Sayings of the Messenger

 

1234Last ›

Chapter No: 11

بابُ النَّهْيِ عَنِ الشَّحْنَاءِ

The forbiddance of holding grudges

کینہ رکھنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الإِثْنَيْنِ ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلاَّ رَجُلاً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The gates of Paradise are opened on Mondays and Thursdays, and every slave (of Allah) who does not associate anything with Allah is forgiven, except a man between whom and his brother there is some grudge. It is said said: 'Wait for these two until they reconcile, wait for these two until they reconcile, wait for these two until they reconcile."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، اور ہر اس بندے کی مغفرت کردی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو ، سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو اور یہ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ یہ صلح کرلیں ، ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ یہ صلح کرلیں۔


حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِإِسْنَادِ مَالِكٍ ، نَحْوَ حَدِيثِهِ. غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ إِلاَّ الْمُتَهَاجِرَيْنِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ ، وقَالَ قُتَيْبَةُ: إِلاَّ الْمُهْتَجِرَيْنِ.

A similar Hadith (as no. 6544) was narrated from Suhail, from his father, with the chain of narrators of Malik, except that in the Hadith of Ad-Darawardi it says: "Except two who forsake one another," from the report of Ibn 'Abdah. And Qutaibah said: "Except two who forsake one another."

یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے ، ایک روایت میں ماھْجرین ، اور دوسری روایت میں مھتجرین کا لفظ ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ مَرَّةً قَالَ: تُعْرَضُ الأَعْمَالُ فِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، لِكُلِّ امْرِئٍ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلاَّ امْرَءًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ: ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، ارْكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا.

It was narrated that Abu Salih heard Abu Hurairah say, attributing it on one occasion to the Messenger of Allah (s.a.w): "Deeds are presented (before Allah) every Thursday and Monday, and on that day Allah forgives every person who does not associate anything with Allah, except a man between whom and his brother there is some grudge. It is said: 'Delay these two until they reconcile, delay these two until they reconcile."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مرفوعا بیان کیا ہے کہ ہر پیر اور جمعرات کو ا عمال پیش کیے جاتے ہیں ، اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس آدمی کی مغفرت کردیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ، سوائے اس آدمی کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہے ، کہاجاتا ہے کہ ان کو مہلت دو یہاں تک کہ یہ صلح کرلیں ، ان کو مہلت دو یہاں تک کہ یہ صلح کرلیں۔


حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالاَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ ، يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ ، إِلاَّ عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ: اتْرُكُوا ، أَوِ ارْكُوا ، هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The people's deeds are presented (before Allah) twice every week; on Mondays and Thursdays, and every believing slave (of Allah) is forgiven, except a slave between whom and his brother there is some grudge. It is said: 'Leave these two' - or: 'delay these two- until they reconcile."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں ، پیر اور جمعرات کو ، اور ہر مسلمان بندے کی مغفرت کردی جاتی ہے ، سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہوں، کہا جاتا ہے: ان کو چھوڑ دو یا مہلت دو ، یہاں تک کہ یہ رجوع کرلیں۔

Chapter No: 12

بابُ فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللَّهِ تعالى

The merit of love for the sake of Allah

اللہ کے لیے محبت کی فضیلت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلاَلِي، الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلِّي.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah will say on the Day of Resurrection: 'Where are the two who loved one another for My sake? Today I will shade them with My shade, on a day when there will be no shade but My shade."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا : میری جلال ذات سے محبت کرنے والے آج کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنے سائے میں رکھوں گا ۔ میرے سایہ کے علاوہ آج کسی کا سایہ نہیں ہے۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَجُلاً زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى ، فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ ، عَلَى مَدْرَجَتِهِ ، مَلَكًا فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ ، قَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ ، قَالَ : هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا ؟ قَالَ : لاَ ، غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكَ ، بِأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ.

It was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w): "A man visited a brother of his in another town, and Allah sent an angel to wait for him on the road. When he came to him, he said: 'Where are you headed?' He said: 'I am headed to a brother of mine in this town.' He said: 'Have you done him any favor for which you hope to be recompensed?' He said: 'No, but I love him for the sake of Allah (the Mighty and Sublime).' He said: 'I am a messenger from Allah to you, to tell you that Allah loves you as you love him for His sake."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ایک آدمی اپنے بھائی سے ملنے کے لیے ایک دوسری بستی میں گیا ، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستہ میں ایک فرشتہ کو اس کے انتظار کے لیے بھیج دیا ، جب اس آدمی کا اس کے پاس سے گزر ہوا تو فرشتے نے پوچھا: کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟اس آدمی نے کہا: اس بستی میں میرا ایک بھائی ہے اس سے ملنے کا ارادہ ہے ، فرشتہ نے پوچھا : کیا تم نے اس پر کوئی احسان کیا ہے جس کی تکمیل مقصود ہے ، اس نے کہا: اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں کہ مجھے اس سے صرف اللہ کے لیے محبت ہے ، تب اس فرشتہ نے کہا: میں تمہارے پاس اللہ کا یہ پیغام لایا ہوں کہ جس طرح تم اس آدمی سے محض اللہ تعالیٰ کی وجہ سے محبت کرتے ہو اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرتا ہے۔


قَالَ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيْسَى: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجَوَيْهِ الْقُشَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as Hadith no. 6549) was narrated from Hammad bin Salamah with this chain of narrators.

یہ حدیث بھی ایک اور سند سےحسب سابق مروی ہے۔

Chapter No: 13

بابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ

The merit of visiting the sick

مریض کی عیادت کرنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: أَبُو الرَّبِيعِ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ.

It was narrated from Abu Asma', from Thaw ban - who is called Abu Ar-Rabi' said: "He attributed it to the Prophet (s.a.w)," -but in the Hadith of Sa'eed it says: "The Messenger of Allah (s.a.w) said - 'The one who visits the sick is in a Makhrafah (an orchard) of Paradise until he returns."

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَادَ مَرِيضًا ، لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ.

It was narrated that Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (s.a.w) ' said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever visits a sick person will remain in a Khurfah (an orchard) of Paradise until he returns."'

رسول اللہ ﷺکے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس آدمی نے کسی مریض کی عیادت کی وہ واپس آنے تک برابر جنت کے باغ میں رہتا ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ.

It was narrated from Thawban that the Prophet (s.a.w) said: "When the Muslim visits his sick Muslim brother, he remains in a Khurfah (an orchard) of Paradise until he returns."

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: مسلمان جب مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو برابر جنت کے باغ میں رہتا ہے یہاں تک کہ واپس لوٹ آئے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ أَبُو قِلاَبَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ ، قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : جَنَاهَا.

It was narrated from Thawban, the freed slave of the Messenger of Allah (s.a.w) ' that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever visits a sick person, he will remain in a Khurfah (an orchard) of Paradise." It was said: "O Messenger of Allah, what is a Khurfah of Paradise?" He said: "Its fruits."

رسول اللہﷺکے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس آدمی نے مریض کی عیادت کی وہ ہمیشہ خرفہ جنت میں رہے گا ، آپﷺسے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! خرفہ جنت کیا ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: جنت کا باغ۔


حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from 'Asim Al-Ahwal with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي ، قَالَ : يَا رَبِّ كَيْفَ أَعُودُكَ ؟ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ، قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلاَنًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ ؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي ، قَالَ : يَا رَبِّ وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ ؟ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ، قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلاَنٌ ، فَلَمْ تُطْعِمْهُ ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ، يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ ، فَلَمْ تَسْقِنِي ، قَالَ : يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ ؟ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ، قَالَ : اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلاَنٌ فَلَمْ تَسْقِهِ ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Allah, Glorified and Exalted is He, will say on the Day of Resurrection: "0 son of Adam, I fell sick and you did not visit Me." He will say: "O Lord, how could I visit You when You are the Lord of the Worlds?" He will say: "Did you not know that My slave so-and- so was sick, but you did not visit him? Do you not know that if you had visited him you would have found Me with him? O son of Adam, I asked you for food and you did not feed Me." He will say: "O Lord, how could I feed You when You are the Lord of the Worlds?" He said: "Did you not know that My slave so-and-so asked you for food, but you did not feed him? Do you not know that if you had fed him, you would have found that with Me? O son of Adam, I asked you for water and you did not give Me to drink." He will say: "O Lord, how could I give you to drink when You are the Lord of the Worlds?" He will say: "My slave so-and-so asked you for water, and you did not give him to drink. If you had given him to drink you would have found that with Me.'"

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا : اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہیں کی ، وہ آدمی کہے گا : اے میرے رب ! میں تیری کیسے عیادت کرتا حالانکہ تو رب العالمین ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو تو نے عیادت نہیں کی ، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا ، وہ آدمی کہے گا : اے میرے رب ! میں تجھے کھانا کیسے کھلاتا حالانکہ تو رب العالمین ہے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا ،تو تو نے اس کو نہیں کھلایا، اگر تو اس کو کھاناکھلا دیتا تو تو اس کو میرے پاس پاتا ، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے مجھے پانی نہیں پلایا ، وہ آدمی کہے گا : اے میرے رب! میں تجھ کو کیسے پانی پلاتا ، حالانکہ تو رب العالمین ہے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو تو نے اس کو پانی نہیں پلایا ، اگر تو اس کو پانی پلادیتا تو تو اس کو میرے پاس پاتا۔

Chapter No: 14

بابُ ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ حُزْنٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا

The reward of a believer for whatever strikes him out of illness, sorrow, or the like even a thorn that pierce his body slightly

مومن کو غم، پریشانی یا بیماری، یہاں تک کہ کانٹا چھبنے کی بناء پر ملنے والے ثواب کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا ، جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا رَأَيْتُ رَجُلاً أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ ، مَكَانَ الْوَجَعِ ، وَجَعًا.

It was narrated from Masruq that 'Aishah said: "I have never seen any man afflicted with more severe pain than the Messenger of Allah (s.a.w)."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکی بہ نسبت کسی آدمی میں سخت درد نہیں دیکھا ، عثمان کی روایت میں "الوجع" کی جگہ "وجعا" کا لفظ ہے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ (ح) وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ (ح) وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ.

A similar Hadith (as no. 6557) was narrated from Al-A'mash with the chain of narrators of Jarir.

یہ حدیث پانچ سندوں سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا ، جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ قَالَ: فَقُلْتُ: ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجَلْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ ، فَمَا سِوَاهُ إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا. وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ : فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي.

It was narrated that 'Abdullah said: "I entered upon the Messenger of Allah (s.a.w) and he was running a fever. I touched him with my hand and said: 'O Messenger of Allah, you are running a high fever.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Yes, I am running a fever like two of you.' I said: 'Then you will have two rewards.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Yes.' Then the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'There is no Muslim who is afflicted with sickness or anything else, but Allah will make fall thereby his bad deeds just as trees shed their leaves."'

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ میں رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپﷺکو بخار تھا ، میں نے آپﷺکو ہاتھ لگاکر دیکھا ، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کو تو بہت سخت بخار ہے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: ہاں! مجھے تم میں سے دو آدمیوں جتنا بخار ہوتا ہے ، میں نے عرض کیا: کیا اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کو دگنا ثواب ملتا ہے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: ہاں! پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: جس مسلمان کو بھی مرض یا کوئی اور مصیب لاحق ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اس کے گناہ مٹادیتا ہے جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں ، زہیر کی روایت میں ہاتھ لگاکر دیکھنے کا ذکر نہیں ہے۔


حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ، وأبو كريب ، قالا: حدثنا أبو معاوية (ح) وحدثني محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، حدثنا سفيان (ح) وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، أخبرنا عيسى بن يونس ، ويحيى بن عبد الملك بن أبي غنية ، كلهم عن الأعمش ، بإسناد جرير نحو حديثه. وزاد في حديث أبي معاوية ، قال: نعم ، والذي نفسي بيده ما على الأرض مسلم.

A similar Hadith (as no. 6559) was narrated from Al-A'mash with the chain of narrators of Jarir. In the Hadith of Abu Mu'awiyah it adds: "He said: 'Yes, by the One in Whose Hand is my soul, there is no Muslim on earth (who is)..."'

یہ حدیث تین سندوں سے مروی ہے ، ابو معاویہ کی سند میں ہے ، ہاں ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روئے زمین پر ہر مسلمان کو ۔۔۔ آخر حدیث تک۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ: دَخَلَ شَبَابٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ بِمِنًى ، وَهُمْ يَضْحَكُونَ ، فَقَالَتْ: مَا يُضْحِكُكُمْ ؟ قَالُوا: فُلاَنٌ خَرَّ عَلَى طُنُبِ فُسْطَاطٍ ، فَكَادَتْ عُنُقُهُ ، أَوْ عَيْنُهُ أَنْ تَذْهَبَ ، فَقَالَتْ: لاَ تَضْحَكُوا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً ، فَمَا فَوْقَهَا إِلاَّ كُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ.

It was narrated that Al-Aswad said: "Some young men of the Quraish entered upon 'Aishah while she was in Mina, and they were laughing. She said: 'Why are you laughing?' They said: 'so-and-so stumbled on the tent rope and almost broke his neck' or 'lost an eye.' She said: 'Do not laugh, for I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: There is no Muslim who is pricked by a thorn or more, but it will be decreed that he will rise one degree in status because of it, and one sin will be erased.'"

اسود بیان کرتے ہیں کہ کچھ قریشی نوجوان منیٰ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، وہ ہنسنے لگے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : تم کس وجہ سے ہنس رہے ہو؟ انہوں نے کہا: فلاں آدمی خیمہ کی رسی پر گر پڑا جس سے اس کی گردن ٹوٹ جاتی یا آنکھ ضائع ہوجاتی،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہنسو مت ، کیونکہ میں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ مسلمان کو کانٹا چبھ جائے یا اس سے بھی کم تکلیف پہنچے تو اس کا ایک درجہ لکھ دیا جاتاہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً.

It was narrated from Al-Aswad that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'No believer is pricked by a thorn or more, but Allah will raise him one degree in status thereby, or will erase a sin thereby."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مسلمان کو جب کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کا درجہ بلند فرماتا ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا ، إِلاَّ قَصَّ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطِيئَتِهِ.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'No believer is pricked by a thorn or more, but Allah will cut (erase) some of his sins thereby."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مسلمان کو جب کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

Hisham narrated it with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے۔


حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ ، إِلاَّ كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا.

It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "There is no calamity that befalls a Muslim but he is expiated thereby, even a thorn that pricks him."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مسلمان کو جو مصیبت بھی لاحق ہو خواہ کانٹا چبھے اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہ کا کفارہ کردیتا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ ، حَتَّى الشَّوْكَةِ ، إِلاَّ قُصَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ ، أَوْ كُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ. لاَ يَدْرِي يَزِيدُ أَيَّتُهُمَا قَالَ عُرْوَةُ.

It was narrated from 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w) ' that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "No calamity befalls a believer, not even a thorn (that pricks him), but some of his sins are cut (erased) thereby" or: "some of his sins are expiated." Yazid did not know which of them 'Urwah (a sub narrator) said.

نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: مسلمان پر جو مصیب آئے خواہ کانٹا چبھے اسے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : معلوم نہیں عروہ نے "قص بہا من خطایاہ" کہا تھا یا " کفر بہا من خطایاہ " کہا تھا۔


حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّى الشَّوْكَةِ تُصِيبُهُ ، إِلاَّ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً ، أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ.

It was narrated that 'Aishah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: There is nothing that befalls a believer, not even a thorn that pricks him, but Allah will record a good deed for him thereby, or make fall (erase) a bad deed."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مومن پر جو مصیبت آئے خواہ کانٹا چبھے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کے بدلے میں ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ ، وَلاَ نَصَبٍ ، وَلاَ سَقَمٍ ، وَلاَ حَزَنٍ حَتَّى الْهَمِّ يُهَمُّهُ ، إِلاَّ كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ.

It was narrated from Abu Sa'eed and Abu Hurairah that they heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "No pain, hardship, sickness or grief befalls a believer, not even worry that befalls him, but some of his bad deeds will be expiated."

حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ مسلمان پر جو مصیبت آئے ، خواہ بیماری ہو، تھکاوٹ ہو ، تکلیف ہو ،غم ہو یا کوئی پریشانی ہو ، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبْي شَيْبَةَ ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْصِنٍ ، شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} بَلَغَتْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَبْلَغًا شَدِيدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَارِبُوا ، وَسَدِّدُوا ، فَفِي كُلِّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ ، حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا ، أَوِ الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا. قَالَ مُسْلِمٌ: هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "When the Verse 'Whosoever works evil, will have the recompense thereof; was revealed, the Muslims were greatly troubled. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do the best that you reasonably can, and try to do what is right, for in everything that befalls the Muslim there is expiation, even if he stumbles or is pricked by a thorn."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : (ترجمہ) جس آدمی نے جو برائی کی اس کو اس کی سزادی جائے گی ، مسلمانوں کو اس سے سخت تشویش ہوئی ، تو رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: میانہ روی اور درست روی پر قائم رہو، مسلمان پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اس کے لیے کفارہ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اس کو کوئی ٹھوکر لگے یا کانٹا چبھے۔


حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ ، أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ: مَا لَكِ ؟ يَا أُمَّ السَّائِبِ ، أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ ؟ قَالَتْ: الْحُمَّى ، لاَ بَارَكَ اللَّهُ فِيهَا ، فَقَالَ: لاَ تَسُبِّي الْحُمَّى ، فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ ، كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ.

Jabir bin 'Abdullah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) entered upon Umm As-Sa'ib or Umm Al-Musayyab, and said: "What is the matter with you, O Umm As-Sa'ib (or Umm Al-Musayyab)? Why are you shivering?" She said: "I have a fever, may Allah not bless it!" He said: "Do not revile fever, for it takes away the sins of the sons of Adam as the bellows takes away the dross of iron."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سائب یا حضرت المسیب کے پاس رسول اللہﷺتشریف لے گئے ، آپﷺنے فرمایا: اے ام سائب یاام المسیب!تم کیوں کانپ رہی ہو؟ انہوں نے کہا: مجھے بخار ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ دے، آپﷺنے فرمایا: بخار کو برا مت کہو، کیونکہ یہ بنو آدمی کی خطاؤں کو اس طرح دور کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کرتی ہے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو بَكَرٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلاَ أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قُلْتُ: بَلَى ، قَالَ: هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ: إِنِّي أُصْرَعُ وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ ، فَادْعُ اللَّهَ لِي ، قَالَ: إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ قَالَتْ: أَصْبِرُ ، قَالَتْ: فَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لاَ أَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَهَا.

'Ata' bin Abi Rabah said: Ibn 'Abbas said to me: Shall I show you a woman of the people of Paradise? I said: Yes. He said: This black woman came to the Prophet (s.a.w) and said: "I have epilepsy and I become uncovered. Pray to Allah for me." He (s.a.w) said: "If you wish, you may be patient, and Paradise will be yours, or if you wish, I will pray to Allah to heal you." She said: "I will be patient." She said: "But I become uncovered; pray to Allah that I will not become uncovered." So he prayed for her."

عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تم کو ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہا: یہ سیاہ فام عورت نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ﷺ!مجھ پر مرگی کا دورہ پرتا ہے ، جس سے میرا ستر کھل جاتا ہے ، آپ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے ، آپﷺنے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس پر صبر کرو اور تم کو جنت مل جائے گی ، اور اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں وہ تم کوصحت عطا فرمائےگا ، اس عورت نے کہا: میں صبر کرتی ہوں ، اس نے کہا: میرا ستر کھل جاتا ہے ، آپ یہ دعا فرما دیں کہ میرا ستر نہ کھلے ، پھر آپﷺنے اس کےلیے دعا کردی۔

Chapter No: 15

بابُ تَحْرِيمِ الظُّلْمِ

The forbiddance of wrongdoing

ظلم کی حرمت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا رَوَى عَنِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ : يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي ، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا ، فَلاَ تَظَالَمُوا ، يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلاَّ مَنْ هَدَيْتُهُ ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ ، يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ جَائِعٌ ، إِلاَّ مَنْ أَطْعَمْتُهُ ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ ، يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ عَارٍ ، إِلاَّ مَنْ كَسَوْتُهُ ، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ ، يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ ، يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي ، فَتَنْفَعُونِي ، يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا ، يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا ، يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إِلاَّ كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ ، يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا ، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا ، فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ ، فَلاَ يَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَهُ. قَالَ سَعِيدٌ: كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيُّ ، إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ.

It was narrated from Abu Dharr that the Prophet (s.a.w) said, narrating from Allah, Glorified and Exalted is He: "O My slaves, I have forbidden oppression to Myself, and I have made it unlawful among you, so do not wrong one another. O My slaves, all of you are astray except those whom I guide, so ask Me for guidance, and I will guide you. O My slaves, all of you are hungry except those whom I feed, so ask Me for food and I will feed you. O My slaves, all of you are naked except those whom I clothe, so ask Me for clothing and I will clothe you. O My slaves, you err night and day, but I forgive all sins, so ask Me for forgiveness and I will forgive you. O My slaves, you can never do Me any harm or bring Me any benefit. O My slaves, if the first of you and the last of you, your humans and your jinn, were equal in piety like the heart of the most pious man among you, that would not add anything to My dominion. O My slaves, if the first of you and the last of you, your humans and your jinn, were equal in evil like the heart of the most evil man among you, that would not detract anything from My dominion. O My slaves, if the first of you and the last of you, your humans and your jinn, were to stand on a single plain and ask of Me and I were to give each one what he asked for, that would not cause any loss to Me greater than what is lost when a needle is dipped into the sea. O My slaves, it is only your actions that I am recording for you, then I will requite you for them. Whoever finds it to be good, let him praise Allah, and whoever finds it to be otherwise, let him blame no one but himself." Sa'eed said: "When Abu Idris Al-Khawlani narrated this Hadith, he would kneel down."

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے اللہ عزوجل سے یہ روایت کیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اورمیں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کردیا ، اس لیے تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوا اس کے جس کو میں ہدایت دوں ، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو ، میں تم کو ہدایت دوں گا ، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوا اس کے جس کو میں کھانا کھلاؤں پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کوکھلاؤں گا ، اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوا اس کے جس کو میں لباس پہناؤں ، اس لیے تم مجھ سے لباس مانگو میں تم کو لباس پہناؤں گا ، اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو ، اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں ، تم مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تم کو بخش دوں گا ، اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچاسکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں کہ مجھے نفع پہنچا سکو ، اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اورتمہارے انسان اورجن تم میں سے سب سے زیادہ متقی آدمی کی طرح ہوجائیں تو میرے ملک میں کچھ اضافہ نہیں کرسکتے ،اور میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار آدمی کی طرح ہوجائیں تو میرے ملک سے کوئی چیز کم نہیں کرسکتے اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اورتمہارے انسان اورجن کسی ایک جگہ کھڑے ہوکر مجھ سے سوال کریں اورمیں ہر انسان کا سوال پورا کردوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہوگا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر اس میں کمی ہوتی ہے ، اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جن کو میں تمہارے لیے جمع کررہا ہوں ،پھر میں تم کو ان کی پوری پوری جزاء دوں گا ، پس جو آدمی خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جس کو خیرے سے سوا کوئی چیز پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے ۔ سعید بیان کرتے ہیں کہ ابو ادریس خولانی جس وقت یہ حدیث بیان کرتے تھے تو گھٹنوں کے بل جھک جاتے تھے ۔


حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ مَرْوَانَ أَتَمُّهُمَا حَدِيثًا.

Sa'eed bin 'Abdul' Aziz narrated it with this chain of narrators, but the Hadith of Marwan is more complete.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ۔


قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: حَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ الْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، ابْنَا بِشْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

Abu Mus-hir narrated it and they quoted the Hadith in full.

یہ حدیث بھی ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَى نَفْسِي الظُّلْمَ وَعَلَى عِبَادِي ، فَلاَ تَظَالَمُوا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ ، وَحَدِيثُ أَبِي إِدْرِيسَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ أَتَمُّ مِنْ هَذَا.

It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said, narrating from Allah, Glorified and Exalted is He: 'I have forbidden injustice to Myself and for My slaves, so do not wrong one another"' and he quoted a similar Hadith (as no. 6572), but the Hadith of Abu Idris that we have quoted is more complete.

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے اوپر اور اپنے بندے کے اوپر ظلم کو حرام کردیا ہے ، سو ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ، اس کے بعد حسب سابق پوری روایت ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: اتَّقُوا الظُّلْمَ ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ.

It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Beware of oppression, for oppression will be darkness on the Day of Resurrection. Beware of stinginess for stinginess destroyed those who came before you and caused them to shed their blood and regard as permissible that which had been forbidden to them."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ظلم سے بچو ، کیونکہ ظلم قیامت کے دن کی تاریکیاں ہیں اور بخل سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو بخل نے ہلاک کردیا ، اس بخل نے ان کو خونریزی کرنے اور حرام کو حلال کرنے پر ابھارا ہے۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

It was narrated that Abu 'Umar .said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Oppression (Zulm) will be darkness (Zulumat) on the Day of Resurrection."'

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ظلم قیامت کے دن کی تاریکیاں ہیں۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً ، فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The Muslim is the brother of his fellow Muslim; he does not wrong him or let him down. The one who meets the needs of his brother, Allah will meet his needs. Whoever relieves a Muslim of distress, Allah will relieve his of distress on the Day of Resurrection. Whoever conceals (the faults of) a Muslim, Allah will conceal him on the Day of Resurrection."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو کسی ہلاکت میں ڈالتا ہے ، جو آدمی اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی میں رہتا ہے ، جو آدمی کسی مسلمان کی مصیبت دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبت دور کردے گا ، جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ ؟ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لاَ دِرْهَمَ لَهُ وَلاَ مَتَاعَ ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلاَةٍ ، وَصِيَامٍ ، وَزَكَاةٍ ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا ، وَقَذَفَ هَذَا ، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا ، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا ، وَضَرَبَ هَذَا ، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Do you know what bankrupt means?" They said: "Among us, the one who has no Dirham nor goods is the one who is bankrupt." He said: "The one who is bankrupt among my Ummah is the one who will come on the Day of Resurrection with prayer (Salat), fasting (Saum) and Chairty (Zakat), but he will come having insulted this one, slandered that one, consumed the wealth of this one, shed the blood of that one and beaten this one. They will each be given from his good deeds, and if his good deeds run out before the scores have been settled, some of their bad deeds will be taken and cast upon him, then he will be thrown into the Fire."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنےفرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے ؟ صحابہ نے کہا: ہمارے نزدیک مفلس وہ آدمی ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ کوئی متاع ہو ، آپﷺنے فرمایا: میری امت کامفلس وہ آدمی ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزہ ، اور زکاۃ لے کر آئے اور اس آدمی نے کسی کوگالی دی تھی۔کسی کو تہمت لگائی تھی ، کسی کا مال کھایا تھا ، کسی کا خون بہایا تھا، کسی کو مارا تھا ، پھر اسے اس کی نیکیاں مل جائیں گی ، اور ا سے اس کی نیکیاں مل جائیں گی اور اگر ان کے حقوق پورے ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ ، مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Rights will certainly be restored to all creatures on the Day of Resurrection, until even the hornless sheep will settle its score with the horned one."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنےفرمایا: قیامت کے دن تم سے حقداروں کے حقوق وصول کیے جائں گے ، یہاں تک کہ بے سینگ بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْلِي لِلظَّالِمِ ، فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ، ثُمَّ قَرَأَ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ.

It was narrated that Abu Musa that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Allah, Glorified and Exalted is He, grants respite to the wrongdoer, but when He seizes him He will not leave him be." Then he recited: 'Such is the punishment of your Lord when He seizes the (population of) towns while they are doing wrong. Verily, His punishment is painful (and) severe.

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے ، اور جب اس کو پکڑلیتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا ، پھر آپﷺنے یہ آیت پڑھی : (ترجمہ) اور اسی طرح آپ کے رب کی گرفت ہے ، جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ، بے شک اس کی گرفت سخت دردناک ہے۔

Chapter No: 16

بابُ نَصْرِ الأَخِ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا

Concerning (the command to) help a Muslim brother whether he is an oppressor or being oppressed

بھائی کی مدد کرنا خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : اقْتَتَلَ غُلاَمَانِ غُلاَمٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَغُلاَمٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَنَادَى الْمُهَاجِرُ أَوِ الْمُهَاجِرُونَ ، يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَنَادَى الأَنْصَارِيُّ يَا لَلأَنْصَارِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: مَا هَذَا دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ قَالُوا : لاَ يَا رَسُولَ اللهِ ، إِلاَّ أَنَّ غُلاَمَيْنِ اقْتَتَلاَ فَكَسَعَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ ، قَالَ: فَلاَ بَأْسَ وَلْيَنْصُرِ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا ، أَوْ مَظْلُومًا ، إِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ ، فَإِنَّهُ لَهُ نَصْرٌ وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ.

It was narrated that Jabir said: "Two young men got into a fight, one from among the Muhajirin and one from among the Ansar. The Muhajir or the Muhajirin called out: 'O Muhajirin!' And the Ansari called out: 'O Ansar!' The Messenger of Allah (s.a.w) came out and said: 'What is this call of the people of Jahiliyyah?' They said: No, O Messenger of Allah. It is just two young men who got into a fight, when one of them hit the other from behind.' He said: 'It does not matter. Let a man support his brother whether he is doing wrong or being wronged. If he is doing wrong, let him stop him, then he will be supporting him. And if he is being wronged, let him help him."'

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو لڑکوں کا آپس میں جھگڑا ہوا ، ایک مہاجرین میں سے تھا ، اور دوسرا انصار میں سے ، مہاجر چلایا: اے مہاجرین ! اور انصاری چلایا: اے انصار! اچانک رسول اللہﷺتشریف لے آئے ، اور فرمایا: یہ کیا زمانہ جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کررہے ہو ، صحابہ نے عرض کیا: صرف یہ دو لڑکے آپس میں لڑ پڑے ہیں ، اور ایک نے دوسرے کی سرین پر ضرب لگائی ہے ،آپﷺنے فرمایا: کوئی حرج نہیں ، انسان کواپنے بھائی کی مدد کرنی چاہیے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ، اگر اس کا بھائی ظالم ہو تو اس کو ظلم سے روکے ، یہی اس کی مدد ہے اور اگر مظلوم ہو تو اس کی مدد کرے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ : أَخْبَرَنَا وقَالَ الآخَرُونَ : حَدَّثَنَا ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ : يَا لَلأَنْصَارِ ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : دَعُوهَا، فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ فَسَمِعَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ فَقَالَ : قَدْ فَعَلُوهَا ، وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ. قَالَ عُمَرُ: دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ : دَعْهُ ، لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ.

Sufyan bin 'Uyaynah said: "Amr heard Jabir bin 'Abdullah say: 'We were with the Messenger of Allah (s.a.w) on a campaign, when a man of the Muhajirin hit a man of the Ansar from behind. The Ansari said: 'O Ansar!' And the Muhajir said: 'O Muhajirin!' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'What is this call of Jahiliyyah?' They said: 'O Messenger of Allah, a man of the Muhajirin hit a man of the Ansar from behind.' He said: 'Stay away from it, it is disgusting.'" "Abdullah bin Ubayy heard it and said: 'They have done it, by Allah. If we return to Al-Madinah, indeed the more honorable (referring to himself) will expel there from the meaner.' 'Umar said: 'Let me strike the neck of this hypocrite.' He (s.a.w) said: 'Let him be, lest the people say that Muhammad kills his Companions.'"

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ میں نبی ﷺکے ساتھ تھے ، وہاں ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ، انصاری نے کہا: اے انصار! مدد کرو، مہاجر نے کہا: اے مہاجرو ! مدد کرو، رسول اللہﷺنے فرمایا: یہ کیا زمانہ جاہلیت کی طرح چیخ و پکار ہے ؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک مہاجر آدمی نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ،آپﷺنے فرمایا: اس معاملہ کو چھوڑو ، یہ ایک ناشائستہ حرکت ہے۔عبد اللہ بن ابی نے یہ سنا تو کہنے لگا: اچھا، انہوں نے ایساکیا ہے ، اللہ کی قسم! جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس منافق کی گردن اڑانے کی اجازت دیجئے ، آپﷺنے فرمایا: اس کو رہنے دو ، کہیں لوگ یہ نہ کہیں گے کہ محمدﷺاپنے اصحاب کو قتل کررہے ہیں۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا، عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ الْقَوَدَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهَا، فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ. قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ: فِي رِوَايَتِهِ عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "A man of the Muhajirin hit a man of the Ansar from behind. He came to the Messenger of Allah (s.a.w) and asked him to settle the score and the Prophet (s.a.w) said: 'Keep away from it, it is disgusting."'

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کی سرین پر مارا ، وہ نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے بدلہ کی درخواست کی ، آپﷺنے فرمایا: اس معاملہ کو چھوڑو ، یہ ایک ناشائستہ حرکت ہے ، عمرو کی روایت میں "سمعت جابرا" کے الفاظ ہیں۔

Chapter No: 17

بابُ تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ

Regarding; the mutual kindness, love and support amongst the believers

مومنین کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت و اتحاد کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو أُسَامَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا.

It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The believers are like a structure, parts of which support other parts."'

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے بہ منزلہ عمارت ہے ، جس طرح ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ ، وَتَرَاحُمِهِمْ ، وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى.

It was narrated that An-Nu'man bin Bashir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The likeness of the believers in their mutual love, mercy and compassion is that of the body; when one part of it is in pain, the rest of the body joins it in restlessness and fever."'

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مسلمانوں کی آپس میں دوستی اور حرمت اور شفقت کی مثال جسم کی طرح ہے ، جب جسم کا کوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو بخار اور بے خوابی میں سارا جسم اس کا شریک ہوتا ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.

A similar report (as Hadith no. 6586) was narrated from An-Nu'man bin Bashir, from the Prophet (s.a.w).

یہ حدیث ایک اور سند سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ.

It was narrated that An-Nu'man bin Bashir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The believers are like a single person; if his head hurts, the rest of his body joins him in fever and restlessness."'

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مسلمان باہم ایک شخص کی طرح ہیں اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بخار اور بے خوابی میں سارا جسم اس کا شریک ہوتا ہے۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ ، إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ ، اشْتَكَى كُلُّهُ ، وَإِنِ اشْتَكَى ، رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ.

It was narrated that An-Nu'man bin Bashir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The Muslims are like a single person. If his eye is in pain, his whole body is in pain, and if his head is in pain, his whole body is in pain."'

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مسلمان باہم ایک شخص کی طرح ہیں اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر ا س کے سر میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

A similar report (as Hadith no. 6589) was narrated from An-Nu'man bin Bashir, from the Prophet (s.a.w).

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس کی مثل روایت کی ہے۔

Chapter No: 18

باب النَّهْيِ عَنِ السِّبَابِ

The forbiddance of abusing

گالی دینے کی ممانعت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالاَ فَعَلَى الْبَادِئِ ، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "When two people revile one another, the one who starts it is the sinner, so long as the one who is wronged does not transgress."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب دو آدمی ایک دوسرے کو گالیاں دیں تو اس کاگناہ ابتداء کرنے والے کو ہوگا بشرطیکہ مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے۔

Chapter No: 19

باب اسْتِحْبَابِ الْعَفْوِ وَالتَّوَاضُعِ

The merits of forgiving and humbleness

عفو اور انکسار کی فضیلت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ ، وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ ، إِلاَّ عِزًّا ، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Charity does not decrease wealth. No one forgives, but Allah increases him in honor, and no one humbles himself before Allah but Allah raises him in status."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا ، بندے کے معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور جو آدمی بھی اللہ کی رضا کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔

Chapter No: 20

باب تَحْرِيمِ الْغِيبَةِ

Regarding the forbiddance of backbiting

غیبت کی حرمت کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ ؟ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Do you know what backbiting is?" They said: "Allah and His Messenger know best." He said: "When you say about your brother something that he dislikes." They said: "What if what I say about my brother is true?" He said: "If it is true then you have backbitten him, and if it is not true then you have slandered him."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں ، آپﷺنے فرمایا: غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کے اس عیب کا ذکر کرو جس کا ذکر اس کو ناپسند ہو ، کہا گیا : یہ بتائے کہ اگر میرے بھائی میں وہ عیب ہو جس کا میں ذکر کروں ؟ آپﷺنے فرمایا: اگر تم نے وہ عیب بیان کیا جو اس میں ہے تبھی تو تم نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر وہ عیب بیان کیا ہے جو اس میں نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتا ن لگا یا ہے۔

1234Last ›