Sayings of the Messenger

 

123

Chapter No: 1

باب إِبْطَالِ بَيْعِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ

Regarding invalidity of Al-Mulamasah and Al-Munabadhah transactions

بیع ملامسہ اور منابذہ کا ابطال

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade Mulamasah (a transaction which becomes obligatory due to touching of cloth by both parties without monitoring) and Munabadhah (a transaction which becomes obligatory when cloth is thrown to each other by both parties) transactions.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔ (ملامسہ کی تعریف: فریقین میں سے ہر ایک دوسرے کے کپڑے کو غور کیے بغیر ہاتھ لگادے تو بیع لازم ہوجائے گی۔ منابذہ کی تعریف: فریقین میں سے ہر ایک دوسرے کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے ، اور محض پھینک دینے سے ہی بیع لازم آجائے ۔)


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 3801) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w) (with a different chain of narrators).

ایک اور سند سے بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 3801) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w) (with a different chain of narrators).

ایک اور سند سے بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 3801) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w).

ایک اور سند سے بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ نُهِىَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ. أَمَّا الْمُلاَمَسَةُ فَأَنْ يَلْمِسَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِغَيْرِ تَأَمُّلٍ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَهُ إِلَى الآخَرِ وَلَمْ يَنْظُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا إِلَى ثَوْبِ صَاحِبِهِ.

It was narrated from Abu Hurairah that he said: "Two kinds of transaction were forbidden: Mulamasah and Munabadhah. Mulamasah is when each person touches (Yalmis) the garment of his companion without examining it further, and Munabadhah is when each person throws (Yanbidh) his garment to the other, and neither of them examines the garment of the other."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں دو قسم کی خرید و فروخت سے منع کیا گیا ہے ، ایک ملامسہ ، دوسری منابذہ سے ، ملامسہ سے مراد یہ ہے کہ فریقین میں سے ہر ایک دوسرے کے کپڑے کو غور کیے بغیر ہاتھ لگادے اور بیع لازم ہوجائے۔اور منابذہ سے مراد یہ ہے کہ فریقین میں سے ہر ایک دوسرے کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے اور فریقین میں سے کوئی بھی دوسرے کے کپڑے کو نہ دیکھے اور بیع لازم آجائے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَلِبْسَتَيْنِ نَهَى عَنِ الْمُلاَمَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ فِى الْبَيْعِ. وَالْمُلاَمَسَةُ لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ وَلاَ يَقْلِبُهُ إِلاَّ بِذَلِكَ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ وَيَنْبِذَ الآخَرُ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ وَيَكُونُ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا مِنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلاَ تَرَاضٍ.

Abu Sa'eed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade two kinds of sales and two kinds of dressing to us. He forbade Mulamasah and Munabadhah transactions. Mulamasah is when a man touches the garment of another with his hand, by night or by day, and he does not examine it any more than that. Munabadhah is when a man throws his garment to another man, and the other man throws his garment to him, and this is how the transaction is done, without examining and without being pleased (with the item)."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے دو قسم کی بیع کرنے اور دو نوع کے لباس پہننے سے منع فرمایا ہے ۔ آپﷺنے بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا ہے ۔ اور بیع ملامسہ یہ ہے :کہ فریقین میں سے ہر ایک دوسرے کے کپڑے کو دن یا رات میں مس کرے اور اس کپڑے کوصرف بیع کے ارادے سے پلٹ دے ۔ اور بیع منابذہ یہ ہے : فریقین میں سے ہر ایک اپنے کپڑے کو دوسرے کی طرف پھینک دے اورمحض اس کپڑے کو پھینک دینے سے ہی دونوں کی بیع ہو جائے گی نہ کوئی دوسرے کا کپڑا دیکھے ، اور نہ رضامندی کا اظہار کرے۔


وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Ibn Shihab (a Hadith similar to no. 3806 with a different chain of narrators).

ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔

Chapter No: 2

باب بُطْلاَنِ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَالْبَيْعِ الَّذِي فِيهِ غَرَرٌ

The invalidity of Al-Hasah transaction (which involves throwing of stones) and transactions involving vagueness

کنکری پھینکنے اور دھوکے کی بیع کے باطل ہونے کا بیان

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِى أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade Hasah transactions and transactions involving deception

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے کنکری پھینکنے کی بیع اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

Chapter No: 3

باب تَحْرِيمِ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ

About the prohibition of Habl Al- Habalah transaction (selling the fetus of an unborn she camel)

حمل کے بیع کی ممانعت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ.

It was narrated from 'Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling Habl Al-Habalah.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حاملہ (جانور) کے حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے۔


حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَايَعُونَ لَحْمَ الْجَزُورِ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ. وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ ثُمَّ تَحْمِلَ الَّتِى نُتِجَتْ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ ذَلِكَ.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "During the Jahiliyyah, people used to sell the meat of camels up to Habl Al-Habalah. Habl Al-Habalah means that the she-camel gives birth, then the one that she bore becomes pregnant. The Messenger of Allah (s.a.w) forbade that."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اونٹ کا گوشت حاملہ کے حمل تک فروخت کرتے تھے ۔ اور حاملہ کے حمل سے یہ مراد ہے : کہ اونٹنی سے ایک اونٹنی پیدا ہو، پھر بڑی ہوکر یہ اونٹنی حاملہ ہو ، رسول اللہ ﷺنے اس بیع سے منع فرمادیا۔

Chapter No: 4

باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَسَوْمِهِ عَلَى سَوْمِهِ وَتَحْرِيمِ النَّجْشِ وَتَحْرِيمِ التَّصْرِيَةِ

The forbiddance from: entering into a transaction on which one’s brother has already entered, offering a rate upon the rate of one’s brother, artificially inflating the prices, and retaining milk in the udder (in order to deceive)

آدمی کا اپنے بھائی کی بیع پر بیع ، اور اس کے نرخ پر نرح کرنے کی حرمت ، اور دھوکہ دینے اور تھنوں میں دودھ روکنے کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Do not urge a buyer to cancel a purchase in order to sell him your own goods."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی دوسرے آدمی کی بیع پر بیع نہ کرے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلاَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "No man should urge a buyer to cancel a purchase with his brother in order to sell him his own goods; or propose marriage to a woman to whom his brother has already proposed, unless he gives him permission."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے ، اور کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کرے ، مگر اس کی اجازت سے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنِ الْعَلاَءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَسُمِ الْمُسْلِمُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "No Muslim should urge a seller to cancel a sale to another Muslim that is already agreed upon so as to buy the goods himself."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کوئی مسلمان اپنے بھائی کے ریٹ پر ریٹ نہ لگائیے۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنِى عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْعَلاَءِ وَسُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِىٍّ - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى أَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ. وَفِى رِوَايَةِ الدَّوْرَقِىِّ عَلَى سِيمَةِ أَخِيهِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade a man to urge someone to cancel a sale already agreed upon so that he can buy the goods himself.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ لگانے سے منع فرمایا ہے ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ لِبَيْعٍ وَلاَ يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلاَ تَنَاجَشُوا وَلاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلاَ تُصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Do not go out to intercept the riders for trade, do not urge a buyer to cancel a purchase already agreed upon in order to sell him your own goods, do not artificially inflate prices; no town-dweller should sell on behalf of a Bedouin; and do not let milk accumulate in the udders of camels and sheep. Whoever buys them after that, he has the choice between two things, after he milks them: if he likes, he may keep them, and if he likes, he may return them along with a Sa' of dates."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: (تجارتی ) قافلہ (کے شہر پہنچنے سے قبل اس ) سے خرید و فروخت کے لیے نہ ملو۔اور تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے، اور آپس میں نجش نہ کرو(یعنی بغیر ارادہ خریداری کے بولی چڑھانا )، اور شہری دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے ، اور اونٹنی یا بکری کے تھنوں میں دودھ نہ روکو، اور اگر کوئی آدمی ایسے جانور کو خریدے تو اس کا دودھ دوہنے کے بعد اس کو دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہے ،اگر وہ جانور اس کو پسند ہے تو اسی قیمت پر رکھ لے ، اور اگر پسند نہیں ہے تو جانور واپس کردے ، اور (دودھ کے بدلے میں) ایک صاع (دو کلو اور پنتیس گرام )کھجوریں واپس کرے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِىٍّ - وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ - عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ التَّلَقِّى لِلرُّكْبَانِ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَأَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا وَعَنِ النَّجْشِ وَالتَّصْرِيَةِ وَأَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade intercepting the riders, and he forbade town-dwellers to sell on behalf of Bedouin, (and he forbade) a woman to ask for the divorce of her sister, (and he forbade) artificial inflation of prices and allowing milk to accumulate in the udders, (and he forbade) a man from urging a seller to cancel a sale already agreed upon with his brother, so as to buy the goods himself.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے منع فرمایا کہ تجارتی قافلہ سے (شہر پہنچنے سے پہلے ) ملنے سے ،اور شہری دیہاتی سے خریدو فروخت کرنے سے ، اور یہ کہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا سوال کرے ، اور نجش (یعنی بغیر ارادہ خریداری کے بولی چڑھانے) سے منع فرمایا ، اور تھنوں میں دودھ روکنے سے ، اور اپنے بھائی کے ریٹ پر ریٹ لگانے سے ۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِى قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ. فِى حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَوَهْبٍ نُهِىَ. وَفِى حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى. بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ.

Shu'bah narrated with this chain (a Hadith similar to no. 3816) that - according to the Hadith of Ghundar and Wahb, "it was forbidden;" and according to the Hadith of' Abdus-Samad; "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade..." a Hadith like that of Mu'adh from Shu'bah.

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے ،


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ النَّجْشِ.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade artificial inflation of prices.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے نجش (یعنی بغیر ارادہ خریداری کے بولی چڑھانے) سے منع فرمایا ہے ۔

Chapter No: 5

باب تَحْرِيمِ تَلَقِّي الْجَلَبِ

The prohibition of intercepting traders (before reaching the market)

آگے بڑھ کر تاجروں سے ملنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى زَائِدَةَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِى ابْنَ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى أَنْ تُتَلَقَّى السِّلَعُ حَتَّى تَبْلُغَ الأَسْوَاقَ. وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ نُمَيْرٍ. وَقَالَ الآخَرَانِ إِنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ التَّلَقِّى.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade intercepting traders until they reach the markets with their goods. This is the wording of Ibn Numair.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے سودا بیچنے والوں سے ملنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ خود بازار نہ پہنچ جائیں۔یہ الفاظ ابن نمیر کی روایت کے ہیں اور دوسرے راویوں نے یہ کہا: کہ نبی ﷺنے ملنے سے منع فرمایا ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ مَهْدِىٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.

A Hadith like that of Ibn Numair (no. 3819) from 'Ubaidullah was narrated from Ibn 'Umar from the Prophet (s.a.w).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالاحدیث کی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ عَنِ التَّيْمِىِّ عَنْ أَبِى عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ نَهَى عَنْ تَلَقِّى الْبُيُوعِ.

It was narrated from 'Abdullah from the Prophet (s.a.w) that he forbade intercepting people with their goods before they reached the market.

حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے سوداگروں سے (آگے جاکر ) ملنے سے منع فرمایا ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade intercepting incoming merchants."

حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے سوداگروں سے (آگے جاکر ) ملنے سے منع فرمایا ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى هِشَامٌ الْقُرْدُوسِىُّ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَلَقَّوُا الْجَلَبَ. فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ ».

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not intercept incoming merchants. Whoever intercepts them and buys from them, when the owner of the merchandise reaches the market, he has the choice."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سودا بیچنے والوں سے (آگے جاکر ) نہ ملو،جس نے آگے جاکر سودا خرید لیا ، پھر سودے کا مالک بازار گیا ( اور اس کو بازار کا ریٹ معلوم ہوگیا ) تو اس کو (بیع فسخ کرنے ) کا اختیار ہے۔

Chapter No: 6

باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي

About the prohibition of transaction made by a town-dweller on behalf of a Bedouin

شہری کو دیہاتی کا مال فروخت کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ». وَقَالَ زُهَيْرٌ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet ~ said: "No town-dweller should sell on behalf of a Bedouin." Zuhair said: "It was narrated from the Prophet (s.a.w) that he forbade town-dwellers to sell on behalf of Bedouins."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: شہری دیہاتی سے بیع نہ کرے ، اور زہیر کی روایت میں ہے کہ نبیﷺنے شہری کو دیہاتی کے ساتھ خرید وفروخت کرنے سے منع فرمایا۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ تُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ. قَالَ فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا.

It was narrated from Ibn Tawus, from his father, from Ibn 'Abbas who said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade intercepting the riders, and for a town dweller to sell on behalf of a Bedouin." He said: "I said to Ibn 'Abbas: 'What does it mean, "for a town dweller to sell on behalf of a Bedouin?" He said: 'He should not act as a broker for him."'

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے سواروں کو ملنے سے منع فرمایا (یعنی تجارتی قافلہ کے شہر پہنچنے سے قبل اس سے بیع کرنے سے منع فرمایا) اور شہری کو دیہاتی کے ساتھ خریدوفروخت کرنے سے منع فرمایا۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ شہری کو دیہاتی کی بیع سے ممانعت کا کیا مطلب؟انہوں نے کہا: اس کادلال نہ بنے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ح. وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقِ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ ». غَيْرَ أَنَّ فِى رِوَايَةِ يَحْيَى « يُرْزَقُ ».

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'A town-dweller should not sell on behalf of a Bedouin. Let the people be, and Allah will provide for them by means of one another."'

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: شہری دیہاتی سے بیع نہ کرے ، لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ بعض کو بعض کے ذریعے رزق دیتا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 3826) was narrated from Jabir, from the Prophet (s.a.w).

ایک اور سند سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حسب سابق مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ. وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "We were forbidden that a town-dweller should sell on behalf of a Bedouin, even if he was his brother or father."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں اس چیز سے منع کیا گیا ، کہ شہری دیہاتی سے خرید وفروخت کرے خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد ہو۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ ح. وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ نُهِينَا عَنْ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ.

Anas bin Malik said: "We were forbidden that a town-dweller should sell for a Bedouin."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں اس چیز سے منع کیا گیا ، کہ شہری دیہاتی سے خرید وفروخت کرے ۔

Chapter No: 7

باب حُكْمِ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ

The rulings on the sale of Al-Musarrah (an animal in whose udder milk has been allowed to accumulate)

بیع مصراۃ کا حکم

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَلْيَنْقَلِبْ بِهَا فَلْيَحْلُبْهَا فَإِنْ رَضِىَ حِلاَبَهَا أَمْسَكَهَا وَإِلاَّ رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger .of Allah (s.a.w) said: 'Whoever buys a sheep in whose udder milk has been allowed to accumulate, let him take it and milk it. If he is pleased with its milk, he may keep it, otherwise he may return it along with a Sa' of dates."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی ایسی بکری خریدے جو مصراۃ ہو (یعنی ایسی بکری جس کا دودھ تھنوں میں کئی دنوں سے روک دیا گیا ہو) پھر لے جاکر اس کا دودھ نکالے ، پھر اگر اس کو دودھ (کی مقدار) پسند آجائے تو اس کو رکھ لے ورنہ اس کو واپس کردے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىَّ - عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ ابْتَاعَ شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ فِيهَا بِالْخِيَارِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever buys a sheep in whose udder milk has been allowed to accumulate, has the choice for three days: if he wishes he may keep it, or if he wishes he may return it along with a Sa' of dates."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے مصراۃ بکری (یعنی ایسی بکری جس کا دودھ تھنوں میں کئی دنوں سے روک دیا گیا ہو) خریدی ، اس کو تین دن تک اس کا اختیار ہے کہ چاہے تو اس بکری کو رکھ لے اور چاہے تو اس کو واپس کردے ، اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی لوٹادے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِى رَوَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ - يَعْنِى الْعَقَدِىَّ - حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لاَ سَمْرَاءَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever buys a sheep in whose udder milk has been allowed to accumulate has the choice for three days. If he returns it he should give a Sa' of food along with it, but not wheat."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے مصراۃ بکری (یعنی ایسی بکری جس کا دودھ تھنوں میں کئی دنوں سے روک دیا گیا ہو) خریدی ، اس کو تین دن تک اختیار ہے ، اگر وہ اس کو واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھانا بھی دے ، گندم ضروری نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لاَ سَمْرَاءَ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever buys a sheep in whose udder milk has been allowed to accumulate has the choice of two things: If he wishes he may keep it, and if he wishes he may return it, along with a Sa' of dates, but not wheat."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے مصراۃ بکری (یعنی ایسی بکری جس کا دودھ تھنوں میں کئی دنوں سے روک دیا گیا ہو) خریدی ، اس کو دو باتوں کا اختیار ہے ، اگر چاہے تو اس بکری کو رکھ لے اور اگر چاہے تو اس بکری کو واپس کردے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے ، گندم دینا ضروری نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « مَنِ اشْتَرَى مِنَ الْغَنَمِ فَهُوَ بِالْخِيَارِ ».

It was narrated from Ayyub with this chain (a Hadith similar to no. 3834 ), except that he said: "Whoever buys sheep has the choice..."

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے اس میں بکری کے لیے شاۃ کی بجائے غنم کا لفظ آیا ہے ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا مَا أَحَدُكُمُ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا إِمَّا هِىَ وَإِلاَّ فَلْيَرُدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ ».

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: "This is what Abu Hurairah narrated to us from the Messenger of Allah (s.a.w)." He mentioned a number of Ahadith, including the following: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If one of you buys a milch-camel in whose udder milk has been allowed to accumulate, or a sheep in whose udder milk has been allowed to accumulate, he has the choice of two things after milking it: either keeping it or returning it along with a Sa' of dates."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مصراۃ اونٹی یا مصراۃ بکری خریدے تو دودھ دوہنے کے بعد اس کو دو چیزوں کا اختیار ہے یا تو اس کو رکھ لے ، یا پھر واپس کردے،اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی لوٹادے۔

Chapter No: 8

باب بُطْلاَنِ بَيْعِ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ

About the invalidity of sale of goods before their possession

قبضہ سے پہلے کسی چیز کو بیچنا باطل ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِىُّ وَقُتَيْبَةُ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ». قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَىْءٍ مِثْلَهُ.

It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever buys some food, let him not sell it until he has received it in full." Ibn 'Abbas said: "I think that all things are like this (i.e. it applies to all transactions)."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی غلہ خریدے ، وہ اس کو قبضہ سے پہلے فروخت نہ کرے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ہر چیز کو اناج(غلہ) پر قیاس کرتا ہوں ۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ - وَهُوَ الثَّوْرِىُّ - كِلاَهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 3836) was narrated from 'Amr bin Dinar with this chain.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح منقول ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ ». قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَىْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever buys food, let him not sell it until he has taken possession of it."' Ibn 'Abbas said: "I think that everything is like food."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی(اناج) غلہ خریدے ، وہ اس کو قبضہ سے پہلے فروخت نہ کرے ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں ہر چیز کا حکم اناج کی طرح ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ ». فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَقَالَ أَلاَ تَرَاهُمْ يَتَبَايَعُونَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ وَلَمْ يَقُلْ أَبُو كُرَيْبٍ مُرْجَأٌ.

It was narrated from Ibn Tawus, from his father, from Ibn 'Abbas who said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever buys food, he should not sell it until he has measured it."' I said to Ibn 'Abbas: "Why?" He said: "Don't you see that they are exchanging gold, but the delivery of food is delayed?"

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی(اناج) غلہ خریدے ، وہ اس کو ناپنےسے پہلے فروخت نہ کرے ۔طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم انہیں نہیں دیکھ رہے ہو کہ وہ سونے اور غلہ کے ساتھ میعادی بیع کرتے ہیں۔ابو کریب کی روایت میں میعاد کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِىُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever buys foodstuff should not sell it until he has received it in full."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جو آدمی غلہ خریدے وہ ا سکو قبضہ سے پہلے فروخت نہ کرے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا فِى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِانْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ الَّذِى ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "At the time of the Messenger of Allah (s.a.w) we used to buy food, and someone would be sent to us to tell us to move it from the place where we had bought it to another place before we sell it."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے زمانے میں غلہ خریدتے تھے ، پھر آپﷺہمارے پاس ایک شخص کو بھیجتے جو ہمیں بیچنے سے قبل غلہ کو خریدی ہوئی جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتا تھا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever buys food should not sell it until he has received it in full."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی غلہ خریدے وہ قبضہ سے پہلے اس کو فروخت نہ کرے۔


قَالَ وَكُنَّا نَشْتَرِى الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ جِزَافًا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَنْقُلَهُ مِنْ مَكَانِهِ.

He (i.e. Ibn 'Umar) said: "We used to buy food from the riders without measure, but the Messenger of Allah (s.a.w) forbade us to sell it until we had moved it from its place."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سواروں سے بغیر ناپ تول کے اندازا ً غلہ خریدتے تھے ، تو رسول اللہ ﷺنے ہمیں غلہ فروخت کرنے سے منع کیا یہاں تک ہم اس کو دوسری جگہ منتقل نہ کریں۔


حَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ وَيَقْبِضَهُ ».

It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever buys food, he should not sell it until he has received it in full and taken possession of it."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی غلہ خریدے ، وہ اس کو قبضہ سے پہلے فروخت نہ کرے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ وَقَالَ عَلِىٌّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ ».

It was narrated from 'Abdullah bin Dinar that he heard Ibn 'Umar say: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever buys food, he should not sell it until he takes possession of it."'

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی غلہ خریدے ، وہ اس کو قبضہ سے پہلے فروخت نہ کرے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا اشْتَرَوْا طَعَامًا جِزَافًا أَنْ يَبِيعُوهُ فِى مَكَانِهِ حَتَّى يُحَوِّلُوهُ.

It was narrated from Ibn 'Umar that they would be beaten at the time of the Messenger of Allah (s.a.w) if they bought food without measure then sold it on the spot, unless they moved it.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے عہد میں لوگوں کو اس پر مارا جاتا تھا کہ وہ اندازاً غلہ خریدتے اور اس کو منتقل کرنے سے پہلے فروخت کردیتے تھے۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ النَّاسَ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا ابْتَاعُوا الطَّعَامَ جِزَافًا يُضْرَبُونَ فِى أَنْ يَبِيعُوهُ فِى مَكَانِهِمْ وَذَلِكَ حَتَّى يُئْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَشْتَرِى الطَّعَامَ جِزَافًا فَيَحْمِلُهُ إِلَى أَهْلِهِ.

Salim bin 'Abdullah narrated that his father said: "I saw the people at the time of the Messenger of Allah (s.a.w) being beaten if they bought food without measure then sold it on the spot, unless they took it to their own places." Ibn Shihab said: "'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Umar told me that his father used to buy food without measure then take it to his family."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺکے زمانے میں لوگوں کو اس پر مار پڑتی تھی کہ لوگ اندازاً غلہ خریدتے اور اس کو اپنے گھر منتقل کرنے سے پہلے فروخت کردیتے تھے ۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھ سے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے والد غلہ کا ایک ڈھیر خریدتے تھے اور اس غلہ کو اپنے گھر لے آتے تھے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَكْتَالَهُ ». وَفِى رِوَايَةِ أَبِى بَكْرٍ « مَنِ ابْتَاعَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever buys food, let him not sell it until he has measured it."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو آدمی غلہ خریدتے وہ اس کو ناپنے سے پہلے فروخت نہ کرے ۔ابو بکر کی روایت میں اشتری کی جگہ ابتاع کا لفظ ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِىُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الرِّبَا. فَقَالَ مَرْوَانُ مَا فَعَلْتُ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصِّكَاكِ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يُسْتَوْفَى. قَالَ فَخَطَبَ مَرْوَانُ النَّاسَ فَنَهَى عَنْ بَيْعِهَا. قَالَ سُلَيْمَانُ فَنَظَرْتُ إِلَى حَرَسٍ يَأْخُذُونَهَا مِنْ أَيْدِى النَّاسِ.

It was narrated from Abu Hurairah that he said to Marwan: "Have you made permissible a transaction involving Riba?" Marwan said: "I have not done that." Abu Hurairah said: "You have allowed selling Sakk. The Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling food until it has been received in full." Then Marwan addressed the people and forbade such transactions. Sulaiman said: "I saw the guards collecting them from the hands of the people."

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مروان سے کہا: کیا تم نے سود کی بیع کو حلال کردیا ہے ؟ مروان نے کہا: میں نے کیا کیا ہے ؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے بیع الصکاک (حکومت کی طرف سےمستحق لوگوں کی روزی کے لیے ایک کارڈ جاری کیا جاتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ فلان آدمی کو اتنی مقدار میں غلہ دیا جائے ، تو وہ آدمی اس کارڈ کو قبضہ میں لینے سے پہلے فروخت کردیتا ہے۔)کو جائز کردیا ہے ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺنے قبضہ سے پہلے غلہ کی بیع کو منع فرمایا ہے ۔پھر مروان نے لوگوں کو خطبہ دیا اور لوگوں کو اس بیع سے منع کردیا۔سلیمان کہتے ہیں : میں نے سپاہیوں کو دیکھا وہ لوگوں کے ہاتھوں سے ان سندات کو وصول کر رہے تھے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِذَا ابْتَعْتَ طَعَامًا فَلاَ تَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَهُ ».

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to say: "When you buy foodstuff, do not sell it until you have received it in full."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم غلہ خریدو تو اس کو قبضہ میں کرنے سے پہلے فروخت نہ کرو۔

Chapter No: 9

باب تَحْرِيمِ بَيْعِ صُبْرَةِ التَّمْرِ الْمَجْهُولَةِ الْقَدْرِ بِتَمْرٍ

It is prohibitted to sale a stack of dates having unknown weight for a known weight of dates

مجہول المقدارکھجور کے ڈھیر کی دوسری کھجور کے ساتھ بیع کی حرمت

حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لاَ يُعْلَمُ مَكِيلَتُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ.

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling a heap of dates, the weight of which is unknown, for a known weight of dates."

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جس کھجور کے ڈھره کا وزن معلوم نہ ہو اس کو معلوم الوزن کھجور کے بدلے فروخت کرنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ مِنَ التَّمْرِ. فِى آخِرِ الْحَدِيثِ.

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade..." a similar report (as Hadith no. 3851), except that he did not say "of dates" in the latter part of the Hadith.

اس سند سے بھی حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سےاسی طرح مروی ہے لیکن اس کے آخر میں کھجوروں کا ذکر نہیں ہے۔

Chapter No: 10

باب ثُبُوتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ

Concerning the proof of choice (of cancelling the contract) for both parties until they are not separated

بائع اورمشتری کے لئے خیار مجلس کا ثبوت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الْبَيِّعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلاَّ بَيْعَ الْخِيَارِ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Each party to a transaction has the option (of canceling it) so long as they have not separated, except in the case of Bai' Al-Khiyar."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بائع اور مشتری جب تک الگ الگ نہ ہوں اس وقت تک ہر ایک کو دوسرے کے عقد کو فسخ کرنے کا اختیار ہے ماسوائے بیع الخیار کے (وہ بیع جس میں اختیار کی شرط لگائی گئی ہو)


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ح وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ أَبِى عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ كِلاَهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ.

A Hadith similar to that of Malik from Nafi' (no. 3853) was narrated from Ibn 'Umar, from the Prophet (s.a.w).

امام مسلم رحمہ اللہ نے پانچ مختلف سندوں کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی نبی ﷺسے حسب سابق روایت ذکر کی ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلاَنِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "When two men enter into a transaction, each one of them has the option (of canceling) so long as they have not parted and are still together. But if one of them gives the other the choice to decide, then they agree on a deal, then it becomes binding. If they part after that and neither of them canceled it, then the transaction becomes binding."

حضرت ا بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جب دو آدمی بیع کریں تو ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ ہونے سے پہلے اختیار ہے ، جب تک کہ وہ ایک ساتھ رہیں یا ان میں سے ایک فریق دوسرے فریق کو اختیار دے دے ، جب ایک فریق نے دوسرے کو اختیار دے دیا او رانہوں نے اس پر بیع کرلی تو بیع واجب ہوگئی اور اگر بیع کے بعد وہ دونوں متفرق ہوگئے اور ان میں سے کسی فریق نے بیع کو ختم نہیں کیا تو بیع واجب ہوگئی۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَمْلَى عَلَىَّ نَافِعٌ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْبَيْعِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِذَا كَانَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ ». زَادَ ابْنُ أَبِى عُمَرَ فِى رِوَايَتِهِ قَالَ نَافِعٌ فَكَانَ إِذَا بَايَعَ رَجُلاً فَأَرَادَ أَنْ لاَ يُقِيلَهُ قَامَ فَمَشَى هُنَيَّةً ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ.

'Abdullah bin 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'When two parties enter into a transaction, each of them has the option of (canceling) the sale, so long as they have not parted, but if they chose to agree on a deal, then it becomes binding."' Ibn Abi 'Umar added in his report: "Nafi' said: 'If he entered into a transaction with a man and intended not to let him off, he would get up and walk away for a while, then come back to him."'

حضرت ا بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب دو آدمی بیع کریں تو جب تک وہ متفرق نہ ہوں ان میں سے ہر ایک کو اختیار ہے ، مگر یہ کہ ان کی بیع اختیار والی ہو، اور جب وہ اپنے اختیار سے بیع کرلیں تو بیع واجب ہوجائے گی ۔نافع کہتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ کسی آدمی سے بیع کرتے اور ان کی خواہش ہوتی کہ یہ بیع فسخ (ختم) نہ ہو تو (مجلس سے) کھڑے ہوجاتے اور کچھ دور چل کر واپس آجاتے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى و يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كُلُّ بَيِّعَيْنِ لاَ بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلاَّ بَيْعُ الْخِيَارِ ».

It was narrated from 'Abdullah bin Dinar that he heard Ibn 'Umar say: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'There is no deal between two parties until they part, unless they choose to agree on a deal."'

حضرت ا بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: بیع کرنے والے ہر دو فریقوں کی اس وقت تک بیع لازم نہیں ہوگی جب تک کہ وہ الگ الگ نہ ہوجائیں ماسوائے بیع خیار کے ۔

123