Sayings of the Messenger

 

123Last ›

Chapter No: 1

بابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُعَامَلَةِ بِجُزْءٍ مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ

Regarding Al-Musaqat and Al-Mu’amlah (gardening and cultivating) in exchange of a share of fruit and crops

پھلوں اور غلے کے حصے کے عوض باغبانی اور زراعت کرانے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) made a contract with the people of Khaibar for half of the fruit or crops produced.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے اہل خیبر سے زمین کی نصف پیداوار کے بدلےعمل کرایا ، خواہ پیداوار پھل ہوں یا غلہ۔


وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىٌّ - وَهُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ - أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ فَكَانَ يُعْطِى أَزْوَاجَهُ كَلَّ سَنَةٍ مِائَةَ وَسْقٍ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ فَلَمَّا وَلِىَ عُمَرُ قَسَمَ خَيْبَرَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الأَرْضَ وَالْمَاءَ أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ فَاخْتَلَفْنَ فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الأَرْضَ وَالْمَاءَ وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الأَوْسَاقَ كُلَّ عَامٍ فَكَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ مِمَّنِ اخْتَارَتَا الأَرْضَ وَالْمَاءَ.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) handed over Khaibar in return for half of the fruit or crops that it produced. Every year his wives would be given one hundred Wasq: Eighty Wasq of dates and twenty of barley. When 'Umar was in charge, he divided Khaibar, and he gave the wives of the Prophet (s.a.w) the choice of having land and water allotted to them, or continuing to receive the same number of Wasq every year. They differed. Some of them chose land and water, and some of them chose to be given Wasq every year. 'Aishah and Hafsah were among those who chose land and water."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے پھلوں یا غلہ کی نصف پیداوار کے عوض خیبر کی زمین دی ، آپ ازواج مطہرات کو ہر سال سو وسق دیتے تھے ، جس میں سے اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو ہوتے تھے ۔ جب حضرت عمر خلیفہ ہوئے اور انہوں نے اموال خیبر کی تقسیم کی تو انہوں نے نبی ﷺکی ازواج کو اختیار دیا کہ وہ زمین اور پانی میں سے ایک حصہ لے لیں، یا وہ ہر سال مقررہ وسق لے لیں۔ازواج مطہرات میں اختلاف ہوا ، بعض ازواج نے زمین اور پانی کو اختیار کیا ، اور بعض نے اوساق کو اختیار کیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ ان میں سے تھیں جنہوں نے زمین اور پانی کو اختیار کیا۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِى نَافِعٌ عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنْ زَرْعٍ أَوْ ثَمَرٍ. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عَلِىِّ بْنِ مُسْهِرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فَكَانَتْ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ مِمَّنِ اخْتَارَتَا الأَرْضَ وَالْمَاءَ وَقَالَ خَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ الأَرْضَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَاءَ.

It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that Wasq every year. 'Aishah and Hafsah were among those who chose land and water." the Messenger of Allah (s.a.w) made a contract with the people of Khaibar for one half of the crops or fruit produced... and he quoted a Hadith like that of 'Ali bin Mushir, but he did not mention that 'Aishah and Hafsah were among those who chose land and water. He said: "He gave the wives of the Prophet (s.a.w) the option of having land allocated to them," but he did not mention water.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے خیبر والوں سے نصف پیداوار کے عوض عمل کرایا خواہ پھل ہوں یا غلہ ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ۔اس روایت میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما نے زمین اور پانی کو پسند کیا ، البتہ یہ ذکر ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺکی ازواج کو یہ اختیار دیا کہ وہ زمین کو اختیار کرلیں اور پانی کا ذکر نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِىُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُقِرَّهُمْ فِيهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى نِصْفِ مَا خَرَجَ مِنْهَا مِنَ الثَّمَرِ وَالزَّرْعِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا ». ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَزَادَ فِيهِ وَكَانَ الثَّمَرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ فَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْخُمُسَ.

It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said: "When Khaibar was conquered, the Jews asked the Messenger of Allah (s.a.w) to let them stay there on the basis that they would work in the fields and give him half of the fruit or crops that they yielded. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'I will let you stay there for as long as we wish."' Then he (the sub narrator) quoted a Hadith like that of Ibn Numair and Ibn Mushir from 'Ubaidullah, and he added: "The produce would be divided into shares and the Messenger of Allah (s.a.w) would take the Khums."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہود نے رسول اللہ ﷺسے سوال کیا کہ انہیں خیبر میں رہنے دیں اور وہ نصف پیداوار کے عوض خیبر میں کھیتی باڑی کریں گے خواہ غلہ ہو یا پھل ، رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: میں تم کو اس عمل پر اس وقت تک قائم رکھوں گا جب تک ہم چاہیں گے ، اس کے بعد مذکورہ بالاحدیث کی طرح ہے ، لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ خیبر سے حاصل شدہ نصف حصہ کی تقسیم کی جاتی اور رسول اللہ ﷺاس میں سے خمس لے لیتے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَطْرُ ثَمَرِهَا.

It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) gave the palm trees and land of Khaibar to the Jews of Khaibar on the basis that they would cultivate them at their own expense, and the Messenger of Allah (s.a.w) would have half of the yield.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے خیبر کے یہودیوں سے خیبر کے باغات اور خیبر کی زمین میں اس شرط سے عمل کرایا کہ وہ اس زمین میں کھیتی باڑی کریں گے ، اور اس کی نصف پیداوار رسول اللہ ﷺکو دیں گے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا وَكَانَتِ الأَرْضُ حِينَ ظُهِرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا ». فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلاَهُمْ عُمَرُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ.

It was narrated from Ibn 'Umar that 'Umar bin Al-Khattab expelled the Jews and Christians from the land of Al-Hijaz. When the Messenger of Allah (s.a.w) conquered Khaibar, he wanted to expel the Jews from it, as the land h&d come under the sway of Allah, His Messenger and the Muslims. He wanted to expel the Jews from it but the Jews asked the Messenger of Allah (s.a.w) to let them stay there on the basis that they would cultivate it, and they would have half of the yield. The Messenger of Allah (s.a.w) said to them: "We will let you stay there on that basis, for as long as we wish." And they stayed there until 'Umar expelled them to Taima' and Ariha'.

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہود و نصاری کو سر زمین حجاز سے جلاء وطن کردیا کیونکہ رسول اللہ ﷺجب خیبر پر غالب ہوئے تھے تو آپ ﷺنے یہود کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا اس لئے کہ جب آپ ﷺاس زمین پر غالب ہوگئے تو وہ زمین اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺاور مسلمانوں کے لئے ہوگئی آپ ﷺنے یہود کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو یہود نے رسول اللہ ﷺسے اس بات پر رہنے دینے کی درخواست کی کہ وہ اس زمین کی محنت کریں گے اور ان کے لئے آدھا پھل ہوگا تو رسول اللہ ﷺنے انہیں فرمایا ہم تمہیں اس بات پر جب تک چاہیں گے رہنے دیں گے وہ اس میں رہتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تیماء اور اریحاء کی طرف جلاء وطن کردیا۔

Chapter No: 2

بابُ فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ

The merit of planting the trees and cultivating the land

درخت لگانے اور کاشتکاری کرنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلاَّ كَانَ مَا أُكِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ وَمَا أَكَلَتِ الطَّيْرُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةً وَلاَ يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ ».

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'There is no Muslim who plants something but whatever is eaten of it is charity for him, and whatever is stolen from it is charity for him, and whatever the wild animals eat from it is charity for him, and whatever the birds eat from it is charity for him; no one takes anything from it but it will be charity for him."'

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس مسلمان نے کوئی پودا لگایا تو اس درخت سے جو کھایا گیا وہ اس کے لئے صدقہ ہے جو اس سے چوری کیا گیا وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہے اور جو درندوں نے کھایا وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہے، اور جو پرندوں نے کھایا وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہے اور جو آدمی اس میں سے کم کرے گا وہ اس کا صدقہ ہوجائے گا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ عَلَى أُمِّ مُبَشِّرٍ الأَنْصَارِيَّةِ فِى نَخْلٍ لَهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ». فَقَالَتْ بَلْ مُسْلِمٌ. فَقَالَ « لاَ يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلاَ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلاَ دَابَّةٌ وَلاَ شَىْءٌ إِلاَّ كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ ».

It was narrated from Jabir that the Prophet (s.a.w) entered upon Umm Mubash-shir Al-Ansariyyah among her palm trees, and the Prophet (s.a.w) said to her: "Who planted these palm trees? Was it a Muslim or a disbeliever?" She said: "A Muslim." He said: "No Muslim plants anything or cultivates anything, and humans, animals or anything eats from it, but it will be charity for him."

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺام مبشر انصاریہ کے پاس اس کے کھجور کے باغ میں تشریف لے گئے تو رسول اللہ ﷺنے اسے پوچھا: یہ کھجور کا درخت کس نے لگایا تھا؟ مسلمان نے یا کافر نے ؟ انہوں نے کہا: مسلمان نے ، آپﷺنے فرمایا: جو مسلمان بھی کوئی درخت لگاتا ہے یاکوئی کھیت لگاتا ہے ، اس درخت یا کھیت سے کوئی انسان ، یا چوپایہ یا اور کوئی کھائے تو وہ اس کا صدقہ ہوجاتا ہے ۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِى خَلَفٍ قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ يَغْرِسُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ غَرْسًا وَلاَ زَرْعًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ سَبُعٌ أَوْ طَائِرٌ أَوْ شَىْءٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ ». وَقَالَ ابْنُ أَبِى خَلَفٍ طَائِرٌ شَىْءٌ.

Jabir bin 'Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'No Muslim man plants anything or cultivates anything that a wild animal or bird or anything eats from, but he will have a reward for that."'

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیت اگاتا ہے ، اس میں سے کوئی درندہ ،کوئی پرندہ ، یا کوئی اور کھائے تو اس کو اس میں اجر ملتا ہے ، ابن ابی خلف کی روایت میں طائر شی کذا کے الفاظ ہیں۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ دَخَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى أُمِّ مَعْبَدٍ حَائِطًا فَقَالَ « يَا أُمَّ مَعْبَدٍ مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ». فَقَالَتْ بَلْ مُسْلِمٌ. قَالَ « فَلاَ يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا فَيَأْكُلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلاَ دَابَّةٌ وَلاَ طَيْرٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ صَدَقَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ».

Jabir bin 'Abdullah said: "The Prophet (s.a.w) entered upon Umm Ma'bad in her garden. He said: 'O Umm Ma'bad, who planted these palm trees? Was it a Muslim or a disbeliever?' She said: 'A Muslim.' He said: 'No Muslim plants anything that a human, animal or bird eats from, but it will be charity for him until the Day of Resurrection."'

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺحضرت ام معبد رضی اللہ عنہا کے باغ میں داخل ہوئے ۔ آپﷺنے فرمایا: اے ام معبد! کھجور کا یہ درخت کس نے لگایا ، مسلمان نے یا کافر نے؟ انہوں نے کہا: بلکہ مسلمان نے ۔آپ ﷺنے فرمایا: جو مسلمان بھی کوئی درخت لگاتا ہے اس سے کوئی انسان ، اور کوئی چوپایہ ، اور کوئی پرندہ کھائے وہ اس کا قیامت تک صدقہ ہوجاتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ. زَادَ عَمْرٌو فِى رِوَايَتِهِ عَنْ عَمَّارٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ فِى رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ فَقَالاَ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ وَفَى رِوَايَةِ ابْنِ فُضَيْلٍ عَنِ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَفِى رِوَايَةِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى مُعَاوِيَةَ قَالَ رُبَّمَا قَالَ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْ وَكُلُّهُمْ قَالُوا عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِ حَدِيثِ عَطَاءٍ وَأَبِى الزُّبَيْرِ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.

It was narrated from Al-A'mash, from Abu Sufyan, from Jabir. 'Amr added in his report from 'Ammar, and Abu Kuraib added in his report from Abu Mu'awiyah; "from Umm Mubash-shir." In the report of Ibn Fudail it says: "From the wife of Zaid bin Harithah." In the report of Ishaq from Abu Mu'awiyah it says: "Perhaps he said: 'From Umm Mubash-shir from the Prophet (s.a.w), and perhaps he did not say it." All of them said: "From the Prophet (s.a.w)," like the Hadith of 'Ata' (no. 3968), Abu Az-Zubair (no. 3969) and 'Amr bin Dinar (3971).

حضرت امام مسلم رحمہ اللہ نے چار مختلف اسناد کے ساتھ بیان کیا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، اس میں بعض راویوں نے ام مبشر کا قصہ بیان کیا اور بعض راویوں نے زید بن حارثہ کی بیوی کا قصہ بیان کیا ہے، اسحاق نے ابو معاویہ سے روایت کی کہ حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا نبی ﷺسے روایت کرتی ہیں اور تمام راویوں نے عطاء ، ابو الزبیر اور عمرو بن دینار کی طرح نبی ﷺسے روایت کیا ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِىُّ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلاَّ كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ ».

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'There is no Muslim who plants something or cultivates something that birds, humans or animals eat from, but it will be charity for him."'

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جو مسلمان بھی کوئی درخت لگاتا ہے ،یا کوئی کھیت اگاتا ہے ، اس سے کوئی پرندہ ، یا انسان ، یا کوئی جانور کھائے تو وہ اس کا صدقہ ہوجاتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ نَخْلاً لأُمِّ مُبَشِّرٍ - امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ غَرَسَ هَذَا النَّخْلَ أَمُسْلِمٌ أَمْ كَافِرٌ ». قَالُوا مُسْلِمٌ. بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

Anas bin Malik narrated that the Prophet of Allah (s.a.w) entered a garden of palm trees belonging to Umm Mubash-shir, a woman of the Ansar. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Who planted these palm trees? Was it a Muslim or a disbeliever?" They said: "A Muslim..." a Hadith like theirs (i.e., Yahya, Qutaibah, and Muhammad no. 3973).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺحضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا (انصاری عورت ) کے کھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہوئے ، رسول اللہ ﷺنے پوچھا: ان کھجوروں کے درختوں کو کس نے لگایا ہے ؟ کسی مسلمان نے یا کافر نے ؟حضرت ام مبشر رضی اللہ عنہا نے کہا: مسلمان نے ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔

Chapter No: 3

بابُ وَضْعِ الْجَوَائِحِ

Waiving of payment in the case of calamity

آفات کی وجہ سے نقصان ہونے کو وضع کرنے کا حکم

حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا ». ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلاَ يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ ؟».

It was narrated from Abu Az-Zubair that he heard Jabir bin 'Abdullah say: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If you sell some fruit to your brother then it is stricken with blight, it is not permissible for you to take anything from him. Why would you take your brother's wealth unlawfully?"'

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اگر تم اپنے بھائی کو پھل بیچ دو ، پھر ان پھلوں کو کوئی آفت لاحق ہوجائے ، تو تمہارے لیے اس سے کوئی عوض لینا جائز نہیں ہے ، تم بغیر کسی حق کے اپنے بھائی کا مال کس چیز کے عوض لوگے؟


وَحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 3975) was narrated from Ibn Juraij with this chain.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ. فَقُلْنَا لأَنَسٍ مَا زَهْوُهَا قَالَ تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ. أَرَأَيْتَكَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ.

It was narrated from Anas that the Prophet (s.a.w) forbade selling the fruit of palm trees until they bloom. We said: "What does bloom mean?'' He said: "Turning red or yellow. Do you think that if Allah withholds the fruit, would you regard your brother's wealth as permissible?"

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے کھجور کے درختوں کا پھل بنے سے اس وقت تک منع فرمایا ہےجب تک ان پر رنگ نہ آجائے ، ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : رنگ آنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: کھجوریں سرخ یا زرد ہوجائے ، یہ بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک لے تو تم اپنے بھائی کا مال کس چیز کے عوض حلال کردوگے؟


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَالِكٌ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُزْهِىَ قَالُوا وَمَا تُزْهِىَ قَالَ تَحْمَرُّ. فَقَالَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ.

It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling fruit until it bloomed. They said: "What does bloom mean?" He said: "Turning red. He said: If Allah withholds the fruit, on what basis do you regard your brother's wealth as permissible?"

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے اس وقت تک پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ ان پر رنگ نہ آجائے ، لوگوں نے عرض کیا : رنگ آنے کامطلب ہے؟ انہوں نے کہا: سرخ ہوجائیں ، جب اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک لے گا تو تم اپنے بھائی کا مال کس چیز کے عوض حلال کردوگے ؟


حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنْ لَمْ يُثْمِرْهَا اللَّهُ فَبِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ».

It was narrated from Anas that the Prophet (s.a.w) said: "If Allah, the Mighty and Sublime, did not cause the fruit (to grow), on what basis do you regard your brother's wealth as permissible?"

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ اس درخت پر پھل نہ لگائے تو پھر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کیسے حلال کرے گا؟


حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لِبِشْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ - وَهْوَ صَاحِبُ مُسْلِمٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا.

It was narrated from Jabir that the Prophet (s.a.w) enjoined waiving payments in a case where the crop was stricken by blight. Abu Ishaq said: "Ibrahim (who was the companion of Muslim) said: ''Abdur-Rahman bin Bishr narrated this to me from Sufyan."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے آفات کی وجہ سے نقصان ہونے کو وضع کرنے کا حکم دیا۔

Chapter No: 4

باب اسْتِحْبَابِ الْوَضْعِ مِنَ الدَّيْنِ

Concerning the recommendation of waiving the debts

قرض میں سے کچھ معاف کر دینے کا استحباب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ ». فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِغُرَمَائِهِ « خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلاَّ ذَلِكَ ».

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "At the time of the Messenger of Allah (s.a.w), a man suffered loss of some fruit that he had bought, and his debts mounted. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Give him charity,' and the people gave him charity, but it was not enough to pay off his debt. The Messenger of Allah (s.a.w) said to his creditors: 'Take what you find, and you are not entitled to any more than that."'

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے زمانہ میں ایک آدمی کو پھلوں میں نقصان ہوا جو اس نے خریدے تھے اور اس کا قرض زیادہ ہوگیا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اس پر صدقہ کیا لیکن یہ رقم اس کے قرض کو پورا کرنے کے برابر نہ پہنچ سکی چنانچہ رسول اللہ ﷺنے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو تم کو مل جائے وہ حاصل کرو اور تمہارے لئے صرف یہی ہے جو اس کے پاس تھا۔


حَدَّثَنِى يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 3981) was narrated from Bukhair bin Al-Ashajj with this chain.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح منقول ہے۔


وَحَدَّثَنِى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِى أُوَيْسٍ حَدَّثَنِى أَخِى عَنْ سُلَيْمَانَ - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِى الرِّجَالِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أُمَّهُ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُمَا وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِى شَىْءٍ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَيْهِمَا فَقَالَ « أَيْنَ الْمُتَأَلِّى عَلَى اللَّهِ لاَ يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ ». قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَهُ أَىُّ ذَلِكَ أَحَبَّ.

'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) heard the noise of disputants at the door, raising their voices. One of them was asking the other to let him off and show him leniency in some matter, and he was saying: 'By Allah I will not do that.' The Messenger of Allah (s.a.w) came out to them and said: 'Where is the one who swears by Allah that he will not do an act of kindness?' He said: 'Here I am, O Messenger of Allah; he may have whatever he wants."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حجرے کے دروازے پر جھگڑا کرنے والوں کی اونچی آوازیں سنیں،ان میں سے ایک قرض میں کچھ کمی اور نرمی کے لیے کہہ رہا تھا ، دوسرا کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ، رسول اللہ ﷺان دونوں کی طرف نکلے اور فرمایا: کہاں ہے وہ آدمی جو اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا تھا کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟ اس نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ! میں ہوں ، اس کو اختیار ہے یہ جو چاہے کرے۔


حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِى حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ فِى بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ « يَا كَعْبُ ». فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَأَشَارَ إِلَيْهِ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ. قَالَ كَعْبٌ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قُمْ فَاقْضِهِ ».

'Abdullah bin Ka'b bin Maiik narrated from his father that he asked Ibn Abi Hadrad to pay a debt that he owed him at the time of the Messenger of Allah (s.a.w), in the Masjid. Their voices became so loud that the Messenger of Allah (s.a.w) could hear them in his house. The Messenger of Allah (s.a.w) came out to them and lifted the curtain of his apartment, and he called Ka'b bin Malik, saying: "O Ka'b!" Ka'b said: "Here I am, O Messenger of Allah." He gestured with his hand, saying waive half of your debt. Ka'b said: "I have done that, O Messenger of Allah." The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Get up and pay off the rest."

حضرت عبد اللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہ ﷺکے زمانے میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مسجد میں تقاضا کیا ، یہاں تک ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں ، اور رسول اللہ ﷺنے ان آوازوں کو حجرے میں سن لیا۔ رسو ل اللہﷺان کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے حجرہ کا پردہ اٹھایا ، اور کعب بن مالک کو آواز دی ، اے کعب ! کعب نے کہا: یارسول اللہ ﷺ! میں حاضر ہوں ، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنے قرض میں سے آدھا کم کردو ، کعب نے عرض کیا : میں نے کردیا ، رسول اللہ ﷺنے (ابن ابی حدرد) سے فرمایا: اٹھو اور ان کا قرض ادا کردو۔


وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَقَاضَى دَيْنًا لَهُ عَلَى ابْنِ أَبِى حَدْرَدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ.

Ka'b bin Malik narrated that he asked Ibn Abi Hadrad to pay off a debt that he owed him... a Hadith like that of Ibn Wahb (3984).

حضرت عبد اللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت کعب بن مالک نے ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا ، یہ حدیث بھی مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


قَالَ مُسْلِمٌ وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِى جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ لَهُ مَالٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى حَدْرَدٍ الأَسْلَمِىِّ فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « يَا كَعْبُ ». فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا.

It was narrated from Ka'b bin Malik that he was owed money by 'Abdullah bin Abl Hadrad Al-Aslami. He met him and pressured him to pay it, and they spoke until their voices became loud. The Messenger of Allah (s.a.w) passed by them and said: "O Ka'b!" and gestured with his hand as if he was telling him, 'Half.' So he took half of what was owed him and waive the rest.

حضرت عبد اللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت کعب بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن ابی حدرد اسلمی پر ان کا کچھ مال قرض تھا ، وہ ان کو ملے تو انہوں نے ان کو پکڑلیا ، ان دونوں میں تکرار شروع ہوگئی ، اور ان کی آوازیں بلند ہوگئیں ، رسو ل اللہ ﷺکا ان کے پاس سے گزر ہوا ، آپ ﷺنے فرمایا: اے کعب! پھر آپﷺنے ہاتھ سے آدھا قرض کم کرنے کا اشارہ کیا ۔پھر کعب نے اس سے آدھا لیا ، اور آدھا چھوڑ دیا۔

Chapter No: 5

بابُ مَنْ أَدْرَكَ مَا بَاعَهُ عِنْدَ الْمُشْتَرِي وَقَدْ أَفْلَسَ فَلَهُ الرُّجُوعُ فِيهِ

If the buyer becomes bankrupt, and the seller finds the product sold intact with him, then he has the right to take it back

جو آدمی اپنی فروخت شدہ چیز دیوالیہ خریدار کے پاس پائے تو اس کے واپس لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِى أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ - « مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ - أَوْ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ - فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ ».

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said - or I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say - : 'Whoever finds his property with a man who has become bankrupt' - or 'a person who has become bankrupt - he is more entitled to it than anyone else.'"

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے سناہے : جو آدمی اپنی چیز کو بعینہ اس شخص یا انسان کے پاس پائے جو دیوالیہ ہوچکا ہو تو وہ آدمی دوسروں کی بہ نسبت اس چیز کا زیادہ حقدار ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ - ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ كُلُّ هَؤُلاَءِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِى هَذَا الإِسْنَادِ. بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ مِنْ بَيْنِهِمْ فِى رِوَايَتِهِ أَيُّمَا امْرِئٍ فُلِّسَ.

A Hadith like that of Zuhair (no. 3988) was narrated from Yahya bin Sa'eed with this chain. Ibn Rumh said in his report: "Any man who becomes bankrupt."

امام مسلم نے پانچ اسانید کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ جو آدمی دیوالیہ قرار دیا گیا ہو۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ - وَهُوَ ابْنُ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِىُّ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى ابْنُ أَبِى حُسَيْنٍ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ عَنْ حَدِيثِ أَبِى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَدِيثِ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى الرَّجُلِ الَّذِى يُعْدِمُ إِذَا وُجِدَ عِنْدَهُ الْمَتَاعُ وَلَمْ يُفَرِّقْهُ « أَنَّهُ لِصَاحِبِهِ الَّذِى بَاعَهُ ».

It was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w) concerning a man who becomes destitute, if the goods are found with him and not given away yet: "The original owner who sold them to him is more entitled to them."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا کہ جو آدمی معدوم المال (دیوالیہ) قرار دیا گیا ہو، اور اس کے پاس ایسی متاع پائی جائے جس میں تصرف نہ کیا گیا ہو، تو اس پر اس آدمی کا حق ہے جس نے اس کو بیچا تھا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ».

it was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "If a man becomes bankrupt, and a man finds his goods with him, he is more entitled to them."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جب کوئی آدمی دیوالیہ ہوجائے ،اور (دوسرا) آدمی اپنی متاع کو بعینہ اس کے پاس پائے تو وہ دوسروں کی بہ نسبت اس کا زیادہ حقدار ہے۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَيْضًا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِى أَبِى كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ وَقَالاَ « فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنَ الْغُرَمَاءِ ».

A similar report (as no. 3990) was narrated from Qatadah with this chain, but they said: "He is more entitled to it than any other creditors."

حضرت قتادہ سے بھی اسی سند سے اسی طرح مروی ہے کہ دوسروں کی بہ نسبت وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى خَلَفٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِىُّ - قَالَ حَجَّاجٌ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ - أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ عِنْدَهُ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "If a man becomes bankrupt and another man finds his goods with him, he is more entitled to them."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب کوئی آدمی مفلس (دیوالیہ) ہوجائے تو (دوسرا) آدمی اپنا سامان بعینہ اس کے پاس پائے ، تو وہ دوسروں کی بہ نسبت اس کا زیادہ حقدار ہے۔

Chapter No: 6

بابُ فَضْلِ إِنْظَارِ الْمُعْسِرِ وَالتَّجَاوُزِ فِي الْاِقْتِضَاءِ مِنَ الْمُوْسِرِ وَالْمُعْسِرِ

The merit of; giving respite to the one who is suffering difficulty, and being lenient in demand to those who are well off and who are suffering difficulty

مقروض کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « تَلَقَّتِ الْمَلاَئِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَقَالُوا أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَالَ لاَ. قَالُوا تَذَكَّرْ. قَالَ كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِى أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ - قَالَ - قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَجَوَّزُوا عَنْهُ ».

Hudhaifah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The angels took the soul of a man among those who came before you and they said: 'Did you do any good deeds?' He said: 'No.' They said: ' Try to remember.' He said: 'I used to lend money to people and I would tell my servants to give more time to those who were in difficulty and to be easy with those who were well off.' (The angel) said: Allah said (to us): 'Be easy with him."'

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم سے پہلی امتوں کا واقعہ ہے کہ فرشتوں نے ایک آدمی کی روح سے ملاقات کی اور پوچھا: کیا تم نے کوئی نیک کام کیا ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، فرشتوں نے کہا: یاد کرو، اس نے کہا: میں لوگوں کو قرض دیتا تھا ، اور اپنے نوکروں سے کہتا تھا کہ تنگ دست کو مہلت دینا اور مالدار سے درگزر کرنا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سے درگزر کرو۔


حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حُجْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِى هِنْدٍ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ وَأَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ « رَجُلٌ لَقِىَ رَبَّهُ فَقَالَ مَا عَمِلْتَ قَالَ مَا عَمِلْتُ مِنَ الْخَيْرِ إِلاَّ أَنِّى كُنْتُ رَجُلاً ذَا مَالٍ فَكُنْتُ أُطَالِبُ بِهِ النَّاسَ فَكُنْتُ أَقْبَلُ الْمَيْسُورَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمَعْسُورِ. فَقَالَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِى ». قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ.

It was narrated that Rib'i bin Hirash said: Hudhaifah and Abu Mas'ud met, and Hudhaifah said: "A man met his Lord, may He be glorified and exalted, and He said: 'What did you do?' He said: 'I did not do anything good, except that I was a rich man and I used to ask the people (to repay their debts); I would accept repayment from those who were well off, and I would let those who were in difficulty go.' He said: 'Let My slave go."' Abu Mas'ud said: "That is what I heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying."

حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابومسعود رضی اللہ عنہ جمع ہوئے تو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ایک آدمی کی اپنے رب سے ملاقات ہوئی تو اللہ نے فرمایا تم نے کیا عمل کیا ہے ؟ اس نے کہا میں نے کوئی نیک کام نہیں کیا ، البتہ میں مالدار آدمی تھا اور میں لوگوں سے اپنے مال کا مطالبہ کرتا تو مالدار سے وصول کرلیتا اور تنگ دست سے درگزر کرتا تو اللہ نے فرمایا: میرے بندے سے درگزر کرو ابومسعود نے فرمایا میں نے بھی اسی طرح رسول اللہ ﷺسے سنا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- « أَنَّ رَجُلاً مَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ فَقِيلَ لَهُ مَا كُنْتَ تَعْمَلُ قَالَ فَإِمَّا ذَكَرَ وَإِمَّا ذُكِّرَ. فَقَالَ إِنِّى كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فَكُنْتُ أُنْظِرُ الْمُعْسِرَ وَأَتَجَوَّزُ فِى السِّكَّةِ أَوْ فِى النَّقْدِ. فَغُفِرَ لَهُ ». فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Hudhaifah from the Prophet (s.a.w): "A man died and entered Paradise, and it was said to him: 'What did you use to do?' Either he remembered or was caused to remember, and he said: 'I used to enter into transactions with people, and I used to give those who were in difficulty more time and I would not be harsh when asking for repayment (from those who were well off).' So he was forgiven." Abu Mas'ud said: "I also heard it from the Messenger of Allah (s.a.w)."

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا ایک آدمی فوت ہو گیا اور جنت میں داخل ہوا تو اسے کہا گیا: تم کیا کرتے رہے، اسے یاد آیا یا یاد کرایا گیا تو اس نے کہا میں لوگوں کو مال فروخت کرتا تھا اور میں تنگ دست کو مہلت دیتا اور سکوں کے پر کھنے یا نقد میں درگزر کرتا تھا تو اس کی مغفرت کر دی گئی حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے بھی یہ رسول اللہ ﷺسے سنا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ « أُتِىَ اللَّهُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَقَالَ لَهُ مَاذَا عَمِلْتَ فِى الدُّنْيَا - قَالَ وَلاَ يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا - قَالَ يَا رَبِّ آتَيْتَنِى مَالَكَ فَكُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ وَكَانَ مِنْ خُلُقِى الْجَوَازُ فَكُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ. فَقَالَ اللَّهُ أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِى ». فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِىُّ وَأَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِىُّ هَكَذَا سَمِعْنَاهُ مِنْ فِى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated that Hudhaifah said: "One of Allah's slaves was brought before Him, to whom Allah had given wealth. He said to him: 'What did you do in the world?' - although they cannot conceal anything from Allah. He said: 'O Lord, You bestowed Your wealth upon me and I used to enter into transactions with people. It was my nature to be lenient, so I used to go easy on those who were well off and I would give more time to those who were in difficulty.' Allah said: 'I have more right to that than you; let My slave go."' 'Uqbah bin 'Amir Al-Juhani and Abu Mas'ud Al-Ansari said: "This is how we heard it from the Messenger of Allah (s.a.w)."

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس اللہ کے بندوں میں سے ایک آدمی لایا گیا ، جسے اللہ نے مال عطاء کیا تھا اللہ نے اس سے کہا: تم نے دنیا میں کیا عمل کیا ؟ او ربندے اللہ سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتے ، تو اس نے کہا: اے میرے رب! تو نے مجھے اپنا مال عطا کیا تو میں لوگوں کو بیچتا تھا ، اور درگزر کرنا میری عادت تھی ، اور میں مالدار پر آسانی کرتا ، اور تنگ دست کو مہلت دیتا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اس کا تجھ سے زیادہ حقدار ہوں اور میرے بندےسے درگزر کرو۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے بھی رسول اللہ ﷺکے دہن مبارک سے اسی طرح سنا ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ شَىْءٌ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ يُخَالِطُ النَّاسَ وَكَانَ مُوسِرًا فَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ تَجَاوَزُوا عَنْهُ ».

It was narrated that Abu Mas'ud said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'A man among those who came before you was brought to account, and he was not found to have done anything good, except that he used to mix with people, and he was well off. He would tell his slaves to let those go who were in difficulty. Allah, may He be exalted, said: We have more right to that than him; let him go."'

حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم سے پہلے والوں میں سے ایک آدمی کا حساب لیا گیا، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں پائی گئی ماسوائے اس کے کہ وہ لوگوں میں گھل مل کر رہتا تھا،اور وہ مالدار آدمی تھا اور اپنے غلاموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں اوراللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم اس سے زیادہ درگزر کرنے کے حقدار ہیں، تم بھی اس سے درگزر کرو۔


حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِى مُزَاحِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ - قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا. فَلَقِىَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "A man used to lend money to the people, and he used to say to his slaves: 'If you come to one who is in difficulty, let him go; perhaps Allah will let us go. When he met Allah, He let him go."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنےفرمایا: ایک آدمی لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے غلام سے کہتا کہ جب تم کسی تنگ دست کے پاس جاؤ تو اس سے درگزر کرنا شاید اللہ ہم سے درگزر کرے، جب اس کی اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر کرلیا۔


حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ. بِمِثْلِهِ.

Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say..." a similar report (as no. 3998).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنےفرمایا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْهَيْثَمِ خَالِدُ بْنُ خِدَاشِ بْنِ عَجْلاَنَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ فَتَوَارَى عَنْهُ ثُمَّ وَجَدَهُ فَقَالَ إِنِّى مُعْسِرٌ. فَقَالَ آللَّهِ قَالَ آللَّهِ. قَالَ فَإِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللَّهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ ».

It was narrated from 'Abdullah bin Abi Qatadah that Abu Qatadah asked a debtor to pay him back, and he hid from him. Then he found him and he said: "I am in difficulty." He said: "By Allah?" He said: "By Allah." He said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Whoever would like Allah to save him from the hardships of the Day of Resurrection, let him give respite to the one who is in difficulty, or let him go."'

حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ایک قرض دار سے قرض کا مطالبہ کیا تو وہ ان سے چھپ گیا پھر اسے ملے تو اس نے کہا میں تنگ دست ہوں، ابو قتادہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس نے کہا: اللہ کی قسم! ابوقتادہ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا آپ ﷺفرماتے تھے جس کو یہ پسند ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دے تو اس کو چاہیے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 4000) was narrated from Ayyub with this chain.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح منقول ہے۔

Chapter No: 7

بابُ تَحْرِيمِ مَطْلِ الْغَنِيِّ وَصِحَّةِ الْحَوَالَةِ وَاسْتِحْبَابِ قَبُولِهَا إِذَا أُحِيلَ عَلَى مَلِيٍّ

It is forbidden for a rich man to delay the payment of debt, and validity of Al-Hawalah (transferring of debts), and it is recommended to accept the transfer of debts if it is transferred to a rich man

مالدار کا ٹال مٹول کر نے کی حرمت اور حوالہ کا جواز اور جب قرض مالدار پر اتارا جائے تو اس کے قبول کر نے کا استحباب

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ. أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَطْلُ الْغَنِىِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِىءٍ فَلْيَتْبَعْ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "For a rich man to delay repayment is wrongdoing, and if the debt of one of you is transferred to a rich man, let him accept it."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: (قرض کی ادائیگی میں) مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تمہارا قرض کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسی سے مانگنا چاہیے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 4002) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w).

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسی طرح مروی ہے۔

Chapter No: 8

بابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلاَةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلإِ وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ

About; the forbiddance of selling excess water in wilderness while it is required for taking care of herbage, the forbiddance of preventing people from using it, and forbiddance of taking fee for providing stud

جنگلات کے زائد پانی کی بیع کی حرمت جبکہ لوگوں کو گھاس چرانے کے لیے اس کی ضرورت ہو اور اس سے روکنے کی حرمت اور جفتی کرانے کی بیع کی حرمت کا بیان

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling surplus water."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے زائد پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ وَعَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَالأَرْضِ لِتُحْرَثَ. فَعَنْ ذَلِكَ نَهَى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم-.

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade stud fees for camels, and selling water and land for tilling. The Messenger of Allah (s.a.w) forbade that."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے اونٹ کی جفتی کی بیع ، اور پانی اور کاشتکاری کے لیے زمین کی بیع سے منع فرمایا ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلأُ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Surplus water should not be withheld so as to prevent the growth of greenery."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنےفرمایا: زائد پانی سے منع نہ کیا جائے تاکہ اس کی وجہ سے گھاس کو بھی روک دیا جائے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَاءِ لِتَمْنَعُوا بِهِ الْكَلأَ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not withhold surplus water so as to prevent the growth of greenery."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زائد پانی سے منع نہ کرو تاکہ اس کے ذریعہ گھاس کو روکو۔


وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُسَامَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يُبَاعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُبَاعَ بِهِ الْكَلأُ ».

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Surplus water should not be sold as if selling greenery."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: زائد پانی کی خرید و فروخت نہ کرو تاکہ اس کے ذریعہ گھاس کی بیع کی جائے۔

Chapter No: 9

بابُ تَحْرِيمِ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَالنَّهْيِ عَنْ بَيْعِ السِّنَّوْرِ

About the forbiddance of; a dog’s price, the fee of a foreteller, the earnings of a prostitute, and selling of a cat

کتے کی قیمت ، فاحشہ اور نجومی کی اجرت، اور بلی کی بیع کا حرام ہونا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ الأَنْصَارِىِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِىِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ ».

It was narrated from Abu Mas'ud Al-Ansari that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade the price of a dog, the payment of a prostitute, and the fee of a fortuneteller.

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے کتے کی قیمت ، اور فاحشہ کی اجرت ، اور کاہن کی مٹھائی سے منع فرمایا ہے ۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ. وَفِى حَدِيثِ اللَّيْثِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ.

A similar report (as no. 4009) was narrated from Az-Zuhri with this chain.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت ہے اور ابن رمح کی روایت ہے کہ انہوں نے ابو مسعود سے سنا ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « شَرُّ الْكَسْبِ مَهْرُ الْبَغِىِّ وَثَمَنُ الْكَلْبِ وَكَسْبُ الْحَجَّامِ ».

It was narrated that Rafi' bin Khadij said: "I heard the Prophet (s.a.w) say: 'The worst of earnings are the payment of a prostitute, the price of a dog and the fee of a cupper.'"

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: سب سے بری کمائی فاحشہ کی اجرت ، کتے کی قیمت ، اور سینگی لگانے والے کی اجرت ہے ۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ حَدَّثَنِى إِبْرَاهِيمُ بْنُ قَارِظٍ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ حَدَّثَنِى رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ وَمَهْرُ الْبَغِىِّ خَبِيثٌ وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ ».

Rafi' bin Khadij narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The price of a dog is evil, the payment of a prostitute is evil and the earnings of a cupper are evil."

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کتے کی قیمت خبیث ہے ، فاحشہ کی کمائی خبیث ہے ، اور سینگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 4012) was narrated from Yahya bin Abi Kathir with this chain.

ایک اور سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث کی طرح منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ حَدَّثَنِى إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

Rafi' bin Khadij narrated a similar report (as no. 4012) from the Messenger of Allah (s.a.w).

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺسے مذکورہ بالا حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں۔


حَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ قَالَ زَجَرَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ.

It was narrated that Abu Az-Zubair said: "I asked Jabir about the price of dogs and cats." He said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade that."

ابو زبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کتے اور بلی کی قیمت کے حوالے سے سوال کیا ، انہوں نے کہا: کہ نبی ﷺنے اس سے روکا ہے۔

Chapter No: 10

بابُ الأَمْرِ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ اقْتِنَائِهَا إِلاَّ لِصَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ

About the command to kill dogs and its abrogation and the forbiddance of keeping them except for; hunting, farming, herding livestock or the like

کتوں کے قتل کا حکم ، پھر اس کے منسوخ ہونے کا بیان ،اور اس امر کا بیان کہ کتے کا پالنا حرام ہے ، مگر شکار یا کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے یا ایسے ہی اور کسی کام کے لیے کتا رکھنا جائز ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) ordered that dogs be killed.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے کتوں کو قتل کرنے کاحکم دیا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِقَتْلِ الْكِلاَبِ فَأَرْسَلَ فِى أَقْطَارِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُقْتَلَ.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) ordered that dogs be killed, and he sent word to all quarters of Al-Madinah saying that they should be killed."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے کتوں کو قتل کرنے کاحکم دیا، اور مدینہ کے اطراف میں کتوں کو قتل کرنے کے لیے آدمی روانہ کیے۔


وَحَدَّثَنِى حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ - يَعْنِى ابْنَ الْمُفَضَّلِ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ أُمَيَّةَ - عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ فَنَنْبَعِثُ فِى الْمَدِينَةِ وَأَطْرَافِهَا فَلاَ نَدَعُ كَلْبًا إِلاَّ قَتَلْنَاهُ حَتَّى إِنَّا لَنَقْتُلُ كَلْبَ الْمُرَيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَتْبَعُهَا.

It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar .said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to order that dogs be killed, and I went throughout Al-Madinah, and we did not spare any dog but we killed it, to such an extent that we would even kill the dog of a woman belonging to the desert people."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے کتوں کو قتل کرنے کاحکم دیتے تھے ، پھرمدینہ اور اس کے اطراف میں کتوں کا پیچھا کیا گیا اور ہم نے مارے بغیر کوئی کتا نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ دیہاتیوں کی اونٹنی کے ساتھ جو کتا ہوتا تھا ا سکو بھی مار ڈالا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ كَلْبَ غَنَمٍ أَوْ مَاشِيَةٍ. فَقِيلَ لاِبْنِ عُمَرَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّ لأَبِى هُرَيْرَةَ زَرْعًا.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) enjoined the killing of dogs, except dogs for hunting, and dogs for herding sheep or livestock. It was said to Ibn 'Umar: "Abu Hurairah says: 'Or farm dogs.' Ibn 'Umar said: 'Abu Hurairah had farmland.'"

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ، ماسوائے شکاری کتے اور بکریوں یا مویشیوں کی حفاظت کے کتے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کھیت کے کتے کا بھی استثناء کرتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھیت ہے ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِقَتْلِ الْكِلاَبِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ ثُمَّ نَهَى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ « عَلَيْكُمْ بِالأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِى النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ».

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) ordered us to kill dogs, and even if a woman came from the desert with her dog, we would kill it. Then the Prophet (s.a.w) forbade killing them, and said: 'You should kill the dark black (dog) with two (white) spots (above its eyes), for it is a devil."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ کوئی عورت دیہات سے اپنا کتا لیکر آتی تو ہم اس کتے کو بھی قتل کردیتے ، پھر نبی ﷺنے اس کتےکو قتل کرنے سے منع کردیا ، اور فرمایا : اس کالے سیاہ کتے کو قتل کردو جو دو نقطے والا ہو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى التَّيَّاحِ سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ الْمُغَفَّلِ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِقَتْلِ الْكِلاَبِ ثُمَّ قَالَ « مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلاَبِ ». ثُمَّ رَخَّصَ فِى كَلْبِ الصَّيْدِ وَكَلْبِ الْغَنَمِ.

It was narrated that Ibn al-Mughaffal said: "The Messenger of Allah (s.a.w) enjoined the killing of dogs, then he said: 'What is the problem with them and dogs?' Then he granted a concession with regard to dogs for hunting and herding sheep.''

حضرت ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ، پھر فرمایا: کتے لوگوں کو کیا تکلیف دیتے ہیں ، پھر آپﷺنے شکاری کتے اور بکریوں کے کتوں کی اجازت دی۔


وَحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِى ابْنَ الْحَارِثِ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِى حَدِيثِهِ عَنْ يَحْيَى وَرَخَّصَ فِى كَلْبِ الْغَنَمِ وَالصَّيْدِ وَالزَّرْعِ.

It was narrated from Shu'bah (a Hadith similar to no. 4021, with a different chain of narrators) with this chain. Ibn Hatim said in his Hadith from Yahya: He (s.a.w) granted a concession with regard to dogs for herding sheep, hunting and (guard dogs) in farms.

حضرت امام مسلم رحمہ اللہ مختلف سندوں کے ساتھ حضرت ابن مغفل کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے بکریوں کے کتوں ، شکار کے کتوں اور کھیت کے کتوں کی اجازت دی۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارِى نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ».

It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever keeps a dog except a dog for herding livestock or hunting, two Qirat will be deducted from his reward every day."'

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی نے جانوروں کی حفاظت کے کتے یا شکاری کتے کے سوا کوئی کتا رکھا اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ».

It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever keeps a dog, except a dog for hunting or herding livestock, two Qirat will be deducted from his reward every day."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی نےشکاری کتےیا جانوروں کی حفاظت کے کتےکے سوا کوئی کتا رکھا اس کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهْوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ ضَارِيَةٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ».

It was narrated from 'Abdullah bin Dinar that he heard Ibn 'Umar say: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever keeps a dog, except a dog for hunting or herding livestock, two Qirat will be deducted from his (good) deeds every day."'

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی نےشکاری کتےیا جانوروں کی حفاظت کے کتےکے سوا کوئی کتا رکھا اس کے عمل سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ مُحَمَّدٍ - وَهُوَ ابْنُ أَبِى حَرْمَلَةَ - عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ». قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ « أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ ».

It was narrated from Salim bin 'Abdullah, from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever keeps a dog except a dog for guarding livestock or a hunting dog, a Qirat will be deducted from his (good) deeds every day." 'Abdullah said: And Abu Hurairah said: "Or a farm dog."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی نےجانوروں کی حفاظت یا شکاری کتے کے سوا کوئی کتا رکھا اس کے عمل سے ہر روز دو قیراط کم ہوتے رہیں گے ، اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہاکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اور کھیتی کا کتا۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِى سُفْيَانَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ ضَارٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ». قَالَ سَالِمٌ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ « أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ ». وَكَانَ صَاحِبَ حَرْثٍ.

It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever keeps a dog, except a dog for hunting or herding livestock, two Qirat will be deducted from his (good) deeds every day." Salim said: And Abu Hurairah used to say, "Or a farm dog," and he owned farmland.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی نے شکاری کتے ، یا حفاظت والے کتےکے علاوہ اور کوئی کتا رکھا اس کے عمل سے روزانہ دو قیراط کم ہوتے رہیں گے ، راوی سالم نے کہا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے : یا کھیت کی حفاظت کا کتا ، اور وہ کھیتی باڑی کرتے تھے ۔


حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَيُّمَا أَهْلِ دَارٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ كَلْبَ صَائِدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ».

Salim bin 'Abdullah narrated that his father said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Any household that keeps a dog, except a dog for herding livestock or a dog for hunting, two Qirat will be deducted from their (good) deeds, every day."'

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: اہل خانہ میں سے جس نے بھی مویشیوں کے کتے یا شکاری کتوں کے علاوہ کوئی کتا رکھا ان کے اعمال سے روزانہ دو قیراط کم ہوتے رہیں گے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ زَرْعٍ أَوْ غَنَمٍ أَوْ صَيْدٍ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ».

It was narrated that Abul-Hakam said: I heard Ibn 'Umar narrating that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever keeps a dog, except a (guard) dog in farming, herding sheep or hunting, one Qirat will be deducted from his reward every day."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جس آدمی نے کھیت یا بکریوں یا شکار کے کتوں کے سوا اور کوئی کتا رکھا اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا رہے گا۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ وَلاَ مَاشِيَةٍ وَلاَ أَرْضٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ كُلَّ يَوْمٍ ». وَلَيْسَ فِى حَدِيثِ أَبِى الطَّاهِرِ « وَلاَ أَرْضٍ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever keeps a dog that is not a dog for hunting, livestock or land, two Qirat will be deducted from his reward every day."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی نے شکار، مویشی اور زمین کے علاوہ کتا رکھا اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کم ہوتے رہیں گے ، ابو الطاہر کی روایت میں زمین کا لفظ نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ». قَالَ الزُّهْرِىُّ فَذُكِرَ لاِبْنِ عُمَرَ قَوْلُ أَبِى هُرَيْرَةَ فَقَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ صَاحِبَ زَرْعٍ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever acquires a dog that is not a dog for herding livestock, hunting or (guard dog) in farms, one Qirat will be deducted from his reward every day."' Az-Zuhri said: "The words of Abu Hurairah were mentioned to Ibn 'Umar and he said: 'May Allah have mercy on Abu Hurairah, he owned farmland."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی نے مویشی، شکار یا کھیت کے سوا کوئی کتا رکھا ، اس کے اجر سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا رہے گا۔امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی گئی تو انہوں نے فرمایا: اللہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، وہ کھیت والے تھے۔


حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ إِلاَّ كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever keeps a dog, one Qirat will be deducted from his (good) deeds every day, except a (guard) dog in farms or herding livestock."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے کتا رکھا اس کے عمل سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا رہے گا ماسوائے کھیت یا مویشی کے کتے کے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ أَبِى كَثِيرٍ حَدَّثَنِى أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِى أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

Abu Hurairah narrated a similar report (as no . 4032) from the Messenger of Allah (s.a.w).

ایک اور سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى كَثِيرٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Yahya bin Abi Kathir narrated a similar report (as no. 4032) with this chain.

ایک اور سند سےبھی اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ - يَعْنِى ابْنَ زِيَادٍ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَزِينٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ وَلاَ غَنَمٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ».

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever acquires a dog that is not a dog for hunting or herding sheep, one Qirat will be deducted from his (good) deeds every day.'"

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی نے شکاری کتے ، اور بکریوں کی حفاظت کے سوا کوئی اور کتا رکھا اس کے عمل سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا رہے گا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِى زُهَيْرٍ - وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ شَنُوءَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لاَ يُغْنِى عَنْهُ زَرْعًا وَلاَ ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ». قَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ إِى وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ.

As-Sa'ib bin Yazid narrated that he heard Sufyan bin Abi Zuhair, who was a man of Shanu'ah and one of the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w), say: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "Whoever keeps a dog that is not used in the farm or herding livestock, one Qirat will be deducted from his good deeds every day." He said: "Did you hear that from the Messenger of Allah (s.a.w)?" He said: "Yes, by the Lord of this Masjid."

حضرت سفیان بن ابی زہیر (یہ قبیلہ شنوۃ کے تھے اور رسول اللہ ﷺکے صحابی تھے) وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی ایسا کتا رکھے جو کھیت یا مویشیوں کی حفاظت کا نہ ہو، اس کے عمل سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا رہے گا۔ راوی نے حضرت سفیان سے پوچھا: کیا تم نے خود رسول اللہ ﷺسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ، اس مسجد کے رب کی قسم!۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ أَخْبَرَنِى السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِى زُهَيْرٍ الشَّنَئِىُّ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

As-Sa'ib bin Yazid narrated that Sufyan bin Abi Zuhair Ash-Shana'i came to them and said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said..." a similar report (as Hadith no. 4036).

حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ رسو ل اللہ ﷺسے اس حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں۔

123Last ›