Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Muslim

Book: Book of The Virtues of The Companions (44)    كتاب فضائل الصحابة رضي الله عنهم

12345Last ›

Chapter No: 21

باب مِنْ فَضَائِلِ بِلاَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

The merits of Bilal, May Allah be pleased with him

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلاَلٍ : عِنْدَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ يَا بِلاَلُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ فِي الإِسْلاَمِ مَنْفَعَةً ، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ قَالَ بِلاَلٌ : مَا عَمِلْتُ عَمَلاً فِي الإِسْلاَمِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً ، مِنْ أَنِّي لاَ أَتَطَهَّرُ طُهُورًا تَامًّا ، فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلاَ نَهَارٍ ، إِلاَّ صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ ، مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to Bilal, at the time of the Ghadah (Fajr) prayer: 'O Bilal, tell me of an action that you did in Islam, for which you most hope to earn reward, for last night I heard the sound of your sandals in front of me in Paradise.' Bilal said: 'I have not done any action in Islam for which I hope to earn reward more than the fact that I do not purify myself fully (i.e., perform Wudu') at some time of the night or day, except that I pray as much as Allah wills I should pray with that purification."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺنے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے صبح کی نماز کے وقت فرمایا: اے بلال! مجھے وہ عمل بتلاؤ جس کی تمہیں اسلام میں سب سے زیادہ منفعت کی امید ہو ، کیونکہ میں نے آج رات کو جنت میں اپنے آگے تمہاری جوتیوں کی آہٹ سنی ہے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسلام میں کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کی منفعت کی مجھے زیادہ امید ہو ، البتہ رات ہو یا دن جب میں مکمل وضو کرتا ہوں تو میں اس وضو کے ساتھ اتنی رکعات نماز پڑھ لیتا ہوں جتنی رکعات نماز اللہ تعالیٰ نے میری قسمت میں لکھ دی ہے۔

Chapter No: 22

بابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا

The merits of Abdullah bin Mas’ud and his mother, May Allah be pleased with them

حضرت عبد اللہ بن مسعود اور ان کی ماں رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ سَهْلٌ وَمِنْجَابٌ : أَخْبَرَنَا , وقَالَ الآخَرُونَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا} إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قِيلَ لِي أَنْتَ مِنْهُمْ.

It was narrated that 'Abdullah said: "When this Verse was revealed - 'Those who believe and do righteous good deeds, there is no sin on them for what they ate (in the past), if they fear Allah (by keeping away from His forbidden things), and believe and do righteous good deeds, and again fear Allah and believe, and once again fear Allah and do good deeds with Ihsan (perfection). And Allah loves the good-doers. - the Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'It was said to me that you are one of them.'"

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : (ترجمہ ) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں ہے جو انہوں نے پرہیز گاری کے ساتھ کھایا ، (پوری آیت تک) تو رسول اللہﷺنے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ ، فَكُنَّا حِينًا ، وَمَا نُرَى ابْنَ مَسْعُودٍ ، وَأُمَّهُ إِلاَّ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْ كَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ.

It was narrated that Abu Musa said: "My brother and I came from Yemen, and for a while we thought that Ibn Mas'ud and his mother were among the members of the household of the Messenger of Allah (s.a.w), because they often entered upon him and stayed with him for a long time."

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرا بھائی یمن سے آئے تو ہم حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے والدہ کے رسول اللہ ﷺکے گھر بہ کثرت آنے جانے اور آپﷺکے ساتھ رہنے کی وجہ سے یہ سمجھتے رہے کہ یہ رسول اللہ ﷺکے اہل بیت سے ہیں۔


وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الأَسْوَدَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى ، يَقُولُ : لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ فَذَكَرَ ، بِمِثْلِهِ.

Abu Musa said: "My brother and I came from Yemen..." a similar report (Hadith no. 6326).

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرا بھائی یمن سے آئے ، اس کے بعد حسب سابق روایت ہے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا أُرَى أَنَّ عَبْدَ اللهِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ، أَوْ مَا ذَكَرَ مِنْ نَحْوِ هَذَا.

It was narrated that Abu Musa said: "I came to the Messenger of Allah (s.a.w) and I thought that 'Abdullah was a member of his household, or words to that effect."

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺکے پاس آیا اور میں یہ گمان کرتا تھا کہ حضرت عبد اللہ اہل بیت سے ہیں یا اس کے قریب بیان کیا ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى ، قَالاَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ ، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا مُوسَى وَأَبَا مَسْعُودٍ ، حِينَ مَاتَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَتُرَاهُ تَرَكَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ؟ فَقَالَ: إِنْ قُلْتَ ذَاكَ ، إِنْ كَانَ لَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا ، وَيَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا.

Abul-Ahwas said: "I saw Abu Musa and Abu Mas'ud when Ibn Mas'ud died. One of them said to the other: 'Do you think he has left behind anyone like him?' He said: 'You said it rightly. How often was he admitted when we were not, and how often was he present when we were absent?"'

ابو الاحوص کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا میں اس وقت حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابو مسعود کے پاس گیا ، اس وقت ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا : کیا تمہارے خیال میں حضرت ابن مسعود کے بعد کوئی آدمی ان جیسا ہے ؟ دوسرے نے کہا: اگر تم یہ پوچھتے ہو تو ان کی یہ شان تھی کہ جب تمہیں بارگاہ رسالت میں بار یابی نہیں ہوتی تھی تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس وقت بھی اجازت ہوتی تھی اور جس وقت ہم غائب ہوتےتھے حضرت ابن مسعود اس وقت بھی حاضر ہوتے تھے ۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، قَالَ : كُنَّا فِي دَارِ أَبِي مُوسَى مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ ، وَهُمْ يَنْظُرُونَ فِي مُصْحَفٍ ، فَقَامَ عَبْدُ اللهِ ، فَقَالُ أَبُو مَسْعُودٍ : مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ بَعْدَهُ أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْقَائِمِ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ ، لَقَدْ كَانَ يَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا ، وَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا.

It was narrated that Abul-Ahwas said: "We were in the house of Abu Musa with a number of the companions of 'Abdullah, and they were looking at a Muhsaf. 'Abdullah stood up and Abu Mas'ud said: 'I do not think that the Messenger of Allah (s.a.w) has left behind anyone who is more knowledgeable of that which Allah has revealed than this one who is standing up.' Abu Musa said: 'Exactly. He was present when we were absent, and he was admitted when we were not."'

ابو الاحوص کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے چند اصحاب کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ کے گھر میں ایک مصحف دیکھ رہے تھے اس اثناء میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کھڑے ہوگئے تو حضرت ابو مسعود نے کہا: میں نہیں جانتا کہ رسول اللہﷺنے اپنے بعد اس کھڑے ہوئے آدمی سے زیادہ قرآن مجید کا کوئی عالم چھوڑا ہو، حضرت ابو موسیٰ نے کہا: اگر تم یہ کہتے ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم غائب ہوتے تھے تو حضرت ابن مسعود حاضر ہوتے تھے اور جب ہم کو اجازت نہیں ہوتی تھی تو حضرت ابن مسعود کو اجازت ہوتی تھی۔


وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا مُوسَى ، فَوَجَدْتُ عَبْدَ اللهِ ، وَأَبَا مُوسَى (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ حُذَيْفَةَ ، وَأَبِي مُوسَى وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَحَدِيثُ قُطْبَةَ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ.

It was narrated that Zaid bin Wahb said: "I was sitting with Hudhaifah and Abu Musa..." and he quoted the Hadith, but the Hadith of Qutbah (as no. 6330) is more complete and longer.

یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّهُ قَالَ : {وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} ، ثُمَّ قَالَ : عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُونِي أَنْ أَقْرَأَ ؟ فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً ، وَلَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِكِتَابِ اللهِ ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّي لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ. قَالَ شَقِيقٌ : فَجَلَسْتُ فِي حَلَقِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرُدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، وَلاَ يَعِيبُهُ.

It was narrated that 'Abdullah said: ‘... Whosoever deceives his companions as regards the spoils of war, he shall bring forth on the Day of Resurrection that which he took (illegally)... According to whose recitation do you want me to recite? I recited seventy-odd Surah to the Messenger of Allah (s.a.w) ' and the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) know that I am the most knowledgeable of them of the Book of Allah. If I knew that someone was more knowledgeable than myself, I would travel and go to him." Shaqiq said: "I sat in the circles of the Companions of Muhammad (s.a.w) ' and I never heard anyone refute him or criticize him."

شقیق کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو آدمی خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اس کو لے کر حاضر ہوگا ، پھر فرمایا: مجھے کس آدمی کی قرأت کے مطابق قرآن مجید پڑھنے کےلیے کہتے ہو؟ میں نے رسول اللہﷺکے سامنے کچھ اوپر ستر سورتیں پڑھی ہیں اور رسول اللہﷺکے اصحاب جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ کتاب اللہ کا جاننے والا ہوں ، اور اگر میں یہ جانتا کہ کوئی آدمی مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے تو میں اس کی طرف چلا جاتا ، شقیق کہتے ہیں کہ میں حضرت محمد ﷺکے اصحاب کے حلقہ میں بیٹھا ہوں اور میں نے نہیں سنا کہ کسی نے حضرت ابن مسعود کا رد کیا ہو یا ان کی مذمت کی ہو۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : وَالَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ مَا مِنْ كِتَابِ اللهِ سُورَةٌ إِلاَّ أَنَا أَعْلَمُ حَيْثُ نَزَلَتْ ، وَمَا مِنْ آيَةٍ إِلاَّ أَنَا أَعْلَمُ فِيمَا أُنْزِلَتْ ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا هُوَ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللهِ مِنِّي ، تَبْلُغُهُ الإِبِلُ ، لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ.

It was narrated that 'Abdullah said: "By the One besides Whom there is none worthy of worship, there is no Surah in the Book of Allah but I know best where it was revealed, and there is no Verse but I know best concerning what it was revealed. If I knew that someone was more knowledgeable of the Book of Allah than myself, and I could reach him by camel, I would ride to where he is."

مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، کتاب اللہ کی ہر سورت کے متعلق مجھے علم ہے وہ کب نازل ہوئی ،اور وہ کتاب اللہ کی ہر آیت کے متعلق مجھے علم ہے کہ وہ کب نازل ہوئی اور وہ کس چیز کے متعلق نازل ہوئی ، اور اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتا ب اللہ کو جاننے والا ہے اور اونٹوں پر سفر کرکے اس کا پاس جانا ممکن ہوتا تو میں اونٹوں پر سفر کرکے اس کے پاس چلا جاتا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو ، فَنَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : عِنْدَهُ ، فَذَكَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : لَقَدْ ذَكَرْتُمْ رَجُلاً لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ.

It was narrated that Masruq said: "We used to come to 'Abdullah bin 'Amr and talk to him" – Ibn Numair said: "with him" – and one day we mentioned 'Abdullah bin Mas'ud. He said: 'You have mentioned a man whom I still love after something that I heard from the Messenger of Allah (s.a.w). I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "Learn the Qur'an from four: from Ibn Umm 'Abd- and he started with him, Mu'adh bin Jabal, Ubayy bin Ka'b and Salim the freed slave of Abu Hudhaifah."

مسروق کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمرو کے پاس جاتے اور ان سے گفتگو کرتے ، ابن نمیر کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نے ان سےحضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے اس آدمی کا ذکر کیا ہے کہ میں ان سے اس وقت سے محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہ ﷺسے ایک حدیث سنی ہے ، میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : چار آدمیوں سے قرآن سیکھو ، ابن ام عبد (عبد اللہ بن مسعود) سے ، آپ نے ابتداء ان سے کی ، اور معاذ بن جبل سے ، اور ابی بن کعب سے ، اور ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم سے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَكَرْنَا حَدِيثًا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ : مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ، فَبَدَأَ بِهِ ، وَمِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَمِنْ سَالِمٍ ، مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَمِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ. وَحَرْفٌ لَمْ يَذْكُرْهُ زُهَيْرٌ ، قَوْلُهُ : يَقُولُهُ.

It was narrated that Masruq said: "We were with 'Abdullah bin 'Amr and we mentioned a Hadith from 'Abdullah bin Mas'ud. He said: 'That is a man whom I still love after something that I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say. I heard him say: "Learn the Qur'an from four people: from Ibn Umm 'Abd - and he started with him - from Ubayy bin Ka'b, from Salim the freed slave of Abu Hudhaifah and from Mu'adh bin Jabal."

مسروق کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، ہم نے ان سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا: وہ ایسے آدمی ہیں کہ میں ایک چیز کے بعد ان سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں ، میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ، چار آدمیوں سے قرآن سیکھو، ابن ام عبد سے ، آپ ﷺنے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ابتداء کی ، اور ابی بن کعب ، اور سالم سے جو ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام تھے ، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم سے ، امام زہیر نے اپنی روایت میں "یقولہ" کا ذکر نہیں کیا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ ، وَوَكِيعٍ. فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَدَّمَ مُعَاذًا ، قَبْلَ أُبَيٍّ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ ، أُبَيٌّ ، قَبْلَ مُعَاذٍ.

It was narrated from Abu Mu'awiyah (a Hadith similar to no. 6335), but he mentioned Mu'adh before Ubayy. In the report of Abu Kuraib, Ubayy is mentioned before Mu'adh.

یہ حدیث ایک اور سند سے مروی ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ (ح) وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، كِلاَهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِهِمْ , وَاخْتَلَفَا عَنْ شُعْبَةَ فِي تَنْسِيقِ الأَرْبَعَةِ.

It was narrated from Al-A'mash (a Hadith similar to no. 6335) with this chain of narrators, but he mentioned the four names in a different order.

یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے ، شعبہ کی روایت میں چاروں کی ترتیب میں اختلاف ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : ذَكَرُوا ابْنَ مَسْعُودٍ ، عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ : ذَاكَ رَجُلٌ لاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ ، بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَسَالِمٍ ، مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.

It was narrated that Masruq said: "They mentioned Ibn Mas'ud in the presence of 'Abdullah bin 'Amr and he said: 'That is a man whom I still love, after what I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: Learn Qur'an from four people: from Ibn Mas'ud, Salim the freed slave of Abu Hudhaifah, Ubayy bin Ka'b and Mu'adh bin Jabal.'"

مسروق کہتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ، انہوں نے کہا: میں اس آدمی سے اس وقت سے محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہﷺسے یہ سنا ہے کہ چار آدمیوں سے قرآن سیکھو، ابن مسعود سے ، سالم سے جو ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، ابی بن کعب سے اور معاذ بن جبل سے۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَزَادَ قَالَ : شُعْبَةُ بَدَأَ بِهَذَيْنِ لاَ أَدْرِي بِأَيِّهِمَا بَدَأَ.

Shu'bah narrated with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6338) and added: He started with these two, but I do not know with which of them he started.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ، شعبہ نے کہا: آپﷺنے ان دونوں کے نام سے ابتداء کی ، میں یہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس کے نام سے ابتداء کی ۔

Chapter No: 23

بابُ مِنْ فَضَائِلِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَجَمَاعَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ

The merits of Ubayy bin Ka’b and a group of Al-Ansar, May Allah be pleased with them

حضرت ابی بن کعب اور انصار کی ایک جماعت کےفضائل کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَرْبَعَةٌ ، كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ : مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ. قَالَ قَتَادَةُ : قُلْتُ لأَنَسٍ: مَنْ أَبُو زَيْدٍ ؟ قَالَ : أَحَدُ عُمُومَتِي.

Anas said: "Four people collected the Qur'an at the time of the Messenger of Allah (s.a.w), all of whom were from among the Ansar: Mu'adh bin Jabal, Ubayy bin Ka'b, Zaid bin Thabit and Abu Zaid." Qatadah said: "I said to Anas: 'Who is Abu Zaid?' He said: 'One of my paternal uncles."'

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکے عہد میں چار آدمیوں نے قرآن پا ک جمع کیا اور وہ چاروں انصار میں سے تھے ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب ، حضرت زید بن ثابت ، اور حضرت ابو زید ، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ابو زید کون ہیں ؟ فرمایا: وہ میرے ایک چچا ہیں۔


حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ : قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَرْبَعَةٌ ، كُلُّهُمْ مِنَ الأَنْصَارِ : أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا زَيْدٍ.

Qatadah said: "I said to Anas bin Malik: 'Who collected the Qur'an at the time of the Messenger of Allah (s.a.w)?' He said: 'Four (people), all of them from among the Ansar: Ubayy bin Ka'b, Mu'adh bin Jabal, Zaid bin Thabit and a man from among the Ansar who was known as Abu Zaid."'

ہمام کہتےہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہﷺکے زمانے میں قرآن مجید کس نے جمع کیا تھا ؟ انہوں نے کہا: چار آدمیوں نے ، اور چاروں انصار میں سے تھے ، حضرت ابی بن کعب ، حضرت معاذ بن جبل ، حضرت زید بن ثابت ، اور انصار کے ایک آدمی جن کی رکنیت ابو زید تھی۔


حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأُبَيٍّ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ قَالَ : آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ ؟ قَالَ : اللَّهُ سَمَّاكَ لِي قَالَ فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي.

It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (s.a.w) said to Ubayy: "Allah, Glorified and Exalted is He, has commanded me to recite to you." He said: "Did Allah mention me by name to you?" He (s.a.w) said: "Allah mentioned you by name to me." (upon hearing this) Ubayy started to weep.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن مجید پڑھوں ، حضرت ابی نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے میرا نام لیا ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے تمہارا نام لیا ہے ، پھر حضرت ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ : {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا} قَالَ : وَسَمَّانِي ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَبَكَى.

It was narrated that Anas bin Malik said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to Ubayy bin Ka'b: 'Allah has commanded me to recite to you: 'Those who disbelieve from among the people of the Scripture (Jews and Christians) and idolaters, were not going to leave (their disbelief) until there came to them clear evidence."' He said: 'Did He mention me by name?' He (s.a.w) said: 'Yes.' And he (Ubayy) wept.''

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن مجید کی یہ سورت پڑھوں : " لم یکن الذین کفروا" حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ آپﷺنے فرمایا: ہاں ! پھر حضرت ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے۔


حَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِأُبَيٍّ ، بِمِثْلِهِ.

It was narrated that Qatadah said: "I heard Anas say: 'The Messenger of Allah (s.a.w) said to Ubayy ...'" a similar report (as Hadith no. 6343).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس کے بعد اس کی مثل روایت ہے۔

Chapter No: 24

بابُ مِنْ فَضَائِلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

The merits of Sa’d bin Mu’adh, May Allah be pleased with him

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمُ اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ.

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said, when the Janazah of Sa'd bin Mu'adh was in front of them: 'The Throne of the Most Merciful shook at (his death)."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا اس حال میں کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ ان کے سامنے رکھا ہوا تھا کہ ان کی (موت کی) وجہ سے عرش رحمن جنبش میں آگیا۔


حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ الأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ.

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: The Throne of the Most Merciful shook at the death of Sa'd bin Mu'adh."'

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: عرش رحمن سعد بن معاذ کی موت کی وجہ سےجنبش میں آگیا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرُّزِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَجَنَازَتُهُ مَوْضُوعَةٌ ، يَعْنِي سَعْدًا ، اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ.

Anas bin Malik narrated that the Prophet of Allah (s.a.w) said, when Sa'd's Janazah was put down: "The Throne of the Most Merciful shook at (his death)."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا اس حال میں کہ ان کا جنازہ رکھا ہوا تھا یعنی سعد کا ،عرش رحمن میں سعد کی وجہ سے جنبش آگیا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حُلَّةُ حَرِيرٍ ، فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَلْمِسُونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهَا ، فَقَالَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ ؟ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِنْهَا وَأَلْيَنُ.

Al-Bara' said: "A Hadith made of silk was given to the Messenger of Allah (s.a.w), and his Companions started touching it and admiring its softness. He said: 'Do you admire the softness of this? The handkerchiefs of Sa'd bin Mu'adh in Paradise are better than this and softer."'

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکو ریشم کا ایک حلہ ہدیہ کیا گیا ، آپﷺکے اصحاب اس کو چھوتے تھے اور اس کی نرمی پر تعجب کرتے تھے ، آپﷺنے فرمایا: تم اس کی نرمی پر تعجب کرتے ہو جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بھی زیادہ اچھے اور ملائم ہوں گے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِ حَرِيرٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا ، أَوْ ، بِمِثْلِهِ.

A similar report (a Hadith no. 6348) was narrated from Anas, from the Prophet (s.a.w).

یہ حدیث حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی طرح یا اس جیسے مروی ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِالإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا ، كَرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ.

Shu'bah narrated this Hadith with both chain of narrators, a report like that of Abu Dawud (no. 6349).

یہ حدیث دو اور سندوں سے بھی مروی ہے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ مِنْ سُنْدُسٍ ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَنَادِيلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا.

Anas bin Malik narrated that a Jubbah of Sundus was given to the Messenger of Allah (s.a.w) after silk had been forbidden. The people started admiring it and he (s.a.w) said: "By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, the handkerchiefs of Sa'd bin Mu'adh in Paradise are better than this."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺکو سندس (ریشم کی ایک قسم) کا ایک جبہ ہدیہ کیا گیا حالانکہ آپﷺریشم پہننے سے منع کرتے تھے ، لوگوں کو اس سے تعجب ہوا،آپﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ حسین ہیں۔


حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةِ الْجَنْدَلِ , أَهْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً , فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ , وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ.

It was narrated from Anas that Ukaidir Dumat Al-Jandal presented the Prophet (s.a.w) a Hullah... and he mentioned a similar report (as Hadith no. 6351) but he did not say: "After silk had been forbidden."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اکیدر دومۃ الجندل کے بادشاہ نے رسول اللہﷺکو ایک حلہ ہدیہ کیا ، پھر اسی کی مثل حدیث ہے ، اس میں یہ نہیں ہے کہ آپﷺریشم سے منع کرتے ہیں۔

Chapter No: 25

باب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي دُجَانَةَ سِمَاكِ بْنِ خَرَشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

The merits of Abu Dujanah Simak bin Kharashah, May Allah be pleased with him

حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ : مَنْ يَأْخُذُ مِنِّي هَذَا ؟ فَبَسَطُوا أَيْدِيَهُمْ ، كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ يَقُولُ : أَنَا ، أَنَا ، قَالَ : فَمَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ ؟ قَالَ فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ . فَقَالَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ أَبُو دُجَانَةَ : أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ. قَالَ : فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ بِهِ هَامَ الْمُشْرِكِينَ.

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (s.a.w) picked up a sword on the Day of Uhud and said: "Who will take this from me?" They stretched out their hands, each man among them saying: "I will!" He said: "Who will take it and give it its due?" The people withdrew their hands, but Simak bin Kharashah Abu Dujanah said: "I will take it and give it its due." He said: And he took it and split open the heads of the idolaters with it.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے جنگ احد کے دن ایک تلوار لی اور فرمایا: یہ تلوار مجھ سے کون لیتا ہے ؟ تو سب نے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے ، ہر ایک ان میں سے کہتا تھا: میں لیتا ہوں ، میں لیتا ہوں ، آپﷺنے فرمایا: اس کا حق ادا کرنے کے ساتھ کون لیتا ہے؟ پھر سب پیچھے ہٹ گئے ، حضرت سماک بن خرشہ ابو دجانہ نے کہا: میں اس کا حق ادا کرنے کے ساتھ لوں گا ، پھر حضرت ابو دجانہ نے اس تلوار کو لیا اور اس کے ساتھ مشرکین کی کھوپڑیاں توڑ ڈالیں۔

Chapter No: 26

بابُ مِنْ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ وَالِدِ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ما

The merits of Abdullah bin Amar bin Haram, the father of Jabir, May Allah be pleased with them

حضرت جابر کے والد حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہما کے فضائل

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، كِلاَهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : عُبَيْدُ اللهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، يَقُولُ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ ، جِيءَ بِأَبِي مُسَجًّى ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ، قَالَ : فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ ، فَنَهَانِي قَوْمِي ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ ، فَنَهَانِي قَوْمِي ، فَرَفَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ أَمَرَ بِهِ فَرُفِعَ فَسَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ ، أَوْ صَائِحَةٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ فَقَالُوا : بِنْتُ عَمْرٍو ، أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو ، فَقَالَ : وَلِمَ تَبْكِي ؟ فَمَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ.

Jabir bin 'Abdullah said: "On the Day of Uhud, my father was brought, covered with a cloth, and he had been mutilated. I wanted to lift the cloth but my people told me not to. [Then (again) I wanted to lift the cloth but my people told me not to.] Then the Messenger of Allah (s.a.w) lifted it, or ordered that it be lifted, and I heard the voice of a woman weeping or screaming. He said: 'Who is this?' They said: 'The daughter of 'Amr,' or; 'the sister of 'Amr.' He said: 'Why is she weeping? The angels continued to shade him with their wings until he was lifted up."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن میرے والد کو لایا گیا اس حال میں ان پر کپڑا ڈھکا ہوا تھا ، اور ان کو مثلہ کیا گیا تھا ، میں نے ان کی لاش سے کپڑا اٹھانا چاہا تو مجھے میری قوم نے منع کیا ، میں نے پھر کپڑا اٹھانا چاہا تو مجھے پھر میری قوم نے منع کردیا ، پھر خود رسول اللہ ﷺیا آپ کے حکم سے لوگوں نے وہ کپڑا اٹھایا ، پھر آپﷺنے ایک رونے والی یا چلانے والی کی آواز سنی ، آپﷺنے پوچھا: یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا: یہ عمرو کی بیٹی یا عمرو کی بہن ہے ، آپﷺنے فرمایا: کیوں روتی ہو؟ ان کا جنازہ اٹھائے جانے تک فرشتے ان پر سایہ کرتے رہیں گے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : أُصِيبَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ ، فَجَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَأَبْكِي وَجَعَلُوا يَنْهَوْنَنِي ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَنْهَانِي ، قَالَ : وَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو ، تَبْكِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَبْكِيهِ ، أَوْ لاَ تَبْكِيهِ ، مَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا ، حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "My father was killed on the Day of Uhud and I started to lift the cloth from his face, and I was weeping, and they started telling me not to do that, but the Messenger of Allah (s.a.w) did not tell me not to do it. Fatimah hint 'Amr began to weep and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Weep for him or do not weep for him. The angels continued to shade him with their wings until you lifted him up."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ احد کے دن میرے والد شہید ہوگئے ، میں ان کے چہرے سے کپڑا اٹھاکر رونے لگا ، لوگ مجھے منع کررہے تھے ،اور رسول اللہﷺمجھے منع نہیں کررہے تھے ، حضرت فاطمہ بنت عمرو نے بھی رونا شروع کردیا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: تم رؤو یا نہ رؤو ، جب تک تم ان کا جنازہ نہیں اٹھاؤگے فرشتے ان پر سایہ کرتے رہیں گے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، كِلاَهُمَا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِكْرُ الْمَلاَئِكَةِ وَبُكَاءُ الْبَاكِيَةِ.

This Hadith was narrated from Jabir (a Hadith similar to no. 6355) except that Ibn Juraij (a narrator), did not mention in his Hadith the angels and the weeping of the woman.

یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے ، لیکن جریج کی سند میں فرشتوں کا اور رونے والی کے رونے کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ مُجَدَّعًا ، فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

It was narrated that Jabir said: "My father was brought on the Day of Uhud with his ears and nose cut off, and he was placed in front of the Prophet (s.a.w)..." - and he mentioned a similar Hadith (as no. 6355).

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ احد کے دن میرے والد کو لایا گیا اس حال میں کہ ان کی ناک اور کان کٹے ہوئے تھے ، پھر ان کو نبی ﷺکے سامنے رکھا گیا ،اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔

Chapter No: 27

باب مِنْ فَضَائِلِ جُلَيْبِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

The merits of Julaibib, May Allah be pleased with him

حضرت جلیبیب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ فِي مَغْزًى لَهُ ، فَأَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لأَصْحَابِهِ : هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فُلاَنًا ، وَفُلاَنًا ، وَفُلاَنًا ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فُلاَنًا ، وَفُلاَنًا ، وَفُلاَنًا ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ ؟ قَالُوا : لاَ ، قَالَ : لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا ، فَاطْلُبُوهُ فَطُلِبَ فِي الْقَتْلَى ، فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ ، ثُمَّ قَتَلُوهُ ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : قَتَلَ سَبْعَةً ، ثُمَّ قَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ قَالَ : فَوَضَعَهُ عَلَى سَاعِدَيْهِ لَيْسَ لَهُ إِلاَّ سَاعِدَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَحُفِرَ لَهُ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ غَسْلاً.

It was narrated from Abu Barzah that the Prophet (s.a.w) was on one of his campaigns, and Allah granted him Fai'. He said to his Companions: "Is anyone missing?" They said: "Yes, so-and-so, and so-and-so, and so-and-so." Then he said: "Is anyone missing?" They said: "Yes, so-and-so, and so-and-so, and so-and-so." Then he said: "Is anyone missing?" They said: "No." He said: "But I am missing Julaibib; go and look for him." They looked for him among the slain, and they found him beside seven men whom he had killed and they had killed him. The Prophet (s.a.w) came and stood over him, and said: "He killed seven, then they killed him. He belongs to me and I belong to him. He belongs to me and I belong to him." He carried him in his arms, and he had nothing but the arms of the Prophet (s.a.w). A grave was dug for him and he was placed in his grave." And no mention was made of Ghusl.

حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺایک غزوۂ میں تھے ، اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو مال دیا ، آپﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی غائب ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں فلاں ، فلاں اور فلاں غائب ہے ، آپﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی غائب ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں ! فلاں ، فلاں اور فلاں غائب ہے ؟ آپ ﷺفرمایا: تم میں سے کوئی غائب ہے ؟ صحابہ نے کہا: نہیں ، آپﷺنے فرمایا: لیکن میں جلیبیب کو گم پارہا ہوں ، اس کو تلاش کرو، انہوں نے ان کو مرنے والوں میں تلاش کیا ، تو دیکھا کہ سات آدمیوں کے پہلو میں ان کی نعش پڑی تھی ، جن کو حضرت جلیبیب نے قتل کیا تھا ، پھر انہوں نے ان کو شہید کردیا ، نبیﷺان کی نعش کے پاس آئے اور فرمایا: اس نے سات کو قتل کیا ، پھر انہوں نے اس کو قتل کردیا ، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، پھر آپ ﷺنے ان کی نعش کو اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھ دیا ، اور ان کو صرف آپﷺنے ہی اٹھایا تھا ۔پھر ان کی قبر کھودی گئی ، اور ان کو قبر میں رکھ دیا گیا ، راوی نے ان غسل دینے کا ذکر نہیں کیا۔

Chapter No: 28

باب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

The merits of Abu Dharr, May Allah be pleased with him

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ ، وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا ، فَنَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا ، فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا وَأَحْسَنَ إِلَيْنَا ، فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا : إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَالَفَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ , فَجَاءَ خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْنَا الَّذِي قِيلَ لَهُ ، فَقُلْتُ : أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ فَقَدْ كَدَّرْتَهُ ، وَلاَ جِمَاعَ لَكَ فِيمَا بَعْدُ ، فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا ، فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا ، وَتَغَطَّى خَالُنَا ثَوْبَهُ فَجَعَلَ يَبْكِي ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ ، فَنَافَرَ أُنَيْسٌ عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِهَا ، فَأَتَيَا الْكَاهِنَ ، فَخَيَّرَ أُنَيْسًا ، فَأَتَانَا أُنَيْسٌ بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا. قَالَ : وَقَدْ صَلَّيْتُ ، يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاَثِ سِنِينَ ، قُلْتُ : لِمَنْ ؟ قَالَ : لِلَّهِ ، قُلْتُ : فَأَيْنَ تَوَجَّهُ ؟ قَالَ : أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي ، أُصَلِّي عِشَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ كَأَنِّي خِفَاءٌ ، حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ. فَقَالَ أُنَيْسٌ : إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَكَّةَ فَاكْفِنِي ، فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ ، فَرَاثَ عَلَيَّ ، ثُمَّ جَاءَ فَقُلْتُ : مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : لَقِيتُ رَجُلاً بِمَكَّةَ عَلَى دِينِكَ ، يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ ، قُلْتُ : فَمَا يَقُولُ النَّاسُ ؟ قَالَ : يَقُولُونَ : شَاعِرٌ ، كَاهِنٌ ، سَاحِرٌ ، وَكَانَ أُنَيْسٌ أَحَدَ الشُّعَرَاءِ. قَالَ أُنَيْسٌ : لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ ، فَمَا هُوَ بِقَوْلِهِمْ ، وَلَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشِّعْرِ ، فَمَا يَلْتَئِمُ عَلَى لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي ، أَنَّهُ شِعْرٌ ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ ، وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ. قَالَ : قُلْتُ : فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ ، قَالَ فَأَتَيْتُ مَكَّةَ فَتَضَعَّفْتُ رَجُلاً مِنْهُمْ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ ؟ فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : الصَّابِئَ ، فَمَالَ عَلَيَّ أَهْلُ الْوَادِي بِكُلٍّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ ، حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ ، قَالَ : فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ ، كَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَاءَ : وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا ، وَلَقَدْ لَبِثْتُ ، يَا ابْنَ أَخِي ثَلاَثِينَ ، بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ ، مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلاَّ مَاءُ زَمْزَمَ ، فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي ، وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ . قَالَ فَبَيْنَا أَهْلِ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ إِضْحِيَانٍ ، إِذْ ضُرِبَ عَلَى أَسْمِخَتِهِمْ ، فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ . وَامْرَأَتَانِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا ، وَنَائِلَةَ ،قَالَ : فَأَتَتَا عَلَيَّ فِي طَوَافِهِمَا فَقُلْتُ : أَنْكِحَا أَحَدَهُمَا الأُخْرَى ، قَالَ : فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا قَالَ : فَأَتَتَا عَلَيَّ فَقُلْتُ : هَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ ، غَيْرَ أَنِّي لاَ أَكْنِي فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلاَنِ ، وَتَقُولاَنِ : لَوْ كَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا , قَالَ : فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَهُمَا هَابِطَانِ ، قَالَ : مَا لَكُمَا ؟ قَالَتَا : الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا ، قَالَ : مَا قَالَ لَكُمَا ؟ قَالَتَا : إِنَّهُ قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلأُ الْفَمَ ، وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ ، ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ ، فَكُنْتُ أَنَا أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلاَمِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَقَالَ : وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ قُلْتُ : مِنْ غِفَارٍ ، قَالَ : فَأَهْوَى بِيَدِهِ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : كَرِهَ أَنِ انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ ، فَذَهَبْتُ آخُذُ بِيَدِهِ ، فَقَدَعَنِي صَاحِبُهُ ، وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَتَى كُنْتَ هَاهُنَا ؟ قَالَ قُلْتُ : قَدْ كُنْتُ هَاهُنَا مُنْذُ ثَلاَثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ ، قَالَ : فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ ؟ قَالَ قُلْتُ : مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلاَّ مَاءُ زَمْزَمَ , فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي ، وَمَا أَجِدُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ ، قَالَ : إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ ، إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ائْذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ، فَفَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ , وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا ، ثُمَّ غَبَرْتُ مَا غَبَرْتُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ ، لاَ أُرَاهَا إِلاَّ يَثْرِبَ ، فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ ؟ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ , فَأَتَيْتُ أُنَيْسًا فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ : صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ : مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ ، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، فَأَتَيْنَا أُمَّنَا ، فَقَالَتْ : مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا ، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، فَاحْتَمَلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا ، فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ أَيْمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ , وَكَانَ سَيِّدَهُمْ. وَقَالَ نِصْفُهُمْ : إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمُ الْبَاقِي , وَجَاءَتْ أَسْلَمُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِخْوَتُنَا ، نُسْلِمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ ، فَأَسْلَمُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ.

It was narrated from 'Abdullah bin As-Samit that Abu Dharr said: "We set out from our people Ghifar, who used to regard the sacred months as permissible. I set out with my brother Unais and our mother, and we stayed with a maternal uncle of ours. Our uncle honored us and treated us kindly, but his people felt jealous of us, and they said: 'When you are away from your wife, Unais comes into your house (i.e., an accusation of adultery).' Our uncle came and told us of what had been said to him. I said: 'As for your past kindness, you have undone it, and we cannot stay with you after this.' We went to our camels and loaded them up, and our uncle covered himself with his garment and started weeping. We set out and halted at Makkah. Unais made a wager that our herd of camels was better than another similar herd, and they went to a soothsayer who confirmed that the herd of Unais was better, and Unais came to us with our camels and the other herd." He (Abu Dharr) said: "I started to perform prayers, O son of my brother, three years before I met the Messenger of Allah (s.a.w)." I said: "To whom?" He said: "To Allah." I said: "What direction did you face?' He said: "I faced where my Lord directed me to. I used to pray at night until the end of the night, then I fell down (in exhaustion) like a piece of cloth until the sun rose over me. "So Unais said: 'I have an errand in Makkah; stay here.' He went to Makkah, and he came back late. I said: 'What did you do?' Be said: 'I met a man in Makkah who follows your religion, He says that Allah has sent him.' I said: 'What do the people say?' He said: 'They say that he is a poet, or a soothsayer, or a magician.' And Unais was one of the poets. "Unais said: 'I have heard the words of the soothsayers, and he is not a soothsayer. I compared his words to the words of poetry, and no one after me can say that he is a poet. By Allah, he is telling the truth and they are lying.' "I said: 'Stay here while I go and look.'" He said: "I came to Makkah and looked for an insignificant man among them. I said: 'Where is this man whom you call As-Sabi'?' He pointed at me and said: 'The Sabi'!' The people of the valley attacked me with clods of earth and bones, until I fell unconscious. I got up whenever I recovered, and it was as if I was a red idol. I went to Zamzam and washed the blood from myself, and I drank some of its water. O son of my brother, I stayed there for thirty, between nights and days, and I had no food but the water of Zamzam, but I grew so fat that I got folds on my stomach and I did not feel any hunger in my stomach. "While the people of Makkah were sleeping deeply one moonlit night, no one was circumambulating the Ka'bah except two of their women, who were calling upon Isaf and Na'ilah (two of their idols). They came to me during their circumambulation and I said: 'Marry one of them to the other.' But they did not stop what they were saying. They came to me again and I said: 'They are just pieces of wood like private parts'; and I could not use a metaphor. They turned away from me saying: 'If any of our people were here they would teach you a lesson.' They were met by the Messenger of Allah (s.a.w) and Abu Bakr as they were coming down the hill, and he said: 'What is the matter with you?' They (the two women) said: 'The Sabi' between the Ka'bah and its cover.' He said: 'What did he say to you?' They said: 'He said to us a word that we cannot repeat.' The Messenger of Allah (s.a.w) came and touched the (Black) Stone, then he circumambulated the Ka'bah, he and his Companion, then he prayed. When he had finished his prayer" - Abu Dharr said - "I was the first one to greet him with the greeting of Islam. I said: 'As-Salamu 'alaika ya Rasulullah (Peace be upon you, O Messenger of Allah).' He said: Wa 'alaika wa rahmatullah (and upon you, and the mercy of Allah).' Then he said: 'Who are you?' I said: 'I am from Ghifar;' He lifted his hand and placed his fingers on his forehead, and I said to myself: 'He does not like that fact that I am from Ghifar.' I wanted to take his hand but his Companion stopped me, and he knew him better than I did. Then he raised his head and said: 'How long have you been here?' I said: 'I have been here for thirty, between night and day.' He said: 'Who has been feeding you?' I said: 'I had no food except the water of Zamzam, and I have grown so fat that I have folds on my stomach, and I did not feel any hunger.' He said: 'It is blessed, it serves as food.'" "Abu Bakr said: 'O Messenger of Allah, give me permission to offer him food tonight.' The Messenger of Allah (s.a.w) and Abu Bakr set off, and I went with them. Abu Bakr opened a door and brought us raisins of At-Ta'if, and that was the first food I ate. I stayed for a while, then I came to the Messenger of Allah (s.a.w) and he said: 'I have been shown a land that has palm trees, and I do not think that it is any other than Yathrib. Will you convey a message from me to your people? Perhaps Allah will benefit them through you and grant you reward through them.' I came to Unais and he said: 'What did you do?' I said: 'What I did is become Muslim and attest to the truth.' He said: 'I have no aversion to your religion; I have also become Muslim and attested to the truth.' We went to our mother and she said: 'I have no aversion to your religion; I have also become Muslim and attested to the truth.' We went to our people Ghifar, and half of them became Muslim, and they were led in prayer by Ayma' bin Rahadah Al-Ghifari, who was their chief. "The other half of them said: 'When the Messenger of Allah (s.a.w) comes to Al-Madinah, we will become Muslim.' The Messenger of Allah (s.a.w) came to Al-Madinah and the other half became Muslim. (The tribe of) Aslam came and said: 'O Messenger of Allah, our brothers, we become Muslim on the same basis that they became Muslim.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'May Allah forgive (Ghafara) Ghifar and may Allah keep Aslam safe and sound (Salama)."

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اپنی قوم غفار کے ساتھ تھے، وہ لوگ حرمت والے مہینوں کو بھی حلال سمجھتے تھے ۔ میں ، میرا بھائی انیس اور میری ماں تینوں نکلے اور اپنے ماموں کے پاس ٹھہرے ، انہوں نے ہماری بہت عزت اور خاطر مدارت کی ، ان کی قوم ہم سے حسد کرنے لگی ، انہوں نے ماموں سے کہا: جب تم اپنی بیوی کو چھوڑ کر جاتے ہو تو انیس اس سے بدکاری کرتا ہے ، پھر ہمارا ماموں آیا اور اس سے جو کچھ کہا گیا تھا اس نے وہ الزام ہم پر لگایا ، میں نے ان سے کہا: تم نے یہ الزام لگا کر اپنے کیے ہوئے احسانات کو بھی مکدر کردیا ، اس کے بعد ہم تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتے ، ہم اپنے اونٹوں کے پاس آئے ، اور ان پر اپنا سامان لاد لیا ، ہمارے ماموں نے کپڑا اوڑھ کر رونا شروع کردیا ، ہم وہاں سے روانہ ہوئے اور مکہ مکرمہ کے سامنے اترے ، انیس نے ہمارے اونٹوں اور اتنے ہی اور اونٹوں پر یہ شرط لگا ئی کہ کس کے اونٹ اچھے ہیں ؟ پھر انیس اور وہ آدمی کاہن کے پاس گئے ، اس نے انیس کے اونٹوں کو اچھا قرار دیا ، انیس ہمارے اونٹ اور اتنے ہی اور اونٹ جیت کر لے آیا ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ ملاقات سے تین سال پہلے نماز پڑھتا تھا ، میں نے پوچھا : کس کے لیے ؟ انہوں نے کہا: اللہ کے لیے ، میں نے پوچھا : کس طرف منہ کرتے تھے ؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ جس طرف میرا منہ کردیتا تھا میں عشاء کی نماز پڑھ لیتا تھا یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں اپنے آپ کو چادر کی طرح ڈال دیتا ، یہاں تک کہ مجھ پر دھوپ آجاتی ، انیس نے کہا: مجھے مکہ میں کام ہے ، تم یہاں رہو، میں جاتا ہوں ، انیس مکہ چلے گئے ، پھر انہوں نے آنے میں دیر کی ، پھر وہ آیا میں نے پوچھا : تم کیا کرتے رہے تھے ؟ اس نے کہا: میری مکہ میں ایک آدمی سے ملاقات ہوئی جو تمہارے دین پر ہے ، وہ کہتا ہے کہ اللہ نے مجھے رسول بنایا ہے ، میں نے پوچھا: اور لوگ کیا کہتے ہیں ، اس نے کہا: لوگ اس کو شاعر ، کاہن، اور ساحر کہتے تھے ، انیس خود بھی ایک شاعر تھا ، انیس نے کہا: میں نے کاہنوں کا کلام سنا ہے ، اس کا کلام کاہنوں کی طرح نہیں ہے ، میں نے اس کے کلام کا شاعروں کے کلام سے بھی موازنہ کیا لیکن کسی آدمی کی زبان پر ایسے شعر نہیں آسکتے ، اللہ کی قسم ! وہ سچا ہے اور لوگ جھوٹے ہیں، میں نے کہا: تم یہیں رہو، میں جاکر دیکھتا ہوں ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا اور اہل مکہ میں سے ایک کمزور آدمی کو منتخب کیا ، میں نے پوچھا: وہ آدمی کہاں ہے جس کے متعلق تم یہ کہتے ہو کہ اس نے اپنا دین بدل لیا ہے ، اس نے میری طرف اشارہ کرکے کہا: یہ صابی (دین بدلنے والا) ہے ، پھر تمام اہل وادی ہڈیوں اور ڈھیلوں کے ساتھ مجھ پر پل پڑے ، یہاں تک کہ میں بے ہوش ہوکر گر پڑا، پھر جب مجھے ہوش آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں سرخ رنگ کا بت ہوں ، میں نے زمزم کے پاس آکر خون دھویا اور پانی پیا ، اے بھتیجے ! میں وہاں تیس دن رات تک رہا ، اس وقت زمزم کے پانی کے سوا میری کوئی اور خوراک نہیں تھی ، میں اس قدر موٹا ہوگیا کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں ختم ہوگئیں اور میں نے اپنے جگر میں بھوک کی شدت محسوس نہیں کی ، ایک چاندنی رات کو جب اہل مکہ سوگئے ، اس وقت بیت اللہ کا کوئی طواف نہیں کررہا تھا ، صرف دو عورتیں " اساف " اور " نائلہ" (بت ) کو پکار رہی تھیں ، وہ طواف کرتے کرتے میرے پاس آئیں ، میں نے کہا: (اساف اور نائلہ میں سے ) ایک کا دوسرے کے ساتھ نکاح کردو، یہ سن کر بھی وہ اپنے پکارنے سے باز نہیں آئیں ، جب وہ پھر میرے پاس آئیں تو میں نے کہا: " فرج میں لکڑی" کیونکہ میں اشارہ کنایہ سے بات نہیں کرتا ، (اس لیےاساف اور نائلہ کو سیدھی گالی دی) یہ سن کر وہ دونوں عورتیں چلاتی ہوئی اور یہ کہتی ہوئی گئیں : کاش ! ہمارے لوگوں میں سے اس وقت کوئی ہوتا ، راستہ میں ان دونوں کو رسو ل اللہﷺاور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ملے ، وہ پہاڑی سے اتر رہے تھے ، آپﷺنے فرمایا:تمہیں کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگیں : ایک صابی آیا ہے جوکعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے ، آپﷺنے پوچھا: اس نے تم سے کیا کہا: انہوں نے کہا: وہ ایسی بات کہتا ہے جس سے منہ بھر جاتاہے ، رسول اللہ ﷺآئے ، آپﷺنے حجر اسود کو بوسہ دیا اور آپﷺنے اور آپ ﷺکے صاحب نے بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر نماز پڑھی ، جب آپ ﷺنے نماز پوری کرلی ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں پہلا آدمی تھا جس نے اسلام کے طریقہ سے سلام کیا ، میں نے کہا: السلام علیک یا رسول اللہﷺ! آپﷺنے فرمایا: وعلیک السلام ورحمۃ اللہ ، پھر فرمایا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: غفار سے ہوں ، آپﷺنے اپنا ہاتھ اٹھاکر انگلیاں اپنی پیشانی پر رکھیں ، میں نے دل میں سوچا شاید آپﷺکو میرا غفار سے ہونا نا پسند ہوا ہے ، میں آپ ﷺکا ہاتھ پکڑنے کے لیے بڑھا ، آپﷺکے صاحب نے مجھے روکا جو مجھ سے زیادہ آپﷺکا حال جانتا تھا ، پھر آپﷺنے اپنا سر اٹھایا ، اور فرمایا: تم کب سے یہاں ہو؟ میں نے کہا: مجھے یہاں پرتیس دن رات ہوگئے ، فرمایا: تمہیں کھانا کون کھلاتا ہے ؟ میں نے کہا: زمزم کے پانی کے سوا میرا اور کوئی کھانا نہیں ہے ، میں اس قدر موٹا ہوگیا ہوں کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں ختم ہوگئیں ہیں ، اور میرے جگر میں بھوک کی کمزوری نہیں ہے ، آپ نے فرمایا: زمزم کا پانی برکت والا ہے ، یہ پیٹ بھرنے والا کھانا ہے ،حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کےرسول ﷺ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس کو آج رات میں کھانا کھلاؤں ، پھر رسول اللہﷺاور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ چل پڑے ، اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دروازہ کھولا اور اس میں سے ہمارے لیے طائف کی کشمش نکالی، یہ مکہ میں پہلا طعام تھا ، جس کو میں نے کھایا ، پھر میں نے بچا دیا جو بچادیا ، پھر میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپﷺنے فرمایا: مجھے کھجوروں والی ایک زمین دکھائی گئی ہے ، میراخیال ہے کہ وہ یثرب ہی ہے ، کیا تم اپنی قوم کو میری طرف سے (دین اسلام کا) پیغام پہنچاؤ گے ؟ شاید اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے ان کو نفع دے اور تمہیں اجر و ثواب عطا فرمائے ، پھر میں انیس کے پاس پہنچا ، اس نے پوچھا : تم کیا کرتے رہے ؟ میں نے کہا: میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور ان کی تصدیق کردی ہے ، اس نے کہا: مجھے بھی تمہارے دین سے نفرت نہیں ہے ، میں بھی مسلمان ہوچکا ہوں اور تصدیق کرچکا ہوں ، پھر ہم اپنی والدہ کے پاس آئے ، اس نے کہا: مجھے بھی تمہارے دین سے نفرت نہیں ہے ، میں بھی اسلام لاتی ہوں اور تصدیق کرتی ہوں ، ہم نے اونٹوں پر اپنا سامان لادا اور اپنی قوم بنو غفار کے پاس پہنچے ، ان میں سے آدھے لوگ مسلمان ہوگئے ، ان لوگوں کا سردار ایماء بن رحضہ غفاری تھا ، باقی آدھے لوگوں نےیہ کہا کہ جب رسول اللہﷺمدینہ تشریف لائیں گے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے ، پھر جب رسول اللہﷺمدینہ تشریف لائے تو باقی آدھے بھی مسلمان ہوگئے ، پھر قبیلہ اسلم کے لوگ آئے اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم بھی اپنے بھائیوں کی طرح اسلام قبول کرتے ہیں ، پھر وہ بھی مسلمان ہوگئے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: غفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ ، قُلْتُ فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ ، قَالَ : نَعَمْ ، وَكُنْ عَلَى حَذَرٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، فَإِنَّهُمْ قَدْ شَنِفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا.

Humaid bin Hilal narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6359), and after the words - " Stay here while I go and look" - he added: "He said: 'Yes, but be on your guard against the people of Makkah, for they are his enemies and are hostile towards him."'

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ، اس میں اس قول کے بعد " ٹھہرو یہاں تک کہ میں جاکر انہیں دیکھ آؤں" یہ اضافہ ہے : انیس نے کہا: اچھا جاؤ لیکن اہل مکہ سے بچے رہنا ، وہ اس آدمی کے دشمن ہیں اور اس سے اپنا منہ بناتے ہیں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَا ابْنَ أَخِي صَلَّيْتُ سَنَتَيْنِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَأَيْنَ كُنْتَ تَوَجَّهُ ؟ قَالَ : حَيْثُ وَجَّهَنِيَ اللَّهُ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ. وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَتَنَافَرَا إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْكُهَّانِ ، قَالَ : فَلَمْ يَزَلْ أَخِي ، أُنَيْسٌ يَمْدَحُهُ حَتَّى غَلَبَهُ ، قَالَ : فَأَخَذْنَا صِرْمَتَهُ فَضَمَمْنَاهَا إِلَى صِرْمَتِنَا. وَقَالَ أَيْضًا فِي حَدِيثِهِ : قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ ، قَالَ فَأَتَيْتُهُ ، فَإِنِّي لأَوَّلُ النَّاسِ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلاَمِ ، قَالَ قُلْتُ : السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ . مَنْ أَنْتَ. وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا : فَقَالَ : مُنْذُ كَمْ أَنْتَ هَاهُنَا ؟ قَالَ قُلْتُ : مُنْذُ خَمْسَ عَشْرَةَ. وَفِيهِ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَتْحِفْنِي بِضِيَافَتِهِ اللَّيْلَةَ.

It was narrated that 'Abdullah bin As-Samit said: Abu Dharr said: "O son of my brother, I prayed for two years before the Prophet (s.a.w) was sent." I said: "Which direction did you face?" He said: "I faced where my Lord directed me to." And he narrated a Hadith like that of Sulaiman bin Al-Mughirah (no. 6360), and he said in the Hadith: "They went to a man who was a soothsayer to judge between them (about the wager)" -he said - "and my brother Unais kept praising him until he declared him the winner." He said: "And we took his camels and added them to our camels." He also said in his Hadith: "The Prophet (s.a.w) came and circumambulated the House and prayed two Rak'ah behind the Maqam." He said: "I came to him, and I was the first one to greet him with the greeting of Islam. I said: As-Salamu 'alaika ya Rasulullah (peace be upon you, O Messenger of Allah).' He said: 'Wa 'alaikas-salam (and peace be upon you, too), who are you?"' In his Hadith it also says: "Then he said: 'How long have you been here?' I said: 'For fifteen days."' And it says: "Abu Bakr said: 'Let him be my guest tonight."'

حضرت عبد اللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضر ت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بھتیجے ! میں نے نبیﷺکی بعثت سے دو سال قبل نماز پڑھی ہے ، میں نے کہا: تم کس طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا: جس طرف بھی اللہ تعالیٰ میرا منہ کردیتا تھا ، اس کے بعد سلیمان بن مغیرہ کی حدیث کی طرح روایت ہے ، اور اس حدیث میں یہ ہے کہ وہ دونوں ایک کاہن کے پاس گئے ، اور ان کا بھائی انیس اس کی مدح کرتا رہا یہاں تک کہ اس پر غالب آگیا ، ہم نے ا س کے اونٹ لے کر اپنے اونٹوں کے ساتھ ملا لیے ، اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ پھر نبی ﷺآئے ، آپﷺنے بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر میں آپ کے پاس گیا ، میں پہلا آدمی تھا جس نے آپ ﷺکو اسلام کے طریقہ سے سلام کیا ، میں نے کہا: السلام علیک یا رسول اللہﷺ! آپﷺنے فرمایا: وعلیک السلام ، تم کون ہو؟ اور اس حدیث میں یہ بھی ہے ، تم کب سے یہاں ہو؟ میں نے کہا: پندرہ دن سے اور اس میں یہ ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج رات مجھے اس کی مہمان نوازی کرنے دیجئے ۔


وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَتَقَارَبَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَاتِمٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ , قَالَ لأَخِيهِ : ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي ، فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ , الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ , فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ، ثُمَّ ائْتِنِي , فَانْطَلَقَ الآخَرُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ , وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَبِي ذَرٍّ ، فَقَالَ : رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الأَخْلاَقِ , وَكَلاَمًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ , فَقَالَ : مَا شَفَيْتَنِي فِيمَا أَرَدْتُ , فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ , فِيهَا مَاءٌ , حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ , فَأَتَى الْمَسْجِدَ , فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلاَ يَعْرِفُهُ , وَكَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ ، يَعْنِي اللَّيْلَ ، فَاضْطَجَعَ , فَرَآهُ عَلِيٌّ , فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ , فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ , فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ , حَتَّى أَصْبَحَ , ثُمَّ احْتَمَلَ قُِرَْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ , فَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ , وَلاَ يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى أَمْسَى , فَعَادَ إِلَى مَضْجَِعِهِ , فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ , فَقَالَ : مَا آنَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ ؟ فَأَقَامَهُ , فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ , وَلاَ يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمَُ الثَّالِثِ ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ , فَأَقَامَهُ عَلِيٌّ مَعَهُ , ثُمَّ قَالَ لَهُ : أَلاَ تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ هَذَا الْبَلَدَ ؟ قَالَ : إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي , فَعَلْتُ , فَفَعَلَ , فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ : فَإِنَّهُ حَقٌّ , وَهُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتَّبِعْنِي ، فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْكَ , قُمْتُ كَأَنِي أُرِيقُ الْمَاءَ , فَإِنْ مَضَيْتُ , فَاتَّبِعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ مَدْخَلِي , فَفَعَلَ , فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ , حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَدَخَلَ مَعَهُ , فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ , وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْجِعْ إِلَى قَوْمِكَ , فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي , فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ , فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ , فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ : أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ , وَثَارَ الْقَوْمُ , فَضَرَبُوهُ حَتَّى أَضْجَعُوهُ , فَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ , فَقَالَ : وَيْلَكُمْ , أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ , وَأَنَّ طَرِيقَ تُجَّارِكُمْ إِلَى الشَّامِ عَلَيْهِمْ , فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ , ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِهَا , وَثَارُوا إِلَيْهِ فَضَرَبُوهُ , فَأَكَبَّ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ فَأَنْقَذَهُ.

It was narrated that Ibn 'Abbas said: "When Abu Dharr heard that the Prophet (s.a.w) had been sent (as the Messenger of Allah) in Makkah, he said to his brother: 'Ride to this valley and find out for me about this man who claims to bring news from heaven, and listen to what he says, then come to me.' "So the other man set out and came to Makkah, where he listened to what he said, then he came back to Abu Dharr and said: 'I have seen him enjoining good morals and saying words that are not poetry.' He said: 'You have not told me enough.' So he took provisions and a skin full of water and went to Makkah. He came to the Masjid and looked for the Prophet (s.a.w) ' but he did not know what he looked like, and he did not want to ask about him. Then when night came he lay down to sleep. 'Ali saw him and realized that he was a stranger. When he saw him he followed him, and neither of them asked the other about anything, until morning came. Then he took his waterskin and provisions to the Masjid and stayed there all day, but he did not see the Prophet (s.a.w) until evening came. "Then he went back to the place where he slept, and 'Ali passed by him and said: 'This man has not been able to find a place to stay.' He made him get up and took him with him, and neither of them asked the other about anything. On the third day the same thing happened. 'Ali made him get up and go with him, and he said: 'Will you not tell me what has brought you to this land'? He said: 'If you give me a solemn promise that you will guide me aright, I will do that.' He did so, and he told him. He said: 'It is true; he is the Messenger of Allah (s.a.w). In the morning, follow me, and if I see anything that makes me fear for you, I will stand as if I am passing water, but if I move on, then follow me until I enter some house. He did that, and he followed in his footsteps until he entered upon the Prophet (s.a.w), and he entered with him and listened to his words, and he embraced Islam on the spot. "The Prophet (s.a.w) said to him: 'Go back to your people and inform them, until my command comes to you.' He said: 'By Allah, I will shout it aloud among them.' He went out to the Masjid, and called out at the top of his voice: 'I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, and I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah.' The people attacked him and beat him until they made him fall down. Al-'Abbas came and leaned over him, and said: 'Woe to you! Do you not know that he is from Ghifar and your trade routes to Ash-Sham pass through their land?' And he rescued him from them. The next day he did the same thing, and they attacked him and beat him, and Al 'Abbas leaned over him and rescued him."

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو مکہ میں نبیﷺکی بعثت کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا: اس وادی میں جاؤ اوروہاں جاکر میری خاطر اس شخص کے بارے میں معلومات حاصل کرو جو یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں ، ان کی بات سنو اور پھر میرے پاس آؤ، وہ چلے گئے یہاں تک کہ مکہ آئے ، انہوں نے آپﷺکا قول سنا ، پھر ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس لوٹے ، انہوں نے کہا: میں نے آپﷺکو دیکھا ہے ، وہ لوگوں کو مکارم اخلاق کا حکم دیتے ہیں اور ان کا کلام ایسا ہے جو شعر نہیں ہے ، میں نے کہا: تم نے میرے ارادے کے مطابق کام نہیں کیا ، پھر حضرت ابو ذر نے زاد راہ لیا اور پانی کا ایک مشکیزہ لیا اور مکہ آئے ، وہ مسجد میں گئے ، اور نبی ﷺکو تلاش کیا ، وہ آپﷺکو پہچانتے نہیں تھے ، اور آپﷺکے بارے میں سوال کرنے کو ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ رات ہوگئی اور وہ لیٹ گئے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا : اور یہ خیال کیا کہ وہ کوئی مسافر ہیں ، وہ ان کو دیکھ کر ان کے ساتھ گئے اور کسی نے دوسرے سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ صبح ہوگئی ، پھر حضرت ابو ذر نے اپنی مشک اٹھائی اور اپنا زاد راہ لے کر مسجد گئے ، وہ سارا دن وہاں رہے اور نبی ﷺکو نہیں دیکھ سکے ، یہاں تک کہ شام ہوگئی اور وہ پھر اپنے سونے کی جگہ آگئے ، حضر ت علی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے اور کہنے لگے : ابھی تک اس آدمی کو اپنے ٹھکانے کا علم نہیں چلا ، پھر ان کو کھڑا کیا اور ان کے ساتھ گئے اور کسی نے ایک دوسرے سے کوئی سوال نہیں کیا ، یہاں تک کہ تیسرا دن بھی اسی طرح گزر گیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اٹھایا اور کہا: تم مجھے کیوں نہیں بتاتے کہ تم اس شہر میں کس کام سے آئے ہو؟ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم مجھ سے پکا وعدہ کرو کہ تم میری رہنمائی کروگے تو میں تم کو بتا دیتا ہوں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مسئلہ بیان کیا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ سچے ہیں اور وہ رسول اللہﷺہیں ، جب صبح ہو تو تم میرے ساتھ چلنا، اگر میں نے تمہارے لیے کوئی خطرہ دیکھا تو میں کھڑا ہوجاؤں گا ، جیسے کوئی پانی بہاتا ہے ، اگر میں چلتا رہوں تو تم بھی میرے ساتھ چلنا ، یہاں تک کہ جہاں میں داخل ہوں تم بھی وہاں آجانا ، حضرت ابو ذر حضرت علی رضی اللہ عنہ کےپیچھے پیچھے چلتے رہے ، یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺکے پاس گئے ، اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بھی ساتھ گئے ، حضرت ابو ذر نے نبیﷺکی باتیں سنیں اور اسی جگہ اسلام لے آئے ، نبی ﷺنے ان سے فرمایا: اپنی قوم کے پاس واپس جاؤ اور انہیں دین کی تبلیغ کرو، یہاں تک کہ تمہارے پاس میرا حکم آئے ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں مکہ والوں کے سامنے اپنے اسلام کا اعلان کروں گا ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے اور مسجد میں آئے اور بلند آواز سے کہا: اشہد ان لا الہ الا اللہ و ان محمدا رسول اللہ پھر قوم ان پر ٹوٹ پڑی ، اور ان کو مارتے مارتے لٹا دیا ، پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ آئے او ران پر جھک گئے اور کہا: تم پر افسوس ہے کیا تم نہیں جانتے کہ یہ آدمی قبیلہ غفار سے ہے ؟ اور شام سے تمہاری تجارت کا راستہ ان کے پاس سے گزرتا ہے ، پھر حضرت ابو ذر کو ان سے چھڑا لیا ، دوسرے روز پھر حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام کا اعلان کیا ، لوگ پھر ان کو مارنے کے لیے ٹوٹ پڑے ، پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ ان پر جھکے اور ان کو چھڑالیا۔

Chapter No: 29

باب مِنْ فَضَائِلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

The merits of Jarir bin Abdullah, May Allah be pleased with him

حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. (ح) وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيانٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، يَقُولُ : قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلاَ رَآنِي إِلاَّ ضَحِكَ.

It was narrated that Bayan said: "I heard Qais bin Abi Hazim say: 'Jarir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) never refused me permission to enter since I became Muslim, and he never looked at me without a smile."

حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہﷺنے مجھے کبھی نہیں روکا اور آپﷺجب بھی مجھے دیکھتے تبسم فرماتے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، وَلاَ رَآنِي إِلاَّ تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي. زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ ، فِي حَدِيثِهِ عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ : وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ : اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا.

It was narrated that Jarir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) never refused me permission to enter since I became Muslim, and he never looked at me without a smile on his face." Ibn Numair added in his Hadith from Ibn Idris: "I complained to him that I could not sit firmly on a horse, and he struck me on the chest with his hand and said: '0 Allah, make him sit firmly, and make him steadfast and rightly-guided."'

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہﷺنے مجھے کبھی نہیں روکا او رآپﷺجب بھی مجھے دیکھتے تبسم فرماتے ، ابن جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے نبیﷺسے یہ شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا ، نبیﷺنے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور دعا کی : اے اللہ! اس کو گھوڑے پر قائم رکھ اور اس کو ہادی اور مہدی کردے۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ الْكَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ ، وَالْكَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ، وَالْكَعْبَةِ الْيَمَانِيَةِ وَالشَّامِيَّةِ ؟ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي مِئَةٍ وَخَمْسِينَ مِنْ أَحْمَسَ ، فَكَسَرْنَاهُ , وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ ، فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَدَعَا لَنَا وَلأَحْمَسَ.

It was narrated that Jarir said: "During the Jahiliyyah there was a house (temple) called Dhul-Khalasah, which was known as the Yemeni ka'bah and the Shami ka'bah. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Will you rid me of Dhul-Khalasah and the Yemeni ka'bah and the Shami?' I went to it with one hundred and fifty men of Ahmas, and we broke it and killed those whom we found there. I came to him and told him, and he prayed for us and for Ahmas."

حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: زمانہ جاہلیت میں ایک مکان تھا جس کو ذو خلصہ کہتے تھے اور اس کو کعبہ یمانیہ یا کعبہ شامیہ بھی کہتے تھے ، رسول اللہﷺنے مجھ سے فرمایا: اے جریر! کیا تم مجھے ذو الخلصہ ، کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کی فکر سے راحت دلاؤگے ؟ سو میں قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو لوگوں کے ساتھ اس کی جانب روانہ ہوا اور اس بت خانہ کو توڑ دیا اور جو لوگ وہاں پائے گئے ان سب کو قتل کردیا ، پھر میں نے آکر آپﷺکو اس کی خبر دی تو آپﷺنے ہمارے اور قبیلہ احمس کے لیے دعاکی ۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا جَرِيرُ أَلاَ تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ بَيْتٍ لِخَثْعَمَ كَانَ يُدْعَى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ ، قَالَ : فَنَفَرْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِئَةِ فَارِسٍ ، وَكُنْتُ لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَرَبَ يَدَهُ فِي صَدْرِي فَقَالَ : اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا. قَالَ : فَانْطَلَقَ فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ ، ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلاً يُبَشِّرُهُ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ مِنَّا ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ : مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْنَاهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ ، فَبَرَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ ، وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ.

It was narrated from Qais bin Abi Hazim, that Jarir bin 'Abdullah Al-Bajali said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'O Jarir, will you not rid me of Dhul-Khalasah?' - a house belonging to Khath'am that was called the Yemeni ka'bah. I went to it with one hundred and fifty horsemen of Ahmas. It used to be that I could not sit firmly on a horse, and I mentioned that to the Messenger of Allah (s.a.w). He struck me on the chest with his hand and said: 'O Allah, make him sit firmly, and make him steadfast and rightly-guided."' He said: "He went out and burned it with fire, then Jarir sent a man who was known as Abu Artah, who was one of us, to the Messenger of Allah (s.a.w) to tell him the good news. He said: 'I did not come to you until we left it like a scabby camel.' The Messenger of Allah (s.a.w) invoked blessings upon the horses and men of Ahmas five times."

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے مجھ سے فرمایا : اے جریر ! کیا تم مجھے خثعم کے بت خانہ سے راحت نہیں دوگے جس کو کعبہ یمانیہ بھی کہتے ہیں؟حضرت جریر کہتےہیں کہ پھر میں ڈیڑھ سو سواروں کے ساتھ روانہ ہوا ، میں گھوڑے پرجم کر نہیں بیٹھ سکتا تھا ، میں نے رسول اللہﷺسے اس کا ذکر کیا ، آپﷺنے میرے سینہ پر اپنا مبارک ہاتھ مارا ، اور یہ دعا فرمائی : اے اللہ ! اس کو گھوڑے پر ثابت رکھ اور اس کو ہادی اور مہدی بنا، حضرت جریر کہتے ہیں کہ پھر وہ روانہ ہوئے اور اس بت خانہ کو جلا دیا ، پھر حضرت جریر نے ابو ارطاۃ کی کنیت والے ایک آدمی کو رسول اللہﷺکے پاس خوشخبری دینے کے لیے روانہ کیا ، وہ رسول اللہ ﷺکے پاس گیا اور عرض کیا کہ ہم ذوالخلصہ کے بت خانہ کو ایک خارش زدہ اونٹ کی طرح چھوڑ کر آپﷺکے پاس آئے ہیں ، رسول اللہﷺنے قبیلہ احمس کے سواروں اور پیادوں کے لیے پانچ مرتبہ دعا کی۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ (ح) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَقَالَ فِي حَدِيثِ مَرْوَانَ : فَجَاءَ بَشِيرُ جَرِيرٍ أَبُو أَرْطَاةَ حُصَيْنُ بْنُ رَبِيعَةَ ، يُبَشِّرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated from Isma'il with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6366). In the Hadith of Marwan it said: "The messenger of Jarir, Abu Artah Husain bin Rabi'ah, came and gave the good news to the Prophet (s.a.w)."

یہ حدیث متعدد سندوں سے مروی ہے ، ایک سند میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت جریر نے نبیﷺکے پاس جس آدمی کو خوشخبری کےلیے روانہ کیا تھا اس کا نام ابو ارطاۃ حصین بن ربیعہ تھا۔

Chapter No: 30

باب فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

The merits of Abdullah bin Abbas, May Allah be pleased with them

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ قَالاَ : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلاَءَ , فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ : مَنْ وَضَعَ هَذَا ؟ فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ قَالُوا : وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ، قُلْتُ : ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ.

It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (s.a.w) went to relieve himself, and I put out water for him to perform Wudu'. When he came back he said: "Who put this here?'' - according to the report of Zuhair: "they said," and according to the report of Abu Bakr: "I said - Ibn 'Abbas." He said: "0 Allah, grant him deep understanding of the faith."

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺقضاء حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، میں نے آپﷺکے لیے وضو کا پانی رکھا۔ جب آپﷺآئے تو آپﷺنے پوچھا: یہ پانی کس نے رکھا ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ایک روایت میں ہے ، میں نے کہا: ابن عباس نے، آپﷺنے دعا دی : اے اللہ! اس کو دین میں سمجھ عطا فرما۔

12345Last ›