Sayings of the Messenger

 

123

Chapter No: 1

بابُ الْحَثِّ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى

The urge to remember Allah, The Most High

ذکر الٰہی کی ترغیب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي ، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا ، تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا ، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah, Glorified and Exalted is He, says: I am as My slave thinks I am, and I am with him when he remembers Me. If he remembers Me to himself, I remember him to Myself; if he remembers Me in a gathering, I remember him in a gathering better than it; if he draws near to Me a handspan, I draw near to him an arm's length; if he draws near to Me an arm's length, I draw near to him a fathom's length; if he comes to Me walking, I go to him at speed."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں ، جس وقت وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ اپنے دل میں میرا ذکر کرے تو میں تنہا اس کا ذکر کرتا ہوں ، اور اگر وہ جماعت میں میرا ذکر کرے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہوں ، اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب ہو تو میں یہ بقدر ایک ہاتھ کے اس کے قریب ہوتا ہوں ، اور اگر وہ ایک ہاتھ کے برابر میرے قریب ہو تو میں بقدر چار ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں ، اگر وہ میرے پاس چل کر آئے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس آتا ہوں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ: وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا.

It was narrated from Al-A'mash with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6805), but he did not mention (the words): "If he draws near to Me an arm's length, I draw near to him a fathom's length."

یہ حدیث ایک اور سند سے مرو ی ہے اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ اگر وہ ایک ہاتھ کے برابر میرے قریب ہو تو میں بقدر چار ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ قَالَ : إِذَا تَلَقَّانِي عَبْدِي بِشِبْرٍ ، تَلَقَّيْتُهُ بِذِرَاعٍ ، وَإِذَا تَلَقَّانِي بِذِرَاعٍ ، تَلَقَّيْتُهُ بِبَاعٍ ، وَإِذَا تَلَقَّانِي بِبَاعٍ أَتَيْتُهُ بِأَسْرَعَ.

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: "This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w) " and he mentioned a number of Ahadith, including the following: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah said: If a person draws near to Me a handspan, I draw near to him an arm's length, and if he draws near to Me an arm's length, I draw near to him a fathom's length, and if he draws near to Me a fathom's length, I come to him more quickly."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب بندہ ایک بالشت کے برابر میری طرف بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف بقدر ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور جب وہ میری طرف بقدر ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں بقدر چار ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور جب وہ بقدر چار ہاتھ میری طرف بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف زیادہ تیزی سے بڑھتا ہوں۔


حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ جُمْدَانُ ، فَقَالَ : سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ قَالُوا : وَمَا الْمُفَرِّدُونَ ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا ، وَالذَّاكِرَاتُ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) was traveling on the road to Makkah, and he passed by a mountain called Jumdan. He said: 'Proceed, this is Jumdan; the Mufarridun have gone on ahead.' They said: 'Who are the Mufarridun, O Messenger of Allah?' He said: 'The men and women who remember Allah a great deal."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺ مکہ کے ایک راستہ میں جارہے تھے، آپﷺکا ایک پہاڑ سے گزر ہوا جس کو جمدان کہتے تھے ، آپﷺنے فرمایا: چلتے رہو یہ جمدان ہے ، مفردوں سبقت لے گئے ، صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسولﷺ! مفردون کون ہیں ؟ آپﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا کثرت کے ساتھ ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا کثرت کے ساتھ ذکر کرنے والی عورتیں۔

Chapter No: 2

بابُ فِي أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى وَفَضْلِ مَنْ أَحْصَاهَا

Concerning the names of Allah, The Exalted and the merit of memorizing them

اللہ تعالیٰ کے اسماء اور ان کو یاد کرنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لِلَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا ، مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ ، يُحِبُّ الْوِتْرَ. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ: مَنْ أَحْصَاهَا.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Allah has ninety-nine names. Whoever memorizes them will enter Paradise. Allah is Witr (One) and He loves that which is odd-numbered." In the Hadith of Ibn Abi 'Umar he (s.a.w) said: "...whoever enumerates them..."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ، جس نے ان کو یاد کرلیا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا ، اور اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے ، ابن ابی عمر کی روایت میں ہے : جو ان کو شمار کرے گا۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا ، مِئَةً إِلاَّ وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ. وَزَادَ هَمَّامٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Allah has ninety-nine names, one hundred less one. Whoever enumerates them will enter Paradise." Hammam added from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w): "He is Witr (One) and loves that which is odd-numbered."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، جس نے ان کو شمار کرلیا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے روایت کی ہے اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے ۔

Chapter No: 3

بابُ الْعَزْمِ بِالدُّعَاءِ وَلاَ يَقُلْ إِنْ شِئْتَ

Concerning clear intention in supplication and one should not say: “if you will”

عزم اورپختگی سے دعا کرے ، یہ نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو دے دے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ، وَلاَ يَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ مُسْتَكْرِهَ لَهُ.

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "When one of you calls upon Allah, let him be firm in his supplication, and not say, 'O Allah, if You will then give me,' for no one can compel Allah."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی دعا کرے تو دعا میں اصرار کرے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے دے دے ، کیونکہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلاَ يَقُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، وَلَكِنْ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ وَلْيُعَظِّمِ الرَّغْبَةَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لاَ يَتَعَاظَمُهُ شَيْءٌ أَعْطَاهُ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "When one of you calls upon Allah, let him not say: 'O Allah, forgive me if You will,' rather let him be firm in his asking, and let him express his need in full, for nothing is too great for Allah to give."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی دعا کرے تو یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، لیکن وہ اصرار سے سوال کرے اور بہت رغبت کرے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز دینا مشکل نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ ، وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ ، لِيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ ، فَإِنَّ اللَّهَ صَانِعٌ مَا شَاءَ ، لاَ مُكْرِهَ لَهُ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "None of you should say: 'O Allah, forgive me if You will, O Allah have mercy on me if You will.' Let him be firm in his supplication, for Allah does whatever He wills and no one can compel Him."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی یہ نہ کہے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہیے تو مجھے بخش دے ! اے اللہ ! اگر تو چاہیے تومجھ پر رحم فرما، وہ دعا میں اصرار کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اور کوئی اس کو مجبور کرنے والا نہیں ہے۔

Chapter No: 4

بابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ

The aversion of wishing for death due to any harm that has befallen one

مصیبت پر موت کی تمنا نہ کرے

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ ، فَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ مُتَمَنِّيًا فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي.

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "None of you should wish for death because of some harm that has befallen him. If he must wish for it, then let him say: 'O Allah, keep me alive so long as living is good for me, and cause me to die when death is good for me.'"

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی مصیبت آنے کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے اور اگر اس نے ضروری موت کی تمنا کرنی ہو تو یوں کہے: اے اللہ ! جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہو مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیے موت بہتر ہو تو مجھے موت دے دے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (ح) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، كِلاَهُمَا عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ.

A similar report (as Hadith no. 6814) was narrated from Anas from the Prophet (s.a.w).

یہ حدیث دو سندوں کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے حسب سابق بیان کی ہے ، البتہ اس میں نزل کی بجائے اصاب کا لفظ ہے۔


حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، وَأَنَسٌ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ قَالَ أَنَسٌ: لَوْلاَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُهُ.

Anas said: "Were it not that the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'None of you should wish for death,' I would have wished for it."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہﷺنے یہ نہ فرمایا ہوتا: کہ تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے تو میں موت کی تمنا کرتا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعَ كَيَّاتٍ فِي بَطْنِهِ ، فَقَالَ: لَوْ مَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ ، لَدَعَوْتُ بِهِ.

It was narrated that Qais bin Abi Hazim said: "We entered upon Khabbab who had been cauterized seven times on his stomach. He said: 'Were it not that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade us to pray for death, I would have prayed for it."'

قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہوئے اس حال میں کہ ان کے پیٹ پر سات داغ لگائے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: اگر رسول اللہﷺنے ہم کو موت کی دعا سے منع نہ کیا ہوتا تو میں موت کی دعا کرتا۔


حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَوَكِيعٌ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Isma'il with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6817).

یہ حدیث چار سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ، وَلاَ يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ ، إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ ، وَإِنَّهُ لاَ يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلاَّ خَيْرًا.

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: "This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w) " and he mentioned a number of Ahadith including the following: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'None of you should wish for death or pray for it before it comes to him. When one of you dies, his good deeds come to an end. Surely, a longer life of a believer is nothing but good for him."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے ، موت آنے سے پہلے اس کی دعا نہ کرے ، کیونکہ تم میں سے جب کوئی آدمی مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے اور مومن کی عمر زیادہ ہونے سے خیر ہی زیادہ ہوتی ہے۔

Chapter No: 5

بابُ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ

Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever dislikes to meet Allah, Allah dislikes to meet him

جو اللہ سے ملنے کو محبوب رکھے اللہ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے۔اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.

It was narrated from 'Ubadah bin As-Samit that the Prophet of Allah (s.a.w) said: "Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him."

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جو آدمی اللہ سے ملنے کو پسند رکھے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو نا پسند کرتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

Anas bin Malik narrated a similar report (as Hadith no. 6820) from 'Ubadah bin As-Samit, from the Prophet (s.a.w).

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس کی طرح حدیث روایت کی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرُّزِّيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ ؟ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ، فَقَالَ: لَيْسَ كَذَلِكِ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ ، أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ ، فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللهِ وَسَخَطِهِ، كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ، وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him.' I said: 'O Prophet of Allah, (do you mean) hating death? For we all hate death.' He said: 'It is not like that. But when the believer is given glad tidings of the mercy of Allah and His good pleasure and Paradise, he loves to meet Allah and Allah loves to meet him. But when the disbeliever is given the news of the punishment and wrath of Allah, he hates to meet Allah and Allah hates to meet him."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی اللہ سے ملاقات کو پسند کرے اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اورجو آدمی اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا موت کی ناپسندیدگی بھی ؟ ہم میں سے ہر آدمی موت کو (طبعی طور پر) ناپسند کرتا ہے ، آپﷺنے فرمایا: یہ بات نہیں ہے ، لیکن جب مومن کو اللہ کی رحمت ، رضوان اور جنت کی بشارت دی جائے تو وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے ، سو اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کی خبر دی جائے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، سو اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ۔


حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Qatadah with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6822).

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ.

It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him, and death comes before meeting Allah."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی اللہ سے ملاقات کو پسند کرے اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور موت اللہ کی ملاقات سے پہلے ہے۔


حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بِمِثْلِهِ.

'Aishah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: ...., a similar Hadith (as no. 6824).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے حسب سابق فرمایا ہے۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ. قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا إِنْ كَانَ كَذَلِكَ ، فَقَدْ هَلَكْنَا، فَقَالَتْ: إِنَّ الْهَالِكَ مَنْ هَلَكَ بِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَلَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ ، فَقَالَتْ: قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَيْسَ بِالَّذِي تَذْهَبُ إِلَيْهِ ، وَلَكِنْ إِذَا شَخَصَ الْبَصَرُ ، وَحَشْرَجَ الصَّدْرُ ، وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ ، وَتَشَنَّجَتِ الأَصَابِعُ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.

It was narrated from Shuraih bin Hani', that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him.'" He (the sub narrator) said: "I went to 'Aishah and said: 'O Mother of the Believers, I heard Abu Hurairah narrate a Hadith from the Messenger of Allah (s.a.w) ' and if that is the case then we are doomed.' She said: 'The one who is doomed is the one who is doomed according to the words of the Messenger of Allah (s.a.w). Why do you say that?' He said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him," but! here is no one among us who does not hate death.' She said: The Messenger of Allah (s.a.w) did say that, but it is not what you think. Rather, when the eyes grow dim, the chest rattles, the skin shrinks and the fingers convulse, it is at that point whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی اللہ سے ملاقات کو پسند کرے اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے ام المؤمنین ! میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺکی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ اگر واقعی اسی طرح ہے تو ہم تو مارے گئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہﷺکے قول سے جو ہلاک ہوا وہ واقعی ہلاک ہوگیا ، بتاؤ وہ کیا حدیث ہے ؟ انہوں نے کہا: کہ رسول اللہﷺنے فرمایا ہے : جو آدمی اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملاقات کو پسند نہیں کرتا ، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند نہیں کرتا ہے اور ہم میں ایسا کوئی نہیں ہوگا جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسو ل ﷺ!نے اسی طرح فرمایا تھا ، لیکن اس کا وہ مطلب نہیں ہے جوتم نے سمجھا ہے ، لیکن جب آنکھیں اوپر اٹھ جائیں اور سینہ میں دم گھٹ جائے اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں اور انگلیاں ٹیڑھی ہوجائیں اس وقت جو آدمی اللہ سے ملاقات کو پسند کرے اللہ اسے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کرنا ناپسند کرے اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْثَرٍ.

A Hadith like that of 'Abthar (no. 6826) was narrated from Mutarrif with this chain of narrators.

یہ حدیث بھی ایک اور سند سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.

It was narrated from Abu Musa that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah hates to meet him."

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جو آدمی اللہ سے ملاقات کو پسند کرے اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔

Chapter No: 6

بابُ فَضْلِ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى

The merit of remembrance, supplication and getting closer to Allah, The Most High

ذکر اور دعا کی فضیلت اور اللہ کے تقرب کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah says: I am as My slave thinks I am, and I am with him when he calls upon Me."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِذَا تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا ، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا ، أَوْ بُوعًا ، وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي ، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Allah says: 'If My slave draws near to Me a handspan, I draw near to him an arm's length, and if he draws near to Me an arm's length, I draw near to him a fathom's length, and if he comes to Me walking, I go to him at speed."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بندہ مجھ سے ایک بالشت کے قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ کے قریب ہوتا ہوں ، اور جب وہ مجھ سے ایک ہاتھ کے قریب ہوتا ہے تو میں اس سے چار ہاتھ کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہوں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ: إِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً.

Mu'tamir narrated it from his father with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6830), but he did not mention (the words): "If he comes to Me walking, I go to him at speed."

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے ، اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ اگر وہ میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہوں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي ، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي ، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُ ، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا ، تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا ، اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Allah says: 'I am as My slave thinks I am, and I am with him when he remembers Me. If he remembers Me to himself, I remember him to Myself; if he remembers Me in a gathering, I remember him in a gathering better than it; if he draws near to Me a handspan, I draw near to him an arm's length; if he draws near to me an arm's length, I draw near to him a fathom's length; if he comes to Me walking, I go to him at speed."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوتا ہوں اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں ، اگر وہ میرا تنہا ذکر کرے تو میں بھی اس کا تنہا ذکر کرتا ہوں اور اگر وہ میرا جماعت میں ذکر کرے تو میں اس سے افضل جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہوں ، اگر وہ بہ قدر ایک بالشت میرے قریب ہو تو میں بہ قدر ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ بہ قدر ایک ہاتھ میرے قریب ہو تو میں بہ قدر چار ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چلتا ہوا آئے تو میں اس کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہوں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ ، وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا، أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا ، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً، وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطِيئَةً لاَ يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً. قَالَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.

It was narrated from Abu Dharr that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Allah, Glorified and Exalted is He, said: 'Whoever does a good deed will have a ten fold reward and more, and whoever does a bad deed its recompense is one like it, or I will forgive him. Whoever draws near to Me a handspan, I draw near to him an arm's length; and whoever draws near to Me an arm's length, I draw near to him a fathom's length; and whoever comes to Me walking, I go to him at speed. Whoever meets me with an earthful of sins (but) not associating anything with Me, I will meet him with a similar amount of forgiveness."

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے : جو آدمی ایک نیکی کرتا ہے اس سے اس کی مثل دس نیکیاں ملتی ہیں اور میں (نیکیوں میں) مزید اضافہ کرتا ہوں اور جو آدمی ایک برائی کرتا ہے اسے صرف ایک برائی کی سزا ملتی ہے ، یا میں اس کو معاف کردیتا ہوں اور جو بہ قدر ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے میں اس سے بہ قدر ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جو مجھ سے بہ قدر ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے میں اس سے بہ قدر چار ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جو آدمی میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے میں اس کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہوں اور جو آدمی تمام روئے زمین کے برابر گناہ کرکے مجھ سے ملے اور اس نے شرک نہ کیا ہو تو میں اس سے اتنی ہی مغفرت کے ساتھ ملوں گا۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ، أَوْ أَزِيدُ.

A similar report (as Hadith no. 6833) was narrated from Al-A'mash with this chain of narrators, except that he did not said: "He will have a ten fold reward or more."

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے ، البتہ اس میں یہ ہے کہ اس سے اس کی مثل دس گنا اجر ملتا ہے اور میں مزید اجر دیتا ہوں۔

Chapter No: 7

باب كَرَاهَةِ الدُّعَاءِ بِتَعْجِيلِ الْعُقُوبَةِ فِي الدُّنْيَا

The disapproval of praying for early punishment in this world (before hereafter)

دنیا میں سزا ملنے کی دعا کرنے کی کراہت

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَادَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ ، أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كُنْتُ أَقُولُ : اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الآخِرَةِ ، فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سُبْحَانَ اللهِ لاَ تُطِيقُهُ ، أَوْ لاَ تَسْتَطِيعُهُ ، أَفَلاَ قُلْتَ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قَالَ : فَدَعَا اللَّهَ لَهُ ، فَشَفَاهُ.

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (s.a.w) visited a Muslim man who was sick and had grown feeble like a chicken. The Messenger of Allah (s.a.w) said to him: "Did you pray (Allah) for anything or ask for it?" He said: "Yes, I used to say: 'O Allah, whatever punishment You would give me in the Hereafter, bring it forward in this world."' The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Subhan-Allah! You cannot bear it. Why didn't you say, O Allah, give us good in this world and good in the Hereafter and save us from the torment of the Fire." Then he prayed to Allah for him, and He healed him.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مسلمانوں میں سے ایک ایسے آدمی کی عیادت کی جو چوزہ کی طرح لاغر ہوگیا تھا ، رسول اللہﷺنے اس سے فرمایا: کیا تو کسی چیز کی دعا کرتا تھا ، یا اس سے کسی چیز کا سوال کرتا تھا ، اس نے کہا : ہاں ! میں یہ سوال کرتا تھا : اے اللہ! تو مجھے آخرت میں جو سزا دینے والا ہے اس کے بدلہ میں مجھے دنیا میں ہی سزا دے دے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: سبحان اللہ! تم اس کی طاقت نہیں رکھتے یا فرمایا: تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، تم نے یہ دعا کیوں نہ کی: اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی اچھی چیزیں عطا کر اور آخرت میں بھی عمدہ نعمتیں عطا فرما اورہمیں جہنم کے عذاب سے بچاؤ، راوی نے کہا: آپﷺنے اس کے لیے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے ان کو شفاء دے دی۔


حَدَّثَنَاهُ عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، إِلَى قَوْلِهِ: وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ وَلَمْ يَذْكُرِ الزِّيَادَةَ.

Humaid narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6835), up to the words, "... and save us from the torment of the Fire," and he did not mention the words that came after that.

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے ، لیکن یہ حدیث صرف " ہمیں جہنم کے عذاب سے بچاؤ" تک ہے اور اس کے بعد نہیں ہے۔


وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُهُ ، وَقَدْ صَارَ كَالْفَرْخِ. بِمَعْنَى حَدِيثِ حُمَيْدٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: لاَ طَاقَةَ لَكَ بِعَذَابِ اللهِ وَلَمْ يَذْكُرْ: فَدَعَا اللَّهَ لَهُ ، فَشَفَاهُ.

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (s.a.w) entered upon one of his Companions to visit him as he was sick, and he had become like a chicken - a Hadith like that of Humaid (no. 6836), except that he (s.a.w) said: "You cannot bear the punishment of Allah." And he (the narrator) did not mention (the words), "Then he prayed to Allah for him, and He healed him."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺاپنے اصحاب میں سے ایک آدمی کی عیادت کے لیے داخل ہوئے تو وہ چوزہ کی طرح لاغر ہوگیا تھا ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، لیکن اس میں یہ ہے کہ آپ اللہ کے عذاب کو برداشت نہیں کرسکتے ، اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ آپﷺنے اس کے لیے دعا کی تو اللہ نے اس کو شفاء دے دی۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.

It was narrated from Anas form the Prophet (s.a.w) with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6835).

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو نبی ﷺسے روایت کیا ہے۔

Chapter No: 8

بابُ فَضْلِ مَجَالِسِ الذِّكْرِ

The merit of gatherings for remembrance

مجالس ذکر کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلاَئِكَةً سَيَّارَةً ، فُضُلاً يَبْتَغُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ ، فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ قَعَدُوا مَعَهُمْ ، وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ ، حَتَّى يَمْلَؤُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ ، قَالَ : فَيَسْأَلُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ : مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ فِي الأَرْضِ ، يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيُهَلِّلُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ وَيَسْأَلُونَكَ ، قَالَ : وَمَاذَا يَسْأَلُونِي ؟ قَالُوا : يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ ، قَالَ : وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي ؟ قَالُوا : لاَ ، أَيْ رَبِّ قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي ؟ قَالُوا: وَيَسْتَجِيرُونَكَ، قَالَ: وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونَنِي؟ قَالُوا: مِنْ نَارِكَ يَا رَبِّ ، قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا نَارِي ؟ قَالُوا: لاَ ، قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي ؟ قَالُوا: وَيَسْتَغْفِرُونَكَ ، قَالَ: فَيَقُولُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا ، وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا ، قَالَ : فَيَقُولُونَ : رَبِّ فِيهِمْ فُلاَنٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ ، إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ ، قَالَ: فَيَقُولُ: وَلَهُ غَفَرْتُ هُمُ الْقَوْمُ لاَ يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Allah, Blessed and Exalted is He, has angels who travel about, with no other task but to seek out gatherings of Adh-Dhikr (remembrance of Allah). When they find a gathering in which Allah is remembered, they sit with them, and encircle them with their wings, until they fill the space between earth and the first heaven. When they part, they (the angels) ascend to the heaven, and Allah, Glorified and Exalted is He, asks them, although He knows best: 'From where have you come?' They say: 'We have come from some of Your slaves on earth, who were Glorifying You, proclaiming Your Greatness, proclaiming Your Oneness, Praising You and asking of You.' He says: 'What are they asking of Me?' They say: 'They are asking You for Your Paradise.' He says: 'Have they seen My Paradise?' They say: No, O Our Lord. He says: 'And what if they saw My Paradise?' They say: 'And they are seeking Your protection.' He says: 'From what are they seeking My protection?' They say: 'From Your Fire, O Lord.' He says: 'And what if they saw My Fire?' They say: 'And they are asking You for forgiveness.' He says: 'I have forgiven them, and given them what they asked for, and granted them protection from that which they sought My protection.' They say: 'Lord, among them is so-and-so, a sinner who was merely passing by, then he sat with them.' He says: 'Him too I have forgiven. They are people whose companion will not be miserable."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ گشت کرنے والے فرشتے ہیں جو ذکر کی مجالس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں ، جب وہ ذکر کی کوئی مجلس دیکھتے ہیں تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے بعض فرشتے بعض دوسرے فرشتوں کو ڈھانپ لیتے ہیں یہاں تک کہ زمین سے لے کر آسمان دنیا تک جگہ بھر جاتی ہے ، جب ذکر کرنے والے مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو یہ فرشتے آسمان کی طرف چڑھ کر جاتے ہیں ،پھر اللہ عزوجل ان سے سوال کرتا ہے حالانکہ اس کو ان سے زیادہ علم ہوتا ہے ، تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین پر تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو سبحان اللہ ، اللہ اکبر ، لاالہ الا اللہ اور الحمد للہ کہہ رہےتھے اور تجھ سے سوال کررہے تھے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ مجھ سے کیا سوال کررہے تھے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ تجھ سے تیری جنت کا سوال کررہے تھے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : نہیں ، اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیتے ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اور وہ تجھ سے پناہ طلب کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ کس چیز سے میری پناہ مانگتے ہیں ؟ فرشتِے عرض کرتے ہیں : اے رب! تیری دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا انہوں نے میرے جہنم کو دیکھا ہے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : نہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر وہ میرے جہنم کو دیکھ لیتے تو پھر کس قدر پناہ مانگتے فرشتے عرض کرتے ہیں : اور وہ تجھ سے استغفار کرتے تھے ، آپﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان کو بخش دیا ہے اور جو کچھ انہوں نے مانگا وہ میں نے ان کو عطا کردیا اورجس چیز سے انہوں نے پناہ مانگی ہے اس سے میں نے ان کو پناہ دے دی ، آپﷺنے فرمایا: فرشتے عرض کرتے ہیں: اے میرے رب! ان میں فلاں بندہ خطا کار تھا ، وہ اس مجلس کے پاس سے گزرا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا ، آپﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے اس کو بھی بخش دیا ، یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں کیا جاتا۔

Chapter No: 9

بابُ فَضْلِ الدُّعَاءِ بِاللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

The merit of supplication: “O Allah! Grant us the good in this world and good in the hereafter and save us from the punishment of the fire

اکثر اوقات میں نبیﷺکی دعا کا بیان

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ ، قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا يَقُولُ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ. قَالَ: وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ دَعَا بِهَا فِيهِ.

It was narrated that 'Abdul-'Aziz bin Suhaib said: Qatadah asked Anas: Which supplication did the Prophet (s.a.w) say the most?' He said: The supplication that he said the most was: "Allahumma atina fid-dunya' hasanah wa fil-akhirati hasanah, wa qina 'adhaban-nar. (O Allah, give us good in this world and good in the Hereafter and save us from the torment of the Fire.)" When Anas wanted to say a supplication, he would say these words, and when he had a specific need he would include these words in his supplication.

قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہﷺکون سی دعا زیادہ کرتے تھے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اکثر یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ!ہمیں دنیا میں بھی اچھائی دے اور آخرت میں بھی اچھائی دے اور ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا ، راوی نے کہا: حضرت انس جب دعا کا ارادہ کرتے تو یہ دعا کرتے اور جب وہ کسی اور دعا کا ارادہ کرتے تو اس میں یہ دعا شامل کرلیتے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to say: 'Rabbana atina fid-dunya' hasanah wa fil-akhirati hasanah, wa qina 'adhaban-nar. (O Allah, give us good in this world and good in the Hereafter and save us from the torment of the Fire.)'"

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺیہ دعا کرتے تھے : اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں اچھاعطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھا عطا فرما ، اورہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔

Chapter No: 10

بابُ فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ

The merit of pronouncing Tahlil (saying La Ilaha Illallah) , Tasbih (saying Subhan Allah) and supplication

لا الہ الا اللہ ، سبحان اللہ کہنے اور دعا کرنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، فِي يَوْمٍ مِئَةَ مَرَّةٍ ، كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِئَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ ، يَوْمَهُ ذَلِكَ ، حَتَّى يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلاَّ أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ ، فِي يَوْمٍ مِئَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever says: 'La ilaha illallahu wahdahu Ia sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu, wa huwa 'ala kulli shay'in qadir (None has the right to be worshiped but Allah alone with no partner or associate, His is the dominion, to Him is praise and He has power over all things)' one hundred times in a day, it will be the equivalent of his freeing one hundred slaves, and one hundred good deeds will be recorded for him, and one hundred bad deeds will be erased for him, and it will be a protection for him against the Shaitan all day until evening comes, and no one will do anything better than what he has done except one who does more than that. And whoever says: 'Subhan Allahi wa bihamdihi (Glory and praise is to Allah)' one hundred times in a day, his sins will be erased, even if they are like the foam of the sea."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس آدمی نے دن میں سو مرتبہ یہ پڑھا : لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر اس آدمی کو دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہے ، اس کے سو گناہ مٹادیے جاتے ہیں اور یہ کلمات صبح سے شام تک اس کی شیطان سے حفاظت کا سبب ہوتے ہیں اور کوئی آدمی اس سے زیادہ افضل عمل نہیں کرسکتا ، ماسوائے اس آدمی کے جو ان کلمات کو اس سے زیادہ مرتبہ پڑھے ، اور جس آدمی نے ایک دن میں سو مرتبہ " سبحان اللہ وبحمدہ" پڑھا تو اس کے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ: حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ ، مِئَةَ مَرَّةٍ ، لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ ، إِلاَّ أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ، أَوْ زَادَ عَلَيْهِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever says in the morning and in the evening: 'Subhan Allahi wa bihamdihi (Glory and praise his to Allah)' one hundred times, no one will come on the Day of Resurrection with anything better than what he has done, except one who said something like what he said, or more than that."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جوآدمی صبح اور شام کے وقت " سبحان اللہ وبحمدہ " سو مرتبہ پڑھتا ہے ، قیامت کے دن کوئی آدمی اس سے زیادہ افضل عمل نہیں لا سکتا ، ماسوائے اس آدمی کے جس نے اس کے برابر یا اس سے زیادہ ان کلمات کوپڑھا ہو۔


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلاَنِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ ، وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: مَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، عَشْرَ مِرَارٍ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَةَ أَنْفُسٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ.

It was narrated that 'Amr bin Maimun said: "Whoever says: 'La ilaha illallahu wahdahu Ia sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu, wa huwa 'ala kulli shay'in qadir (None has the right to be worshiped but Allah alone with no partner or associate, His is the dominion, to Him be praise and He has power over all things)' tens times, he will be like one who freed four slaves among the sons of Isma'il.

عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ جس آدمی نے دس مرتبہ یہ پڑھا: "لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر " اس کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کرنے کا اجر ملے گا ۔


وقَالَ سُلَيْمَانُ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ ، قَالَ: فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ: مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ فَقُلْتُ: مِمَّنْ سَمِعْتُهُ ؟ قَالَ مِنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى فَقُلْتُ: مِمَّنْ سَمِعْتُهُ ؟ قَالَ: مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

A similar report (as Hadith no. 6844) was narrated from Ash-Sha'bi from Rabi' bin Khuthaim. (Ash-Sha'bi) said: "I said to Rabi': 'From whom did you hear it?' He said: 'From 'Amr bin Maimun."' He said: "I went to 'Amr bin Maimum and said: 'From whom did you hear it?' He said: 'From Ibn Abi Laila."' He said: "I went to Ibn Abi Laila and said: 'From whom did you hear it?' He said: 'From Abu Ayyub Al-Ansari, who narrated it from the Messenger of Allah (s.a.w)."'

سلیمان نے اس حدیث کو ربیع بن خثیم سے روایت کیا ، شعبی کہتے ہیں میں نے ربیع سے پوچھا: تم نے اس حدیث کو کس سے سنا ؟ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون سے ، پھر میں نے عمرو بن میمون سے پوچھا: آپ نے اس حدیث کو کس سے سنا؟ انہوں نے کہا: ابن ابی لیلیٰ سے ، پھر میں ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا: تم نے اس حدیث کو کس سے سنا ؟ انہوں نے کہا: میں نے اس حدیث کو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ، اور انہوں نے اس حدیث کو رسو ل اللہﷺسے سنا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Two words that are light on the tongue and heavy in the Scale, and beloved to the Most Merciful: Subhan Allahi wa bihamdihi, Subhan Allahil-azim (Glory and praise be to Allah, and Glory to be Allah the Almighty)."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے اور میران پر بھاری اور اللہ کو محبوب ہیں : " سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم"۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لأَنْ أَقُولَ سُبْحَانَ اللهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: Saying 'Subhan Allahi wal-hamdu-lillahi, wa la ilaha illallahu wallahu, Akbar (Saying 'Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah and Allah is most great)' is dearer to me than everything upon which the sun rises."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: میرا سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر کہنا مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : عَلِّمْنِي كَلاَمًا أَقُولُهُ ، قَالَ : قُلْ : لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ قَالَ : فَهَؤُلاَءِ لِرَبِّي ، فَمَا لِي ؟ قَالَ : قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي. قَالَ مُوسَى : أَمَّا عَافِنِي ، فَأَنَا أَتَوَهَّمُ وَمَا أَدْرِي ، وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَ مُوسَى.

It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said: "A Bedouin came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said: 'Teach me a word that I may say.' He said: 'Say: "La ilaha illallahu wahdahu la sharika lahu, Allahu akbar kabira, wal-hamdulillahi khathira, wa subhan Allahi rabbil-'alamin, la hawla wa la quwwata illa billahil' Azizil-Hakim (None has the right to be worshiped but Allah alone, with no partner or associate, Allah is most great, much praise be to Allah, glory is to Allah the Lord of the worlds, and there is no power and no strength except with Allah, the Almighty, the Most Wise)."' "He said: 'These are for my Lord; what is there for me?' He said: 'Say: 'Allahum-maghfirli, warhamni wahdini, warzuqni (O Allah, forgive me, have mercy on me, guide me and grant me provision)."' Musa (a narrator) said: "As for (the words) 'keep me safe and sound,' I think he said it, but I do not know." Ibn Abi Shaibah did not mention the words of Musa in his Hadith.

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسو ل اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: مجھے کچھ کلمات پڑھنے کی تعلیم دیجئے آپ ﷺنے فرمایا: یہ کہو: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ، اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا سبحان اللہ رب العالمین ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ العزیز الحکیم۔اس آدمی نے کہا: یہ کلمات تو میرے رب کے لیے ہیں ، میرے لیے کیا ہیں ؟ آپﷺنے فرمایا: یہ کہو: اللہم اغفرلی وارحمنی واہدنی وارزقنی ، راوی نے کہا: مجھے عافانی کا بھی خیال ہے لیکن مجھے یاد نہیں ہے ، امام ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اس راوی کا قول ذکر نہیں کیا۔


حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُعَلِّمُ مَنْ أَسْلَمَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَاهْدِنِي ، وَارْزُقْنِي.

Abu Malik Al-Ashja'i narrated that his father said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to teach those who became Muslim to say: 'Allahum-maghfirli, warhamni wahdini, warzuqni (O Allah, forgive me, have mercy on me, guide me and grant me provision)."'

ابو مالک اشجعی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اسلام قبول کرتا ، رسول اللہﷺاس کو ان کلمات کی تعلیم دیتے تھے : اللہم اغفرلی وارحمنی واہدنی وارزقنی۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ ، عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاَةَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَاهْدِنِي ، وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي.

Abu Malik Al-Ashja'i narrated that his father said: "If a man became Muslim, the Prophet (s.a.w) would teach him the prayer, then he would tell him to say these words: 'Allahum-maghfirli warhamni wahdini, wa afini, warzuqni (O Allah, forgive me, have mercy on me, guide me, keep me safe and sound, and grant me provision).'"

ابو مالک اشجعی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی آدمی مسلمان ہوتا تو نبی ﷺ اس کو نماز کی تعلیم دیتے ، پھر اس کو ان کلمات کےساتھ دعا کرنے کا حکم دیتے : اللہم اغفرلی وارحمنی واہدنی وعافنی وارزقنی۔


حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي ؟ قَالَ: قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَارْحَمْنِي ، وَعَافِنِي ، وَارْزُقْنِي وَيَجْمَعُ أَصَابِعَهُ إِلاَّ الإِبْهَامَ فَإِنَّ هَؤُلاَءِ تَجْمَعُ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ.

Abu Malik narrated that his father heard the Prophet (s.a.w) say, when a man came to him and said: "O Messenger of Allah (s.a.w), what should I say when I ask of my Lord?" He (s.a.w) said: "Say: 'Allahummaghfirli, warhamni wahdini, wa afini, warzuqni (O Allah, forgive me, have mercy on me, keep me safe and sound, and grant me provision),"' and he held his fingers together except the thumb and said: "These words sum up (good) for you in this world and in the Hereafter."

ابومالک اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺکی خدمت میں ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! جب میں اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں؟آپﷺنے فرمایا: کہو، اللہم اغفرلی وارحمنی وعافنی وارزقنی، آپﷺنے انگوٹھے کے علاوہ تمام انگلیاں جمع کیں اور فرمایا: یہ کلمات تمہاری دنیا و آخرت کے لیے جامع ہیں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ ، كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ قَالَ: يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ ، فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ ، أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ.

It was narrated from Mus'ab bin Sa'd: My father told me: "We were with the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: 'Is it too difficult for any one of you to earn one thousand Hasanah (good deeds) every day?' One of those who were sitting with him asked him: 'How can one of us earn one thousand Hasanah?' He said: 'If he says one hundred Tasbih, (saying 'Subhan Allah) then one thousand Hasanah will be recorded for him, and one thousand bad deeds will be erased for him.'"

حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے : آپﷺنے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی آدمی ہر روز ایک ہزار نیکیاں کرنے سے عاجز ہے ؟ آپﷺکے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے سوال کیا : ہم میں سے کوئی آدمی ایک ہزار نیکیاں کیسے کرسکتا ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: وہ سو مرتبہ سبحان اللہ کہے ، اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی یا اس کے ایک ہزار گناہ مٹادیے جائیں گے۔

123