Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Good manners (78)    كتاب الأدب

‹ First23456Last ›

Chapter No: 31

باب مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ

Whosoever believes in Allah and the Last Day should not harm his neighbour

باب: جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ ہمسایہ کو نہ ستاۓ۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Anybody who believes in Allah and the Last Day should not harm his neighbour, and anybody who believes in Allah and the Last Day should entertain his guest generously and anybody who believes in Allah and the Last Day should talk what is good or keep quiet. (i.e. abstain from all kinds of evil and dirty talk).

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہا ہم سے ابو الاحوص نے انہوں نے ابو حصین سے انہوں نے ابو صَالح سے انہوں نے ابو ہر یرہؓ سے رسول اللہﷺنے فر مایا جس کو اللہ اور قیامت پر ایمان ہو وہ اپنے ہمسایہ کو نہ ستائے اور جس کو اللہ اور قیامت پر ایمان ہو وہ مہمان کی خاطر داری کرے اور جس کو اللہ اور قیامت پر ایمان ہو (وہ بُری باتیں منہ سے نہ نکالے )اچھی بات کہے یا خاموش رہے ۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ سَمِعَتْ أُذُنَاىَ، وَأَبْصَرَتْ، عَيْنَاىَ حِينَ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَالضِّيَافَةُ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهْوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Shuraih Al-Adawi : My ears heard and my eyes saw the Prophet when he spoke, "Anybody who believes in Allah and the Last Day, should serve his neighbour generously, and anybody who believes in Allah and the Last Day should serve his guest generously by giving him his reward." It was asked. "What is his reward, O Allah's Apostle?" He said, "(To be entertained generously) for a day and a night with high quality of food and the guest has the right to be entertained for three days (with ordinary food) and if he stays longer, what he will be provided with will be regarded as Sadaqa (a charitable gift). And anybody who believes in Allah and the Last Day should talk what is good or keep quite (i.e. abstain from all kinds of dirty and evil talks)."

ہم سے عبد اللہ بن بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعید نے کہا مجھ سے سعید مقبری نے ابو شریح عدویؓ سے انہوں نے کہا جب نبی ﷺ نے یہ حدیث فر مائی تو میرے کانوں نے سنا آنکھوں نے دیکھا آپ ﷺفر ماتے تھے جس کو اللہ اور قیامت پر ایمان ہو وہ اپنے ہمسایہ کا اکرام کرے اور جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ دستور کے مطابق مہمان کی خاطر کرے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺدستور کیا ہے آپ ﷺنے فر مایا ایک دن رات (دو وقت کا کھانا کھلائے )اور تین دن تک بھی( نفل کے طور پر )مہمانی ہو سکتی ہے پھر اس کے بعد مہمَان نہیں، خیرات دینا ہے اور جس کو اللہ اور قیامت پر ایمان ہو وہ اچھی بات منہ سے نکالے یا خاموش رہے ۔

Chapter No: 32

باب حَقِّ الْجِوَارِ فِي قُرْبِ الأَبْوَابِ

The neighbour whose gate is nearer to you has more right to receive your favours

باب: پڑوسیوں میں کونسا پڑوسی مقدم ہے۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ، قَالَ سَمِعْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي قَالَ ‏"‏ إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : I said, "O Allah's Apostle! I have two neighbours! To whom shall I send my gifts?" He said, "To the one whose gate in nearer to you."

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا مجھ کو ابو عمران نے خبر دی کہا میں نے طلحہ بن عبد اللہ بن عثمان سے سنا انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے دو ہمسائے ہیں میں ( پہلے) کس کو حصّہ بھیجوں آپ نے فر مایا جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ نزدیک ہو ۔

Chapter No: 33

باب كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ

Enjoining all that is Al-Maruf is considered as a Sadaqa

باب: ہر اچھی حق بات کہنے میں صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : The Prophet said, Enjoining, all that is good is a Sadaqa."

ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا کہا ہم سے ابو غسان نے کہا مجھ سے محمد بن منکدر نے انہوں نے جابر بن عبد اللہ سے انہوں نے نبیﷺسے آپ ﷺنے فر مایا ہر ایک اچھی بات میں صدقہ کا ثواب ہے ۔


حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏ قَالُوا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ ‏"‏ فَيَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ ‏"‏ فَيُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ ‏"‏‏.‏ قَالُوا فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ ‏"‏ فَيَأْمُرُ بِالْخَيْرِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ بِالْمَعْرُوفِ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ قَالَ ‏"‏ فَيُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Musa Al-Ash'ari : The Prophet said, "On every Muslim there is enjoined (a compulsory) Sadaqa (alms)." They (the people) said, "If one has nothing?' He said, "He should work with his hands so that he may benefit himself and give in charity." They said, "If he cannot work or does not work?" He said, "Then he should help the oppressed unhappy person (by word or action or both)." They said, "If he does not do it?" He said, "Then he should enjoin what is good (or said what is reasonable).' They said, "If he does not do that''' He said, "Then he should refrain from doing evil, for that will be considered for Him as a Sadaqa (charity)."

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے کہا ہم سے سعید بن ابی بردہ ابن ابی موسٰی اشعری نے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے سعید کےدادا (ابو موسٰی اشعریؓ )سے کہ نبیﷺنے فر مایا ہر مسلمان پر صدقہ کرنا لازم ہے لوگوں نے کہا اگر مقد ورنہ ہو آپ ﷺنے فر مایا ہاتھوں سے محنت کرکے اپنے تیئں فائدہ پہنچائے اور خیرات بھی کرے لوگوں نے کہا اگر یہ بھی نہ ہو سکے یا نہ کرے آپ ﷺنے فر مایا دوسرے عاجز محتاج کی مدد کرے انہوں نے کہا اگر یہ بھی نہ کرے تو آپ نے فر ما یا اچھی بات کا حکم کرے انہوں نے کہا اگر یہ بھی نہ کرے تو آپ نے فر ما یا بُرائی سے بچا رہے اس میں بھی صدقہ کا ثواب ملے گا ۔

Chapter No: 34

باب طِيبِ الْكَلاَمِ

Pleasant friendly speech

باب: خو ش کلامی کا ثواب

وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ ‏"

Narrated by Abu Hurairah (r.a), "The Prophet (s.a.w) said, 'A good, pleasant, friendly word is a Sadaqa'."

ابو ہریرہؓ نے نبیﷺ سے روایت کی کہ نیک بات کرنے میں صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا، وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ـ قَالَ شُعْبَةُ أَمَّا مَرَّتَيْنِ فَلاَ أَشُكُّ ـ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ‏"‏‏.

Narrated By 'Adi bin Hatim : The Prophet mentioned the (Hell) Fire and sought refuge (with Allah) from it, and turned his face to the other side. He mentioned the (Hell) Fire again and took refuge (with Allah) from it and turned his face to the other side. (Shu'ba, the sub-narrator, said, "I have no doubt that the Prophet repeated it twice.") The Prophet then said, "(O people!) Save yourselves from the (Hell) Fire even if with one half of a date fruit (given in charity), and if this is not available, then (save yourselves) by saying a good pleasant friendly word."

ہم سے ابو ا لو لید نے بیان کہا کہا ہم سے شعبہ نے کہا مجھ کو عمرو نے خبر دی انہوں نے خیثمہ سے انہوں نے عدی بن حاتم سے انہوں نے کہا نبی ﷺ نے دوزخ کا ذکر کیا اس سے پناہ مانگی اور منہ پھیر لیا پھر دوزخ کا ذکر کیا اس سے پناہ مانگی اور منہ پھیر لیا شعبہ نے کہا دوبار میں تو شک نہیں پھر فر مایا تم دوزخ سے( صدقہ دے کر ) بچو اگر کچھ نہیں ملتا تو کھجور کا یک ٹکڑا ہی دے کر اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اچھی ملائم بات کہہ کر ۔

Chapter No: 35

باب الرِّفْقِ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ

To be kind and merciful in all matters

باب: ہر کام میں نرمی اور اخلاق عمدہ چیز ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ وَعَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ‏.‏ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : (The wife of the Prophet) A group of Jews entered upon the Prophet and said, "As-Samu-Alaikum." (i.e. death be upon you). I understood it and said, "Wa-Alaikum As-Samu wal-la'n. (death and the curse of Allah be Upon you)." Allah's Apostle said "Be calm, O 'Aisha! Allah loves that on, should be kind and lenient in all matters." I said, "O Allah's Apostle! Haven't you heard what they (the Jews) have said?" Allah's Apostle said "I have (already) said (to them) "And upon you!"

ہم سے عبد العزیزبن عبد اللہ اویسی نے بیان کیا کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے انہوں نے صَالح بن کیسان سے انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نےکہا حضرت عائشہؓ نے فر مایا کچھ یہودی نبیﷺکےپاس آئے اور (مر دود ) کیا کہنے لگے السّام علیکم (یعنی تم مرو) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں ان کی بات سمجھ گئی میں نے جواب دیا وعلیکم السّام وا للعنہ (تم ہی مروپھٹکار )رسول اللہ ﷺنے فر مایا عائشہؓ ٹھہر (اتنا غصّہ مت کر )اللہ تعالٰی نرمی اور ملائمت کو ہر کام میں پسند کرتا ہے میں نے کہا یا رسول اللہ آپ نے ان (کمبختوں )کی بات نہیں سنی آپ ﷺ نے فر مایا (میں نے سنی )جواب تو دے دیا فقط وعلیکم کہہ دیا (اس کایہی مطلب ہوا کہ جو تم نے کہا وہ تم ہی پر ہو)۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا تُزْرِمُوهُ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ‏.‏

Narrated By Anas bin Malik : A bedouin urinated in the mosque and the people ran to (beat) him. Allah's Apostle said, "Do not interrupt his urination (i.e. let him finish)." Then the Prophet asked for a tumbler of water and poured the water over the place of urine.

ہم سے عبد اللہ بن عبد الوہاب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ثابت سے انہوں نے انس سے کہ ایک گنوار نے مسجد میں پیشاب کر دیا لوگ اس کی طرف دوڑے (اس کو ماریں کھر کیں )آپ نے فر مایا اس کا پیشاب مت روکو (جب وہ پیشاب کر چکا) آپ نے ایک ڈول پانی کا منگوا کر وہاں بہا دیا گیا۔

Chapter No: 36

باب تَعَاوُنِ الْمُؤْمِنِينَ بَعْضِهِمْ بَعْضًا

The co-operation between believers

باب: ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی مدد کرنا ضرور ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ‏.‏

Narrated By Abu Musa : The Prophet said, "A believer to another believer is like a building whose different parts enforce each other."

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم کو سفیان نے ابی بردہ بن برید بن ابی بردہ سے کہا مجھ سے میرے دادابو بُردہ نے بیان کیا انہوں نے اپنے والد موسٰی اشعریؓ سے انہوں نے نبیﷺسے آپ نے فر مایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے اس طرح ہے جیسے عمارت اس کا ایک حصّہ دوسرے حصّے کو تھامے رہتا ہے (گرنے نہیں دیتا )پھر آپ نے انگلیوں کو قینچی کر لیا۔


وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ أَوْ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ ‏"‏ اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ ‏"‏‏.‏

The Prophet then clasped his hands with the fingers interlaced. (At that time) the Prophet was sitting and a man came and begged or asked for something. The Prophet faced us and said, "Help and recommend him and you will receive the reward for it, and Allah will bring about what He will through His Prophet's tongue."

اور ایسا ہوا ایک بار نبی ﷺ بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص کچھ مانگتا یاحاجت طلب کرتا آیا آپ نے ہم لوگوں کی طرف منہ کیا فر مایا (تم خاموش کیوں بیٹھے رہتے ہو )غریب اور حاجت مندوں کی سفارش کیا کرو تم کو سفارش کا ثواب مل جائے گا اور اللہ کو تو منظور ہے وہ اپنے پیغمبر کی زبان پر ڈالے گا (جیسا چاہے گا ویسا حکم دے گا تم اپنا ثواب کیوں کھوؤ۔)

Chapter No: 37

باب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏{‏مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا}‏

The Statement of Allah, "Whosoever intercedes for a good cause will have the reward thereof, and whosoever intercedes for an evil cause will have a share in its burden. And Allah is Ever All-Able to do everything." (V.4:85)

باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء) میں یہ فرمانا جو شخص اچھی سفارش کرے اس کو بھی ایک حصہ اس کے ثواب سے ملے گا۔ اور جو شخص بری سفارش کرے اس کو بھی ایک حصہ اس کے عذاب سے ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگہبان ہے۔

‏{‏كِفْلٌ‏}‏ نَصِيبٌ قَالَ أَبُو مُوسَى ‏{‏كِفْلَيْنِ‏}‏ أَجْرَيْنِ بِالْحَبَشِيَّةِ‏.

کفل کا معنی اس آیت میں حصہ ہے ابو موسیٰ نے کہا کفلین حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی دو اجر۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَتَاهُ السَّائِلُ أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ قَالَ ‏"‏ اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا، وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ مَا شَاءَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Musa : Whenever a beggar or a person in need came to the Prophet, the Prophet would say "Help and recommend him and you will receive the reward for it, and Allah will bring about what he will through His Prophet's tongue."

ہم سے محمد بن علاءنے بیان کیا کہا ہم سے ابو اسامہ نے انہوں نے برید سے انہوں نے ابو بردہ سے انہوں نے ابو موسٰی اشعری سے انہوں نے نبی ﷺسے آپ کے پاس کوئی سائل یا ضروت والا آتا تو آپ (صحابہ سے )فر ماتے تم بھی سفارش کرو تم کو ثواب ملے گا۔ اور اللہ کو تو جو منظور ہے وہ اپنے پیغمبر کی زبان سے حکم دے گا ۔

Chapter No: 38

باب لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا

The Prophet (s.a.w) was neither a Fahish (one who speaks bad words) nor a Mutafahhish (one who speaks obscene evil words to make people laugh)

باب: نبیﷺ سخت گو اور بدزبان نہ تھے۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو‏.‏ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَى الْكُوفَةِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا، وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ أَخْيَرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ خُلُقًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Masruq : Abdullah bin 'Amr mentioned Allah's Apostle saying that he was neither a Fahish nor a Mutafahish. Abdullah bin 'Amr added, Allah's Apostle said, 'The best among you are those who have the best manners and character.'"

ہم سے حفص بن عمرؓ نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے سلیمان سے کہا میں نے ابو وائل سے سنا کہا میں نے مسروق سے سنا انہوں نے کہا عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے کہا۔ دوسری سند۔ امام بخاریؒ نے کہا اور ہم سے قتیبہ بن سعد نے کہا ہم سے جریر نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے شقیق بن سلمہ سے انہوں نے مسروق سے انہوں نے کہا جب عبد اللہ بن عمرؓ و معاویہؓ کے سَاتھ کوفہ میں آئے تم ہم ان کے پاس گئے انہوں نے رسول اللہ ﷺکا ذکر کیا کہنے لگے آپ سخت گو اور بد زبان نہ تھے۔ اور یہ بھی کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فر مایا تم میں بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ يَهُودَ، أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ عَلَيْكُمْ، وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ، وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَهْلاً يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ ‏"‏ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلاَ يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Abdullah bin Mulaika : 'Aisha said that the Jews came to the Prophet and said, "As-Samu 'Alaikum" (death be on you). 'Aisha said (to them), "(Death) be on you, and may Allah curse you and shower His wrath upon you!" The Prophet said, "Be calm, O 'Aisha ! You should be kind and lenient, and beware of harshness and Fuhsh (i.e. bad words)." She said (to the Prophet), "Haven't you heard what they (Jews) have said?" He said, "Haven't you heard what I have said (to them)? I said the same to them, and my invocation against them will be accepted while theirs against me will be rejected (by Allah)."

ہم سے محمد بن سلام بیان کیا کہا ہم سے عبد الوہاب نے انہوں نے ایوب سختیانی سے انہوں نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے انہوں نے کہا یہود (مردود)نبی ﷺپاس آئے کہنے لگے۔ السّام علیکم (یعنی مرو)حضرت عائشہؓ نےفر مایا تم مرواللہ تم پر لعنت کرے اللہ کا غضب تم پر اترے آپﷺنے فر مایا عائشہؓ ٹھہر نرمی اور ملائمت اختیار کرو اور سختی اور بد زبانی سے پر ہیز رکھ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا آپ نےان مردودوں کی بات نہیں سنی آپ نے فر مایا تو نے میرا جواب نہیں سنا انہوں نے جو میرے لئے کہا تھا میں نےوہی ان پر پھیر دیا (آپ ﷺنےوعلیکم فرمایا تھا )اور بات یہ ہے کہ میری بددُعا ان کے اوپر اثر کرے گی قبول ہو گی۔ ان کی بد دعا مجھ پر قبول نہیں ہونے کی ۔


حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَحْيَى، هُوَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِلاَلِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَبَّابًا وَلاَ فَحَّاشًا وَلاَ لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لأَحَدِنَا عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ ‏"‏ مَا لَهُ، تَرِبَ جَبِينُهُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Anas bin Malik : The Prophet was not one who would abuse (others) or say obscene words, or curse (others), and if he wanted to admonish anyone of us, he used to say: "What is wrong with him, his forehead be dusted!"

ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا کہا ہم کو عبد اللہ بن وہب نے خبر دی کہا ہم کو ابو یحیٰی فلیح ابن سلیمان نے انہوں نے ہلال بن اسامہ سے انہوں نے انس بن مالکؓ سے انہوں نے کہا نبیﷺگالی باز اور سخت گوبدزبان لعنت کرنے والے نہ تھے، اگر کبھی آپ کو ہم میں سے کسی پر غصّہ آتا تو صرف اتنا فر ماتے اس کو کیا ہو گیا۔ اِس کی پیشانی میں خاک لگے ۔


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلاً، اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَآهُ قَالَ ‏"‏ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ، وَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا جَلَسَ تَطَلَّقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا انْطَلَقَ الرَّجُلُ قَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حِينَ رَأَيْتَ الرَّجُلَ قُلْتَ لَهُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ تَطَلَّقْتَ فِي وَجْهِهِ وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَائِشَةُ مَتَى عَهِدْتِنِي فَحَّاشًا، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ ‏"‏‏.‏

Narrated By 'Aisha : A man asked permission to enter upon the Prophet. When the Prophet saw him, he said, "What an evil brother of his tribe! And what an evil son of his tribe!" When that man sat down, the Prophet behaved with him in a nice and polite manner and was completely at ease with him. When that person had left, 'Aisha said (to the Prophet). "O Allah's Apostle! When you saw that man, you said so-and-so about him, then you showed him a kind and polite behaviour, and you enjoyed his company?" Allah's Apostle said, "O 'Aisha! Have you ever seen me speaking a bad and dirty language? (Remember that) the worst people in Allah's sight on the Day of Resurrection will be those whom the people leave (undisturbed) to be away from their evil (deeds)."

ہم سے عمرو بن عیسٰی نے بیان کیا کہا ہم سے محمد بن سواءٗ نے کہا ہم سے روح بن قاسم نے انہوں نے محمد بن منکدر سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے سنا ایک مرد نے نبی ﷺسے ( اندر آنے کی ) اجازت مانگی آپ ﷺنے فر مایا کیا برا آدمی ہے جب وہ (اندر آن کر )بیٹھا تو نبی ﷺاس سے کھُل خندہ پیشانی سے ملے جب وہ چلا گیا تو میں پوچھا یا رسول اللہ آپ نے پہلے اس کو دیکھتے ہی یوں فر مایا تھا ۔کیا بُرا آدمی ہے پھر آپ اس سے کھل کر بہ خندہ پیشانی کیوں ملے آپ نے فر ما یا عائشہؓؓ تو نے کب مجھ کو بد زبانی کرتے ہوئے پایا سب سے برا آدمی اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہو گا جس کی بدی سےلوگ ڈر کر اس کی ملاقات چھوڑدیں ۔

Chapter No: 39

باب حُسْنِ الْخُلُقِ، وَالسَّخَاءِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبُخْلِ

Good character and generosity. And what sort of miserliness is disliked

باب:خوش خلقی اور سخاوت کا بیان اور بخیلی کی برائ،

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَجْوَدَ النَّاسِ، وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ‏.‏ وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ لَمَّا بَلَغَهُ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَخِيهِ ارْكَبْ إِلَى هَذَا الْوَادِي، فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ، فَرَجَعَ فَقَالَ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الأَخْلاَقِ‏

Ibn Abbas said, "The Prophet (s.a.w) was the most generous among the people, and he used to be more so (generous) in the month of Ramadan." Abu Dhar (r.a)said, "When the news of the advent of the Prophet (s.a.w) reached him, he said to his brother, 'Ride this valley (of Makkah) and listen to some of his speech.' When he returned, he said, 'I have seen him (the Prophet (s.a.w)) exhorting people to virtues'."

اور ابنِ عباسؓ نے کہا نبیﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان کے مہینے میں تو اور سب دنوں سے زیادہ سخاوت کرتے۔اور ابو ذر غفاریؓ کو جب نبیﷺ کی پیغمبری کی پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی (انیس) سے کہا تم ذرا سوار ہو کر اس ملک میں (یعنی مکہ میں) جاؤ اور اس شخص کی جو پیغمبری کا دعویٰ کرتے ہیں باتیں سن کر تو آؤ(وہ ممکہ میں آئے) اور لوٹ کر گئے تو (ابو ذر سے کہنے لگے) وہ صاحب تو اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہیں ۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ـ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ـ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَدْ سَبَقَ النَّاسَ إِلَى الصَّوْتِ وَهْوَ يَقُولُ ‏"‏ لَنْ تُرَاعُوا، لَنْ تُرَاعُوا ‏"‏‏.‏ وَهْوَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْىٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، فِي عُنُقِهِ سَيْفٌ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا ‏"‏‏.‏ أَوْ ‏"‏ إِنَّهُ لَبَحْرٌ ‏"‏‏.‏

Narrated By Anas : The Prophet was the best among the people (both in shape and character) and was the most generous of them, and was the bravest of them. Once, during the night, the people of Medina got afraid (of a sound). So the people went towards that sound, but the Prophet having gone to that sound before them, met them while he was saying, "Don't be afraid, don't be afraid." (At that time) he was riding a horse belonging to Abu Talha and it was naked without a saddle, and he was carrying a sword slung at his neck. The Prophet said, "I found it (the horse) like a sea, or, it is the sea indeed."

ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے انہوں نے ثابت سے انہوں نےانسؓ سے کہا نبیﷺسب لوگوں میں زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر (جری)تھے ایک رات ایسا ہوا مدینہ کے لوگ (کچھ آواز سن کر )دشمن کے ڈرسے گھبراگئے ۔اور آواز کی طرف چلے (خبر لانے کو )کیا دیکھتے ہیں سامنے سے نبیﷺلوٹے آرہے ہیں آپ ﷺان سے پہلے ہی آواز کی طرف روانہ ہو گئے تھے ۔فر ماتے جاتے ہیں کوئی ڈر کی بات نہیں آپ ابو طلحہؓ کے گھوڑے (مندوب)پر سوار تھے ننگی پیٹھ پر اس پر زین بھی نہ تھا اور گلے میں تلوار لٹک رہی تھی۔ فر مایا یہ گھوڑی کیا ہے (ایسا تیزبے تکان جاتا ہے) ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَىْءٍ قَطُّ فَقَالَ لاَ‏.‏

Narrated By Jabir : Never was the Prophet asked for a thing to be given for which his answer was 'no'.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا کہا ہم کو سفیان نے خبر دی انہوں نے محمد بن منکدر سے انہوں نے کہا میں نے جابرؓ سے سنا وہ کہتے تھےنبیﷺسے جب کسی نے کچھ مانگا تو آپ ﷺنہیں نہیں کی ۔


حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يُحَدِّثُنَا إِذْ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا، وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاَقًا ‏"‏‏.‏

Narrated By Masruq : We were sitting with 'Abdullah bin 'Amr who was narrating to us (Hadith): He said, "Allah's Apostle was neither a Fahish nor a Mutafahhish, and he used to say, 'The best among you are the best in character (having good manners).'"

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا ہم سے والد نے کہا ہم سےاعمش نے کہا مجھ سے شقیق نے انہوں نے مسروق سے انہوں نے کہا ہم عبد اللہ بن عمروؓکے پاس بیٹھے تھے وہ ہم سےحدیثیں بیان کر رہے تھے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺفحش گو بد زبان نہ تھے (کہ گالیاں منہ سے نکالیں) آپ فر مایا کرتے تھے تم میں اچھے وہی لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں ۔


حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِبُرْدَةٍ‏.‏ فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ فَقَالَ الْقَوْمُ هِيَ شَمْلَةٌ‏.‏ فَقَالَ سَهْلٌ هِيَ شَمْلَةٌ مَنْسُوجَةٌ فِيهَا حَاشِيَتُهَا ـ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكْسُوكَ هَذِهِ‏.‏ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَلَبِسَهَا، فَرَآهَا عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ فَاكْسُنِيهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَمَهُ أَصْحَابُهُ قَالُوا مَا أَحْسَنْتَ حِينَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَخَذَهَا مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا، وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لاَ يُسْأَلُ شَيْئًا فَيَمْنَعَهُ‏.‏ فَقَالَ رَجَوْتُ بَرَكَتَهَا حِينَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَعَلِّي أُكَفَّنُ فِيهَا‏.‏

Narrated By Abu Hazim : Sahl bin Sa'd said that a woman brought a Burda (sheet) to the Prophet. Sahl asked the people, "Do you know what is a Burda?" The people replied, "It is a 'Shamla', a sheet with a fringe." That woman said, "O Allah's Apostle! I have brought it so that you may wear it." So the Prophet took it because he was in need of it and wore it. A man among his companions, seeing him wearing it, said, "O Allah's Apostle! Please give it to me to wear." The Prophet said, "Yes." (and gave him that sheet). When the Prophet left, the man was blamed by his companions who said, "It was not nice on your part to ask the Prophet for it while you know that he took it because he was in need of it, and you also know that he (the Prophet) never turns down anybody's request that he might be asked for." That man said, "I just wanted to have its blessings as the Prophet had put it on, so l hoped that I might be shrouded in it."

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہا ہم سے ابو غسان (محمد بن مطرف) نے کہا مجھ سے ابو حازم نے بیان کیا انہوں نے سہل بن سعد سے انہوں نے کہا ایک عورت نبیﷺپاس ایک بردہ لے آئی سہل نے لوگوں سے پو چھا تم جانتے ہو بردہ کسے کہتے ہیں۔ لوگوں نے کہا شملہ سہل نے کہا ہاں لنگی جس میں حاشیہ بنا ہوتا ہے ۔خیر وہ عورت کہنے لگی یا رسول اللہ یہ میں آپ ﷺکو پہنانے کے لئے لائی ہوں نبی ﷺکو اس وقت لنگی کی احتیاج تھی آپ نے لے لی اور پہن لی آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص(عبد الرحمن بن عوفؓ )نے یہ لنگی آپ کو پہنے دیکھ کر کہا یا رسول اللہ کیا عمدہ لنگی ہے یہ مجھ کو عنایت فر مائیے آپ ﷺنے فر مایا اچھا لیو جب آپ مجلس سے اٹھے (اور اندر جاکر وہ لنگی تہہ کرکے عبد الرحمٰن کو بھیجدی)تو لوگوں نے ان کو ملامت کی ان سے کہا تم نے اچھا نہیں کیا۔ تم جانتے تھے کہا نبیﷺکو لنگی کی احتیاج ہے اس پر تم نے آپ سے کاہے کو مانگی تم جانتے ہو کہ آپ کسی کا سوال رد نہیں کرتے عبد الرحمٰن نے کہا میں نے (یہ لنگی کچھ پہننےکے لئے نہیں مانگی بلکہ )برکت کے خیال سے مانگی چونکہ آپ اس کو پہن چکے تھے میری غرض یہ تھی کہ میرا کفن اس لنگی میں کیا جائے ۔


حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعَمَلُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ قَالَ ‏"‏ الْقَتْلُ، الْقَتْلُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Time will pass rapidly, good deeds will decrease, and miserliness will be thrown (in the hearts of the people), and the Harj (will increase)." They asked, "What is the Harj?" He replied, "(It is) killing (murdering), (it is) murdering (killing).

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہوں نے زہری سے کہا مجھ سے حمید بن عبد الرحمٰن نے بیان کیا کہ ابو ہر یرہؓ نے کہا رسول اللہ ﷺنے فر مایا زمانہ جلدی جلدی گزرنے لگے گا۔ (یعنی غفلت کی وجہ سے خبر نہ ہوگی عمر گزر جائے گی) اور دین کا علم دنیا میں کم ہو جائے گا اور دلوں میں بخیلی سما جائے گی اور ہرج بہت ہو گی لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہرج سے کیا مراد ہے آپ نے فر مایا یا خون ریزی خون ریزی ۔


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، سَمِعَ سَلاَّمَ بْنَ مِسْكِينٍ، قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا، يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ‏.‏ وَلاَ لِمَ صَنَعْتَ وَلاَ أَلاَّ صَنَعْتَ‏.‏

Narrated By Anas : I served the Prophet for ten years, and he never said to me, "Uf" (a minor harsh word denoting impatience) and never blamed me by saying, "Why did you do so or why didn't you do so?"

ہم سے موسٰی بن اسمٰعیل نے بیان کیا انہوں نے سلام بن مسکین سے سنا کہا میں نے ثابت سے سنا کہا ہم سے انسؓ نے بیان کیا کیا وہ کہتے تھے میں نے دس برس تک نبیﷺکی خدمت کی اس مدت میں آپ نے مجھ سے اُف تک کا کلمہ نہیں فر مایا۔ نہ یہ فر مایا تو نے یہ کام کیوں کیا یا یہ کام کیوں نہیں کیا ۔

Chapter No: 40

باب كَيْفَ يَكُونُ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ

How should a man be with his family?

باب: آدمی گھر میں کیا کرتا رہے۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ قَالَتْ كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ‏.‏

Narrated By Al-Aswad : I asked 'Aisha what did the Prophet use to do at home. She replied. "He used to keep himself busy serving his family and when it was time for the prayer, he would get up for prayer."

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے حکم سے انہوں نے ابراہیم بن نخعی سے انہوں نے اسود سے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا نبی ﷺگھر میں کیا کرتے رہتےتھے۔ انہوں نے کہا اپنے گھر کے کام کاج کرتے رہتے اور کیا کرتے جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے اٹھتے ۔

‹ First23456Last ›