Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Muslim

Book: Book of Oaths and Blood Money etc. (28)    كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات

12

Chapter No: 11

بابُ دِيَةِ الْجَنِينِ وَوُجُوبِ الدِّيَةِ فِي قَتْلِ الْخَطَإِ وَشِبْهِ الْعَمْدِ عَلَى عَاقِلَةِ الْجَانِي

About Diyah (wergild) for a child in the womb, and the fact that the Diyah for accidental killing and the ambiguous killing must be paid by the Aqilah (relatives) of the killer

پیٹ کے بچے کی دیت اورقتل خطا اور شبہ عمد کی دیت مارنے والے کے رشتہ داروں پر واجب ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى فِيهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ.

It was narrated from Abu Hurairah that there were two women from Hudhail, one of whom threw a stone at the other and caused her to miscarry. The Prophet (s.a.w) ordered that a slave, male or female, be given as Diyah.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہزیل قبیلہ کی دو عورتوں میں سے ایک عورت نے دوسری کو دھکا دیا تو اس کا بچہ ضائع ہوگیا۔ نبی ﷺ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِى لِحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِى قُضِىَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) ruled that a slave, male or female, be given as Diyah for the fetus of a woman from Banu Lihyan who was miscarried and born dead. Then the woman who was ordered to give the slave had died, and the Messenger of Allah (s.a.w) ruled that her estate be given to her sons and husband, and that the Diyah be paid by her 'Asabah.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنو لحیان کی ایک عورت کے حمل کے بچے میں جو مردہ ساقط ہوگیا تھا رسول اللہ ﷺ نے ایک غلام یا لونڈی ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا پھر وہ عورت جس کے خلاف غلام ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا فوت ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت اس کی اولاد اور خاوند کے لیے ہوگی اور دیت اس کے خاندان(دوھیال والوں) پر ہو گی۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح وَحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِىُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِى بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِىُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلَ وَلاَ نَطَقَ وَلاَ اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ ». مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِى سَجَعَ.

Abu Hurairah said: "Two women from Hudhail fought and one of them threw a rock at the other and killed her and the child in her womb. They referred the matter to the Messenger of Allah (s.a.w), and the Messenger of Allah (s.a.w) ruled that the Diyah for her fetus was a slave, male or female, and he ruled that the Diyah for the woman be paid by her (the killer's) 'A.qilah, and that her children and those who were with her would inherit her estate. Hamal bin An-Nabighah Al-Hudhali said: 'O Messenger of Allah, how can a penalty be paid for one who did not drink or eat, or speak or make any sound (he said so rhyming the words in a poetic way)? Such a one should be overlooked.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'This man is one of the brothers of the soothsayers,' because of the rhymed speech with which he spoke."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کی طرف پتھر پھینک کر اس کو اور اس کے پیٹ کے بچے کو ہلاک کردیا،لواحقین نے اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے پیٹ کے بچے کی دیت میں غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا اور عورت کی دیت اس عورت کی خاندان (دوھیال والوں ) پر مقرر کی ،اور عورت کی اولاد اور اس کے رشتہ داورں کو اس کی دیت کا وارث قرار دیا۔حمل بن نابغہ ہذلی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! میں اس کا تاوان کیسے ادا کروں؟ جس نے نہ پیا اور نہ کھایا نہ بولا اور نہ چلایا ، ایسے بچے کی دیت نہیں دی جاتی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس مسجع عبارت (قافیہ والی عبارت) کی وجہ سے یہ شخص کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ. وَقَالَ فَقَالَ قَائِلٌ كَيْفَ نَعْقِلُ وَلَمْ يُسَمِّ حَمَلَ بْنَ مَالِكٍ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "Two women fought..." and he quoted the Hadith (as no. 4390), but he did not mention: "Her children and those who were with her would inherit her estate." And he said: "Someone said: 'Why should we pay the Diyah?"' But he did not mention Hamal bin Malik by name.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دو عورتیں لڑیں ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ اس عورت کی اولاد اور اس کے رشتہ دار اس کے وارث ہوں گے ، راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: ہم اس کی دیت کیسے دیں ؟ اور حمل بن مالک کا نام نہیں لیا۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ الْخُزَاعِىِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ وَهِىَ حُبْلَى فَقَتَلَتْهَا - قَالَ - وَإِحْدَاهُمَا لِحْيَانِيَّةٌ - قَالَ - فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَغُرَّةً لِمَا فِى بَطْنِهَا. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ أَنَغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لاَ أَكَلَ وَلاَ شَرِبَ وَلاَ اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ ». قَالَ وَجَعَلَ عَلَيْهِمُ الدِّيَةَ.

It was narrated that Al-Mughirah bin Shu'bah said: "A woman struck pregnant co-wife with a tent pole, killing her. One of the women was from the tribe of Lihyan. The Messenger of Allah (s.a.w) ruled that the Diyah for the one who had been killed was to be paid by the 'Asabah of the killer, and a slave, male or female, should be given (as Diyah) for the fetus in her womb. A man from the 'Asabah of the killer said: 'Should we pay the Diyah for one who did not eat or drink or make any sound? Such a one should be overlooked.' The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Is this rhymed speech like that of the Bedouin?"' He said: "And he (s.a.w) imposed the Diyah on them."

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے خیمہ کی ایک چوب سے اپنی سوکن کو اس حال میں مارا کہ وہ حاملہ تھی ، اور اس کو ہلاک کردیا، ان میں سے ایک عورت بنو لحیان کی تھی ، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے قاتلہ کے عصبات (دوھیال کے رشتہ داروں ) پر مقتولہ کی دیت او راس کے پیٹ کے بچے کے تاوان میں ایک باندی یا ایک غلام کا دینا لازم کیا ، قاتلہ کے عصبات میں سے ایک آدمی نے کہا: کیا ہم ایسے بچے کی دیت ادا کریں جس نے نہ کھایا ، نہ پیا ، اور نہ چلایا ، ایسے بچہ کی دیت نہیں دی جاتی ، رسول اللہﷺنے فرمایا: کیا یہ دیہاتیوں کی طرح مسجع عبارت بول رہا ہے اور ان پر دیت لازم کردی۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ. أَنَّ امْرَأَةً قَتَلَتْ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأُتِىَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَضَى عَلَى عَاقِلَتِهَا بِالدِّيَةِ وَكَانَتْ حَامِلاً فَقَضَى فِى الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ. فَقَالَ بَعْضُ عَصَبَتِهَا أَنَدِى مَنْ لاَ طَعِمَ وَلاَ شَرِبَ وَلاَ صَاحَ فَاسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ قَالَ فَقَالَ « سَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ ».

It was narrated that Al-Mughirah bin Shu'bah said: "A woman killed her co-wife with a tent pole. Her case was brought to the Messenger of Allah (s.a.w) and he ruled that her 'Aqilah should pay the Diyah. She was pregnant, so he also ruled that a slave be given as Diyah for the fetus. One of her 'Asabah said: 'Should we pay Diyah for one who did not eat or drink or cry or make any sound? Such a one should be overlooked.' He said: 'Is this rhymed speech like that of the Bedouin?"'

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے خیمہ کی ایک چوب سے اپنی سوکن کو قتل کردیا، پھر رسول اللہﷺکی خدمت میں مقدمہ پیش کیا گیا ، تو آپﷺنے اس کی عاقلہ پر دیت لازم قرار دی،اور عورت چونکہ حاملہ تھی اس لیے اس کے پیٹ کے بچے کے بدلے میں ایک لونڈی یا غلام دینے کا حکم دیا۔ قاتلہ کے بعض خاندان والوں نے کہا: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ کھایا ، نہ پیا ، نہ رویا ، اور نہ چلایا ، اس جیسے کی تو دیت نہیں دی جاتی ،آپﷺنے فرمایا: یہ دیہاتیوں کی طرح مسجع عبارت ہے۔


حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ وَمُفَضَّلٍ.

A Hadith like that of Jarir and Mufaddal (no. 4393, 4394) was narrated from Mansur with this chain.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِمُ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ. غَيْرَ أَنَّ فِيهِ فَأَسْقَطَتْ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى أَوْلِيَاءِ الْمَرْأَةِ. وَلَمْ يَذْكُرْ فِى الْحَدِيثِ دِيَةَ الْمَرْأَةِ.

This Hadith was narrated from Mansur with their chain, except that it says: "She miscarried, and the matter was referred to the Prophet (s.a.w) who ruled that a slave be given (as Diyah ). And he imposed that on the relatives of the woman; but in this Hadith it does not mention the Diyah for the woman.

امام مسلم نے انہیں اسانید کے ساتھ یہ قصہ روایت کیا ہے اور اس میں یہ ہے کہ اس عورت کے پیٹ کا بچہ ضائع ہوگیا ، رسول اللہﷺتک یہ خبر پہنچی تو آپﷺنے اس میں ایک لونڈی یا غلام ادا کرنے کا تاوان لازم کیا ،اور اسے اس عورت کے وارثوں پر لازم کیا اور اس حدیث میں دیت کا ذکر نہیں ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ اسْتَشَارَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ فِى إِمْلاَصِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ شَهِدْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ. قَالَ فَقَالَ عُمَرُ ائْتِنِى بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ قَالَ فَشَهِدَ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ.

It was narrated that Al-Miswar bin Makhramah said: "'Umar bin Al-Khattab consulted the people about Diyah for a woman's miscarriage. Al-Mughirah bin Shu'bah said: 'I saw the Prophet (s.a.w) ruling that a slave, male or female, should be given.' 'Umar said: 'Bring me someone who can testify with you.' He (the narrator) said: 'Muhammad bin Maslamah testified with him.'"

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت کے بارے میں مشورہ کیا ، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی ﷺنے اس میں ایک لونڈی یا غلام کو بطور تاوان دینے کا حکم دیا۔

12