Messenger of Allah (s.a.w) and Abu Bakr?" He said: "That was so, then at the time of 'Umar the people began to issue divorces frequently, so he made it binding upon them."

طاؤس بیان کرتے ہیں کہ ابو صہباء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: اپنی عطیہ میں سے دو، کیا رسول اللہ ﷺکے زمانے میں اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیک وقت دی گئی تین طلاقیں ایک طلاق شمار نہیں ہوتی تھی ؟حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسا ہی تھا ، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے متواتر طلاقیں دینا شروع کردیں تو انہوں نے اس کو نافذکردیا۔

Chapter No: 3

بابُ وُجُوبِ الْكَفَّارَةِ عَلَى مَنْ حَرَّمَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يَنْوِ الطَّلاَقَ

About the obligation of expiation upon the one who made his wife unlawful for him but did not intend to divorce

کفارہ کے وجوب کا بیان جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی

وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ - يَعْنِى الدَّسْتَوَائِىَّ - قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ يَحْيَى بْنُ أَبِى كَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِى الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ).

It was narrated from Ibn 'Abbas that he used to say concerning declaring one's wife to be unlawful: "It is an oath for which expiation must be offered." Ibn 'Abbas said: "Indeed in the Messenger of Allah you have a good example to follow for him..."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ (اپنی بیوی)کو حرام کہنا قسم ہے اس کا کفارہ لازم ہے اور وہ فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ ﷺکی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِىُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ - يَعْنِى ابْنَ سَلاَّمٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ أَنَّ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا حَرَّمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ فَهْىَ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا وَقَالَ (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)

Sa'eed bin Jubair narrated that he heard Ibn Abbas say: "If a man declares his wife to be unlawful for him, this is an oath for which expiation must be offered." And he said: "Indeed in the Messenger of Allah you have a good example to follow for him..."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرے تو یہ قسم ہے ، اور وہ اس کا کفارہ دے ، اور( مزید) فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ ﷺکی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً قَالَتْ فَتَوَاطَأْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَلْتَقُلْ إِنِّى أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ « بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ ». فَنَزَلَ (لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ) إِلَى قَوْلِهِ (إِنْ تَتُوبَا) لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ (وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِىُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا) لِقَوْلِهِ « بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً ».

'Aishah narrated that the Prophet (s.a.w) used to stay with Zainab bint Jahsh and drink honey in her house. She said: "Hafsah and I agreed that whichever of us the Prophet (s.a.w) entered upon first, she should say: 'I can smell Maghafir on you; have you eaten Maghafir?' He entered upon one of them and she said that to him. He said: 'No, I drank honey at the house of Zainab bint Jahash, but I will never do it again.' Then the following verses were revealed: "Why do you forbid (for yourself) that which Allah has allowed to you" up to the words, "If you two turn in repentance to Allh" - addressing 'Aishah and Hafsah - The phrase "And (remember) when the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his wives" (in verse 3) refers to him saying: 'No, I drank honey."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بتاتی ہیں کہ نبی ﷺحضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور شہد پیتے تھے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی رسول اللہ ﷺتشریف لائیں تو وہ یہ کہے کہ مجھے آپﷺسے مغافیر (ایک قسم کا گوند جس کی بو آپﷺکو نا پسند تھی) کی بو آرہی ہے ، کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ تو آپﷺکسی ایک کے پاس تشریف لائے ، اور اس نے آپﷺسے ایسا ہی کہا: آپﷺنے فرمایا: نہیں ! میں نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے ، اور میں دوبارہ اس کو نہیں پیوں گا۔پھر یہ آیت نازل ہوئی : لم تحرم ما احل اللہ لک آخرتک۔ یہ آیت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، اور ”واذا اسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا “ترجمہ: جب نبی ﷺنے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی ، اس سے مقصود آپﷺکا یہ فرمانا ہے نہیں میں نے شہد پیا تھا۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ فَقِيلَ لِى أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْهُ شَرْبَةً فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ وَقُلْتُ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ فَقُولِى لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ لاَ. فَقُولِى لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ - فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ سَقَتْنِى حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ. فَقُولِى لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ ذَلِكَ لَهُ وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ وَالَّذِى لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِى قُلْتِ لِى وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ فَرَقًا مِنْكِ فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ « لاَ ». قَالَتْ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ قَالَ « سَقَتْنِى حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ ». قَالَتْ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ. فَلَمَّا دَخَلَ عَلَىَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ فَقَالَتْ بِمِثْلِ ذَلِكَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أَسْقِيكَ مِنْهُ قَالَ « لاَ حَاجَةَ لِى بِهِ ». قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ. قَالَتْ قُلْتُ لَهَا اسْكُتِى. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا سَوَاءً.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) liked sweets and honey, and when he had prayed 'Asr, he would go around to his wives and get close to them. He entered upon Hafsah and stayed there longer than he usually did. I asked about that and I was told that a woman from among her people had given her a small vessel of honey as a gift, and she had poured some for the Prophet (s.a.w) to drink. I said: 'By Allah, we will play a trick on him.' I mentioned that to Sawdah and said: 'When he enters upon you, he will get close to you, so say to him: "O Messenger of Allah, have you eaten Maghafir?" He will say to you: "No." So say to him: "What is this smell?" - for the Messenger of Allah (s.a.w) hated to have any smell coming from him -He will tell you: "Hafsah poured me a drink of honey." Say to him: "The bees must have sipped the nectar of Al-Urfat." I will say that to him too, and you say it as well, O Safiyyah.'Then he entered upon Sawdah." She said: "Sawdah used to say: 'By the One besides Whom there is none worthy of worship, I nearly decided to tell him what you had told me to say, when he was at the door, but I was afraid of you.' When the Messenger of Allah (s.a.w) drew close, she said: 'O Messenger of Allah, have you eaten Maghafir?' He said: 'No.' She said: 'Then what is this smell?' He said: 'Hafsah poured me a drink of honey.' She said: 'The bees must have sipped the nectar of Al' Urfut.' When he entered upon me, I said the same thing, then he entered upon Safiyyah and she said the same thing. When he entered upon Hafsah she said: 'O Messenger of Allah, shall I pour you some?' He said: 'I have no need of it."' "Sawdah said: 'Subhan-Allah, we have deprived him of it.' I said to her: 'Be quiet!"'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺمٹھاس اور شہد کو پسند فرماتے تھے ، عصر کی نماز کے بعد آپﷺ اپنی ازواج مطہرات کے پاس جاتے تھے ، ایک مرتبہ آپﷺحضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، اور ان کے پاس معمول سے زیادہ وقت ٹھہرے ، میں نے اس کے بارے میں پوچھا مجھے یہ بتلایا گیا کہ حفصہ کی قوم کی ایک عورت نے انہیں شہد بھیجا تھا ، اور حفصہ نے رسول اللہ ﷺکو اس سے شہد پلایا،میں نے کہا: اللہ کی قسم! اب ہم کوئی تدبیر کریں گے ، میں نے اس کا ذکر حضرت سودہ سے کیا ، اورکہا: جب رسول اللہ ﷺآپ کے پاس آئیں گے یا آپ کے قریب جائیں گے تو تم نے یہ کہنا: یارسول اللہ ﷺ! آپ نے مغافیر کھایا ہے ،وہ آپ کو فرمائیں گے :نہیں،تم نے یہ کہنا پھر یہ بو کس چیز کی ہے ؟اور رسول اللہ ﷺکو یہ بات سخت ناپسند تھی کہ آپﷺسے بو آئے ۔پھر آپﷺیہ کہیں گے کہ مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلایا تھا ،تم نے یہ کہنا ہوسکتا ہے کہ شہد کی مکھیوں نے درخت عرفط کا رس چوسا ہوگا ،میں بھی یہی کہوں گا اور اے صفیہ! تم بھی یہی کہنا ، جب آپ ﷺ حضرت سودہ کے پاس تشریف لائے تو حضرت سودہ فرماتی ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔اور میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں وہی بات کہوں گا جو تم نے مجھے بتائی تھی، ابھی آپﷺدروازے پر ہی تھے کہ حضرت سودہ نے کہا: یارسول اللہ ﷺ! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: نہیں ، حضرت سودہ نے کہا: پھر یہ بو کس چیز کی ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: حضرت حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا تھا،حضرت سودہ نے کہا: شاید اس شہد کی مکھیوں نے عرفط کے درخت کو چوسا ہوگا ، پھر جب آپﷺمیرے پاس آئے تو میں نے بھی یہی کہا: پھر جب آپ ﷺحضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا ۔ پھر جب آپﷺ حضرت حفصہ کے پاس گئے تو انہوں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ!کیا میں آپ کوشہد نہ پلاؤں ؟ آپﷺنے فرمایا: مجھے ا س کی ضرورت نہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ نے کہا :اللہ کی قسم ! ہم نے آپﷺپر شہد کو حرام کردیا، میں نے ان سے کہا: چپ رہو۔


وَحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 3679) was narrated from Hisham bin 'Urwah with this chain.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے۔

Chapter No: 4

بابُ بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لاَ يَكُونُ طَلاَقًا إِلاَّ بِالنِّيَّةِ

Giving free choice to one’s wife is not counted as divorce unless there is a clear intention for that

اپنی بیوی کو مجرد اختیار دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی جب تک کہ نیت نہ ہو۔

وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِىُّ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِى فَقَالَ « إِنِّى ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تَعْجَلِى حَتَّى تَسْتَأْمِرِى أَبَوَيْكِ ». قَالَتْ قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَىَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِى بِفِرَاقِهِ قَالَتْ ثُمَّ قَالَ « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ( يَا أَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلاً وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا) قَالَتْ فَقُلْتُ فِى أَىِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَىَّ فَإِنِّى أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ. قَالَتْ ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَ مَا فَعَلْتُ.

'Aishah said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) was commanded to give his wives the choice, he started with me. He said: 'I am going to tell you something, and you must not hasten to decide until you consult your parents.' He knew that my parents would never tell me to leave him. Then he said: 'Allah [the Mighty and Sublime] says: O Prophet! Say to your wives: "If you desire the life of this world, and its glitter, then come! I will make a provision for you and set you free in a handsome manner (divorce). But if you desire Allah and His Messenger, and the Home of the Hereafter, then verily, Allah has prepared for Al-Muhsinat (good-doers) amongst you an enormous reward."' She said: I told him: 'Why would I need to consult my parents about this? For surely I desire Allah and His Messenger and the Home of the Hereafter.' Then the wives of the Messenger of Allah (s.a.w) all did the same as I had done."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺکو حکم دیا گیا کہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دو، تو آپﷺنے(سب سے پہلے) مجھ سے شروع کیا اور فرمانے لگے : میں تم سے ایک چیز کا ذکر کرنے لگا ہوں،( دیکھ لو) تم اس میں جلدی نہ کرنا اپنے والدین سے اس بارے میں مشورہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کہ آپﷺکو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے علیحدگی کا مشورہ نہیں دیں گے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :آپﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے نبیﷺ! اپنی بیویوں سے کہہ دو،اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو،تو آؤ میں تمہیں دنیوی سامان دیکر اچھائی کے ساتھ رخصت کردوں ۔اور اگر تم اللہ ، اور اس کے رسول ، اور آخرت کے گھر کا ارادہ کرتی ہو، تو جان لو تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم تیار کررکھا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: اس میں والدین سے مشورہ کرنے کی کیا ضرورت؟ میں اللہ ، اور اس کے رسول =ﷺاور دار آخرت کا ارادہ کرتی ہوں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر رسول اللہﷺکی باقی ازواج نے بھی میری طرح فیصلہ کیا۔


حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا كَانَ فِى يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ مَا نَزَلَتْ (تُرْجِى مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِى إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ) فَقَالَتْ لَهَا مُعَاذَةُ فَمَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا اسْتَأْذَنَكِ قَالَتْ كُنْتُ أَقُولُ إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَىَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِى.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to ask us for permission - if it was the day of one of us - after the verse "You can postpone (the turn of) whom you will of them (your wives), and you may receive whom you will.'' was revealed. Mu'adhah said to her: 'What did you say to the Messenger of Allah (s.a.w) when he asked you for permission?' She said: 'If it had been up to me I would not have shown preference to anyone over myself.'"

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب کسی زوجہ کی باری ہوتی تھی تو رسول اللہ ﷺاس سے اجازت طلب کرتے تھے،پھر جب یہ آیت نازل ہوئی ” ترجی من تشاء منھن وتووی الیک من تشاء “ آپ ان میں سے جسے چاہیں الگ رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس رکھیں، تو معاذہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : اگر رسول اللہ ﷺآپ سے اجازت طلب کرتے تو آپ کیا کہتی تھیں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: میں یہ کہتی تھی اگر یہ معاملہ میری طرف مفوض ہوتا تو میں اپنی ذات پر کسی کو ترجیح نہ دیتی۔


وَحَدَّثَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 3682) was narrated by 'Asim.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمْ نَعُدَّهُ طَلاَقًا.

It was narrated that Masruq said: "'Aishah said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) gave us the choice but we did not count it as a divorce."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں اختیار دیا تھا ، ہم اس اختیار کو طلاق شمار نہیں کرتے تھے۔(یعنی نکاح میں رہنے یا نہ رہنے کا اختیار)


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ مَا أُبَالِى خَيَّرْتُ امْرَأَتِى وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً أَوْ أَلْفًا بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِى وَلَقَدْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَفَكَانَ طَلاَقًا

It was narrated that Masruq said: "I would not care if I gave my wife the choice once or a hundred times or a thousand times, after she has chosen me. I asked 'Aishah and she said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) gave us the choice - was that a divorce?"'

مسروق کہتے ہیں کہ جب میری بیوی مجھے اختیار کرچکی ہے تو پھر مجھے اس کو ایک مرتبہ ، یا سو مرتبہ ، یا ہزار مرتبہ اختیار دینے میں کوئی پرواہ نہیں ،میں نے اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ ﷺنے اختیار دیا تھا کیا وہ طلاق تھی؟


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَيَّرَ نِسَاءَهُ فَلَمْ يَكُنْ طَلاَقًا.

It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) gave his wives the choice, and that was not a divorce.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنی ازواج مطہرات کو اختیار دیا تھا لیکن یہ طلاق نہیں تھی۔


وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِى خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّهُ طَلاَقًا.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) gave us the choice and we chose him, and he did not count that as a divorce."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں اختیار دیا تھا ، ہم نے آپ کو اختیار کرلیا ، تو اس کو طلاق شمار نہیں کیا ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعْدُدْهَا عَلَيْنَا شَيْئًا.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) gave us the choice and we chose him, and he did not count that as anything against us."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں اختیار دیا تھا ، ہم نے آپ کو اختیار کرلیا ، تو اس کو آپﷺنے ہمارے اوپر طلاق شمار نہیں کیا۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 3688) was narrated from 'Aishah.

ایک اور سند سے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہےو


وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لأَحَدٍ مِنْهُمْ - قَالَ - فَأُذِنَ لأَبِى بَكْرٍ فَدَخَلَ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَوَجَدَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمًا سَاكِتًا - قَالَ - فَقَالَ لأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِى النَّفَقَةَ فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَقَالَ « هُنَّ حَوْلِى كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِى النَّفَقَةَ ». فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا فَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا كِلاَهُمَا يَقُولُ تَسْأَلْنَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا لَيْسَ عِنْدَهُ. فَقُلْنَ وَاللَّهِ لاَ نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَيْئًا أَبَدًا لَيْسَ عِنْدَهُ ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أَوْ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةُ (يَا أَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ) حَتَّى بَلَغَ (لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا) قَالَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ فَقَالَ « يَا عَائِشَةُ إِنِّى أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكَ أَمْرًا أُحِبُّ أَنْ لاَ تَعْجَلِى فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِى أَبَوَيْكِ ». قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَلاَ عَلَيْهَا الآيَةَ قَالَتْ أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوَىَّ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ وَأَسْأَلُكَ أَنْ لاَ تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِى قُلْتُ. قَالَ « لاَ تَسْأَلُنِى امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلاَّ أَخْبَرْتُهَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِى مُعَنِّتًا وَلاَ مُتَعَنِّتًا وَلَكِنْ بَعَثَنِى مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا ».

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "Abu Bakr came in, seeking permission to enter upon the Messenger of Allah (s.a.w), and he found the people sitting at his door, and they were not given permission to enter. Permission was given to Abu Bakr and he entered. Then 'Umar came and asked for permission, and permission was granted. He found the Messenger of Allah (s.a.w) sitting silently, with his wives around him. He said: 'I am going to say something to you which will make the Prophet (s.a.w) smile.' He said: 'O Messenger of Allah, if you had seen the daughter of Kharijah asking me for (more) maintenance, and I got up and poked her on the neck.' The Messenger of Allah (s.a.w) smiled and said: 'They are around me, as you can see, asking me for (more) maintenance.' Abu Bakr got up and poked 'Aishah on the neck, and 'Umar got up and poked Hafsah on the neck, and both of them said: 'Are you asking the Messenger of Allah (s.a.w) for that which he does not have?' They said: 'By Allah, we will never ask the Messenger of Allah (s.a,w) for something that he does not have.' Then he (s.a.w) stayed away from them for a month or twenty-nine days, then this verse was revealed to him: O Prophet! Say to your wives: "If you desire the life of this world, and its glitter, then come! I will make a provision for you and set you free in a handsome manner (divorce). But if you desire Allah and His Messenger, and the Home of the Hereafter, then verily, Allah has prepared for Al-Muhsinat (good doers) amongst you an enormous reward.'' He started with 'Aishah. He said: 'O 'Aishah, I want to suggest something to you, but I want you not to rush to answer until you consult your parents.' She said: 'What is it, O Messenger of Allah?' He recited this verse to her and she said: 'Do I need to consult my parents (concerning you), O Messenger of Allah? No, I choose Allah and His Messenger and the Home of the Hereafter. But I ask you not to tell any of your wives what I have said.' He said: 'None of them will ask, but I will tell her. Allah did not send me to make things hard for people in the hope that they would make mistakes, rather He sent me to teach and make things easy."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ ﷺکی خدمت میں اجازت طلب کی ، تو دیکھا لوگ آپﷺکے دروازے پر جمع ہیں اور کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی،حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اندر جانے کی اجازت دی گئی، اور وہ اند چلے گئے ،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے انہوں نے بھی اجازت طلب کی تو انہیں بھی اجازت دی گئی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺکو خاموش اور غمگیں پایا ، اور آپﷺکے ارد گرد ازواج مطہرات بیٹھی ہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ضرور ایسی بات کروں گا جس سے نبی ﷺکو ہنسی آجائے ، تو عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ! کاش کہ آپ ﷺ خارجہ کی بیٹی (حضرت عمر کی بیوی) کو دیکھتے اس نے مجھ سے خرچہ کا مطالبہ کیا ، میں نے کھڑے ہوکر اس گلا گھونٹنا شروع کردیا۔رسول اللہ ﷺکو ہنسی آگئی اور آپﷺنے فرمایا: یہ جو میرے گرد بیٹھی ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو ، یہ بھی نفقہ کا مطالبہ کررہی ہیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کھڑے ہوکر ان کا گلا دبانے لگے ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس کھڑے ہوکر ان کا گلا دبانے لگے او ردونوں ساتھ یہ کہہ رہے تھے تم رسول اللہ ﷺسے اس چیز کا سوال کررہی ہو جو رسول اللہ ﷺکے پاس نہیں ہے ۔انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ ﷺسے اب کبھی کچھ نہیں مانگیں گی۔پھر رسول اللہ ﷺان سے ایک ماہ یا انتیس دن علیحدہ رہے ، پھر آپﷺپر آیت نازل ہوئی۔اے نبی! اپنی ازواج سے کہہ دیجئے ۔۔۔۔ آپﷺنے سب سے پہلے حضرت عائشہ سے ابتداء کی اورفرمایا: میں تم پر ایک چیز پیش کررہا ہوں ، میں چاہتا ہوں کہ تم اس میں جلدی نہ کرو یہاں تک کہ اپنے والدین مشورہ کرلو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یارسول اللہ ! وہ کیا بات ہے ؟ آپﷺنے حضرت عائشہ پر اس آیت کی تلاوت کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یارسول اللہ !کیا میں آپ کے بارے میں والدین سے مشورہ کروں ؟ نہیں ! میں اللہ اور رسول اور آخرت کو اختیار کرتی ہوں اور میں آپ سے یہ سوال کرتی ہوں کہ اپنی دیگر ازواج کو میرے اس جواب کی خبر نہ دینا۔آپﷺنے فرمایا: مجھ سے جس بیوی نے بھی تمہارے جواب کے بارے میں پوچھا تو میں اس کو بتادوں گا، اللہ تعالیٰ نے مجھے دشواری اور سختی کرنے والا بناکر نہیں بھیجا ، بلکہ مجھے آسانی کے ساتھ تعلیم دینے والا بناکر بھیجا ہے ۔

Chapter No: 5

بابٌ فِي الإِيلاَءِ وَاعْتِزَالِ النِّسَاءِ وَتَخْيِيرِهِنَّ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ}

About al-Ilaa, staying away from wives and giving them choice, and the saying of Allah, The Most High: “But if you help one another against him ﷺ”

ایلاء اور عورتوں سے جدا ہونے اور انہیں اختیار دینے کا بیان اور اللہ کے اس قول"وان تظاہرا علیہ" کا بیان

حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِىُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ سِمَاكٍ أَبِى زُمَيْلٍ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نِسَاءَهُ - قَالَ - دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا النَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى وَيَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نِسَاءَهُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ لأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِى بَكْرٍ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ مَا لِى وَمَا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ. قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ لَهَا يَا حَفْصَةُ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لاَ يُحِبُّكِ. وَلَوْلاَ أَنَا لَطَلَّقَكِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَبَكَتْ أَشَدَّ الْبُكَاءِ فَقُلْتُ لَهَا أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ هُوَ فِى خِزَانَتِهِ فِى الْمَشْرُبَةِ. فَدَخَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلاَمِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَاعِدًا عَلَى أُسْكُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ مُدَلٍّ رِجْلَيْهِ عَلَى نَقِيرٍ مِنْ خَشَبٍ وَهُوَ جِذْعٌ يَرْقَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَيَنْحَدِرُ فَنَادَيْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِى عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَىَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قُلْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِى عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَى الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَىَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ رَفَعْتُ صَوْتِى فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِى عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَإِنِّى أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ظَنَّ أَنِّى جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِضَرْبِ عُنُقِهَا لأَضْرِبَنَّ عُنُقَهَا. وَرَفَعْتُ صَوْتِى فَأَوْمَأَ إِلَىَّ أَنِ ارْقَهْ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى حَصِيرٍ فَجَلَسْتُ فَأَدْنَى عَلَيْهِ إِزَارَهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِى جَنْبِهِ فَنَظَرْتُ بِبَصَرِى فِى خِزَانَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ وَمِثْلِهَا قَرَظًا فِى نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ وَإِذَا أَفِيقٌ مُعَلَّقٌ - قَالَ - فَابْتَدَرَتْ عَيْنَاىَ قَالَ « مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ». قُلْتُ يَا نَبِىَّ اللَّهِ وَمَا لِى لاَ أَبْكِى وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِى جَنْبِكَ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لاَ أَرَى فِيهَا إِلاَّ مَا أَرَى وَذَاكَ قَيْصَرُ وَكِسْرَى فِى الثِّمَارِ وَالأَنْهَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ. فَقَالَ « يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أَلاَ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا ». قُلْتُ بَلَى - قَالَ - وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ حِينَ دَخَلْتُ وَأَنَا أَرَى فِى وَجْهِهِ الْغَضَبَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَشُقُّ عَلَيْكَ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مَعَكَ وَمَلاَئِكَتَهُ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَأَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَكَ وَقَلَّمَا تَكَلَّمْتُ وَأَحْمَدُ اللَّهَ بِكَلاَمٍ إِلاَّ رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ يُصَدِّقُ قَوْلِى الَّذِى أَقُولُ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ آيَةُ التَّخْيِيرِ (عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ) (وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاَهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلاَئِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ) وَكَانَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِى بَكْرٍ وَحَفْصَةُ تَظَاهَرَانِ عَلَى سَائِرِ نِسَاءِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلَّقْتَهُنَّ قَالَ « لاَ ». قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَالْمُسْلِمُونَ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى يَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نِسَاءَهُ أَفَأَنْزِلُ فَأُخْبِرَهُمْ أَنَّكَ لَمْ تُطَلِّقْهُنَّ قَالَ « نَعَمْ إِنْ شِئْتَ ». فَلَمْ أَزَلْ أُحَدِّثُهُ حَتَّى تَحَسَّرَ الْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ وَحَتَّى كَشَرَ فَضَحِكَ وَكَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا ثُمَّ نَزَلَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَنَزَلْتُ فَنَزَلْتُ أَتَشَبَّثُ بِالْجِذْعِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَأَنَّمَا يَمْشِى عَلَى الأَرْضِ مَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كُنْتَ فِى الْغُرْفَةِ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ. قَالَ « إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ». فَقُمْتُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِى لَمْ يُطَلِّقْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نِسَاءَهُ. وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِى الأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ) فَكُنْتُ أَنَا اسْتَنْبَطْتُ ذَلِكَ الأَمْرَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّخْيِيرِ.

'Abdullah bin Abbas narrated: "'Umar bin Al-Khattab told me: 'When the Prophet of Allah (s.a.w) stayed away from his wives, I entered the Masjid and saw the people striking the ground with pebbles and saying: "The Messenger of Allah (s.a.w) has divorced his wives." That was before Hijab had been enjoined upon them.' 'Umar said: 'I said: "I must find out about this today." So I entered upon 'Aishah and said: "O daughter of Abu Bakr, have you gone so far that you annoy the Messenger of Allah (s.a.w)?" She said: "What have I to do with you, O son of Al-Khattab? You should pay attention to your own daughter." So I entered upon Hafsah bint 'Umar and said to her: "O Hafsah, have you gone so far that you annoy the Messenger of Allah (s.a.w)? By Allah you know that the Messenger of Allah (s.a.w) does not love you, and were it not for me the Messenger of Allah ~ would have divorced you." She began to weep bitterly, and I said to her: "Where is the Messenger of Allah (s.a.w)?" She said: "He is in his store room in the loft." I went in and I saw Rabah, the slave of the Messenger of Allah (s.a.w), sitting at the threshold of the loft, with his legs dangling on the hollow wood of the tree trunk on which the Messenger of Allah (s.a.w) used to climb up and down. I called out: "O Rabah, ask the Messenger of Allah (s.a.w) for permission for me to enter." Rabab looked into the room, then he looked at me and did not say anything. Then I said: "O Rabah, ask the Messenger of Allah (s.a.w) for permission for me to enter." Rabah looked into the room, then he looked at me and did not say anything. Then I raised my voice and said: "O Rabah! Ask for the Messenger of Allah (s.a.w) for permission for me to enter, for I think that the Messenger of Allah (s.a.w) thinks that I have come because of Hafsah, but by Allah, if the Messenger of Allah (s.a.w) tells me to strike her neck, I will certainly do it." I raised my voice, then he gestured to me to climb up. I entered upon the Messenger of Allah (s.a.w) and found him lying on a reed mat. I sat down, and he drew his Izar up over him. He was not wearing anything else and I could see that the reed mat had left marks on his side. I looked around the store room of the Messenger of Allah (s.a.w) and all I saw was a handful of barley, about a Sa', and an equal amount of Qaraz in the comer of the room, and I saw a half-tanned piece of leather hanging up. My eyes filled with tears and he said: "Why are you weeping, O son of Al-Khattab?" I said: "O Prophet of Allah, why shouldn't I weep when this reed mat has left marks on your side, and this is your store room, and all I see in it is what I see, when this Caesar and this Kisra are living lives of plenty, but you are the Messenger of Allah (s.a.w) and His chosen one, and this is your store room?" He said: "O son of Al-Khattab, does it not please you that the Hereafter is for us and this world is for them?" I said: "Yes." And when I entered upon him I saw signs of anger on his face. I said: "O Messenger of Allah, why are you so upset about these women? If you divorce them, Allah is with you, and the Angels and Jibril and Mika'il, and myself and Abu Bakr and the believers will be with you." Seldom did I speak words - praise be to Allah - but I hoped that Allah would confirm what I said. Then this verse, the verse of choice, was revealed: "It may be if he divorced you (all) that his Lord will give him instead of you, wives better than you ...", "... But if you help one another against him, then verily, Allah is his Maula (Lord, or Master, or Protector), and Jibril (Gabriel), and the righteous among the believers; and furthermore, the Angels are his helpers" 'Aishah bint Abi Bakr and Hafsah had helped one another against the other wives of the Prophet (s.a.w)." I said: "O Messenger of Allah, have you divorced them?" He said: "No." I said: "O Messenger of Allah, I entered the Masjid and the Muslims were striking the ground with the pebbles and saying that the Messenger of Allah (s.a.w) has divorced his wives. Shall I go down and tell them that you have not divorced them?" He said: "Yes, if you wish." I kept on talking to him until the signs of anger disappeared from his face, and until he began to smile, and he had the most handsome teeth of any people. Then the Prophet of Allah (s.a.w) went down and I went down clinging to the tree trunk, while the Messenger of Allah (s.a.w) went down as if he was walking on the ground, not holding on with his hand. I said: "O Messenger of Allah, you were in that room for twenty-nine days." He said: "The month may be twenty-nine days." I stood at the door of the Masjid and called out at the top of my voice: "The Messenger of Allah (s.a.w) has not divorced his wives, and this verse has been revealed: When there comes to them some matter touching (public) safety or fear, they make it known (among the people); if only they had referred it to the Messenger or to those charged with authority among them, the proper investigators would have understood it from them ( directly)..." I understood this matter, and Allah [the Mighty and Sublime] revealed the verse of choice.

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺنے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیا رکی، میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگ کنکریوں کو الٹ پلٹ کررہے ہیں اور آپس میں کہہ رہے تھے ، کہ رسول اللہ ﷺنے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ، یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب پردے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دل میں سوچا کہ میں آج اس کی تحقیق کردوگا۔میں پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے کہا: اے ابو بکر کی بیٹی! کیا اب تمہارا یہ حال ہوگیا ہے؟ کہ تم رسول اللہ ﷺکو بھی ایذا ء دیتی ہو؟تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابن خطاب! تم کو مجھ سے اور مجھے تم سے کیا واسطہ؟تم اپنی کی خبر لو یعنی حضرت حفصہ کی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس گیا اور ان سے کہا: اے حفصہ! کیا اب تمہارا یہ حال ہوگیا ہے کہ تم رسول اللہ ﷺکو ایذاء دیتی ہو؟ اللہ کی قسم! تم اچھی جانتی ہو کہ رسول اللہ ﷺکو تم سے محبت نہیں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو رسول اللہ تمہیں طلاق دے دیتے ، حضرت حفصہ یہ سنکر بہت زیادہ روئی ،میں نے ان سے پوچھا: رسول اللہﷺکہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا: بالاخانے کے گودام میں ہیں، جب میں وہاں گیا تو رسول اللہ ﷺکے غلام حضرت رباح بالاخانے کی چوکھٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں اورسیڑھی کے ڈنڈے پر اپنے دونوں پاؤں لٹکائے ہوئے تھے ، اور رسول اللہ ﷺاس سیڑھی سے چڑھتے اور اترتے تھے ،میں نے زور دار آواز سے کہا: اے رباح! رسول اللہ ﷺسے میرے حاضر ہونے کی اجازت طلب کیجئے ، حضرت رباح نے بالاخانے کی طرف دیکھا پھر مجھے دیکھا اور چپ رہے ، میں نے پھر کہا: اے رباح ! رسول اللہ ﷺسے میرے حاضر ہونے کے لیے اجازت طلب کیجئے گا ۔حضرت رباح نے پھر بالاخانے کی طرح دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا، میں نے پھر بلند آواز سے کہا: اے رباح! میرے لے حاضر ہونے کی اجاز ت طلب کیجئے تاکہ میں رسو ل اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوسکوں ، شاید رسول اللہ ﷺنے یہ سوچا تھا کہ میں حفصہ کی وجہ سے آیا ہوں ، اللہ کی قسم ! اگررسول اللہ ﷺمجھے حفصہ کی گردن مارنے کا حکم دیں تو میں اس کی گردن ماردوں گا ، یہ بات میں نے بلند آواز سے کہی ، اس نے مجھے اشارہ کیا کہ سیڑھی سے چڑھ کر چلاجاؤں ،میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت رسول اللہ ﷺایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ، میں بیٹھ گیا ، رسول اللہ ﷺنے چادر اپنے اوپر کرلی،اس چادر کے علاوہ آپﷺکے پاس کوئی اور چادر نہیں تھی،آپ کے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑگئے تھے ، میں نے رسول اللہ ﷺکے گودام پر نظر ڈالی ، اس میں ایک صاع کےقریب چند مٹھی جو تھے ، ایک کونے میں درخت سلم کےاتنے ہی پتے پڑے ہوئے تھے ، اور ایک کچا چمڑا لٹکا ہوا تھا جو اچھی طرح رنگا ہوا نہیں تھا ، یہ دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ،آپﷺنے فرمایا: ابن خطاب !تمہیں کس چیز نے رلایا ہے ؟ میں نے کہا یارسول اللہ ﷺ! میں کیوں نہ روؤں ، آپ کے پہلو میں چٹائی کے نشان پڑگئے ہیں ۔اور یہ آپ کا گودام ہے اس میں جو چیز ہے وہ میں دیکھ رہا ہوں ،اور ادھر قیصر و کسری پھلوں اور نہروں سے مالا مال ہیں ، آپ اللہ کے رسول اللہ ہیں اور اس کے برگزیدہ بندے ہیں ۔ اور آپ کا یہ گودام ہے ! آپﷺنے فرمایا: اے ابن خطاب !کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ہمارے لیے آخرت ہو، اور ان کے دنیا؟میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، جب میں داخل ہوا تھا تو اس وقت آپ کے چہرہ مبارک پر غضب کے آثار تھے ، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول !آپ کو اپنی ازواج کے بارے میں کیوں پریشانی ہے ؟ اگر آپ نے انہیں طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہیں ، اس کے فرشتے ، اور جبریل اور میکائیل آپ کے ساتھ ہیں ، میں اور ابوبکر اور تمام مسلمان آپ کے ساتھ ہیں ، اکثر ایسا ہوتا تھا کہ جب بھی میں کوئی بات کرتا یا اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا تو اللہ تعالیٰ میرے کلام کی تصدیق میں قرآن مجید کی آیت نازل کردیتا ، پھر یہ آیت تخییر نازل ہوگئی ، (ترجمہ) اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں تو ان کا رب تمہارے بدلہ میں ان کے لیے تم سے بہتر ازواج لے آئے گا اور اگر تم دونوں نے نبی کے ساتھ موافقت نہ کی تو اللہ تعالیٰ آپ کا مولی ہے اور جبرائیل اور ان کے بعد تمام فرشتے اور نیک مسلمان ان کے مددگار ہیں ، اور حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کی باق ازواج پر زور ڈالا تھا ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ !کیا آپ نے انہیں طلاق دے دی ، آپ ﷺنے فرمایا: نہیں ، میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺجب میں مسجد میں داخل ہوا تھا ، تو مسلمان کنکریاں الٹ پلٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے ، کیا میں نیچے اتر کر انہیں یہ خبر سنا نہ دوں کہ آپﷺنے انہیں طلاق نہیں دی،آپﷺنے فرمایا: ہاں ، اگر تم چاہو ، پھر میں نے آپﷺسے مسلسل باتیں کیں یہاں تک کہ آپﷺکے چہرے سے غصہ ختم ہوگیا ، اور آﷺکے دندان مبارک ظاہر ہوئے ، اور آپ ﷺ ہنسے اور ہنستے وقت آپ کے دندان مبارک سب سے خوبصورت معلو م ہوتے تھے ، پھر نبی ﷺ اترے اور میں بھی اترا ، میں کجھور کے تنے کو پکڑے ہوئے اترا ، اور رسول اللہ ﷺبھی اسی طرح اترے ، گویا کہ آپ زمین پر چل رہے ہوں ،یعنی لکڑی کا سہارا لیے بغیر اترے ، آپ نے اس لکڑی کو بالکل نہیں چھوا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ بالاخانے میں انتیس دن رہے ہیں آپﷺنے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ، میں نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہا: آپﷺنے ازواج کو طلاق نہیں دی ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، جب ان کے پا س امن یا خوف کی خبر آتی ہے تو وہ اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر وہ اس خبر کو رسول یا صاحبان امر کے پاس لے جاتے تو اس کوہ وہ لوگ جان لیتے جو خبر سے استنباط کرتے ہیں ، اور اس (طلاق کی )خبر سے حقیقت کا کھوج میں نے نکالا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت تخییر نازل کی ۔


حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ بِلاَلٍ - أَخْبَرَنِى يَحْيَى أَخْبَرَنِى عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ قَالَ مَكَثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ آيَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَسْأَلَهُ هَيْبَةً لَهُ حَتَّى خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَلَمَّا رَجَعَ فَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ إِلَى الأَرَاكِ لِحَاجَةٍ لَهُ فَوَقَفْتُ لَهُ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ سِرْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ أَزْوَاجِهِ فَقَالَ تِلْكَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ. قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا مُنْذُ سَنَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ هَيْبَةً لَكَ. قَالَ فَلاَ تَفْعَلْ مَا ظَنَنْتَ أَنَّ عِنْدِى مِنْ عِلْمٍ فَسَلْنِى عَنْهُ فَإِنْ كُنْتُ أَعْلَمُهُ أَخْبَرْتُكَ - قَالَ - وَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ إِنْ كُنَّا فِى الْجَاهِلِيَّةِ مَا نَعُدُّ لِلنِّسَاءِ أَمْرًا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِنَّ مَا أَنْزَلَ وَقَسَمَ لَهُنَّ مَا قَسَمَ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا فِى أَمْرٍ أَأْتَمِرُهُ إِذْ قَالَتْ لِى امْرَأَتِى لَوْ صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا فَقُلْتُ لَهَا وَمَا لَكِ أَنْتِ وَلِمَا هَا هُنَا وَمَا تَكَلُّفُكِ فِى أَمْرٍ أُرِيدُهُ فَقَالَتْ لِى عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ أَنْ تُرَاجَعَ أَنْتَ وَإِنَّ ابْنَتَكَ لَتُرَاجِعُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ. قَالَ عُمَرُ فَآخُذُ رِدَائِى ثُمَّ أَخْرُجُ مَكَانِى حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا يَا بُنَيَّةُ إِنَّكِ لَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ. فَقَالَتْ حَفْصَةُ وَاللَّهِ إِنَّا لَنُرَاجِعُهُ. فَقُلْتُ تَعْلَمِينَ أَنِّى أُحَذِّرُكِ عُقُوبَةَ اللَّهِ وَغَضَبَ رَسُولِهِ يَا بُنَيَّةُ لاَ يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِى قَدْ أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا وَحُبُّ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِيَّاهَا. ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ لِقَرَابَتِى مِنْهَا فَكَلَّمْتُهَا فَقَالَتْ لِى أُمُّ سَلَمَةَ عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ دَخَلْتَ فِى كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى تَبْتَغِى أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَزْوَاجِهِ. قَالَ فَأَخَذَتْنِى أَخْذًا كَسَرَتْنِى عَنْ بَعْضِ مَا كُنْتُ أَجِدُ فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهَا وَكَانَ لِى صَاحِبٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِذَا غِبْتُ أَتَانِى بِالْخَبَرِ وَإِذَا غَابَ كُنْتُ أَنَا آتِيهِ بِالْخَبَرِ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ نَتَخَوَّفُ مَلِكًا مِنْ مُلُوكِ غَسَّانَ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسِيرَ إِلَيْنَا فَقَدِ امْتَلأَتْ صُدُورُنَا مِنْهُ فَأَتَى صَاحِبِى الأَنْصَارِىُّ يَدُقُّ الْبَابَ وَقَالَ افْتَحِ افْتَحْ. فَقُلْتُ جَاءَ الْغَسَّانِىُّ فَقَالَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَزْوَاجَهُ. فَقُلْتُ رَغِمَ أَنْفُ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ. ثُمَّ آخُذُ ثَوْبِى فَأَخْرُجُ حَتَّى جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى مَشْرُبَةٍ لَهُ يُرْتَقَى إِلَيْهَا بِعَجَلَةٍ وَغُلاَمٌ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ الدَّرَجَةِ فَقُلْتُ هَذَا عُمَرُ. فَأُذِنَ لِى. قَالَ عُمَرُ فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمَّا بَلَغْتُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَإِنَّهُ لَعَلَى حَصِيرٍ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَىْءٌ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَإِنَّ عِنْدَ رِجْلَيْهِ قَرَظًا مَضْبُورًا وَعِنْدَ رَأْسِهِ أُهُبًا مُعَلَّقَةً فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْحَصِيرِ فِى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَبَكَيْتُ فَقَالَ « مَا يُبْكِيكَ ». فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ كِسْرَى وَقَيْصَرَ فِيمَا هُمَا فِيهِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمَا الدُّنْيَا وَلَكَ الآخِرَةُ ».

'Abdullah bin 'Abbas narrated: "For one year I wanted to ask 'Umar bin Al-Khattab about a verse, but I could not ask him out of respect for him, until he went out for Hajj, and I went with him. When he came back, while we were partway along the road, he went aside to an Arak tree to relieve himself. I waited until he had finished, then I walked with him and said: 'O Commander of the Believers, who are the two wives who helped one another against the Messenger of Allah (s.a.w)?' He said: 'That was Hafsah and 'Aishah.'I said to him: 'By Allah, I wanted to ask you about that for a year but I could not, out of respect for you.' He said: 'Do not do that. If you think that I have any knowledge, then ask me about it, and if I know I will tell you." And 'Umar said: 'By Allah, during the Jahiliyyah we had no regard for woman, until Allah revealed what He revealed concerning them, and allotted to them what He allotted to them. While I was thinking about some matter, my wife said to me: I wish that you had done such-and-such. I said to her: What does it have to do with you? Why are you worried about what I want to do? She said to me: How strange it is, O son of Al-Khattab, that you do not want me to argue with you! Your daughter argues with the Messenger of Allah (s.a.w) until he spends the whole day angry."' "Umar said: 'I picked up my Rida' (cloak) and came out of my house, and I went to Hafsah. I said to her: "O my daughter, do you argue with the Messenger of Allah (s.a.w) until he spends the whole day angry?" Hafsah said: "By Allah, we argue with him." I said: "I am warning you of the punishment of Allah and the wrath of His Messenger. Do not be misled by this one is amazed with her beauty, and the love of the Messenger of Allah (s.a.w) for her." Then I went and entered upon Umm Salamah, because I was related to her, and I spoke to her. Umm Salamah said to me: "How strange it is, O son of Al-Khattab, that you interfere with everything to such an extent that now you want to intervene between the Messenger of Allah (s.a.w) and his wives." That astonished me so much that my anger subsided, and I left. I had a friend among the Ansar; if I was absent he would bring me the news, and if he was absent, I would bring him the news. At that time we were worried about one of the kings of Ghassan, as we had been told that he wanted to attack us, and our hearts were filled with that (worry).' "The Ansari came and knocked at the door, saying: "Open up, open up!" I said: "Has the Ghassani come?'' He said: "It is worse than that. The Messenger of Allah (s.a.w) has decided to stay away from his wives." I said: "May the noses of Hafsah and 'Aishah be rubbed with dust!" Then I picked up my garment and went out. I came and found the Messenger of Allah (s.a.w) was in his loft, to which he climbed up via a ladder made of date palm. A black slave of the Messenger of Allah (s.a.w) was at the top of the ladder, and I said: "This is 'Umar." I was given permission (to enter) and I told the Messenger of Allah (s.a.w) what had happened. When I reached the words of U mm Salamah the Messenger of Allah (s.a.w) smiled. He was lying on a reed mat with nothing between him and it, and beneath his head was a pillow of leather, stuffed with palm fibers. At his feet was a pile of Qaraz and by his head there was a hide hanging. I saw the marks of the reed mat on the side of the Messenger of Allah (s.a.w), and I wept. He said: "Why are you weeping?" I said: "O Messenger of Allah, Kisra and Caesar are living the lives they live, but you are the Messenger of Allah (s.a.w)." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Does it not please you that this world is for them and the Hereafter is for you?"'

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سال یہ ارادہ کرتا رہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھوں ، لیکن میں ڈر کی وجہ سے نہیں پوچھ سکا،ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے نکلے ، میں بھی ان کے ساتھ نکلا ، واپسی پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کسی حاجت کی وجہ سے پیلو کے درخت کے پا س گئے ، میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا، جب وہ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے ، تو میں ان کے ساتھ چل پڑا ، اور میں نے کہا: یا امیر المؤمنین! ازواج مطہرات میں وہ کون سی دو عورتیں ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺسے موافقت نہیں کی تھی، انہوں نے کہا: وہ حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں ، میں نے کہا: اللہ کی قسم!میں ایک سال سے ان کے بارے میں آپﷺسے سوال کرنا چاہا ، لیکن میں آپ کے رعب کی وجہ سے ہمت نہ کرسکا۔انہوں نے کہا: ایسا نہ کرو،جس چیز کے بارے میں تمہارے خیال میں میرے پاس علم ہے تو پوچھ لیا کرو، اگر مجھے اس چیز کا علم ہوگا تو میں بتاؤں گا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ہم زمانہ جاہلیت میں عورتوں کو کچھ اہمیت نہیں دیتے تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے احکام نازل فرمائے اور ان کے حقوق اور حصے مقرر کیے۔ایک دن میں اپنے کسی کام کے بارے میں مشورہ کررہا تھا، میری بیوی نے کہا: تم اس اس طرح یہ کام کرو، میں نے کہا: تمہیں میرے کاموں میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس نے کہا: اے ابن الخطاب ! تمہارا کیا خیال ہے میں تمہیں کوئی جواب نہ دوں حالانکہ تمہاری بیٹی رسول اللہ ﷺکو جواب دیتی ہے یہاں تک کہ آپ سارا دن اس سے ناراض رہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے چادر سنبھالی اور گھر سے نکلا اور سیدھا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: بیٹی! کیا تم رسول اللہ ﷺکو ایسا جواب دیتی ہو، جس سے آپ سارا دن ناراض رہتے ہیں ؟ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ ﷺکو ایسا جواب دیتی ہوں ، میں نے کہا: میں تمہیں اللہ کے عذاب اور اس کے رسول کی ناراضگی سے ڈرا رہا ہوں ، اے بیٹی !تم ان سے دھوکا نہ کھانا جو اپنے حسن اور رسول اللہ ﷺکی محبت پر ناز کرتی ہیں ، پھر وہاں سے چل کر قرابت کے تقاضے سے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان کو سمجھایا ، حضرت ام سلمہ نے کہا: اے ابن الخطاب ! تعجب ہے کہ تم ہر معاملہ میں دخل دیتے ہو، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺاور ان کی ازواج کے معاملہ میں بھی دخل دینا شروع کردیا ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کی اس بات سے مجھے اس قدر افسوس ہواکہ میں جو کہنا چاہتا تھا وہ بھی نہ کہہ سکا۔ میں ان کے پاس سے چلا آیا ۔ ایک انصاری میرا دوست تھا ، جب میں رسول اللہ ﷺکی مجلس سے غائب ہوتا تو وہ مجھے آکر آپ کی مجلس کی خبریں سناتا تھا او رجب وہ غائب ہوتا تھا تو میں اس کو احوال سناتا تھا۔ان دنوں ہمیں غسان کے ایک بادشاہ کے حملہ کرنے کا خطرہ تھا جس کے بارے میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ ہم پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے ہمارے دل خوفزدہ تھے ، ایک مرتبہ انصاری دوست آیا اور دروازے پر دستک دی اور کہنے لگا: دروازہ کھولو! کھولو!میں نے پوچھا : کیا غسانی نے حملہ کردیا؟ اس نے کہا: اس سےبھی اہم خبر ہے ۔ رسول اللہ ﷺازواج سے علیحدہ ہوگئے ۔ میں نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ کا ناک خاک آلودہ ہو،پھر میں نے اپنے کپڑے سنبھالے اور چل پڑا ، رسول اللہ ﷺایک بالاخانے پر بیٹھے تھے ، جس پر ایک سیڑھی رکھی تھی ، اور رسول اللہ ﷺکا ایک حبشی غلام سیڑھی کے ڈنڈے پر بیٹھا ہوا تھا،میں نے کہا: یہ عمر ہے ، میرے لیے اجازت مانگ لیجئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ سارا واقعہ رسول اللہ ﷺکو سنایا ، جب میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ سنایا تو رسول اللہ ﷺمسکرائے ،آپﷺایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے اوپر اور کوئی چیز نہیں تھی، آپ کے سر کے نیچے ایک چمڑے کا تکیہ تھا جس میں کجھور کی چھال بھری ہوئی تھی، آپﷺکے پیروں کی جانب درخت سلم کے پتے پڑے ہوئے تھے ۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ کے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑگئے تھے ، میں رونے لگا ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کیوں رو رہے ہو؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! قیصر و کسری کتنی آسائش اور شان و شوکت سے رہتے ہیں اور ایک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا اور تمہارے لیے آخرت۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ كَنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ شَأْنُ الْمَرْأَتَيْنِ قَالَ حَفْصَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ. وَزَادَ فِيهِ وَأَتَيْتُ الْحُجَرَ فَإِذَا فِى كُلِّ بَيْتٍ بُكَاءٌ. وَزَادَ أَيْضًا وَكَانَ آلَى مِنْهُنَّ شَهْرًا فَلَمَّا كَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نَزَلَ إِلَيْهِنَّ.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: I came with 'Umar, then when we were in Marr Az-Zahran... and he quoted the complete Hadith, like the Hadith of Sulaiman bin Bilal (no. 3692), except that he said: "I said: 'What about the two women?' He said: 'Hafsah and Umm Salamah."' And he added: "And I came to the apartments and in every house there was some weeping." And he also added: "He had vowed to stay away from them for a month, then when it was the twenty-ninth day, he came to them."

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ساتھ گیا اور جب مر الظہران پر پہنچا،آگے حدیث اسی طرح ہے جو گذر چکی ہے ، صرف اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے پوچھا : وہ دو عورتیں کون ہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: حفصہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما اور یہ بھی زائد ہے کہ جب میں (ازواج مطہرات کے ) حجروں کی طرف گیا تو ہر حجرے سے رونے کی آواز آرہی تھی اور یہ بھی زائد ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک ماہ تک ان سے نہ ملنے کی قسم کھائی تھی ، جب انتیس دن پورے ہوگئے تو ان کے پاس تشریف لے گئے ۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ - وَهُوَ مَوْلَى الْعَبَّاسِ - قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَبِثْتُ سَنَةً مَا أَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا حَتَّى صَحِبْتُهُ إِلَى مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ذَهَبَ يَقْضِى حَاجَتَهُ فَقَالَ أَدْرِكْنِى بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ وَرَجَعَ ذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ وَذَكَرْتُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ فَمَا قَضَيْتُ كَلاَمِى حَتَّى قَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ.

Ibn 'Abbas said: "I wanted to ask 'Umar about the two women who helped one another at the time of the Messenger of Allah (s.a.w), but for one year I could not find any opportunity, until I accompanied him to Makkah. When he was in Marr Az-Zahran, he went to relieve himself, and he said: 'Bring me a jug of water.' So I brought it to him, and when he had relieved himself and came back, I went to pour water for him, then I remembered and said to him: 'O Commander of the Believers, who were the two women?' And I did not finish what I was saying before he said: "Aishah and Hafsah."'

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرا خیال تھاکہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھوں ، جنہوں نے رسول اللہ ﷺسے موافقت نہیں کی تھی،میں ایک سال انتظار کرتا رہا ، اور مجھے ان سے سوال کا مواقع نہ مل سکا ، یہاں تک کہ میں حضرت عمر کے ساتھ مکہ روانہ ہوا ، جب ہم مرا لظہران پر پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ قضاء حاجت کے لیے تشریف لے گئے اور مجھے کہا کہ تم پانی کا لوٹا لیکر آؤ۔ میں پانی لیکر آیا جب وہ حاجت سے فارغ ہوئے اور واپس لوٹے تو میں ان پر پانی ڈالنے لگا، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین !وہ کون دو عورتیں ہیں ؟ ابھی میں سوال مکمل نہیں کرپایا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عُمَرَ - وَتَقَارَبَا فِى لَفْظِ الْحَدِيثِ - قَالَ ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى ثَوْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى (إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا) حَتَّى حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ عُمَرُ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالإِدَاوَةِ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ أَتَانِى فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا (إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا) قَالَ عُمَرُ وَاعَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ - قَالَ الزُّهْرِىُّ كَرِهَ وَاللَّهِ مَا سَأَلَهُ عَنْهُ وَلَمْ يَكْتُمْهُ - قَالَ هِىَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ. ثُمَّ أَخَذَ يَسُوقُ الْحَدِيثَ قَالَ كُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ - قَالَ - وَكَانَ مَنْزِلِى فِى بَنِى أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ بِالْعَوَالِى فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَى امْرَأَتِى فَإِذَا هِىَ تُرَاجِعُنِى فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِى. فَقَالَتْ مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ. فَانْطَلَقْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ نَعَمْ. فَقُلْتُ أَتَهْجُرُهُ إِحْدَاكُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ قَالَتْ نَعَمْ. قُلْتُ قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْكُنَّ وَخَسِرَ أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ -صلى الله عليه وسلم- فَإِذَا هِىَ قَدْ هَلَكَتْ لاَ تُرَاجِعِى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلاَ تَسْأَلِيهِ شَيْئًا وَسَلِينِى مَا بَدَا لَكِ وَلاَ يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِىَ أَوْسَمَ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْكِ - يُرِيدُ عَائِشَةَ - قَالَ وَكَانَ لِى جَارٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا فَيَأْتِينِى بِخَبَرِ الْوَحْىِ وَغَيْرِهِ وَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا فَنَزَلَ صَاحِبِى ثُمَّ أَتَانِى عِشَاءً فَضَرَبَ بَابِى ثُمَّ نَادَانِى فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ. قُلْتُ مَاذَا أَجَاءَتْ غَسَّانُ قَالَ لاَ بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ وَأَطْوَلُ طَلَّقَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- نِسَاءَهُ. فَقُلْتُ قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ هَذَا كَائِنًا حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَىَّ ثِيَابِى ثُمَّ نَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَهْىَ تَبْكِى فَقُلْتُ أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ لاَ أَدْرِى هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِى هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ. فَأَتَيْتُ غُلاَمًا لَهُ أَسْوَدَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ. فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَىَّ فَقَالَ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ فَجَلَسْتُ فَإِذَا عِنْدَهُ رَهْطٌ جُلُوسٌ يَبْكِى بَعْضُهُمْ فَجَلَسْتُ قَلِيلاً ثُمَّ غَلَبَنِى مَا أَجِدُ ثُمَّ أَتَيْتُ الْغُلاَمَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ. فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَىَّ. فَقَالَ قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ. فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا فَإِذَا الْغُلاَمُ يَدْعُونِى فَقَالَ ادْخُلْ فَقَدْ أَذِنَ لَكَ فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى رَمْلِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِى جَنْبِهِ فَقُلْتُ أَطَلَّقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَاءَكَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَىَّ وَقَالَ « لاَ ». فَقُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ رَأَيْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَاءَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ فَتَغَضَّبْتُ عَلَى امْرَأَتِى يَوْمًا فَإِذَا هِىَ تُرَاجِعُنِى فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِى. فَقَالَتْ مَا تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ. فَقُلْتُ قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ وَخَسِرَ أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ -صلى الله عليه وسلم- فَإِذَا هِىَ قَدْ هَلَكَتْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ لاَ يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِىَ أَوْسَمُ مِنْكِ وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْكِ. فَتَبَسَّمَ أُخْرَى فَقُلْتُ أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « نَعَمْ ». فَجَلَسْتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِى فِى الْبَيْتِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ إِلاَّ أُهُبًا ثَلاَثَةً فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ فَقَدْ وَسَّعَ عَلَى فَارِسَ وَالرُّومِ وَهُمْ لاَ يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاسْتَوَى جَالِسًا ثُمَّ قَالَ « أَفِى شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِى الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ». فَقُلْتُ اسْتَغْفِرْ لِى يَا رَسُولَ اللَّهِ. وَكَانَ أَقْسَمَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ. حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "I was eager to ask 'Umar about the two wives of the Prophet (s.a.w) concerning whom Allah, the Most High said: "If you two tum in repentance to Allah, (it will be better for you), your hearts are indeed so inclined ...," until 'Umar went for Hajj and I went with him. When we were partway there, 'Umar turned aside, and I turned aside with him, bringing the jug. He relieved himself, then he came to me and I poured water onto his hands, and he performed Wudu'. I said: 'O Commander of the Believers, who are the two wives of the Prophet (s.a.w), about whom Allah the Mighty and Sublime said: "If you two turn in repentance to Allah, (it will be better for you), your hearts are indeed so inclined ..." ?' 'Umar said: 'How strange of you, O Ibn 'Abbas!"' - Az-Zuhri (a narrator) said: "By Allah, he did not like the question, but he did not conceal anything" - "He said: 'They were Hafsah and 'Aishah.' Then he started to narrate the Hadith and said: 'We people of the Quraish were a people who dominated women, but when we came to Al-Madinah we found a people who were dominated by their women, and our women started to learn from their women. My house was among Banu Umayyah bin Zaid in Al-'Awali. One day I got angry with my wife, and she argued with me. I did not like her to argue with me. But she said: "Do you not like me to argue with you? By Allah, the wives of the Prophet (s.a.w) argue with him, and one of them will forsake him all day until night comes." I went and entered upon Hafsah, and I said: "Do you argue with the Messenger of Allah (s.a.w)?" She said: "Yes." I said: "Does one of you forsake him all day until night comes?" She said: "Yes." I said: "Any one of you who does that is doomed and lost. Does any one of you feel assured that Allah will not be angry with her because of the anger of His Messenger (s.a.w), for then she will be doomed? Do not argue with the Messenger of Allah (s.a.w) and do not ask him for anything. Ask me for whatever you want. And do not be misled by the fact that your neighbor is more beautiful than you and more beloved to the Messenger of Allah (s.a.w) than you"'- referring to 'Aishah. "And 'Umar said: 'I had a neighbor among the Ansar. We used to take turns going down to the Messenger of Allah (s.a.w). He would go down one day and I would go down the next. He would bring me the news of the Revelation and other things, and I would do likewise. We were saying that Ghassan were shoeing their horses to attack us. My friend went to visit, then he came o me at night and knocked on my door, then he called out to me. I went out to him and he said: "Something terrible has happened!" I said: "What? Have the Ghassan come?'' He said: "No, it is more terrible than that, and worse. The Prophet (s.a.w) has divorced his wives." I said: "Hafsah is doomed and lost. I thought that this would happen." Then when I had prayed Subh, I got dressed, then I went down and entered upon Hafsah, who was weeping. I said: "Has the Messenger of Allah (s.a.w) divorced you?" She said: "I do not know. He has secluded himself in this loft." I went to a black slave of his, and I said: "Ask for permission for 'Umar to enter." He went in, then he came out to me and said: "I mentioned you to him but he did not say anything."' '"I went away and came to the Minbar, where I sat . down. By it was a group of people, some of whom were weeping. I sat for a little while, then I could not bear it any longer, so I went to the slave and said: "Ask for permission for 'Umar to enter." He went in. Then he came out to me. He said: "I mentioned you to him but he did not say anything." I turned to leave. Then the slave called me, and he said: "Go in, he has given you permission." So I went in and greeted the Messenger of Allah (s.a.w) with Salam. He was resting on a reed mat that had left marks on his side. I said: "O Messenger of Allah, have you divorced your wives?" He looked up at me and said: "No." I said: ''Allahu Akbar! If you had seen us, O Messenger of Allah, we the Quraish, were a people who dominated women, but when we came to Al-Madinah we found a people who were dominated by their women, and our women started to learn from their women. I got angry with my wife one day, and she started to argue with me. I did not like her to argue with me, but she said: "Do you not like me to argue with you? By Allah, the wives of the Prophet (s.a.w) argue with him, and one of them will forsake him all day until night comes." I said: "Any one of them who does that is doomed and lost. Does one of them feel assured that Allah will not be angry with her because of the anger of His Messenger (s.a.w)' then she will be doomed?" The Messenger of Allah (s.a.w) smiled. I said: "O Messenger of Allah, I entered upon Hafsah and I said: 'Do not be misled by the fact that your neighbor is more beautiful than you and more beloved to the Messenger of Allah (s.a.w) than you."' The Messenger of Allah (s.a.w) smiled again."' '"I said: "O Messenger of Allah, :nay I talk to you freely?" He said: "Yes." So I sat down and looked around the room, and by Allah, I did not see anything in it to please the eye except three hides. I said: "Pray to Allah, O Messenger of Allah, to make life prosperous for your Ummah, for He has made life prosperous for the Persians and Romans, but they do not worship Allah, the Mighty and Sublime." He sat up straight and said: "Are you doubting, O son of Al-Khattab? Their good things have been granted to them in this world." I said: "Pray for forgiveness for me, O Messenger of Allah." He had sworn that he would not enter upon them for a month, because he was so annoyed with them, until Allah [the Mighty and Sublime] rebuked him."'

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے مجھے کافی عرصہ سے یہ بے چینی تھی کہ میں حضرت عمررضی اللہ عنہ سے یہ پوچھوں کہ نبی ﷺکی ازواج میں سے کون تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو، (تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں “۔یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا ،ہم ایک راستے سے جارہے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ راستے سے ہٹ کر ایک طرف گئے اور میں بھی ان کے پاس پانی کا ایک لوٹا لیکر گیا ،قضائے حاجت کے بعد وہ میرے پاس آئے ، اور میں نے پانی ڈال کر ان کو وضو کرایا ،میں نےکہا : اے امیر المؤمنین ! ازواج مطہرات میں سے وہ دو عورتیں کون تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تم اللہ کے سامنے توبہ کرلو، یقینا تمہارے دل جھک پڑے ہیں۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس !تم پر تعجب ہے ۔امام زہری رحمہ اللہ فرماتےہیں : کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا اتنے عرصہ تک سوال نہ کرنا پسند نہیں آیا حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے نہ چھپاتے ، پھر فرمایا: وہ حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں پھر واقعہ سنانے لگے کہ ہم قریش کے لوگ ایک ایسی قوم تھے جو عورتوں پر حاوی رہتے تھے ، لیکن جب ہم مدینہ آئے تو دیکھا کہ ان لوگوں پر ان کی عورتیں حاوی ہیں اور ہماری عورتوں نے بھی مدینہ کی عورتوں سے سیکھنا شروع کردیا، میرا گھر مدینہ کے بالائی حصہ میں بنوامیہ بن زید میں تھا، ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو اس نے بھی پلٹ کر جواب دیا ،مجھے اس کے جواب دینے پر حیرت ہوئی، اس نے کہا: تمہیں میرے جواب دینے پر تعجب کیوں ہوتا ہے ؟ اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺکی ازواج بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک صبح سے رات تک آپ کو چھوڑے رکھتی ہے۔میں اٹھ کر سیدھا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور پوچھا کیا تم رسول اللہ ﷺکوجواب دیتی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ، میں نے کہا: تم میں سے کوئی ایک صبح سے شام تک رسول اللہ ﷺکو چھوڑے رکھتی ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ، میں نے کہا: تم میں جس نے بھی یہ کیا وہ نامراد ہوگئی اور اس کو خسارہ ہوا ، کیا تم میں سے کسی کو اپنے اورپر اللہ تعالیٰ کے غضب اور رسول اللہ کے غضب کا ڈر نہیں ہے ، کہیں وہ ناگہانی موت مرجائے ،تم رسول اللہ کا جواب نہ دیا کرو، اور ان سے کسی چیز کا سوال مت کیا کرو، تمہیں جس چیز کی ضرورت ہے اس کا مجھ سے سوال کرو، تم اپنی سوکن کی حال سے دھوکا مت کھانا جو تم سے زیادہ خوبصورت ہے اور تم سے زیادہ رسول اللہ ﷺکو عزیز ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک انصاری میرا پڑوسی تھا، ہم باری باری رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، ایک دن وہ جاتا تھا اور ایک دن میں جاتا تھا،ہم آپس میں یہ باتیں کرتے تھے کہ غسان کا بادشاہ ہم پر حملہ کرنے کے لیے اپنے گھوڑوں کی نعل لگوارہا ہے ۔ ایک رات کو میرا دوست آیا اور دروزاے پر دستک دی ، پھر مجھے آواز دی ، میں باہر آیا تو اس نے کہا: ایک بہت بڑا حادثہ ہوگیا ، میں نے پوچھا : کیا ہوا ہے ؟ کیا غسان نے حملہ کردیا ؟ اس نے کہا: اس سے بہت بڑا اور لمبا حادثہ ہوگیا ہے ، نبی ﷺنے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ، میں نے کہا: حفصہ ناکام و نامراد ہوگئی اور مجھے اس حادثہ کا پہلے ہی گمان تھا ، صبح کی نماز پڑھنے کے بعد میں اپنے کپڑے لے کر روانہ ہوا اور حفصہ کے پاس پہنچا اس حال میں کہ وہ رورہی تھی ، میں نے پوچھا : کیا تم کو رسول اللہ ﷺنے طلاق دے دی ہے ، انہوں نے کہا: معلوم نہیں ، آپﷺعلیحدہ ہوکر اس بالا خانے میں بیٹھے ہیں ۔ میں آپ کے حبشی غلام کے پاس آیا اور اس سے کہا: کہ عمر کے حاضر ہونے کی اجازت لے کر آؤ، وہ اندر گیا اور پھر واپس آکر کہا: میں نے تمہارا ذکر کیا ، رسول اللہ ﷺسن کر خاموش رہے ، میں چل پڑا اور منبر تک پہنچا اور وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، اور ان میں سے کچھ رو رہے تھے ، میں کچھ دیر ان کے پاس بیٹھا رہا ، پھر مجھ سے نہیں رہا گیا ، اور میں اس غلام کے پاس گیا اور کہا: جاؤ عمر کے لیے اجازت لے کر آؤ، وہ اندر جاکر واپس آگیا اور کہا: میں نے تمہارا ذکر کیا تھا، آپﷺسن کر خاموش رہے ، میں واپس جانے لگا ، اچانک غلام نے آواز دی اور کہا: اندر جاؤ تمہارے لیے اجازت مل گئی ہے ، میں اندر گیا اور رسول اللہ ﷺکی خدمت میں سلام عرض کیا ، آپﷺایک چٹائی پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے ، جس سے آپﷺکے پہلو میں نشان پڑگئے تھے ، میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے ؟آپﷺنے اپنے سر اٹھاکر میری طرف دیکھ کر فرمایا: نہیں ،میں نے کہا: اللہ اکبر !دیکھئے یارسول اللہ ﷺ!ہم قریش لوگ عورتوں پر حاوی رہتے تھے جب ہم مدینہ آئے تو دیکھا یہاں عورتیں مردوں پر غالب ہیں۔تو ہماری عورتوں نے بھی ان عورتوں سے سیکھنا شروع کردیا، ایک دن میں اپنی بیوی سے ناراض ہوا تو اس نے پلٹ کر جواب دیا ،میں نے ان کے جواب دینے کوناپسند کیا ، اس نے کہا: میرے جواب دینے پر تجھے تعجب کیوں ہورہا ہے ؟اللہ کی قسم! نبی ﷺ کی ازواج مطہرات بھی آپ کو جواب دیتی ہیں ، اور ان میں سے کوئی ایک آپﷺکو صبح سے رات تک چھوڑے رکھتی ہے ، میں نے کہا: ان میں سے جس نے بھی یہ کیا وہ ناکام اور نامراد ہوگئی ،کیا ان میں سے کسی کو اپنے اوپر یہ خوف نہیں ہے کہ کہیں رسول اللہ ﷺکی ناراضگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کاغضب ان پر ہوجائے،کہ وہ اسی وقت ہلاک ہوجائے ، یہ سن کر رسول اللہ ﷺمسکرائے ،میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میں حفصہ کے پاس گیا اور اس سے کہا: اپنی سوکن کے حال کی وجہ سے دھوکا نہ کھانا، وہ تم سے زیادہ حسین ہے او رتم سے زیادہ رسول اللہ ﷺکو عزیز ہے ، آپﷺپھر مسکرائے ، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ!آپ کا دل بہلانے کی کی کچھ باتیں کروں ؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں ، میں بیٹھ گیا ، اور میں نے سراٹھاکر گھر کاجائزہ لیا تو اللہ کی قسم! میں نے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس پر میر ی نظر ٹھہرتی ہو سوائے تین بغیر رنگی ہوئی کھالوں کے ، میں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ! آپ دعا کیجئے کہ آپ کی امت پر وسعت کی جائے ، کیونکہ فارس اور روم بہت خوش حال ہیں حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے ، آپﷺ یہ سن کر بیٹھ گئے اور فرمایا: اے ابن الخطاب ! کیاتمہیں کوئی شک ہے ؟ یہ وہ اقوام ہیں جن کی اچھی چیزیں انہیں دنیا میں ہی دے دی گئیں، میں نے کہا: یارسول اللہ !میرے لیے استغفار کیجئے ۔اور آپ نے ازواج مطہرات پر شدت رنج کی وجہ سے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ازواج مطہرا ت کے پاس نہیں جائیں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو ان کی طرف متوجہ کردیا۔


قَالَ الزُّهْرِىُّ فَأَخْبَرَنِى عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَدَأَ بِى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لاَ تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ. فَقَالَ « إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ - ثُمَّ قَالَ - يَا عَائِشَةُ إِنِّى ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تَعْجَلِى فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِى أَبَوَيْكِ ». ثُمَّ قَرَأَ عَلَىَّ الآيَةَ ( يَا أَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ) حَتَّى بَلَغَ (أَجْرًا عَظِيمًا) قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَىَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِى بِفِرَاقِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ أَوَفِى هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَىَّ فَإِنِّى أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ. قَالَ مَعْمَرٌ فَأَخْبَرَنِى أَيُّوبُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لاَ تُخْبِرْ نِسَاءَكَ أَنِّى اخْتَرْتُكَ فَقَالَ لَهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَنِى مُبَلِّغًا وَلَمْ يُرْسِلْنِى مُتَعَنِّتًا ». قَالَ قَتَادَةُ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا مَالَتْ قُلُوبُكُمَا.

Az-Zuhri said: 'Urwah told me that 'Aishah said: "When twenty-nine nights had passed, the Messenger of Allah (s.a.w) entered upon me; he started with me. I said: 'O Messenger of Allah, you swore that you would not enter upon us for a month, but now you have entered on the twenty-ninth day; I have been counting them.' He said: 'The month may be twenty-nine days.' Then he said: 'O 'Aishah, I am going to tell you something, but you do not have to hasten to decide until you consult your parents.'" "Then he recited to me the verse: O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter, then come! I will make a provision for you and set you free in a handsome manner (divorce). But if you desire Allah and His Messenger, and the Home of the Hereafter, then verily, Allah has prepared for Al-Muhsinat (good-doers) amongst you an enormous reward."'. 'Aishah said: "He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him. I said: 'Do I need to consult my parents about this? I desire Allah and His Messenger and the Home of the Hereafter."' Ma'mar said: "Ayyub told me that 'Aishah said: 'Do not tell your wives that I have chosen you.' The Prophet (s.a.w) said to her: 'Allah has sent me to convey (the message); He did not send me to make things hard for people in the hope that they would make mistakes."'

امام زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں تو رسول اللہ ﷺمیرے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺنے مجھ سے ابتداء کی ، میں نے کہا: یارسول اللہ ﷺ!آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائیں گے ۔ اور آپ انتیس کے دن ہی آگئے ، میں ایک ایک دن گن رہی تھی، آپﷺنے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ، پھر آپﷺنے فرمایا: اے عائشہ ! میں تم سے ایک چیز کا ذکر کرنے لگا ہوں ، تم اس میں جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ اپنے والدین سے مشورہ کرلو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، پھر آپﷺنے یہ آیت پڑھی ، ترجمہ: اے نبی!اپنی ازواج سے کہہ دیجئے ۔۔۔ آخر تک ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم !نبی ﷺخوب جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدا ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے۔میں نے کہا: اس میں ، میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا ارادہ کرتی ہوں ، معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ (دوسری) ازواج کو یہ نہ بتائیں کہ میں نے آپ کو اختیار کیا ہے ۔نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے مبلغ بناکر بھیجا ہے ، مشقت میں ڈالنے والا نہیں بنایا ۔ قتادہ نے کہا: صغت قلوبکما کے معنی ہیں تم دونوں کے دل جھک گئے ۔

Chapter No: 6

باب الْمُطَلَّقَةُ البَائِنُ لَا نَفَقَةَ لَهَا

A woman divorced thrice is not entitled to maintenance

مطلقہ بائنہ کےلیے نفقہ نہ ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلُهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَىْءٍ. فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ « لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ ». فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِى بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ « تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِى اعْتَدِّى عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِى ». قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِى سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلاَ يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتَقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لاَ مَالَ لَهُ انْكِحِى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ». فَكَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ « انْكِحِى أُسَامَةَ ». فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ.

It was narrated from Fatimah bint Qais that Abu 'Amr bin Hafs divorced her irrevocably when he was absent. He sent some barley to her via his agent, and she was angry with that. He said: "By Allah, you are not entitled to anything from us." She came to the Messenger of Allah (s.a.w) and told him about that, and he said: "You are not entitled to maintenance from him." He told her to observe her 'Iddah in the house of Umm Sharik, then he said: "She is a woman whom my Companions visit. Observe your 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum, for he is a blind man and you can take off your garments. And when your 'Iddah is over, let me know." She said: "When my 'Iddah ended, I told him that Mu'awiyah bin Abi Sufyan and Abu Jahm had proposed marriage to me. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'As for Abu Jahm, his stick never leaves his shoulder. As for Mu'awiyah, he is very poor and has no wealth. Marry Usamah bin Zaid;' I did not like that, but he said: 'Marry Usamah bin Zaid.' So I married him, and Allah caused it to be good and I was envied for that."

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں طلاق بتہ دے دی ، اس حال میں کہ وہ ان کے پاس موجود نہیں تھے ، انہوں نے اپنی طرف سے ایک وکیل کے ہاتھ کچھ جَو بھیجا، اس پر وہ ناراض ہوگئی ، تو وکیل نے ان سے کہا: اللہ کی قسم ! ہم پر تمہارا کوئی حق واجب نہیں ہے ۔ حضرت فاطمہ بنت قیس، رسول اللہ ﷺکے پاس گئیں ، اور اس بات کا ذکر کیا ، آپﷺنے فرمایا: ا س پرتمہارا کوئی نفقہ اور رہائش کا خرچہ واجب نہیں ہے ۔اور آپﷺنے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ ام شریک کے گھر میں عدت گزاریں ، پھر فرمایا: اس عورت کے ہاں تو میرے اصحاب بکثرت جمع ہوتے ہیں ، اس لیے تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزارو، وہ نابینا آدمی ہیں ، ان کے ہاں تم کپڑے اتار سکتی ہو، او رجب تمہاری عدت پوری ہوجائے تو مجھے اطلاع دینا ،حضرت فاطمہ بنت قیس کہتی ہیں : جب میری عدت پوری ہوگئی تو میں نے آپﷺسے ذکر کیا کہ مجھے معاویہ بن ابی سفیان اور ابو جہم دونوں نے نکاح کا پیغام دیا ہے ، رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: ابو جہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتے ، اور معاویہ تو مفلس آدمی ہیں، ان کے پاس مال نہیں ہے ، تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو، میں نے ان کو ناپسند کیا ، آپﷺنے فرمایا: اسامہ سے نکاح کرلو، میں نے ان سے نکاح کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے اسی میں خیر رکھ دی اور مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِى ابْنَ أَبِى حَازِمٍ وَقَالَ قُتَيْبَةُ أَيْضًا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىَّ - كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِى عَهْدِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَكَانَ أَنْفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةَ دُونٍ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ قَالَتْ وَاللَّهِ لأُعْلِمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَإِذَا كَانَ لِى نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِى يُصْلِحُنِى وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِى نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ مِنْهُ شَيْئًا قَالَتْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « لاَ نَفَقَةَ لَكِ وَلاَ سُكْنَى ».

It was narrated from Fatimah bint Qais that her husband divorced her at the time of the Prophet (s.a.w), and the maintenance he gave her was very little. When she saw that she said: "By Allah, I am going to tell the Messenger of Allah (s.a.w). If I am entitled to maintenance I will take what is enough for me, and if I am not entitled to maintenance I will not take anything from him." She said: "I told the Messenger of Allah (s.a.w) about that and he said: 'You are not entitled to maintenance or accommodation."'

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے زمانے میں ان کے شوہر نے ان کو طلاق دے دی اور تھوڑا سا خرچہ دیا ، جب انہوں نے خرچہ دیکھا تو کہا: اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ﷺکو ضرور بتاؤں گی ، پھر اگر میں خرچہ کے مستحق ہوئی تو ضروریات کے مطابق لوں گی ، اور اگر مستحق نہ ہوئی تو کچھ بھی نہیں لوں گی ،حضرت فاطمہ بنت قیس نے رسول اللہ ﷺسے اس کا ذکر کیا تو آپﷺنے فرمایا: (اس کے ذمہ) تمہارا کوئی خرچہ ، اور رہائش نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِى أَنَسٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ فَأَخْبَرَتْنِى أَنَّ زَوْجَهَا الْمَخْزُومِىَّ طَلَّقَهَا فَأَبَى أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ نَفَقَةَ لَكِ فَانْتَقِلِى فَاذْهَبِى إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُونِى عِنْدَهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ ».

It was narrated that Abu Salamah said: "I asked Fatimah bint Qais, and she told me that her Makhzumi husband divorced her and refused to give her any maintenance. She went to the Messenger of Allah (s.a.w) and told him, and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'You are not entitled to any maintenance. Go and stay with Ibn Umm Maktum, for he is a blind man and you can take off your garments there."'

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر مخزومی نے ان کو طلاق دے دی ، اور ان کو نفقہ دینے سے انکار کیا ، وہ رسول اللہ ﷺکے پاس آئی اور اس بات کی خبر دی ، تو رسول اللہﷺنے فرمایا: تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے ، تم ابن ام مکتوم کے گھر چلی جاؤ، وہ نابینا ہیں ، وہاں تم اپنے کپڑے اتار سکتی ہو۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ أَبِى كَثِيرٍ - أَخْبَرَنِى أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِىَّ طَلَّقَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهَا أَهْلُهُ لَيْسَ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ. فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِى نَفَرٍ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَقَالُوا إِنَّ أَبَا حَفْصٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا فَهَلْ لَهَا مِنْ نَفَقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ ». وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا « أَنْ لاَ تَسْبِقِينِى بِنَفْسِكِ ». وَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا « أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَأْتِيهَا الْمُهَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ فَانْطَلِقِى إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى فَإِنَّكِ إِذَا وَضَعْتِ خِمَارَكِ لَمْ يَرَكِ ». فَانْطَلَقَتْ إِلَيْهِ فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْكَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ.

Abu Salamah narrated that Fatimah bint Qais, the sister of Ad-Dahhak bin Qais, told him, that Abu Hafs bin Al-Mughirah Al-Makhzumi divorced her three times, then he went to Yemen. His people said to her: "You are not entitled to maintenance from us." Khalid bin Al-Walid came with a group of people to the Messenger of Allah (s.a.w) in the house of Maimunah and said: "Abu Hafs has divorced his wife three times; is she entitled to maintenance?" The Messenger of Allah (s.a.w) said: "She is not entitled to maintenance, but she has to observe the 'Iddah." And he sent word to her, saying: "Do not be hasty in making a decision concerning yourself (without consulting me)." He told her to move to (the house of) Umm Sharik, then he sent word saying: "Umm Sharik is visited by the first Muhajirin. Go to Ibn Umm Maktum, the blind man, for if you take off your Khimar (head cover) he will not see you." So she went and stayed there, and when her 'Iddah was over, the Messenger of Allah (s.a.w) married her to Usamah bin Zaid bin Harithah.

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو حفص بن مغیرہ مخزومی نے انہیں تین طلاقیں دے دیں، اور پھر یمن چلے گئے ،حضرت فاطمہ کے گھر والوں نے ان سے کہا کہ تمہارا نفقہ ہم پر واجب نہیں ہے ۔حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چند آدمیوں کے ہمراہ رسول اللہ ﷺکے پاس حضرت میمونہ کے گھر آئے اور عرض کیا یارسول اللہﷺ! ابو حفص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی، تو کیا اس عورت کا نفقہ ہے ؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اس عورت کا نفقہ نہیں ہے اس پر عدت ہے ۔اور اس عورت کی طرف پیغام بھیجا کہ تم میرے مشورہ کے بغیر نکاح نہ کرنا ، اور ام شریک کے گھر عدت گزارنا ، پھر پیغام بھیجا کہ ام شریک کے گھر تو قدیم مہاجرین آتے رہتے ہیں تم ابن ام مکتوم نابینا کے ہاں عدت گزارنا،کیونکہ جب تم اپنا دوپٹہ اتار رکھو گی تو وہ تم کو نہیں دیکھیں گے ،وہ ابن ام مکتوم کے پاس چلی گئی ، جب عدت پوری گئی تو رسول اللہ ﷺنے ان کا نکاح اسامہ بن زید بن حارثہ سے کردیا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَ كَتَبْتُ ذَلِكَ مِنْ فِيهَا كِتَابًا قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِى مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِى الْبَتَّةَ فَأَرْسَلْتُ إِلَى أَهْلِهِ أَبْتَغِى النَّفَقَةَ. وَاقْتَصُّوا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ. غَيْرَ أَنَّ فِى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو « لاَ تَفُوتِينَا بِنَفْسِكِ ».

Abu Salamah narrated that he wrote down what Fatimah bint Qais said: "I was married to a man from Bamu Makhzum, and he divorced me irrevocably. I sent word to his people asking for maintenance..." and they quoted a Hadith like that of Yahya bin Abi Kathir from Abu Salamah (no. 3700), except that in the Hadith of Muhammad bin 'Amr (a narrator) it says: "Do not hasten to make a decision without letting us know."

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں بنومخزوم کے ایک آدمی کے نکا ح میں تھی ، اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی، میں نے اس کے گھر والوں کے پاس کسی کو نفقہ کا مطالبہ کے لیے بھیج دیا ،اس کے بعد اسی طرح مروی ہے ۔


حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِى عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تَسْتَفْتِيهِ فِى خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَهُ فِى خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا وَقَالَ عُرْوَةُ إِنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ.

Fatimah bint Qais narrated that she was married to Abu 'Amr bin Hafs bin Al-Mughirah, and he issued the last of three divorces to her. She said that she came to the Messenger of Allah (s.a.w) to consult him about leaving her house, and he told her to go to Ibn Umm Maktum, the blind man. Marwan refused to believe him about a divorced woman leaving her house, and 'Urwah said: "'Aishah objected to that regarding Fatimah bint Qais."

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ وہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھیں، اس نے انہیں تین طلاقیں دے دیں،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور گھر سے نکلنے کے بارے میں پوچھا تو آپﷺنے انہیں حکم دیا کہ ابن ام مکتوم کے گھر چلی جاؤ ۔ مروان نے مطلقہ کے گھر سے نکلنے کی روایت کی تصدیق نہیں کی ، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی حضرت فاطمہ بن قیس کی اس روایت کا انکار کردیا۔


وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ مَعَ قَوْلِ عُرْوَةَ إِنَّ عَائِشَةَ أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ.

A similar report (as no. 3702) was narrated from Shihab with this chain, as well of the comment of 'Urwah about 'Aishah's objection to Fatimah bint Qais.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت منقول ہے ، اور اس میں عروہ کا یہ قول بھی ہے ، کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت فاطمہ بنت قیس کی اس روایت کا انکار کیا تھا۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ - قَالاَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ مَعَ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ فَأَرْسَلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلاَقِهَا وَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِى رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ فَقَالاَ لَهَا وَاللَّهِ مَا لَكِ نَفَقَةٌ إِلاَّ أَنْ تَكُونِى حَامِلاً. فَأَتَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَتْ لَهُ قَوْلَهُمَا. فَقَالَ « لاَ نَفَقَةَ لَكِ ». فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِى الاِنْتِقَالِ فَأَذِنَ لَهَا. فَقَالَتْ أَيْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ « إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ». وَكَانَ أَعْمَى تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلاَ يَرَاهَا فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْكَحَهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ يَسْأَلُهَا عَنِ الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ بِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ لَمْ نَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ مِنِ امْرَأَةٍ سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِى وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا. فَقَالَتْ فَاطِمَةُ حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ فَبَيْنِى وَبَيْنَكُمُ الْقُرْآنُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ( لاَ تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ) الآيَةَ قَالَتْ هَذَا لِمَنْ كَانَتْ لَهُ مُرَاجَعَةٌ فَأَىُّ أَمْرٍ يَحْدُثُ بَعْدَ الثَّلاَثِ فَكَيْفَ تَقُولُونَ لاَ نَفَقَةَ لَهَا إِذَا لَمْ تَكُنْ حَامِلاً فَعَلاَمَ تَحْبِسُونَهَا

It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah that Abu 'Amr bin Hafs bin Al-Mughirah set out with 'Ali bin Abi Talib for Yemen, and he sent word to his wife Fatimah bint Qais with her final divorce, and told Al-Harith bin Hisham and 'Ayyash bin Abi Rabi'ah to give her some maintenance. They said to her: "By Allah, you will not have any maintenance unless you are pregnant." She came to the Prophet (s.a.w) and told him what they had said, and he said: "There is no maintenance for you." She asked him for permission to move, and he gave her permission. She said: "Where, O Messenger of Allah?" He said: "To Ibn Umm Maktum." He was blind, so she could take off her garments in his house and he would not see her. When her 'Iddah was over, the Prophet (s.a.w) married her to Usamah bin Zaid. Marwan sent Qabisah bin Dhuwaib to her to ask her about this Hadith, and she narrated it to him. Marwan said: "We have only heard this Hadith from a woman, so we will follow what we are certain of, which is what we found the people following." When news of what Marwan said reached Fatimah she said: "Between you and I is the Qur'an. Allah, Most High, says: "... And turn them not out of their (husband's) homes ...". She said: "This is for one whose divorce is revocable, so what new thing will Allah bring to pass after the third (irrevocable divorce)? How can you say that she is not entitled to maintenance if she is not pregnant? On what grounds do you detain her?"

عبید اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ ، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن گئے ، او روہاں سے انہوں نے ایک قاصد کے ہاتھ اپنی بیوی حضرت فاطمہ بنت قیس کو تیسری طلاق بھیج دی جو دو طلاقیں دینے کے بعد بچی ہوئی تھی، اور حارث بن ہشام اور عیاش بن ربیعہ کو پیغام بھیجا کہ انہیں نفقہ دے دینا،ان دونوں نے نفقہ دینے سے انکار کردیا، اور کہا: اللہ کی قسم! تمہارے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے ، ہاں اگر تم حاملہ ہو، وہ نبی ﷺکے پاس گئیں اور آپﷺسے ان کے قول کا ذکر کیا، آپﷺنے فرمایا: تمہارے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے ۔ پھر انہوں نے اس گھر سے جانے کے بارے میں پوچھا تو انہیں اجازت مل گئی ۔انہوں نے پوچھا : یارسول اللہ ﷺ! اب میں کہاں رہوں ؟ آپﷺنے فرمایا: ابن ام مکتوم کے ہاں ، وہ نابینا ہے ، تو وہاں اپنے کپڑے اتار سکتی ہو او روہ تم کو نہیں دیکھے گا۔جب ان کی عدت پوری ہوگئی تو نبیﷺنے ان کا نکاح حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کردیا۔مروان (اس وقت کے حاکم مدینہ ) نے حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس قبیصہ بن ذویب کو بھیجا جس نے اس سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بیان کی ، مروان نے کہا: ہم نے یہ حدیث اس عورت کے سوا کسی سے نہیں سنی۔ہم اس مضبوط دلیل کو اختیار کریں گے جس پر سب لوگوں کا عمل ہے ، جب حضرت فاطمہ بن قیس کو مروان کی یہ بات پہنچی کہ میرے اور تمہارے درمیان قرآن مجید کی یہ آیت ہے : اللہ تعالی فرماتا ہے : لا تخرجوھن من بیوتھن ۔۔۔ مطلقہ عورتوں کو گھروں سے نہ نکالو،تو حضرت فاطمہ نے کہا: یہ آیت تو ان مطلقہ عورتوں کے بارے میں ہے جن کو طلق رجعی دی گئی ہو، اور تین طلاقوں کے بعد کون سا رجوع ہوتا ہے ؟ اور تم یہ کیسے کہتے ہو کہ اگر عورت حاملہ نہ ہو تو اس کے لیے نفقہ نہیں ہے ، تم اس کو کس دلیل سے رکوگے؟


حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ وَحُصَيْنٌ وَمُغِيرَةُ وَأَشْعَثُ وَمُجَالِدٌ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى خَالِدٍ وَدَاوُدُ كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِىِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَيْهَا فَقَالَتْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ. فَقَالَتْ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ - قَالَتْ - فَلَمْ يَجْعَلْ لِى سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً وَأَمَرَنِى أَنْ أَعْتَدَّ فِى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ.

It was narrated that Ash-Sha'bi said: "I entered upon Fatimah bint Qais, and I asked her about the ruling of the Messenger of Allah (s.a.w) concerning her. She said: 'My husband divorced me irrevocably, and I referred my dispute with him about maintenance and accommodation to the Messenger of Allah (s.a.w). He did not grant me any accommodation nor maintenance, and he told me to observe my 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum."'

شعبی کہتے ہیں کہ میں حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺنے آپ کے مقدمہ میں کیا فیصلہ دیا تھا؟انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ،میں رسول اللہ ﷺکے پاس رہائش اور خرچہ کے بارے میں مقدمہ لیکر گئی تو آپﷺنے مجھے رہائش اور خرچہ نہیں دلوایا ، بلکہ مجھے حکم دیا کہ میں ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزاروں۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ وَدَاوُدَ وَمُغِيرَةَ وَإِسْمَاعِيلَ وَأَشْعَثَ عَنِ الشَّعْبِىِّ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ. بِمِثْلِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ هُشَيْمٍ.

It was narrated from Ash-Sha'bi that he said: "I entered upon Fatimah bint Qais..." a Hadith like that of Zuhair from Hushaim (no. 3705).

ایک اور سند سے بھی حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِىُّ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ حَدَّثَنَا الشَّعْبِىُّ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبِ ابْنِ طَابٍ وَسَقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلاَثًا أَيْنَ تَعْتَدُّ قَالَتْ طَلَّقَنِى بَعْلِى ثَلاَثًا فَأَذِنَ لِى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ أَعْتَدَّ فِى أَهْلِى.

Ash-Sha'bi said: "We entered upon Fatimah bint Qais and she offered us fresh dates and Sawiq. We asked her about the woman who has been thrice divorced - where should she observe her 'Iddah? She said: 'My husband divorced me three times, and the Prophet (s.a.w) gave me permission to observe my 'Iddah among my family."'

شعبی کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، انہوں نے ہمیں تازہ کھجوریں کھلائیں ، اور جوار کا ستو پلایا تھا ، میں نے پوچھا: کہ جس عورت کو تین طلاقیں دی گئیں وہ کہاں عدت گزاریں؟انہوں نے کہا: مجھے میری خاوند نے طلاق دی تھیں ، مجھے نبی ﷺنے یہ اجازت دی تھی کہ میں اپنے گھروالوں میں جاکر عدت گزاروں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْمُطَلَّقَةِ ثَلاَثًا قَالَ « لَيْسَ لَهَا سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةٌ ».

It was narrated from Ash-Sha'bi, from Fatimah bint Qais, that concerning a woman who has been thrice divorced, the Prophet (s.a.w) said: "She is not entitled to accommodation nor maintenance."

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے اس کے بارے میں جسے تین طلاقیں ہوگئیں فرمایا: اس کے لئے نہ مکان ہے اور نہ نفقہ۔


وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ طَلَّقَنِى زَوْجِى ثَلاَثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « انْتَقِلِى إِلَى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَاعْتَدِّى عِنْدَهُ ».

It was narrated from Ash-Sha'bi that Fatimah bint Qais said: "My husband divorced me three times, and I wanted to move. I went to the Prophet (s.a.w) and he said: 'Move to the house of your cousin 'Amr bin Umm Maktum, and observe your 'Iddah there."'

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں اور میں نے منتقل ہونے کا ارادہ کیا ، میں نبی ﷺ کے پاس آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے چچا زاد بیٹے عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں جاؤ، اور وہاں عدت گزارو۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ كُنْتُ مَعَ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ جَالِسًا فِى الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ وَمَعَنَا الشَّعْبِىُّ فَحَدَّثَ الشَّعْبِىُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً ثُمَّ أَخَذَ الأَسْوَدُ كَفًّا مِنْ حَصًى فَحَصَبَهُ بِهِ. فَقَالَ وَيْلَكَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا قَالَ عُمَرُ لاَ نَتْرُكُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا -صلى الله عليه وسلم- لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لاَ نَدْرِى لَعَلَّهَا حَفِظَتْ أَوْ نَسِيَتْ لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (لاَ تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلاَ يَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ).

It was narrated that Abu Ishaq said: "I was with Al-Aswad bin Yazid, sitting in the grand Masjid, and Ash-Sha'bi was with us. Ash-Sha'bi narrated the Hadith of Fatimah bint Qais, that the Messenger of Allah (s.a.w) did not grant to her any accommodation nor maintenance. Then Al-Aswad took a handful of pebbles and threw them at him, and said: 'Woe to you for narrating such a thing. 'Umar said: We will not leave the Book of Allah and the Sunnah of our Prophet (s.a.w) for the words of a woman when we do not know whether she remembered or forgot. She is entitled to accommodation and maintenance. And he recited the verse: "...And turn them not out of their (husband's) homes nor shall they (themselves) leave, except in case they are guilty of some open Fahishah...'"

حضرت ابو اسحاق سے روایت ہے کہ میں اسود بن یزید کے ساتھ مسجد اعظم میں بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ شعبی بھی تھے، شعبی نے فاطمہ بنت قیس کی روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺنے اس کے لئے نہ رہائش مقرر کی اور نہ خرچہ ،پھر اسود بن یزید نے کنکریوں کی ہتھیلی بھر لی اور شعبی کی طرف پھینکیں، اور کہا : ہلاکت ہو تم اس جیسی احادیث بیان کرتے ہو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی ﷺ کی سنت کو اس عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے ،ہم نہیں جانتے کہ اس نے شاید یاد رکھا ہے یا بھول گئی، اس کے لئے رہائش اور خرچہ ہے ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یأتین بفاحشۃ مبینۃ) تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کرنے لگیں۔


وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّىُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِى أَحْمَدَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ بِقِصَّتِهِ.

A Hadith similar to that of Abu Ahmad from 'Ammar bin Ruzaiq (no. 3710) was narrated from Abu Ishaq with this chain.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ أَبِى الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِىِّ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاَثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً قَالَتْ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِى ». فَآذَنْتُهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لاَ مَالَ لَهُ وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ وَلَكِنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ». فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا أُسَامَةُ أُسَامَةُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ ». قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُهُ فَاغْتَبَطْتُ.

It was narrated that Abu Bakr bin Abi Al-Jahm bin Sukhair Al-'Adawi said: "I heard Fatimah bint Qais say that her husband divorced her thrice, and the Messenger of Allah (s.a.w) did not grant her any accommodation or maintenance. She said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: "When your 'Iddah is over, let me know." So she let him know, and Mu'awiyah, Abu Jahm and Usamah bin Zaid proposed to her. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "As for Mu'awiyah, he is a poor man who has no wealth. As for Abu Jahm, he is a man who beats women. But (choose) Usamah bin Zaid." She gestured with her hand like this, (as if expressing disapproval), saying said: "Usamah!? Usamah!?" But the Messenger of Allah (s.a.w) said to her: "Obedience to Allah and obedience to His Messenger is better for you." She said: 'So I married him and I was envied."'

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ اس کے خاوند نے اسے تین طلاق دے دیں اور رسول اللہ ﷺنے اس کے لئے نہ مکان تجویز کیا اور نہ نفقہ ، وہ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺنے مجھے فرمایا : جب تم اپنی عدت پوری کر چکو تو مجھے اطلاع دینا میں نے آپ ﷺکو اطلاع دی کہ معاویہ اور ابوجہم اور اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے پیغام نکاح بھیجے ہیں تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا : معاویہ تو غریب مفلس آدمی ہے کہ اس کے پاس مال نہیں ہے اور ابوجہم عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے لیکن اسامہ بہتر ہے تو فاطمہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا اسامہ؟ اسامہ؟ یعنی انکار کیا اور آپ ﷺنے اسے فرمایا: اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت میں تیرے لئے بہتری ہے میں نے اس سے شادی کرلی تو مجھ پر رشک کیا جانے لگا۔


وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ أَبِى الْجَهْمِ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ أَرْسَلَ إِلَىَّ زَوْجِى أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِى رَبِيعَةَ بِطَلاَقِى وَأَرْسَلَ مَعَهُ بِخَمْسَةِ آصُعِ تَمْرٍ وَخَمْسَةِ آصُعِ شَعِيرٍ فَقُلْتُ أَمَا لِى نَفَقَةٌ إِلاَّ هَذَا وَلاَ أَعْتَدُّ فِى مَنْزِلِكُمْ قَالَ لاَ. قَالَتْ فَشَدَدْتُ عَلَىَّ ثِيَابِى وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « كَمْ طَلَّقَكِ ». قُلْتُ ثَلاَثًا. قَالَ « صَدَقَ لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ. اعْتَدِّى فِى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ تُلْقِى ثَوْبَكِ عِنْدَهُ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِى ». قَالَتْ فَخَطَبَنِى خُطَّابٌ مِنْهُمْ مُعَاوِيَةُ وَأَبُو الْجَهْمِ. فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ مُعَاوِيَةَ تَرِبٌ خَفِيفُ الْحَالِ وَأَبُو الْجَهْمِ مِنْهُ شِدَّةٌ عَلَى النِّسَاءِ - أَوْ يَضْرِبُ النِّسَاءَ أَوْ نَحْوَ هَذَا - وَلَكِنْ عَلَيْكِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ».

It was narrated that Abu Bakr bin Abi Al-Jahm said: "I heard Fatimah bint Qais say: 'My husband Abu 'Amr bin Hafs bin Al-Mughirah sent 'Ayyash bin Abi Rabi'ah to me with word of my divorce, and he sent with him five Sa's of dates and five Sa's of barley. I said: "Do I get no maintenance other than this? And am I not to observe my 'Iddah in your home?" He said: "No." She said: "I got dressed and went to the Messenger of Allah (s.a.w). He said: 'How many times has he divorced you?' I said: 'Three.' He said: 'He is right, you are not entitled to maintenance. Observe your 'Iddah in the house of your cousin 'Amr bin Umm Maktum, for he is blind and you can take off your garments there. When your 'Iddah is over, let me know.' Some men proposed to me, including Mu'awiyah and Abu Al-Jahm. The Prophet (s.a.w) said to me: 'Mu'awiyah is poor and destitute, and Abu Al-Jahm is harsh towards women' - or 'he beats women,' or words to that effect - 'but you should marry Usamah bin Zaid."'

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے میری طرف عیاش بن ابی ربیعہ کو طلاق دے کر بھیجا جبکہ اس کے ساتھ پانچ صاع کھجور اور پانچ صاع جو بھی بھیجے ہیں ،میں نے کہا: کیا میرے لئے صرف یہی نفقہ ہے اور کیا میں عدت بھی تمہارے گھر نہ گزاروں گی؟ اس نے کہا: نہیں ۔وہ کہتی ہیں میں نے اپنے کپڑے پہنے اور رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی آپ ﷺنے فرمایا: اس نے تجھے کتنی طلاقیں دی ہیں میں نے کہا تین آپ ﷺنے فرمایا اس نے سچ کہا تیرا نفقہ نہیں ہے اور تو اپنی عدت اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے گھر پوری کرنا وہ نابینا ہیں تم اپنے کپڑے اس کے ہاں اتار سکتی ہے پھر جب تمہاری عدت پوری ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا، فاطمہ کہتی ہیں کہ مجھے کئی لوگوں نے نکاح کا پیغام بھیجا ،ان میں معاویہ اور ابوجہم بھی تھے نبیﷺنے فرمایا کہ معاویہ غریب آدمی ہیں اور ابوجہم عورتوں پر سختی کرتا ہے یا عورتوں کو مارتا ہے یا اسی طرح فرمایا ، لیکن تم اسامہ بن زید کو اختیارکرلو ۔


وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ حَدَّثَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى الْجَهْمِ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْنَاهَا فَقَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ أَبِى عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَخَرَجَ فِى غَزْوَةِ نَجْرَانَ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِىٍّ وَزَادَ قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُهُ فَشَرَّفَنِى اللَّهُ بِابْنِ زَيْدٍ وَكَرَّمَنِى اللَّهُ بِابْنِ زَيْدٍ.

Abu Bakr bin Abi Al-Jahm said: "Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman and I entered upon Fatimah bint Qais. We asked her and she said: 'I was married to Abu 'Amr bin Hafs bin Al-Mughirah. He went out on the campaign to Najran..."' and he quoted a Hadith like that of Ibn Mahdi (no . 3713), and added: "She said: 'So I married him and Allah honored me with Abu Zaid and Allah blessed me with Abu Zaid."'

حضرت ابوبکر بن ابی جہم سے روایت ہے کہ میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن، فاطمہ بنت قیس کے پاس گئے اور ہم نے ان سے (طلاق کاواقعہ ) پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں ابوعمروبن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھی وہ غزوہ نجران میں نکلے باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شادی کرلی تو اللہ نے مجھے ابوزید (اسامہ کی کنیت) کی وجہ سے شرافت اور بزرگی عطا فرمائی۔


وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِى أَبُو بَكْرٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ زَمَنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا طَلاَقًا بَاتًّا. بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ.

Abu Bakr said: "Abu Salamah and I entered upon Fatimah bint Qais during the time of Ibn Az-Zubair, and she told us that her husband had divorced her irrevocably..." a Hadith like that of Sufyan (no. 3714).

ابو بکر کہتے ہیں کہ میں اور ابوسلمہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں فاطمہ بنت قیس کے پاس آئے اس نے ہمیں بیان کیا کہ اس کے شوہر نے اسے قطعی طلاق (تین طلاقیں) دے دی تھی ، اس کے بعد حدیث اسی طرح سے ہے۔


وَحَدَّثَنِى حَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ السُّدِّىِّ عَنِ الْبَهِىِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ طَلَّقَنِى زَوْجِى ثَلاَثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً.

It was narrated that Fatimah bint Qais said: "My husband divorced me three times, and the Messenger of Allah (s.a.w) did not grant me any accommodation nor maintenance."

حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاق دے دیں اور رسول اللہ ﷺنے میرے لئے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا ۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى قَالَ تَزَوَّجَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ فَطَلَّقَهَا فَأَخْرَجَهَا مِنْ عِنْدِهِ فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ عُرْوَةُ فَقَالُوا إِنَّ فَاطِمَةَ قَدْ خَرَجَتْ. قَالَ عُرْوَةُ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ فَقَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ خَيْرٌ فِى أَنْ تَذْكُرَ هَذَا الْحَدِيثَ.

It was narrated from Hisham: "My father told me: 'Yahya bin Sa'eed bin Al-'As married the daughter of 'Abdur-Rahman bin Al-Hakam, then he divorced her and expelled her out of his house. 'Urwah criticized them for that, and they said: "Fatimah went out (of her husband's house)." 'Urwah said: "I went to 'Aishah and told her about that. She said: 'There is nothing good for Fatimah bint Qais in narrating this Hadith."'

ہشام کے والد بیان کرتے ہیں کہ یحیی بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی سے نکاح کیا پھر اسے طلاق دی کر اپنے گھر سے نکال دیا ، اس بات پر عروہ نے ان کی مذمت کی ، انہوں نے کہا: فاطمہ بھی تو گھر چھوڑ کر چلی گئی تھیں ، عروہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان کو یہ سارا واقعہ سنایا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: فاطمہ کے لیے اس حدیث کو بیان کرنا اچھا نہیں ہے ۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوْجِى طَلَّقَنِى ثَلاَثًا وَأَخَافُ أَنْ يُقْتَحَمَ عَلَىَّ. قَالَ فَأَمَرَهَا فَتَحَوَّلَتْ.

It was narrated that Fatimah bint Qais said: "I said: 'O Messenger of Allah, my husband has divorced me three times, and I am afraid that someone may break in.' So he told her to move.''

حضرت فاطمہ بن قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ اور مجھے ڈر ہے کہ وہ میرے ساتھ سختی نہ کریں ، آپﷺنے حکم دیا کہ وہ دوسری جگہ چلی جائیں۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ خَيْرٌ أَنْ تَذْكُرَ هَذَا. قَالَ تَعْنِى قَوْلَهَا لاَ سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةَ.

It was narrated from 'Aishah that she said: "There is nothing good for Fatimah in narrating this" (a Hadith similar to no. 3717)- meaning, that she had no accommodation or maintenance.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ بنت قیس کے لیے اس حدیث کو بیان کرنے میں کوئی اچھائی نہیں ہے ،یعنی فاطمہ کا یہ کہنا : ”لا سکنی ولا نفقہ“ مطلقہ عورت کے لیے نہ رہائش اور نہ خرچہ۔


وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ أَلَمْ تَرَىْ إِلَى فُلاَنَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ بِئْسَمَا صَنَعَتْ. فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعِى إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ فَقَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لاَ خَيْرَ لَهَا فِى ذِكْرِ ذَلِكَ.

It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Al-Qasim that his father said: "'Urwah bin Az-Zubair said to 'Aishah: 'Do you not see so-and-so the daughter of Al-Hakam? Her husband divorced her three times and she left.' She said: 'It is a bad thing that she has done.' He said: 'Have you not heard what Fatimah says?' She said: 'There is nothing good for her in mentioning that."'

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا: کیا آپ نے فلانہ بنت حکم کو نہیں دیکھا کہ اس کے خاوند نے اسے طلاق بتہ دے دی اور وہ گھر سے چلی گئی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس نے بُرا کیا؟ تو عروہ نے کہا: کیا آپ نے فاطمہ کا قول نہیں سنا ، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اس کے لئے اس بات کو ذکر کرنے میں کوئی خیر وخوبی نہیں ہے۔

Chapter No: 7

بابُ جَوَازِ خُرُوجِ الْمُعْتَدَّةِ الْبَائِنِ وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي النَّهَارِ لِحَاجَتِهَا

it is permissibile for a woman passing through her Iddah after an irreversible divorce or the death of her husband to go out during the day for her needs

مطلقہ بائنہ اورمتوفی عنہا زوجہا کا دوران عدت دن میں اپنی ضرورت کے لیے باہر نکلنے کا جواز

وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ طُلِّقَتْ خَالَتِى فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « بَلَى فَجُدِّى نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِى أَوْ تَفْعَلِى مَعْرُوفًا ».

Jabir bin 'Abdullah said: "My maternal aunt was divorced and she wanted to harvest her date palms. A man rebuked her for going out, so she went to the Prophet (s.a.w) (inquiring about going out during 'Iddah) and he said: 'No, go and harvest your date palms, for perhaps you will give charity or do an act of kindness."'

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی اس نے اپنی کھجوروں کو کاٹنا چاہا ، انہیں گھر سے نکلنے پر ایک آدمی نے ڈانٹا۔وہ نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا : کیوں نہیں، تم اپنی کجھوریں توڑ ڈالو، ہوسکتا ہے کہ تم اس میں سے صدقہ کرو، یا اور کوئی نیکی کا کا م کرو۔

Chapter No: 8

بابُ انْقِضَاءِ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَغَيْرِهَا بِوَضْعِ الْحَمْلِ

The Iddah of a woman whose husband had died or the like, finishes when she gives birth to a child

جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اور اس کے علاوہ مطلقہ عورت کی عدت وضع حمل سے پوری ہو جانے کا بیان

وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - وَتَقَارَبَا فِى اللَّفْظِ - قَالَ حَرْمَلَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ - حَدَّثَنِى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمِ الزُّهْرِىِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ فِى بَنِى عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّىَ عَنْهَا فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهْىَ حَامِلٌ فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ - رَجُلٌ مِنْ بَنِى عَبْدِ الدَّارِ - فَقَالَ لَهَا مَا لِى أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّكِ تَرْجِينَ النِّكَاحَ إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ. قَالَتْ سُبَيْعَةُ فَلَمَّا قَالَ لِى ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلَىَّ ثِيَابِى حِينَ أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَفْتَانِى بِأَنِّى قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِى وَأَمَرَنِى بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِى. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَلاَ أَرَى بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ كَانَتْ فِى دَمِهَا غَيْرَ أَنْ لاَ يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَطْهُرَ.

'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah bin Mas'ud narrated that his father wrote to 'Umar bin 'Abdullah bin Al-Arqam Az-Zuhri, telling him to go to Subai'ah bint Al-Harith Al-Aslamiyyah to ask her about her Hadith, and what the Messenger of Allah (s.a.w) said to her when she consulted him. 'Umar bin 'Abdullah wrote back to 'Abdullah bin 'Utbah telling him that Subai'ah told him that she was married to Sa'd bin Khawlah, one of Banu 'Amir bin Lu'ayy, who was one of those who had been present at (the Battle of) Badr. He died during the Farewell Pilgrimage while she was pregnant, and she gave birth shortly after he died. When her Nifas ended, she adorned herself to receive offers of marriage. Abu As-Sanabil bin Ba'kak - a man from Banu 'Abd Ad-Dar - entered upon her and said to her: "Why do I see you beautified? Perhaps you are hoping to get married? By Allah, you will not get married until four months and ten days have passed!" Subai'ah said: "When he said that to me, I got dressed that evening and went to the Messenger of Allah (s.a.w) and asked him about that. He advised me that my 'Iddah had ended when I gave birth, and he told me to get married if I wanted to." Ibn Shihab said: "I do not see anything wrong with (a woman) getting married after she has given birth, even if she is still bleeding, but her husband should not come close to her until she becomes pure."

حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ اس کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سبیعہ بنت حارث کے پاس جائے اوران سے پوچھیں کہ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺسے فتوی طلب کیا تھا تو رسول اللہ ﷺنے کیا ارشاد فرمایا تھا ،تو عمرو بن عبد اللہ نے عبد اللہ بن عتبہ کو لکھا میں نے حضرت سبیعہ سے پوچھا انہوں نے فرمایا: ان کا نکاح حصرت سعد بن خولہ عامری سے ہوا تھا،جو بنوعامر بن لوی سے تھے ، حضرت سعد جنگ بدر میں حاضر ہوئے تھے اور حجۃ الوداع میں وفات پاگئے ۔اس وقت وہ حاملہ تھیں اور وفات کے چند دنوں بعد وضع حمل ہوگیا ، نفاس سے فارغ ہونے کے بعد اس نے پیغام نکاح دینے والوں کے لئے بناؤ سنگار کیا تو بنو عبد الدار میں سے ایک آدمی ابوالسنابل بن بعکک اس کے پاس آیااور کہنے لگا : تم نے بناؤ سنگار کیوں کیا؟ شاید تم نکاح کرنے کا ارادہ کررہی ہو۔اللہ کی قسم!تم اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتی جب تک کہ چار ماہ اور دس دن پورے نہ ہوجائیں۔حضرت سبیعہ کہتی ہیں: کہ جب حضرت ابو السنابل نے یہ کہا: تو میں اپنے کپڑے سنبھال کر شام کو رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپﷺ سے میں نے یہ مسئلہ پوچھا ، تو آپﷺنے یہ فتوی دیا کہ جیسے ہی میرا وضع حمل ہوا میری عدت پوری ہوگئی ،اور اگر میں چاہوں تو دوسرا نکاح کرسکتی ہوں ، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ اگر کوئی عورت وضع حمل ہوتے ہی دوسرا نکاح کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، خواہ اس وقت اس کا خون جاری ہو، البتہ اس کا شوہر پاک ہونے سے پہلے اس سے صحبت نہیں کرسکتا ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَابْنَ عَبَّاسٍ اجْتَمَعَا عِنْدَ أَبِى هُرَيْرَةَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ الْمَرْأَةَ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِدَّتُهَا آخِرُ الأَجَلَيْنِ. وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَدْ حَلَّتْ. فَجَعَلاَ يَتَنَازَعَانِ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِى - يَعْنِى أَبَا سَلَمَةَ - فَبَعَثُوا كُرَيْبًا - مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ إِنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ وَإِنَّهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ.

Sulaiman bin Yasar narrated that Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman and Ibn 'Abbas met in the house of Abu Hurairah, and they were talking about a woman who gives birth a few days after her husband has died. Ibn 'Abbas said: "Her 'Iddah is the longer of the two periods." Abu Salamah said: "Her 'Iddah is over." They started to dispute about that. Then Abu Hurairah said: "I am with my nephew" - meaning Abu Salamah. So they sent Kuraib, the freed slave of Ibn 'Abbas, to Umm Salamah to ask her about that. He came to them and told them that Umm Salamah said: "Subai'ah Al-Aslamiyyah gave birth a few days after her husband died, and she mentioned that to the Messenger of Allah (s.a.w), who told her to get married."

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے اس مسئلہ پر گفتگو کررہے تھے ،کہ اگر کسی عورت کے شوہر کی وفات کے چند روز بعد اس کا وضع حمل ہوجائے تو آیا اس کی عدت پوری ہوگی یا نہیں ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی عدت وہ مدت ہے جو دو مدتوں (عدت وفات اور وضع حمل کا زمانہ) میں نسبتا ً زیادہ ہو ، اور ابو سلمہ کہہ رہے تھے کہ وضع حمل کے بعد اس کی عدت پوری ہوجاتی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں ، پھر انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ کے غلام کریب کو ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا، کریب نے آکر یہ بتلایا کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا: کہ حضرت سبیعہ اسلمیہ کو اپنے شوہر کی وفات کے چند روز بعد نفاس آگیا انہوں نے اس کا رسول اللہ ﷺسے ذکر کیا تو آپ ﷺنے انہیں نکاح کرنے کی اجازت دے دی۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ كِلاَهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. غَيْرَ أَنَّ اللَّيْثَ قَالَ فِى حَدِيثِهِ فَأَرْسَلُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَلَمْ يُسَمِّ كُرَيْبًا.

It was narrated from Yahya bin Sa'eed with this chain (a Hadith similar to no. 3723), except that Al-Laith said in his Hadith: "They sent word to Umm Salamah," and he did not mention Kuraib by name.

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں لیث کی روایت میں ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کسی کو روانہ کیا اور کریب کا ذکر نہیں کیا۔

Chapter No: 9

باب وُجُوبِ الإِحْدَادِ فِي عِدَّةِ الْوَفَاةِ وَتَحْرِيمِهِ فِي غَيْرِ ذَلِكَ إِلاَّ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ

About the obligation to mourn during the Iddah after the death of one’s husband, however it is prohibited to mourn for more than three days in other cases

بیوہ کے لیے سوگ کا واجب ہونا ، اور اس کے علاوہ کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِى سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الأَحَادِيثَ الثَّلاَثَةَ قَالَ قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ تُوُفِّىَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِى بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ».

It was narrated from Humaid bin Nafi', from Zainab bint Abi Salamah, that she told him these three Ahadith. He said: "Zainab said: 'I entered upon Umm Habibah, the wife of the Prophet (s.a.w), when her father Abu Sufyan died. Umm Habibah called for some perfume that had a yellowish color, Khaluq or something else, and she put some of it on a girl, then she wiped her cheeks with it and said: "By Allah, I have no need of perfume, but I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying on the Minbar: 'It is not permissible for a women who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days for anyone who dies, except for a husband; four months and ten days."'

حمید بن نافع کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ نے انہیں یہ تین احادیث بیان کی ہیں ، حضرت زینب کہتی ہیں کہ جب نبی ﷺکی زوجہ حضرت ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے تو حضرت ام حبیہ نےپیلے رنگ کی ایک خوشبو منگائی یا اور کوئی ،اور ایک باندی نے وہ خوشبو ان کے رخساروں پر لگائی پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی ، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺکو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں اس کے لیے کسی میت پر تین روز سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے ۔البتہ خاوند کی موت پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔


قَالَتْ زَيْنَبُ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّىَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِى بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ».

Zainab said: "Then I entered upon Zainab bint Jahsh when her brother died. She called for some perfume and put on some of it, then she said: 'By Allah, I have no need of perfume, but I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying on the Minbar: "It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days for anyone who dies, except for a husband; four months and ten days."

حضرت زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر میں ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی ،جب ان کے بھائی وفات پاگئے ، تو انہوں نے خوشبو منگاکر لگائی ، اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے اس خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی ، البتہ میں نے رسو ل اللہ ﷺسے منبر پر کہتے ہوئے سنا کہ جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ، ہاں البتہ خاوند کی وفات پر چارماہ اور دس دن سوگ کرے گی۔


قَالَتْ زَيْنَبُ سَمِعْتُ أُمِّى أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِى تُوُفِّىَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا أَفَنَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ ». مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ لاَ ثُمَّ قَالَ « إِنَّمَا هِىَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِى الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِى بِالْبَعَرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ».

Zainab said: "I heard my mother Umm Salamah say: A woman came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: "O Messenger of Allah, my daughter's husband has died, and she has trouble in her eye; can we apply kohl for her?" The Messenger of Allah (s.a.w) said: "No," two or three times, then he said: "It is only four months and ten days. During the Jahiliyyah one of you would throw a piece of dung at the end of one year."

حضرت زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اپنی ماں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتی تھی کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آکر کہا: یارسول اللہ ﷺ! میری بیٹی کا شوہر فوت ہوگیا ، اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے کیا ہم اس کی آنکھوں میں سرمہ ڈال سکتے ہیں ؟رسول اللہ ﷺنے دو یا تین مرتبہ فرمایا: نہیں ،ہر مرتبہ یہی فرماتے تھے : نہیں ، پھر آپﷺنے فرمایا: یہ سوگ چار ماہ دس دن تک ہے ، اور زمانہ جاہلیت میں تو تم سال پورا ہونے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھیں۔


قَالَ حُمَيْدٌ قُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِى بِالْبَعَرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّىَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلاَ شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَىْءٍ إِلاَّ مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعَرَةً فَتَرْمِى بِهَا ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ.

Humaid said: "I said to Zainab: 'What is this throwing a piece of dung at the end of one year? Zainab said: 'If a woman's husband died, she would go into a hut and wear her worst clothes, and she would not put on perfume or anything until one year had passed. Then an animal would be brought - a donkey or a sheep or a bird - she would rub her hands over it, and rarely did (such a woman) rub her hands over anything but it died. Then she would be given a piece of dung which she would throw, then she would go back to whatever she wanted to of perfume and other things."'

حمید نے حضرت زینب سے پوچھا کہ سال پورا ہونے کے بعد مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے ؟ حضرت زینب نے فرمایا: کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر فوت ہوجاتا تھا تو وہ ایک تنگ مکان میں چلی جاتی تھی ،خراب کپڑے پہنتی اور خوشبو وغیرہ نہ لگاتی تھی ۔ جب اس طرح ایک سال گزرجاتا تو اس کے پاس ایک گدھا ، یا بکری یا پرندہ لایا جاتا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی ، اکثر ایسا ہوتا تھا ، کہ جس پر وہ ہاتھ پھیرتی تھی وہ مرجاتا تھا ، پھر وہ اس مکان سے باہر آتی ، اس کو مینگنی دی جاتی جس کو وہ پھینک دیتی ، پھر اس کے بعد وہ خوشبو یا کسی اور چیز کا استعمال کرتی۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ تُوُفِّىَ حَمِيمٌ لأُمِّ حَبِيبَةَ فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْهُ بِذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لأَنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ».

It was narrated that Humaid bin Nafi' said: I heard Zainab, the daughter of Umm Salamah, say: A close relative of Umm Habibah died, and she called for some yellow perfume and put it on her forearms, and she said: "I only did this because I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days, except for a husband, four months and ten days."'

حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ جب حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے کسی رشتہ دار کا انتقال ہوگیا تو انہوں نے پیلے رنگ کی خوشبو منگاکر اپنی کلائیوں پر لگائی ، اور فرمایا:میں یہ اس لیے کررہی ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپﷺنے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے ۔البتہ شوہر (کے مرنے پر)چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔


وَحَدَّثَتْهُ زَيْنَبُ عَنْ أُمِّهَا وَعَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَوْ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.

Zainab narrated it from her mother, and from Zainab the wife of the Prophet (s.a.w) - or from one of the wives of the Prophet (s.a.w) (a Hadith similar to no. 3729).

حضرت زینب نے اس حدیث کو اپنی والدہ یا نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا ، یا ازواج مطہرات میں سے کسی سے روایت کیا۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّىَ زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا فَأَتَوُا النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَاسْتَأْذَنُوهُ فِى الْكُحْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَكُونُ فِى شَرِّ بَيْتِهَا فِى أَحْلاَسِهَا - أَوْ فِى شَرِّ أَحْلاَسِهَا فِى بَيْتِهَا - حَوْلاً فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعَرَةٍ فَخَرَجَتْ أَفَلاَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ».

It was narrated that Humaid bin Nafi' said: "I heard Zainab, the daughter of Umm Salamah, narrating from her mother, that a woman's husband died, and they were worried about her (diseased) eye. They came to the Prophet (s.a.w) and asked him for permission to use kohl, and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'One of you used to stay in the worst part of her house, in her worst garments' - or 'in her worst garments in her house - for a year, then if a dog passed by she would throw a piece of dung and then come out. Isn't it only four months and ten days?"'

حضرت زینب بنت ام سلمہ ، اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں ، انہوں نے کہا: کہ ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہوگیا ، اس کی آنکھوں میں تکلیف ہوگئی اور لوگوں کو اس کی آنکھوں میں شدت مرض کا خدشہ ہوا۔وہ نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور سرمہ لگانے کی اجازت طلب کی ،رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم میں کوئی ایک بدترین کوٹھڑی میں چلی جاتی تھیں ،اور ایک سال تک بدترین چادر پہنے رہتی تھیں ، اور ایک سال کے بعد جب کوئی کتا گزرتا تو اس پر مینگنی پھینک کر باہر آتی تھیں، اب تم سے چار ماہ دس دن بھی ٹھہرا نہیں جاتا ۔


وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ بِالْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فِى الْكُحْلِ وَحَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُخْرَى مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تُسَمِّهَا زَيْنَبُ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.

Both Ahadith (no. 3729, 2730) were narrated from Humaid bin Nafi', the Hadith of Umm Salamah about kohl and the Hadith of Umm Salamah and another of the wives of the Prophet (s.a.w), except that he did not name her as Zainab, similar to the Hadith of Muhammad bin Ja'far.

ایک اور سند سے حمید بن نافع حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یا نبی ﷺکی کسی دوسری زوجہ سے دونوں حدیثیں حسب سابق بیان کرتے ہیں لیکن اس میں محمد بن جعفر کی روایت کی طرح حضرت زینب کا ذکر نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِى سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ تَذْكُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ بِنْتًا لَهَا تُوُفِّىَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا فَهْىَ تُرِيدُ أَنْ تَكْحُلَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِى بِالْبَعَرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ وَإِنَّمَا هِىَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ ».

It was narrated from Humaid bin Nafi' that he heard Zainab bint Abi Salamah narrate that Umm Salamah and Umm Habibah mentioned that a woman came to the Messenger of Allah (s.a.w) and told him that the husband of a daughter of hers had died, and she had a problem in her eye and wanted to use kohl. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "One of you used to throw a piece of dung at the end of a year. It is only four months and ten days."

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یار سول اللہ ﷺ!میری لڑکی کے شوہر کا نتقال ہوگیا ، اور اسکی آنکھ میں تکلیف ہے وہ اس میں سرمہ ڈالنا چاہتی ہیں ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم میں کوئی ایک سال کے آخر میں مینگنی پھینکا کرتی تھیں ، اور یہ تو صرف چار ماہ دس دن ہیں۔


وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِى سَلَمَةَ قَالَتْ لَمَّا أَتَى أُمَّ حَبِيبَةَ نَعِىُّ أَبِى سُفْيَانَ دَعَتْ فِى الْيَوْمِ الثَّالِثِ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْ بِهِ ذِرَاعَيْهَا وَعَارِضَيْهَا وَقَالَتْ كُنْتُ عَنْ هَذَا غَنِيَّةً سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ».

It was narrated that Zainab bint Abi Salamah said: "When news of the death of Abu Sufyan came to Umm Habibah, on the third day she called for some yellowish perfume and wiped some of it on her forearms and cheeks, and said: 'I have no need of this, but I heard the Prophet (s.a.w) say: It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day, to mourn for more than three days, except for a husband, for whom she should mourn for four months and ten days."'

حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد حضرت ابو سفیان کے فوت ہونے کی خبر ملی ، تو حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے تیسرے دن خوشبور منگاکر اپنے کلائیوں اور رخساروں پر لگائی ، اور فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ آپﷺنے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ سوگ کرے ، البتہ اپنے شوہر (کی موت پر) پر چار ماہ دس دن سوگ کرے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِى عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ عَنْ حَفْصَةَ أَوْ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ عَنْ كِلْتَيْهِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ - أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ - أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجِهَا ».

It was narrated from Nafi' that Safiyyah bint Abi 'Ubaid narrated to him from Hafsah, or from 'Aishah, or from them both, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "It is not permissible for any woman who believes in Allah and the Last Day, or who believes in Allah and His Messenger, to mourn for more than three days for anyone, except for her husband."

حضرت نافع کہتے ہیں کہ صفیہ بنت ابی عبید نے حضرت حفصہ یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یا ان دونوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت دن پر ایمان رکھتی ہے یا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو ، تو اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے سوائے اس کے شوہر کے۔


وَحَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِى ابْنَ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ نَافِعٍ بِإِسْنَادِ حَدِيثِ اللَّيْثِ. مِثْلَ رِوَايَتِهِ.

A Hadith similar to that of Al-Laith (no. 3735) was narrated from Nafi' with this chain.

ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِى عُبَيْدٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَابْنِ دِينَارٍ وَزَادَ « فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ».

It was narrated from Safiyyah bint Abi 'Ubaid that she heard Hafsah bint 'Umar, the wife of the Prophet (s.a.w), narrating a Hadith from the Prophet (s.a.w) that was similar to that of Al-Laith and Ibn Dinar (no. 3735), and he added: "She should mourn for him for four months and ten days."

حضرت حفصہ بنت عمر ،رسول اللہ ﷺکی زوجہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا۔ یہ حدیث بھی مذکورہ بالاحدیث کی طرح ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِى عُبَيْدٍ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.

A Hadith similar to theirs (i.e. Nafi' and Al-Laith) was narrated from Safiyyah bint Abi 'Ubaid, from one of the wives of the Prophet (s.a.w), from the Prophet (s.a.w).

ایک اور سند سے صفیہ بنت ابی عبید نے نبی ﷺکی ازواج مطہرات سے مذکورہ بالا حدیث کی طرح روایت کی ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجِهَا ».

It was narrated from 'Aishah that the Prophet (s.a.w) said: "It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for more than three days for anyone who dies, except for her husband."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔


وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ وَلاَ تَكْتَحِلُ وَلاَ تَمَسُّ طِيبًا إِلاَّ إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ ».

It was narrated from Umm 'Atiyyah that the Messenger of Allah (s.a.w) §laid: "No woman should mourn for more than three days for anyone who dies, except for her husband; four months and ten days, when she should not wear any dyed clothes except a garment made of Asb, and she should not put on kohl or perfume except in the case of purifying herself after menses, when she may use a little Qust or Azfar."

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کوئی عورت تین دن سے زیادہ میت پر سوگ نہ کرے ، سوائے خاوند کے ، اس کے مرنے پر چار ماہ دس دن سوگ کرے ،رنگ کے کپڑے نہ پہنے ، رنگین بنے ہوئے کپڑے پہن سکتی ہے ، نہ سرمہ لگائے ، اور نہ خوشبو لگائے ، البتہ حیض سے طہارت کے وقت کچھ خوشبو لگاسکتی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ كِلاَهُمَا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالاَ « عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ ».

It was narrated from Hisham with this chain (a Hadith similar to no. 3740), and he said: "... As soon as her menses end, a little of Qust or Azfar."

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے جس میں ہے کہ حیض سے طہارت کے وقت کچھ خوشبو لگاسکتی ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ نَكْتَحِلُ وَلاَ نَتَطَيَّبُ وَلاَ نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَقَدْ رُخِّصَ لِلْمَرْأَةِ فِى طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِى نُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ.

It was narrated that Umm 'Atiyyah said: "We were forbidden to mourn for more than three days for anyone who dies, except for a husband, four months and ten days, when we were not to put on kohl or perfume, or wear dyed garments. But a concession was granted to a woman when she purifies herself - when one of us washed herself (Ghusl) following menses -to use a little Qust or Azfar."

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا گیا ہے ، البتہ شوہر پر چار ماہ دس دن سوگ کا حکم ہے ،اور نہ ہم سرمہ لگائیں ، نہ خوشبو لگائیں ، اور نہ رنگا ہوا کپڑا پہنیں ، البتہ عورت جب حیض سے غسل کرے تو خوشبودار چیز سے غسل کرنے کی اجازت ہے ۔