Sayings of the Messenger

 

بَابُ فِيْ إِنْشَادِ الْأَشْعَارِ وَبَيَانِ أَشْعُرِ الْكَلِمَةِ وَ ذَمِّ الشِّعْرِ

Concerning; the recitation of poetry, the statement about the most poetic words, and the censure upon the poetry

عمده اشعار کی فرمائش اور بہترین شعر اور برے شعر کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَدِفْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالَ : هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْءٌ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : هِيهْ فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا ، فَقَالَ : هِيهْ ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا ، فَقَالَ : هِيهْ حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ.

It was narrated from ‘Amr bin Ash-Sharid that his father said: “I rode behind the Messenger of Allah (s.a.w) one day, and he said: ‘Do you know anything of the poetry of Umayyah bin Abi As-Salt?’ I said: ‘Yes.’ ‘He said: ‘Go on (recite it).’ So I recited a line, then he said: ‘Go on,’ and I recited a line, until I had recited one hundred lines.”

عمرو بن شرید اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ ﷺکے پیچھے سوار ہوا ، آپﷺنے فرمایا: کیا تم کوامیہ بن ابی الصلب کے اشعار میں سے کچھ شعر یا د ہیں ، میں نے کہا: جی ، آپﷺنے فرمایا: سناؤ ، میں نے ایک شعر سنایا ، آپﷺنے فرمایا: اور سناؤ ، میں نے ایک اور شعر سنایا، آپﷺنے فرمایا: اور سناؤ ، یہاں تک کہ میں نے ایک سو اشعار سنائے۔


وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّرِيدِ قَالَ : أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ فَذَكَرَ ، بِمِثْلِهِ.

It was narrated that Ash-Sharid said: “The Messenger of Allah (s.a.w) seated me behind him on his mount…” and he narrated a similar report (as no. 5865).

حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہﷺنے اپنے پیچھے سوار کیا ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ (ح) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كِلاَهُمَا ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اسْتَنْشَدَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ. وَزَادَ قَالَ: إِنْ كَادَ لِيُسْلِمُ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ: فَلَقَدْ كَادَ يُسْلِمُ فِي شِعْرِهِ.

It was narrated from ‘Amr bin Ash-Sharid that his father said: “The Messenger of Allah (s.a.w) asked me to recite poetry…” a Hadith like that of Ibrahim bin Maisarah (no. 5885), and he added: “He said: ‘He was almost a Muslim.” In the Hadith of Ibn Mahdi it says: “He was almost a Muslim in his poetry.”

حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہﷺنے شعر پڑھنے کے لیے فرمایا ، ابراہیم بن میسرہ کی روایت میں ہے کہ آپﷺنے فرمایا: وہ (امیہ بن ابی الصلت) مسلمان ہونے کے قریب تھا ، اور ابن مہدی کی روایت میں ہے کہ وہ اپنے اشعار میں اسلام کے قریب تھا۔


حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، جَمِيعًا عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: “The truest word uttered by the Arabs in verse is the words of Labid: ‘Surely! Everything apart from Allah is in vain.”’

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺسے یہ روایت کرتے ہیں کہ عرب شاعروں کے کلام میں لبید کا شعر سب سے بہترین شعر ہے : سنو! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے۔


وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ. أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ ... وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ.

It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (s.a.w) said: ‘The truest word ever uttered by a poet is the words of Labib: Surely Everything apart from Allah is in vain” And Umayah bin Abu As-Salt was almost a Muslim.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: شاعروں کے کلام میں لبید کا شعر سب سے زیاد ہ سچا ہے : سنو! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے۔ اور امیہ بن ابی الصلت اسلام قبول کرنے کے قریب تھا۔


وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ : أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ ... وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: “The truest line that a poet ever uttered is the words: ‘Surely! Everything apart from Allah is in vain.” And Umayah bin Abi As-Salt was almost a Muslim.”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: سب سے زیادہ سچا شعر جس کو شاعر (لبید)نے کہا: سنو! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے اور امیہ بن ابی الصلت اسلام لانے کے قریب تھا۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ : أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "The truest line uttered by the poets is: 'Surely! Everything apart from Allah is in vain."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: شاعروں کے کلام میں سب سے زیادہ سچا شعر ہے ، سنو! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے ۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَصْدَقَ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ:أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ ... مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ.

It was narrated that Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said: I heard Abu Hurairah say: I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "The truest word that a poet ever said was the words of Labid: 'Surely! Everything apart from Allah is in vain." And he did not say any more than that.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: یقینا شاعروں کے کہے ہوئے کلام میں سب سے سچا شعر لبید کا ہے: سنو! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے ، اور آپ اس سے زائد نہیں پڑھتے تھے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِلاَّ أَنَّ حَفْصًا لَمْ يَقُلْ يَرِيهِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If the belly of the man were to be filled with pus that corrodes it, that would be better than being filled with poetry."' Abu Bakr (Ibn Abi Shaibah) said: "But Hafs did not say: 'corrodes it."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: آدمی کے پیٹ میں ایسی پیپ بھر جانا جو پیٹ کو تباہ و برباد کردے شعر بھر جانے سے بہتر ہے۔ راوی ابو بکر نے کہا: کہ حفص نے " یریہ " (ایسی بیماری جو پیٹ کو تباہ کردے) کا لفظ نہیں کہا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا.

It was narrated from Sa'd that the Prophet (s.a.w) said: "If the belly of one of you were to be filled with pus that corrodes it, that would be better than him being filled with poetry."

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں کسی آدمی کا پیٹ ایسی پیپ سے بھر جانا جو پیٹ کو تباہ و برباد کردے شعر بھر جانے سے بہتر ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ يُحَنِّسَ ، مَوْلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذُوا الشَّيْطَانَ ، أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا.

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "While we were traveling with the Messenger of Allah (s.a.w) in Al-'Arj, we were met by a poet who was reciting poetry. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Catch the devil' - or: 'restrain the devil' - 'If the belly of man were to be filled with pus, that would be better for him than being filled with poetry."'

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ " عرج" جار ہے تھے ، سامنے سے ایک شاعر شعر پڑھتا ہوا آیا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: شیطان کو پکڑ لو ، یا فرمایا : شیطان کو روک لو ، آدمی کے پیٹ میں پیپ بھرنا شعر بھرنے سے بہتر ہے۔

Chapter No: 1

بابُ تَحْرِيِمِ اللَّعْبِ بِالنَرْدَشِيْرِ

The forbiddance of playing Nardashir

چوسر کھیلنا حرام ہے

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ ، فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ.

It was narrated from Sulaiman bin Buraidah from his father, that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever plays Nardashir, it is as if he were dipping his hand in the flesh and blood of a pig."

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جس آدمی نے نرد شیر (Backgammon)کو کھیلا اس نے گویا اپنے ہاتھ کو خنزیر کے گوشت اور خون میں رنگ لیا۔