Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Muslim

Book: Remembrance, Supplicaton, Repentance and Forgivene (48)    كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار

123

Chapter No: 11

بابُ فَضْلِ الاِجْتِمَاعِ عَلَى تِلاَوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِ

The merit of gathering to recite the Qur’an and to remember Allah

تلاوت قرآن اور ذکر کےلیے اجتماع کی فضیلت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا ، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا ، سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا ، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ، إِلاَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِمِ السَّكِينَةُ ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلاَئِكَةُ ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ ، وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever removes a worldly hardship from a believer, Allah will remove one of the hardships of the Day of Resurrection from him. Whoever grants respite to (a debtor) who is in difficulty, Allah will grant him relief in this world and in the Hereafter. Whoever conceals (the fault of) a Muslim in this world, Allah will conceal him (his faults) in this world and in the Hereafter. Allah will help a person so long as he is helping his brother. Whoever follows a path seeking knowledge, Allah will make a path to Paradise easy for him. No people gather in one of the houses of Allah, reciting the Book of Allah and studying it together, but tranquility will descend upon them, mercy will overshadow them, the angels will surround them and Allah will mention them to those who are with Him. Whoever is slowed down by his deeds, his lineage will not help him to get ahead."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی نے کسی مسلمان کی دنیاوی مشکلات میں سے کوئی مشکل دور کی اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مشکلات میں سے کوئی مشکل دور کردے گا ، اور جس آدمی نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کردے گا ، اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت میں پردہ پوشی کرےگا اور جب تک کوئی بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا رہتا ہے اور جو آدمی علم کو حاصل کرنے کے لیے کسی راستہ پر چلا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردےگا اور اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں کچھ لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت اور اس کے درس کے لیے جب بھی جمع ہوتے ہیں ا ن پرسکینہ نازل ہوتی ہے اور ان کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں ، اور جو فرشتے اللہ کے پاس ہیں اللہ تعالیٰ ان فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے اور جس آدمی کے اعمال اس کو پیچھے کردیں اس کا نسب اسےآگے نہیں بڑھائے گا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَاهُ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ. وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ... بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَبِي أُسَامَةَ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ التَّيْسِيرِ عَلَى الْمُعْسِرِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said..." a Hadith like that of Abu Mu'awiyah (no. 6853), except that in the Hadith of Abu Usamah there is no mention of granting respite to (a debtor) who is in difficulty.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: آگے حسب سابق مروی ہے ، لیکن اس روایت میں تنگ دست پر آسانی کا ذکر نہیں ہے ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، يُحَدِّثُ عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: لاَ يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلاَّ حَفَّتْهُمُ الْمَلاَئِكَةُ ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمِ السَّكِينَةُ ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ.

It was narrated that Al-Agharr Abu Muslim said: "I bear witness that Abu Hurairah and Abu Sa'eed Al-Khudri bore witness, that the Prophet (s.a.w) said: 'No people sit and remember Allah, Glorified and Exalted is He, but the angels surround them, mercy overshadows them, tranquility descends upon them and Allah mentions them to those who are with Him."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے نبی ﷺکے بارے میں یہ گواہی دی کہ آپﷺنے فرمایا: جو قوم بھی اللہ عزوجل کے ذکر کےلیے بیٹھتی ہے اس کو فرشتے گھیر لیتے ہیں اور ان کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے ، اور ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا اپنے فرشتوں میں ذکر کرتا ہے ۔


وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Shu'bah narrated a similar report (as Hadith no. 6855) with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَا أَجْلَسَكُمْ ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ ، قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلاَّ ذَاكَ ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلاَّ ذَاكَ ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ: مَا أَجْلَسَكُمْ ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلإِسْلاَمِ ، وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا ، قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلاَّ ذَاكَ ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلاَّ ذَاكَ ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ ، وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي ، أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلاَئِكَةَ.

It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: Mu'awiyah came out to a circle (gathering) in the Masjid and said: Why are you sitting here? They said: We are sitting to remember Allah. He said: By Allah, are you only sitting for that purpose? They said: By Allah, we are only sitting for that purpose. He said: I did not ask you to swear because I am accusing you. There is no one of my status in relation to the Messenger of Allah (s.a.w) who has narrated fewer Ahadith from him than me. The Messenger of Allah (s.a.w) came out to a circle of his Companions and said: "Why are you sitting here?" They said: "We are sitting to remember Allah, and praise Him for having guided us to Islam and blessed us with it." He said: "By Allah, are you only sitting for that purpose?" They said: "By Allah, we are only sitting for that purpose." He said: "I did not ask you to swear because I am accusing you, but Jibril came to me and told me that Allah was boasting of you to the angels."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا گزر مسجد کے حلقے میں بیٹھے ہوئے لوگوں پر ہوا ، انہوں نے کہا: تم کیوں بیٹھے ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے مسجد میں بیٹھے ہیں ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! کیا تم صرف اسی لیے بیٹھے ہو ؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم صرف اسی لیے بیٹھے ہیں ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تم پر کسی بدگمانی کی وجہ سے تم سے قسم نہیں لی اور رسول اللہﷺکی احادیث کو میں سب سے کم روایت کرنے والا ہوں ، اور بے شک ایک مرتبہ رسول اللہﷺکا اپنے اصحاب کے ایک حلقہ سے گزر ہوا ، آپﷺنے فرمایا: تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ ہم نے کہا: ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں اور اللہ نے ہم کو اسلام کی ہدایت دے کر جو ہم پر احسان کیا ہے اس کا شکر ادا کرنے کے لیے بیٹھے ہیں ، آپﷺنے فرمایا: اللہ کی قسم! تم صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اسی وجہ سے بیٹھے ہیں ، آپﷺنے فرمایا: میں نے تم پر کسی بدگمانی کی وجہ سے تم سے قسم نہیں لی ، لیکن ابھی میرے پاس جبریل آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ اللہ عزوجل تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کررہا ہے ۔

Chapter No: 12

بابُ اسْتِحْبَابِ الاِسْتِغْفَارِ وَالاِسْتِكْثَارِ مِنْهُ

The recommendation to ask for forgiveness and seeking that very much

استغفار کرنے کا استحباب اور بہ کثرت استغفار کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ جَمِيعًا ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنِ الأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي ، وَإِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ.

It was narrated from Al-Agharr Al-Muzani, who was a Companion of the Prophet (s.a.w), that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "There is some kind of shadow upon my heart, so I ask Allah for forgiveness one hundred times a day."

حضرت اغر مزنی رضی اللہ عنہ (یہ صحابی تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میرے دل پر کبھی ابر چھا جاتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے ایک دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الأَغَرَّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللهِ ، فَإِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ.

It was narrated that Abu Burdah said: "I heard Al-Agharr, who was one of the Companions of the Prophet (s.a.w) ' telling Ibn 'Umar: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said: O people, repent to Allah, for I repent to Allah one hundred times a day.'"

نبی ﷺکے صحابی حضرت اغر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اے لوگو! اللہ سے توبہ کرو، کیونکہ میں ایک دن میں سو مرتبہ اللہ سے توبہ کرتا ہوں ۔


حَدَّثَنَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Shu'bah with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6859).

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِى سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever repents before the sun rises from its place of setting, Allah will accept his repentance."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو جس نے اس سے پہلے توبہ کرلی ، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔

Chapter No: 13

بابُ اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ

The merit of lowering the voice while remembrance

پست آواز میں ذکر کرنے کا استحباب

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِى مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى سَفَرٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَيْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ ». قَالَ وَأَنَا خَلْفَهُ وَأَنَا أَقُولُ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ فَقَالَ « يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ». فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « قُلْ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ».

It was narrated that Abu Musa said: "We were with the Prophet (s.a.w) on a journey, and the people started to recite Takbir (saying: Allahu-Akbar) in loud voices. The Prophet (s.a.w) said: 'O people, be kind to yourselves, for you are not calling upon one who is deaf or absent; you are calling upon One Who is All-Hearing, Ever Near, and He is with you.' I was behind him, and I was saying: 'La hawla wa la quwwata illa billah (There is no power and no strength except with Allah).' He said: 'O 'Abdullah bin Qais, shall I tell you of one of the treasures of Paradise?' I said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'Say: "La hawla wa la quwwata illa billah (There is no power and no strength except with Allah).''

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺکے ساتھ ایک سفر میں تھے ، لوگ بلند آواز کے ساتھ اللہ اکبر کہنے لگے ، نبی ﷺنے فرمایا: اے لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو، تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے ہو اور نہ غائب کو ، تم اس کو پکاررہے ہو جو سننے والا اور قریب ہے اور تمہارے ساتھ ہے ، اس وقت میں آپ کے پیچھے یہ کہہ رہا تھا : لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ گناہوں سے پھرنا اور نیکی کی طاقت اللہ کے بغیر ممکن نہیں ہے ، آپﷺنے فرمایا: اے عبد اللہ بن قیس ! کیا میں تمہاری جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے پر راہنمائی نہ کروں ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺنے فرمایا: کہو، لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔


حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as Hadith no. 6862) was narrated from 'Asim with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَصْعَدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ فَجَعَلَ رَجُلٌ كُلَّمَا عَلَا ثَنِيَّةً نَادَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ قُلْتُ مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

It was narrated from Abu Musa that they were with the Messenger of Allah (s.a.w). climbing up a hill, and one man, every time he climbed a hill, called out: "La ilaha illallahu, wallahu akbar (None has the right to be worshiped but Allah, and Allah is most great)." The Prophet of Allah (s.a.w) said: "You are not calling upon one who is deaf or absent." And he said: "O Abu Musa, "or" O 'Abdullah bin Qais, shall I not tell you of a word that is one of the treasures of Paradise?" I said: "What is it, O Messenger of Allah?" He said: "La hawla wa la quwwata ilia billah (There is no power and no strength except with Allah)."

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صحابہ کرام رسو ل اللہﷺکے ساتھ ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے ، ایک آدمی جب بھی کسی گھاٹی پر چڑھتا ہے تو بلند آواز سےکہتا : لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ۔حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر نبی ﷺنے فرمایا: تم کسی بہرے کو نہیں پکاررہے ہو اور نہ ہی غائب کو ، پھر کہا: اے بو موسیٰ یا کہا: اے عبد اللہ بن قیس! کیا میں تم کو جنت کے خزانہ میں سے ایک کلمہ نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا : وہ کیا ہے اے اللہ کے رسول ﷺ! آپﷺنے فرمایا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔


وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

It was narrated that Abu Musa said: "While the Messenger of Allah (s.a.w)" and he narrated a similar report (as Hadith no. 6864).

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہﷺکے ساتھ تھے ، پھر اس کی مثل روایت کی ہے ۔


حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَاصِمٍ.

It was narrated that Abu Musa said: "While we were with the Prophet (s.a.w) on a journey..." and he mentioned a Hadith like that of 'Asim (no. 6862).

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نبیﷺکے ساتھ ایک سفر میں تھے ، پھر اس کی طرح روایت ہے۔


وحَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَالَّذِي تَدْعُونَهُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَةِ أَحَدِكُمْ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

It was narrated that Abu Musa said: "We were with the Messenger of Allah (s.a.w) on a campaign..." and he mentioned the Hadith and said in it: "...The One Whom you are calling is closer to one of you than the neck of his mount." And there is no mention in his (the sub narrator's) Hadith of (the phrase): "La hawla wa la quwwata illa billah (There is no power and no strength except with Allah)."

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم رسول اللہﷺکے ساتھ ایک غزوہ میں تھے ، پھر اس حدیث کو بیان کیا اور اس میں یہ ہے کہ جس کو پکار رہے ہو وہ تمہاری اونٹنی کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے ، اور اس میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ - وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ - حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ قَالَ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَلاَ أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ - أَوْ قَالَ - عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ». فَقُلْتُ بَلَى. فَقَالَ « لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ».

It was narrated that Abu Musa Al-Ash'ari said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'Shall I not tell you of a word that is one of the treasures of Paradise' - or 'of one of the treasures of Paradise?' I said: 'Yes.' He said: "La hawla wa la quwwata ilia billah (There is no power and no strength except with Allah)."'

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہﷺنے فرمایا: کیا میں تم کو جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ پر راہنمائی نہ کروں ؟ یا فرمایا: میں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے پر راہنمائی نہ کروں ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ، آپﷺنے فرمایا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

Chapter No: 14

بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ وَغَيْرِهَا

Seeking refuge with Allah from the evil of tribulations and the like

فتنوں کے شر سے پناہ مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ أَبِى الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِى بَكْرٍ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلِّمْنِى دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِى صَلاَتِى قَالَ « قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى ظُلْمًا كَبِيرًا - وَقَالَ قُتَيْبَةُ كَثِيرًا - وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِى مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِى إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ».

It was narrated from Abu Bakr that he said to the Messenger of Allah (s.a.w): "Teach me a supplication that I may say during my prayer." He said: "Say: 'Allahumma, inni zalamtu nafsi zulman kabira, wa la yaghfirudh-dhunuba ilia anta, faghfirli maghfiratan min 'indika warhamni, innaka antal-ghafurur-rahim (O Allah, I have wronged myself greatly and no one forgives sins but You, so grant me forgiveness from You and have mercy on me, for You are the Oft-Forgiving, Most Merciful)."'

حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسو ل اللہﷺسے عرض کیا : مجھے وہ دعا سکھائیے جس کو میں نماز میں مانگا کروں ، آپ ﷺنے فرمایا: تم یہ کہا کرو: اللہم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا ۔۔۔ آخر تک (ترجمہ: ) اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کیا ہے ، اور قتیبہ کی روایت میں ہے کہ بہت زیادہ ظلم کیا ہے، اور تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں ہے ، تو اپنے پاس سے میری مغفرت فرما اور مجھ پررحم فرما، بے شک تو بہت بخشنے والا مہربان ہے ۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى رَجُلٌ سَمَّاهُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ أَبِى الْخَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلِّمْنِى يَا رَسُولَ اللَّهِ دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِى صَلاَتِى وَفِى بَيْتِى. ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « ظُلْمًا كَثِيرًا ».

'Abdullah bin 'Amr bin Al-'As said: "Abu Bakr As-Siddiq said to the Messenger of Allah (s.a.w): 'O Messenger of Allah, teach me a supplication which I may say in my prayer and in my house..."' then he mentioned a Hadith like that of Al-Laith (no. 6869).

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺسے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے ایسی دعا سکھائیے کہ جس کو میں ہرنماز میں اور اپنے گھر میں مانگا کروں ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ۔ البتہ اس میں " ظلم کثیر" کے الفاظ ہیں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلاَءِ الدَّعَوَاتِ « اللَّهُمَّ فَإِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِى مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِى وَبَيْنَ خَطَايَاىَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ فَإِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ».

It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) used to say these supplications: ''Allahumma inni a'udhu bika min fitnatin-nari wa 'adhabin-nar, wa fitnatil-qabri wa 'adhabil-qabr, wa min sharri fitnatil-ghina wa min sharri fitnatil-faqr, wa a'udhu bika min sharri fitnatil-masihid-dajjal. Allahumma aghsil khatayaya bima'ith-thalji wal-bard, wa naqqi qalbi minal-khataya kama naqqaita ath-thawb al-abyada minad-danas. Wa ba'id baini wa baina khatayaya kama ba'adta bainal-mashriqi wal-maghrib. Allahumma inni a'udhu bika min al-kasali wal-harami wal-ma'thami wal-maghram (O Allah, I seek refuge with You from the trial of the Fire, and the torment of the Fire, and the trial of the grave, and the torment of the grave, from the evils of the trial of wealth and from the evils of the trial of poverty, and I seek refuge with You from the evil of the trial of the Dajjal. O Allah, wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart of sin as a white garment is cleansed of dirt. Put a great distance between me and my sins, as great as the distance You have made between the East and the West. O Allah, I seek refuge with You from laziness, old age, sin and heavy debt)."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺیہ دعائیں کیا کرتے تھے : اے اللہ! میں تجھ سے جہنم کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے اور دولت کے فتنہ کے شر سے اور فقر کے فتنہ کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ، اور میں تجھ سے مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میری غلطیوں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو غلطیوں سے اس طرح پاک کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کومیل سے صاف کردیا ہے ، اور میرے درمیان اور میری غلطیوں کے درمیان اس طرح دوری کردے جس طرح تو نے مشرق اور مغرب میں دوری کی ہے ، اے اللہ! میں سستی ، بڑھاپے ، گناہ اور قرض سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Hisham with this chain of narrators a similar Hadith as no. 6871.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ۔

Chapter No: 15

بابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَغَيْرِهِ

Seeking refuge with Allah from feebleness, laziness and the like

سستی اور عاجر ہونے سے پناہ مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِىُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ «اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ».

Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to say: 'Allahumma, inni a'udhu bika minal- 'ajzi wal-kasali, al-jubni wal-harhmi, wal-bukhli, wa a'udhu bika min 'adhabil-qabri, wa min fitnatil-mahya wal-mamat (O Allah, I seek refuge with You from helplessness, laziness, cowardice, old age and miserliness. I seek refuge with You from the torment of the grave and from the trials of life and death)."'

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺیہ دعا کرتے تھے : اے اللہ! میں عاجز ہونے ، سستی ، بزدلی ، بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ كِلاَهُمَا عَنِ التَّيْمِىِّ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ يَزِيدَ لَيْسَ فِى حَدِيثِهِ قَوْلُهُ « وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ».

A similar report (as Hadith no. 6873) was narrated from Anas from the Prophet (s.a.w), except that in the Hadith of Yazid it does not say: "... and from the trials of life and death."

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے حسب سابق روایت کی ہے ، البتہ اس روایت میں زندگی اور موت کی آزمائشوں کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِىِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ تَعَوَّذَ مِنْ أَشْيَاءَ ذَكَرَهَا وَالْبُخْلِ.

It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (s.a.w) sought refuge with Allah from things that he mentioned, and from miserliness (a Hadith similar to no. 6873).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے کئی چیزوں سے پناہ مانگی ہے جن میں بخل کا ذکر بھی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّىُّ حَدَّثَنَا هَارُونُ الأَعْوَرُ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَدْعُو بِهَؤُلاَءِ الدَّعَوَاتِ « اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْكَسَلِ وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ».

It was narrated that Anas said: "The Prophet (s.a.w) used to say this supplication: 'Allahumma, inni a'udhu bika minal-bukhli, wal-kasli wa ardhalil' umuri, wa 'adhabil-qabri, wa fitnatil-mahya wal-mamat (O Allah, I seek refuge with You from miserliness, laziness, utter senility, the torment of the grave and the trials of life and death)."'

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺیہ دعائیں کرتے تھے : اے اللہ! میں بخل ، سستی ، ادھیڑ عمری، اور قبر کے عذاب ، اور زندگی اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

Chapter No: 16

بابٌ فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ

Seeking refuge with Allah from bad of destiny and taking over of misery

بری تقدیر اور بدبختی سے پناہ مانگنے کا بیان

حَدَّثَنِى عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِى سُمَىٌّ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَمِنْ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَمِنْ شَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ وَمِنْ جَهْدِ الْبَلاَءِ. قَالَ عَمْرٌو فِى حَدِيثِهِ قَالَ سُفْيَانُ أَشُكُّ أَنِّى زِدْتُ وَاحِدَةً مِنْهَا.

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) used to seek refuge with Allah from a bad end, from misery, from the malicious joy of enemies and from severe calamity. 'Amr said in his Hadith: "Sufyan said: 'I think that I added one of them."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺبری تقدیر سے ، بدبختی کے پانے سے ، دشمنوں کی خوشی سے اور سخت آزمائش سے پناہ مانگتے تھے۔راوی عمرو اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے کہا: مجھے شک ہے کہ میں نے ان میں سے ایک اضافہ کیا ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِى وَقَّاصٍ يَقُولُ سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ نَزَلَ مَنْزِلاً ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. لَمْ يَضُرُّهُ شَىْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ ».

Sa'd bin Abi Waqqas said: I heard Khawlah bint Hakim As-Sulamiyyah say: I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "Whoever stops at a place and says: 'A'udhu bikalimatillahit-tammati min sharri ma khalaq (I seek refuge in the Perfect Words of Allah from the evil of that which He has created),' nothing will harm him until he moves on from that place."

حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو آدمی کسی منزل پر پہنچ کر یہ دعا پڑھے: " اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق " (ترجمہ:) میں ہر مخلوق کے شر سے اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں آتاہوں۔ تو جب تک وہ اس جگہ سے روانہ نہیں ہوگا اس کو کوئی چیز نقصان نہیں دے گی۔


وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَأَبُو الطَّاهِرِ كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ - وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَمْرٌو - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِى حَبِيبٍ وَالْحَارِثَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَاهُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِذَا نَزَلَ أَحَدُكُمْ مَنْزِلاً فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. فَإِنَّهُ لاَ يَضُرُّهُ شَىْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ ».

It was narrated from Sa'd bin Abi Waqqas, from Khawlah bint Hakim As-Sulamiyyah, that she heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "When one of you stops at a place, let him say: 'A’udhu bikalimatillahit-tammati min sharri ma khalaq (I seek refuge in the Perfect Words of Allah from the evil of that which He has created).' Then nothing will harm him until he moves on from there."

حضرت خولہ بنت حکیم سلمیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے کوئی آدمی کسی منزل پر پہنچ کر یہ کلمات کہے : " اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق " (ترجمہ:) میں ہر مخلوق کے شر سے اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں آتاہوں۔ تو جب تک وہ اس جگہ سے روانہ نہیں ہوگا اس کو کوئی چیز نقصان نہیں دے گی۔


قَالَ يَعْقُوبُ وَقَالَ الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ ذَكْوَانَ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَقِيتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِى الْبَارِحَةَ قَالَ « أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرُّكَ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "A man came to the Prophet (s.a.w) and said: 'O Messenger of Allah, I was stung by a scorpion last night.' He said: 'If you had said, when evening came, "A'udhu bikalimatillahit-tammati min sharri ma khalaq (I seek refuge in the Perfect Words of Allah from the evil of that which He has created)" it would not have harmed you."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! گزشتہ رات مجھے بچھونے کاٹ لیا ، آپﷺنے فرمایا: اگر تم شام کے وقت یہ کہہ دیتے : میں ہر مخلوق کے شر سے اللہ کے کلمات تامہ کی پناہ میں آتاہوں ، تو تم کو یہ بچھو نقصان نہ دیتا۔


وَحَدَّثَنِى عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِىُّ أَخْبَرَنِى اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ يَعْقُوبَ أَنَّهُ ذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا صَالِحٍ مَوْلَى غَطَفَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَدَغَتْنِى عَقْرَبٌ. بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ.

Abu Hurairah said: "A man said: 'O Messenger of Allah, A scorpion stung me last night..."' A Hadith like that of Ibn Wahb (no. 6880).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے بچھو نے کاٹ لیا ، اس کے بعد حسب سابق مروی ہے۔

Chapter No: 17

بابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ النَّوْمِ وَأَخْذِ الْمَضْجَعِ

What should be said at the time of sleeping and going to bed

سونے اور لیٹنے کے وقت کی دعا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ حَدَّثَنِى الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ ثُمَّ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْلَمْتُ وَجْهِى إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِى إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِى إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِى أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِى أَرْسَلْتَ وَاجْعَلْهُنَّ مِنْ آخِرِ كَلاَمِكَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ وَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ ». قَالَ فَرَدَّدْتُهُنَّ لأَسْتَذْكِرَهُنَّ فَقُلْتُ آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِى أَرْسَلْتَ قَالَ « قُلْ آمَنْتُ بِنَبِيِّكَ الَّذِى أَرْسَلْتَ ».

Al-Bara' bin 'Azib narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "When you go to bed, perform Wudu' as for prayer, then lie down on your right side, then say: 'Allahumma, aslamtu wajhi ilaika, wa fawwadtu amri ilaika, wa alja'tu zahri ilaika, raghbatan wa rahbatan ilaika, la malja' wa la manja minka illa ilaika, amantu bikitabikalladhi anzalta wa binabiyykalladhi arsalt (O Allah, I have turned my face towards You and entrusted my affairs to You and relied completely upon You, out of hope and fear of You. There is no refuge or safe haven from You except with You. I believe in Your Book which You have revealed, and in Your Prophet whom You have sent).' Make these your last words. Then if you die that night, you will have died in a state of Fitrah." He said: "I repeated them in order to memorize them, and I said: 'I believe in Your Messenger whom You have sent,' and he said: 'Say: "I believe in Your Prophet whom You have sent."

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو وضو کرو ، جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہو ، پھر دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ ، پھر یہ دعا پڑھو: اے اللہ !میں نے اپنا چہرہ تیرے سپرد کردیا ، اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کردیا ، اور اپنی پشت تیری پناہ میں دے دی ، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تیرا خوف کھاتے ہوئے ، تیرے علاہ تجھ سے بچنے کے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی نجات کی جگہ ، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو نے نازل کی اور اس نبی پر ایمان لایا جس کو تو نے بھیجا ، یہ دعا تمہارا آخری کلام ہونا چاہیے، اگر تم اسی رات فوت ہوجاؤ ، تو تم فطرت پر مروگے ، حضرت براء کہتے ہیں کہ میں نے ان کلمات کو یاد کرنے کے لیے دہرایا تو میں نے آمنت برسولک الذی أرسلت " کہا: آپﷺنے فرمایا: آمنت بنبیک الذی أرسکت کہو۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِى ابْنَ إِدْرِيسَ - قَالَ سَمِعْتُ حُصَيْنًا عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ مَنْصُورًا أَتَمُّ حَدِيثًا وَزَادَ فِى حَدِيثِ حُصَيْنٍ « وَإِنْ أَصْبَحَ أَصَابَ خَيْرًا ».

This Hadith was narrated from Al-Bara' bin 'Azib from the Prophet (s.a.w), but the Hadith of Mansur (no. 6882) is more complete. In the Hadith of Husain it adds (in the end): "... And when morning comes he will attain good."

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، اس روایت میں یہ اضافہ ہے : اگر تم صبح کو اٹھوگے تو خیر حاصل ہوگی۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَ رَجُلاً إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ أَنْ يَقُولَ « اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِى إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِى إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِى إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِى إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِى أَنْزَلْتَ وَبِرَسُولِكَ الَّذِى أَرْسَلْتَ. فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ ». وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ بَشَّارٍ فِى حَدِيثِهِ مِنَ اللَّيْلِ.

It was narrated from Al-Bara' bin 'Azib that the Prophet (s.a.w) told a man, when he went to bed at night, to say: "Allahumma aslamtu nafsi ilaika, wa wajjahtu wajhi ilaik, wa alja'tu zahri ilaika, wa fawwadtu amri ilaika, raghbatan wa rahbatan ilaika, la malja ' wa la manja minka ilia ilaika, amantu bikitabikalladhi anzalta wa birasulikalladhi arsalt (O Allah, I have submitted myself to You, and turned my face to You, and relied completely upon You, and delegated my affairs to You, out of hope and fear of You. There is no refuge or safe haven from You except with You. I believe in Your Book which You have revealed, and in Your Messenger whom You have sent). Then if he dies, he will have died in a state of Fitrah."

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ایک آدمی کو حکم دیا کہ جب تم رات کو اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا کرو: اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کردی اور اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کردیا اور اپنی پشت تیری پناہ میں دے دی ، اور تیری رغبت اور تیرے خوف سے اپنا معاملہ تیرے حوالے کردیا ، تیرے علاوہ تجھ سے بچنے کے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے اور نہ نجات کی جگہ ، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جس کو تونے نازل کیا ، اور تیرے اس رسول پر ایمان لایا جس کو تو نے بھیجا ہے ، سو اگر وہ آدمی مرگیا تو فطرت پر مرے گا ، ابن بشار نے اپنی روایت میں رات کا ذکر نہیں کیا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِرَجُلٍ « يَا فُلاَنُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ ». بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « وَبِنَبِيِّكَ الَّذِى أَرْسَلْتَ. فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا ».

It was narrated that Al-Bara' bin 'Azib said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to a man: ') O so-and-so, when you go to your bed..."' - a Hadith like that of 'Amr bin Murrah (no. 6889), except that he said: " ...and Your Prophet whom You have sent. Then if you die that night, you will have died in a state of Fitrah, and if you live till morning you will attain good."

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہﷺنے ایک آدمی سے فرمایا: اے فلاں آدمی !جب تم اپنے بستر پرآؤ ، اس کے بعد حسب سابق مروی ہے ، لیکن اس روایت میں ہے اور میں اس نبی پر ایمان لایا ہوں جس کو تو نے بھیجا ہے ، اگر تم اس رات کو فوت ہوگئے تو فطرت پر فوت ہوں گے اور اگر تم صبح کو اٹھوگے تو خیر پاؤگے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَجُلاً. بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ « وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا ».

Al-Bara' bin 'Azib said: "The Messenger of Allah (s.a.w) told a man..." a similar report (as Hadith no. 6885), but he did not mention: " ... and if you live till morning you will attain good."

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہﷺنے ایک آدمی کوحکم دیا ، پھر اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، " اگر تم صبح کو اٹھوگے تو خیر پاؤگے " اس روایت میں یہ جملہ نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى السَّفَرِ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ أَبِى مُوسَى عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ « اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ ». وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ « الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ».

It was narrated from Al-Bara' that when the Prophet (s.a.w) went to bed, he said: "Allahumma, biskmika ahya wa bismika amut (O Allah, in Your Name I live and in Your Name I die)." And when he woke up he said: "Al-hamdulillahilladhi ahyana ba'da ma amatana, wa ilaihin-nushur (Praise be to Allah Who has given us life after He caused us to die, and to Him is the Resurrection)."

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺجب اپنے سونے کی جگہ جاتے تو یہ دعا پڑھتے : اے اللہ ! میں تیرے نام سے جیتا ہوں ، اور تیرے نام سے وفات پاؤں گا ، اور جب بیدا ہوتے تو فرماتے : اللہ کی حمد و تعریف ہے جس نے ہم کو وفات دینے کے بعد زندہ کردیا اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔


حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّىُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلاً إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ « اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِى وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ ». فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ فَقَالَ مِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ ابْنُ نَافِعٍ فِى رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ. وَلَمْ يَذْكُرْ سَمِعْتُ.

It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar, that he ordered a man when he went to lie down, to say: "Allahumma khalaqta nafsi, wa anta tawaffaha, laka mamatuha wa mahyaha, in ahyaitaha fahfazha, wa in amattaha faghfir laha. Allahumma, (inni) as-alukal-'afiyah (O Allah, You have created my soul and it is for You to take it in death. Its death and its life are in Your Hand. If You cause it to live then protect it and if You cause it to die then forgive it. O Allah, I ask You to keep me safe and sound)." A man said to him: "Did you hear that from 'Umar?" He said: "From one who is better than 'Umar, from the Messenger of Allah (s.a.w)." Ibn Nafi' said in his report: "It was narrated from 'Abdullah bin Al-Harith," and he did not say: "I heard."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺنے ایک آدمی کو یہ حکم دیا ہے کہ جب وہ اپنے بستر پر جائے تو یہ دعا کرے : اے اللہ! تو نے میری جان کو پیدا کیا اور تو ہی اس کو فوت کرے گا ، موت اور زندگی تیرے ہی لیے ہے ، اگر تو اس جان کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت کر اور اگر تو اس کو فوت کرے تو اس کی مغفرت کر، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں ، ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے ؟ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر شخص سے سنی ہے ، میں نے رسول اللہﷺسے یہ حدیث سنی ہے۔


حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ قَالَ كَانَ أَبُو صَالِحٍ يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ يَقُولُ « اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَىْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَىْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَىْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَىْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ ». وَكَانَ يَرْوِى ذَلِكَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated that Suhail said: "Abu Salih used to tell us, if one of us wanted to sleep, to lie down on his right side and say: 'Allahumma, rabbas-samawati wa rabbal-ardi, wa rabbal-'arshil-'azim, rabbana wa rabba kulli shay'in faliqal-habbi wan-nawa, wa munzilat-tawrati wal-injili wal-furqan, a'udhu bika min sharri kulli shay'in anta akhidhun bi nasiyatihi, Allahumma, antal-awwalu fa laisa qablaka shay'un, wa antal-akhiru fa laisa ba'daka shay'un, wa antal-akhiru fa laisa fawqaka shay'un, wa antal-batinu fa laisa dunaka shay'un, iqdi 'annad-daina wa aghnina min al-faqr (O Allah, Lord of the heavens and the earth, and Lord of the Mighty Throne, our Lord and Lord of all things, Splitter of the seed and the date. stone, Reveler of the Tawrah, the Injil and the Furqan (Qur'an), I seek refuge in you from the evil of all things that You seize by the forelock [i.e., have full control over them]. O Allah, You are the First and there is nothing before You; You are the Last and there is nothing after You. You are the Manifest (Az-Zahir) and there is nothing above You; You are the Hidden (Al-Batin) and there is nothing beyond You. Settle our debt and spare us from poverty).'" "He narrated that from Abu Hurairah, from the Prophet (s.a.w)."

سہیل کہتے ہیں کہ ابو صالح ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ تم میں سے کوئی آدمی جب سونے کا ارادہ کرے تو بستر پر دائیں کروٹ لیٹے ، پھر دعا کرے : اے آسمانوں کے رب! اے زمین کے رب! عرش عظیم کے رب ! اے ہمارے رب ! اور ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کے چیرنے والے ! تورات ، انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے ! میں ہر اس چیز کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضہ میں ہے ، اے اللہ ! تو اول ہے ، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے ، اے اللہ! تو آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے ، تو ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے ، تو باطن ہے تجھ سے دور کوئی چیز نہیں ہے ، ہم سے قرض کو دور کردے ، اور ہم کو فقر سے مستغنی کردے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کو نبی ﷺسےروایت کرتے تھے۔


وَحَدَّثَنِى عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ - يَعْنِى الطَّحَّانَ - عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَأْمُرُنَا إِذَا أَخَذْنَا مَضْجَعَنَا أَنْ نَقُولَ. بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَقَالَ « مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to tell us, if one of us went to his bed, to say..." a Hadith like that of Jarir (no. 6889), and he said: "And from the evil of every beast that You seize by the forelock."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ جب ہم سونے کے لیے جائیں تو یہ دعا کریں ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے اور فرمایا: میں ہر اس جانور کے شر سے تیری پناہ مانگتاہوں جس کو تو نے پیشانی سے پکڑا ہوا ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا أَبِى كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ لَهَا « قُولِى اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ ». بِمِثْلِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: Fatimah came to the Prophet m to ask him for a servant, and he said to her: "Say: O Allah, Lord of the seven heavens..." a Hadith like that of Suhail from his father (110. 6889).

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺکے پاس آئیں اور آپﷺسے خادم مانگا ، آپﷺنے فرمایا: تم کہو: اے اللہ ! سات آسمانوں کے رب ، اس کے بعد حسب سابق روایت ہے ۔


وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ وَلْيُسَمِّ اللَّهَ فَإِنَّهُ لاَ يَعْلَمُ مَا خَلَفَهُ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ وَلْيَقُلْ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبِّى بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِى وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِى فَاغْفِرْ لَهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "When one of you goes to his bed, let him take the edge of his Izar (lower garment) and dust off his bed with it, and let him say the Name of Allah, for he does not know what came onto it after he left it. Then when he wants to lie down, let him lie down on his right side and say: 'Subhanaka rabbi, bika wada'tu janbi, wa bika arfa'uhu, in amskta nafsi faghfirli wa in arsaltaha fahfazha bima tahfazu bihi 'ibadakas-salihin (Glory is to You my Lord, by Your Grace I lay myself down and by Your Grace I get up again. If You keep my soul, then forgive it and if You send it back, then protect it with that with which You protect Your believing slaves)."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بستر پر جائے تو تہبند کے اندرونی حصے سے بستر کو جھاڑے ، اور بسم اللہ پڑھے ، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد بستر پر کون (جانور) آیا تھا اور جب لیٹنے کا ارادہ کرے تو دائیں کروٹ لیٹے اور یہ دعا پڑھے : اے اللہ! میرے رب ! تو پاک ہے میں تیرے نام کے ساتھ اپنا پہلو رکھتا ہوں اور تیرے نام کے ساتھ اٹھوں گا اگر تو میری جان کو روک لے تو اس کو بخش دینا اور اگر تو اس کو چھوڑ دے تو اس کی اس طرح حفاظت کرنا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے ۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ « ثُمَّ لْيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّى وَضَعْتُ جَنْبِى فَإِنْ أَحْيَيْتَ نَفْسِى فَارْحَمْهَا ».

It was narrated from 'Ubaid bin 'Umar with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6892), and he (s.a.w) said: "Then let him say: 'In Your Name my Lord I lay myself down, and if you bring my soul back to life then have mercy on it."'

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے اس میں یہ ہے: یہ دعا پڑھے ، اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں اپنا پہلو رکھتا ہوں ، اگر تو میری جان کو زندہ رکھے تو اس پر رحم فرما۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ « الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِىَ لَهُ وَلاَ مُئْوِىَ ».

It was narrated from Anas that when the Messenger of Allah (s.a.w) went to his bed he would say: "Al-Hamdulillahilladhi at'amna wa saqana wa kafana wa awana, fakam mimman la kafiya lahu wa lamu'wiya (Praise is to Allah Who has fed us and given us to drink, and has sufficed us and provided us with shelter; how many are there for whom there is no one to suffice and no one to provide shelter)."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺجب بستر پر جاتے تو یہ دعا پڑھتے : تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا ، اور پلایا ، اور ہمیں کافی ہوا ، اور ہمیں ٹھکانا دیا ، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کا کوئی کفایت کرنے والا نہیں ہے اور نہ ہی ٹھکانا دینے والا۔

Chapter No: 18

بابُ التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يَعْمَلْ

Seeking refuge with Allah from the evil of what one has done and what one has not done

جو کام کیے اور جو نہیں کیے، ان سے پناہ مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلاَلٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الأَشْجَعِىِّ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَدْعُو بِهِ اللَّهَ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ « اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ».

It was narrated that Farwah bin Nawfal Al-Ashja'i said: "I asked 'Aishah about how the Messenger of Allah (s.a.w) used to call upon Allah in supplication, and she said: 'He used to say: Allahumma, inni a'udhu bika min sharri ma 'amiltu wa min sharri ma lam a'mal (O Allah, I seek refuge with You from the evil of that which I have done, and from the evil of that which I have not done).'"

حضرت فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہﷺاللہ تعالیٰ سے کیا دعائیں مانگتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺیہ دعا کرتے تھے : اے اللہ! میں نے جو کام کیے ہیں ان کے شر سے اور جو کام میں نے نہیں کیے ان کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلاَلٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ كَانَ يَقُولُ « اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ».

It was narrated that Farwah bin Nawfal said: "I asked 'Aishah about the supplication with which the Messenger of Allah (s.a.w) used to call upon Allah, and she said: 'He used to say: Allahumma, inni a'udhu bika min sharri ma 'amiltu wa sharri ma lam a'mal (O Allah, I seek refuge with You from the evil of that which I have done, and the evil of that which I have not done).'"

حضرت فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس دعا کے بارے میں سوال کیا جو آپﷺکیا کرتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپﷺیہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میں نے جو کام کیے ہیں ان کے شر سے اور جو کام میں نے نہیں کیے ان کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - يَعْنِى ابْنَ جَعْفَرٍ - كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ « وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ ».

A similar report (as no. 6896) was narrated from Husain with this chain of narrators, but in the Hadith of Muhammad bin Ja'far it says: "...wa min sharri ma lam a'mal (and from the evil of that which I have not done)."

یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے ، ایک سند کے ساتھ " و من شر مالم اعمل " کے الفاظ مروی ہیں۔


وَحَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِى لُبَابَةَ عَنْ هِلاَلِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقُولُ فِى دُعَائِهِ «اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ».

It was narrated from 'Aishah that the Prophet (s.a.w) used to say in his supplication: "Allahumma, inni a'udhu bika min sharri ma 'amiltu wa sharri ma lam a'mal (O Allah, I seek refuge with You from the evil of that which I have done, and the evil of that which I have not done)."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ نبی ﷺاپنی دعا میں فرماتے تھے: اے اللہ! میں نے جو کام کیے ہیں ان کے شر سے اور جو کام میں نے نہیں کیے ہیں ان کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔


حَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنِى ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقُولُ « اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِى أَنْتَ الْحَىُّ الَّذِى لاَ يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يَمُوتُونَ ».

It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (s.a.w) used to say: ''Allahumma laka aslamtu wa bika amantu wa 'alaika tawakkaltu, wa ilaika anabtu, wa bika khasamtu. Allahumma inni a'udhu bi'izzatika- la ilaha illa anta - an tudillani, antal-hayyulladhi la yamutu, wal-jinnu wal-insu yamutu (O Allah, to You have I submitted, in You have I believed, upon You I have relied, to You have I turned in repentance, with Your help have I fought my adversaries. O Allah, I seek refuge in Your glory – none has the right to be worshiped but You - from Your sending me astray, for You are the Ever-Living Who does not die, but jinn and men die)."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺیہ دعا کرتے تھے! اے اللہ! میں نے تیری اطاعت کی اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر توکل کیا اور تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے جنگ کی، اے اللہ!میں تیرے گمراہ کرنے سے تیری عزت کی پناہ میں آتا ہوں، تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، تو ہی زندہ ہے جس کو موت نہیں آئے گی اور سب جن اور انسان مرجائیں گے ۔


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا كَانَ فِى سَفَرٍ وَأَسْحَرَ يَقُولُ « سَمَّعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلاَئِهِ عَلَيْنَا رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ ».

It was narrated from Abu Hurairah that when the Prophet (s.a.w) was on a journey and the time just before dawn came he would say: "Samma' sami'un bi-hmdillahi wa husni bala'ihi 'alaina, rabbana sahibna wa afdil 'alaina, 'a'idhabillahi min an-nar (Let one who hears us convey our praise of Allah for His blessing upon us. Our Lord, accompany us and bestow Your Grace upon us. I seek refuge with Allah from the Fire)."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺجب کسی سفر میں صبح اٹھتے تو یہ دعا فرماتے : سننے والے نے اللہ کی حمد کو اور اس کی ہم پر آزمائش کے حسن کوسن لیا ، اے اللہ!ہمارے ساتھ رہ ، اور ہم پر فضل فرما، اس حال میں کہ ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگنے والے ہیں۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ بْنِ أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ « اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى خَطِيئَتِى وَجَهْلِى وَإِسْرَافِى فِى أَمْرِى وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّى اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى جِدِّى وَهَزْلِى وَخَطَئِى وَعَمْدِى وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِى اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّى أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ ».

It was narrated from Abu Burdah bin Abi Musa Al-Ash'ari from his father that the Prophet (s.a.w) used to say this ' supplication: "Allahummaghfirli khatiy'ati wa jahli, wa israfi fi amri, wa ma anta a'lamu bihi minni, Allahummaghfirli jiddi wa hazli, wa khata'i wa 'amdi, wa kullu dhalika 'indi. Allahummaghfirli ma qaddamtu wa ma akh-khartu, wa ma asrartu, wa ma a'lantu, wa ma anta a'lamu bihi minni antal-muqaddimu wa antal-mu'akh-khiru, wa anta 'ala kulli shay'in qadir (O Allah, forgive me for my sins and ignorance, for my extravagance in my affairs and for what You know better than me. O Allah forgive me (for what I have done) seriously and in jest, inadvertently and deliberately; all of that is from me. O Allah, forgive me my past and future sins, what I have done hidden and what I have done openly, and what You know better than me. You are the One Who brings forward and puts back and You have power over all things)."

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺیہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! میری خطا ، میری نادانی ، میرے معاملہ میں میری زیادتی کو اورجن کاموں کا تجھے مجھ سے زیادہ علم ہے ان کو معاف فرمادے ، اے اللہ! جو کام میں نے سنجیدگی سے کیے اور جو مذاق سے کیے ، جو خطاء کیے اور جو جان بوجھ کر کیے ، اور ہر وہ کام جو میرے نزدیک گناہ ہیں معاف فرما، اے اللہ! ان کاموں کو معاف فرما جو میں نے پہلے کیے ، اور جو میں نے بعد میں کیے اور جو میں نے چھپ کر کیے اور جو میں نے ظاہر کیے اور جن کا تجھے مجھ سے زیادہ علم ہے ، تو مقدم کرنے والا ہے ، اور تو مؤخر کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِىُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِى هَذَا الإِسْنَادِ.

Shu'bah narrated it with this chain (a Hadith. Similar to no. 6901).

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے۔


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ الْقُطَعِىُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِى صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِى دِينِىَ الَّذِى هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِى وَأَصْلِحْ لِى دُنْيَاىَ الَّتِى فِيهَا مَعَاشِى وَأَصْلِحْ لِى آخِرَتِى الَّتِى فِيهَا مَعَادِى وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِى فِى كُلِّ خَيْرٍ وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِى مِنْ كُلِّ شَرٍّ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to say: 'Allahumma aslih li dinilladhi huwa 'ismatu amri, wa asli le dunyayallati fiha ma'ashi, wa aslih li akhiratillati fiha ma'adi, waj'alil-hayata ziyadatalli fi kulli khairin, waj'alil-mawta rahatalli min kulli sharr (O Allah, set right for me my religious commitment, which is the safeguard of my affairs. Set right for me my worldly affairs in which is my living. Set right for me my Hereafter in which will be my final abode. Make this life a means of increase in all that is good, and make death a relief for me from all evil)."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺیہ دعا کرتے تھے : اے اللہ! میرے دین کو درست کردے جو میرے معاملہ کامحافظ ہے اور میرے دنیا کو درست کردے جس میں میری روزی ہے اور میری آخرت کو درست کردے جس میں میرا تیری طرف لوٹنا ہے اور میری زندگی کو ہر خیر میں میری زیادتی کا سبب بنادے اور میری وفات کو ہر شر سے میری راحت بنادے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ « اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى ».

It was narrated from 'Abdullah that the Prophet (s.a.w) used to say: "Allahumma inni as'alukal-huda wat-tuqa, wal-'afafa wal-ghina (O Allah I ask You for guidance, piety, abstinence and independence of means)."

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺیہ دعا کرتے تھے : اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت ، تقویٰ ، پاک دامنی اورغنیٰ کا سوال کرتا ہوں ۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى قَالَ فِى رِوَايَتِهِ « وَالْعِفَّةَ ».

A similar report (as Hadith no. 6904) was narrated from Abu Ishaq with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں عفت کا لفظ ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ نُمَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآَخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ وَعَنْ أَبِى عُثْمَانَ النَّهْدِىِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ لاَ أَقُولُ لَكُمْ إِلاَّ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ كَانَ يَقُولُ « اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِى تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلاَهَا اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لاَ يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لاَ يُسْتَجَابُ لَهَا ».

It was narrated that Zaid bin Arqam said: "I do not tell you anything but that which the Messenger of Allah (s.a.w) said. He used to say: 'Allahumma, inni a'udhu bika minal- 'ajzi wal-kasali, wal-jubni wal-bukhli, wal-harami wa 'adhabil-qabr. Allahumma, ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu man zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni a'udhu bika min 'ilmi la yanfa'u wa min qalbilla yakhsha'u, wa min nafsilla yashba'u, wa min da'watilla yustajabu laha (O Allah, I seek refuge with You from helplessness, laziness, cowardice, miserliness, old age and the torment of the grave. O Allah, grant my soul piety and purify it, for You are the best to purify it, You are its Guardian and its Lord. O Allah, I seek refuge with You from knowledge that is not beneficial, a heart that is not humble (before You), a soul that is not satisfied and a prayer that is not answered)."'

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں تم سے اسی طرح کہتا ہوں جس طرح رسول اللہﷺنے فرمایا تھا: آپﷺفرماتے تھے : اے اللہ! میں عاجزی ، سستی ، بزدلی، بخل ، ادھیڑعمری اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما ، اس کو پاکیزہ کر دے ، تو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، تو اسی کا ولی ہے اور مولیٰ ہے ، اے اللہ! جو علم نفع نہ دے ، جو دل ڈرتا نہ ہو ، جو نفس سیر نہ ہوتا ہو ، اور جو دعا قبول نہ ہو میں اس سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا أَمْسَى قَالَ « أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ». قَالَ الْحَسَنُ فَحَدَّثَنِى الزُّبَيْدُ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِى هَذَا « لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِى النَّارِ وَعَذَابٍ فِى الْقَبْرِ ».

It was narrated that 'Abdullah bin Mas'ud said: "When evening came the Messenger of Allah (s.a.w) would say: 'Amsaina wa amsal-mulkulillahi, wal-hamdulillahi la ilaha illallahu wahdahu la sharika lah (We have reached the evening and the dominion belongs to Allah, and praise be to Allah, none has the right to be worshiped but Allah alone with no partner or associate)."' Al-Hasan (one of the narrators) said: "Az-Zubaid told me that he memorized it from Ibrahim as follows: 'Lahul-mulku wa lahul-hamdu wa huwa 'ala kulli shay'in qadir. Allahumma as'aluka khaira hadhihil-lailati, wa a'udhu bika min sharri hadhihil-lailati, wa sharri ma ba'daha. Allahumma inni a'udhu bika minal-kasali wa su'il-kibar. Allahumma inni a'udhu bika min 'adhabin fin-nari wa 'adhabin fil-qabr (His is the dominion, to Him is praise and He has power over all things. O Allah, I ask You for the good of this night and the good of what follows it, and I seek refuge in You from the evil of this night and the evil of what follows it. O Allah, I seek refuge in You from laziness and the evil of arrogance. O Allah, I seek refuge in You from torment in the Fire and torment in the Grave)."'

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺشام کے وقت یہ دعا کرتے تھے : ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے شام کی ، اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں ، اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کوئی عبادت کے مستحق نہیں ہے ، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اللہ ہی کے لیے ملک ہے ، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی خیر کا سوال کرتا ہوں ، اور اس رات کے شر سے اور اس رات کے بعد کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، اے اللہ! میں سستی سے ، اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا أَمْسَى قَالَ « أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ». قَالَ أُرَاهُ قَالَ فِيهِنَّ « لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِى هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِى هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِى النَّارِ وَعَذَابٍ فِى الْقَبْرِ ». وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا « أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ».

It was narrated that 'Abdullah said: "When evening came, the Messenger of Allah (s.a.w) would say: 'Amsaina wa amsalmulku-lillahi, wal-hamdulillahi, la ilaha illallahu wahdahu la sharika lah (We have reached the evening and the Dominion belongs to Allah, and praise be to Allah, none has the right to be worshiped but Allah alone with no partner or associate)."' He said "I think he also said: 'Lahul-mulku wa lahul-hamdu wa huwa 'ala kulli shay'in qadir. Rabbi as'aluka khaira ma fi hadhihil-lailati wa khaira ma ba'daha, wa a'udhu bika min sharri ma fi hadhihil-lailati wa sharri ma ba'daha Rabbi a'udhu bika min 'adhabin fin-nari wa 'adhabin fil-qabr (His is the dominion, to Him is praise and He has power over all things. O Allah, I ask You for the good of this night and the good of what follows it, and I seek refuge in You from the evil of this night and the evil of what follows it. O Lord, I seek refuge with You from laziness and the evil of arrogance. O Lord, I seek refuge with You from torment in the Fire and torment in the grave).'" And when morning came he would say that too: 'Asbahna wa asbahal-mulkulillah (We have reached the morning and the Dominion belongs to Allah...)."'

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺشام کے وقت یہ دعا کرتے : ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے شام کی ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، اللہ وحدہ کے سوا کوئی عبادت کے مستحق نہیں ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺنے ان کلمات میں یہ بھی فرمایا ہے : اللہ کے لیے ہی ملک ہے اور اسی کی حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اے رب!میں تجھ سے اس رات کی خیر کا سوال کرتا ہوں ، اور اس رات کے بعد کی خیر کا سوال کرتا ہوں ، اور اس رات کے شر سے اور اس رات کے بعد کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ! میں سستی سے اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتاہوں اور جب صبح ہوتی ہے تو آپﷺصبح بھی یہ دعا کرتے : ہم نے صبح کی اور اللہ کے ملک نے صبح کی ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِىٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا أَمْسَى قَالَ « أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ ». قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَزَادَنِى فِيهِ زُبَيْدٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ « لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ ».

It was narrated that 'Abdullah said: "When evening came the Messenger of Allah (s.a.w) would say: 'Amsaina wa amsal-mulkulillahi, wal-hamdulillahi la ilaha illallahu wahdahu la sharika lah. Allahumma inni as'aluka min khaira hadhihil-lailati, wa khairi ma fiha, wa a'udhu bika min sharriha wa sharri ma fiha. Allahumma inni a'udhu bika minal-kasali wal-harmi wa su'il-kibar, wa fitnatid-dunya wa 'adhabil-qabr (We have reached the evening and the dominion belongs to Allah, and praise is to Allah, none has the right to be worshiped but Allah alone with no partner or associate. O Allah, I ask You for the good of this night and the good of what is in it, and I seek refuge with You from the evil of this night and the evil of what is in it. O Allah, I seek refuge with You from laziness, old age and the evil of arrogance, and the trials of this world and the torment of the grave)."'

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺشام کے وقت یہ دعا کرتے تھے : ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے شام کی ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، اللہ وحدہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، اللہ کا کوئی شریک نہیں ، اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی خیر کا اور جو کچھ اس رات میں ہے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں ، اور اس رات کے شر سے اور جو کچھ اس رات میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے ، بڑھاپے کی خرابی ، دنیا کے فتنے اور عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، ایک روایت میں ہے : آپﷺنےفرمایا: اللہ وحدہ کے سوا کوئی عبادت کے مستحق نہیں ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے ملک ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَقُولُ « لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ فَلاَ شَىْءَ بَعْدَهُ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) used to say: "La ilaha illallahu wahdahu, a'azza jundahu wa nasara 'abdahu, wa ghalabal-ahzaba wahdahu fa la shay'a ba'dah (None has the right to be worshiped but Allah alone, He granted victory to His troops, supported His slave and defeated the confederates alone, and there is nothing after Him)."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺیہ دعا کرتے تھے : اللہ وحدہ کے علاوہ عبادت کے لائق کوئی نہیں ہے ، جس نے اپنے لشکر کو غلبہ عطا کیا ، اپنے بندے کی مدد کی ، اور اکیلے لشکروں کو مغلوب کیا ہے اور اس کے بعد کچھ نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قُلِ اللَّهُمَّ اهْدِنِى وَسَدِّدْنِى وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَالسَّدَادِ سَدَادَ السَّهْمِ ».

It was narrated that 'Ali said: The Messenger of Allah (s.a.w) said: Say: "Allahumma ihdini wa saddidni (O Allah, guide me and make me steadfast),' and when you mention guidance remember those who guide people along the road, and when you mention steadfastness remember those who shoot arrows."

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہﷺنے فرمایا: یہ دعا پڑھو ، اے اللہ! مجھے ہدایت دے ، اور سیدھا رکھ ، اور ہدایت کے وقت تمہیں راستہ کی ہدایت اور سیدھا کرنے کی دعا کے وقت ، تیر کے سیدھے ہونے کو یاد کرو۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِى ابْنَ إِدْرِيسَ - أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ قَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ ». ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ.

'Asim bin Kulaib narrated it with this chain of narrators. He said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'Say: Allahumma inni as'alukal-huda was-sadad (O Allah I ask You for guidance and steadfastness)."' Then he mentioned something similar (to Hadith no. 6911).

یہ حدیث بھی حسب سابق سند کے ساتھ مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہﷺنے مجھ سے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور راستی کا سوال کرتا ہوں۔ اس کے بعد اسی طرح ذکر کیا ہے۔

Chapter No: 19

بابُ التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْم

Concerning Tasbih (saying Subhan Allah) at the start of the day and before sleeping

سوتے وقت اور دن کے آغاز میں تسبیح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِى عُمَرَ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ جُوَيْرِيَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِىَ فِى مَسْجِدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِىَ جَالِسَةٌ فَقَالَ « مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِى فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا ». قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ ».

It was narrated from Juwayriyah that the Prophet (s.a.w) left her one morning when he prayed Subh, (i.e., Fajr prayer) and she was in her prayer-place, then he came back after the forenoon had come, and she was still sitting there. He said: "Are you still as you were when I left you?" She said: "Yes." The Prophet (s.a.w) said: "After I left you I said four words three times, which if they were weighed against what you have said today, they would outweigh it: Subhan-Allahi wa bi-hamdihi 'adada khalqihi, wa rida nafsihi, wa zinata 'arshihi, wa midada kalimatih (Glory and praise is to Allah, as much as the number of His creation, as much as pleases Him, as much as the weight of His Throne and as much as the ink of His words)."

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺصبح کی نماز پڑھنے کے بعد صبح کو ہی ان کے پاس سے چلے گئے ، اور وہ اس وقت اپنی نماز کی جگہ میں بیٹھی تھیں ، پھر آپ دن چڑھے تشریف لائے ، اور وہ وہیں بیٹھی تھیں ، آپﷺنے فرمایا: جس وقت سے میں تم کو چھوڑ کر گیا ہوں تم اسی طرح بیٹھی ہو ؟ حضرت جویریہ نے عرض کیا : جی ! نبی ﷺنے فرمایا: میں نے تمہارے بعد چار ایسے کلمات تین مرتبہ کہے ہیں کہ جو کچھ تم نے صبح سے اب تک پڑھا ہے اگر اس کا ان کلمات کے ساتھ وزن کرو تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہوگا ، اللہ کی تعریف اور تسبیح ہے اس کی مخلوق کے عدد ، اس کی رضا ، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى رِشْدِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ جُوَيْرِيَةَ قَالَتْ مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ صَلَّى صَلاَةَ الْغَدَاةِ أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ».

It was narrated by Juwairiyyah that the Messenger of Allah (s.a.w) passed by her when she was praying Al-Ghadah (Fajr), or after he had prayed Al-Ghadah..." - and he (the sub narrator) mentioned a similar report (as no.6913), except that he said: "Subhan-Allahi 'adada khalqihi, Subhan-Allahi rida nafsihi, Subhan -Allahi zinata 'arshihi, Subhan Allahi midada kalimatih (Glory is to Allah as much as the number of His creation, glory is to Allah as much as pleases Him, glory is to Allah as much as the weight of His Throne and glory is to Allah as much as the ink of His Words)."

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ صبح کی نماز کے وقت ، یا صبح کی نماز کے بعد رسول اللہﷺمیرے پاس سے گزرے ، پھر حسب سابق روایت ہے ، اور اس روایت میں اس طرح ہے : اللہ کی تسبیح مخلوق کے عدد کے برابر ، اللہ کی تسبیح اللہ کی رضا کے برابر ، اللہ کی تسبیح اس کے عرش کے وزن کے برابر ، اللہ کی تسبیح ا س کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِى لَيْلَى حَدَّثَنَا عَلِىٌّ أَنَّ فَاطِمَةَ اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى فِى يَدِهَا وَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- سَبْىٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِىءِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا فَجَاءَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « عَلَى مَكَانِكُمَا ». فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى صَدْرِى ثُمَّ قَالَ « أَلاَ أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ وَتُسَبِّحَاهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتَحْمَدَاهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ».

'Ali narrated that Fatimah complained about the pain caused to her hand by the mill, and some prisoners (of war) had been brought to the Prophet (s.a.w) ' so she went but did not find him, but she met 'Aishah and told her. When the Prophet (s.a.w) came, 'Aishah told him about Fatimah coming to her. The Prophet (s.a.w) came to us, and we had gone to bed. We started to get up, but the Prophet (s.a.w) said: "Stay where you are." Then he sat between us, until I could feel the coolness of his foot on my chest. Then he said: "Shall I not teach you something better than what you asked for? When you go to your bed, proclaim the greatness of Allah thirty-four times, glorify Him thirty-three times and praise Him thirty-three times. That is better for you than a servant."

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چکی پیسنے کی وجہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھوں میں نشانات پڑگئے تھے ، نبی ﷺکے پاس کچھ قیدی (یعنی غلام ) تھے ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپﷺسے ملنے گئیں ، لیکن آپﷺسے ملاقات نہیں ہوئی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو اپنے حال کی خبردی ، جب نبی ﷺتشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺسے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کا ذکر کیا (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:) پھر جب ہم بستروں میں لیٹے ہوئے تھے اس وقت ہمارے پاس نبی ﷺتشریف لائے ، ہم اٹھنے لگے تو اس وقت نبی ﷺنے فرمایا: اپنی جگہ پر ہی رہو ، پھر آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے ، یہاں تک کہ میں نے اپنے سینے کے پاس نبیﷺکے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی ، آپﷺنے فرمایا: تم نے جومجھ سوال کیا ہے کیا میں تم کو اس سے اچھی چیز کی خبر نہ دوں ، جب تم دونوں اپنے بستروں پر جاؤ تو چونتیس بار اللہ اکبر کہو، اور تینتیس بار سبحان اللہ کہو، اور تینتیس بار الحمد للہ کہو تو یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِى ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِى حَدِيثِ مُعَاذٍ « أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ ».

It was narrated from Shu'bah with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6915). In the Hadith of Mu'adh it says: "When you go to your bed at night."

یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى يَزِيدَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ عَلِىٍّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِنَحْوِ حَدِيثِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ قَالَ عَلِىٌّ مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. قِيلَ لَهُ وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينِ. وَفِى حَدِيثِ عَطَاءٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى قَالَ قُلْتُ لَهُ وَلاَ لَيْلَةَ صِفِّينَ؟

A Hadith like that of Al-Hakam from Ibn Abi Laila (no. 6915) was narrated from 'Ali from the Prophet (s.a.w). In the Hadith he added: "Ali said: 'I have not abandoned it since I heard it from the Prophet (s.a.w).' It was said to him: 'Not even on the night of Siffin?' He said: 'Not even on the night of Siffin.'" In the Hadith of 'Ata' from Mujahid it is narrated that Ibn Abi Laila said: "He said: 'I said to him: "Not even on the night of Siffin?

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے حسب سابق روایت کی ہے ، اس روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: جب سے میں نے نبیﷺسے اس حدیث کوسنا ہے اس کا پڑھنا ترک نہیں کیا ،ان سے کہا گیا کہ صفین کی رات کو بھی ترک نہیں کیا ؟ انہوں نے فرمایا: صفین کی رات کو بھی ترک نہیں کیا ، ایک روایت میں ہے ، ابو لیلیٰ نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: صفین کی رات کو بھی نہیں؟


حَدَّثَنِى أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ - يَعْنِى ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- تَسْأَلُهُ خَادِمًا وَشَكَتِ الْعَمَلَ فَقَالَ « مَا أَلْفَيْتِيهِ عِنْدَنَا ». قَالَ « أَلاَ أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ تُسَبِّحِينَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتَحْمَدِينَ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتُكَبِّرِينَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ حِينَ تَأْخُذِينَ مَضْجَعَكِ ».

It was narrated from Abu Hurairah that Fatimah came to the Prophet (s.a.w) to ask him for a servant, and she complained about her work. He said: "We do not have anything to give you.'' He said: "Shall I not tell you about something that is better for you than a servant? Say: 'Subhan Allah' thirty-three times, 'Al-hamdu Lillah' thirty-three times, and 'Allahu Akbar' thirty-four times, when you go to bed.''

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺکے پاس آئیں اور آپﷺسےخادم کا سوال کیا ، اور کام کی شکایت کی ،آپﷺنے فرمایا: تم کو ہمارے پاس خادم تو نہیں ملے گا ، کیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں جو خادم سے بہتر ہے ؟ تم جب بستر پر جاؤ تو تنتیس مرتبہ سبحان اللہ ، تنتیس مرتبہ الحمد للہ ، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِىُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

Suhail narrated it with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔

Chapter No: 20

بابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ عِنْدَ صِيَاحِ الدِّيكِ

The recommendation of supplication when a cock crows

مرغ کی بانگ کے وقت دعا کا استحباب

حَدَّثَنِى قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "When you hear the crowing of a rooster, ask Allah of His Bounty, for it has seen an angel. But when you hear the braying of a donkey, then seek refuge with Allah from the Shaitan, for it has seen a devil."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو، کیونکہ وہ فرشتہ کو دیکھتا ہے ، اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے ۔

123