Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Muslim

Book: Book of The Virtues of The Companions (44)    كتاب فضائل الصحابة رضي الله عنهم

1234Last ›

Chapter No: 11

بابُ فَضَائِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

The merits of Abdullah bin Ja’far, May Allah be pleased with him

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، لاِبْنِ الزُّبَيْرِ : أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ فَحَمَلَنَا ، وَتَرَكَكَ.

It was narrated that 'Abdullah bin Abi Mulaikah said: "Abdullah bin Ja'far said to Ibn Az-Zubair: 'Do you remember when we met the Messenger of Allah (s.a.w), myself, you and Ibn 'Abbas?' He said: 'Yes, and he carried us on his mount but he left you."'

حضرت عبد اللہ جعفر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہ سے کہا:تمہیں یاد ہے کہ جب میں اور تم اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ سے ملاقات کی تھی ، انہوں نے کہا: ہاں ! آپﷺنے ہمیں سوار کرلیا تھا اور تم کو چھوڑ دیا تھا۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَإِسْنَادِهِ.

It was narrated that 'Abdullah bin Abi Mulaikah said: "Abdullah bin Ja'far said to Ibn Az-Zubair: 'Do you remember when we met the Messenger of Allah (s.a.w), myself, you and Ibn 'Abbas?' He said: 'Yes, and he carried us on his mount but he left you."'

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وقَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهِ ، قَالَ : وَإِنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ ، فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ ، فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ ، قَالَ : فَأُدْخِلْنَا الْمَدِينَةَ ، ثَلاَثَةً عَلَى دَابَّةٍ وَاحِدَةٍ.

It was narrated that 'Abdullah bin Ja'far said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) came from a journey he would be met by the children of his household. He came from a journey and I was taken to meet him first, and he seated me on his mount in front of him. Then one of the two sons of Fatimah came, and he seated him behind him. And we entered Al-Madinah, three of us on one mount."

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺجب کسی سفر سےآتے تو آپﷺکے گھر کے بچے آپﷺسے ملاقات کرتے ، ایک مرتبہ آپ ﷺایک سفر سے آئے ، میں آپ سے ملنے کے لیے پہنچا ، آپﷺنے مجھے اپنے سامنے بٹھایا ، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ایک صاحبزادے آئے ، آپﷺنے انہیں پیچھے بٹھالیا ، پھر ہم تینوں ایک سواری پر بیٹھے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے ۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي مُوَرِّقٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِنَا قَالَ فَتُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ ، أَوْ بِالْحُسَيْنِ قَالَ : فَحَمَلَ أَحَدَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالآخَرَ خَلْفَهُ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ.

'Abdullah bin Ja'far said: "When the Prophet (s.a.w) came from a journey we would be taken to meet him. Al-Hasan or Al-Husain and I were taken to meet him, and he seated one of us on his mount in front of him and the other behind him, until we entered Al-Madinah."

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب سفر سے آتے تو ہم سے ملاقات کرتے ، ایک مرتبہ مجھ سے ، اور حضرت حسن یا حضرت حسین سے ملے ، آپﷺنے ہم میں سے ایک کو آگے بٹھایا ، اور دوسرے کو پیچھے بٹھایا یہاں تک ہم مدینہ میں داخل ہوئے۔


حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لاَ أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ.

It was narrated that 'Abdullah bin Ja'far said: "The Messenger of Allah (s.a.w) seated me behind him on his mount one day and said something to me in secret that I will never tell to any of the people."

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ایک دن مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ، پھر چپ کے سے مجھے ایک بات بتائی جو میں کسی آدمی کو نہیں بتاؤں گا۔

Chapter No: 12

بابُ فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا

The merits of Khadijah, the mother of the believers, May Allah be pleased with her

حضرت خدیجہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ وَوَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَاللَّفْظُ حَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، بِالْكُوفَةِ يَقُولُ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ: خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ قَالَ: أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَشَارَ وَكِيعٌ إِلَى السَّمَاءِ وَالأَرْضِ.

It was narrated from Hisham that his father said: I heard 'Abdullah bin Ja'far say: I heard 'Ali say in Al-Kufah: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'The best woman in it was Mariam bint 'Imran, and the best woman in it is Khadijah bint Khuwailid.'" Abu Kuraib said: "And Waki' pointed to the sky and the ground."

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمام عورتوں میں سب سے افضل مریم بنت عمران ہیں اور تمام عورتوں میں سب سے افضل حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں ، وکیع نے آسمان و زمین کی طرف اشارہ کرکے بتایا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ غَيْرُ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ ، وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ.

It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Many men have attained perfection but no women have attained perfection except Mariam bint 'Imran and Asiyah the wife of Pharaoh. And the superiority of 'Aishah to other women is like the superiority of Tharid to other foods.'"

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مردوں میں بہت کامل ہوئے ہیں اور عورتوں میں مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے علاوہ کوئی کامل نہیں ہوا اور عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ، هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ ، أَوْ طَعَامٌ ، أَوْ شَرَابٌ ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ ، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلاَمَ مِنْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ ، وَمِنِّي ، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ ، لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَقُلْ: سَمِعْتُ وَلَمْ يَقُلْ فِي الْحَدِيثِ : وَمِنِّي.

It was narrated that Abu Zur'ah said: "Jibril came to the Prophet (s.a.w) and said: 'O Messenger of Allah, Khadijah is coming to you with a vessel in which there is condiment, food, or drink. When she comes to you, convey to her greetings of Salam from her Lord, Glorified and Exalted is He, and from me, and give her the glad tidings of a house of pearls in Paradise in which there is no clamor or toil."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکی خدمت میں حضرت جبریل حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ!یہ خدیجہ آپ کے پاس ایک برتن لے کر آرہی ہے ، اس میں سالن ہے یا کھانا ، یا کوئی مشروب ، جب یہ آپ کے پاس آئیں ، تو آپ رب عزوجل کی طرف سے اور میری طرف سے ان کو سلام کہیں ، اور ان کو جنت میں ایسے گھر کی بشارت دیں جو خولدار موتیوں کا بنا ہوا ہے ، اس میں نہ شوروغل اور نہ کوئی تکلیف اور تھکن ہے ۔ دوسری روایت میں " میری طرف سے" کا لفظ نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ ؟ قَالَ: نَعَمْ ، بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلاَ نَصَبَ.

It was narrated that Isma'il said: "I said to 'Abdullah bin Abi Awfa: 'Did the Messenger of Allah (s.a.w) give Khadijah the glad tidings of a house in Paradise?' He said: 'Yes, he gave her the glad tidings of a house of pearls in Paradise in which there is no clamor or toil."'

اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہﷺنے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں گھر کی بشارت دی تھی ؟ انہوں نے کہا: ہاں! آپ ﷺنے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ایسے گھر کی بشارت دی تھی ، جو خولدار موتیوں سے بنا ہوگا ، اس میں شورو غل اور تکلیف اور تھکن نہیں ہوگی۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ (ح) وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَجَرِيرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 6274) was narrated from Isma'il bin Abi Khalid, from Ibn Abi Awfa, from the Prophet (s.a.w).

حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے اس کی مثل روایت کی ہے۔


حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: بَشَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) gave Khadijah bint Khuwailid the glad tidings of a house in Paradise."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کو جنت میں ایک گھر کی بشارت دی۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَلَقَدْ هَلَكَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلاَثِ سِنِينَ ، لِمَا كُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْكُرُهَا , وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنْ كَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ، ثُمَّ يُهْدِيهَا إِلَى خَلاَئِلِهَا.

It was narrated that 'Aishah said: "I never felt jealous of any woman as I did of Khadijah, although she died three years before he (s.a.w) married me. I used to hear him mention her, and his Lord told him to give her the glad tidings of a house of pearls in Paradise, and he used to slaughter a sheep and gift it to her friends."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ مجھے کسی زوجہ پر اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی حضرت خدیجہ پر آتی تھی ، میرےساتھ نکاح کرنے سے تین سال پہلے وہ فوت ہوگئی تھیں ، کیونکہ میں آپ سے ان کا اکثر ذکر سنتی رہتی تھی ، آپ کے رب عزوجل نے آپﷺکو یہ حکم دیا تھا کہ وہ ان کو جنت میں خولدار موتیوں کے گھر کی بشارت دیں ، جب آپ ﷺبکری ذبح کرتے تو اس کا گوشت ان کی سہیلیوں کی طرف بھیجتے ۔


حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلاَّ عَلَى خَدِيجَةَ وَإِنِّي لَمْ أُدْرِكْهَا. قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَبَحَ الشَّاةَ، فَيَقُولُ: أَرْسِلُوا بِهَا إِلَى أَصْدِقَاءِ خَدِيجَةَ قَالَتْ: فَأَغْضَبْتُهُ يَوْمًا ، فَقُلْتُ: خَدِيجَةَ ، فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ رُزِقْتُ حُبَّهَا.

It was narrated that 'Aishah said: "I never felt jealous of any of the wives of the Prophet (s.a.w) except Khadijah, even though I never met her." She said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) slaughtered a sheep, he said: 'Send this to the friends of Khadijah.' I annoyed him one day and by saying: 'Khadijah ?' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Her love is instilled in my heart."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺکی ازواج میں سے مجھے کسی پر اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی حضرت خدیجہ پر آتی تھی ، میں نے ان کا زمانہ نہیں پایا اور رسول اللہﷺجب کبھی کوئی بکری ذبح کرتے تو فرماتے تھے : اس کو خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس بھیجو ، حضرت عائشہ کہتی ہیں : ایک دن میں نے غصہ سے کہا: بس خدیجہ ہی ہے ، آپ ﷺنے فرمایا: مجھے اس کی محبت عطا کی گئی ہے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ إِلَى قِصَّةِ الشَّاةِ وَلَمْ يَذْكُرِ الزِّيَادَةَ بَعْدَهَا.

Hisham narrated a Hadith like that of Abu Usamah (no. 6277) with this chain of narrators, up to the story of the sheep, but he did not mention the extra material that comes after that.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ا س میں بکری کا ذکر ہے ، بعد والے قصہ کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَا غِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ، مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ لِكَثْرَةِ ذِكْرِهِ إِيَّاهَا وَمَا رَأَيْتُهَا قَطُّ.

It was narrated that 'Aishah said: "I did not feel jealous of any of the wives of the Prophet (s.a.w) as I did of Khadijah, because he (s.a.w) often mentioned her, although I never saw her."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھےنبی ﷺکی ازواج میں سے کسی پر اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی حضرت خدیجہ پر آتی تھی ، کیونکہ آپﷺ ان کا تذکرہ اکثر طور پر کرتے تھے ، اور میں نے حضرت خدیجہ کو کبھی نہیں دیکھا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمْ يَتَزَوَّجِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَدِيجَةَ حَتَّى مَاتَتْ.

It was narrated that 'Aishah said: "The Prophet (s.a.w) did not take another wife in addition to Khadijah until she died."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺنے حضرت خدیجہ کی وفات تک دوسری شادی نہیں کی ۔


حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَرَفَ اسْتِئْذَانَ خَدِيجَةَ فَارْتَاحَ لِذَلِكَ فَقَالَ : اللَّهُمَّ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ فَغِرْتُ فَقُلْتُ : وَمَا تَذْكُرُ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ ، حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ ، هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ فَأَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا.

It was narrated that 'Aishah said: "Halah bint Khuwailid, the sister of Khadijah, asked permission to enter upon the Messenger of Allah (s.a.w), and he remembered how Khadijah used to ask permission, and he felt happy when he heard that. He said: 'O Allah, Halah bint Khuwailid.' I felt jealous and said: 'Why do you remember one of the old women of the Quraish with red gums? She is long dead and Allah has given you a better one in her stead!"'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ بنت خویلد نے رسول اللہﷺسے ملنے کی اجازت طلب کی ، آپ ﷺکو حضرت خدیجہ کا اجازت مانگنا یاد آگیا ،اور آپﷺ اس وجہ سےچونک اٹھے ، آپﷺنے فرمایا: اے اللہ! یہ تو ہالہ بنت خویلد ہے ، مجھے ان پر بڑی غیرت آئی ، میں نے کہا: آپ قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بڑھیا کو یاد کرتے رہتے ہیں جس کے مسوڑوں پر دانتوں کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے صرف سرخی باقی رہ گئی تھی ،اور جسے مرے ہوئے ایک زمانہ بیت گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو اس سے بہتر بدل عطا فرما دیا ہے۔

Chapter No: 13

بابٌ فِي فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا

The merits of Aishah, May Allah be pleased with her

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلاَثَ لَيَالٍ ، جَاءَنِي بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ ، فَيَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ ، فَأَكْشِفُ عَنْ وَجْهِكِ فَإِذَا أَنْتِ هِيَ ، فَأَقُولُ : إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ ، يُمْضِهِ.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'I was shown in my dreams for three nights that the angel brought you to me wrapped in a cloth of silk, saying: "This is your wife." I uncovered your face and saw that it was you, and I said: If this is from Allah then He will bring it to pass."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مجھے خواب میں تم تین راتوں تک دکھائی گئیں، ایک فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں لے کر آیا ، وہ کہتا تھا کہ یہ تمہاری زوجہ ہیں ، ان کا چہرہ کھولیے ، پس میں نے دیکھا تو وہ تم تھیں ، میں نے کہا: اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اس کو پورا کردے گا۔


حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ.

A similar report (as Hadith no. 6283) was narrated from Hisham with this chain of narrators.

یہ حدیث دو اور سندوں سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى قَالَتْ فَقُلْتُ : وَمِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، فَإِنَّكِ تَقُولِينَ : لاَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى ، قُلْتِ : لاَ ، وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ قَالَتْ قُلْتُ : أَجَلْ ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أَهْجُرُ إِلاَّ اسْمَكَ.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'I know when you are pleased with me and when you are angry with me.' I said: 'How do you know that?' He said: 1When you are pleased with me, you say: "No, by the Lord of Muhammad," and when you are angry with me you say, "No, by the Lord of Ibrahim.'" I said: 'Yes, by Allah! O Messenger of Allah, I forsake everything but your name."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ مجھے رسول اللہ ﷺنے فرمایا: مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تم مجھ سے کس وقت خوش ہوتی ہو اور کس وقت ناراض ہوتی ہو، میں نے پوچھا: آپ کو کیسے معلوم ہوتا ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا: جب تم خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو : رب محمد کی قسم! ، اور جب ناخوش ہوتی ہو تو کہتی ہو : رب ابراہیم کی قسم! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں ! یارسو ل اللہﷺ! میں صرف آپ کے نام کو چھوڑتی ہوں۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، إِلَى قَوْلِهِ : لاَ وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.

It was narrated from Hisham bin 'Urwah (a Hadith similar to no. 6285) with this chain of narrators, up to the words: "No, by the Lord of Ibrahim," and he did not mention what came after that.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے ، اس میں رب ابراہیم کی قسم کے بعد والا جملہ نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ: وَكَانَتْ تَأْتِينِي صَوَاحِبِي فَكُنَّ يَنْقَمِعْنَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ.

It was narrated from 'Aishah that she used to play with dolls in the house of the Messenger of Allah (s.a.w). She said: "My friends used to come to me but they would feel shy of the Messenger of Allah (s.a.w) and leave, but the Messenger of Allah (s.a.w) would send them to me."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺکے پاس گڑیوں سے کھیلتی تھیں ، وہ فرماتی ہیں کہ میری سہیلیاں آتی تھیں ، وہ آپ ﷺکو دیکھ کر غائب ہوجاتی تھیں تو رسول اللہﷺان کو میرے پاس بھیج دیتے تھے۔


حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ. وَقَالَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فِي بَيْتِهِ ، وَهُنَّ اللُّعَبُ.

It was narrated from Hisham (a Hadith similar to no. 6287) with this chain of narrators. In the Hadith of Jarir it says: "I used to play with dolls in his house."

یہ حدیث دو اور سندوں سے مروی ہے ، ایک روایت میں ہے ، میں آپﷺکے گھر میں گڑیوں سے کھیلتی تھی ، اور کھیلنے والی سہیلیاں ہوتی تھیں۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ ، يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

It was narrated from 'Aishah that the people used to send their gifts when it was 'Aishah's day (i.e., the day when Allah's Messenger was in her apartment), seeking thereby to please the Messenger of Allah (s.a.w).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگ ہدایا اور تحفے دینے کے لیے حضرت عائشہ کی باری کا انتظار کرتے تھے ، اور وہ اس سے رسول اللہﷺ کی خوشنودی چاہتے تھے۔


حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنِي ، وقَالَ الآخَرَانِ : حَدَّثَنَا ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ، وَأَنَا سَاكِتَةٌ ، قَالَتْ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ ؟ فَقَالَتْ : بَلَى ، قَالَ فَأَحِبِّي هَذِهِ قَالَتْ : فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَجَعَتْ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَتْ ، وَبِالَّذِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَ لَهَا : مَا نُرَاكِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ ، فَارْجِعِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولِي لَهُ : إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : وَاللَّهِ لاَ أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا ، قَالَتْ عَائِشَةُ ، فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ . وَأَتْقَى لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا ، وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ ، وَأَعْظَمَ صَدَقَةً ، وَأَشَدَّ ابْتِذَالاً لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ ، وَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللهِ تَعَالَى ، مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ كَانَتْ فِيهَا ، تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ ، قَالَتْ : فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا ، عَلَى الْحَالَةِ الَّتِي دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا وَهُوَ بِهَا ، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ ، قَالَتْ : ثُمَّ وَقَعَتْ بِي ، فَاسْتَطَالَتْ عَلَيَّ ، وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ ، هَلْ يَأْذَنُ لِي فِيهَا ، قَالَتْ : فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ ، قَالَتْ : فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا حَتَّى أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَتَبَسَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ.

'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w) ' said: "The wives of the Prophet (s.a.w) sent Fatimah the daughter of the Messenger of Allah (s.a.w) to the Messenger of Allah (s.a.w) - She asked permission to enter when he was lying down with me under my cover, and he gave her permission. She said: 'O Messenger of Allah, your wives have sent me to you to ask you to be just with regard to the daughter of Abu Quhafah.' I ('Aishah) kept quiet. The Messenger of Allah (s.a.w) said to her: 'O my daughter, do you not love that which I love?' She said: 'Yes.' He said: 'Then love this one.' Fatimah got up when she heard that from the Messenger of Allah (s.a.w), and she went back to the wives of the Messenger of Allah (s.a.w) and told them what she had said, and what the Messenger of Allah (s.a.w) had said to her. They said to her: 'You have been of no avail for us. Go back to the Messenger of Allah (s.a.w) and say to him: "Your wives urge you to be just with regard to the daughter of Abu Quhafah."' Fatimah said: 'By Allah, I will never speak to him about her."' 'Aishah said: "The wives of the Prophet (s.a.w) sent Zainab bint Jahsh, the wife of the Prophet (s.a.w) 'who was the one who was the closest of them to me in status before the Messenger of Allah (s.a.w) -I have never seen any woman who was better in religious commitment than Zainab, more fearing of Allah, more truthful in speech, more keen to uphold family ties, more generous in giving charity, or more keen to draw close to Allah. But she was quick to lose her temper, although she would calm down as quickly. She asked permission to enter upon the Messenger of Allah (s.a.w) when the Messenger of Allah (s.a.w) was with 'Aishah beneath her cover, as he was when Fatimah had come in. The Messenger of Allah (s.a.w) gave her permission and she said: 'O Messenger of Allah, your wives have sent me to you to ask you to be just with regard to the daughter of Abu Quhafah.' Then she showed harshness towards me and insulted me, and I was watching the Messenger of Allah (s.a.w) to see if he would allow me to respond. This went on, until I realized that the Messenger of Allah (s.a.w) would not object if I responded. When I started responding, I answered back to everything that she had said. And the Messenger of Allah (s.a.w) said, smiling: 'She is the daughter of Abu Bakr."'

نبی ﷺکی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺکی ازواج نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہﷺکے پاس بھیجا ، انہوں نے اجازت طلب کی ، اس حال میں کہ آپﷺمیرے ساتھ چادر میں لیٹے ہوئے تھے ، آپ ﷺنے ان کو اجازت دی ، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی ازواج نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ، وہ ابو قحافہ کی بیٹی کے معاملہ میں آپ سے عدل چاہتی ہیں ، میں اس وقت خاموش رہی ، رسول اللہﷺنے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے بیٹی ! کیا تم اس سے محبت نہیں کرتیں جس سے میں محبت کرتا ہوں ؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیوں نہیں ؟ آپﷺنے فرمایا: پھر ان سے محبت کرو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہﷺسے یہ جواب سنا تو اٹھ کر کھڑی ہوگئیں اور نبی ﷺکی ازواج کے پاس واپس گئیں ، اور جو کچھ انہوں نے رسول اللہﷺسے کہا تھا اور جو کچھ آپ ﷺنے جواب میں فرمایا تھا ، وہ ان سے بیان کیا ، انہوں نے کہا: آپ نے ہمارا کوئی کام نہیں کیا ، دوبارہ رسول اللہﷺکے پاس جائیں ، اور آپﷺ کہیں کہ آپ کی ازواج آپ کو ابو قحافہ کی بیٹی کے معاملہ میں عدل کرنے کے لیے اللہ کی قسم دیتی ہیں ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپﷺسے اس مسئلہ میں کبھی بات نہیں کروں گی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر نبی ﷺ کی ازواج نے آپﷺکی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو آپﷺکے پاس بھیجا اور وہی رسول اللہ ﷺکے نزدیک مرتبہ میں میرے برابر تھیں ، اور میں نے حضرت زینب سے زیادہ دیندار ، اللہ سے ڈرنے والی ، صادق القول ، صلہ رحم کرنے والی، صدقہ و خیرات کرنے والی کوئی عورت نہیں دیکھی اور نہ ان سے زیادہ تواضع کرنے والی اور اپنے اعمال کو کم سمجھنے والی کوئی عورت دیکھی ، البتہ وہ زبان کی تیز تھیں لیکن اس سے بھی وہ جلد رجوع کرلیتی تھیں ، انہوں نے رسول اللہﷺسے ملاقات کی اجازت طلب کی ، اس وقت رسول اللہﷺحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اسی حالت میں ایک چادر میں لیٹے ہوئے تھے جس حالت میں حضرت فاطمہ آئی تھیں ، آپﷺنے ان کو اجازت دی ، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی ازواج نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ، وہ آپ ﷺسے ابو قحافہ کی بیٹی کے معاملہ میں عدل کا سوال کرتی ہیں ، پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئیں اور بہت کچھ کہا اور میں رسول اللہﷺکی طرف دیکھ رہی تھی ، اور آپﷺکی آنکھوں کی طرف دیکھ رہی تھی کہ آیا آپ مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں ، ادھر حضرت زینب کے کلام کا سلسلہ نہیں ٹوٹا یہاں تک کہ میں نے جان لیا کہ رسول اللہﷺمیری جوابی کاروائی کو ناپسند نہیں کریں گے ، پھر میں نے جواب دینے شروع کیے اور کچھ ہی دیر میں ان کو خاموش کردیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :پھر رسول اللہﷺنے تبسم فرمایا: اور کہا: یہ ابو بکر کی بیٹی ہے ۔


وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، قَالَ : عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ فِي الْمَعْنَى ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا أَنْ أَثْخَنْتُهَا غَلَبَةً.

A similar report (as Hadith no. 6290) was narrated from Az-Zuhri with this chain of narrators, except that he said: (' Aishah said ...) "When I started responding, I defeated her (in argument)."

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی حسب سابق مروی ہے ،لیکن اس میں یہ اضافہ ہےکہ جب میں ان کی طرف متوجہ ہوئی تو میں نے اس کو موقع نہیں دیا یہاں تک کہ میں نے اس پر غلبہ حاصل کرلیا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيَتَفَقَّدُ يَقُولُ: أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ ؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا ؟ اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي.

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) (during his fatal illness) used to check and ask: 'Where will I be today? Where will I be tomorrow?' hoping that the turn of Aishah was close. When it was my day, Allah took his soul when he was between my neck and my chest."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ (مرض الموت میں) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری طلب کرنے کے لیے پوچھتے تھے : میں آج کہاں رہوں گا ؟ کل میں کہاں رہوں گا ؟ پھر جس دن میری باری تھی ، آپ میرے سینے اور حلق کے درمیان تھے کہ اللہ نے آپﷺکی روح کو قبض کر لیا۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَى صَدْرِهَا وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي ، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ.

It was narrated from 'Aishah that she heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying, before he died, when he was leaning on her chest: "O Allah, forgive me and have mercy on me, and join me to (the higher) companionship."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی وفات سے قبل میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے ، میں نے کان لگاکر سنا تو رسو ل اللہ ﷺیہ فرمارہے تھے : اے اللہ! مجھے بخش دے ، اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما، اے اللہ ! مجھے رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملادے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي (ح) وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (a Hadith no. 6293) was narrated from Hisham with this chain of narrators.

یہ حدیث تین اور سندوں سے بھی مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى ، قَالاَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ: مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ ، وَالشُّهَدَاءِ ، وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا. قَالَتْ: فَظَنَنْتُهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ.

It was narrated that 'Aishah said: "I used to hear that no Prophet ever died until he had been given the choice between this world and the Hereafter. I heard the Prophet (s.a.w) ' during the sickness of which he died, saying with some gruffness in his voice: 'In the company of those on whom Allah has bestowed His Grace, of the Prophets, the Siddiqin, the martyrs, and the righteous. And how excellent these companions are!"' She said: "And I thought that he had been given the choice at that point."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے یہ سنا تھا کہ کوئی نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا جب تک کہ اس کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار نہ دے دیا جائے اور میں نے نبیﷺکو مرض الموت میں یہ فرماتے ہوئے سنا: ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا جو انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین ہیں ، وہی اچھے رفیق ہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے خیال کیا اب آپ ﷺکو اختیار دے دیا گیا ہے ۔


حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ (ح) وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالاَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ , بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as Hadith no. 6295) was narrated from Sa'd with this chain of narrators.

یہ حدیث دو اور سندوں سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ: إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يُرَى مَقْعَدُهُ فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ، ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى. قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ: إِذًا لاَ يَخْتَارُنَا. قَالَتْ عَائِشَةُ: وَعَرَفْتُ الْحَدِيثَ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ: إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ يُخَيَّرُ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى.

'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w) said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to say when he was healthy: 'No Prophet ever dies until he has been shown his place in Paradise, then he is given the choice.' 'Aishah said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) was about to die, and his head was on my thigh, he lost consciousness for a while then he woke up, and his eyes were staring fixedly at the ceiling, then he said: 'O Allah, the higher companionship."' 'Aishah said: "I said: 'Then he is not going to choose us."' 'Aishah said: "I remembered the Hadith that he used to say when he was healthy: 'No Prophet ever dies until he has been shown his place in Paradise, then he is given the choice."' 'Aishah said: "That was the last word that the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O Allah, the higher companionship."'

نبیﷺکی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے اپنی تندرستی کے زمانہ میں فرمایا: کسی نبی ﷺکی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی جب تک کہ وہ جنت میں اپنا مقام دیکھ نہ لے ، پھر اس کو اختیار دے دیا جاتا ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺکی رحلت کا وقت آگیا اس وقت آپﷺکے سر میرے زانو پر تھا، آپﷺپر کچھ دیر بے ہوشی طاری رہی ، پھر آپ ہوش میں آئے ، آپﷺنے چھت کی طرف نگاہیں اٹھائیں ، پھر فرمایا: اے اللہ ! رفیق اعلی! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سوچا اب آپﷺ ہم کو اختیار نہیں کریں گے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : مجھے وہ حدیث یاد آئی جو آپ ﷺنے صحت کے زمانہ میں فرمائی تھی کہ کسی نبی ﷺکی روح اس وقت تک قبض نہیں کی جاتی جب تک کہ اسے جنت میں اس کا مقام نہ دیا جائے ، پھر اس کو اختیار دیا جاتا ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہﷺکا آخری کلمہ یہ تھا : اللہم الرفیق الاعلیٰ۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ ، قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ فَخَرَجَتَا مَعَهُ جَمِيعًا ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ ، سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ مَعَهَا ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ : أَلاَ تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ ، فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ ؟ قَالَتْ : بَلَى ، فَرَكِبَتْ عَائِشَةُ عَلَى بَعِيرِ حَفْصَةَ ، وَرَكِبَتْ حَفْصَةُ عَلَى بَعِيرِ عَائِشَةَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ ، فَسَلَّمَ ثُمَّ سَارَ مَعَهَا ، حَتَّى نَزَلُوا ، فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَغَارَتْ ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَهَا بَيْنَ الإِذْخِرِ وَتَقُولُ يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا ، أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي رَسُولُكَ وَلاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا.

It was narrated that 'Aishah said: "When the Messenger of Allah (s.a.w) went out (on a journey), he would draw lots between his wives. The lot fell to 'Aishah and Hafsah, and they both went out with him. When night came, the Messenger of Allah (s.a.w) would travel with 'Aishah, talking with her. Hafsah said to 'Aishah: 'Why don't you ride my camel tonight and I will ride your camel, and you will see and I will see?"' She said: "Yes." So 'Aishah rode Hafsah’s camel, and Hafsah rode 'Aishah's camel. The Messenger of Allah (s.a.w) came to the camel of 'Aishah, which Hafsah was riding, and he greeted her with Salam and traveled with her, until they halted. 'Aishah missed him and felt jealous, so when they halted she started putting her foot in the grass and saying: "O Lord, let a scorpion or snake come and sting or bite me; he is Your Messenger and I cannot say anything to him."

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺباہر تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ، ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے نام قرعہ نکلا ، وہ دونوں آپﷺکے ساتھ گئیں ، جب رات کا وقت ہوتا تو رسول اللہﷺحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کرتے اور ان کے ساتھ باتیں کرتے ، حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آج کی رات تم میرے اونٹ پر سوار ہو اور میں تمہارے اونٹ پر سوار ہوتی ہوں ، تم دیکھنا میں بھی دیکھوں گی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حفصہ کے اونٹ پر سوار ہوگئیں ، اور حضرت حفصہ ، حضرت عائشہ کے اونٹ پرسوار ہوگئیں ، رسول اللہﷺحضرت عائشہ کے اونٹ پر آئے تو اس پر حضرت حفصہ سوار تھیں ، آپﷺنے سلام کیا اور ان کے ساتھ چلتے رہے ، یہاں تک کہ منزل پر اترے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺآپﷺکو اپنے پاس نہیں پایا تو انہیں غیرت آئی، جب لوگ اترے تو انہوں نے اپنے پیر اذخر (گھاس ) پر مارے اور فرماتی : اے میرے رب! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کردے جو مجھ کو ڈس لے ، وہ تیرے رسول ہیں ، انہیں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ.

It was narrated that Anas bin Malik said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'The superiority of 'Aishah to other women is like the superiority of Tharid to other kinds of food."'

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ، کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عورتوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے ثرید کی فضیلت کھانوں پر ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ: أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ.

A similar report (as Hadith no. 6299) was narrated from Anas from the Prophet (s.a.w).

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبیﷺسے اس حدیث کی مثل روایت کی ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.

It was narrated from 'Aishah that the Prophet (s.a.w) said to her: "Jibril conveys greetings of Salam to you." She said: "I said: 'And upon him be peace and the mercy of Allah."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے ان سے فرمایا: جبریل علیہ السلام تم کو سلام کہتے ہیں ، میں نے کہا: وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ ۔


وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُلاَئِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا.

'Aishah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said to her: ... a similar Hadith (as no. 6301).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے ان سے اس کی طرح فرمایا ہے۔


وحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 6301) was narrated from Zakariyya with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے حسب سابق مروی ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لاَ أَرَى.

It was narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w) ' said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O 'Aishah, this is Jibril conveying greetings of Salam to you."' She said: "I said: 'And upon him be peace and the mercy of Allah."' She said: "He could see what I could not."

نبی ﷺکی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: اے عائش ! یہ جبریل ہیں جو تم کو سلام کہہ رہے ہیں ، میں نے کہا: وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپﷺ ان چیزوں کو دیکھتے تھے جنہیں میں نہیں دیکھتی تھی۔

Chapter No: 14

بابُ ذِكْرِ حَدِيثِ أُمِّ زَرْعٍ

Regarding the Hadith of Umme Zar’

ام زرع کے حدیث کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ ، كِلاَهُمَا عَنْ عِيسَى ، وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً ، فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لاَ يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا. قَالَتِ الأُولَى : زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ ، عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ لاَ سَهْلٌ فَيُرْتَقَى ، وَلاَ سَمِينٌ فَيُنْتَقَلَ. قَالَتِ الثَّانِيَةُ : زَوْجِي لاَ أَبُثُّ خَبَرَهُ ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ لاَ أَذَرَهُ ، إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ. قَالَتِ الثَّالِثَةُ : زَوْجِي الْعَشَنَّقُ ، إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ ، وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ.قَالَتِ الرَّابِعَةُ : زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لاَ حَرَّ وَلاَ قُرَّ ، وَلاَ مَخَافَةَ وَلاَ سَآمَةَ. قَالَتِ الْخَامِسَةُ : زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ ، وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ ، وَلاَ يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ. قَالَتِ السَّادِسَةُ : زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ ، وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ ، وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ ، وَلاَ يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ. قَالَتِ السَّابِعَةُ : زَوْجِي غَيَايَاءُ ، أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ ، كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ ، شَجَّكِ ، أَوْ فَلَّكِ ، أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ. قَالَتِ الثَّامِنَةُ : زَوْجِي الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ ، وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ. قَالَتِ التَّاسِعَةُ : زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ ، قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ. قَالَتِ الْعَاشِرَةُ : زَوْجِي مَالِكٌ ، وَمَا مَالِكٌ ؟ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ، لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ ، قَلِيلاَتُ الْمَسَارِحِ ، إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ. قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ : زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ ، فَمَا أَبُو زَرْعٍ ؟ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ ، وَمَلأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ ، وَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي ، وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ ، فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلاَ أُقَبَّحُ ، وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ ، وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ. أُمُّ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ ؟ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ. ابْنُ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ ؟ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ ؟ طَوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا ، وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا. جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ ، فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ ؟ لاَ تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا ، وَلاَ تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا ، وَلاَ تَمْلأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا. قَالَتْ : خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالأَوْطَابُ تُمْخَضُ ، فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ ، يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا ، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلاً سَرِيًّا ، رَكِبَ شَرِيًّا ، وَأَخَذَ خَطِّيًّا ، وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا ، وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا ، قَالَ : كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ. فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِي مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ. قَالَتْ عَائِشَةُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ.

It was narrated that 'Aishah said: "Eleven women sat together and promised one another that they would not conceal anything about their husbands. The first one said: 'My husband is like the meat of a lean camel placed at the top of a hill that it is difficult to climb, and (the meat) is not so good that one feels the urge to take it away (from that hilltop).' The second one said: 'I will not talk about my husband because I fear that if I start I will never stop (because his faults are so many). But if I start, I will list all his faults.' The third one said: 'My husband is tall (and nothing else). If I speak (mention his faults) he will divorce me, but if I keep quiet I will be suspended (between wifely treatment and abandonment).' The fourth one said: 'My husband is like the night of Tihamah (i.e., very pleasant), either too hot not too cold, and I have no fear for him and we never get bored of each other.' The fifth one said: 'My husband is like a leopard when he enters the house and like a lion when he leaves, and he does not ask about that which he leaves in the house.' The sixth one said: 'As for my husband, he eats so much that nothing is left, and when he drinks he does not leave a drop. When he lies down he wraps himself and he does not touch me so that he might know my sorrow.' The seventh one said: 'My husband is impotent and foolish, suffering from all kinds of diseases, with such rough manners that he may break my head or injure my body, or both.' The eighth one said: 'My husband is as sweet as Zarnab (an aromatic plant) and as soft as a rabbit.' The ninth one said: 'My husband is from a prominent family, and is tall, with heaps of ashes (at his door - i.e., he is very hospitable) and his house is near the meeting place.' The tenth one said: 'My husband is Malik, and how fine is Malik? Malik is better than that. He has many camels, more than the pastures he has for them. When they hear the sound of the Mizhar they become sure that they are going to be slaughtered.' The eleventh one said: 'My husband is Abu Zar' and how fine Abu Zar' is. He has put heavy jewellery on my ears and covered my sinews and bones with fat (by supplying plentiful food), and he showed me great respect which made me feel honored. He found me among the shepherds living on the side of the mountain, and he made me one of those who have horses, camels, lands and heaps of grain, and he has a great deal of wealth. If I say something, he never criticizes me. I sleep and get up in the morning, and drink to my heart's content. And the mother of Abu Zar', how fine is the mother of Abu Zar'! Her vessels are filled to the brim and her house is quite spacious. As for the son of Abu Zar', he is as slim as a green branch of palm peeled from its bark, or like a sword drawn from its sheath, and the foreleg of a lamb is enough to fill him. As for the daughter of Abu Zar', how fine is the daughter of Abu Zar'. She is obedient to her father and obedient to her mother, filling out her cloak and a source of jealousy for her co-wife. As for the slave-girl of Abu Zar', how good she is. She does not disclose our affairs to others, and she does not take our squander wheat or provision, and she does not leave garbage scattered in the house like a bird's nest. One day Abu Zar' went out when the milk churned in the vessels, and he met a woman who had two sons like leopards, playing with her pomegranates (breasts) under her shirt. He divorced me and married that woman. Later on, I married another man, a generous man who was an expert rider and a fine archer. He gave me many gifts and a pair of every kind of animal, and he said: "Eat, Umm Zar', and send (food) to your family." But if I were to combine everything, it would not fill the smallest vessel of Abu Zar’."' 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said to me: 'I am to you like Abu Zar' to Umm Zar'."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ گیارہ عورتیں آپس میں یہ معاہدہ کرکے بیٹھیں کہ وہ اپنے اپنے خاوندوں کی کوئی بات نہ چھپائیں اور سب کچھ بیان کردیں ، پہلی نے کہا: میرا خاوند ایک لاغر اونٹ کا گوشت ہے جو ایک ایسے دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہے جس پر چڑھنا آسان نہیں ، نہ وہ کوئی فربہ گوشت ہے جس کو منتقل کرنے کی کوشش کی جائے ، دوسری نے کہا: میں اپنے خاوند کی خبر کو منتشر نہیں کرسکتی ، مجھے خوف ہے کہ میں اپنے حالات کی کوئی بات نہ چھوڑوں گی ، پھر میں اس کا ظاہر اور باطن سب بیان کروں گی ، تیسری نے کہا: میرا خاوند لمبا (لم ڈھینگ) ہے ، اگر میں بات کروں تو طلاق پاؤں اور اگر چپ رہوں تو معلق رہوں ، چوتھی نے کہا: میرا شوہر تہامہ کی رات کی طرح ہے ،نہ گرم ہے نہ ٹھنڈا ، نہ اس سے خوف ہے نہ ملال ، پانچویں نے کہا: میرا شوہر جب گھر آتا ہے تو چیتے کی طرح ، اور جب باہر جاتے ہیں تو شیر کی طرح ہے او رگھر میں جو کچھ ہو اس کے بارے میں سوال نہیں کرتا ، چھٹی نے کہا: میرا شوہر جب کھاتا ہے تو سب چٹ کر جاتا ہے اور جب پیتا ہے تو سب ڈکار جاتا ہے ، اور جب لیٹتا ہے تو کپڑا لپیٹ لیتا ہے ، ہاتھ نہیں بڑھاتا تاکہ میری پراگندگی معلوم ہو ،ساتویں نے کہا: میرا شوہر صحبت سے عاجز اور نامرد ہے ، احمق ہے بول نہیں سکتا ، دنیا کی ہر بیماری اس میں ہے ، وہ تیرا سر پھوڑ دے ، یا تجھے زخمی کردے یا دونوں ، آٹھویں بولی : میرا خاوند ہوا کی طرح خوشبودار ،اور خرگوش کی طرح ملائم ہے، نویں نے کہا: میرا شوہر دراز قد ، مہمان نواز ، اور بہت کھلانے والا ہے ، دسویں نے کہا: میرا شوہر مالک ہے ، میں مالک کا کیا حال بیان کروں ، اس کے پاس بہت زیادہ اونٹ ہیں جو مکان کے قریب بٹھائے جاتے ہیں ، وہ چراگاہ میں کم چرتے ہیں ، وہ اونٹ جب باجوں کی آواز سنتے ہیں تو جان لیتے ہیں کہ ان کی ہلاکت کا وقت آگیا ، گیارہویں نے کہا: میرا شوہر ابو زرع ہے ، ابو زرع کیا ہی خوب ہے اس نے زیورات سے میرے کان جھکادئیے اور چربی سے میرے بازو بھر دیے ، مجھے اس طرح خوش رکھا کہ میں خوشی میں یہ بھول گئی کہ مجھے اس نے ایک غریب گھرانے میں دیکھا تھا ، جو تنگدستی کی وجہ سے بکریوں پر گزارہ کرتے اور وہ مجھے ایک ایسے خوشحال خاندان میں لے آیا جہاں گھوڑے ، اونٹ ، ہل چلانے والے بیل ، اور کسان موجود تھے ، مجھے کسی بات پر کوئی برا نہیں کہتا تھا ، میں دن چڑھے تک سوتی تھی اور مجھے کوئی جگا نہیں سکتا تھا ، کھانے پینے میں ایسی وسعت کہ میں سیر ہوکر چھوڑ دیتی تھی ، ابو زرع کی ما ں ، کیا ہی خوب ہے ابو زرع کی ماں ، اس کے بڑے بڑے برتن ہمیشہ بھرے رہتے ہیں ، اور اس کا مکان بہت وسیع ہے ، ابو زرع کا بیٹا ، کیا ہی خوب ہے ابو زرع کا بیٹا ، اس کے لیٹنے کی جگہ نرم و نازک شاخ یا باریک تلوار ، بکری کے بچے کا ایک دست اس کا پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہے ، ابو زرع کی بیٹی ! کیا ہی خوب ہے ابو زرع کی بیٹی، ماں کی تابع فرمان ، باپ کی اطاعت گزار ، فربہ بدن اور سوکن کا غیظ ، ابو زرع کی باندی ، کیا ہی خوب ابو زرع کی باندی، ہماری باتیں گھر کے باہر بیان نہیں کرتی تھی،کھانے کی کوئی چیز ہماری اجازت کے بغیر نہیں کھاتی تھی، ہمارے گھر کو کوڑے کرکٹ سے نہیں بھرتی تھی، ایک دن جب برتنوں میں دودھ دوہا جارہا تھا ، ابو زرع گھر سے نکلا ، اسے راستہ میں ایک عورت ملی جس کے چیتے کے مانند دو بچے اس کی کوکھ کےنیچے سے اس کے دو اناروں سے کھیل رہے تھے ، پھر اس نے مجھ کو طلاق دے دی اور اس عورت سے نکاح کرلیا ، پھر میں نے بھی اس کے بعد ایک سردار سے شادی کرلی وہ شہسوار اور سپہ گر تھا ، اس نے مجھے بہت نعمتیں دیں اور ہر قسم کے جانوروں سے مجھے ایک جوڑا دیا ، اس نے کہا: اے ام زرع ! تم خود بھی کھاؤ اور اپنے میکہ بھی بھیج دو ، لیکن اگر میں اس کی ساری نوازشوں کو بھی جمع کروں پھر بھی ابو زرع کی ایک چھوڑی سے عطا کے برابر نہیں ہوسکتی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول ﷺ نے فرمایا: میں بھی تمہارے لیے ایسا ہوں جیسے ام زرع کے لیے ابو زرع تھا۔


وحَدَّثَنِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ ، وَلَمْ يَشُكَّ ، وَقَالَ: قَلِيلاَتُ الْمَسَارِحِ ، وَقَالَ: وَصِفْرُ رِدَائِهَا ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا ، وَعَقْرُ جَارَتِهَا وَقَالَ: وَلاَ تَنْقُثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا ، وَقَالَ: وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا.

It was narrated from Hisham bin 'Urwah with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6305).

ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں الفاظ کا معمولی سا فرق ہے۔

Chapter No: 15

بابُ فَضَائِلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ عَلَيْهَا الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ

The merits of Fatimah, daughter of the Prophet ﷺ, May Allah be pleased with her

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كِلاَهُمَا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَقُولُ : إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، فَلاَ آذَنُ لَهُمْ ، ثُمَّ لاَ آذَنُ لَهُمْ ، ثُمَّ لاَ آذَنُ لَهُمْ ، إِلاَّ أَنْ يُحِبَّ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ ، فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي ، يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا.

Al-Miswar bin Makhramah narrated that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) say on the Minbar: "Banu Hisham bin Al-Mughirah asked me for permission to give their daughter in marriage to 'Ali bin Abi Talib, but I will not give them permission, and I will not give them permission, and I will not give them permission, unless the son of Abu Talib would like to divorce my daughter and marry their daughter. My daughter is a part of me; what disturbs her disturbs me and what offends her offends me."

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺسے منبر پر یہ سنا ہے کہ بنو ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے یہ اجازت لی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی علی بن ابی طالب سے شادی کردیں ، میں اس کی اجازت نہیں دیتا ، میں اس کی اجازت نہیں دیتا ، میں اس کی اجازت نہیں دیتا ، ہاں اگر ابن ابی طالب چاہے تو میری بیٹی کو طلاق دے دے اور ان کی بیٹی سے شادی کرلے، کیونکہ میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے ، جو چیز اسے بے چین کرتی ہے وہ مجھے بے چین کرتی ہے ، جو چیز اس کو تکلیف دے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے ۔


حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا.

It was narrated that Al-Miswar bin Makhramah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Fatimah is a part of me; what offends her offends me."'

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے ، جو چیز اس کو تکلیف دے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔


حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لاَ ، قَالَ لَهُ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ ، وَايْمُ اللهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لاَ يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا ، حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي ، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ ، عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ: إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي ، وَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا. قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ ، قَالَ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي ، وَوَعَدَنِي فَأَوْفَى لِي ، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلاَلاً وَلاَ أُحِلُّ حَرَامًا ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا.

'Ali bin Al-Husain narrated that when they came to Al-Madinah from Yazid bin Mu'awiyah, after the killing of Al-Husain bin 'Ali' he was met by Al-Miswar bin Makhramah who said to him: "Do you have anything you want me to do?" He said: "I said to him: 'No.'" He said to him: "Will you give me the sword of the Messenger of Allah (s.a.w)? For I fear that the people may wrest it from you. By Allah! If you give it to me I will never give it up so long as there is still life in me. 'Ali bin Abi Talib proposed marriage to the daughter of Abu Jahl (to be a co-wife) to Fatimah, and I heard the Messenger of Allah (s.a.w) addressing the people concerning that, on this Minbar of his, and I was an adolescent at that time. He said: 'Fatimah is part of me, and I fear lest the be put to trial with regard to her religious commitment.' "Then he mentioned a son-in-law of his from Banu 'Abd Shams, and praised his behavior as a son-in-law. He said: 'When he spoke to me he told the truth, when he made me a promise he kept it, and I do not say that any permissible thing is forbidden, or that any forbidden thing is permitted, but by Allah, the daughter of the Messenger of Allah (s.a.w) and the daughter of the enemy of Allah will never be joined together in one place."'

حضرت علی بن الحسین سے روایت ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب وہ یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ منورہ آئے تو ان کی مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، حضرت مسور نے کہا: آپ کو مجھ سے کچھ کام ہوتو بتائیے ، حضرت علی بن حسین کہتے ہیں : میں نے ان سے کہا: نہیں !حضرت مسور نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہﷺکی تلوار عطا کریں گے ، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ لوگ آپ سے زبردستی یہ تلوار چھین لیں گے ، اللہ کی قسم! اگر آپ نے مجھے یہ تلوار دے دی تو جب تک میرے جسم میں جان ہے اس کو مجھ سے کوئی نہیں لے سکے گا ، بے شک جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اوپر ابو جہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سنا ، اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا ، آپ اپنے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرما رہے تھے : بے شک فاطمہ مجھ سے ہے اور مجھے خوف ہے کہ اس کے دین میں کوئی فتنہ ڈالا جائے گا ، پھر آپ نے عبد الشمس کی اولاد میں سے اپنے داماد (عاص بن الربیع) کا ذکر کیا اور ان کی دامادی کی تعریف کی ، آپﷺنے فرمایا: اس نے مجھ سے جو کچھ کہا سچ کہا: جو وعدہ کیا وہ پورا کیا ، میں کسی حلال کو حرام نہیں کرتا ، اور نہ حرام کو حلال کرتا ہوں ، لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہﷺکی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ میں کبھی جمع نہیں ہوسکتیں۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ ، وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ لَهُ : إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لاَ تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ. قَالَ الْمِسْوَرُ : فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ ، فَحَدَّثَنِي ، فَصَدَقَنِي وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ مُضْغَةٌ مِنِّي، وَإِنَّمَا أَكْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا، وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا، قَالَ: فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ.

Al-Miswar bin Makhramah narrated that 'Ali bin Abi Talib proposed to the daughter of Abu Jahl, and he was already married to Fatimah the daughter of the Prophet (s.a.w) - When Fatimah heard of that she came to the Prophet (s.a.w) and said to him: "Your people are saying that you do not get angry for the sake of your daughters, and 'Ali is going to marry the daughter of Abu Jahl:'' Al-Miswar said: "The Prophet (s.a.w) stood up and I heard him when he bore witness (i.e., proclaimed the Shahada; I bear withes that none has the right to be worshiped but Allah), then he said: 'I gave a daughter of mine in marriage to Abul-'As bin Ar-Rabi", and when he spoke he told me the truth. Fatimah bint Muhammad is a part of me, and I do not like for her to be put to trial. By Allah, the daughter of the Messenger of Allah and the daughter of the enemy of Allah will not be joined together as wives of one man.' So 'Ali abandoned that proposal."

حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کو پیغام دیا ، حالانکہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہﷺان کے نکاح میں تھیں ، جب حضرت فاطمہ نے یہ سنا وہ نبیﷺکے پاس آئیں اور کہا: آپ کی قوم یہ کہتی ہے کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں آتا ، اور یہ علی ہیں جو ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں ، حضرت مسور کہتے ہیں کہ نبیﷺکھڑے ہوگئے ، آپﷺنے کلمہ شہادت پڑھ کر فرمایا: حمد و ثناء کے بعد واضح ہو کہ میں نے (اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کا ) ابو العاص بن الربیع سے نکاح کیا ، اس نے مجھ سے جو کچھ کہا سچ کہا اور بے شک فاطمہ بنت محمد میرے جسم کا ٹکڑا ہیں اور میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ لوگ اس کو کسی آزمائش میں مبتلا کردیں ، اور بے شک اللہ کی قسم! رسول اللہﷺکی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک آدمی کے ہاں کبھی جمع نہیں ہوسکتیں ، حضرت مسور کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام چھوڑ دیا۔


وحَدَّثَنِيهِ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ ، يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 6310) was narrated by Az-Zuhri with this chain of narrators.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ. (ح) وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فَسَارَّهَا فَبَكَتْ ، ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ : مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَكَيْتِ ، ثُمَّ سَارَّكِ فَضَحِكْتِ ؟ قَالَتْ : سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ ، فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ سَارَّنِي ، فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِكْتُ.

It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (s.a.w) called Fatimah, his daughter, and whispered to her, and she wept. Then he whispered to her again and she smiled. 'Aishah said: "I said to Fatimah: 'What is it that the Messenger of Allah (s.a.w) whispered to you and you wept, then he whispered to you and you smiled?' She said: 'He whispered to me and told me of his death, so I wept, then he whispered to me and told me that I would be the first one of his family to follow him, so I smiled."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا ، اور ان کو سرگوشی میں کوئی بات کہی، حضرت فاطمہ رونے لگیں ، آپ نے پھر سرگوشی میں کوئی بات کہی تو ہنسنے لگیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: رسول اللہﷺنے آپ سے سرگوشی میں کیا کہا تھا جو آپ روئیں ، اور دوبارہ سرگوشی میں کیا فرمایا تھا جو آپ ہنسیں ؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہﷺنے پہلی بار سرگوشی میں اپنی وفات کی خبر دی تو میں روئی اور دوسری بار سرگوشی میں یہ خبر دی کہ آپﷺ کے اہل میں سے سب سے پہلے آپ کے ساتھ ملنے والی میں ہوں گی ، تو میں ہنسی ۔


حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ ، لَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً ، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي ، مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِابْنَتِي ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَضَحِكَتْ ، فَقُلْتُ لَهَا : خَصَّكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ بِالسِّرَارِ ، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ ؟ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَأَلْتُهَا مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: مَا كُنْتُ أُفْشِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ ، قَالَتْ : فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: عَزَمْتُ عَلَيْكِ ، بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ ، لَمَا حَدَّثْتِنِي مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : أَمَّا الآنَ ، فَنَعَمْ ، أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْمَرَّةِ الأُولَى ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً ، أَوْ مَرَّتَيْنِ ، وَإِنَّهُ عَارَضَهُ الآنَ مَرَّتَيْنِ ، وَإِنِّي لاَ أُرَى الأَجَلَ إِلاَّ قَدِ اقْتَرَبَ ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ، فَإِنَّهُ نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ قَالَتْ : فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ فَقَالَ : يَا فَاطِمَةُ أَمَا تَرْضِيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ قَالَتْ : فَضَحِكْتُ ضَحِكِي الَّذِي رَأَيْتِ.

It was narrated that 'Aishah said: "The wives of the Prophet (s.a.w) were with him, and not one of them was absent. Fatimah came walking, and her manner of walking was exactly like that of the Messenger of Allah (s.a.w) When he saw her, he welcomed her and said: 'Welcome to my daughter.' Then he seated her on his right or his left. He whispered to her and she wept bitterly, and when he saw that she was so upset, he whispered to her again and she smiled. I said to her: 'The Messenger of Allah (s.a.w) singled you out from among his womenfolk to whisper to, then you wept?' When the Messenger of Allah (s.a.w) left, I asked her: 'What did the Messenger of Allah (s.a.w) say to you?' She said: 'I will not disclose the secret of the Messenger of Allah (s.a.w) -' When the Messenger of Allah (s.a.w) died, I said: 'I adjure you by the right I have over you, tell me what the Messenger of Allah (s.a.w) said to you.' She said: 'Now, yes (I will tell you). When he ((s.a.w)) whispered to me the first time, he told me that: "Jibril used to review the Qur'an once or twice every year, but now he reviewed it twice; and I think that my death is near, so fear Allah and be patient, and I will be a fitting forerunner for you."' She said: 'So I wept, as you saw. When he saw my grief, he whispered to me a second time, and said: "O Fatimah, does it not please you to be the leader of the believing women, or the leader of the women of this Ummah?"' She said: 'So I smiled as you saw me."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺکی سب ازواج آپﷺکے پاس موجود تھیں ، ان میں سے کوئی باقی نہیں تھیں ، اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں ، ان کا چلنا ہو بہو رسول اللہ ﷺکے چلنے کے مطابق تھا ، جب رسو ل اللہﷺنے ان کو دیکھا تو مرحبا کہا: اور فرمایا: اے میری بیٹی ! مرحبا ، پھر ان کو اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھایا ، پھر ان سے سرگوشی میں کوئی بات فرمائی جس کو سن کر وہ سخت روئیں ، جب آپﷺنے ان کی بے قراری دیکھی تو آپﷺنے دوبارہ سرگوشی کی جس سے وہ ہنسیں ، میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: رسول اللہ ﷺنے اپنی عورتوں میں خصوصیت کے ساتھ آپ کو راز کی بات بتائی جس سے آپ رو رہی تھی ، جب رسول اللہﷺکھڑے ہوگئے تو میں نے حضرت فاطمہ سے پوچھا : آپﷺسے رسول اللہﷺنے کیا کہا تھا ؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں رسول اللہﷺکا راز افشاء نہیں کروں گی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺرفیق اعلیٰ سے جاملے تو میں نے کہا: میرا آپ پر جو حق ہے میں آپ کو اس حق کی قسم دے کر سوال کرتی ہوں ۔ مجھے بتائیے رسول اللہﷺنے آپ ﷺسے کیا کہا تھا ؟ حضرت فاطمہ نے کہا: ہاں ! اب میں بتادیتی ہوں ، پہلی بار جب آپﷺنے مجھ سے سرگوشی کی تو آپ ﷺنے مجھے یہ خبر دی کہ ہر سال جبریل مجھ سے ایک بار ، یا دو بار فرمایا : قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے ، اس مرتبہ انہوں نے دو بار دور کیا ہے اور اب میرا یہی خیال ہے اب میرا وقت قریب آگیا ہے ، تم اللہ سے ڈرنا اور صبر کرنا ، کیونکہ بے شک میں تمہارا اچھا پیش رو ہوں ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر مجھ پر گریہ طاری ہوا جو آپﷺنے دیکھا تھا ، جب آپﷺنے میری بے قراری دیکھی تو مجھ سے دوبارہ سرگوشی کی اور فرمایا: اے فاطمہ! کیا تم اس سے راضی نہیں ہو کہ تم تمام مؤمن عورتوں کی سردار ہو یا فرمایا: اس امت کی عورتوں کی سردار ہو ،حضرت فاطمہ نے کہا: پھر مجھے وہ ہنسی آئی جس کو آپ نے دیکھا تھا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : اجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةً ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِابْنَتِي فَأَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَكَتْ فَاطِمَةُ ، ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ أَيْضًا ، فَقُلْتُ لَهَا : مَا يُبْكِيكِ ؟ فَقَالَتْ : مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ ، فَقُلْتُ لَهَا حِينَ بَكَتْ : أَخَصَّكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِهِ دُونَنَا ، ثُمَّ تَبْكِينَ ؟ وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ فَقَالَتْ : مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا فَقَالَتْ : إِنَّهُ كَانَ حَدَّثَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً ، وَإِنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ فِي الْعَامِ مَرَّتَيْنِ ، وَلاَ أُرَانِي إِلاَّ قَدْ حَضَرَ أَجَلِي ، وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي ، وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ ، فَبَكَيْتُ لِذَلِكَ ، ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي ، فَقَالَ : أَلاَ تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ.

It was narrated that 'Aishah said: "The wives of the Prophet (s.a.w) gathered and not one of them was absent. Then Fatimah came, and her manner of walking was like that of the Messenger of Allah (s.a.w) • He said: 'Welcome to my daughter,' and seated her to his right or his left. Then he whispered something to her and Fatimah - may Allah be pleased with her - wept, then he whispered to her and she smiled. I said to her: 'What made you weep?' She said: 'I will not disclose the secret of the Messenger of Allah (s.a.w).' I said: 'I have never seen grief and joy so close as today.' I said to her when she wept: 'The Messenger of Allah (s.a.w) singled you out to say something to, and you wept.' And I asked her what he had said. She said: 'I will not disclose the secret of the Messenger of Allah (s.a.w).' Then when he died, I asked her and she said: 'He ((s.a.w)) told me: "Jibril used to review the Qur'an once every year, but this year he reviewed it with me twice, and I realized that my death has drawn near, and you will be the first of my family to follow me, and I will be a fitting forerunner for you." So I wept at that, then he whispered to me and said: "Does it not please you to be the leader of the believing women, or the leader of the women of this Ummah?" so I smiled at that."'

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺکی تمام ازواج جمع تھیں اور کوئی باقی نہیں تھی اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں جس کی چال رسول اللہﷺکے چلنے کے مشابہ تھی۔ آپﷺنے فرمایا: مرحبا میری بیٹی ! پھر ان کو اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھالیا ، پھر آپ ﷺنے ان سے خاموشی سے کوئی بات کہیں ، حضرت فاطمہ رونے لگی ، پھر خاموشی سے کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ ہنسنے لگیں ، میں نے حضرت فاطمہ سے کہا: آپ کس وجہ سے روئیں ؟ حضرت فاطمہ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺکا راز افشاء نہیں کروں گی ، میں نے کہا: میں نے آج کی طرح کوئی خوشی ، غم سے اتنی قریب نہیں دیکھی ، میں نے کہا: رسول اللہﷺنے ہمارے بغیر خصوصیت کے ساتھ آپ سے کوئی بات کی ہے پھر بھی آپ رو رہی ہیں اور میں نے حضرت فاطمہ سے پوچھا کہ آپﷺنے کیا فرمایا تھا ؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہﷺکا راز افشاء نہیں کروں گی ، یہاں تک کہ جب رسول اللہﷺکا انتقال ہوگیا تو میں نے پھر پوچھا ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ ﷺنے (پہلی بار) یہ فرمایا تھا کہ جبریل مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن مجید کا دور کرتے تھے اور اس سال انہوں نے مجھ سے دوبار قرآن مجید کا دور کیا ہے اور میرا یہی خیال ہے کہ اب میرا وقت آگیا ہے اور میرے اہل میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے ملنے والی ہوں گی اور میں تمہارے لیے بہترین پیش رو ہوں ، تب میں رونے لگی ، پھر آپ ﷺنے سرگوشی کی اور فرمایا: کیا تم اس سے خوش نہیں ہو کہ تم تمام مؤمن عورتوں کی سردار ہو ، یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو ، میں اس وجہ سے ہنسی تھی۔

Chapter No: 16

باب مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا

The merits Umme Salamah, the mother of the believers, May Allah be pleased with her

حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، كِلاَهُمَا عَنِ الْمُعْتَمِرِ ، قَالَ ابْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : لاَ تَكُونَنَّ إِنِ اسْتَطَعْتَ ، أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ السُّوقَ وَلاَ آخِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنْهَا ، فَإِنَّهَا مَعْرَكَةُ الشَّيْطَانِ ، وَبِهَا يَنْصِبُ رَايَتَهُ. قَالَ: وَأُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ، أَتَى نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ ، قَالَ: فَجَعَلَ يَتَحَدَّثُ ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: مَنْ هَذَا ؟ ، أَوْ كَمَا قَالَ: قَالَتْ: هَذَا دِحْيَةُ ، قَالَ : فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: ايْمُ اللهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلاَّ إِيَّاهُ ، حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُخْبِرُ خَبَرَنَا ، أَوْ كَمَا قَالَ: قَالَ: فَقُلْتُ لأَبِي عُثْمَانَ: مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ؟ قَالَ: مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ.

It was narrated that Salman said: "Do not be, if you can, the first one to enter the marketplace and the last one to leave it, for it is the battleground of the Shaitan where he sets up his banner." He said: "And I was told that Jibril, came to the Prophet of Allah (s.a.w) when Umm Salamah was with him, and he spoke with him then he left. The Prophet of Allah (s.a.w) said to Umm Salamah: 'Who was this?' She said: 'This was Dihyah Al-Kalbi."' He said: "And Umm Salamah said: 'By Allah, I did not think it was anyone other than he, until I heard the Khutbah of the Prophet of Allah (s.a.w) in which he conveyed some information, or words to that effect."' He said: "I said to Abu 'Uthman: 'From whom did you hear this?' He said: 'From Usamah bin Zaid."'

سلمان نے کہا: اگر تم سے ممکن ہو تو سب سے پہلے بازار میں مت جاؤ اور نہ سب کے بعد وہاں سے نکلو، کیونکہ بازار شیطان کا معرکہ ہے ، وہاں پر اسی کا جھنڈا نصب ہوتا ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت جبریل علیہ السلام ، نبی ﷺکے پاس آئے ، اس وقت آپ کے پاس حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں ، آپ ﷺ حضرت جبریل سے باتیں کرتے رہے ، پھر وہ کھڑے ہوگئے ، نبی ﷺنے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا:یہ کون تھے ؟ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ دحیہ تھے ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے تو ان کو دحیہ ہی خیال کیا تھا یہاں تک کہ میں نے نبی ﷺکا خطبہ سنا ، آپﷺان کو ہماری خبریں بیان کررہے تھے ، ( یا ہمیں جیریل کے متعلق خبر دے رہے تھے ) ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو عثمان سے پوچھا : تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے کہا: حضرت اسامہ بن زید سے۔

Chapter No: 17

بابٌ مِنْ فَضَائِلِ زَيْنَبَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا

The merits of Zainab, the mother of the believers, May Allah be pleased with her

حضرت ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا. قَالَتْ: فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا. قَالَتْ : فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ ، لأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَصَدَّقُ.

It was narrated that 'Aishah, the Mother of the Believers, said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The quickest of you to join me (after I die) will be the one with the longest hands."' She said: "They started to measure one another, to see who had the longest hands." She said: "But the one who had the longest hands was Zainab, because she used to work with her hands and give charity."

حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم سب سے زیادہ جلدی کے ساتھ مجھ سے وہ ملے گی جس کے تم سب میں سے زیادہ لمبے ہاتھ ہوں گے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر ہم سب اپنے اپنے ہاتھ ناپنے لگیں کہ کس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہیں ،تو سب سے زیادہ لمبے ہاتھ حضرت زینب کے تھے ، کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے کام کاج کرتی تھیں ، اور صدقہ و خیرات کرتی تھیں۔

Chapter No: 18

باب مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا

The merits of Umme Aiman, May Allah be pleased with her

حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَنَاوَلَتْهُ إِنَاءً فِيهِ شَرَابٌ قَالَ: فَلاَ أَدْرِي أَصَادَفَتْهُ صَائِمًا ، أَوْ لَمْ يُرِدْهُ ، فَجَعَلَتْ تَصْخَبُ عَلَيْهِ وَتَذَمَّرُ عَلَيْهِ.

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (s.a.w) went to Umm Ayman, and we went with him. She gave him a vessel in which was some drink, and I do not know whether he refused it because he was fasting or because he did not want it, and she raised her voice to him and started grumbling."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ حضرت ام ایمن کے پاس تشریف لے گئے ، میں بھی آپﷺکے ساتھ گیا ، وہ ایک برتن میں ایک مشروب لائیں ، حضرت انس کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ آپﷺروزے سے تھے یا آپﷺنے اس کو پینا نہیں چاہا ، حضرت ام ایمن چلانے اور غصہ کرنے لگیں۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلاَبِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا ، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ ، فَقَالاَ لَهَا: مَا يُبْكِيكِ ؟ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ: مَا أَبْكِي أَنْ لاَ أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ . فَجَعَلاَ يَبْكِيَانِ مَعَهَا.

It was narrated that Anas said: "Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said to 'Umar, after the Messenger of Allah (s.a.w) died: 'Let us go to Umm Ayman and visit her, as the Messenger of Allah (s.a.w) used to visit her.' When they came to her she wept, and they said to her: 'Why are you weeping? What is with Allah is better for His Messenger (s.a.w).' She said: 'I am not weeping because I do not know that what is with Allah is better for His Messenger (s.a.w); rather I am weeping because the revelation from heaven has ceased.' She moved them to tears, and they started to weep with her."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: چلو حضرت ام ایمن کی زیارت کرکے آئیں جس طرح رسول اللہﷺان کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تھے ، جب ہم حضرت ام ایمن کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں ، ان دونوں نے کہا: آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ اللہ کے پاس جو رسول اللہ ﷺکے لیے اجر ہے وہ زیادہ اچھا ہے ، حضرت ام ایمن نے کہا: میں اس لیے نہیں رو رہی ہے کہ میں نہیں جانتی کہ اللہ کے پاس رسول اللہﷺکے لیے اچھا اجر ہے ،لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا آنا بند ہوگیا ، پھر ان دونوں پر بھی گریہ طاری ہوا اور وہ بھی رونے لگے۔

Chapter No: 19

باب مِنْ فَضَائِلِ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَبِلاَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

The merits of Umme Sulaim the mother of Anas bin Malik, and Bilal, May Allah be pleased with them

حضرت ام سلیم ، ام انس بن مالک اور بلال رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لاَ يَدْخُلُ عَلَى أَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِ ، إِلاَّ أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ: إِنِّي أَرْحَمُهَا قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي.

It was narrated that Anas said: "The Prophet (s.a.w) would not enter upon any women other than his wives except Umm Sulaim. He used to enter upon her and he was asked about that. He said: 'I feel compassion for her because her brother was killed when he was with me."'

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ ازواج مطہرات اور حضرت ام سلیم کے علاوہ اور کسی عورت کے گھر نہیں جاتےتھے ، آپ ﷺحضرت ام سلیم کے ہاں تشریف لے جاتے تھے ، آپ سے اس کے بارے میں استفسار کیا گیا توآپﷺنے فرمایا: مجھے اس پر رحم آتا ہے ، اس کا بھائی میرے ساتھ شہید کیا گیا حضرت ام سلیم اور حضرت ام حرام دونوں آپﷺ کی رضاعی خالہ تھیں ۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا: هَذِهِ الْغُمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.

It was narrated from Anas that the Prophet (s.a.w) said: "I entered Paradise and heard footsteps. I said: 'Who is this?' They said: 'This is Al-Ghumaisa' bint Milhan, the mother of Anas bin Malik."'

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی ﷺنے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے کسی کے چلنے کی آہٹ سنی ، میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ تو جنت والوں نے کہا: یہ غمیصا بنت ملحان ہے ، حضرت انس بن مالک کی ماں۔


حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ ، ثُمَّ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً أَمَامِي فَإِذَا بِلاَلٌ.

It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "I was shown Paradise, and I saw the wife of Abu Talhah, then I heard footsteps ahead of me, and there was Bilal."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مجھے جنت دکھائی گئی اور میں نے وہاں ابو طلحہ کی بیوی کو دیکھا ، پھر میں نے اپنے آگے کسی کے چلنے کی آہٹ سنی تو وہ بلال تھے۔

Chapter No: 20

باب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

The merits of Abi Talha Al-Ansari, May Allah be pleased with him

حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مَاتَ ابْنٌ لأَبِي طَلْحَةَ ، مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَتْ لأَهْلِهَا : لاَ تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ قَالَ: فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً ، فَأَكَلَ وَشَرِبَ ، فَقَالَ : ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَوَقَعَ بِهَا ، فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْهَا ، قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ ، فَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ ، أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ ؟ قَالَ: لاَ ، قَالَتْ : فَاحْتَسِبِ ابْنَكَ ، قَالَ: فَغَضِبَ ، وَقَالَ: تَرَكْتِنِي حَتَّى تَلَطَّخْتُ ، ثُمَّ أَخْبَرْتِنِي بِابْنِي , فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا قَالَ : فَحَمَلَتْ ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ ، لاَ يَطْرُقُهَا طُرُوقًا ، فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ , فَاحْتُبِسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ ، وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،قَالَ : يَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ : إِنَّكَ لَتَعْلَمُ ، يَا رَبِّ إِنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ إِذَا خَرَجَ ، وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ ، وَقَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى ، قَالَ : تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ ، انْطَلِقْ ، فَانْطَلَقْنَا ، قَالَ وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمَا ، فَوَلَدَتْ غُلاَمًا فَقَالَتْ لِي أُمِّي : يَا أَنَسُ لاَ يُرْضِعُهُ أَحَدٌ حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ احْتَمَلْتُهُ ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيسَمٌ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَوَضَعَ الْمِيسَمَ ، قَالَ : وَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ ، وَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ ، فَلاَكَهَا فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ ، ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِيِّ الصَّبِيِّ ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهَا ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الأَنْصَارِ التَّمْرَ قَالَ: فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.

It was narrated that Anas said: "A son of Abu Talhah from Umm Sulaim died, and she said to her family: 'Do not tell Abu Talhah about his son until I tell him.' He came and she brought him his dinner, and he ate and drank. Then she adorned herself for him more beautifully than she had ever done before that, and he had intercourse with her. When she saw that he was satisfied, she said: '0 Abu Talhah, do you think that if some people lent something to a household and they asked for it back, do they have the right to refuse?' He said: 'No.' She said: 'Seek reward for the loss of your son.' He got angry and said: 'You left me until I indulged myself and then you told me about my son?' "He went to the Messenger of Allah (s.a.w) and told him what had happened. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'May Allah bless you both in the night you spent.' She became pregnant. The Messenger of Allah (s.a.w) was on a journey, and she was with him. Whenever the Messenger of Allah m returned from a journey, he did not enter (the city) at night. They drew close to Al-Madinah and she felt the pangs of childbirth. Abu Talhah stayed with her and the Messenger of Allah (s.a.w) went on ahead. Abu Talhah said: 'You know, O Lord, that that I love to go out with Your Messenger when he goes out, and come in with him when he comes in, but I have been detained as You see.' Umm Sulaim said: 'O Abu Talhah, I do not feel what I was feeling; let's go.' So they set off, then she felt the labor pains again when they arrived, and she gave birth to a boy. My mother said to me: 'O Anas, no one should breastfeed him until you take him in the morning to the Messenger of Allah (s.a.w).' The next morning, I carried him and brought him to the Messenger of Allah (s.a.w), and I came to him when he was holding a branding-iron. When he saw me he said: 'Perhaps Umm Sulaim has given birth?' He said: 'Yes.' He put down the branding-iron, and I brought the baby, and put him in his lap. The Messenger of Allah (s.a.w) called for some 'Ajwah dates of Al-Madinah and softened them in his mouth, then placed some in the mouth of the child, and the child started to smack his lips. The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'See how the Ansar love dates.' And he wiped his face and named him 'Abdullah."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلیم کے بطن سے حضرت ابو طلحہ کا ایک لڑکا فوت ہوگیا ، حضرت ام سلیم نے اپنے گھر والوں سے کہا: حضرت ابو طلحہ کو ان کے بیٹے کے انتقال کی اس وقت تک خبر نہ دینا جب تک کہ میں خود نہ بتادوں ، حضرت ابو طلحہ آئے اور حضرت ام سلیم نے انہیں شام کا کھانا پیش کیا ، انہوں نے کھانا کھایا اور پانی پیا ، پھر حضرت ام سلیم نے پہلے کی بہ نسبت زیادہ اچھا بناؤ سنگھار کیا ، حضرت ابو طلحہ نے ان سے عمل ازدواج کیا ، جب حضرت ام سلیم نے دیکھا کہ وہ سیر ہوگئے اور اپنی جنسی خواہش بھی پوری کرلی تو پھر انہوں نے کہا: اے ابو طلحہ ! یہ بتاؤ کہ اگر کچھ لوگ کسی کو عاریۃ ً کوئی چیز دیں اور پھر وہ اپنی چیز واپس لے لیں تو کیا وہ ان کو منع کرسکتے ہیں ؟ حضرت ابو طلحہ نے کہا: نہیں ، حضرت ام سلیم نے کہا: تو پھر اپنے بیٹے کے بارے میں یہی گمان کرلو ، حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر غضبناک ہوئے اور کہا: تم نے مجھے میرے بیٹے کے متعلق خبر نہیں دی یہاں تک کہ میں آلودہ ہوگیا ، پھر انہوں نے رسول اللہﷺکے پاس جاکر اس واقعہ کی خبر دی ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری اس گزاری ہوئی رات میں برکت عطا کرے ، پھر حضرت ام سلیم حاملہ ہوگئیں ، حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺکے ساتھ ایک سفر میں حضرت ام سلیم بھی تھیں ، اور جب آپﷺکسی سفر سے مدینہ منورہ واپس آئے تو رات کے وقت مدینہ منورہ نہیں جاتے تھے ، جب لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ام سلیم کو درد زیادہ شروع ہوا ، حضرت ابو طلحہ ان کے پاس ٹھہرے اور رسول اللہﷺروانہ ہوگئے ، حضرت انس کہتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ ! توخوب جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں تیرے رسول ﷺکے ساتھ (مدینہ سے ) سے نکلوں اور ان کے ساتھ ہی داخل ہوں اور تجھے معلوم ہے کہ میں کس مجبوری میں پھنس گیا ہوں ، حضرت ام سلیم نے کہا: اے ابو طلحہ ! اب مجھے پہلے کی طرح درد نہیں ہے ، چلو چلتے ہیں ، پھر ہم چل پڑے اورجب ہم مدینہ آئے تو ان کو درد شروع ہوا ، اور ایک لڑکا پیدا ہوا ، مجھ سے میری والدہ نے کہا: اے انس ! جب تک کہ تم اس بچہ کو صبح رسول اللہ ﷺکی خدمت میں لے کر جاؤ ، اس وقت تک کوئی اس بچہ کو دودھ نہیں پلائے گا ، جب صبح ہوئی تو میں اس بچہ کو لے کر رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوگیا ، میں نے دیکھا اس وقت آپ کے ہاتھ میں اونٹوں کو داغ دینے کا ایک آل تھا ، آپﷺنے مجھے دیکھ کر فرمایا: شاید ام سلیم کے ہاں بچہ ہوا ہے ، میں نے کہا: جی ! آپﷺنے وہ آلہ رکھ دیا ، میں بچے کو آپﷺکے پاس لے کر آیا ، میں نے اس بچے کو آپﷺکی گود میں دیا ، رسول اللہﷺنے مدینہ کی عجوہ کھجور منگائی اور اس کو اپنے منہ سے چبایا ، جب وہ کھجور گھل گئی تو آپ ﷺنے اس کو بچہ کے منہ میں رکھ دیا ، بچہ اس کو چوسنے لگا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: دیکھو انصار کو کھجور سے کتنی محبت ہے ؟ پھر آپﷺنے اس بچہ کے سر پر دست شفقت پھیرا اور اس کا نام عبد اللہ رکھا۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لأَبِي طَلْحَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ، بِمِثْلِهِ.

Anas bin Malik said: "A son of Abu Talhah died ...” and he narrated a similar Hadith (as no. 6322).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو طلحہ کا بچہ فوت ہوگیا، اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔

1234Last ›