Sayings of the Messenger

 

بابٌ فِي تَفْسِيْرِ آيَاتٍ مُتَفَرِّقَةٍ

Regarding the Tafseer of miscellaneous verses

متفرق آیات کی تفسیر کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قِيلَ لِبَنِى إِسْرَائِيلَ (ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ يُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ) فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ وَقَالُوا حَبَّةٌ فِى شَعَرَةٍ ».

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: "This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w)," and he mentioned a number of Ahadith including the following: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'It was said to the Children of Israel: "Enter the gate (prostrating) and say: 'Hittatun' (Remove from us the burden of our sin), and We will forgive you your sins." But they changed it, and entered the gate shuffling on their backsides and said: Habbatun fi sha'rah (a grain in a hair)."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بنو اسرائیل سے کہا گیا : (بیت المقدس کے دروازے میں) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوجاؤ ، اور زبان سے حطۃ کہو، ہم تمہارے گناہوں کی مغفرت کردیں گے ، بنو اسرائیل نے اس حکم کے خلاف کیا اور سرین کے بل گھسٹتے ہوئے دروازے میں یہ کہتے ہوئے داخل ہوئے "حبۃ فی شعرۃ " دانہ بالی میں ۔


حَدَّثَنِى عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِى وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ - وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِى أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْىَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّىَ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْىُ يَوْمَ تُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

Anas bin Malik narrated that Allah, Glorified and Exalted is He, continued Revelation to the Messenger of Allah (s.a.w) until he died, and the most Revelation came on the day that the Messenger of Allah (s.a.w) died.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکی وفات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپﷺپر لگاتار وحی نازل کی ، یہاں تک کہ آپﷺوفات پاگئے اور جس دن آپﷺکا انتقال ہوا تھا اس دن بہت مرتبہ وحی نازل ہوئی تھی۔


حَدَّثَنِى أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ - وَهُوَ ابْنُ مَهْدِىٍّ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ الْيَهُودَ قَالُوا لِعُمَرَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً لَوْ أُنْزِلَتْ فِينَا لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا. فَقَالَ عُمَرُ إِنِّى لأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ وَأَىَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَيْثُ أُنْزِلَتْ أُنْزِلَتْ بِعَرَفَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ. قَالَ سُفْيَانُ أَشُكُّ كَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ أَمْ لاَ. يَعْنِى ( الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى)

It was narrated from Tariq bin Shihab that the Jews said to 'Umar: "You recite a Verse which, if it had been revealed among us, we would have taken that day as a (day of) festival." 'Umar said: "I know where it was revealed, on what day it was revealed, and where the Messenger of Allah (s.a.w) was when it was revealed. It was revealed in 'Arafat, when the Messenger of Allah (s.a.w) was standing in 'Arafah." Sufyan said: "I am not sure whether it was a Friday or not, meaning (the Verse): ' ...This day, I have perfected your religion for you, completed My Favor upon you..."'

طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ یہودیوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم ایک ایسی آیت پڑھتے ہو کہ اگر ہمارے ہاں وہ آیت نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں وہ آیت کس جگہ اور کس دن نازل ہوئی تھی اور جس وقت وہ نازل ہوئی تھی تو رسول اللہﷺکہاں تھے ، یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی اور اس وقت رسول اللہﷺمیدان عرفات میں تھے ، سفیان نے کہا: مجھے شک ہے کہ اس دن جمعہ تھا یا نہیں ؟ وہ آیت یہ ہے : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا ہے اور تم پر اپنی تمام نعمت تمام کردی ہیں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَتِ الْيَهُودُ لِعُمَرَ لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ يَهُودَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا) نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِى أُنْزِلَتْ فِيهِ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا. قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَقَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِى أُنْزِلَتْ فِيهِ وَالسَّاعَةَ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ نَزَلَتْ نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِعَرَفَاتٍ.

It was narrated that Tariq bin Shihab said: "The Jews said to 'Umar: 'If this Verse - "...This day, I have perfected your religion for you, completed My Favor upon you, and have chosen for you Islam as your religion..." had been revealed to us Jews, we would have taken that day as a (day of) festival.' 'Umar said: 'I know the day on which it was revealed, and the hour, and where the Messenger of Allah (s.a.w) was when it was revealed. It was revealed on the night of Friday, when we were with the Messenger of Allah (s.a.w) in 'Arafat."'

طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ یہود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر ہم یہودیوں کی جماعت پر یہ آیت نازل ہوتی :"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا ہے اورتم پر اپنی نعمت پوری کردی ہے ، اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کرلیا ہے " تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس جگہ اور کس دن نازل ہوئی ہے ، اور اس وقت رسول اللہﷺکہاں تھے ، جب یہ آیت نازل ہوئی تھی ، یہ آیت مزدلفہ کی رات نازل ہوئی تھی اور ہم اس وقت رسول اللہﷺکے ساتھ عرفات میں تھے۔


وَحَدَّثَنِى عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِى كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْيَهُودِ لاَتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا. قَالَ وَأَىُّ آيَةٍ قَالَ (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا) فَقَالَ عُمَرُ إِنِّى لأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِى نَزَلَتْ فِيهِ وَالْمَكَانَ الَّذِى نَزَلَتْ فِيهِ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِعَرَفَاتٍ فِى يَوْمِ جُمُعَةٍ.

It was narrated that Tariq bin Shihab said: "A Jewish man came to 'Umar and said: 'O Commander of the believers, there is a Verse in your Book which you recite; if it had been revealed to us Jews, we would have taken that day as a (day of) festival.' He said: 'Which Verse?' He said: '...This day, I have perfected your religion for you, completed My Favor upon you, and have chosen for you Islam as your religion..." 'Umar said: 'I know the day on which it was revealed, and the place in which it was revealed. It was revealed to the Messenger of Allah (s.a.w) in 'Arafat, on a Friday."

طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے امیر المومنین! آپ اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت کو پڑھتے ہیں کہ اگر ہم یہودیوں پر وہ آیت نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کون سی آیت ہے ؟ اس نے کہا: " الیوم اکملت لکم دینکم ۔۔۔۔" الی آخرہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی اور کس جگہ نازل ہوئی تھی ، یہ آیت رسول اللہ ﷺپر عرفات میں جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی۔


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِىُّ - قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا وَقَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا - ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ (وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِى الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ) قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِى هِىَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِى حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِى مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِى صَدَاقِهَا فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ. قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ فِيهِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (يَسْتَفْتُونَكَ فِى النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَابِ فِى يَتَامَى النِّسَاءِ اللاَّتِى لاَ تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ ). قَالَتْ وَالَّذِى ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَابِ الآيَةُ الأُولَى الَّتِى قَالَ اللَّهُ فِيهَا (وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِى الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ ). قَالَتْ عَائِشَةُ وَقَوْلُ اللَّهِ فِى الآيَةِ الأُخْرَى (وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ) رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنِ الْيَتِيمَةِ الَّتِى تَكُونُ فِى حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِى مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلاَّ بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ.

'Urwah bin Az-Zubair narrated that he asked 'Aishah about the Verse in which Allah, the Mighty and Sublime says: "And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls then marry (other) women of your choice, two or three, or four..." She said: "O son of my sister, that refers to an orphan girl who is in the care of her guardian, sharing his wealth and he admires her wealth and her beauty, and her guardian wants to marry her without giving her a fair dowry or giving her what someone else would give her. So they were forbidden to marry them (such orphans) unless they were fair to them, and gave them the full amount to which they were entitled for a dowry, and they were commanded to marry other women of their choice." 'Urwah said: "Aishah said: 'Then after this verse (was revealed), the people began to ask the Messenger of Allah (s.a.w) about them (orphan girls) and Allah, Glorified and Exalted is He, revealed the words: "They ask your legal instruction concerning women, say: Allah instructs you about them, and about what is recited to you in the Book concerning the orphan girls whom you give not the prescribed portions (as regards dowry and inheritance) and yet whom you desire to marry..." She said: 'What Allah, Glorified and Exalted is He, said to you, is what is recited to you in the Book, the first Verse in which Allah says: "And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls then marry (other) women of your choice..." 'Aishah said: 'And Allah says in the second Verse: "...yet whom you desire to marry..." as you would not think of marrying an orphan girl in your care when she is lacking in wealth and beauty, so they were forbidden to marry orphan women whose wealth and beauty they desired, unless they did so fairly."'

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا : "اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف نہ کرسکوگے تو ان عورتوں سے نکاح کرلو جو تم کوپسند ہیں ، دو دو سے ، تین تین سے ، چار چار سے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے بھانجے! اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے ولی کی پرورش اور زیر سرپرستی ہو اور اس کے مال میں شریک ہو ، اس ولی کو لڑکی کا مال اور خوبصورتی پسند آئے اور اس کا ولی اس سے نکاح کرنا پسند کرے بغیر اس کے کہ اس کو اتنا مہر دے جتنا اس جیسی اور عورتوں کو دیا جاتا ہے تو ان کو اس بات سے منع کیا گیا کہ وہ مہر میں انصاف کیے بغیر ان سے نکاح نہ کریں اور ان کو یہ حکم دیا گیا کہ ان کے علاوہ اور عورتیں جو ان کو پسند آئیں ، ان سے نکاح کرلیں۔ عروہ کہتے ہیں : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس آیت کے نازل ہونے کے بعد پھر لوگوں نے رسول اللہﷺسے ان کے بارے میں سوال کیا : تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی : "آپ سے لوگ عورتوں کے بارے میں فتوی پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تم کو عورتوں کے بارے میں حکم دیتا ہے اور ان احکام کی طرف بھی تم کو متوجہ فرماتا ہے ، جو تم پر قرآن مجید میں ان یتیم لڑکیوں کے متعلق پڑھے جارہے ہیں ، جن کو تم ان کامقرر کردہ (حق ) نہیں دیتے ، اور ان سے نکاح کرنے میں رغبت رکھتے ہو،" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا: اس آیت میں جس پڑھی جانے والی آیت کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد وہ پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تم کو یہ خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف نہ کرسکو گے تو تم کو جو عورتیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اور دوسری آیت میں جو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : " تم ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو" اس سے مراد یہ ہے کہ اگر تم میں سے کسی آدمی کے زیر پرورش یتیم لڑکی ہو اور وہ مال اور جمال میں کم تر ہو تو وہ اس کے ساتھ نکاح میں رغبت نہیں کرتا ،تو ان کو اس سے منع کیا گیا کہ جس یتیم لڑکی کے مال اور جمال میں ان کو رغبت ہو وہ مہر میں عدل و انصاف کیے بغیر اس سے نکاح کریں۔


وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِىُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ (وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِى الْيَتَامَى) وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِىِّ وَزَادَ فِى آخِرِهِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلاَتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ.

'Urwah narrated that he asked 'Aishah about the Verse in which Allah, Blessed and Exalted is He, said: "And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls..." And he narrated a Hadith like that of Yunus from Az-Zuhri (no. 7528), at the end of which he added: "Because they would not like to marry them if they had little in the way of wealth and beauty."

عروہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے قول: "اگر تم کویہ خوف ہو کہ تم یتیموں میں انصاف نہ کرسکوگے " کے بارے میں دریافت کیا ، اس کے بعد حسب سابق مروی ہے ، اور آخر میں یہ اضافہ ہے کہ کیونکہ تم ان کے حسن وجمال میں کمی کی وجہ سےان سے اعراض کرتے ہو۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِى قَوْلِهِ (وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِى الْيَتَامَى) قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِى الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْيَتِيمَةُ وَهُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا وَلَهَا مَالٌ وَلَيْسَ لَهَا أَحَدٌ يُخَاصِمُ دُونَهَا فَلاَ يُنْكِحُهَا لِمَالِهَا فَيَضُرُّ بِهَا وَيُسِىءُ صُحْبَتَهَا فَقَالَ (إِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِى الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ) يَقُولُ مَا أَحْلَلْتُ لَكُمْ وَدَعْ هَذِهِ الَّتِى تَضُرُّ بِهَا.

It was narrated from 'Aishah concerning the Verse in which Allah, Glorified and Exalted is He, says: "And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls..." - that she said: "This was revealed concerning the man who has an orphan girl (in his care), and he is her guardian and her heir, and she has wealth but she does not have anyone to contend on her behalf. He does not want to arrange her marriage (to someone else) because of her wealth, so he harms her and mistreats her, so He said: "And if you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls then marry (other) women of your choice..." meaning: Those whom I have made permissible for you, and leave alone this one whom you are harming."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ آیت " اگر تم کو یہ ڈر ہو کہ تم یتیموں میں انصاف نہیں کرسکوگے" اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کے پاس ایک یتیم لڑکی ہوتی اور وہ اس کا والی اور وارث ہوتا ، اس لڑکی کے پاس مال ہوتا اور اس آدمی کے علاوہ اور کوئی لڑکی کی طرف سے پیروی کرنے والا نہ ہوتا اور وہ آدمی اس لڑکی کے مال کی وجہ سے اس کا کہیں نکاح نہ کرتا ، جس سے اس کو نقصان ہوتا اور اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا ، تب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا: " اگرتم کو یہ ڈر ہے کہ تم یتیم لڑکیوں میں انصاف نہیں کرسکو گے تو جو عورتیں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو، یعنی جو عورتیں میں نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان سے نکاح کرلو، اور اس لڑکی کو چھوڑ دو جس کو تم نقصان پہنچار ہے ہو۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِى قَوْلِهِ ( وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَابِ فِى يَتَامَى النِّسَاءِ اللاَّتِى لاَ تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ) قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِى الْيَتِيمَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَشْرَكُهُ فِى مَالِهِ فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ فَيَشْرَكُهُ فِى مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا فَلاَ يَتَزَوَّجُهَا وَلاَ يُزَوِّجُهَا غَيْرَهُ.

It was narrated from 'Aishah concerning the Verse, "...And about what is recited unto you in the Book concerning the orphan girls whom you give not the prescribed portions (as regards dowry and inheritance) and yet whom you desire to marry..."' - that she said: "It was revealed concerning an orphan girl who is in the care of a man, and she shares in his wealth, and he is reluctant to marry her himself, but he does not want to give her in marriage to someone else who will share his wealth. So he prevents her from marrying, and he does not marry her himself nor give her in marriage to someone else."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: "تم پر قرآن مجید میں ان یتیم لڑکیوں کےبارے میں جو احکام پڑھے جارہے ہیں جن کو تم ان کا مقرر کردہ حق نہیں دیتے ان سے نکاح کرنے میں رغبت رکھتے ہو "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ آیت اس یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کسی آدمی کے پاس زیر پرورش ہو اور اس کےمال میں شریک ہو ، وہ خود بھی اس سے نکاح نہ کرے اور کسی دوسرے کے ساتھ بھی اس کے نکاح کرنے کو پسند نہ کرے کہ وہ اس کے مال میں شریک ہوجائے گا ، تو وہ اس کو یونہی معلق رکھے ، نہ خود اس سے نکاح کرے نہ کسی دوسرے کے ساتھ اس کا نکاح کرے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِى قَوْلِهِ (يَسْتَفْتُونَكَ فِى النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ) الآيَةَ قَالَتْ هِىَ الْيَتِيمَةُ الَّتِى تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ قَدْ شَرِكَتْهُ فِى مَالِهِ حَتَّى فِى الْعَذْقِ فَيَرْغَبُ يَعْنِى أَنْ يَنْكِحَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُنْكِحَهَا رَجُلاً فَيَشْرَكُهُ فِى مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا.

It was narrated from 'Aishah concerning the Verse, "They ask your legal instruction concerning women, say: Allah instructs you about them...", that she said: "This refers to an orphan girl who is in the care of a man, and perhaps she shares his wealth, even the date palms, and he does not want to marry her, and he does not want to give her in marriage to a man who may share his wealth, so he prevents her from marrying."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس آیت " آپ سے لوگ عورتوں کے بارے میں فتوی پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تم کوعورتوں کے بارے میں حکم دیتاہے " کے متعلق فرمایا: یہ آیت اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو کسی آدمی کی پرورش میں ہو ، وہ لڑکی اس کےمال میں شریک ہوں ، یہاں تک کہ کھجور کے درختوں میں بھی شریک ہوں ، وہ اس لڑکی کے ساتھ نکاح میں بے رغبتی دکھائے اور کسی اور آدمی کے ساتھ بھی اس وجہ سے اس کا نکاح نہ کرائے کہ کہیں وہ اس کے مال میں شریک نہ ہوجائے ، اور اس کویونہی معلق چھوڑ دے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِى قَوْلِهِ ( وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ) قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِى وَالِى مَالِ الْيَتِيمِ الَّذِى يَقُومُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُهُ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ.

It was narrated from 'Aishah concerning the Verse, "...But if he is poor, let him have for himself what is just and reasonable..." that she said: "This was revealed concerning the guardian of an orphan's wealth, who looks after it; if he is in need he may eat from it."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس آیت "جو ضرورت مند ہو وہ دستور کے مطابق کھالے" کے متعلق فرمایا کہ یہ آیت یتیم کے مال کے والی کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جو اس کی سرپرستی کرتا ہے اور اس کے مال کی دیکھ بھال کرتا ہے ، جب اس کو ضرورت ہو تو وہ عرف کے مطابق کھاسکتا ہے ۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِى قَوْلِهِ تَعَالَى (وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ) قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِى وَلِىِّ الْيَتِيمِ أَنْ يُصِيبَ مِنْ مَالِهِ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا بِقَدْرِ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ.

It was narrated from 'Aishah concerning the Verse, "... And whoever (amongst guardians) is rich, he should take no wages, but if he is poor, let him have for himself what is just and reasonable..." that she said: "This was revealed concerning the guardian of an orphan's wealth; if he is in need he may take some of his wealth, on a reasonable basis, according to the orphan's share of the inheritance."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس آیت "جو آدمی مال دار ہو وہ اجتناب کرے اور جو آدمی ضرورت مند ہو وہ عرف کے مطابق کھالے " کے متعلق فرمایا کہ یہ آیت یتیم کے مال کے والی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جب اس کو ضرورت ہو تو وہ عرف اور رواج کے مطابق کھاسکتا ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

Hisham narrated it with this chain (a Hadith similar to no.7534).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ (إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ) قَالَتْ كَانَ ذَلِكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ.

It was narrated from 'Aishah concerning the Verse, "When they came upon you from above you and from below you, and when the eyes grew wild and the hearts reached to the throats..." that she said: "That was the day of (the battle of) Al-Khandaq.''

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ عزوجل کے اس قول : "جب کافر تم پر تمہارے اوپر اور تمہارے نیچے سے چڑھ آئے، اور جب آنکھیں پھری کی پھری رہ گئیں اور دل منہ کو آنے لگے " کے متعلق فرمایا: اس سے غزوہ خندق کا منظر مراد ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ (وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا) الآيَةَ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِى الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَطُولُ صُحْبَتُهَا فَيُرِيدُ طَلاَقَهَا فَتَقُولُ لاَ تُطَلِّقْنِى وَأَمْسِكْنِى وَأَنْتَ فِى حِلٍّ مِنِّى. فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ.

It was narrated from 'Aishah, may Allah be pleased with her, (concerning the Verse) "And if a woman fears cruelty or desertion on her husband's part, there is no sin on them both if they make terms of peace between themselves; and making peace is better. And human inner-selves are swayed by greed. But if you do good and keep away from evil, verily, Allah is Ever Well-Acquainted with what you do" that she said: "This was revealed concerning a woman who is married to a man, and has been with him for a long time, then he wants to divorce her, and she says: 'Do not divorce me; keep me and you have no obligation towards me.' Then this Verse was revealed.''

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قرآن مجید کی آیت مبارکہ "اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ محسوس کرے" اس عورت کے متعلق نازل ہوئی تھی جو کسی مرد کے نکاح میں ایک لمبے عرصے تک رہی ہو ، پھر وہ اس کو طلاق دینے کا ارادہ کرے اور وہ عورت کہے : مجھے طلاق مت دو ، مجھے اپنے پاس رکھو اور میری طرف سے تم کو دوسرے نکاح کی اجازت ہے ، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ( وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا) قَالَتْ نَزَلَتْ فِى الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَلَعَلَّهُ أَنْ لاَ يَسْتَكْثِرَ مِنْهَا وَتَكُونُ لَهَا صُحْبَةٌ وَوَلَدٌ فَتَكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَتَقُولُ لَهُ أَنْتَ فِى حِلٍّ مِنْ شَأْنِى.

It was narrated from 'Aishah (concerning the Verse) "And if a woman fears cruelty or desertion on her husband's part..." that she said: "This was revealed concerning a woman who is married to a man, and he no longer wants to be intimate her, but she has been with him for so long and she has children with him, and she does not want him to leave her, so she says to him: 'You have no obligation towards me.'"

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ عزوجل کے اس قول : "اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ محسوس کرے " کے بارے میں فرماتی ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کسی آدمی کے پاس ہو اور وہ آدمی اس کے پاس نہ رہنا چاہتا ہو اور اس عورت سے اولاد بھی ہو اور عورت اس مرد سے علیحدگی کرنا ناپسند کرتی ہو تو وہ عوررت اپنے شوہر سے کہے کہ میری طرف سے تجھے دوسرے نکاح کی اجازت ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ لِى عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِى أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لأَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَسَبُّوهُمْ.

It was narrated from Hisham bin 'Urwah that his father said: 'Aishah, may Allah be pleased with her, said to me: "O son of my sister, they were commanded to pray for forgiveness for the Companions of the Prophet (s.a.w). but they reviled them.''

حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے فرمایا: اے بھانجے! لوگوں کو اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبی ﷺ کے صحابہ کے لئے استغفار کریں لیکن لوگوں نے ان کو برا کہا۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Hisham narrated a similar report (as Hadith no.7539) with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِى هَذِهِ الآيَةِ (وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ) فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ آخِرَ مَا أُنْزِلَ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَىْءٌ.

It was narrated that Sa'eed bin Jubair, may Allah be pleased with him, said: "The people of Al-Kufah differed concerning this Verse: "And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell..." I traveled to see Ibn 'Abbas and ask him about it and he said: 'It was the last of the Revelation to come, and it was not abrogated by anything."'

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اہل کوفہ کا اس آیت میں اختلاف ہوا " جو آدمی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا اس کی سزا جہنم ہے" تو میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا ، انہوں نے کہا: یہ آیت آخر میں نازل ہوئی ہے اور اس کو کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ. فِى حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ نَزَلَتْ فِى آخِرِ مَا أُنْزِلَ. وَفِى حَدِيثِ النَّضْرِ إِنَّهَا لَمِنْ آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ.

Shu'bah narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 7541).

یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے ، ابن جعفر کی روایت میں "فی آخر ماانزل" کے الفاظ ہیں ، اور نضر کی روایت میں " انہا لمن آخر ما انزلت " کے الفاظ ہیں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَمَرَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ (وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا) فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمْ يَنْسَخْهَا شَىْءٌ. وَعَنْ هَذِهِ الآيَةِ (وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِى حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ) قَالَ نَزَلَتْ فِى أَهْلِ الشِّرْكِ.

It was narrated that Sa'd bin Jubair, may Allah be pleased with him, said: "Abdur-Rahman bin Abza told me to ask Ibn 'Abbas for him about these two Verses: "And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell to abide therein..." I asked him, and he said: 'It has not been abrogated by anything.' And about this Verse: "And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah, nor kill such person as Allah has forbidden, except for just cause..." He said: 'It was revealed concerning the people of Shirk."'

سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ مجھ سے عبد الرحمن بن ابزیٰ نےحکم دیا ہے کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان دوآیتوں کے بارے میں سوال کروں ، "جو آدمی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا اس کی سزا جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا " میں نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نےکہا: اس آیت کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا ، اور اس آیت کے متعلق: " جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور نہ حق کے سوا کسی نفس کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کو اللہ نے حرام کردیا ہے " انہوں نے کہا: یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔


حَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ - يَعْنِى شَيْبَانَ - عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ بِمَكَّةَ (وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ) إِلَى قَوْلِهِ (مُهَانًا) فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ وَمَا يُغْنِى عَنَّا الإِسْلاَمُ وَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِى حَرَّمَ اللَّهُ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا) إِلَى آخِرِ الآيَةِ. قَالَ فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِى الإِسْلاَمِ وَعَقَلَهُ ثُمَّ قَتَلَ فَلاَ تَوْبَةَ لَهُ.

It was narrated from Sa'eed bin Jubair that Ibn 'Abbas said: "This Verse was revealed in Makkah: "And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah, nor kill such person as Allah has forbidden, except for just cause, nor commit illegal sexual intercourse - and whoever does this, shall receive the punishment. The torment will be doubled to him on the Day of Resurrection, and he will abide therein in disgrace." The idolaters said: 'Islam is of no avail for us, because we have ascribed peers to Allah, and we have killed those whom Allah has forbidden killing, and we have committed immoral deeds. Then Allah revealed: "Except those who repent and believe, and do righteous deeds; for those, Allah will change their sins into good deeds, and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.'' He (Ibn 'Abbas) said: "As for the one who enters Islam and understands it, then kills someone, there is no repentance for him."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "والذین لا یدعون مع اللہ الھا آخر "سے لے کر " مھانا" تک مکہ میں نازل ہوئی ہے ، مشرکوں نے کہا کہ پھر ہمیں مسلمان ہونے کا کیا فائدہ کیونکہ ہم نے تو اللہ کے ساتھ دوسرں کو بھی شریک کیا ہوا ہے اور ناحق قتل بھی کئے ہیں جب کہ اللہ تعالی نے قتل کرنا حرام کیا تھا اور ہم نے بدکاری بھی کی ، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : "سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک اعمال کئے آخر آیت تک، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ جو آدمی اسلام میں داخل ہو جائے اور اسلامی تعلیمات کو سمجھ لے پھر اس کے بعد ناحق کسی کو قتل کرے تو اب اس کی کوئی توبہ قبول نہیں۔


حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى الْقَاسِمُ بْنُ أَبِى بَزَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ أَلِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لاَ. قَالَ فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةَ الَّتِى فِى الْفُرْقَانِ ( وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِى حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ. قَالَ هَذِهِ آيَةٌ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ (وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا ). وَفِى رِوَايَةِ ابْنِ هَاشِمٍ فَتَلَوْتُ هَذِهِ الآيَةَ الَّتِى فِى الْفُرْقَانِ (إِلاَّ مَنْ تَابَ)

It was narrated that Sa'eed bin Jubair said: "I said to Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them: 'Can one who killed a believer deliberately repent?' He said: 'No.' I recited to him the Verse from Surat Al-Furqan: "And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah, nor kill such person as Allah has forbidden, except for just cause ...", to the end of the Verse, and he said: 'That is a Makkan Verse, which was abrogated by the Verse revealed in Al-Madinah: "And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell, to abide therein..." In the narration of Ibn Hashim: "So I recited to him these Verses from Al-Furqan: Except those who repent..."

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جس آدمی نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردیا کیا اس کی توبہ قبول ہوگی ؟ انہوں نے کہا: نہیں ، پھر میں نے ان پر سورۂ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی : " وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور نہ حق کے سوا کسی ایسے آدمی کو قتل کرتے ہیں جس کو قتل کرنا اللہ نے حرام کردیا ہے " اس آیت کو میں نے آخر تک پڑھا ، انہوں نے کہا: یہ آیت مکی ہے اس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کردیا : " جس آدمی نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردیا اس کی سزا جہنم ہے ، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، ابن ہاشم کی روایت میں ہے : میں نے ان پر سورۂ فرقان کی آیت " الا من تاب " پڑھی۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ قَالَ لِىَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَعْلَمُ - وَقَالَ هَارُونُ تَدْرِى - آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ نَزَلَتْ جَمِيعًا قُلْتُ نَعَمْ. (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ) قَالَ صَدَقْتَ. وَفِى رِوَايَةِ ابْنِ أَبِى شَيْبَةَ تَعْلَمُ أَىُّ سُورَةٍ. وَلَمْ يَقُلْ آخِرَ.

It was narrated that 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah said: "Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said to me: 'Do you know the last Surah of the Qur'an to be revealed in full?' I said: 'Yes: "When there comes the Help of Allah and the Conquest." He said: 'You are right."' According to the report of Ibn Abi Shaybah: "Do you know which Surah," not "the last Surah."

عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ قرآن مجید کی کون سی سورت آخر میں ایک ہی مرتبہ مکمل نازل ہوئی ہے ؟ میں نے کہا: ہاں! "اذا جاء نصر اللہ والفتح " انہوں نے فرمایا: تم نے سچ کہا، ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : تم جانتے ہو کہ کون سی سورت ہے ، اور آخر کا لفظ نہیں کہا۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ آخِرَ سُورَةٍ وَقَالَ عَبْدُ الْمَجِيدِ وَلَمْ يَقُلِ ابْنِ سُهَيْلٍ.

Abu 'Umais narrated a similar report (as Hadith no.7546) with this chain of narrators, and said: "The last Surah..."

یہ حدیث ایک اور سندسے حسب سابق مروی ہے اس میں آخری سورت کا لفظ ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّىُّ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِى شَيْبَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقِىَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلاً فِى غُنَيْمَةٍ لَهُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ. فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ (وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا) وَقَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ السَّلاَمَ.

It was narrated that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said: "Some Muslim people met a man with his small flock of sheep and he said: 'As-salamu 'alaikum (peace be upon you).' They took him and killed him, then they took that small flock of sheep. Then the Verse: "...And say not to anyone who greets you (by embracing Islam): "You are not a believer..." was revealed."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ مسلمانوں نے ایک آدمی کو چند بکریوں میں دیکھا ، اس نے کہا: السلام علیکم ، انہوں نے اس کو پکڑ کر اس کو قتل کردیا اور ا س کی بکریاں لوٹ لیں ، تب یہ آیت نازل ہوئی : "جو آدمی تم کو سلام کرے اس کو یہ نہ کہو تم مومن نہیں ہو " حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی قرات میں "سلم" کی جگہ "سلام" کا لفظ ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ كَانَتِ الأَنْصَارُ إِذَا حَجُّوا فَرَجَعُوا لَمْ يَدْخُلُوا الْبُيُوتَ إِلاَّ مِنْ ظُهُورِهَا - قَالَ - فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ بَابِهِ فَقِيلَ لَهُ فِى ذَلِكَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ( لَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا ).

It was narrated that Abu Ishaq said: "I heard Al-Bara' say: 'When the Ansar performed Hajj and came back, they used to enter their houses only from the back. An Ansari man came and entered his house through the door, and something was said to him about that. Then this Verse was revealed: It is not Al-Birr (piety, righteousness) that you enter the houses from the back..."

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار جب حج کرکے آتے تو گھروں کے دروازوں کے بجائے پچھلی طرف سے گھر میں داخل ہوتے تھے ، ایک انصاری دروازے سے داخل ہوا تو اس پر اعتراض کیا گیا ، تب یہ آیت نازل ہوئی کہ " گھروں میں پچھلی طرف سے آنا کوئی نیکی نہیں ہے"۔

Chapter No: 1

باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ}

Regarding the words of Allah, The Most High: “Has not the Time arrived for the Believers that their hearts in all humility should engage in the remembrance of Allah…”

اللہ تعالی کافرمان: کیا وقت نہیں آیا ان کے لئے جو ایمان لائے کہ گڑگڑائیں ان کے دل اللہ تعالی کی یاد سے

حَدَّثَنِى يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى هِلاَلٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ مَا كَانَ بَيْنَ إِسْلاَمِنَا وَبَيْنَ أَنْ عَاتَبَنَا اللَّهُ بِهَذِهِ الآيَةِ (أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ) إِلاَّ أَرْبَعُ سِنِينَ.

Ibn Mas'ud, may Allah be pleased with him, said: "There was no more than four years between the time when we became Muslim, and the time when Allah rebuked us with this Verse: Has not the time come for the hearts of those who believe to be affected by Allah's Reminder..."

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے دوران چار سال کا عرصہ گزرا ۔ وہ آیت یہ ہے کہ "ابھی مسلمانوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے خوف سے پگھل جائیں"۔

Chapter No: 2

باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ}

Regarding the words of Allah, The Most High: “wear your beautiful apparel at every time and place of prayer…”

اللہ تعالیٰ کا فرمان: "خذوا زینتکم عند کل مسجد " کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِىَ عُرْيَانَةٌ فَتَقُولُ مَنْ يُعِيرُنِى تِطْوَافًا تَجْعَلُهُ عَلَى فَرْجِهَا وَتَقُولُ الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلاَ أُحِلُّهُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةَ (خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ)

It was narrated that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them, said: "Women used to circumambulate the Ka'bah naked, and they would say: 'Who will give me a garment for Tawaf, so that she may cover her private part?' And she would say: 'Today part of it or all of it is visible, But what is exposed of it I do not make it lawful.' Then this Verse was revealed: O Children of Adam! Take your adornment while praying..."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پہلےعورت بیت اللہ کا ننگے ہوکر طواف کرتی تھی اور یہ کہتی تھی کہ کوئی مجھے ایک کپڑا دے گا جس کو میں اپنی شرمگاہ پر ڈال دیتی ، آج بعض یا کل کھل جائے گا اور جو کھل جائے گا میں اس کو کبھی حلال نہیں کروں گی ، تب یہ آیت نازل ہوئی : ہر نماز کے وقت اپنا لباس زیب تن کرلیا کرو"۔

Chapter No: 3

باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلاَ تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ}

Regarding the words of Allah, The Most High: “force not your maids to prostitution…”

اللہ تعالی کا فرمان : نہ زبردستی کرو اپنی باندیوں پر بدکاری کے لیے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ - وَاللَّفْظُ لأَبِى كُرَيْبٍ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَىٍّ ابْنُ سَلُولَ يَقُولُ لِجَارِيَةٍ لَهُ اذْهَبِى فَابْغِينَا شَيْئًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (وَلاَ تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ) لَهُنَّ (غَفُورٌ رَحِيمٌ)

It was narrated that Jabir, may Allah be pleased with him, said: "Abdullah bin Ubayy bin Salul used to say to a slave woman of his: 'Go and earn something for us (by means of prostitution).' Then Allah, Glorified and Exalted is He, revealed the words: "... And force not your maids to prostitution, if they desire chastity, in order that you may make a gain in the (perishable) goods of this worldly life. But if anyone compels them (to prostitution), then after such compulsion, Allah is" - regarding them - "Oft-Forgiving, Most Merciful."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول نے اپنی باندی سے کہا: جا (بدفعلی کراکے) ہمارے لیے کچھ کماکر لا ، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : " جب کہ تمہاری باندیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں تو تم ان کو بدکاری پر مجبور مت کروکہ تم (ان کی بدکاری کے ذریعہ ) حیات دنیا کا عارضی فائدہ طلب کرو اور جو انہیں مجبور کرے گا تو ان کو مجبور کرنے کے بعد اللہ(ان باندیوں کے حق میں) بہت بخشنے والا ، بے حد رحم فرمانے والا ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ جَارِيَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ ابْنِ سَلُولَ يُقَالُ لَهَا مُسَيْكَةُ وَأُخْرَى يُقَالُ لَهَا أُمَيْمَةُ فَكَانَ يُكْرِهُهُمَا عَلَى الزِّنَى فَشَكَتَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَنْزَلَ اللَّهُ ( وَلاَ تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ) إِلَى قَوْلِهِ ( غَفُورٌ رَحِيمٌ)

It was narrated from Jabir, may Allah be pleased with him, that there was a slave woman of 'Abdullah bin Ubayy (bin Salul) who was called Musaikah, and another who was called Umaimah, and he used to force them into prostitution. They complained about that to the Prophet (s.a.w), and Allah revealed: "... And force not your maids to prostitution, if they desire chastity" up to His saying: "Oft-Forgiving, Most Merciful."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کی ایک باندی کانام مسیکہ اور دوسری باندی کا نام امیمہ تھا ، وہ ان دونوں کو بدکاری کرانے پر مجبور کرتا تھا ، ان دونوں نے نبیﷺسے اس کی شکایت کی ، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی : "جب کہ تمہاری باندیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں تو تم ان کو بدکاری پر مجبور مت کرو" یہ پوری آیت نازل کی۔

Chapter No: 4

باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ}

Regarding the words of Allah, The Most High: “Those whom they call upon do desire (for themselves) means of access to their Lord…”

اللہ تعالی کا فرمان: جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِى مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ( أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ) قَالَ كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا وَكَانُوا يُعْبَدُونَ فَبَقِىَ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ عَلَى عِبَادَتِهِمْ وَقَدْ أَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ.

It was narrated from Abu Ma'mar, from 'Abdullah concerning the Verse: "Those whom they call upon desire (for themselves) means of access to their Lord, as to which of them should be the nearest..." he said: "A group of jinn had become Muslim, and they were being worshiped, and those who worshiped them continued to worship them, although a group of jinn had become Muslim."

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے اس قول : " وہ (نیک بندے) جن کو یہ کافر پوجتے ہیں خود ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے " کے متعلق فرمایا: جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی اور پوجا کرنے والے ان کی اسی طرح پوجا کرتے رہے ، حالانکہ وہ مسلمان ہوگئے تھے ، یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔


حَدَّثَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِى مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ) قَالَ كَانَ نَفَرٌ مِنَ الإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ فَأَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ. وَاسْتَمْسَكَ الإِنْسُ بِعِبَادَتِهِمْ فَنَزَلَتْ (أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ)

It was narrated from 'Abdullah (concerning the Verse): "Those whom they call upon desire (for themselves) means of access to their Lord..." he said: "A group of humans used to worship a group of jinn, and the group of jinn became Muslims, but the humans persisted in worshiping them. Then it was revealed: "Those whom they call upon desire (for themselves) means of access to their Lord..."

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت: " وہ (نیک بندے) جن کو یہ کافر پوجتے ہیں خود ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں" کی تفسیر کے بارے میں فرمایا:انسانوں کی ایک جماعت جنوں کی ایک جماعت کی پوجا کرتی تھی ، پھر جنوں کے ایک جماعت نے اسلام قبول کرلیا اور وہ انسان بدستور ان کی عبادت کرتے رہے ، تب یہ آیت نازل ہوئی :"وہ جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں"۔


وَحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِى ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Sulaiman with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 7555).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ( أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ) قَالَ نَزَلَتْ فِى نَفَرٍ مِنَ الْعَرَبِ كَانُوا يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ فَأَسْلَمَ الْجِنِّيُّونَ وَالإِنْسُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ فَنَزَلَتْ (أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ)

It was narrated from 'Abdullah bin Mas'ud, may Allah be pleased with him, (concerning the Verse): "Those whom they call upon desire (for themselves) means of access to their Lord..." He said: "This was revealed concerning a group of Arabs who used to worship a group of jinn. The jinn became Muslims, but the humans who used to worship them were unaware of that. Then the words "Those whom they call upon desire (for themselves) means of access to their Lord..." were revealed."

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت : " وہ جن کو یہ کافر پوجتے ہیں خود ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں" کے بارے میں فرمایا: یہ آیت عرب کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو جنوں کی ایک جماعت کی عبادت کرتی تھی ، پھر وہ جن اسلام لے آئے اور جو انسان ان کی عبادت کرتے تھے ان کو اس کا علم نہ ہوسکا ، تب یہ آیت نازل ہوئی :"وہ جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں"۔

Chapter No: 5

بابٌ فِي سُورَةِ بَرَاءَةَ وَالأَنْفَالِ وَالْحَشْرِ

Regarding Surah Bara’ah, Al- Anfal and Al- Hashar

سورہ برأت ، سورہ انفال اور سورہ حشر کا بیان

حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِى بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ سُورَةُ التَّوْبَةِ قَالَ آلتَّوْبَةِ قَالَ بَلْ هِىَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ. حَتَّى ظَنُّوا أَنْ لاَ يَبْقَى مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ ذُكِرَ فِيهَا. قَالَ قُلْتُ سُورَةُ الأَنْفَالِ قَالَ تِلْكَ سُورَةُ بَدْرٍ. قَالَ قُلْتُ فَالْحَشْرُ قَالَ نَزَلَتْ فِى بَنِى النَّضِيرِ.

It was narrated that Sa'eed bin Jubair said: "I said to Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with them: 'Surat At-Tawbah?' He said: 'At-Tawbah? Rather it is Al-Fadihah (the exposer of the disbelievers and hypocrites). It is constantly revealed in it: "... and of them are some...", "...and of them are some..." - until they thought that there would be no one among them who would not be mentioned in it.' I said: 'Surat Al-Anfal?' He said: 'That is the Surah of Badr.' I said: 'And Al-Hashr?' He said: 'It was revealed concerning Banu An-Nadir."'

حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: سورۂ توبہ ، انہوں نے فرمایا: توبہ، بلکہ وہ تو کفار اور منافقین کو ذلیل کرنے والی ہے ، یہ سورت نازل ہوتی رہی ، اس میں ہے : بعض منافقین ، بعض منافقین ، یہاں تک کہ انہوں نے یہ خیال کیا ہر منافق کا اس سورت میں ذکر کردیا جائے گا ، میں نے پوچھا: اور سورۂ انفال ، انہوں نے کہا: یہ سورۂ بدر ہے ، میں نے کہا: اور سورۂ حشر ، انہوں نے کہا: یہ بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Chapter No: 6

باب فِي نُزُولِ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ

The revelation of the forbiddance of Khamr

شراب کی حرمت نازل ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ أَبِى حَيَّانَ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلاَ وَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ وَهْىَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالْعَسَلِ. وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ وَثَلاَثَةُ أَشْيَاءَ وَدِدْتُ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهَا الْجَدُّ وَالْكَلاَلَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا.

It was narrated that Ibn 'Umar, may Allah be pleased with them, said: "'Umar, may Allah be pleased with him, delivered a Khutbah from the Minbar of the Messenger of Allah (s.a.w). He praised and glorified Allah, then he said: 'When the prohibition of Khamr was revealed, it was made from five things: wheat, barley, dates, raisins and honey, but Khamr is that which clouds the mind. And there are three things, O people, that I wish the Messenger of Allah (s.a.w) had explained in more detail: (laws pertaining to the inheritance of) the grandfather, Al-Kalalah (when a person dies leaving no parents and no children) and some types of Riba."'

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺکے منبر پر خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: سنو!جب شراب کی حرمت نازل ہوئی اس وقت شراب پانچ چیزوں سے بنتی تھی : گندم ، جو ، کھجور، انگور ، اور شہد، اور شراب اس چیز کو کہتے ہیں جو عقل کو ڈھانپ لے ، اور اے لوگو! تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں یہ چاہتا تھا کہ رسول اللہﷺہم کوتفصیل سے بتلا دیتے ۔ دادا اور کلالہ کی وراثت اور سود کے چند ابواب۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهْىَ مِنْ خَمْسَةٍ مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ وَثَلاَثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِى إِلَيْهِ الْجَدُّ وَالْكَلاَلَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "I heard 'Umar bin Al-Khattab, may Allah be pleased with him, on the Minbar of the Messenger of Allah (s.a.w), saying: 'O people, when the prohibition of Khamr was revealed (in the Qur'an), it was made from five things: grapes, dates, honey, wheat and barley, but Khamr is that which clouds the mind. And there are three things, O people, that I wish the Messenger of Allah (s.a.w) had explained in detail: (laws pertaining to the inheritance of) the grandfather, Al-Kalalah (when a person dies leaving no parents and no children) and some types of Riba."'

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺکے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا : حمد و ثنا کے بعد! اے لوگو! جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی ، انگور ، کھجور ، شہد ، گندم ، اور جو ، اور شراب وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے ، اے لوگو! تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں یہ چاہتا تھا کہ رسول اللہﷺہمیں ان کے بارے میں خاص نصیحت فرمادیتے ، دادا ، اور کلالہ کی میراث ، اور سود کے چند ابواب۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى حَيَّانَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا غَيْرَ أَنَّ ابْنَ عُلَيَّةَ فِى حَدِيثِهِ الْعِنَبِ.كَمَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ وَفِى حَدِيثِ عِيسَى الزَّبِيبِ. كَمَا قَالَ ابْنُ مُسْهِرٍ.

A similar Hadith (as no. 7560) was narrated from Abu Hayyan with this chain of narrators, except that in his Hadith Ibn 'Ulayyah says grapes, as Ibn Idris said, and in the Hadith of 'Eisa it says raisins, as Ibn Mushir said.

یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے ، ایک سند کے ساتھ عنب کا لفظ مروی ہے اور دوسری کے ساتھ زبیب کا لفظ۔

Chapter No: 7

باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ}

Regarding words of Allah, The Most High: “These two antagonists dispute with each other about their Lord…”

ایک آیت کریمہ "یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا " کی تفسیر کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِى هَاشِمٍ عَنْ أَبِى مِجْلَزٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ (هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِى رَبِّهِمْ) إِنَّهَا نَزَلَتْ فِى الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةُ وَعَلِىٌّ وَعُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ.

It was narrated that Qais bin 'Ubad said: "I heard Abu Dharr, may Allah be pleased with him, swearing that the Verse: "These two opponents dispute with each other about their Lord..." was revealed concerning those who came out for single combat on the Day of Badr: Hamzah, 'Ali and 'Ubaidah bin Al-Harith (may Allah be pleased with them), and 'Utbah and Shaibah the two sons of Rabi'ah, and Al-Walid bin 'Utbah."'

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ قسم کھاکر کہتے تھے : "یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں اختلاف کیا" وہ یہ کہتے تھے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جنہوں نے جنگ بدر میں مبارزت کی ، حضرت حمزہ ، حضرت علی اور حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم ، ان کے مقابلہ میں عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، اور ولید بن عتبہ نکلے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى هَاشِمٍ عَنْ أَبِى مِجْلَزٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ لَنَزَلَتْ (هَذَانِ خَصْمَانِ) بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ.

It was narrated that Qais bin 'Ubad said: "I heard Abu Dharr, may Allah be pleased with him, swearing that the Verse: 'These two opponents...' was revealed..." a Hadith like that of Hushaim (no. 7572).

یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے ، قیس بن عباد سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو قسم کھاکر یہ کہتے ہوئے سنا ہے :" ہذان خصمان" یہ آیت نازل ہوئی ، اور یہ حدیث مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔