Sayings of the Messenger

 

12345Last ›

Chapter No: 21

بابُ بِشَارَةِ مَنْ سَتَرَ اللَّهُ تَعَالَى عَليه فِي الدُّنْيَا بِأَنْ يَسْتُرَ عَلَيْهِ فِي الآخِرَةِ

There are glad tidings for the one whose faults atre concealed by Allah in this world, as He will also conceal his faults in the hereafter

جس آدمی کی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پردہ پوشی کی اس کو آخرت میں پردہ پوشی کی بشارت

حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا ، إِلاَّ سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "Allah does not conceal a person in this world but Allah will conceal him on the Day of Resurrection."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جس آدمی پر اللہ تعالیٰ دنیا میں پردہ رکھتا ہے قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ اس کا پردہ رکھے گا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا ، إِلاَّ سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "No one conceals another person in this world, but Allah will conceal him on the Day of Resurrection."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جو آدمی دنیا میں کسی کے عیب کا پردہ رکھے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے عیب کا پردہ رکھے گا۔

Chapter No: 22

باب مُدَارَاةِ مَنْ يُتَّقَى فُحْشُهُ

About favoring someone in order to avoid his vile behavior

جس آدمی سے درشت کلامی کا خدشہ ہو اس سے نرمی سے گفتگو کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَجُلاً اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: ائْذَنُوا لَهُ ، فَلَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ، أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلاَنَ لَهُ الْقَوْلَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ، قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ ؟ قَالَ: يَا عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، مَنْ وَدَعَهُ ، أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ.

'Aishah narrated that a man asked permission to enter upon the Prophet (s.a.w) and he said: "Let him in, what a bad (man of his tribe, on what a bad member of the tribe he is!" When he came in, he spoke kindly to him. 'Aishah said: I said: 'O Messenger of Allah, you said what you said about him, then you spoke kindly to him?' He said: 'O 'Aishah, the worst of people in status before Allah on the Day of Resurrection will be those whom the people leave alone or abandon in order to protect themselves from their vile behavior."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبیﷺسے ملاقات کی اجازت طلب کی ، آپﷺنے فرمایا: اس کو اجازت دے دو ، یہ آدمی اپنے قبیلہ کا برا آدمی ہے ، جب وہ آدمی آیا تو آپﷺنے اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اےاللہ کے رسولﷺ! آپ نے اس کے بارے میں وہ فرمایا جو فرمایا تھا ، پھر آپﷺنے اس سے نرمی سے بات کی ، آپﷺنے فرمایا:اے عائشہ ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے برا آدمی وہ ہوگا جس کی بدزبانی کی وجہ سے لوگ اس سے ملنا ترک کردیں۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ , مِثْلَ مَعْنَاهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: بِئْسَ أَخُو الْقَوْمِ وَابْنُ الْعَشِيرَةِ هَذَا.

A similar Hadith (as no. 6596) was narrated from Ibn Al-Munkadir with this chain of narrators. But he did not say: What a bad man of his tribe, or what a bad member of the tribe he is!

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ، اس میں " بئس اخو القوم" اور " ابن العشیرہ " کا لفظ ہے۔

Chapter No: 23

باب فَضْلِ الرِّفْقِ

Regarding the merits of gentleness

نرمی کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ ، يُحْرَمِ الْخَيْرَ.

It was narrated from Jarir that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever is deprived of gentleness, he is deprived of goodness."

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: جو آدمی نرمی سے محروم رہا وہ خیر سے محروم رہا ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ (ح) وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا وقَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا ، جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ الْعَبْسِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ ، يُحْرَمِ الْخَيْرَ.

It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Hilal Al-'Absi said: I heard Jarir say: I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "Whoever is deprived of gentleness, he is deprived of goodness."

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی نرمی سے محروم رہا وہ خیر سے محروم رہا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلاَلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حُرِمَ الرِّفْقَ ، حُرِمَ الْخَيْرَ ، أَوْ مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ ، يُحْرَمِ الْخَيْرَ.

Jarir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever is deprived of gentleness, he is deprived of goodness."'

حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جو آدمی نرمی سے محروم رہا وہ خیر سے محروم رہا ۔


حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ يَعْنِي بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لاَ يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ ، وَمَا لاَ يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ.

It was narrated from 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w) ' that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "O 'Aishah, Allah is Gentle and loves gentleness, and He rewards for gentleness what He does not reward for harshness or for anything else."

نبی ﷺکی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ رفیق ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے ، وہ نرمی کی وجہ سے اتنی چیزیں عطا کرتا ہے جوسختی کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے عطا نہیں فرماتا۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِقْدَامِ ، وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِنَّ الرِّفْقَ لاَ يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلاَّ زَانَهُ ، وَلاَ يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلاَّ شَانَهُ.

It was narrated from 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w) ' that the Prophet (s.a.w) said: "There is no gentleness in a thing but it adorns it, and it is not removed from something but it mars it."

نبی ﷺکی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس کو خوبصورت بنادیتی ہے، اور جس چیز سے نرمی نکال دی جاتی ہے اس کو بدصورت کردیتی ہے۔


حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: رَكِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا ، فَكَانَتْ فِيهِ صُعُوبَةٌ ، فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ ... ، ثُمَّ ذَكَرَ ، بِمِثْلِهِ.

Al-Miqdam bin Shuraih bin Hani' narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6602), and he added in the Hadith: "Aishah rode a camel, and it was being difficult and she started to yell at it. The Messenger of Allah (s.a.w) said to her: 'You should be gentle."' Then he mentioned a similar report.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک سرکش اونٹ پر سوار ہوئیں اور اس کو چکر دینے لگیں ، رسول اللہﷺنے فرمایا: اے عائشہ! نرمی کرو، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔

Chapter No: 24

بابُ النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا

The forbiddance of cursing animals etc

جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَامْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى نَاقَةٍ ، فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْهَا، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَدَعُوهَا ، فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ. قَالَ عِمْرَانُ: فَكَأَنِّي أَرَاهَا الآنَ تَمْشِي فِي النَّاسِ ، مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ.

It was narrated that 'Imran bin Husain said: "While the Messenger of Allah (s.a.w) was on one of his journeys, a woman from among the Ansar was on a camel and it shied, so she cursed it. The Messenger of Allah (s.a.w) heard that and said: 'Unload (the camel) and let it go, for it is cursed."' 'Imran said: "It is as if I can see it now, walking among the people, with no one paying any attention to it."

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺایک سفر میں جارہے تھے ، انصار کی ایک عورت اونٹنی پر سوار تھی ، اچانک وہ اونٹنی بدکنے لگی ، اس عورت نے اس پر لعنت کی ، رسول اللہﷺنے سن لیا ، آپﷺنے فرمایا: اونٹنی پر جو سامان ہے وہ لے لو ، اور اس اونٹنی کو چھوڑ دو ، کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے ، حضرت عمران کہتے ہیں کہ میری آنکھوں کے سامنے اب بھی یہ منظر ہے کہ وہ اونٹنی لوگوں کے درمیان چل پھر رہی ہے اور اس سے کوئی آدمی تعرض نہیں کررہا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ، بِإِسْنَادِ إِسْمَاعِيلَ، نَحْوَ حَدِيثِهِ. إِلاَّ أَنَّ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ: قَالَ عِمْرَانُ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا، نَاقَةً وَرْقَاءَ. وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ: فَقَالَ: خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَأَعْرُوهَا، فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ.

A similar Hadith (as no. 6604) was narrated from Ayyub, with the chain of narrators of Isma'il, except that in the Hadith of Hammad it says: "Imran said: 'It is as if I can see it, an ash-colored camel."' In the Hadith of Ath-Thaqafi it says: "Unload it and make its back bare, for it is cursed."

یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے ، ایک سند سے یہ مروی ہے کہ حضرت عمران نے کہا: گویا میں اس خاکی اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں ، دوسری سند میں رسول اللہﷺکا یہ ارشاد ہے جو سامان اس اونٹنی پر ہے وہ لے لو اور اس کی پیٹھ کو خالی کرکے چھوڑ دو ، کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا جَارِيَةٌ عَلَى نَاقَةٍ ، عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ ، إِذْ بَصُرَتْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَضَايَقَ بِهِمِ الْجَبَلُ ، فَقَالَتْ: حَلْ ، اللَّهُمَّ الْعَنْهَا ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تُصَاحِبْنَا نَاقَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ.

It was narrated that Abu Barzah Al-Aslami said: "While a slave girl was riding a she-camel which was carrying some of the people's luggage, she saw the Prophet (s.a.w) ' but the mountain path started to get narrower. She said: 'Move on, O Allah curse her.' The Prophet (s.a.w) said: 'Do not let the she-camel on which there is a curses accompany us."'

حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک باندی ایک اونٹنی پر سوار تھی جس پر لوگوں کا کچھ سامان رکھا ہوا تھا ، اچانک اس نے نبی ﷺکو دیکھا اس حال میں کہ ان کے درمیان پہاڑ کا تنگ درہ تھا ، اس باندی نے کہا: "چل" اے اللہ! اس پر لعنت کر ، تب نبیﷺنے فرمایا: ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ رہے جس پر لعنت کی گئی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ (ح) وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ لاَ أَيْمُ اللهِ لاَ تُصَاحِبْنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنَ اللهِ ، أَوْ كَمَا قَالَ.

It was narrated from Sulaiman At-Taimi with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6606). In the Hadith of Al-Mu'tamir it adds: (The Messenger of Allah (s.a.w) said :) "No, by Allah, no camel on which there is a curse from Allah will accompany us."

یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے ، ایک میں یہ ہے کہ " اللہ کی قسم! ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ رہے جس پر اللہ کی طرف سے لعنت ہے"، یا آپﷺنے اس جیسا فرمایا ہے۔


حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ ، وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لاَ يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "It is not appropriate for a Siddiq (sincere and true believer) to be an invoker of curses."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: صدیق کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔


حَدَّثَنِيهِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as Hadith no. 6608) was narrated from Al-'Ala' bin 'Abdur-Rahman with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ ، بَعَثَ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ بِأَنْجَادٍ مِنْ عِنْدِهِ ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، قَامَ عَبْدُ الْمَلِكِ مِنَ اللَّيْلِ ، فَدَعَا خَادِمَهُ ، فَكَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ ، فَلَعَنَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَتْ لَهُ أُمُّ الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ ، لَعَنْتَ خَادِمَكَ حِينَ دَعَوْتَهُ ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلاَ شُهَدَاءَ ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

It was narrated from Zaid bin Aslam that 'Abdul-Malik bin Marwan sent some domestic goods for adornment to Umm Ad-Darda'. One night, 'Abdul-Malik got up in the night and called his servant, and it is as if he was slow in responding, so he cursed him. Umm Ad-Darda' said to him the following morning: I heard you last night cursing your servant when you called him. She said: I heard Abu Ad-Darda' say: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Those who curse will not be intercessors or witnesses on the Day of Resurrection."

زید بن اسلم سے روایت ہے کہ عبد الملک بن مروان نے اپنے پاس سےحضرت ام الدرداء کو گھر کا کچھ آرائشی سامان بھیجا، پھر ایک رات کو عبد الملک اٹھا ، اور اپنے خادم کو آواز دی ، اس نے دیر کردی ، عبد الملک نے اس پر لعنت کی ، جب صبح ہوئی تو حضرت ام الدرداء نے کہا: میں نے رات کو سنا ، تم نے جس وقت اپنے خادم کو بلایا تم نے اس پر لعنت کی اور میں نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے یہ سنا ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ شفاعت کریں گے نہ گواہی دیں گے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كِلاَهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ.

A Hadith like that of Hafs bin Maisarah (no. 6610) was narrated from Zaid bin Aslam with this chain of narrators.

یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی مروی ہے ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَأَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: إِنَّ اللَّعَّانِينَ لاَ يَكُونُونَ شُهَدَاءَ ، وَلاَ شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

It was narrated that Abu Ad-Darda' said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "Those who curse will not be witnesses or intercessors on the Day of Resurrection."'

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ شہادت دیں گے ، اور نہ شفاعت کریں گے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ ، عَنْ يَزِيدَ ، وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ قَالَ: إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً.

It was narrated that Abu Hurairah said: "It was said: 'O Messenger of Allah, pray against the idolaters.' He said: 'I was not sent as an invoker of curses, rather I was sent as a mercy.'"

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺسے عرض کیا گیا : مشرکین کے خلاف دعا کیجئے آپﷺنے فرمایا: مجھے لعنت کرنے والا بناکر نہیں بھیجا گیا ، مجھے صرف رحمت بناکر بھیجا گیا ہے۔

Chapter No: 25

بابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَبَّهُ أَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ أَهْلاً لِذَلِكَ كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً

Regarding one upon whom the Prophet ﷺ cursed or reviled or prayed against and he does not deserve that, it will be a purification, reward and mercy for him.

نبیﷺکا غیرمستحق پر لعنت کرنا یا اس کے خلاف دعائے ضرر کرنا اس کےلیے اجر و رحمت کا باعث ہے

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلاَنِ فَكَلَّمَاهُ بِشَيْءٍ ، لاَ أَدْرِي مَا هُوَ فَأَغْضَبَاهُ ، فَلَعَنَهُمَا ، وَسَبَّهُمَا ، فَلَمَّا خَرَجَا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا ، مَا أَصَابَهُ هَذَانِ ، قَالَ : وَمَا ذَاكِ قَالَتْ : قُلْتُ : لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا ، قَالَ : أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي ؟ قُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ ، أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا.

It was narrated that 'Aishah said: "Two men entered upon the Messenger of Allah (s.a.w) and spoke to him about something; I do not know what it was. They made him angry and he cursed them and reviled them, then when they went out, I said: '0 Messenger of Allah, some good will reach everyone but it will not reach these two.' He (s.a.w) said: 'Why is that?' I said: 'Because you cursed them and reviled them.' He said: 'Do you not know what condition I made with my Lord? I said: O Allah, I am only human, so any Muslim whom I curse or revile, make it purification and reward for him.'"

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺکے پاس دو آدمی آئے اور نہ جانے کسی مسئلہ پر آپ سے گفتگو کی جس کے نتیجے میں انہوں نے آپﷺکو ناراض کردیا ، آپﷺنے ان پر لعنت کی اوران کی مذمت کی ، جب وہ چلے گئے تو میں نے عرض کیا: ان دونوں کو جو مصیبت پہنچی ہے ، وہ کسی اور نہیں پہنچی ہوگی ، آپﷺنے فرمایا: وہ کیسے؟ میں نے عرض کیا: آپ نے ان کو لعنت اور برا کہا ہے ، آپ ﷺنے فرمایا ہے کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں نے اپنے رب سے کیا شرط لگائی ہے ؟ ، میں نے کہا: اے اللہ! میں صرف بشر ہوں ، میں جس مسلمان کو لعنت یا برا کہوں تو تو اس لعنت کو اس کے گناہوں کی پاکیزگی اور اجر کا سبب بنادے۔


حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ. وقَالَ: فِي حَدِيثِ عِيسَى فَخَلَوَا بِهِ فَسَبَّهُمَا وَلَعَنَهُمَا وَأَخْرَجَهُمَا.

A Hadith like that of Jarir (no. 6614) was narrated from Al-A'mash with this chain of narrators, and it says in the Hadith of 'Eisa: "They met privately with him, and he reviled them, cursed them and told them to leave.''

یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے ، عیسیٰ کی سند سے مروی ہے ، آپ نے ان سے خلوت میں ملاقات کی ، ان پر سب و لعنت کی اور ان کو نکال دیا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ ، أَوْ لَعَنْتُهُ ، أَوْ جَلَدْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O Allah, I am only human, so any man among the Muslims whom I revile or curse or flog, make it purification and mercy for him."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اے اللہ! میں صرف بشر ہوں ، سو میں جس مسلمان کو برا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اس کو سزا دوں تو اس کو اس کے لیے پاکیزگی اوررحمت بنادے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، إِلاَّ أَنَّ فِيهِ زَكَاةً وَأَجْرًا.

A similar report (as Hadith no. 6616) was narrated from Jabir from the Prophet (s.a.w) ' except that in it (it says): "Purification and reward."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس حدیث کی طرح روایت کی ہے اس میں پاکیزگی اور اجر کا ذکر ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، مِثْلَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيسَى جَعَلَ وَأَجْرًا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجَعَلَ وَرَحْمَةً فِي حَدِيثِ جَابِرٍ.

A similar Hadith (as no. 6616) was narrated from Al-A'mash with the chain of narrators of 'Abdullah bin Numair, except that in the narration of 'Eisa it says "make" and "reward", in the Hadith of Abu Hurairah, and it says "make" and "mercy" in the Hadith of Jabir.

یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے ایک سے اجر اور دوسری سے رحمت مروی ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ، لَعَنْتُهُ، جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلاَةً وَزَكَاةً، وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "O Allah, I am making a covenant with You that You will never break. I am only human, so any believer whom I harm, scold, curse or flog, make it a prayer, purification and a means by which he will draw close to You on the Day of Resurrection."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے دعا کی : اے اللہ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور تو عہد کے خلاف نہیں کرتا ، میں صرف ایک بشر ہوں ، سو میں جس بشر کو تکلیف دوں ، یا اس کو برا کہوں ، اس پر لعنت کروں، یا اس کو سزا دوں ، اس کو اس آدمی کے لیے رحمت ، پاکیزگی اور ایسا درجہ قرب بنادے کہ وہ قیامت کے دن تیرے قریب ہو۔


حَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ: أَوْ جَلَدُّهُ.قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هِيَ جَلَدْتُهُ.

Abu Az-Zinnad narrated a similar report (as Hadith no. 6619) with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اورسند سے حسب سابق مروی ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہےکہ "جلدہ " ابو الزناد نے کہا: یہ حضرت ابو ہریرہ کی زبان میں ہے ، بلکہ یہ "جلدتہ " کا لفظ ہے۔


حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.

A similar report (as Hadith no. 6619) was narrated from Abu Hurairah from the Prophet (s.a.w).

یہ حدیث ایک اور سند سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ ، يَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ ، وَإِنِّي قَدِ اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ ، أَوْ سَبَبْتُهُ ، أَوْ جَلَدْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً ، وَقُرْبَةً ، تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "O Allah, Muhammad is only human, and he gets angry as any human being gets angry. I am making a covenant with You that You will never break. I am only human, so any believer whom I harm, revile or flog, make it an expiation, and a means by which he will draw close to You on the Day of Resurrection."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے دعا کی : اے اللہ! محمد صرف بشر ہے ، جس طرح بشر کو غصہ آتا ہے اسے غصہ آتا ہے ، اور میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور تو عہد کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرتا ، سو میں جس مومن کو تکلیف دوں ، یا برا کہوں ، یا اس کو سزا دوں تو اس کو اس کے لیے کفارہ اور ایسا قرب بنادے کہ وہ قیامت کے دن تیرے قریب ہو۔


حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

It was narrated from Abu Hurairah that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "O Allah, any believing slave (of You) whom I revile, make that a means for him to draw close to You on the Day of Resurrection."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے دعا کی : اے اللہ ! میں جس بندۂ مومن کو برا کہوں، تو اس کو اس بندے کے لیے قیامت کے دن قرب بنادے ۔


حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ ، أَوْ جَلَدْتُهُ ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ كَفَّارَةً لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

It was narrated from Abu Hurairah that he said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'O Allah, I am making a covenant with You that You will never break. Any believer whom I harm, revile or flog, make that an expiation for him on the Day of Resurrection."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہﷺنے دعا کی : اے اللہ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں ، تو عہد کے خلاف نہیں کرتا ، میں جس مومن کو بھی برا کہوں یا سزا دوں تو قیامت کے دن اس کو اس کے لیے کفارہ بنادے۔


حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، أَيُّ عَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ ، أَوْ شَتَمْتُهُ ، أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا.

Jabir bin 'Abdullah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'I am only human, and I have made a condition with my Lord, Glorified and Exalted is He, that any Muslim whom I revile or scold, that will be purification and reward for him."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ میں صرف بشر ہوں اور میں نے اپنے رب عزوجل سے یہ عہد کیا ہے کہ میں جس بندۂ مسلمان کو سب و شتم کروں تو اس سب و شتم کو اس کے حق میں پاکیزگی اور اجر بنادے۔


حَدَّثَنِيهِ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ (ح) وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 6625) was narrated from Ibn Juraij with this chain of narrators.

یہ حدیث دو اور سندوں سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ ، فَرَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ ، فَقَالَ : آنْتِ هِيَهْ ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ ، لاَ كَبِرَ سِنُّكِ فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : مَا لَكِ ؟ يَا بُنَيَّةُ قَالَتِ الْجَارِيَةُ : دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ لاَ يَكْبَرَ سِنِّي ، فَالآنَ لاَ يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا ، أَوْ قَالَتْ قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا ، حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللهِ أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي قَالَ : وَمَا ذَاكِ ؟ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ : زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لاَ يَكْبَرَ سِنُّهَا ، وَلاَ يَكْبَرَ قَرْنُهَا ، قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي ، أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ ، وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ ، فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ ، مِنْ أُمَّتِي ، بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ ، أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً ، وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. وقَالَ أَبُو مَعْنٍ: يُتَيِّمَةٌ ، بِالتَّصْغِيرِ ، فِي الْمَوَاضِعِ الثَّلاَثَةِ مِنَ الْحَدِيثِ.

Anas bin Malik said: "Umm Sulaim," - who was the mother of Anas - "had an orphan girl in her care. The Messenger of Allah (s.a.w) saw the orphan girl and said: 'Is it you? You have grown, may you never grow old.' The girl went back to Umm Sulaim weeping, and Umm Sulaim said: 'What is the matter with you, O my daughter? 'The girl said: 'The Prophet of Allah (s.a.w) prayed against me, he prayed that I would never grow old; now I will never grow any older.' Umm Sulaim went out, hastily wrapping her Khimar around her head, until she met the Messenger of Allah (s.a.w). "The Messenger of Allah (s.a.w) said to her: 'What is the matter with you, O Umm Sulaim?' She said: 'O Prophet of Allah, did you pray against my orphan girl?' He said: 'What is that, O Umm Sulaim?' She said: 'She says that you prayed that she might never grow in age and never grow old.' The Messenger of Allah (s.a.w) smiled and said: 'O Umm Sulaim, do you not know that I made a condition with my Lord? I said: "I am only human; sometimes I am pleased as other human beings are pleased and sometimes I become angry as other human beings become angry. Anyone among my Ummah whom I pray against and they do not deserve it, make that a purification for him, and a cleansing (from sin), and a means by which he may draw close (to Allah) on the Day of Resurrection.'"

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہ ام انس تھی ، رسول اللہ ﷺنے اس کو دیکھا تو فرمایا: تو تو وہی ہے تو بڑی ہوگئی ہے ،تیری عمر بڑی نہ ہو ، وہ لڑکی روتی ہوئی حضرت ام سلیم کے پاس گئی ، حضرت ام سلیم نے پوچھا: اے بیٹی ! تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا: نبی ﷺنے میرے لیے دعائے ضرر کی ہے کہ میری عمر زیادہ نہ ہو ، اب میری عمر ہرگز زیادہ نہ ہوگی ، یا کہا: اب میرا زمانہ زیادہ نہیں ہوگا ، حضرت ام سلیم جلدی سے دوپٹہ اوڑھتی ہوئی نکلیں یہاں تک کہ رسول اللہﷺسے ملیں ، رسو ل اللہﷺنے ان سے پوچھا : اے ام سلیم! کیا بات ہے ؟ حضرت ام سلیم نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ!کیا آپ نے میری یتیم لڑکی کے خلاف دعاء ضرر کی ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: وہ کیا ؟ حضرت ام سلیم نے کہا: وہ کہتی ہے کہ آپﷺنے دعا کی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو ، یا فرمایا: اس کا زمانہ زیادہ نہ ہو، رسول اللہ ﷺہنس پڑے ، پھر آپﷺنے فرمایا: اے ام سلیم! کیا تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ میں نے اپنے رب سے یہ عہد لیا ہے کہ میں ایک بشر ہوں ، جس طرح بشر راضی ہوتے ہیں ، میں راضی ہوتا ہوں ، اور جس طرح بشر غصہ ہوتے ہیں میں بھی غصہ ہوتا ہوں ، میں اپنی امت میں سے جس غیر مستحق کے لیے دعا ضرر کروں اس دعا کو اس کے لیے پاکیزگی ، رحمت اور ایسا قرب بنادے جس کے ساتھ وہ قیامت کے دن اللہ کے قریب ہو ، راوی ابو معن نے تینوں جگہ تصغیر کے ساتھ یتیمہ کہا ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ ، قَالَ فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً ، وَقَالَ : اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ : فَجِئْتُ فَقُلْتُ : هُوَ يَأْكُلُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِيَ : اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ : فَجِئْتُ فَقُلْتُ : هُوَ يَأْكُلُ ، فَقَالَ : لاَ أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ. قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : قُلْتُ لِأُمَيَّةَ : مَا حَطَأَنِي ؟ قَالَ : قَفَدَنِي قَفْدَةً.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "I was playing with some other boys when the Messenger of Allah (s.a.w) came, and I hid behind a door. He came and patted me on the back, and said: 'Go and call Mu'awiyah for me.' I came and said: 'He is eating.' Then he said to me: 'Go and call Mu'awiyah for me.' I came and said: 'He is eating.' Then he said to me: 'Go and call Mu'awiyah for me.' I came and said: 'He is eating.' He said: 'May Allah never fill his belly."'

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، اچانک رسو ل اللہﷺتشریف لائے ، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا ، آپ نے آکر میرے شانوں کے درمیان تھپکی دی اور فرمایا: جاؤ میرے لیے معاویہ کو بلاکر لاؤ ، میں نے آپ سے آکر کہا: وہ کھانا کھارہے ہیں ؟ آپﷺنے پھر مجھ سے فرمایا: جاؤ معاویہ کو بلاؤ ، میں نے پھر آکر کہا: وہ کھانا کھارہے ہیں ، آپﷺنے فرمایا: " اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے"۔ ابن المثنی کہتے ہیں کہ میں نے امیہ سے "حطانی " کے معنی پوچھا : انہوں نے کہا: تھپکی دینا۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.

Ibn 'Abbas said: "I was playing with some other boys, and the Messenger of Allah (s.a.w) came, and I hid from him ...'' then he mentioned a similar report (as Hadith no. 6628).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، تو اچانک رسو ل اللہﷺتشریف لائے ، میں آپﷺسے چھپ گیا ، اس کے بعد حسب سابق مروی ہے۔

Chapter No: 26

بابُ ذَمِّ ذِي الْوَجْهَيْنِ وَتَحْرِيمِ فِعْلِهِ

The condemnation of two- faced person and the forbiddance of his act

دوغلے آدمی کی مذمت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ، ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ ، وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Among the worst of people is the one who is two-faced, showing one face to these people, and another face to those."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بدترین آدمی وہ ہے جو دو چہروں والا ہو ، ان لوگوں سے ایک چہرے میں ملاقات کرے اور ان لوگوں سے دوسرے چہرے میں ملاقات کرے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ ، وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ.

It was narrated from Abu Hurairah that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "The worst of people is the one who is two-faced, who shows one face to these people, and another face to those."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بدترین آدمی وہ ہے جو دو چہروں والا ہو ، ان لوگوں سے ایک چہرے میں ملاقات کرے اور ان لوگوں سے دوسرے چہرے میں ملاقات کرے۔


حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ح) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ ، وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'You will find that among the worst of people is the one who is two-faced, who shows one face to these people and another face to those.'"

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم لوگوں میں بدترین آدمی اس کو پاؤگےجس کے دو چہرے ہوں ، ان لوگوں سے ایک چہرے کے ساتھ ملاقات کرے اور ان لوگوں سے دوسرے چہرے کے ساتھ۔

Chapter No: 27

باب تَحْرِيمِ الْكَذِبِ وَبَيَانِ مَا يُبَاحُ مِنْهُ

The forbiddance of lying and what is allowed out of it

جھوٹ کی حرمت اور اس کے جواز کی صورتیں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ ، اللاَّتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ ، وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ يُرَخَّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلاَّ فِي ثَلاَثٍ : الْحَرْبُ ، وَالإِصْلاَحُ بَيْنَ النَّاسِ ، وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا.

Humaid bin 'Abdur-Rahman bin 'Awf narrated that his mother, Umm Kulthum bint 'Uqbah bin Abi Mu'ait - who was one of the first Muhajir women who swore allegiance to the Prophet (s.a.w) - told him that she heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "He is not a liar who reconciles between people, saying good things and conveying good things." Ibn Shihab said (in his Hadith that she said): "I did not hear of any concession being granted concerning anything that people call lies except in three cases: War, reconciling among people, and what a man says to his wife or a woman says to her husband."

حضرت ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط رضی اللہ عنہا وہ ان عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے ابتداء ہجرت کی اور نبی ﷺسے بیعت کی ، وہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺسنا ، آپﷺنے فرمایا: وہ آدمی جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں میں صلح کرائے ، اچھی بات کہے اور دوسرے کی طرف اچھی بات منسوب کرے ، ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں سے صرف تین موقعوں پر جھوٹ کی رخصت سنی ہے : جنگ میں ، دو آدمیوں میں صلح کرانے کےلیے اور ایک آدمی کا بیوی (کوراضی کرنے کے لیے اس )سے جھوٹ بولنا اور عورت کا اپنے خاوند سے جھوٹ بولنا۔


حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ. غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ : وَقَالَتْ : وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ إِلاَّ فِي ثَلاَثٍ ، بِمِثْلِ مَا جَعَلَهُ يُونُسُ ، مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ.

A similar report (as Hadith no. 6633) was narrated by Muhammad bin Muslim bin 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin Shihab with this chain of narrators, except that in the Hadith of Salih it says: "She said: 'I did not hear him grant any concession concerning anything that people call lies except in three cases"' - like the report narrated by Yunus from Ibn Shihab.

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس سند کے ساتھ ان تینوں باتوں میں جھوٹ کی اجازت حضرت ام کلثوم بنت عقبہ سے مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، إِلَى قَوْلِهِ: وَنَمَى خَيْرًا وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.

It was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6633), up to the words: "... and conveying good things" and he did not mention what comes after that.

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں دوسرے کی طرف خیر کی نسبت کرنے کا ذکر ہے ، اس کے بعد حدیث کا باقی حصہ نہیں ہے۔

Chapter No: 28

بابُ تَحْرِيمِ النَّمِيمَةِ

The forbiddance of tale bearing

چغلی کی حرمت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ ؟ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ. وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا ، وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا.

It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said: "Muhammad (s.a.w) said: 'Shall I not tell you what calumny is? It is malicious gossip that is spread among people.' And Muhammad (s.a.w) said: 'A man may tell the truth until he is recorded as a speaker of truth, and he may lie until he is recorded as a liar."'

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺنے فرمایا: کیا میں تم کو یہ نہ بتاؤں کہ کیا چیز سخت حرام ہے ؟ یہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان پھیل جاتی ہے اور حضرت محمد ﷺنے فرمایا: انسان سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔

Chapter No: 29

باب قُبْحِ الْكَذِبِ وَحُسْنِ الصِّدْقِ وَفَضْلِهِ

The strong repugnance to lying, and the goodness of truthfulness and its merits

جھوٹ کا قبح اور سچ کی فضیلت

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا ، جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا ، وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا.

It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Truthfulness leads to righteousness, and righteousness leads to Paradise. A man may speak the truth until he is recorded with Allah as truthful. Lying leads to wickedness and wickedness leads to the Fire. A man may tell lies until he is recorded with Allah as a liar."'

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے ، ایک آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق لکھ دیا جاتا ہے اورجھوٹ برائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور برائی جہنم کا راستہ دکھاتی ہے ، ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا ، وَإِنَّ الْكَذِبَ فُجُورٌ ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ ، حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا. قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Truthfulness is righteousness and righteousness leads to Paradise. A person may endeavor to tell the truth until he is recorded (with Allah) as truthful. Lying is wickedness and wickedness leads to the Fire. A man may endeavor to tell lies until he is recorded as a liar."

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: سچ نیکی ہے اورنیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور بندہ سچ کا ارادہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق لکھ دیا دجاتا ہے ، اور جھوٹ برائی ہے اور برائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے ، اور بندہ جھوٹ کا ارادہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ، ابن ابی شیبہ کی روایت میں "عن النبی" ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ كَذَّابًا.

It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'I enjoin you to be truthful, for truthfulness leads to righteousness and righteousness leads to Paradise. A man may continue to tell the truth and endeavor to be truthful until he is recorded with Allah as truthful. And beware of lying, for lying leads to wickedness, and wickedness leads to the Fire. A man may continue to tell lies and endeavor to tell lies, until he is recorded with Allah as a liar.'"

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: سچ کو لازم رکھو کیونکہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ، اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ آدمی ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کا ارادہ کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اورجھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اورجہنم کی طرف لے جاتا ہے ، آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اورجھوٹ کا ارادہ کرتاہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔


حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ عِيسَى: وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ ، وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ: حَتَّى يَكْتُبَهُ اللَّهُ.

It was narrated from Al-A'mash with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6639), but in the Hadith of 'Eisa it does not say: "... and endeavor to be truthful, and endeavor to tell lies.'' In the Hadith of Ibn Mus-hir it says: "... until Allah records him.''

یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے ، عیسیٰ کی روایت میں ہے : صدق کا ارادہ کرتا ہے اور کذب کا ارادہ کرتا ہے ، اور ابن مسہر کی روایت میں ہے یہاں تک کہ اللہ اس کو لکھ دیتا ہے۔

Chapter No: 30

بابُ فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَبِأَيِّ شَيْءٍ يَذْهَبُ الْغَضَبُ

The merit of self-control at the time of anger and what takes it away

غصہ کے وقت نفس پر قابو پانے کی فضیلت اور کس چیز سے غصہ جاتا رہتا ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ ؟ قَالَ قُلْنَا : الَّذِي لاَ يُولَدُ لَهُ ، قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ بِالرَّقُوبِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا قَالَ : فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ ؟ قَالَ قُلْنَا : الَّذِي لاَ يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ ، قَالَ : لَيْسَ بِذَلِكَ ، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.

It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Who do you regard as the Raqub among you?' We said: 'The one who has no children.' He said: 'That is not the Raqub; rather it is a man who does not send any of his children on ahead.' He said: 'Who do you regard as the wrestler among you?' We said: 'The one who cannot be wrestled to the ground by other men.' He said: 'That is not the one; rather it is the one who controls himself at times of anger."'

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم لوگ رقوب کا معنی سمجھتے ہو؟ ہم نے عرض کیا: جس کی کوئی اولاد نہ ہو ، آپﷺنے فرمایا: یہ رقوب نہیں ہے ، رقوب وہ آدمی ہے جس نے (آخرت میں پیشوائی کے لیے ) پہلے اولاد نہ بھیجا ہو،آپﷺنے فرمایا: تم پہلوان کسے کہتے ہو؟ ہم نے کہا: جس کو لوگ پچھاڑ نہ سکیں ، آپﷺنے فرمایا: وہ پہلوان نہیں ہے ، پہلوان تو وہ آدمی ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ , مِثْلَ مَعْنَاهُ.

A similar report (as Hadith no. 6641) was narrated from Al-A'mash with this chain of narrators.

یہ حدیث دو سندوں سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالاَ : كِلاَهُمَا قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The strong man is not the one who wrestles others; rather the strong man is the one who controls himself at times of anger."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: وہ آدمی طاقت ورنہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑ دے ، پہلوان وہ آدمی ہے جو غصہ کے وقت خود کو قابو میں رکھ سکے۔


حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ قَالُوا: فَالشَّدِيدُ أَيُّمَ هُوَ ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ: الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.

Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'The strong man is not the one who wrestles others.' They said: 'Then who is the strong man, 0 Messenger of Allah?' He said: 'The one who controls himself in times of anger."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: وہ آدمی طاقت ورنہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑ دے، صحابہ نے پوچھا: پھر طاقتور کون ہے؟ اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺنے فرمایا: جو خود کو غصہ میں قابو رکھ سکے۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ.

A similar report (as Hadith no. 6644) was narrated from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w).

دو سندوں کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی نبی ﷺسے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ : حَدَّثَنَا ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا تَحْمَرُّ عَيْنَاهُ وَتَنْتَفِخُ أَوْدَاجُهُ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لأَعْرِفُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ الَّذِي يَجِدُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَالَ الرَّجُلُ : وَهَلْ تَرَى بِي مِنْ جُنُونٍ ؟. قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ : فَقَالَ : وَهَلْ تَرَى ، وَلَمْ يَذْكُرِ الرَّجُلَ.

It was narrated that Sulaiman bin Surad said: "Two men traded insults in the presence of the Messenger of Allah (s.a.w). The eyes of one of them turned red and the veins on his neck stood out. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'I know a word which, if he said it, what he is feeling would go away: A'udhu Billahi min ash-shaitanir-rajim (I seek refuge with Allah from the accursed Shaitan).' The man said: 'Do you think I am possessed?"'

حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکے سامنے دو آدمی جھگڑے ، دو میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور اس کی رگیں پھول گئیں ، رسو ل اللہﷺنے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ کلمہ یہ آدمی کہہ دے تو اس کا غصہ چلا جائے گا ، وہ ہے اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ، اس آدمی نے کہا: کیاآپ کے خیال میں میں پاگل ہوں؟ ابن العلاء کی روایت صرف "ھل تری " کا لفظ ہے ، "رجل " نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، سَمِعْتُ الأَعْمَشَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَامَ إِلَى الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنِفًا ؟ قَالَ: إِنِّي لأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : أَمَجْنُونٌ تَرَانِي ؟.

Sulaiman bin Surad said: "Two men traded insults in the presence of the Prophet (s.a.w) ' and one of them started to get angry and his face turned red. The Prophet (s.a.w) looked at him and said: 'I know a word which, if he said it, it would take that away from him: A'udhu Billahi min ash-shaitanir-rajim (I seek refuge with Allah from the accursed Shaitan ).' A man went and told him what the Prophet (s.a.w) said. He said: 'Do you know what the Prophet (s.a.w) said just now? He said: "I know a word which, if he said it, it would take that away from him: A'udhu Billahi min ash-shaitanir-rajim.'" The man said to him: 'Do you think I am possessed?"'

حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکے سامنے دو آدمی جھگڑے ، ان میں سے ایک کا غصہ سے چہرہ سرخ ہورہا تھا ، نبی ﷺنے اس کو دیکھ کر فرمایا: میں ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ کلمہ یہ آدمی کہہ دے تو اس سے اس کا غصہ چلا جائے گا ، وہ کلمہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ، ایک آدمی نے نبی ﷺسے سن کے اس آدمی کو جاکر یہ بات بتائی اور کہا: کیا تم جانتے ہو ابھی نبی ﷺنے کیا فرمایا ہے؟ کہ میں ایسا کلمہ جانتا ہو جس کو یہ آدمی کہہ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا ، وہ کلمہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ہے ، اس آدمی نے کہا: کیا تم مجھے پاگل سمجھتے ہو؟


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Al-A'mash with this chain of narrators (a similar Hadith).

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے۔

12345Last ›