Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Muslim

Book: Book of The Virtues of The Companions (44)    كتاب فضائل الصحابة رضي الله عنهم

‹ First456

Chapter No: 51

باب بَيَانِ أَنَّ بَقَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانٌ لأَصْحَابِهِ وَبَقَاءَ أَصْحَابِهِ أَمَانٌ لِلأُمَّةِ

The existence of the Prophet ﷺ is a source of security for his companions and the existence of his companions is a source of security for the Ummah

نبی ﷺکی بقاء کا صحابہ کے لیے اور صحابہ کی بقاء کا امت کے لیے امان ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، كُلُّهُمْ عَنْ حُسَيْنٍ ، قَالَ : أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ مُجَمَّعِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُلْنَا : لَوْ جَلَسْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ قَالَ فَجَلَسْنَا ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا ؟ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، صَلَّيْنَا مَعَكَ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ قُلْنَا : نَجْلِسُ حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَكَ الْعِشَاءَ ، قَالَ أَحْسَنْتُمْ ، أَوْ أَصَبْتُمْ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لأَصْحَابِي ، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي ، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ.

It was narrated from Abu Burdah that his father said: "We prayed Maghrib with the Messenger of Allah (s.a.w), then we said: 'Why don't we sit and wait until we pray 'Isha' with him?' So we sat, and he came out to us and said: 'Are you still here?' We said: 'O Messenger of Allah, we prayed Maghrib with you, then we said we will sit until we pray 'Isha' with you.' He said: 'You have done well,' or 'you have done the right thing.' He raised his head to look at the sky, and he often raised his head to look at the sky, and said: 'The stars are a source of security for the sky, and when the stars disappear, there will come to the sky what is promised. I am a source of security for my Companions, and when I am gone there will come to my Companions what they are promised. And my Companions are a source of security for my Ummah, and when my Companions are gone, there will come to my Ummah what they are promised.'"

حضرت ابو بردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺکے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی ، پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم بیٹھے رہیں اور آپﷺکے ساتھ عشاء کی نماز پڑھیں (تو بہتر ہوگا) ہم بیٹھے رہے ، آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم تب سے یہیں بیٹھے ہو، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی ، پھر ہم نے سوچا کہ ہم یہیں بیٹھے رہیں یہاں تک کہ آپ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھیں ، آپﷺنے فرمایا: تم نے اچھا کیا ، یا فرمایا : تم نے صحیح کیا ، پھر آپﷺنے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور آپ بکثرت آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے ، آپﷺنے فرمایا: ستارے آسمانوں کے لیے امان ہیں ، اور جب ستارے ختم ہوجائیں گے تو آسمان پر وہ چیز آجائے گی جس سے تم کو ڈرایا گیا ہے (یعنی قیامت ) اور میں اپنے اصحاب کے لیے امان ہوں اور جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر وہ (فتنے ) آجائیں گے جن سے ان کو ڈرایا گیا اور میرے اصحاب میری امت کے لیے امان ہیں اور جب وہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ (فتنے ) آجائیں گے جن سے اس کو ڈرایا گیا ہے۔

Chapter No: 52

باب فَضْلِ الصَّحَابَةِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ

The superiority of the companions (of the Prophet ﷺ), then of those who are next to them, then of those who are next to them

صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے فضائل

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : فِيكُمْ مَنْ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ.

It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that the Prophet (s.a.w) said: "There will come to the people a time when groups of people will go out to fight, and it will be said to them: 'Is there anyone among you who saw the Messenger of Allah (s.a.w)?' And they will say: 'Yes,' and victory will be granted to them. Then groups of people will go out to fight and it will be said to them: 'Is there anyone among you who saw anyone who accompanied the Messenger of Allah (s.a.w)?' They will say: 'Yes,' and victory will be granted to them. Then groups of people will go out to fight and it will be said to them: 'Is there anyone among you who saw anyone who accompanied anyone who accompanied the Messenger of Allah (s.a.w)?' They will say: 'Yes,' and victory will be granted to them."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں لوگوں کی چند جماعتیں جہاد کے لیے جائیں گی ، ان سے پوچھا جائے گا : کیا تم میں وہ آدمی ہے جس نے رسو ل اللہﷺکی زیارت کی ہے؟(یعنی صحابی) وہ کہیں گے : ہاں ! پھر ان کو فتح حاصل ہوگی ، پھر ایک جماعت جہاد کے لیے نکلے گی ، ان سے پوچھا جائے گا :تم میں وہ آدمی ہے جس نے رسول اللہﷺکے صحابی کی زیارت کی ہے؟(یعنی تابعی) وہ کہیں گے : ہاں ! پھر ان کو بھی فتح حاصل ہوگی ، پھر ایک جماعت جہاد کے لیے روانہ ہوگی ، ان سے کہا جائے گا : کیا تم میں وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ ﷺکے صحابی کی زیارت کرنے والے کی زیارت کی ہے؟(یعنی تبع تابعی) وہ کہیں گے : ہاں ! پھر ان کو بھی فتح حاصل ہوگی۔


حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : زَعَمَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ : انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ، ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي فَيَقُولُونَ : هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ، ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَيُقَالُ : انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَيُقَالُ : انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ.

It was narrated from Jabir that Abu Sa'eed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'There will come to the people a time when a detachment will be sent out, and they will say: "Look and see if you can find among you anyone of the Companions of the Prophet (s.a.w) -" A man will be found, and victory will be granted to them because of him. Then a second detachment will be sent out, and they will say: "Is there anyone among them who saw the Companions of the Prophet (s.a.w)?" And victory will be granted to them because of him. Then a third detachment will be sent out and they will say: "Look and see if you can find among them anyone who saw someone who saw the Companions of the Prophet." Then there will be a fourth detachment, and it will be said: "Look and see if you can find among them anyone who saw someone, who saw someone, who saw the Companions of the Prophet (s.a.w) -" A man will be found, and victory will be granted because of him.'"

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں وہ ایک لشکر کو جنگ کے لیے روانہ کریں گے ، لوگ کہیں گے : دیکھو ان میں نبی ﷺکا کوئی صحابی ہے ؟ پھر ایک آدمی مل جائے گا او ران کو اس کی برکت سے فتح حاصل ہوجائے گی ، پھر ایک دوسرے لشکر روانہ کیا جائے گا ، لوگ کہیں گے : کیا ان میں کوئی آدمی ایسا ہے جس نے نبی ﷺکے اصحاب کو دیکھا ہو؟پھر اس کی برکت سے ان کو فتح حاصل ہوجائے گی ، پھر ایک تیسرا لشکر روانہ کیا جائے گا اور کہاجائے گا : دیکھو کیا ان میں کوئی ایسا آدمی ہے جس نے نبی ﷺکے اصحاب کے دیکھنے والوں کی زیارت کی ہو؟ پھر ایک چوتھا لشکر روانہ کیا جائےگا ، پھر کہا جائے گا : دیکھو تم ان میں کوئی ایسا شخص دیکھتے ہو جس نے نبی ﷺکے اصحاب کے دیکھنے والوں کے دیکھنے والوں میں سے کسی ایک آدمی کو دیکھا ہو ، پھر ایک آدمی مل جائے گا ، اور اس کی برکت سے ان کو فتح حاصل ہوجائے گی۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ يَلُونِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ. لَمْ يَذْكُرْ هَنَّادٌ الْقَرْنَ فِي حَدِيثِهِ ، وقَالَ قُتَيْبَةُ: ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ.

It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The best of my Ummah are the generation who come after me, then those who come after them, then those who come after them. Then there will come people whose testimony will come before their oath, and their oath before their testimony."'

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جو اس قرن میں ہیں جو میرے قریب ہیں ، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے قریب ہیں ، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے قریب ہیں ، ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں سے کسی ایک کی شہادت اس کی قسم سے پہلے ہوگی اور اس کی قسم اس کی شہادت سے پہلے ہوگی ، ہناد کی حدیث میں اس جگہ قرن کا ذکر نہیں کیا گیا اور قتیبہ نے قوم کی بجائے اقوام کہا ہے۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا ، جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ: قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ ، وَتَبْدُرُ يَمِينُهُ شَهَادَتَهُ. قَالَ إِبْرَاهِيمُ:كَانُوا يَنْهَوْنَنَا ، وَنَحْنُ غِلْمَانٌ ، عَنِ الْعَهْدِ وَالشَّهَادَاتِ.

It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) was asked: 'Which of the people are best?' He said: 'My generation, then those who come after them, then those who come after them. Then there will come people whose testimony will come before their oath, and their oath before their testimony."' Ibrahim said: "They used to forbid us, when we were children, to swear oaths and give testimony." it does not say: "The Messenger of Allah (s.a.w) was asked."

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺسے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہیں ؟ آپﷺنے فرمایا: میرا زمانہ ہے (یعنی میرے زمانہ کے لوگ) پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے قریب ہوں ، پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہوں ، پھر ایک ایسی قوم آئے گی کہ ان کی شہادت ان کی قسم سے پہلے ہوگی ، اور ان کی قسم ان کی شہادت سے پہلے ہوگی۔ راوی ابراہیم نے کہا: جس وقت ہم کم عمر تھے لوگ ہم کو قسم کھانے اور شہادت دینے سے منع کرتے تھے ۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلاَهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِ أَبِي الأَحْوَصِ ، وَجَرِيرٍ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا: وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

A similar Hadith (as no. 6470) was narrated from Mansur with the chain of Abu Al-Ahwas and Jarir, but in their Hadith it does not say: "The Messenger of Allah (s.a.w) was asked."

یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے اور ان دونوں میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہﷺسے سوال کیا گیا ۔


وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ فَلاَ أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ: ثُمَّ يَتَخَلَّفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ ، تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ.

It was narrated from 'Abdullah that the Prophet (s.a.w) said: "The best of people are my generation, then those who come after them, then those who come after them." I do not know if he said after the third or fourth time: "Then they will be followed by people whose testimony will come before their oath, and their oath before their testimony."

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: بہترین لوگ میرا قرن(زمانہ) ہیں ، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے قریب ہوں ، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے قریب ہوں ، مجھے یاد نہیں کہ آپ نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا: پھر ان کے بعد ایسے لوگ ہوں گے کہ ان میں سے کسی ایک کی شہادت قسم سے پہلے ہوگی اور کسی ایک کی قسم شہادت سے پہلے ہوگی۔


حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ (ح) وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لاَ ، قَالَ: ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ ، يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The best of my Ummah are the generation among whom I was sent, then those who come after them.' Allah knows best whether he said it a third time or not, then he said: 'Then there will come a people who love to be fat, and they will give testimony before being asked to do so."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میری امت کے بہترین لوگ اس زمانہ کے ہیں جس میں ، میں مبعوث ہوا ہوں ، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے قریب ہیں ، اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ آپ ﷺنے تیسرے نمبر کا ذکر کیا تھا یا نہیں ، پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹا ہونے کو پسند کریں گے ، وہ گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دیں گے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ (ح) وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ (ح) وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، كِلاَهُمَا ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ . غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلاَ أَدْرِي مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلاَثاً.

A similar report (as Hadith no. 6473) was narrated from Abu Bishr with this chain of narrators, except that in the Hadith of Shu'bah it says: "Abu Hurairah said: 'I do not know if he said it two times or three."'

یہ حدیث دو اور سندوں سےحسب سابق مروی ہے صرف یہ فرق ہے کہ شعبہ کی روایت میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں دو مرتبہ کہا ، یا تین مرتبہ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ ، سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، قَالَ عِمْرَانُ : فَلاَ أَدْرِي أَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَرْنِهِ ، مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلاَثَةً ، ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ ، وَيَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنُونَ ، وَيَنْذِرُونَ وَلاَ يُوفُونَ ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ.

'Imran bin Husain narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The best of you are my generation, then those who come after them, then those who come after them, then those who come after them." 'Imran said: "I do not know if the Messenger of Allah (s.a.w) said after his generation two or three times: "Then there will come after them people who will give testimony and will not be asked to do so. They will be dishonest and not trustworthy, they will make vows and not fulfill them, and fatness will become widespread among them."

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم میں بہترین لوگ میرا قرن ہیں ، پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں ، پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں ، پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہیں ، حضرت عمران یہ کہتے ہیں کہ آپﷺنے دو یا تین مرتبہ کے بعد فرمایا: ان کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو بغیر گواہی طلب کیے جانے کے گواہی دیں گے ۔اور خیانت کریں گے ، امانت دار نہیں ہوں گے ، وہ نذر مانیں گے اور اس کو پورا نہیں کریں گے، اور ان میں موٹاپا نمایا ں ہوگا۔


حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، , كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَفِي حَدِيثِهِمْ : قَالَ : لاَ أَدْرِي أَذَكَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ قَرْنَيْنِ ، أَوْ ثَلاَثَةً. وَفِي حَدِيثِ شَبَابَةَ قَالَ : سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ ، وَجَاءَنِي فِي حَاجَةٍ عَلَى فَرَسٍ ، فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ. وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى ، وَشَبَابَةَ يَنْذُرُونَ وَلاَ يَفُونَ وَفِي حَدِيثِ بَهْزٍ يُوفُونَ كَمَا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ.

It was narrated from Shu'bah with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6475). In their Hadith it says: "I do not know whether he mentioned two or three after his generation." In the Hadith of Shababah it says: "I heard Zahdam bin Mudarrib, who came to me for some reason riding a horse, and he told me that he heard 'Imran bin Husain. In the Hadith of Yahya and Shababah (it says): "They will make vows but will not fulfill them."

یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے ، ایک روایت میں ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ ایک قرن یا دو قرنوں ، یا تین قرنوں کے بعد فرمایا: اور ایک روایت میں ہے : وہ نذر مانیں گے اور اس کو پورا نہیں کریں گے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الأُمَوِيُّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كِلاَهُمَا عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ خَيْرُ هَذِهِ الأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ. زَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ: وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لاَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ زَهْدَمٍ ، عَنْ عِمْرَانَ.وَزَادَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ وَيَحْلِفُونَ وَلاَ يُسْتَحْلَفُونَ.

This Hadith was narrated from 'Imran bin Husain from the Prophet (s.a.w): "The best of this Ummah are the generation to whom I was sent, then those who come after them." In the Hadith of Abu 'Awanah it adds: "He said: 'And Allah knows best whether he mentioned the third time or not"' - like the Hadith of Zahdam from 'Imran. In the Hadith of Hisham from Qatadah it adds: "They will swear oaths but they will not be asked to swear oaths."

یہ حدیث مزید دو اور سندوں سے مروی ہے ، حضرت عمران بن حصین نے نبی ﷺسے روایت کی ہے اس امت کے بہترین لوگ ا س زمانہ کے لوگ ہیں جس میں میں مبعوث ہوا ہوں ، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے قریب ہیں ، ابو عوانہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ آپﷺنے تیسری بار کا ذکر کیا تھا یا نہیں اور قتادہ کی روایت میں ہے : وہ حلف طلب کیے جانے کے بغیر حلف اٹھائیں گے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَهُوَ ابْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ: الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ ، ثُمَّ الثَّانِي ، ثُمَّ الثَّالِثُ.

It was narrated that 'Aishah said: "A man asked the Prophet (s.a.w): 'Which people are best?' He said: 'The generation to whom I was sent, then the second, then the third."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺسے یہ سوال کیا کہ کون سے لوگ سب سے بہتر ہیں ؟ آپﷺنے فرمایا: جس زمانہ میں میں ہوں ، پھر دوسرے زمانہ کے ، پھر تیسرے زمانہ کے۔

Chapter No: 53

بَابُ بَيَانِ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ لَا يَبْقَى نَفْسٌ مَنْفُوْسَةٌ مِمَّنْ هُوَ مَوْجُودٌ الْآنِ

Regarding (the meaning of) the words of the Prophet ﷺ: “After one hundred years there will be no soul left alive that is living now”

"جو لوگ اس وقت زندہ ہیں ، سو سال بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں ہوگا " کا مطلب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ، وقَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، صَلاَةَ الْعِشَاءِ ، فِي آخِرِ حَيَاتِهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ: أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ ؟ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِئَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ ، فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الأَحَادِيثِ ، عَنْ مِئَةِ سَنَةٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ.

'Abdullah bin 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) led us in 'Isha' prayer one night at the end of his life, then when he had said the Salam, he stood up and said: 'Have you seen this night of yours? One hundred years from now, there will be no one left who is on the face of the earth.'" Ibn 'Umar said: "The people did not understand these words of the Messenger of Allah (s.a.w) about one hundred years, and they interpreted the Hadith incorrectly; all that the Messenger of Allah (s.a.w) said was 'One hundred years from now, there will be no one left who is on the face of the earth' meaning that generation would come to an end."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے اپنی زندگی کے آخر میں ہمیں ایک رات عشاء کی نماز پڑھائی ، آپﷺسلام پھیر کر کھڑے ہوگئے ، اور آپﷺنے فرمایا: کیا تم نے اس رات پر غور کیا ؟ جو لوگ اب روئے زمین پر ہیں ایک سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا ،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہﷺکے اس ارشاد کو لوگ ٹھیک نہیں سمجھے ، وہ ان احادیث میں ایک سو سال کی باتیں کرتے تھے ، حالانکہ رسول اللہﷺنے یہ فرمایا تھا کہ جو لوگ اب روئے زمین پر ہیں ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا،آپﷺکی مراد یہ تھی کہ یہ زمانہ ختم ہوجائے گا۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ. وَرَوَاهُ اللَّيْثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِإِسْنَادِ مَعْمَرٍ كَمِثْلِ حَدِيثِهِ.

A similar Hadith (as no. 6479) was narrated from Az-Zuhri with the chain of Ma'mar.

یہ حدیث ایک اور سند سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ: تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ ؟ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللهِ ، وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ.

Jabir bin 'Abdullah said: "I heard the Prophet (s.a.w) - say, one month before he died: 'You ask me about the Hour? The knowledge thereof is with Allah, and I swear by Allah, there is no soul that is living now that will survive after one hundred years."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکے وفات سے ایک ماہ قبل میں نے آپ سے یہ سنا : تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو، اس کا علم صرف اللہ کو ہے ، اور میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ روئے زمیں پر اب کوئی ایسا ذی روح نہیں ہے جس پر سو سال گزر جائیں۔


حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ: قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ.

Ibn Juraij narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6481), but he did not say, “... one month before he died."

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے اس میں فوت سے ایک ماہ پہلے کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، كِلاَهُمَا عَنِ الْمُعْتَمِرِ ، قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ ، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ: مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ ، تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ ، وَهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ. وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، صَاحِبِ السِّقَايَةِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ. وَفَسَّرَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ : نَقْصُ الْعُمُرِ.

It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that one month before he died, or thereabouts, the Prophet ~ said: "There is no soul living today that will still be alive after one hundred years."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے اپنی وفات سے تقریبا ایک ماہ قبل فرمایا: آج کوئی ایسا ذی روح نہیں ہے جو سو سال گزرنے کے بعد بھی اس وقت تک زندہ رہے ، عبد الرحمن نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے اس کی طرح روایت کی ہے ، اور عبد الرحمن نے اس کی یہ تفسیر کی کہ لوگوں کی عمریں کم ہوجائیں گی۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا ، مِثْلَهُ.

Sulaiman At-Taimi narrated a similar report (as Hadith no. 6483) with both chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ ، سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ تَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ ، وَعَلَى الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ.

It was narrated that Abu Sa'eed said: "When the Prophet (s.a.w) came back from Tabuk, they asked him about the Hour. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'After one hundred years there will be no soul living on earth that is alive today."'

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺغزوۂ تبوک سے واپس ہوئے تو لوگوں نے آپﷺسے قیامت کے بارے میں پوچھا، رسول اللہﷺنے فرمایا: جو ذی روح آج زمین پر زندہ ہے اس پر سو سال نہیں گزریں گے۔


حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ ، تَبْلُغُ مِائَةَ سَنَةٍ. فَقَالَ سَالِمٌ : تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ عِنْدَهُ ، إِنَّمَا هِيَ كُلُّ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ يَوْمَئِذٍ.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Prophet of Allah (s.a.w) said: 'There is no soul alive that will remain for one hundred years."' Salim said: "We made mention of that to him (i.e., to Jabir, and he explained :), It meant every soul that was alive on that day."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: کوئی ذی روح سو سال تک نہیں پہنچے گا ، سالم کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت جابر کے سامنے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد وہ انسان ہیں جو اس دن پیدا ہوچکے تھے۔

Chapter No: 54

بابُ تَحْرِيمِ سَبِّ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ

The forbiddance of blaspheming the companions, May Allah be pleased with them

صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالی دینے کی حرمت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا ، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ ، وَلاَ نَصِيفَهُ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not revile my Companions, do not revile my Companions. By the One in Whose Hand is my soul, if one of you were to spend the equivalent of Uhud (mountain) in gold (in charity), it would not amount to a Mudd of one of them, or even half of that."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: میرے صحابہ کو گالی مت دو، میرے صحابہ کو گالی مت دو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی آدمی احد پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کر دے تو وہ صحابہ کے دیے ہوئے ایک مُد(آدھا کلو تقریبا) بلکہ آدھا مُد کے برابر بھی نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْءٌ ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا ، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ ، وَلاَ نَصِيفَهُ.

It was narrated that Abu Sa'eed said: "There was some (disagreement) between Khalid bin Al-Walid and 'Abdur-Rahman bin 'Awf, and Khalid reviled him. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not revile one of my Companions, for even if one of you were to spend the equivalent of Uhud in gold (in charity), it would not amount to a Mudd of one of them, or even half of that."'

حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ خالد بن ولید اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کے درمیان کوئی بات تھی تو حضرت خالد نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کو برا بھلا کہا، تو رسول اللہﷺنے فرمایا: میرے صحابہ میں سے کسی کو برا مت کہو، کیونکہ تم میں اگر کسی نے احد پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کیا ہو تو وہ ان میں سے کسی ایک کے دیے ہوئے ایک مد (آدھا کلو تقریبا) یا نصف مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔


حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ (ح) وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ ، وَأَبِي مُعَاوِيَةَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا. وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ، وَوَكِيعٍ ، ذِكْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ.

A similar Hadith (as no. 6488) was narrated from Al-A'mash with the chain of narrators of Jarir and Abu Mu'awiyah, but in the Hadith of Shu'bah and Waki' there is no mention of 'Abdur-Rahman bin 'Awf and Khalid bin Al-Walid.

یہ حدیث تین سندوں سے مروی ہے ، شعبہ اور وکیع کی روایت میں حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کا تذکرہ نہیں ہے۔

Chapter No: 55

بابُ مِنْ فَضَائِلِ أُوَيْسٍ الْقَرَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

The merits of Owais Al-Qarni, May Allah be pleased with him

حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے فضائل

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ وَفَدُوا إِلَى عُمَرَ ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ يَسْخَرُ بِأُوَيْسٍ ، فَقَالَ عُمَرُ: هَلْ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنَ الْقَرَنِيِّينَ ؟ فَجَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ: إِنَّ رَجُلاً يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ ، لاَ يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ ، قَدْ كَانَ بِهِ بَيَاضٌ ، فَدَعَا اللَّهَ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ ، إِلاَّ مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ ، فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ.

It was narrated from Usair bin Jabir that the people of Al-Kufah came to 'Umar, and among them was a man who mocked Uwais. 'Umar said: "Is there anyone here from among the Qaranis?" That man came and 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'A man called Uwais will come to you from Yemen, and he will not leave anyone behind in Yemen except his mother. He had leprosy but he prayed to Allah and He took it away, except for a spot the size of a Dinar or Dirham. Whoever among you meets him, let him pray for forgiveness for you.'"

اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کوفہ ایک وفد لے کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، وفد میں ایک ایسا آدمی بھی تھا جو حضرت اویس سے مذاق کرتا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہاں کوئی قرن کا رہنے والا ہے ، تووہ آدمی پیش ہوا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺنے فرمایا تھا : تمہارے پاس یمن سے ایک آدمی آئے گا ، اس کا نام اویس ہوگا ، یمن میں اس کی والدہ کے علاوہ کوئی نہیں ہوگا ، اس کو برص کی بیماری تھی ، اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ایک دینار یا درہم کے برابر سفید داغ کے سوا باقی داغ اس سے دور کردیے ، تم میں سے جس آدمی کی اس سے ملاقات ہو تو وہ اس سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کرائے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ ، وَلَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَمُرُوهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ.

It was narrated that 'Umar bin Al-Khattab said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'The best of the Tabi'in will be a man who is called Uwais, and he will have a mother, and he will have had leprosy. Tell him to pray for forgiveness for you.'"

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تابعین میں سب سے افضل آدمی وہ ہے جس کا نام اویس ہے ، اس کی ایک والدہ ہے ، اس کو برص کی بیماری ہے ، اس سے کہو کہ وہ تمہارے لیے مغفرت کی دعا کرے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا أَتَى عَلَيْهِ أَمْدَادُ أَهْلِ الْيَمَنِ ، سَأَلَهُمْ : أَفِيكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ ؟ حَتَّى أَتَى عَلَى أُوَيْسٍ فَقَالَ : أَنْتَ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكَانَ بِكَ بَرَصٌ فَبَرَأْتَ مِنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : لَكَ وَالِدَةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ ، مِنْ مُرَادٍ ، ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ ، كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ ، لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لأَبَرَّهُ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ فَاسْتَغْفِرْ لِي ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : الْكُوفَةَ ، قَالَ : أَلاَ أَكْتُبُ لَكَ إِلَى عَامِلِهَا ؟ قَالَ: أَكُونُ فِي غَبْرَاءِ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيَّ. قَالَ : فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ حَجَّ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ ، فَوَافَقَ عُمَرَ ، فَسَأَلَهُ عَنْ أُوَيْسٍ ، قَالَ: تَرَكْتُهُ رَثَّ الْبَيْتِ ، قَلِيلَ الْمَتَاعِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ مُرَادٍ ، ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ ، كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ ، إِلاَّ مَوْضِعَ دِرْهَمٍ لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لأَبَرَّهُ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ فَأَتَى أُوَيْسًا فَقَالَ : اسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ : أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ ، فَاسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ: اسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ: أَنْتَ أَحْدَثُ عَهْدًا بِسَفَرٍ صَالِحٍ ، فَاسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ: لَقِيتَ عُمَرَ ؟ قَالَ: نَعَمْ ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ ، فَفَطِنَ لَهُ النَّاسُ ، فَانْطَلَقَ عَلَى وَجْهِهِ. قَالَ أُسَيْرٌ: وَكَسَوْتُهُ بُرْدَةً ، فَكَانَ كُلَّمَا رَآهُ إِنْسَانٌ قَالَ: مِنْ أَيْنَ لِأُوَيْسٍ هَذِهِ الْبُرْدَةُ.

It was narrated that Usair bin Jabir said: "Whenever reinforcements came from Yemen, 'Umar bin Al-Khattab would ask them: 'Is Uwais bin ‘Amir among you?' When he found Uwais he said: 'Are you Uwais bin 'Amir?' He said: 'Yes.'He said: 'Are you from Murad then from Qaran?' He said: 'Yes.' He said: 'Did you have leprosy, then you recovered from it except for a spot the size of a Dirham?' He said: 'Yes.' He said: 'Do you have a mother?' He said: 'Yes.' He said: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "There will come to you Uwais bin 'Amir along with the reinforcements from Yemen, from Murad then from Qaran. He had leprosy but he recovered from it, except for a spot the size of a Dirham. He has a mother and he honors her. If he were to swear in the Name of Allah that something should happen, Allah would cause it to happen. If you can ask him to pray for forgiveness for you then do so.'' Pray for forgiveness for me.' And he prayed for forgiveness for him. "Umar said to him: 'Where are you headed?' He said: 'Al-Kufah.' He said: 'Shall I write to the governor for you?' He said: 'Being among the common folk is dearer to me.' "The following year, a man from among their nobles performed Hajj, and he met 'Umar, who asked him about Uwais. He said: 'I left him in a shabby house with meager provisions.' He said: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "There will come to you Uwais bin 'Amir along with the reinforcements from Yemen, from Murad, then from Qaran. He had leprosy but he recovered from it, except for a spot the size of a Dirham. He has a mother and he honors her. If he were to swear in the Name of Allah that something should happen, Allah would cause it to happen. If you can ask him to pray for forgiveness for you, then do so."' So he went to Uwais and said: 'Pray for forgiveness for me.' He said: 'You have just come from a sacred journey, so pray for forgiveness for me.' He said: 'Pray for forgiveness for me.' He said: 'You have just come from a sacred journey, so pray for forgiveness for me.' He said: 'Did you meet 'Umar?' He said: 'Yes.' So he prayed for forgiveness for him, and the people came to know of his piety, so he left.'' Usair (a narrator) said: "His garment Was a Burdah, and every time anyone saw him he would say: 'From where did Uwais get this Burdah?"'

اسیر بن جابر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب یمن والوں میں سے کوئی کمک آتی تو وہ ان سے سوال کرتے :کیا تم میں اویس بن عامر ہے؟ یہاں تک کہ ایک دن حضرت اویس ان کے پاس گئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ اویس بن عامر ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں! آپ قبیلہ مراد سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں ، آپ نے کہا: کیا آپ قرن سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں ! کیا آپ کو برص کی بیماری تھی اور ایک درہم کے برابر داغ رہ گیا ہے اور باقی داغ ختم ہوگئے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ یمن والوں کی کمک کے ساتھ تمہارے پاس قبیلہ مراد سے قرن کے ایک آدمی آئیں گے جن کا نام اویس بن عامر ہوگا ، ان کو برص کی بیماری تھی اور ایک درہم کی مقدار کے علاوہ باقی ٹھیک ہوچکی ہوگی ، قرن میں ان کی ایک والدہ ہے جس کے ساتھ وہ بہت نیکی کرتے ہیں ، اگر وہ کسی چیز پر اللہ کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور پورا کرے گا ، اگر تم سے ہوسکے تو تم ان سے مغفرت کی دعا کرانا ، سو اب آپ میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے ، حضرت اویس قرنی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب آپ کہاں جارہے ؟ انہوں نے کہا: کوفہ میں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں کوفہ کے عامل کی طرف آپ کے لیے خط نہ لکھ دوں؟ حضرت اویس نے کہا: خاک نشین لوگوں میں رہنامجھے زیادہ پسند ہے ، جب دوسرا سال آیا تو کوفہ کے اشراف میں سےایک آدمی آیا ، اس کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے حضرت اویس کے بارے میں پوچھا ، اس نے کہا: میں ان کو کم سامان کے ساتھ شکستہ گھر میں چھوڑ کر آیا ہوں ، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺسے یہ سنا ہے کہ تمہارے پاس کمک کے ساتھ قبیلہ مراد سے اویس بن عامر قرن سے آئیں گے ، ان کو برص کی بیماری تھی ، ایک درہم کی مقدار کے علاوہ وہ سب بیماری ٹھیک ہوگئی ، ان کی ایک والدہ ہیں ، وہ ان کے ساتھ بہت نیکی کرتے ہیں ، اگر وہ اللہ تعالیٰ پر کسی کام کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور کرتاہے ، اگر تم سے ہوسکے تو تم ان سے اپنے لیے مغفرت کی دعا کرانا ، پھر وہ آدمی حضرت اویس کے پاس گیا اور ان سے کہا : میرے لیے استغفار کیجئے ، انہوں نے کہا: تم ابھی اچھا سفر کرکے آرہے ہو، تم میرے لیے استغفار کرو ، اس نے پھر کہا: آپ میرے الیے استغفار کیجئے ، انہوں نے کہا: تم ابھی نیک سفر کرکے آرہے ہو ، تم میرے لیے استغفار کرو، پھر کہا: کیا تمہاری حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تھی ، اس نے کہا: ہاں ! پھر حضرت اویس نے اس کے لیے استغفار کیا ، تب لوگوں کو حضرت اویس کے مقام کا علم ہوا اور وہ وہاں سے چلے گئے ، اسیر راوی نے کہا: میں نےحضرت اویس کو ایک چادر اوڑھائی ، جب بھی ان کو کوئی آدمی دیکھتا تو کہتا کہ اویس کے پاس یہ چادر کہاں سے آئی ؟

Chapter No: 56

بابُ وَصِيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَهْلِ مِصْرَ

Regarding the advice of the Prophet ﷺ about people of Egypt

اہل مصر کے متعلق نبیﷺکی وصیت

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَرْمَلَةُ (ح) وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ ، وَهُوَ ابْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ أَرْضًا يُذْكَرُ فِيهَا الْقِيرَاطُ ، فَاسْتَوْصُوا بِأَهْلِهَا خَيْرًا ، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلاَنِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ ، فَاخْرُجْ مِنْهَا.قَالَ: فَمَرَّ بِرَبِيعَةَ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنَيْ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ ، يَتَنَازَعَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ ، فَخَرَجَ مِنْهَا.

Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'You will conquer a land in which the currency is the Qirat. Treat its people kindly, for they have protection (Dhimmah) and kinship. But if you see two men fighting over a space the size of a brick, then leave.'" He (the narrator) said: "He passed by Rabi'ah and 'Abdur-Rahman, the two sons of Shurahbil bin Hasanah, and they were fighting over a space the size of a brick, so he left.''

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم عنقریب ایک زمین کو فتح کروگے جس میں قیراط (ایک پیمانہ) کا ذکر کیا جائے گا ، تم اس زمین کے رہنے والوں سے اچھا سلوک کرنا ، کیونکہ تم پر ان کا حق اور رشتہ ہے ، جب تم وہاں دو آدمیوں کو ایک اینٹ کی جگہ کے لیے لڑتا دیکھو تو وہاں سے چلے جانا ، پھر شرحبیل بن حسنہ کے دو بیٹے ربیعہ اور عبد الرحمن ایک اینٹ کی جگہ میں لڑ رہے تھے تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل آئے ۔


حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ ، فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا ، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا ، أَوْ قَالَ ذِمَّةً وَصِهْرًا ، فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ ، فَاخْرُجْ مِنْهَا قَالَ: فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ ، وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا.

It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: You will conquer Egypt, and it is a land in which the currency is the Qirat. When you conquer it, treat its people kindly, for they have protection (Dhimmah) and kinship. But if you see two men fighting over a space the size of a brick, then leave."' He said: "I saw 'Abdur-Rahman bin Shurahbil bin Hasanah and his brother Rabi'ah, fighting over a space the size of a brick, so I left."

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم عنقریب مصر کو فتح کروگے ، یہ وہ سرزمین ہے جہاں قیراط بولا جاتا ہے ، جب تم اس سر زمین کو فتح کرلو تو وہاں کے لوگوں سے اچھا سلوک کرنا ، کیونکہ ان کا حق اور رشتہ ہے ، یا فرمایا : ان کا حق اور سسرالی رشتہ ہے ، اور جب تم وہاں پر دو آدمیوں کو ایک اینٹ کی جگہ پر لڑتے دیکھو تو تم وہاں سے نکل آنا ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے عبد الرحمن بن شرحبیل بن حسنہ اور ان کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ کی جگہ کے متعلق جھگڑتے دیکھا تو میں وہاں سے نکل آیا۔

Chapter No: 57

بابُ فَضْلِ أَهْلِ عُمَانَ

The merit of people of Oman

اہل عمان کی فضیلت

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو الرَّاسِبِيِّ ، سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلاً إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ أَهْلَ عُمَانَ أَتَيْتَ ، مَا سَبُّوكَ وَلاَ ضَرَبُوكَ.

Abu Barzah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) sent a man to one of the tribes of the Arabs, and they reviled him and beat him. He came to the Messenger of Allah (s.a.w) and told him. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If you had gone to the people of Oman, they would not have reviled you or beaten you."'

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک آدمی کو عرب کے قبیلوں میں سے کسی قبیلہ کی طرف بھیجا ، ان لوگوں نے اس کو گالیاں دیں ، اور مارا ، اس نے رسول اللہﷺکے پاس آکر خبر دی ۔ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: اگر تم عمان والوں کے پاس جاتے تو وہ تم کو نہ گالیاں دیتے اور نہ مارتے۔

Chapter No: 58

بَابُ ذِكْرِ كَذَّابٍ ثَقِيفٍ وَمُبِيرِهَا

Concerning the liar and great slaughterer of Thaqif

قبیلہ ثقیف کا کذاب اور اس کا ظالم

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيَّ ، أَخْبَرَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ ، رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَجَعَلَتْ قُرَيْشٌ تَمُرُّ عَلَيْهِ ، وَالنَّاسُ حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ : السَّلاَمُ عَلَيْكَ ، أَبَا خُبَيْبٍ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَبَا خُبَيْبٍ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا ، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا ، أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتَ ، مَا عَلِمْتُ ، صَوَّامًا ، قَوَّامًا ، وَصُولاً لِلرَّحِمِ ، أَمَا وَاللَّهِ لأُمَّةٌ أَنْتَ أَشَرُّهَا لأُمَّةٌ خَيْرٌ ، ثُمَّ نَفَذَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللهِ وَقَوْلُهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَأُنْزِلَ عَنْ جِذْعِهِ ، فَأُلْقِيَ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَبَتْ أَنْ تَأْتِيَهُ ، فَأَعَادَ عَلَيْهَا الرَّسُولَ : لَتَأْتِيَنِّي ، أَوْ لأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ ، قَالَ : فَأَبَتْ وَقَالَتْ : وَاللَّهِ لاَ آتِيكَ حَتَّى تَبْعَثَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي ، قَالَ : فَقَالَ : أَرُونِي سِبْتَيَّ فَأَخَذَ نَعْلَيْهِ ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَتَوَذَّفُ ، حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : كَيْفَ رَأَيْتِنِي صَنَعْتُ بِعَدُوِّ اللهِ ؟ قَالَتْ : رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ ، وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ ، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ لَهُ : يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ أَنَا ، وَاللَّهِ ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكُنْتُ أَرْفَعُ بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَطَعَامَ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الدَّوَابِّ ، وَأَمَّا الآخَرُ فَنِطَاقُ الْمَرْأَةِ الَّتِي لاَ تَسْتَغْنِي عَنْهُ ، أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا ، أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلاَ إِخَالُكَ إِلاَّ إِيَّاهُ ، قَالَ : فَقَامَ عَنْهَا وَلَمْ يُرَاجِعْهَا.

It was narrated from Abu Nawfal: "I saw 'Abdullah bin Az-Zubair (hanging) on the road to Al-Madinah, and the Quraish and the people were passing by him. 'Abdullah bin 'Umar came by, and he stopped and said: 'Peace be upon you, Abu Khubaib; peace be upon you, Abu Khubaib; peace be upon you, Abu Khubaib. By Allah, I told you not to do this; by Allah, I told you not to do this; by Allah, I told you not to do this. By Allah, as far as I know, you were devoted to fasting and prayer at night, and you upheld the ties of kinship. By Allah, a nation of which you are the worst is a good nation.' "Then 'Abdullah bin 'Umar went away, and news of the position of 'Abdullah and what he had said reached Al-Hajjaj. He sent for him, and the body was taken down and thrown into the graveyard of the Jews. Then he sent for his mother Asma' bint Abi Bakr, but she refused to come to him. The messenger said to her again: 'Either you will come or I shall send to you one who will drag you by your hair.' But she refused and said: 'By Allah, I will not come until you send to me one who will drag me by my hair.' He (Al-Hajjaj) said: 'Bring me my shoes.' He put on his shoes and set out, swollen with pride, until he entered upon her. He said: 'What do you think about what I did to the enemy of Allah?' She said: 'I think that you ruined his life in this world, but he has ruined your life in the Hereafter. I heard that you said to him: O son of Dhat An-Nitaqain (the woman with two girdles). By Allah, the woman with two girdles, one of them, she used to hang the food of the Messenger of Allah (s.a.w) and the food of Abu Bakr out of the reach of wild animals, and the other was the girdle that no woman can do without. As for the Messenger of Allah (s.a.w) ' he told us: "Among Thaqif there will be a liar, and a great slaughterer.'' As for the liar, we have seen him, and as for the great slaughterer, I do not think that it is anyone but you.' He (the narrator) said: 'He (Al-Hajjaj) got up and left her, and he did not reply her.'"

ابو نوفل بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما کو مدینہ کی گھاٹی میں (سولی پر لٹکا ہوا) دیکھا ، اس جگہ سے قریش اور دوسرے لوگ گزر رہے تھے ، یہاں تک کہ حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا ، وہ وہاں ٹھہر گئے اور کہا: السلام علیک ابا خبیب ! ، السلام علیک ابا خبیب ، السلام علیک ابا خبیب ، میں آپ کو اس (خلافت کے) اقدام سے منع کرتا تھا ، سنیے اللہ کی قسم! میں آپ کو اس سے منع کرتا تھا ، اللہ کی قسم! میں آپ کو اس سے منع کرتا تھا ، سنیے اللہ کی قسم! آپ کثرت کے ساتھ روزے رکھنے والے ، بہت قیام کرنے والے ، بہت صلہ رحمی کرنے والے تھے ، اللہ کی قسم! (دشمنوں کے خیال میں) آپ کی جو جماعت بری تھی وہ (حقیقت میں ) بہت اچھی تھی ، اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے ، جب حجاج کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے وہاں کھڑے ہونے اور آپ کے اس کلام کی خبر ہوئی تو اس نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی لاش کے پاس کسی کو بھیجا اور ان کی لاش کو سولی سے اتروایا اور یہود کے قبرستان میں پھنکوا دیا ، پھر ان کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کو بلوایا ، انہوں نے اس کے پاس جانے سے انکار کردیا ، ا س نے دوبارہ پیغام بھیجا کہ میرے پاس آؤ ورنہ میں کسی آدمی کو بھیجوں گا جو تم کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا میرے پاس لے آئے گا ، حضرت اسماء نے انکار کردیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک تیرے پاس نہیں آؤں گی جب تک تو مجھے بالوں سے پکڑواکر گھسٹواکر نہیں بلائے گا ، حجاج نے کہا: میری جوتیاں لاؤ ، پھر اس نے جوتیاں پہنیں اور اکڑتا ہوا حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہنے لگا " تو نے دیکھا میں نے اللہ کے دشمن کو کیسے قتل کیا " حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم نے اس کی دنیا خراب کی اور اس نے تیری عاقبت برباد کردی ، مجھے معلوم ہوا کہ تو اس کو دو کمر بندوں والی کا بیٹا کہتا ہے ، تو سن لے اللہ کی قسم! میں دو کمربندوں والی ہوں ، کمر بند کے ایک ٹکڑے کے ساتھ تو میں نے رسول اللہﷺاورحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے کھانے کو سواری کے ساتھ باندھا تھا ،اور دوسرا ٹکڑا وہ ہے جس سے کوئی عورت مستغنی نہیں ہوتی ، اور سن ! رسول اللہ ﷺنے ہمیں یہ حدیث بیان فرمائی کہ ثقیف میں ایک کذاب اور ظالم ہوگا ، کذاب کو تو ہم پہلے دیکھ چکے ہیں اور رہا ظالم تو میرے خیال میں وہ صرف تو ہی ہوسکتا ہے۔راوی کہتا ہے کہ پھر حجاج وہاں سے چلا گیا اور اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

Chapter No: 59

بابُ فَضْلِ فَارِسَ

The merit of Persians

فارس والوں کی فضیلت

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا ، لَذَهَبَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ ، أَوْ قَالَ ، مِنْ أَبْنَاءِ فَارِسَ حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If the (knowledge of) religion was at the Pleiades, a man from among the Persians - or from among the sons of the Persians - would go and get it."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اگر دین ثریا پر ہوتا تب بھی فارس کا ایک آدمی اس کو حاصل کرلیتا ، یا فارس کی اولاد میں سے ایک آدمی اس کو حاصل کرلیتا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ ، فَلَمَّا قَرَأَ : {وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ} قَالَ رَجُلٌ : مَنْ هَؤُلاَءِ ؟ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَلَمْ يُرَاجِعْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ مَرَّةً ، أَوْ مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، قَالَ : وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَالَ : فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْ كَانَ الإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا ، لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلاَءِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "We were sitting with the Prophet (s.a.w) and Surat Al-Jumu'ah was revealed to him. When he recited the words: 'And [He has sent him also to] others among them (Muslims) who have not yet joined them (but they will come), a man said: 'Who are they, 0 Messenger of Allah?' The Prophet (s.a.w) did not answer him until he had asked two or three times, and among us was Salman Al-Farisi. Then the Prophet (s.a.w) put his hand on Salman and said: 'If faith were at the Pleiades, some men from among these people would get it."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک نبی ﷺپر سورۂ جمعہ نازل ہوئی اور آپﷺنے یہ پڑھا: " وآخرین منہم لما یلحقو ابہم" ( یعنی آپ ان پر بھی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور ان کو بھی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا بھی تزکیہ کرتے ہیں جو ابھی آپ سے واصل نہیں ہوئے ) ایک آدمی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ کون لوگ ہیں؟ نبی ﷺنے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ اس نے آپﷺسے ایک یا دو مرتبہ ، یا تین مرتبہ سوال کیا ، اس وقت ہم میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی تھے ، نبی ﷺنے حضرت سلمان پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوتا تو ا س کے علاقے کے لوگ اس کو حاصل کرلیتے۔

Chapter No: 60

بابُ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النَّاسُ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لاَ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً»

Concerning Prophet's ﷺ words: “people are like a hundred camels among whom you cannot find one that is fit for riding”

انسان اونٹوں کی طرح ہیں جن میں سو میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں ہے

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ قَالَ عَبْدٌ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجِدُونَ النَّاسَ كَإِبِلٍ مِائَةٍ ، لاَ يَجِدُ الرَّجُلُ فِيهَا رَاحِلَةً.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'You will find that people are like a hundred camels, among whom a man cannot find one that is fit for riding."'

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم لوگوں کو سو اونٹوں کی طرح پاؤگے ، ان میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں ہوگا۔

‹ First456